Explained with ayahs 21–23
اصل دین چار چیزیں ہیں
اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ مومن و کافر برابر نہیں جیسے اور آیت میں ہے کہ دوزخی اور جنتی برابر نہیں جنتی کامیاب ہیں یہاں بھی فرماتا ہے کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ کفر و برائی والے اور ایمان و اچھائی والے موت و زیست میں دنیا و آخرت میں برابر ہوجائیں۔ یہ تو ہماری ذات اور ہماری صفت عدل کے ساتھ پرلے درجے کی بدگمانی ہے۔ مسند ابو یعلی میں ہے حضرت ابوذر فرماتے ہیں چار چیزوں پر اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی بنا رکھی ہے جو ان سے ہٹ جائے اور ان پر عامل نہ بنے وہ اللہ سے فاسق ہو کر ملاقات کرے گا پوچھا گیا کہ وہ چاروں چیزیں کیا ہیں ؟ فرمایا یہ کہ کامل عقیدہ رکھے کہ حلال حرام حکم…
Read the full tafseer →سورة الْجَاثِیَة 26
توحید کی دعوت کے بعد اب یہاں سے آخرت پر کلام شروع ہو رہا ہے۔
سورة الْجَاثِیَة 27
یہ آخرت کے بر حق ہونے پر اخلاقی استدلال ہے۔ اخلاق میں خیر و شر اور اعمال میں نیکی و بدی کے فرق کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اچھے اور برے لوگوں کا انجام یکساں نہ ہو، بلکہ اچھوں کو ان کی اچھائی کا اچھا بدلہ ملے اور برے اپنی برائی کا برا بدلہ پائیں۔ یہ بات اگر نہ ہو، اور نیکی و بدی کا نتیجہ ایک ہی جیسا ہو تو سرے سے اخلاق میں خوبی و زشتی کی تمیز ہی بےمعنی ہوجاتی ہے اور خدا پر بےانصافی کا الزام عائد ہوتا ہے۔ جو لوگ دنیا میں بدی کی راہ چلتے ہیں وہ تو ضرور یہ چاہتے ہیں کہ کوئی جزا و سزا نہ ہو، کیونکہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
خلاصہ تفسیر
یہ (قیامت کا انکار کرنے والے) لوگ جو برے برے کام (کفر و شرک و ظلم و معصیت) کرتے (رہتے) ہیں، کیا یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کو ان لوگوں کے برابر رکھیں گے جنہوں نے ایمان اور عمل صالح اختیار کیا کہ ان سب کا جینا اور مرنا یکساں ہوجائے (یعنی مومنین کا مرنا جینا بایں معنی یکساں ہوجائے کہ جس طرح زندگی میں لذتوں سے بہرہ اندوز نہ ہوئے اسی طرح موت کے بعد بھی محروم رہیں اور اسی طرح کافروں کا مرنا جینا بھی بایں معنی یکساں ہوجائے کہ جیسے اس زندگی میں عذاب اور تکلیفوں سے بچے رہے اسی طرح مرنے کے بعد بھی عذاب سے مامون رہیں۔ مطلب یہ کہ انکار معاد سے یہ لازم آتا ہے کہ اطاعت شعار بندوں کو کہیں اطاعت…
Read the full tafseer →ام حسب الذین اجتوجوا السیات ان نجعلھم کالذین امنوا وعملوا الصلحت لاسوآء محیاھم ومماتھم ط سآء مایحکمون 21
قیامت کے منکروں کا تصور خدا کے متعلق بالکل باطل ہے
یعنی جو لوگ قرآن کے انداز اور اس کی تبشیر کا مذاق اڑا رہے ہیں ان کا تصور گویا یہ ہے کہ جہان کے خالق کے نزدیک مومن اور کافر، نیک اور بد، صالح اور طالح میں کوئی فرق نہیں ہے۔ دونوں کی زندگی اور موت بالکل یکساں ہے۔ فرمایا کہ اگر ان کا تصور یہ ہے تو یہ نہایت برافیصلہ ہے جو یہ کر رہے ہیں۔ یعنی یہ انسان کے اس شعور عدل کے بالکل منافی ہے جو انسان کی فطرت کے اندر اللہ تعالیٰ نے ودیعت فرمایا ہے کوئی شخص خواہ برائی کی زندگی گزارے یا بھلائی کی لیکن وہ…
Read the full tafseer →21۔ 1 یعنی دنیا اور آخرت میں دونوں کے درمیان کوئی فرق نہ کریں۔ اس طرح ہرگز نہیں ہوسکتا یا یہ مطلب ہے کہ جس دنیا میں وہ برابر تھے، آخرت میں بھی برابر رہیں گے کہ مر کر یہ بھی ناپید اور وہ بھی ناپید ؟ نہ بدکار کو سزا، نہ ایمان و عمل صالح کرنے والے کو انعام، ایسا نہیں ہوگا اس لئے آگے فرمایا ان کا یہ فیصلہ برا ہے جو وہ کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →6: یہ آخرت کی زندگی کی ضرورت بتائی جا رہی ہے کہ اگر آخرت کی جزاء و سزا نہ ہو تو اچھے برے سب لوگ برابر ہوجائیں، اور جن نیک لوگوں نے دنیا میں شریعت کے احکام پر عمل کر کے محنت اٹھائی، یا مخالفین کی طرف سے تکلیفیں برداشت کیں، ان کو مرنے کے بعد بھی اس قربانی کا کوئی انعام نہ ملے، اور ان کا مرنا جینا بالکل برابر ہوجائے۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ ناانصافی نہیں کرسکتا۔ چنانچہ اگلی آیت میں فرمایا گیا ہے کہ ہم نے یہ کائنات اسی برحق مقصد کے لیے پیدا کی ہے کہ ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
آیت نمبر 21 تا 22
ہو سکتا ہے کہ یہاں بدکاروں سے مراد اہل کتاب ہوں جنہوں نے اپنی کتاب سے روگردانی کی اور برائیوں کا ارتکاب کیا۔ اور سمجھتے یہی رہے کہ وہ حقیقی مومن ہیں بلکہ وہ اپنے آپ کو اہل ایمان کے برابر سمجھتے ہیں جبکہ وہ برائیوں کا ارتکاب کرتے ہیں اور مومنین نیکیوں کے کام کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ دونوں گروہ اللہ کے ہاں برابر ہو سکتے ہیں ، خواہ اس دنیا کا معاملہ ہو یا آخرت کا موازنہ ہو ؟ اور اس سے مراد عام اصول بیان کرنا بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ کے پیمانوں کے مطابق نیک کام کرنے والے برے کام کرنے والے آپس میں برابر نہیں ہو سکتے ، نہ اس دنیا میں نہ آخرت کے حساب و کتاب میں۔ مومنین کا پلڑا…
Read the full tafseer →13 یعنی اللہ تعالیٰ کی شؤن حکمت پر نظر کرتے ہوئے کیا کوئی عقلمند یہ گمان کرسکتا ہے کہ ایک بدمعاش آدمی، اور ایک مرد صالح کے ساتھ خداوند تعالیٰ یکساں معاملہ کرے گا۔ اور دونوں کا انجام برابر کرے گا ؟ ہرگز نہیں۔ نہ ان زندگی میں دونوں برابر ہوسکتے ہیں نہ مرنے کے بعد جو حیات طیبہ مومن صالح کو یہاں نصیب ہوتی ہے اور جس نصرت اور علو ورفعت کے وعدے دنیا میں اس سے کیے گئے وہ ایک کافر بدکار کو کہاں میسر ہیں۔ اس کے لیے دنیا میں معیشت ضنک اور آخرت میں لعنت و خسران کے سوا کچھ نہیں۔ الغرض یہ دعویٰ بالکل غلط اور یہ خیال بالکل مہمل ہے کہ اللہ تعالیٰ نیکوں اور بدوں کا مرنا اور جینا برابر کرے گا۔ اس کی حکمت اس کو…
Read the full tafseer →آیت 21 { اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَہُمْ کَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ } ”جو لوگ ُ بری باتوں کا ارتکاب کر رہے ہیں کیا انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم انہیں ان لوگوں کی طرح کردیں گے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے ؟“
{ سَوَآئً مَّحْیَاہُمْ وَمَمَاتُہُمْ سَآئَ مَا یَحْکُمُوْنَ } ”کہ ان کی زندگی اور موت ایک جیسی ہوجائے ؟ بہت برا فیصلہ ہے جو یہ لوگ کر رہے ہیں !“
قیامت کے حساب اور آخرت کی زندگی کے بارے میں عقلی اور منطقی سطح پر یہ ایک مضبوط دلیل ہے۔ اگر دنیا کے نیکو کاروں کو کوئی اجر و انعام نہ ملے ‘ مجرموں کو اپنے جرائم کی سزا نہ بھگتنی پڑے…
Read the full tafseer →29 آخرت پر عدل کے تقاضا سے دلیل :۔ یہ ان لوگوں کا حال ہے جو روز آخرت پر یقین نہیں رکھتے۔ روز آخرت پر یقین نہ رکھنے کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کسی اخلاقی پابندی کا پابند نہیں رہ سکتا۔ وہ بےلگام ہو کر اور بلاخوف و خطر دوسروں کے حقوق پامال کرنے لگتا ہے اور صرف اپنے ہی مفادات سوچنے کے درپے ہوجاتا ہے۔ ایسے ہی لوگوں سے یہ سوال کیا جارہا ہے کہ تمہارا کیا خیال ہے کہ بدکرداروں اور نیک عمل کرنے والوں کا انجام ایک ہی جیسا ہونا چاہئے کہ سب مر کر مٹی میں مل کر مٹی بن جائیں اور کسی سے اس کے اعمال کی بازپرس نہ ہو نہ ہی انہیں ان کے اعمال کا اچھا یا برا بدلہ دیا جائے ؟ کیا تم پروردگار عالم سے یہی توقع…
Read the full tafseer →17۔ مطلب یہ ہے کہ نافرمان جس طرح اپنے اکثر حالات وآثار تکوینی کے لحاظ سے فرمانبرداروں کے ساتھ دنیا میں ملے جلے رہتے ہیں، اور موت، بیماری، رزق وغیرہ کے اعتبار سے کوئی ظاہری فرق، کھلا ہوامتیاز، محض سرکشی و اطاعت کی بنیاد پر دیکھنے میں نہیں آتا، کیا اس طرح کا خلط ملط عالم ابتلاء کے بعد بھی قائم رہے گا ؟ ہرگز نہیں، عالم حقائق میں اہل طاعت اور اہل طغیان کے حالات وآثار تو ایک دوسرے سے بین طور پر ممتاز اور نمایاں طور پر جدا ہوں گے۔ (آیت) ” الذین اجترحوا السیات “۔ سیات کے تحت میں کفر، شرک، معصیت سب شامل ہیں۔ لیکن یہاں ایمان وعمل صالح کے مقابلہ میں آنے سے اغلبا مراد سیات کفر ہی سے ہے۔ والمراد بھا سیات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
آیت نمبر 12 تا 21
ترجمہ : اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے دریا کو تابع کردیا کہ اس میں اس کے حکم اجازت سے کشتیاں چلیں اور تم تجارت کے ذریعہ اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ شکر بجالاؤ شمس و قمر ستارے اور پانی وغیرہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جانور اور درخت اور گھاس اور نہریں وغیرہ جو کچھ زمین میں ہے اس نے اپنی طرف سے سب کو تمہارے تابع کردیا یعنی مذکورہ چیزوں کو اس نے انسانوں کے نفع کے لئے پیدا فرمایا جمیعًا تاکید ہے، اور مِنْہُ حال ہے یعنی ان چیزوں کو تابع کردیا حال یہ ہے کہ یہ اس کی طرف سے ہے، بلاشبہ اس تابع کرنے میں ان لوگوں کے لئے جو ان میں غور (وفکر) کریں بہت سی نشانیاں ہیں کہ ایمان لے آئیں، آپ…
Read the full tafseer →ام حسب الذین اجترحوا السیات ان نجعلھم کالذین امنوا وعملوا الصلحت سواء
محیاھم ومماتھم ساء ما یحکمون یہ لوگ جو برے برے کام کرتے ہیں ‘ کیا یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کو ان لوگوں کے برابر رکھیں گے ‘ جنہوں نے ایمان اور عمل صالح اختیار کیا کہ ان سب کا جینا اور مرنا یکساں ہوجائے ؟ یہ لوگ برا فیصلہ کرتے ہیں۔
اَمْ حَسِبَ- اَمْ منقطعہ ہے ‘ یعنی بَلْ کے معنی میں ہے اور اس میں ہمزہ (سوالیہ) انکاری اور توبیخی ہے ‘ یعنی یہ لوگ یقین کرتے بلکہ خیال کئے ہوئے ہیں کہ۔
اِخْتَرَحُوْا جنہوں نے کمائیں برائیاں۔
اس آیت کا نزول مکہ کے ان مشرکوں کے حق میں ہوا ‘ جنہوں نے مسلمانوں سے کہا تھا کہ تم جو کچھ کہہ رہے ہو ‘ یعنی…
Read the full tafseer →کیا یہ لوگ جنہوں نے بڑے بڑے شرکیہ کام کیے یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم آخرت میں ثواب اور درجات کے اعتبار سے انہیں ان لوگوں کے برابر رکھیں گے جو کہ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے جیسا کہ حضرت علی اور ان کے دونوں ساتھی۔ بدر کے دن جب کفار میں سے عتبہ شیبہ اور ولید بن عتبہ میدان جنگ میں نکلے اور ان کے مقابلے کے لیے حضرت علی، حضرت حمزہ اور حضرت عبیدہ تشریف لائے تو کفار نے کہا کہ محمد جو آخرت کے بارے میں ثواب کا ذکر فرماتے ہیں اگر وہ بات صحیح ہے تو ہمیں ان مسلمانوں پر آخرت میں بھی فوقیت ہوگی جیسا کہ اس دنیا میں ہے اللہ تعالیٰ نے اس کی تردید فرمائی ہے کہ ان کا یہ خیال غلط ہے۔
ایسا ممکن نہیں کہ…
Read the full tafseer →(1) ام حسب الذین اجترحوا السیات…: توحید کی دعوت کے بعد یہاں سے آخرت پر کلام شروع وہ رہا ہے اور یہ آیت آخرت کے حق ہونے کے دلیل ہے۔ تفسیر کے لئے دیکھیے سورة ص (28) اور سورة قلم (34 تا 38)۔
(2) سوآء محیاھم ومملتھم …: یعنی کفار زندگی میں اپنی مرضی کرتے رہے اور بےلگام ہو کر پانی خواہشات پوری کرتے رہے، جس کے نتیجے میں انہوں نے زمین میں فساد برپا کئے رکھا اور لوگوں پر اور اپنی جانوں پر بےحساب ظلم کرتے رہے، جب کہ مومن اپنی خواہشات کو روک کر رب تعالیٰ کے احکام کے پابند رہے۔ اب اگر مرنے کے بعد بھی کفار کو ان کے جرائم کی سزا اور ایمان والوں کو ان کے اعمال صالحہ کی جزا نہ ملے تو یہ اللہ تعالیٰ کی صفت عدل…
Read the full tafseer →یعنی جنہوں نے برائیاں کیں۔ اجتراح کا معنی کمانا ہے، اسی سے جو جوارح کا لفظ ہے اس کی وضاحت سورة مائدہ میں گزر چکی ہے۔
کلبی نے کہا : سے مراد عتبہ، شیبہ جو ربیع کے بیٹے تھے (1) اور ولید بن عتبہ ہے سے مراد حضرت علی، حضرت حمزہ اور حضرت عبیدہ بن حارث ہیں جب انہوں نے ان کو بدر کے روز دعوت مبارزت دی اور انہیں قتل کردیا۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ مشرکوں کی ایک جماعت کے بارے میں آیت نازل ہوئی انہوں نے کہا تھا : آخرت میں انہیں مومنوں کے مقابلہ میں بہتر دیا جائے گا جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کے قول کے بارے میں بتایا۔
(فصلت :50) یہ استفہام ہے یہ کلام معطوف ہے اس کا معنی انکار ہے اہل عربیہ عطف کے بغیر بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
5:۔ ابن المبارک و سعید بن منصور وابن ابی شیبہ (رح) و عبداللہ بن احمد فی زوائد الزھد اور الطبرانی نے ابو الضحی (رح) سے روایت کیا کہ تمیم داری نے سورة جاثیہ پڑھی جب اس (آیت ) ” ام حسب الذین اجترحوا السیات “ پر آئے (یہ لوگ جو بڑے بڑے کام کرتے ہیں) تو بار بار اس کو پڑھتے رہے اور روتے رہے یہاں تک ہی صبح ہوگئی اور وہ مقام ابراہیم کے پاس تھے ،
6:۔ ابن ابی شیبہ نے بشیر مولی الربیع بن خیثم (رح) سے روایت کیا کہ تمیم داری نماز پڑھنے کھڑے ہوئے اور اس آیت سے گزرے (آیت ) ” ام حسب الذین اجترحوا السیات “ تو اس کو بار بار پڑھتے رہے یہاں تک کہ ؟ صبح ہوئی۔
7:۔ ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ”…
Read the full tafseer →اَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ [ یا ان لوگوں نے گمان گیا جنھوں نے ] اجْتَرَحُوا [ڈٹ کے کمائیں ] السَّيِّاٰتِ [ برائیاں ] اَنْ نَّجْعَلَهُمْ [ کہ ہم بنادیں گے ان کو ] كَالَّذِيْنَ [ ان لوگوں کے جیسا ] اٰمَنُوْا [ جو ایمان لائے ] وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ [ اور عمل کیے نیکیوں کے ] سَوَاۗءً [ برابر ہوتے ہوئے ] مَّحْيَاهُمْ [ ان کا عرصہ حیات ] وَمَمَاتُهُمْ ۭ [ اور ان عرصہ موت ] سَاۗءَ [ برا ہے ] مَا يَحْكُمُوْنَ [ وہ جو یہ لوگ حکم لگاتے ہیں ]
Read the full tafseer →کیا گنہگار یہ سمجھتے ہیں کہ ہم انہیں اہل ایمان اور اعمال صالحہ والوں کے برابر کردیں گے
یہ دو آیات کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں اہل باطل کے اس گمان کی تردید فرمائی کہ جن لوگوں نے اسلام قبول کیا ہم سے بڑھ کر درجہ والے نہیں ہیں اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ہمیں مال دیا ہے آخرت میں بھی ہمیں نعمتیں دی جائیں گی جیسا کہ سورة حم سجدہ میں بعض لوگوں کا قول نقل کیا ہے ﴿ وَّ لَىِٕنْ رُّجِعْتُ اِلٰى رَبِّيْۤ اِنَّ لِيْ عِنْدَهٗ لَلْحُسْنٰى ﴾ (اور اگر میں اپنے رب کی طرف واپس کردیا گیا تو بلاشبہ میرے لیے اچھی حالت ہوگی۔ )
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ مجرمین کفار و مشرکین یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم میں اور ان لوگوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
انعامات دنیوی واخروی پر قوم بنی اسرائیل وبیان بغاوت ونافرمانی ایشاں :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ولقد اتینا بنی اسرائیل الکتب ..... الی ..... سآء ما یحکمون “۔
(ربط) ماقبل آیات میں حق تعالیٰ شانہ کی قدرت کی نشانیوں کا بیان چل رہا تھا اور یہ کہ اللہ رب العزت کے کس قدر انعامات ہیں کہ اس نے اپنے بندوں ہی کے فوائد ومنافع کے لیے ساری کائنات پید ا کی اور کائنات پر ان کو تصرف کرنے کی صلاحیت اور قدرت بھی عطا فرمائی جس کا ثمرہ اور نتیجہ یہی ہونا چاہئے تھا کہ انسان اپنے رب کا فرمانبردار ہوتا تو اس مقصد اور حقیقت کی توضیح کے لیے قانون کیسے انعامات سے ان کو نوازا لین اس بدنصیب قوم نے اللہ کی دی ہوئی…
Read the full tafseer →15:۔ ” ام حسب الذین۔ ا لایۃ “ یہ زجر و شکوی ہے استفہام انکار ہے۔ ” اجترحوا، اکتسبوا سواء، کاف بمعنی مثل سے بدل ہے اور محیاھم ومماتھم، سواء بمعنی مستو کا فاعل ہے (بحر، روح، مدارک) ۔ جو لوگ دین حق سے اعراض کر کے ہمہ تن عصیات و طغیان میں مصروف ہیں کیا ان کا خیال یہ ہے کہ ہم ان کو ان کے ایمان والوں کے برابر کردیں گے جو ہر وقت اللہ کا طاعت میں منہمک ہیں یعنی ہم ان کی دنیوی اور اخروی زندگی ایک جیسی بنا دیں گے۔ ان کا یہ فیصلہ نہایت برا اور ان کا یہ خیال غلط ہے اور انہیں یہ خیال کبھی بھی اپنے دل میں نہیں لانا چاہئے۔ مومن و کافر اور مطیع و عاصی برابر نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ مومن دنیا وآخرت دونوں جہانوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
ربط آیات
اللہ تعالیٰ نے توحید کے دلائل بیان فرمائے اور پھر کافروں اور مشرکوں سے درگزر کرنے کا حکم دیا اور انتقامی کارروائی کرنے سے منع فرما دیا پھر ارشاد ہو کہ جو شخص کوئی نیکی کا کام کرتا ہے تو اس میں خود اس کا بھلا ہوتا ہے اور جو کوئی برائی کا کام کرتا ہے تو اس کا وبال خود اسی پر پڑتا ہے ہر نیکی اور بدی کی جزائے عمل کے لئے ہر شخص کو قیامت والے دن بارگاہ رب العزت میں حاضر ہو کر اپنے اپنے اعمال کا بھگتان کرنا ہے اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی مثال بیان فرمائی کہ ہم نے ان کو کتاب حکومت و نبوت عطا فرمائی روزی کے لئے پاکیزہ چیزوں کا بندوبست کیا اور اس دور میں ان کو اقوام عالم پر فضیلت…
Read the full tafseer →اَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ اجْتَرَحُوا السَّيِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَہُمْ كَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ 0 ۙ سَوَاۗءً مَّحْيَاہُمْ وَمَمَاتُہُمْ 0 ۭ سَاۗءَ مَا يَحْكُمُوْنَ 21 ۧ
أَمْ»حرف
إذا قوبل به ألف الاستفهام فمعناه :
أي نحو : أزيد أم عمرو، أي : أيّهما، وإذا جرّد عن ذلک يقتضي معنی ألف الاستفهام مع بل، نحو : أَمْ زاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصارُ [ ص/ 63] أي : بل زاغت . ( ا م حرف ) ام ۔ جب یہ ہمزہ استفہام کے بالمقابل استعمال ہو تو بمعنی اور ہوتا ہے جیسے ازید فی الدار ام عمرو ۔ یعنی ان دونوں میں سے کون ہے ؟ اور اگر ہمزہ استفہام کے بعد نہ آئے تو بمعنیٰ بل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ { أَمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
ترکیب : ام منقطعۃ بمعنی بل مع الانکار۔ قبل الانتقال من البیان الاول الی الثانی والھمزۃ لانکار الحسبان۔ والاجتراح الاکتساب و منہ الجوارح ان نجعلھم الجملۃ بتاویل المصدر مفعول لحسب کالذین مفعول ثان لنجعل۔ سواء بالنصب ھو حال من الضمیر المستترفی قولہ کالذین آمنوا اوا نہ مفعول ثان لحسب و قرء بالرفع فمحیاھم مبتداء و مماتھم معطوف علیہ وسواء خبرمقدم۔ وقیل رفع محیاھم و مماتہم بسواء لانہ بمعنی مستوٍ ۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا اللہ الذی سخر کہ اللہ نے تم پر یہ یہ احسانات کئے اس کے بعد دینی احسانات کا تذکرہ کرتا ہے اور سب سے اول بنی اسرائیل کا ذکر فرماتا ہے کہ ہم نے ان کو کتاب توریت دی تھی یا عام ہے اور…
Read the full tafseer →اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَھُمْ کَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لا سَوَآئً مَّحْیَاھُمْ وَمَمَا تُھُمْ ط سَآئَ مَایَحْکُمُوْنَ ۔ (الجاثیۃ : 21)
(کیا وہ لوگ جنھوں نے برائیوں کا ارتکاب کیا ہے، یہ گمان رکھتے ہیں کہ ہم انھیں ان لوگوں کی مانند کردیں گے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے، برابر ہوگا ان کا جینا اور ان کا مرنا، برا ہے جو وہ فیصلہ کررہے ہیں۔ )
آخرت کے اثبات پر ایک دلیل
دنیا میں کچھ لوگ ایسے ہیں جنھیں خواہشِ نفس کی پیروی کے سوا اور کسی بات کا ہوش نہیں۔ ان کی زندگی کا مقصد ہر طریقے سے اپنے لیے آسانیاں پیدا کرنا، اپنے سر پر کلغی سجانا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے انسان کی راہنمائی کے لیے شریعت نازل فرمائی ہے لیکن اس کے باوجود لوگ اپنی ضد اور جہالت پر قائم رہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یہ حقیقت کھول کر بیان فرمائی ہے کہ نیک اور برے لوگ کسی اعتبار سے برابر نہیں ہوسکتے۔ مگر اس کے باوجود ظالم لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ہر قسم کی فراوانی اس لیے دے رکھی ہے کہ وہ ہمیں پسند کرتا ہے اور ہمارے مقابلے میں نیک لوگوں کی کوئی حیثیت نہیں۔ ایسے لوگوں میں یہ غلط فہمی بھی پائی جاتی ہے کہ ہم آخرت میں بھی ایمانداروں سے بہتر ہوں گے۔ ایسے لوگوں کو انتباہ کے انداز میں سمجھایا گیا ہے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ…
Read the full tafseer →گنہگار اور نیک برابر نہیں :
آیت 21 : اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ (کیا یہ خیال کرتے ہیں جو) اممنقطعہ ہے اور ہمزہ کا معنی انکار گمان ہے۔ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ (برے برے کام کرتے ہیں) کفر و معاصی کماتے ہیں۔ اجترح سے ہی جوارح ہے۔ وفلان جارحۃ اہلہ۔ یعنی اس کا کام کرنے والا ہے۔ اَنْ نَّجْعَلَہُمْ (کہ ہم ان کو رکھیں گے) بنادیں گے۔ : یہ جعل متعدی الی المفعولین ہے۔ پہلا مفعول ضمیر اور دوسرا کاف ہے جو کہ کالذین میں ہے کَالَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ (برابر ان لوگوں کے جنہوں نے ایمان اور اعمال صالحہ اختیار کیے) اور جملہ سواء محیاہم ومماتہم یہ کاف کا بدل ہے۔ کیونکہ جملہ مفعول ثانی ہے۔ اور حکم…
Read the full tafseer →20، ھذا، یعنی قرآن ۔ ، بصائر، علامات ہیں۔ ، للناس ، حدودواحکام میں کہ وہ اس کے ذریعے دیکھتے ہیں۔ ، وھد ی ورحمۃ لقوم یؤقنون،
Read the full tafseer →21۔ یہ منکرین حشر کے اس قول کا جواب ہے جس کا آگے کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر فرمایا ہے وقالوا ماھی الا حیاتنا الدین تموت ونحی ومابھلکنا الا الدھر۔ حاصل ان دہریوں کے قول کا یہ ہے کہ دنیا میں پیڑے کے پودوں کی طرح انسان کا بچہ پیدا ہوتا ہے اور پیڑ کا پودا جس طرح دن بدن بڑھتا جاتا ہے اسی طرح انسان کا بچہ دن بدن بڑھتا جاتا ہے پھر جس طرح پرانا ہوجانے کے سبب پیڑ سوکھ کر اکھڑ جاتا ہے اور گر پڑتا ہے اسی طرح انسان کی عمر کا زمانہ گزر جانے کے سبب سے ایک دن انسان مرجاتا ہے پیڑ کے سوکھ جانے کے بعد اس کی لکڑی جل کر یا گل کر آخر کو خاک ہوجاتی ہے یہیں تک انسان کی پیدائش اور موت کا سلسلہ ختم ہوگیا اس…
Read the full tafseer →آیت 21
کیا کثرت سے گناہوں کا ارتکاب کرنے والے گناہ گار لوگوں اور اپنے رب کے حقوق میں کوتاہی کرنے والے سمجھتے ہیں (ان نجعلھم کالذین امنوا وعملوا الصلحت) ” کہ ہم ان کو ان جیسا کردیں گے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے۔ “ یعنی انہوں نے اپنے رب کے حقوق قائم کئے، اسے ناراض کرنے سے اجتناب کیا اور ہمیشہ اس کی رضا کو اپنی خواہشات نفس پر ترجیح دیتے ہیں، یعنی کیا وہ سمجھتے ہیں کہ (سوآء) وہ دنیا و آخرت میں مساوی ہوں گے ؟ ان کا اندازہ اور ان کا یہ گمان بہت برا ہے اور بہت برا ہے وہ فیصلہ جو انہوں نے کیا ہے کیونکہ یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جو احکم الحاکمین، سب سے بڑھ کر عادل ہستی کی حکمت کے خلاف، عقل سلیم اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–22
مشرکین سے کیسا برتائو کیا جائے
ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن نے، انہیں عبدالرزاق نے، انہیں معمر نے قتادہ سے قول باری (قل للذین امنوا یغفروا للذین لا یرجون ایام اللہ، جو لوگ ایمان لے آئے ہیں آپ ان سے کہہ دیجئے کہ وہ ان لوگوں سے درگزر کریں جو اللہ کے معاملات کا یقین نہیں رکھتے) کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ اسے قول باری (فاقتلوا المشرکین حیث وجد تموھم مشرکین کو قتل کرو انہیں جہاں بھی پائو) نے منسوخ کردیا ہے۔
Read the full tafseer →38 نیک اور بد کبھی باہم برابر نہیں ہوسکتے : سو ارشاد فرمایا گیا " اور کیا نیک اور بد باہم برابر ہوسکتے ہیں ؟ "۔ ستفہام انکاری ہے۔ یعنی نہیں ایسا نہیں ہوسکتا کہ یہ دونوں فریق ایک برابر ہوجائیں۔ نہ دنیا میں نہ آخرت میں۔ کیونکہ اس دنیاوی زندگی میں بھی ان میں سے ایک فریق ایمان و اطاعت کی پاکیزہ زندگی گزارتا ہے اور دوسرا کفر و معصیت کی ناپاک و خبیث زندگی۔ اور اس دنیاوی فرق کے نتیجے میں آخرت میں پہلا فریق جنت کی اعلیٰ ترین اور بےمثال نعمتوں کی دائمی سعادتوں سے بہرہ مند ہوگا اور دوسرا دوزخ کے دائمی عذاب میں مبتلا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سلف میں سے بہت سے حضرات کے بارے میں منقول ہے کہ وہ اس آیت کریمہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–37
مومنوں اور منکروں کا انجام ایک جیسا نہیں ہوگا
تشریح : غافل ‘ مغرور اور نافرمان بندے اس قدر غافل ہوجاتے ہیں کہ نہ تو ان کو برائی بری لگتی ہے اور نہ ہی اچھائی کا کوئی فائدہ نظر آتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نیکی کا ارادہ کرنے والے کیلئے اچھے اسباب پیدا کردیتا ہے اور برائی کی طرف بڑھنے والے کیلئے برائیوں کے اسباب پیدا کردیتا ہے جیسا کہ مثل مشہور ہے کہ شکر خورے کو شکر مل جاتی ہے۔ تو ایسے لوگوں کو غفلت سے جگانے کیلئے خبردار کیا جا رہا ہے کہ ایسے غافل لوگوں کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ بہت زیادہ انصاف کرنے والا خبردار اور ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ اس کا بندوبست زمین و آسمان کی بہترین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
آیات 12 تا 21۔
اسرار ومعارف۔
اللہ تو وہ کریم ذات ہے سمندروں اور پانیوں کو بھی تمہارے لیے مسخر کردیا کہ تم ان میں جہاز رانی کروسمندری مع دنیات اور رزق کے ذرائع تلاش کرو تجارت کے راستے کے طور پر استعمال کروغرض سمندری اور آبی وسائل بھی تمہاری خدمت میں لگادیے کہ تم اللہ کا شکر ادا کرو نیز آسمانی اور زمینی ہر شے کو تمہاری خدمت پر لگادیا ہے کہ سورج چاند ہوابادل ستارے ہوں یاسیارے سب کے سب کی توجہ کامرکز زمین ہے ان کی حرکات واثرات سے زمین پر تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں اور یہ سب تبدیلیاں بالآخر بنی آدم کے کام آتی ہیں اگر کوئی ان سب باتوں پہ غور کرے تو سب کی سب عظمت الٰہی پر اور اس کے احسانات پر دلالت کرتی…
Read the full tafseer →ف 8 یعنی دنیا میں ان کی زندگی اور آخرت میں ان کا انجام ایک جیسا ہو۔
9 یعنی اگر وہ ایسا سمجھتے ہیں تو بالکل غلط سمجھتے ہیں اس سے تو نیکی اور بدی میں امتیاز ہی ختم ہوجاتا ہے۔ طبرانی میں روایت ہے کہ حضرت تمیم داری اس آیت کو رات بھر پڑھتے رہے اور روتے ہے یہاں تک کہ صبح ہوگی۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(45:21) ام : ام منقطعہ ہے بل کے معنی میں آیا ہے اس کا کوئی خاص مدلول نہیں محض ایک بیان سے دوسرے بیان کی طرف انتقال کے لئے ذکر کیا گیا ہے۔ یا استفہام انکاری کے لئے ہے (یعنی ان کا یہ خیال درست نہیں ہے) ۔
حسب کا فاعل الذین ہے قاعدہ کے مطابق حسب کے دو مفعول ہونے چاہئیں یہاں صرف ایک مفعول ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان تجعلہم اگرچہ بظاہر ایک مفعول ہے لیکن دو کے قائم مقام ہے نجعل کا معنی نصیر ہے ہم اس کا مفعول اول ہے اور کالذین امنوا مفعول ثانی ہے۔
سواء بدل ہے اور کاف مبدل منہ ہے جو یہاں مثل کے معنی میں مستعمل ہوا ہے۔ سواء مصدر ہے اور مستو کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ محیاہم ومماتھم اس کا فاعل ہیں۔
صاحب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
لغات القرآن آیت نمبر 16 تا 21 : شریعۃ (راستہ ، طریقہ) بصائر ( سمجھ کی باتیں) یوقنون (وہ یقین رکھتے ہیں) اجتر حوا ( انہوں نے کمایا)
تشریح : آیت نمبر 16 تا 21 : فرمایا کہ ہم نے بنی اسرائیل کو بیشمار نعمتوں سے نوازا تھا مگر انہوں نے آپس کی ضد بندی ، اختلافات اور نا شکری کا ایسا انداز اختیار کیا کہ انکی ساری عظمتوں کو چھین کر نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام کے حوالے کردیا گیا ۔ فرمایا کہ بنی اسرائیل کو توریت جیسی روشن ومنور کتاب ، سیکڑوں سال تک حکومت و اقتدار ، ہزاروں نبی اور رسول ، مال و دولت ، زندگی گزارنے کے بیشمار وسائل اور ذرائع اور بہترین طریقے سکھائے گئے تھے جن کے ذریعہ اگر وہ چاہتے تو…
Read the full tafseer →قیامت کے دوبارہ زندہ پیدا ہونے کا ذکر۔
(ف 1) شان نزول : مشرکین مکہ کی ایک جماعت نے مسلمانوں سے کہا تھا کہ اگر تمہاری بات حق ہو اور مرنے کے بعد اٹھنا ہو تم بھی ہم ہی افضل رہیں گے جیسا کہ دنیا میں ہم تم سے بہتر رہے، ان کے رد میں یہ آیت نازل ہوئی فرمایا کہ ایمانداروں اور کافروں کی موت وحیات برابر ہوجائے ایساہرگز نہیں ہوگا، کیونکہ ایماندار زندگی میں اطاعت پر قائم رہے اور کافر بدیوں میں ڈوبے رہے تو ان دونوں کی زندگی برابر نہ ہوئی ایس ہی موت بھی یکساں نہیں ہے کہ مومن کی موت بشارت، رحمت و کرامت پر ہوتی ہے اور کافر کی رحمت سے مایوسی اور ندامت پر ہے غرض مسلمان کی حالت ہر حال میں ان سے اچھی رہے گی یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
[5] حکم سے مراد دین کی سمجھ، دانائی کی باتیں اور قوت فیصلہ۔
Read the full tafseer →پیغمبر ﷺ تابع عوام نہیں ہوتا !
1: حضور کو بتایا ہے ۔ کہ آپ شریعت موسوی کی آخری کڑی ہیں ۔ اور اصل دین اور عین امر کے حامل ہیں ۔ اس لئے یہ جاہل اور حقائق مذہب سے ناآشنا لوگ آپ سے یہ توقع نہ رکھیں ۔ کہ آپ ان کی خواہشات کی پیروی کریں گے ۔ کیونکہ پیغمبر کا یہ منصب نہیں ہوتا کہ وہ لوگوں کے جذبات کو ٹٹولے ۔ اور ان کے خیالات و افکار کی اطاعت کرے ۔ وہ لوگوں کے مزعومات کی قطعاً پرواہ نہیں کرتا ۔ وہ حق وصداقت کی تعلیم دیتا ہے ۔ کامل راہ نما ہوتا ہے ۔ لوگوں کے پیچھے پیچھے نہیں دوڑتا ۔ اور دنیاوالوں سے بالکل بےنیاز ہوتا ہے ۔ اس لئے اس کا پیغام خالصاً اللہ کی طرف سے ہوتا ہے ۔ اور اس میں کسی شخص کو یا کسی…
Read the full tafseer →(21) کیا وہ لوگ جنہوں نے برائیاں کمائی ہیں یہ سمجھتے ہیں اور یہ خیال رکھتے ہیں کہ ہم ان کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لاتے ہیں اور نیک اعمال کرتے ہیں اسی طرح برابر کردیں گے کہ ان کا اور ان کا مرنا جینا یکساں ہوجائے وہ بہت ہی برا حکم ہے جو یہ لگاتے ہیں۔ یعنی ایسا خیال کرنا ان کی حماقت ہے اور یہ فیصلہ بہت برا ہے دونوں کا مرنا جینا یکساں ہوجائے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ گناہ گار جس طرح دنیا میں عیش کرتا رہا اسی طرح آخرت میں مرنے کے بعد بھی عیش کرے اور مسلمان جس طرح یہاں تکلیف اور تنگی اٹھاتا رہا اسی طرح آخرت میں بھی وہ تنگی اٹھائے یا یہ کہ مرتے وقت مسلمان کو جو بشارت دی جاتی ہے وہ بشارت برائی کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
ف 1۔ مطلب یہ کہ ان کا معاد سے یہ لازم آتا ہے کہ مطیعین کو کہیں ثمرہ اطاعت کا نہ ملے، اور مخالفین پر کبھی وبال مخالفت کا نہ پڑے، پس وجود آخرت کی یہ حکمت ہوئی کہ ہر ایک کو اس کے اعمال کے ثمرات مل جاویں۔
Read the full tafseer →کیا برائیاں کرنے والوں کو ہم نیکیاں کرنے والوں کے برابر کردیں گے ؟
12 ؎ وہ لوگ جو قیامت پر ایمان نہیں رکھتے یا زبان سے اقرار کرنے کے بارجود عملاً اس سے انکاری ہیں او ہر طرح کی بازپرس سے بےغم اور بےفکر ہیں اور ان کی اس زندگی کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ لوگ ان کو خوب داد دیں اور پورے معاشرہ میں وہ عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جائیں اور معاشرہ کے سارے لوگ ان کا احترام کریں ۔ اسلام جب ان کو اس کی اس اختراعی اور من گھڑت سرداری او اپنے منہ میاں مٹھو بننے سے روکتا ہے اور ان کو برائیوں سے باز آنے کی تلقین کرتا ہے جن برائیوں میں وہ لتھڑے پڑے ہیں تو وہ ان باتوں سے بگڑ کر بحث و تکرار پر اتر آتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
Commentary
The Hereafter: Divine Requital is Rationally Necessary
Of the two verses mentioned, the first one argues rationally that Divine reward and punishment are necessary. Every person is a witness to the fact that no one receives his full measure of reward or punishment for the good or bad deeds he does in this world. Generally, the unbelievers and evil-doers wallow in wealth and lead a life of luxury. The obedient servants of Allah, on the other hand, live in poverty, hardship and misery. In the first place, the crimes of the wicked criminals are often not detected. Even if they are…
Read the full tafseer →26 After the invitation to Tauhid, the discourse now turns to the theme of the Hereafter.
27 This is the moral reasoning for the truth of the Hereafter. The difference of good and evil in morals and of goodness and wickedness in deeds necessarily demands that the good and the evil people should not meet with one and the same end, but the good should be rewarded for their good and the wicked punished for their evil deeds. Otherwise, if the good and the evil end up similarly, the distinction of virtue and vice in morals becomes meaningless and God becomes unjust. The people who follow evil ways…
Read the full tafseer →