Explained with ayahs 16–20
بنی اسرائیل اللہ تعالیٰ کے خصوصی انعامات کا تذکرہ
بنی اسرائیل پر جو نعمتیں رحیم و کریم اللہ نے انعام فرمائی تھیں ان کا ذکر فرما رہا ہے کہ کتابیں ان پر اتاریں رسول ان میں بھیجے حکومت انہیں دی۔ بہترین غذائیں اور ستھری صاف چیزیں انہیں عطا فرمائیں اور اس زمانے کے اور لوگوں پر انہیں برتری دی اور انہیں امر دین کی عمدہ اور کھلی ہوئی دلیلیں پہنچا دیں اور ان پر حجت اللہ قائم ہوگئی۔ پھر ان لوگوں نے پھوٹ ڈالی اور مختلف گروہ بن گئے اور اس کا باعث بجز نفسانیت اور خودی کے اور کچھ نہ تھا اے نبی تیرا رب ان کے ان اختلافات کا فیصلہ قیامت کے دن خود ہی کر دے گا اس میں اس امت کو چوکنا کیا گیا ہے کہ خبردار تم ان…
Read the full tafseer →سورة الْجَاثِیَة 25
مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب اور یہ شریعت دنیا کے تمام انسانوں کے لیے وہ روشنی پیش کرتی ہے جو حق اور باطل کا فرق نمایاں کرنے والی ہے۔ مگر اس سے ہدایت وہی لوگ پاتے ہیں جو اس کی صداقت پر یقین لائیں، اور انہی کے حق میں یہ رحمت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
پچھلی امتوں کی شریعتوں کا حکم ہمارے لئے۔
(آیت) ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰي شَرِيْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ (پھر ہم نے آپ کو دین کے ایک خاص طریقے پر کردیا یہاں یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ دین اسلام کے چھ تو اصولی عقائد ہیں مثلاً توحید و آخرت وغیرہ اور کچھ عملی زندگی سے متعلق احکام ہیں۔ جہاں تک اصولی عقائد کا تعلق ہے وہ تو ہر نبی کی امت میں یکساں رہے ہیں اور ان میں کبھی ترمیم اور تبدیلی نہیں ہوئی لیکن عملی احکام مختلف انبیاء (علیہم السلام) کی شریعتوں میں اپنے اپنے زمانے کے لحاظ سے بدلتے رہے ہیں، آیت مذکورہ میں انہی دوسری قسم کے احکام کو ”دین کے ایک خاص طریقے“ سے تعبیر فرمایا گیا ہے اور اسی وجہ سے…
Read the full tafseer →ھذا بصآء پر للناس و ھدی و رحمۃ یقوم یوقنون 20
قرآن کی آیات بصیرت بخش ہیں بشرطیکہ لوگ آنکھیں کھولیں
یہ اس قرآن کی طرف اشارہ ہے جس کی مخالفت کے لئے اہل کاتب اور مشرکین نے مذکورہ متحدہ محاذ بنایا تھا اوپر آیت 11 میں بھی اس کا ذکر ہوچکا ہے۔ ھذا سے اشارہ قرآن کی طرف بحیثیت مجموعی ہے اور لفظ بصآء د قرآن کی آیات کو پیش نظر رکھ کر استعمال ہوا ہے جن کا کفار مذاق اڑانے کی کوشش کرتے تھے فرمایا کہ یہ قرآن لوگوں کے لئے بصیرت بخش آیات کا مجموعہ ہے۔ اگر لوگ اس کا مذاق اڑاتے اور ان کی مخالفت کرتے ہیں تو خود اپنی ہی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں۔ اس آیت کے اسلوب بیان سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ جہاں تک اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
20۔ 1 یعنی ان کے دلائل کا مجموعہ ہے جو احکام دین سے متعلق ہیں اور جن سے انسانی ضروریات و حاجات وابستہ ہیں۔
20۔ 2 یعنی دنیا میں ہدایت کا راستہ بتلانے والا اور آخرت میں رحمت الٰہی کا موجب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
5: یعنی بنو اسرائیل کو تورات کا علم دیا گیا تھا، اس کے باوجود انہوں نے ایک دوسرے سے حسد اور ضد کی وجہ سے آپس میں پھوٹ ڈال لی، اور اختلافات میں پڑگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
آیت نمبر 16 تا 20
اسلام سے قبل تحریک اسلامی کی قیادت بنی اسرائیل کے پاس تھی۔ آسمانی ہدایت اور عقیدہ کے حامل یہی تھے۔ اور اللہ نے اس دور کے لئے یہ مشن ان کے سپرد کردیا تھا ۔ کیونکہ انسانیت کے لئے ہر دور میں آسمانی رہنمائی کی ضرورت رہی ہے۔ اس لیے کہ زمین کے اندر جو بھی قائدین رہے ہیں وہ خواہشات نفسانیہ کے پیروکار ، جاہل اور تقصیرات سے پر رہے ہیں اس لیے وہ انسانوں کے لئے جو قانون اور شریعت بناتے رہے ہیں۔ وہ ایسی ہی تقصیر رہی۔ اللہ تعالیٰ نے چونکہ انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ اس لیے اللہ کی شریعت ہی ایسی ہو سکتی ہے جو جہل ، ذاتی خواہشات اور تقصیرات سے پاک ہو سکتی ہے۔ اس لئے کہ سب لوگ اللہ کے بندے ہیں۔…
Read the full tafseer →12 یعنی قرآن بڑی بڑی بصیرت افروز حقائق پر مشتمل ہے۔ لوگوں کو کام کی باتیں اور کامیابی کی راہ سجھاتا ہے۔ اور جو خوش قسمت اس کی ہدایات و نصائح پر یقین کر کے عمل پیرا ہوتے ہیں ان حق میں میں خصوصی طور پر قرآن و رحمت و برکت ہے۔
Read the full tafseer →آیت 20 { ہٰذَا بَصَآئِرُ لِلنَّاسِ وَہُدًی وَّرَحْمَۃٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ } ”یہ ہیں آنکھیں کھولنے والی باتیں لوگوں کے لیے اور ہدایت اور رحمت ان لوگوں کے لیے جو ان پر یقین کریں۔“
Read the full tafseer →28 قرآن سب لوگوں کے لئے رحمت کیسے ہے ؟ یعنی اس قرآن میں بصیرت افروز دلائل تو سب لوگوں کے لیے موجود ہیں۔ لیکن ان دلائل سے فائدہ صرف وہ لوگ اٹھا سکتے ہیں جو یہ یقین رکھتے ہیں کہ یہ قرآن اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ پھر جو لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں انہیں یہ کتاب دنیا میں زندگی گزارنے کے طریقہ کی مکمل رہنمائی کرتی ہے۔ اس طریقہ زندگی پر عمل کرنے سے انسان کی آخرت بھی سنور جاتی ہے۔ یہ تو اللہ کی رحمت کا ایک پہلو ہوا کہ اس نے اس دنیا میں ہی اخروی زندگی کی فلاح و نجات کا طریقہ بتادیا۔ اور اللہ کی رحمت کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہ قرآن زندگی گزارنے اور اس دنیا میں پرامن رہنے کے لیے سب انسانوں کے لیے ایسے…
Read the full tafseer →16۔ (آیت) ” ھذا ..... ھدی “۔ ظاہر ہے کہ قرآن مجید کا مجموعہ بصیرت وہدایت ہونا ہر ایک کے لئے کھلا ہوا ہے، اس کی ان خصوصیات سے فائدہ سب ہی اٹھا سکتے ہیں۔ (آیت) ” ورحمۃ لقوم یوقنون “۔ لیکن ثمرۂ عمل یعنی رحمت خاصہ یہ مخصوص اہل ایمان ہی کے ساتھ ہے۔ (آیت) ” بصآئر “۔ بعض محققین نے کہا ہے کہ (آیت) ” بصآئر “۔ بصیغہ جمع لانے میں نکتہ یہ ہے کہ قرآن مجید سارے ہی مہمات کے لئے کافی ہے۔ ایک دو کیلئے نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
آیت نمبر 12 تا 21
ترجمہ : اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے دریا کو تابع کردیا کہ اس میں اس کے حکم اجازت سے کشتیاں چلیں اور تم تجارت کے ذریعہ اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ شکر بجالاؤ شمس و قمر ستارے اور پانی وغیرہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جانور اور درخت اور گھاس اور نہریں وغیرہ جو کچھ زمین میں ہے اس نے اپنی طرف سے سب کو تمہارے تابع کردیا یعنی مذکورہ چیزوں کو اس نے انسانوں کے نفع کے لئے پیدا فرمایا جمیعًا تاکید ہے، اور مِنْہُ حال ہے یعنی ان چیزوں کو تابع کردیا حال یہ ہے کہ یہ اس کی طرف سے ہے، بلاشبہ اس تابع کرنے میں ان لوگوں کے لئے جو ان میں غور (وفکر) کریں بہت سی نشانیاں ہیں کہ ایمان لے آئیں، آپ…
Read the full tafseer →ھذا بصائر للناس وھدی ورحمۃ لقوم یوقنون یہ قرآن عام لوگوں کیلئے دانشمندیوں کا سبب اور ہدایت کا ذریعہ ہے اور یقین (یعنی ایمان) لانے والوں کیلئے بڑی رحمت (کا سبب) ہے۔
ھٰذَا یہ یعنی قرآن مجید یا اتباع شریعت۔
بَصَاءِرُ یعنی بصیرت حاصل کرنے کے ذرائع۔
لِلنَّاسِ سب لوگوں کیلئے۔ اس سے دونوں جہان میں کامیاب ہونے کے طریقے ظاہر ہوجاتے ہیں۔
وَھُدًی وَّرَحْمَۃٌ اللہ کی طرف سے راہنمائی اور رحمت ہے۔
لِقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ ان لوگوں کیلئے جو اس کے اللہ کی طرف سے ہونے کا یقین رکھتے ہیں۔
Read the full tafseer →یہ قرآن حکیم دانش مندیوں کا سبب اور گمراہی سے ہدایت پر آنے کا ذریعہ ہے اور ان لوگوں کے لیے جو کہ رسول اکرم اور قرآن کی تصدیق کرتے ہیں عذاب کے مقابلہ میں بڑی رحمت ہے۔
Read the full tafseer →(1) ھذا بصآئر للناس :”بصآئر“ ”بصیرۃ“ کی جمع ہے۔ سمجھ میں آنے والی بات۔”للناس“ کا لفظ عام ہے جس میں مسلم و کافر سب شامل ہیں۔ یعنی قرآ کریم کی باتیں ایسی ہیں جو سب لوگوں کی سمجھ میں آنے والی ہیں اور انھیں ان کے نفع و نقصان سے آگاہ کرنے والی ہیں، خواہ وہ انھیں مانیں یا نہ مانیں۔
(2) وھدی و رحمۃ لقوم یوقنون : یعنی اگرچہ قرآن کی باتیں ایسی ہیں جو سب لوگوں کی سمجھ میں آنے والی ہیں مگر اس سے فائدہ وہی اٹھاتے ہیں جو اس پر یقین رکھتے ہوں اور انھی کے لئے یہ ہدایت و رحمت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(ونزل من القرآن ماھو شفآء ورحمۃ للمومنین ولا یزید الظلمین الا خساراً) (بنی اسرائیل : 82) ’ اور ہم…
Read the full tafseer →یہ کلام مبتدا اور خبر ہے یعنی یہ چیز جو تم پر نازل کی گئی ہے یہ حدود احکام میں لوگوں کے لئے براہین، دلائل اور علم کے محل ہیں۔ اسے پڑھا گیا یعنی یہ آیات بصائر ہیں۔ یعنی رہنمائی اور طریقہ ہیں جو اس آدمی کو جنت کی طرف لے جاتا ہے جو بھی اسے اپناتا ہے : اور جو لوگ یقین رکھتے ہیں ان کے لئے آخرت میں رحمت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
1:۔ عبد بن حمید وابن المنذر (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد اتینا بنی اسرآء یل الکتب والحکم “ (اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب اور حکمت دی تھی) میں الحکم سے مراد ہے عقل سمجھ۔
2:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ثم جعلنک علی شریعۃ “ (پھر ہم نے آپ کو دین کے ایک خاص طریقہ پر کردیا) یعنی شریعۃ سے مراد ہے طریقہ۔
3:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ثم جعلنک علی شریعۃ من الامر “ سے مراد ہے کہ دین کے معاملہ ہدایت اور واضح دلیل۔
4:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ثم جعلنک علی شریعۃ من الامر “ سے مراد ہے شریعت کے فرائض اور…
Read the full tafseer →ھٰذَا بَصَاۗىِٕرُ [ یہ سمجھ میں آنے والی دلیلیں ہیں ] لِلنَّاسِ [ لوگوں کے لیے ] وَهُدًى وَّرَحْمَةٌ [ اور ہدایت اور رحمت ہے ] لِّقَوْمٍ يُّوْقِنُوْنَ [ایسے لوگوں کے لیے جو یقین کرتے ہیں ]
Read the full tafseer →تیسری آیت میں قرآن مجید کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگوں کے لیے دانشمندیوں کا ذریعہ ہے اس میں غور کریں تو بصیرت کی باتیں پائیں گے۔ مزید فرمایا کہ قرآن ہدایت بھی ہے اور رحمت بھی ہے ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
انعامات دنیوی واخروی پر قوم بنی اسرائیل وبیان بغاوت ونافرمانی ایشاں :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ولقد اتینا بنی اسرائیل الکتب ..... الی ..... سآء ما یحکمون “۔
(ربط) ماقبل آیات میں حق تعالیٰ شانہ کی قدرت کی نشانیوں کا بیان چل رہا تھا اور یہ کہ اللہ رب العزت کے کس قدر انعامات ہیں کہ اس نے اپنے بندوں ہی کے فوائد ومنافع کے لیے ساری کائنات پید ا کی اور کائنات پر ان کو تصرف کرنے کی صلاحیت اور قدرت بھی عطا فرمائی جس کا ثمرہ اور نتیجہ یہی ہونا چاہئے تھا کہ انسان اپنے رب کا فرمانبردار ہوتا تو اس مقصد اور حقیقت کی توضیح کے لیے قانون کیسے انعامات سے ان کو نوازا لین اس بدنصیب قوم نے اللہ کی دی ہوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
14:َ ” انہم لن یغنوا۔ الایۃ “ جو لوگ اپنی خواہشات نفسانیہ اور آراء باطلہ کے بندے ہیں ان کی پیروسی سے کچھ بھی نفع نہیں ہوگا نہ ان کے اتباع سے اللہ کی راہ نصیب ہوگی اور نہ اتباع باطل کے خدائی عذاب ہی سے وہ بچا سکیں گے۔ ایمان والوں کو کیا پڑی ہے کہ وہ ان ظالموں سے تعلق رکھیں اور ان کی پیروی کریں۔ ان مشرکین کی دوستی ان کے ہم جنس مشرکوں ہی سے ہوسکتی ہے اور وہی ان کے پیچھے چلیں گے جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے ” انما اتخذتم من دون اللہ اوثانا مودۃ مودۃ بینکم فی الحیوۃ الدنیا (عنکبوت رکوع 3) ۔ متقی اور شرک سے بچنے والے لوگوں کی محبت کا مرکز ذات باری تعالیٰ ہے اس لیے انہیں اسی کے ارشادات کی اطاعت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
ربط آیات
اللہ تعالیٰ نے توحید کے دلائل بیان فرمائے اور پھر کافروں اور مشرکوں سے درگزر کرنے کا حکم دیا اور انتقامی کارروائی کرنے سے منع فرما دیا پھر ارشاد ہو کہ جو شخص کوئی نیکی کا کام کرتا ہے تو اس میں خود اس کا بھلا ہوتا ہے اور جو کوئی برائی کا کام کرتا ہے تو اس کا وبال خود اسی پر پڑتا ہے ہر نیکی اور بدی کی جزائے عمل کے لئے ہر شخص کو قیامت والے دن بارگاہ رب العزت میں حاضر ہو کر اپنے اپنے اعمال کا بھگتان کرنا ہے اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی مثال بیان فرمائی کہ ہم نے ان کو کتاب حکومت و نبوت عطا فرمائی روزی کے لئے پاکیزہ چیزوں کا بندوبست کیا اور اس دور میں ان کو اقوام عالم پر فضیلت…
Read the full tafseer →ھٰذَا بَصَاۗىِٕرُ لِلنَّاسِ وَہُدًى وَّرَحْمَۃٌ لِّقَوْمٍ يُّوْقِنُوْنَ 20
هذا ( ذَاكَ ذلك)
وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال :
هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] ، إلى غير ذلك هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] ، هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ [ الرحمن/ 43] ، ويقال بإزاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
ترکیب : ام منقطعۃ بمعنی بل مع الانکار۔ قبل الانتقال من البیان الاول الی الثانی والھمزۃ لانکار الحسبان۔ والاجتراح الاکتساب و منہ الجوارح ان نجعلھم الجملۃ بتاویل المصدر مفعول لحسب کالذین مفعول ثان لنجعل۔ سواء بالنصب ھو حال من الضمیر المستترفی قولہ کالذین آمنوا اوا نہ مفعول ثان لحسب و قرء بالرفع فمحیاھم مبتداء و مماتھم معطوف علیہ وسواء خبرمقدم۔ وقیل رفع محیاھم و مماتہم بسواء لانہ بمعنی مستوٍ ۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا اللہ الذی سخر کہ اللہ نے تم پر یہ یہ احسانات کئے اس کے بعد دینی احسانات کا تذکرہ کرتا ہے اور سب سے اول بنی اسرائیل کا ذکر فرماتا ہے کہ ہم نے ان کو کتاب توریت دی تھی یا عام ہے اور…
Read the full tafseer →ھٰذَا بَصَآئِرُلِلنَّاسِ وَھُدًی وَّرَحْمَۃٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ ۔ (الجاثیۃ : 20)
(یہ لوگوں کے لیے سوجھ کی باتیں ہیں، اور ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو یقین کریں۔ )
قرآن کریم کی اہمیت
یہ قرآن کریم کسی گروہ کی میراث نہیں۔ یہ ایک ایسا سرمایہ علم و دانش ہے جس کی ایک ایک بات اپنے اندر حکمت کے نایاب موتی رکھتی ہے۔ اس کے پیش نظر نہ کسی خاص قوم کو اٹھانا ہے، نہ کسی خاص قوم کو گرانا۔ یہ اللہ وحدہ لاشریک کی نازل کردہ وہ کتاب ہے جو وحدت رب اور وحدت اب کی تعلیم دیتی ہے۔ اس کے پیش نظر پوری نوع انسانی کے اہداف اور مصالح ہیں۔ لوگوں کے لیے اس میں غور و فکر کا سامان ہے۔ جو شخص غور و فکر کے بعد اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
فہم القرآن
ربط کلام : بنی اسرائیل حق کی ناقدری کرنے اور آپس کے اختلافات کی وجہ سے دنیا کی قیادت سے محروم ہوئے۔ ان کے بعد اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو قیادت کے منصب پر فائز فرمایا ہے۔
بنی اسرائیل میں سب سے آخر میں حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) مبعوث کئے گئے۔ جنہیں اللہ تعالیٰ نے انجیل اور بڑے، بڑے معجزات عطا فرمائے مگر بنی اسرائیل کی غالب اکثریت نے ناصرف عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ اختلاف کیا بلکہ انہوں نے اپنے طور پر عیسیٰ ( علیہ السلام) کو تختہ دار پر لٹکادیا۔ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ ( علیہ السلام) کو صحیح وسالم آسمانوں پر اٹھالیا جو قیامت کے قریب دنیا میں نزول فرمائیں گے اور حضرت امام مہدی ؓ کے…
Read the full tafseer →آیت 20 : ہٰذَا بَصَآئِرُ لِلنَّاسِ (یہ قرآن عام لوگوں کے لئے دانشمندیوں کا ذریعہ ہے) ہذا کا مشارالیہ قرآن ہے۔ بصائر : یعنی اس میں دین و شریعت کے جو نشانات بتلائے گئے وہ دلوں میں بصیرت کی جگہ ہیں جیسا کہ ان کو روح وحیات قلوب بنایا گیا ہے۔
وَہُدًی (اور ہدایت ہے گمراہی سے) وَّرَحْمَۃٌ (اور رحمت ہے عذاب سے) لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ (یقین لانے والوں کے لئے) جو ایمان لائے اور بعث بعدالموت پر یقین کیا۔
Read the full tafseer →19، انھم لن یغنواعنکم من اللہ شیئا، اگر آپ ان کی خواہشات کی اتباع کریں تو وہ آپ سے اللہ کے عذاب کو دور نہ کرسکیں گے۔ ، وان الظالمین بعضھم اولیاء بعض واللہ ولی المتقین،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
16۔ 20۔ صحیح بخاری 1 ؎ میں خباب ؓ بن الارت سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے خباب نے مشرکین مکہ کی سختیوں سے تنگ آ کر آنحضرت ﷺ سے اس کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا گھبراؤ نہیں اللہ تعالیٰ اپنا وعدہ ضرور پورا کرے گا اس حدیث کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے کہ جس زمانہ میں یہ مکی آیتیں نازل ہوئی ہیں اس زمانہ میں اہل اسلام مشرکوں کے ہاتھ سے ایسے تنگ تھے جیسے کسی زمانہ میں فرعون اور اس کی قوم کے ہاتھ سے بنی اسرائیل تنگ آگئے تھے اسی واسطے ان آیتوں میں بنی اسرائیل کی راحت کی باتوں کا ذکر فرما کر مسلمانوں کو یہ تسلی دی گئی ہے کہ جس طرح بنی اسرائیل کا تکلیف کا زمانہ راحت کے…
Read the full tafseer →آیت 20
(ھذا) یعنی یہ قرآن کریم اور ذکر حکیم (بصآئر للناس) ” بصیرتیں ہیں لوگوں کے لئے۔ “ یعنی اس کے ذریعے سے لوگوں کو تمام امور میں بصیرت حاصل ہوتی ہے اور اہل ایمان اس سے فائدہ حاصل کرتے ہیں اور یہ قرآن ہدایت اور رحمت ہے (لقوم یوقنون) ” یقین رکھنے والوں کے لئے “ پس وہ اس کے ذریعے سے دین کے اصول و فروع میں صراط مستقیم کی طرف راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور وہ دنیا و آخرت میں بھلائی، مسرت اور سعادت سے بہرہ مند ہوتے ہیں اور یہ رحمت ہے، پس اس سے ان کے نفس پاک ہوتے ہیں، اس سے ان کی عقل میں اضافہ ہوتا ہے اور اس سے ان کا ایمان و یقین بڑھتا ہے اور اس پر حجت قائم ہوتی ہے، جو گمراہی پر اصرار کرتا اور عناد سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–22
مشرکین سے کیسا برتائو کیا جائے
ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن نے، انہیں عبدالرزاق نے، انہیں معمر نے قتادہ سے قول باری (قل للذین امنوا یغفروا للذین لا یرجون ایام اللہ، جو لوگ ایمان لے آئے ہیں آپ ان سے کہہ دیجئے کہ وہ ان لوگوں سے درگزر کریں جو اللہ کے معاملات کا یقین نہیں رکھتے) کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ اسے قول باری (فاقتلوا المشرکین حیث وجد تموھم مشرکین کو قتل کرو انہیں جہاں بھی پائو) نے منسوخ کردیا ہے۔
Read the full tafseer →36 قرآن حکیم مجموعہ بصائر : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ قرآن مجموعہ ہے بصیرت افروز آیتوں کا "۔ جو کہ قلب و نظر کو جلا بخشتی، عقل و خرد کو منور کرتی اور راہ حق و صواب کو واضح کرتی ہیں۔ اور اس طرح یہ انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز و سرشار کرتی جاتی ہیں ۔ فالحمد للہ رب العالمین ۔ سو یہ قرآن حکیم چشم کشا اور بصیرت افزا آیتوں کا مجموعہ ہے۔ پس جو لوگ اس سے منہ موڑتے اور روگردانی سے کام لیتے ہیں وہ خود اپنی ہی نحوست اور بدبختی کے داغ کو پکا کر رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کس قدر بدبخت اور کتنے محروم ہیں مشرکین و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–20
مومنین کو صبر کی تلقین
تشریح : ان آیات میں انسانی کردار و اخلاق کی بہتری کے کچھ اصول مثالوں کے ساتھ بتائے گئے ہیں۔ سب سے پہلے تو صبر و سکون کی ہدایت کی گئی ہے۔ جب انسان مد مقابل میں کمزور ہو تو اس کو صبر سے کام لینا چاہیے کیونکہ ایسے حالات میں صبر ہی سب سے بڑا ہتھیار ہے جیسا کہ ہجرت سے پہلے مکہ کے مسلمان ہر لحاظ سے کمزور تھے تو ہدایت کی گئی کہ منکرین کی سختیوں بد تمیزیوں اور بحث و مباحثہ کی پرواہ کئے بغیر اپنے کاموں میں مشغول رہو اور پوری نیک نیتی سے تبلیغ دین میں لگے رہو اور وحی کے احکامات پر پوری طرح عمل کرتے رہو اللہ تمہاری ضرور مدد کرے گا اور پھر ایسے ہی ہوا ہجرت کے بعد مسلمان جب مضبوط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
آیات 12 تا 21۔
اسرار ومعارف۔
اللہ تو وہ کریم ذات ہے سمندروں اور پانیوں کو بھی تمہارے لیے مسخر کردیا کہ تم ان میں جہاز رانی کروسمندری مع دنیات اور رزق کے ذرائع تلاش کرو تجارت کے راستے کے طور پر استعمال کروغرض سمندری اور آبی وسائل بھی تمہاری خدمت میں لگادیے کہ تم اللہ کا شکر ادا کرو نیز آسمانی اور زمینی ہر شے کو تمہاری خدمت پر لگادیا ہے کہ سورج چاند ہوابادل ستارے ہوں یاسیارے سب کے سب کی توجہ کامرکز زمین ہے ان کی حرکات واثرات سے زمین پر تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں اور یہ سب تبدیلیاں بالآخر بنی آدم کے کام آتی ہیں اگر کوئی ان سب باتوں پہ غور کرے تو سب کی سب عظمت الٰہی پر اور اس کے احسانات پر دلالت کرتی…
Read the full tafseer →ف 7 کیونکہ اسی کی بدولت وہ دوزخ سے بچ کر جنت کے مستحق ہوسکتے ہیں، اسے چھوڑ کر نہ دنیا میں فلاح پاسکتے ہیں اور نہ آخرت میں
Read the full tafseer →(45:20) ھذا : ای القران اتباع شریعت۔
بصائر : بصیرۃ کی جمع۔ کھلی دلیلیں۔ ظاہر نصیحتیں۔ دانش و بصیرت) قرآن مجید میں بصائر پانچ دفعہ استعمال ہوا ہے مثلا :۔
(1) قدجاء کم بصائر من ربکم فمن ابصر فلنفسہ (6:105) تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے روشن دلیلیں پہنچ چکی ہیں تو جس نے (ان کو آنکھ کھول کر دیکھا اس نے اپنا بھلا کیا۔
(2) ھذا بصائر من ربکم وھدی ورحمۃ لقوم یؤمنون (7:203) یہ (قرآن) تمہارے پروردگار کی طرف سے دانش و بصیرت اور مومنوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔
(3) قال لقد علمت ما انزل ھؤلاء الا رب السموت والارض بصائر (17:102) انہوں نے کہا کہ تم یہ جانتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کے پروردگار کے سوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
لغات القرآن آیت نمبر 16 تا 21 : شریعۃ (راستہ ، طریقہ) بصائر ( سمجھ کی باتیں) یوقنون (وہ یقین رکھتے ہیں) اجتر حوا ( انہوں نے کمایا)
تشریح : آیت نمبر 16 تا 21 : فرمایا کہ ہم نے بنی اسرائیل کو بیشمار نعمتوں سے نوازا تھا مگر انہوں نے آپس کی ضد بندی ، اختلافات اور نا شکری کا ایسا انداز اختیار کیا کہ انکی ساری عظمتوں کو چھین کر نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام کے حوالے کردیا گیا ۔ فرمایا کہ بنی اسرائیل کو توریت جیسی روشن ومنور کتاب ، سیکڑوں سال تک حکومت و اقتدار ، ہزاروں نبی اور رسول ، مال و دولت ، زندگی گزارنے کے بیشمار وسائل اور ذرائع اور بہترین طریقے سکھائے گئے تھے جن کے ذریعہ اگر وہ چاہتے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
(ف 2) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ہم نے بنی اسرائیل کو تورات، نبوت اور تورات، کے موافق فیصلے کرنے کے لیے دانش مندی دی اوانکو اچھی پاک نعمتیں غیب سے کھانے کو اتاریں حلال کشائش کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم کے اموال ودیار کا مالک کرکے اور من سلوی نازل فرما کر ان کو اس زمانہ میں سب جہانوں سے افضل کردیا، سب کا سردار بنادیا ان کو حلال و حرام اور امر ونواہی سکھائے کھلے کھلے صاف دلائل اتارے اور ان کی کتابوں میں محمد ﷺ کا صاف صاف بیان کردیا جب وہ آئے تو ان کو کچھ شک نہیں رہا سب کو یقین تھا کہ سلام ہی سچا مقدس مذہب ہے مگر وہ غرور اور حسد میں گرفتار ہوکراختلاف کرنے لگے، اور دیدہ دانستہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
[5] حکم سے مراد دین کی سمجھ، دانائی کی باتیں اور قوت فیصلہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
بنی اسرائیل پر انعامات
1: اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ہر طح کی نعمتوں سے مشرف فرمایا تھا ۔ انہیں تورات دی ۔ خاص لقمہ اور فصیل خصومات کی قابلیت بخشی ۔ اور نبوت کے فیض عمومی کو ان میں جمادی رکھا ۔ فراعنہ کے مال و دولت کا ان کو وارث بنایا ۔ اور من وسلویٰ ایسی لطیف چیزیں بلا محنت اور بغیر طلب کے ان کو دیں ۔ اور اس زمانے کے لوگوں پر ان کو فضیلت دی ۔ اور پھر اصل دین اور نفس شریعت سے ان کو آگاہ کیا ۔ ان کو بتایا ۔ کہ جہاں یہ صداقتیں پائی جائیں تم تسلیم کرو ۔ اور بغیر ادنی تامل اور جھجک کے اللہ کے پیغام کے سامنے جھک جاؤ۔ مگر ہوا یہ کو جب حضور ﷺ تسریف لائے ۔ اور آپ نے شریعت موسیٰ کی تکمیل کی ۔ اور…
Read the full tafseer →(20) یہ قرآن عام لوگوں کے لئے ایک بصیرت افروز دلائل کا مجموعہ اور ہدایت کا ذریعہ ہے اور ان لوگوں کے لئے جو یقین رکھتے ہیں یہ قرآن بڑی رحمت ہے۔ یعنی یہ قرآن دلائل واضحہ اور روشن دلیلوں سے لبریز ہے اور عام لوگوں کے لئے سوجھ بوجھ کی باتیں ہیں اور گمراہی کے مقابلے میں ہدایت اور راہ دکھانے والی ہے اور جو لوگ یقین رکھتے ہیں ان کے لئے بڑی مہر اور اللہ تعالیٰ کی بڑی رحمت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
ف 4۔ غرض سب ہی طرح کی نعمتیں ان کو دیں۔
5۔ اس مضمون سے مراد دو امر مستفاد ہوگئے، ایک آپ ﷺ کی نبوت کی تائید بنی اسرائیل کی کتاب اور احکام اور نبوت ملنے سے، دوسرا آپ کا تسلیہ کہ بنی اسرائیل کو جو وجہ اختلاف کی پیش آئی تھی وہی آپ کی قوم کو آپ کے ساتھ خلاف کرنے میں پیش آئی ہے، یعنی حب دنیا اور حسد و نفسانیت یہ نہیں کہ آپ دلائل یا احکام کے وضوح میں کچھ کمی ہو، پس آپ غم نہ کریں، یہ قصہ مذکورہ یاد کرلیا کریں کہ بنی اسرائیل کے ساتھ کیا کیا معاملات ہوئے۔
Read the full tafseer →بصیرت کی نشانیاں یہی ہیں کہ ہدایت اور رحمت یقین لانے والوں کے لئے ہے :
02 ؎…{ بصائر } کی اصل ب ص ر ہے { بصائر } جمع ہے بصیرۃ جس کے معنی بینائی سمجھ اور دلیل کے ہیں اور اس میں یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ { بصیرۃ } کا استعمال صرف اور صرف دل کی بینائی کے متعلق ہوتا ہے آنکھ سے دیکھنے اور نظر کرنے کے لئے نہیں ہوتا { بصیرۃ } کے مختلف معانی آء ہیں جیسے عقل ، سمجھ ، عبرت ، دلیل اور حجت وغیرہ ، یہ قرآن کریم اور یہ شریعت جو نبی اعظم و آخر ﷺ نے اپنے عمل سے تمہارے سامنے پیش کی ہے دنیا کے سارے انسانوں کے لئے روشنی پیش کرتی ہے جس سے حق اور باطل کھل کر سامنے آگیا ہے اور کوئی چیز پوشیدہ نہیں رہی لیکن ان روشن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
The Status of Previous Shari'ahs for Muslims
ثُمَّ جَعَلْنَاكَ عَلَىٰ شَرِيعَةٍ مِّنَ الْأَمْرِ "Then We have put you on a certain way of the Matter (i.e. the religion)... 45:18". Here it may be borne in mind that the religion of Islam has certain fundamental articles of faith, such as the Oneness of Allah, the Hereafter and so on; and there are ordinances, laws and injunctions related to practical life. As far as the fundamental articles of faith are concerned, they are immutable and were imparted to every Prophet (علیہ السلام) and his Ummah since the inception of man. However, laws…
Read the full tafseer →25 That is, "This Book and this Shari`ah present such a light for all the people of the world, which distinguishes the truth from falsehood, but only such people receive any guidance from it who believe in its truth; for them only it is a mercy. "
Read the full tafseer →