Explained with ayahs 16–20
بنی اسرائیل اللہ تعالیٰ کے خصوصی انعامات کا تذکرہ
بنی اسرائیل پر جو نعمتیں رحیم و کریم اللہ نے انعام فرمائی تھیں ان کا ذکر فرما رہا ہے کہ کتابیں ان پر اتاریں رسول ان میں بھیجے حکومت انہیں دی۔ بہترین غذائیں اور ستھری صاف چیزیں انہیں عطا فرمائیں اور اس زمانے کے اور لوگوں پر انہیں برتری دی اور انہیں امر دین کی عمدہ اور کھلی ہوئی دلیلیں پہنچا دیں اور ان پر حجت اللہ قائم ہوگئی۔ پھر ان لوگوں نے پھوٹ ڈالی اور مختلف گروہ بن گئے اور اس کا باعث بجز نفسانیت اور خودی کے اور کچھ نہ تھا اے نبی تیرا رب ان کے ان اختلافات کا فیصلہ قیامت کے دن خود ہی کر دے گا اس میں اس امت کو چوکنا کیا گیا ہے کہ خبردار تم ان…
Read the full tafseer →سورة الْجَاثِیَة 24
یعنی اگر تم انہیں راضی کرنے کے لیے اللہ کے دین میں کسی قسم کا رد و بدل کرو گے تو اللہ کے مواخذہ سے وہ تمہیں نہ بچا سکیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
پچھلی امتوں کی شریعتوں کا حکم ہمارے لئے۔
(آیت) ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰي شَرِيْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ (پھر ہم نے آپ کو دین کے ایک خاص طریقے پر کردیا یہاں یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ دین اسلام کے چھ تو اصولی عقائد ہیں مثلاً توحید و آخرت وغیرہ اور کچھ عملی زندگی سے متعلق احکام ہیں۔ جہاں تک اصولی عقائد کا تعلق ہے وہ تو ہر نبی کی امت میں یکساں رہے ہیں اور ان میں کبھی ترمیم اور تبدیلی نہیں ہوئی لیکن عملی احکام مختلف انبیاء (علیہم السلام) کی شریعتوں میں اپنے اپنے زمانے کے لحاظ سے بدلتے رہے ہیں، آیت مذکورہ میں انہی دوسری قسم کے احکام کو ”دین کے ایک خاص طریقے“ سے تعبیر فرمایا گیا ہے اور اسی وجہ سے…
Read the full tafseer →انھم لن یغنوا عنک من اللہ شیاء ط مان الظلمین بعضھم اولیآء بعض واللہ ولی المتقین 19
یہ لوگ کتنا ہی زور لگائیں لیکن ان کی پروا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ لوگ خدا کے حضور میں تمہارے کچھ کام آنے والے نہیں بن سکیں گے۔ جو ذمہ داری اللہ نے تم پر ڈالی ہے اس کی بابت پرسش تمبی سے ہونی ہے، ان سے نہیں ہونی ہے اس وجہ سے اللہ کا جو حکم ہے اس کی تعمیل کرو یہ لوگ خواہ مخالفت کر کے تمہیں دبانے کی کوشش کریں خواہ ہمدردانہ انداز میں تمہیں کچھ نرم کرنا چاہیں، کسی صورت میں بھی ان کی پرواہ نہ کرو۔
وان الظلمین بعضھم اولیآء بعض ج واللہ و لی المتقین، ظالمین، سے مراد یہاں اہل کتاب اور مشرکین دونوں ہی ہیں اس لئے کہ دونوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
20۔ 1 یعنی ان کے دلائل کا مجموعہ ہے جو احکام دین سے متعلق ہیں اور جن سے انسانی ضروریات و حاجات وابستہ ہیں۔
20۔ 2 یعنی دنیا میں ہدایت کا راستہ بتلانے والا اور آخرت میں رحمت الٰہی کا موجب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
5: یعنی بنو اسرائیل کو تورات کا علم دیا گیا تھا، اس کے باوجود انہوں نے ایک دوسرے سے حسد اور ضد کی وجہ سے آپس میں پھوٹ ڈال لی، اور اختلافات میں پڑگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
آیت نمبر 16 تا 20
اسلام سے قبل تحریک اسلامی کی قیادت بنی اسرائیل کے پاس تھی۔ آسمانی ہدایت اور عقیدہ کے حامل یہی تھے۔ اور اللہ نے اس دور کے لئے یہ مشن ان کے سپرد کردیا تھا ۔ کیونکہ انسانیت کے لئے ہر دور میں آسمانی رہنمائی کی ضرورت رہی ہے۔ اس لیے کہ زمین کے اندر جو بھی قائدین رہے ہیں وہ خواہشات نفسانیہ کے پیروکار ، جاہل اور تقصیرات سے پر رہے ہیں اس لیے وہ انسانوں کے لئے جو قانون اور شریعت بناتے رہے ہیں۔ وہ ایسی ہی تقصیر رہی۔ اللہ تعالیٰ نے چونکہ انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ اس لیے اللہ کی شریعت ہی ایسی ہو سکتی ہے جو جہل ، ذاتی خواہشات اور تقصیرات سے پاک ہو سکتی ہے۔ اس لئے کہ سب لوگ اللہ کے بندے ہیں۔…
Read the full tafseer →10 یعنی ان کی طرف جھکنا تم کو خدا کے ہاں کچھ کام نہ دے گا۔
11 یعنی منصف اور راستی پسند مسلمان، ظالم اور بےراہ و کافروں کے رفیق نہیں ہوسکتے۔ وہ تو اللہ کے مطیع بندے ہیں اور اللہ ہی ان کا رفیق و مددگار ہے۔ لازم ہے کہ اسی کی راہ چلیں اور اسی پر بھروسہ رکھیں۔
Read the full tafseer →آیت 19 { اِنَّہُمْ لَنْ یُّغْنُوْا عَنْکَ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا } ”یہ لوگ اللہ کے مقابلے میں آپ کے کچھ بھی کام نہیں آسکیں گے۔“
یہ مضمون قرآن میں متعددبار آچکا ہے۔ سورة بنی اسرائیل میں یوں فرمایا گیا : { وَاِنْ کَادُوْا لَیَفْتِنُوْنَکَ عَنِ الَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ لِتَفْتَرِیَ عَلَیْنَا غَیْرَہٗق وَاِذًا لاَّتَّخَذُوْکَ خَلِیْلاً وَلَوْلَآ اَنْ ثَـبَّتْنٰکَ لَقَدْ کِدْتَّ تَرْکَنُ اِلَیْہِمْ شَیْئًا قَلِیْلاً اِذًا لَّاَذَقْنٰکَ ضِعْفَ الْحَیٰوۃِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لاَ تَجِدُ لَکَ عَلَیْنَا نَصِیْرًا } ”اور یہ لوگ اس بات پر ُ تلے ہوئے ہیں کہ آپ ﷺ کو پھسلا دیں اس وحی سے جو ہم نے…
Read the full tafseer →26 اگر آپ ان میں سے کسی فرقہ کے موقف کی حمایت کردیں گے تو اس دنیا میں تو شاید وہ آپ کا حامی بن جائے گا لیکن قیامت کے دن وہ آپ کے کسی کام نہ آسکیں گے وہ تو خود اپنی گمراہیوں کے عذاب میں ماخوذ ہوں گے، دوسروں کے کیا کام آئیں گے ؟۔
27 یعنی حق کے مقابلہ میں سب بےانصاف اور ظالم لوگ مل بیٹھتے ہیں اور آپس میں اتحاد کرلیتے ہیں۔ اگرچہ ان میں خاصے باہمی اختلافات موجود ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں اللہ کے فرمانبرداروں اور اس سے ڈرنے والوں کا حامی و ناصر صرف اللہ ہوتا ہے جو ان کے سب کام سیدھے کئے جاتا ہے اور اس کی یہ کارسازی دائمی اور پائیدار ہے جو اس دنیا سے آگے آخرت میں بھی برقرار رہے گی۔
Read the full tafseer →15۔ (تو آپ ﷺ تو پرہیزگار ان عالم کے سرور وسردار ہیں، حق تعالیٰ آپ کا دوست و کارساز تو بدرجہ اولی ہوگا) (آیت) ” ان ..... بعض “۔ ظالم سے یہاں بھی مراد کافر ہی ہیں۔ نافرمانوں اور سرکشوں کی باہمی نصرت ومعاونت کی ایک تازہ اور نمایاں مثال عین اس تفسیر کی تحریر کے وقت پیش نظر ہے، مسیحیوں کو یہود سے اور یہود کو مسیحیوں سے جو عداوت وبیزاری ہے۔ تاریخ کے اوراق سے ظاہر ہے اور قاتلان ” ابن اللہ “ اور پرستاران ” ابن اللہ “۔ کید درمیان یہی ہونا بھی تھا، لیکن بایں ہمہ اس وقت علاقہ فلسطین میں یہ ود کی آبادی یہود کی مستقل حکومت کے قیام اور یہودیت کے فروغ میں سب سے زیادہ کوشاں یورپ اور امریکہ کی مسیحی ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
آیت نمبر 12 تا 21
ترجمہ : اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے دریا کو تابع کردیا کہ اس میں اس کے حکم اجازت سے کشتیاں چلیں اور تم تجارت کے ذریعہ اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ شکر بجالاؤ شمس و قمر ستارے اور پانی وغیرہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جانور اور درخت اور گھاس اور نہریں وغیرہ جو کچھ زمین میں ہے اس نے اپنی طرف سے سب کو تمہارے تابع کردیا یعنی مذکورہ چیزوں کو اس نے انسانوں کے نفع کے لئے پیدا فرمایا جمیعًا تاکید ہے، اور مِنْہُ حال ہے یعنی ان چیزوں کو تابع کردیا حال یہ ہے کہ یہ اس کی طرف سے ہے، بلاشبہ اس تابع کرنے میں ان لوگوں کے لئے جو ان میں غور (وفکر) کریں بہت سی نشانیاں ہیں کہ ایمان لے آئیں، آپ…
Read the full tafseer →انھم لن یغنوا عنک من اللہ شیئا وان الظلمین بعضھم اولیاء بعض وا اللہ ولی یہ لوگ اللہ کے مقابلے میں آپ کے ذرا کام نہیں آسکتے اور ظالم لوگ باہم ایک دوسرے کے دوست ہوتے ہیں اور اللہ اہل تقویٰ کا دوست ہے۔
شَرِیْعَۃٍ حق راستہ ‘ صراط مستقیم ‘ جس پر چلنے کا انبیاء کو حکم دیا گیا تھا۔
مِنَ الْاَمْرِ ۔ الامر سے مراد ہے امر دین۔
فَاتَّبِعْھَا یعنی اے محمد ﷺ ! آپ شریعت حق پر چلئے۔
وَلاَ تَتَّبِعْ بظاہر رسول اللہ ﷺ کو خطاب ہے ‘ لیکن خطاب کا اصل رخ امت کی طرف ہے (کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے متعلق تو اتباع خواہشات کا احتمال ہی نہیں تھا) یعنی آپ کی امت ان لوگوں کا اتباع نہ کرے جو کتاب اللہ سے ناواقف ہیں ‘ خواہ اس…
Read the full tafseer →کیونکہ ان لوگوں کے طریقہ کی پیروی عذاب الہی کے مقابلہ میں آپ کے کچھ کام نہیں آئے گی اور کافر تو ایک دوسرے کے طریقہ پر قائم ہیں اور اللہ تعالیٰ تو کفر و شرک اور برائیوں سے بچنے والوں کا دوست ہے۔
Read the full tafseer →(1) انھم لن یغنوا عنک من اللہ شیائً :(ان“ تعلیل یعنی کسی بات کی وجہ بیان کرنے کے لئے ہوتا ہے۔ پچھلی آیت میں فرمایا کہ آپ اللہ کی نازل کردہ شریعت کی پیروی کریں اور ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کریں جو نہیں جانتے۔ اب فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر آپ انہیں خوش کرنے کے لئے ان کی خواہشات کے پیچھے چلیں گے اور دین میں کسی قسم کا رد و بدل کریں گے تو اپنے اللہ کو ناراض کرلیں گے، پھر یہ لوگ آپ کو اللہ تعالیٰ کی گرفت سے کسی طرح نہ بچا سکیں گے۔
(2) وان الظلمین بعضھم اولیآء بعض …: یہ ایسے لوگوں کی خواہشات کی پیروی سے منع کرنے کی دوسری وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی شریعت کی پیروی متقی لوگوں کا کام ہے اور اس…
Read the full tafseer →اگر آپ ان کی خواہشات کی اتباع کریں تو وہ تجھ سے اللہ تعالیٰ کے عذاب میں سے کسی چیز کو دور نہیں کریں گے۔
ظالم ایک دوسرے کے دوست مددگار اور احباب ہیں : حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد منافق یہودیوں کا دوست ہیں۔
اللہ متقین کا مددگار ہے۔ یہاں متقین سے مراد وہ لوگ ہیں جو شرک اور معاصی سے بچتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
1:۔ عبد بن حمید وابن المنذر (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد اتینا بنی اسرآء یل الکتب والحکم “ (اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب اور حکمت دی تھی) میں الحکم سے مراد ہے عقل سمجھ۔
2:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ثم جعلنک علی شریعۃ “ (پھر ہم نے آپ کو دین کے ایک خاص طریقہ پر کردیا) یعنی شریعۃ سے مراد ہے طریقہ۔
3:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ثم جعلنک علی شریعۃ من الامر “ سے مراد ہے کہ دین کے معاملہ ہدایت اور واضح دلیل۔
4:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ثم جعلنک علی شریعۃ من الامر “ سے مراد ہے شریعت کے فرائض اور…
Read the full tafseer →اِنَّهُمْ [بیشک یہ لوگ ] لَنْ يُّغْنُوْا عَنْكَ [ ہرگز کام نہ آئیں گے آپ کے ] مِنَ اللّٰهِ [ اللہ (کے سامنے ) سے ] شَيْـــــًٔا ۭ [ کچھ بھی ] وَاِنَّ الظّٰلِمِيْنَ [ اور بیشک ظالم لوگ ] بَعْضُهُمْ [ ان کا کوئی ] اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ ۚ [ کسی کا کارساز ہے ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] وَلِيُّ الْمُتَّقِيْنَ [ متقی لوگوں کا کارساز ہے ]
Read the full tafseer →دوسری آیت میں فرمایا کہ یہ لوگ آپ کو اللہ کے مقابلے میں کچھ بھی فائدہ نہیں دے سکتے یعنی اگر آپ نے ان کے دین کا اتباع کرلیا اور اس پر اللہ کی طرف سے گرفت ہوگئی تو یہ لوگ ذرا بھی آپ کو فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔
﴿وَ اِنَّ الظّٰلِمِيْنَ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَآءُ بَعْضٍ 1ۚ ﴾ ظالم لوگ یعنی کفار، مشرکین اور منافقین اور یہود و نصاریٰ ایک دوسرے کے دوست ہیں وہ آپس میں ایک دوسرے کی مدد کی نیت رکھتے ہیں۔ ﴿ وَ اللّٰهُ وَلِيُّ الْمُتَّقِيْنَ 0019﴾ اور اللہ متقیوں کا ولی ہے وہ دنیا میں بھی ان کی مدد فرماتا ہے اور آخرت میں بھی مدد فرمائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
انعامات دنیوی واخروی پر قوم بنی اسرائیل وبیان بغاوت ونافرمانی ایشاں :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ولقد اتینا بنی اسرائیل الکتب ..... الی ..... سآء ما یحکمون “۔
(ربط) ماقبل آیات میں حق تعالیٰ شانہ کی قدرت کی نشانیوں کا بیان چل رہا تھا اور یہ کہ اللہ رب العزت کے کس قدر انعامات ہیں کہ اس نے اپنے بندوں ہی کے فوائد ومنافع کے لیے ساری کائنات پید ا کی اور کائنات پر ان کو تصرف کرنے کی صلاحیت اور قدرت بھی عطا فرمائی جس کا ثمرہ اور نتیجہ یہی ہونا چاہئے تھا کہ انسان اپنے رب کا فرمانبردار ہوتا تو اس مقصد اور حقیقت کی توضیح کے لیے قانون کیسے انعامات سے ان کو نوازا لین اس بدنصیب قوم نے اللہ کی دی ہوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
14:َ ” انہم لن یغنوا۔ الایۃ “ جو لوگ اپنی خواہشات نفسانیہ اور آراء باطلہ کے بندے ہیں ان کی پیروسی سے کچھ بھی نفع نہیں ہوگا نہ ان کے اتباع سے اللہ کی راہ نصیب ہوگی اور نہ اتباع باطل کے خدائی عذاب ہی سے وہ بچا سکیں گے۔ ایمان والوں کو کیا پڑی ہے کہ وہ ان ظالموں سے تعلق رکھیں اور ان کی پیروی کریں۔ ان مشرکین کی دوستی ان کے ہم جنس مشرکوں ہی سے ہوسکتی ہے اور وہی ان کے پیچھے چلیں گے جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے ” انما اتخذتم من دون اللہ اوثانا مودۃ مودۃ بینکم فی الحیوۃ الدنیا (عنکبوت رکوع 3) ۔ متقی اور شرک سے بچنے والے لوگوں کی محبت کا مرکز ذات باری تعالیٰ ہے اس لیے انہیں اسی کے ارشادات کی اطاعت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
ربط آیات
اللہ تعالیٰ نے توحید کے دلائل بیان فرمائے اور پھر کافروں اور مشرکوں سے درگزر کرنے کا حکم دیا اور انتقامی کارروائی کرنے سے منع فرما دیا پھر ارشاد ہو کہ جو شخص کوئی نیکی کا کام کرتا ہے تو اس میں خود اس کا بھلا ہوتا ہے اور جو کوئی برائی کا کام کرتا ہے تو اس کا وبال خود اسی پر پڑتا ہے ہر نیکی اور بدی کی جزائے عمل کے لئے ہر شخص کو قیامت والے دن بارگاہ رب العزت میں حاضر ہو کر اپنے اپنے اعمال کا بھگتان کرنا ہے اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی مثال بیان فرمائی کہ ہم نے ان کو کتاب حکومت و نبوت عطا فرمائی روزی کے لئے پاکیزہ چیزوں کا بندوبست کیا اور اس دور میں ان کو اقوام عالم پر فضیلت…
Read the full tafseer →اِنَّہُمْ لَنْ يُّغْنُوْا عَنْكَ مِنَ اللہِ شَيْـــــًٔا 0 ۭ وَاِنَّ الظّٰلِـمِيْنَ بَعْضُہُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ 0 ۚ وَاللہُ وَلِيُّ الْمُتَّقِيْنَ 19
غنی( فایدة)
أَغْنَانِي كذا، وأغْنَى عنه كذا : إذا کفاه . قال تعالی: ما أَغْنى عَنِّي مالِيَهْ [ الحاقة/ 28] ، ما أَغْنى عَنْهُ مالُهُ [ المسد/ 2] ، لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ أَمْوالُهُمْ وَلا أَوْلادُهُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئاً [ آل عمران/ 10] ،
( غ ن ی ) الغنیٰ
اور اغنانی کذا اور اغنی کذا عنہ کذا کسی چیز کا کا فی ہونا اور فائدہ بخشنا ۔ قر آں میں ہے : ما أَغْنى عَنِّي مالِيَهْ [ الحاقة/ 28] میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا ما أَغْنى عَنْهُ مالُهُ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
ترکیب : ام منقطعۃ بمعنی بل مع الانکار۔ قبل الانتقال من البیان الاول الی الثانی والھمزۃ لانکار الحسبان۔ والاجتراح الاکتساب و منہ الجوارح ان نجعلھم الجملۃ بتاویل المصدر مفعول لحسب کالذین مفعول ثان لنجعل۔ سواء بالنصب ھو حال من الضمیر المستترفی قولہ کالذین آمنوا اوا نہ مفعول ثان لحسب و قرء بالرفع فمحیاھم مبتداء و مماتھم معطوف علیہ وسواء خبرمقدم۔ وقیل رفع محیاھم و مماتہم بسواء لانہ بمعنی مستوٍ ۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا اللہ الذی سخر کہ اللہ نے تم پر یہ یہ احسانات کئے اس کے بعد دینی احسانات کا تذکرہ کرتا ہے اور سب سے اول بنی اسرائیل کا ذکر فرماتا ہے کہ ہم نے ان کو کتاب توریت دی تھی یا عام ہے اور…
Read the full tafseer →اِنَّھُمْ لَنْ یُّغْنُوْا عَنْـکَ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا ط وَاِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضُھُمْ اَوْلِیَـآئُ بَعْضٍ ج وَاللّٰہُ وَلِیُّ الْمُتَّقِیْنَ ۔ (الجاثیۃ : 19)
(بےشک یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں آپ کے کچھ بھی کام نہیں آسکتے، بیشک ظالم لوگ ایک دوسرے کے مددگار ہیں، اور اللہ اپنے ڈرنے والے بندوں کا کارساز ہے۔ )
یہود سے بےنیازی کی ہدایت
مخالفین یہود ہوں یا مشرکین وہ مخالفت میں مختلف اسالیب اختیار کریں گے۔ کبھی مرعوب کرنے کی کوشش کریں گے اور کبھی ہموار کرنے کی۔ آپ کسی حال میں بھی ان پر اعتماد نہ کیجیے۔ یہ اپنے تئیں کچھ بھی سمجھتے ہوں لیکن اللہ تعالیٰ کے معاملے میں یہ آپ کی کوئی مدد نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
فہم القرآن
ربط کلام : بنی اسرائیل حق کی ناقدری کرنے اور آپس کے اختلافات کی وجہ سے دنیا کی قیادت سے محروم ہوئے۔ ان کے بعد اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو قیادت کے منصب پر فائز فرمایا ہے۔
بنی اسرائیل میں سب سے آخر میں حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) مبعوث کئے گئے۔ جنہیں اللہ تعالیٰ نے انجیل اور بڑے، بڑے معجزات عطا فرمائے مگر بنی اسرائیل کی غالب اکثریت نے ناصرف عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ اختلاف کیا بلکہ انہوں نے اپنے طور پر عیسیٰ ( علیہ السلام) کو تختہ دار پر لٹکادیا۔ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ ( علیہ السلام) کو صحیح وسالم آسمانوں پر اٹھالیا جو قیامت کے قریب دنیا میں نزول فرمائیں گے اور حضرت امام مہدی ؓ کے…
Read the full tafseer →آیت 19 : اِنَّہُمْ (بیشک یہ کافر لوگ) لَنْ یُّغْنُوْا عَنْکَ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضُہُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍ وَاللّٰہُ وَلِیُّ الْمُتَّقِیْنَ (اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ذرہ بھر آپ کے کام نہیں آسکتے۔ اور ظالم ایک دوسرے کے دوست ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اہل تقویٰ کا دوست ہے) متقین ہی اللہ تعالیٰ سے موالات کرنے والے ہیں۔ دونوں موالاتوں کے درمیان کتنا فاصلہ ہے۔
Read the full tafseer →تفسیر 18۔ ، ثم جعلناک ، اے محمد ! (ﷺ) ، علی شریعۃ، موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد سنت وطریقہ۔ ، من الامر، دین سے۔ ، فاتبعھا ولاتتبع اھواء الذین لا یعلمون ، یعنی کافروں کی مراد اور یہ اس وجہ سے کہ وہ آپ (علیہ السلام) کو کہتے تھے کہ آپ اپنے آباء کے دین کی طرف لوٹ آئیں کیونکہ وہ تجھ سے افضل تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
16۔ 20۔ صحیح بخاری 1 ؎ میں خباب ؓ بن الارت سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے خباب نے مشرکین مکہ کی سختیوں سے تنگ آ کر آنحضرت ﷺ سے اس کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا گھبراؤ نہیں اللہ تعالیٰ اپنا وعدہ ضرور پورا کرے گا اس حدیث کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے کہ جس زمانہ میں یہ مکی آیتیں نازل ہوئی ہیں اس زمانہ میں اہل اسلام مشرکوں کے ہاتھ سے ایسے تنگ تھے جیسے کسی زمانہ میں فرعون اور اس کی قوم کے ہاتھ سے بنی اسرائیل تنگ آگئے تھے اسی واسطے ان آیتوں میں بنی اسرائیل کی راحت کی باتوں کا ذکر فرما کر مسلمانوں کو یہ تسلی دی گئی ہے کہ جس طرح بنی اسرائیل کا تکلیف کا زمانہ راحت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
آیت 18 ۔ 19
یعنی ہم نے آپ کے لئے ایک شریعت کامل کو مشروع کیا جو ہمارے حکم شرعی سے، ہر بھلائی کی طرف بلاتی ہے اور ہر برائی سے روکتی ہے۔ (فاتبعھا) ” پس اس کی اتباع کرو۔ “ کیونکہ اس کی اتباع میں ابدی سعادت، صلاح اور فلاح ہے۔ (ولا تتبع اھوآء الذین لایعلمون) ” اور ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کریں جو علم نہیں رکھتے۔ “ یعنی وہ لوگ جن کی خواہشات علم کے تابع ہیں نہ علم کی پیروی کرتی ہیں۔ ہر وہ شخص جس کی خواہش اور ارادہ شریعت رسول کے خلاف ہے تو اس کی خواہشات ان لوگوں کی خواہشات کے زمرے میں آتی ہیں جو علم سے بےبہرہ ہیں۔
(انھم لن یغنوا عنک من اللہ شیاً ) یعنی اگر تو ان کی خواہشات نفس کی پیروی کرے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–22
مشرکین سے کیسا برتائو کیا جائے
ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن نے، انہیں عبدالرزاق نے، انہیں معمر نے قتادہ سے قول باری (قل للذین امنوا یغفروا للذین لا یرجون ایام اللہ، جو لوگ ایمان لے آئے ہیں آپ ان سے کہہ دیجئے کہ وہ ان لوگوں سے درگزر کریں جو اللہ کے معاملات کا یقین نہیں رکھتے) کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ اسے قول باری (فاقتلوا المشرکین حیث وجد تموھم مشرکین کو قتل کرو انہیں جہاں بھی پائو) نے منسوخ کردیا ہے۔
Read the full tafseer →34 ظالم آپس میں ایک دوسرے کے دوست : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ ظالم لوگ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں "۔ جو اپنے ظلم و بغاوت کے رشتے کے مطابق ایک دوسرے سے دوستی رکھتے اور ان کی مدد کرتے ہیں۔ اور اس طرح وہ حقیقت میں اپنا ہی نقصان کرتے اور ایک دوسرے کو راہ حق و ہدایت سے دور لے جاتے اور محروم کرتے ہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَالَّذِیْنَ کَفَرَوُآ اَوْلِیائُہُُمُ الَّطاغُوْتُ یُخْرِجُوْنَہُمْ مِّنَ النور الی الظُّلُمَاتِ } ۔ (البقرۃ : 257) مگر ان کو اس کا احساس و شعور نہیں۔ یہ تو ہوا ان کا حال اس دنیا میں۔ اور آخرت میں ان کا کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–20
مومنین کو صبر کی تلقین
تشریح : ان آیات میں انسانی کردار و اخلاق کی بہتری کے کچھ اصول مثالوں کے ساتھ بتائے گئے ہیں۔ سب سے پہلے تو صبر و سکون کی ہدایت کی گئی ہے۔ جب انسان مد مقابل میں کمزور ہو تو اس کو صبر سے کام لینا چاہیے کیونکہ ایسے حالات میں صبر ہی سب سے بڑا ہتھیار ہے جیسا کہ ہجرت سے پہلے مکہ کے مسلمان ہر لحاظ سے کمزور تھے تو ہدایت کی گئی کہ منکرین کی سختیوں بد تمیزیوں اور بحث و مباحثہ کی پرواہ کئے بغیر اپنے کاموں میں مشغول رہو اور پوری نیک نیتی سے تبلیغ دین میں لگے رہو اور وحی کے احکامات پر پوری طرح عمل کرتے رہو اللہ تمہاری ضرور مدد کرے گا اور پھر ایسے ہی ہوا ہجرت کے بعد مسلمان جب مضبوط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
آیات 12 تا 21۔
اسرار ومعارف۔
اللہ تو وہ کریم ذات ہے سمندروں اور پانیوں کو بھی تمہارے لیے مسخر کردیا کہ تم ان میں جہاز رانی کروسمندری مع دنیات اور رزق کے ذرائع تلاش کرو تجارت کے راستے کے طور پر استعمال کروغرض سمندری اور آبی وسائل بھی تمہاری خدمت میں لگادیے کہ تم اللہ کا شکر ادا کرو نیز آسمانی اور زمینی ہر شے کو تمہاری خدمت پر لگادیا ہے کہ سورج چاند ہوابادل ستارے ہوں یاسیارے سب کے سب کی توجہ کامرکز زمین ہے ان کی حرکات واثرات سے زمین پر تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں اور یہ سب تبدیلیاں بالآخر بنی آدم کے کام آتی ہیں اگر کوئی ان سب باتوں پہ غور کرے تو سب کی سب عظمت الٰہی پر اور اس کے احسانات پر دلالت کرتی…
Read the full tafseer →ف 6 یعنی اگر آپ مداہنت سے کام لیں گے تو وہ آپ کو اللہ کی پکڑ سے نہ بچا سکیں گے۔
Read the full tafseer →(45:19) لن یغنوا مضارع منفی تاکید بلن : جمع مذکر غائب ۔ اغناء (افعال) مصدر وہ ہرگز دفع نہیں کرسکیں گے۔ ہرگز کسی کام نہ آسکیں گے۔ مضارع منصوب بوجہ عمل لن ہے۔
من اللّٰہ۔ اللہ کے سامنے۔ اللہ کے مقابلے میں۔
ان الظلمین بعضھم اولیاء بعض : ان حرف مشبہ بالفعل ، الظلمین اسم فاعل جمع مذکر منصوب۔ اسم ان۔ بعضھم اولیاء بعض خبر۔ تحقیق ظالم لوگ ایک دوسرے کے دوست ہوتے ہیں۔ اولیاء جمع ولی کی بمعنی دوست ، ساتھی۔
ولی المتقین۔ مضاف مضاف الیہ۔ المتقین اسم فاعل جمع مذکر منصوب اتقاء (افتعال) مصدر۔ متقی لوگ ، پرہیزگار لوگ۔ ولی المتقین پرہیزگار لوگوں کا دوست ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
لغات القرآن آیت نمبر 16 تا 21 : شریعۃ (راستہ ، طریقہ) بصائر ( سمجھ کی باتیں) یوقنون (وہ یقین رکھتے ہیں) اجتر حوا ( انہوں نے کمایا)
تشریح : آیت نمبر 16 تا 21 : فرمایا کہ ہم نے بنی اسرائیل کو بیشمار نعمتوں سے نوازا تھا مگر انہوں نے آپس کی ضد بندی ، اختلافات اور نا شکری کا ایسا انداز اختیار کیا کہ انکی ساری عظمتوں کو چھین کر نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام کے حوالے کردیا گیا ۔ فرمایا کہ بنی اسرائیل کو توریت جیسی روشن ومنور کتاب ، سیکڑوں سال تک حکومت و اقتدار ، ہزاروں نبی اور رسول ، مال و دولت ، زندگی گزارنے کے بیشمار وسائل اور ذرائع اور بہترین طریقے سکھائے گئے تھے جن کے ذریعہ اگر وہ چاہتے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
(ف 2) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ہم نے بنی اسرائیل کو تورات، نبوت اور تورات، کے موافق فیصلے کرنے کے لیے دانش مندی دی اوانکو اچھی پاک نعمتیں غیب سے کھانے کو اتاریں حلال کشائش کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم کے اموال ودیار کا مالک کرکے اور من سلوی نازل فرما کر ان کو اس زمانہ میں سب جہانوں سے افضل کردیا، سب کا سردار بنادیا ان کو حلال و حرام اور امر ونواہی سکھائے کھلے کھلے صاف دلائل اتارے اور ان کی کتابوں میں محمد ﷺ کا صاف صاف بیان کردیا جب وہ آئے تو ان کو کچھ شک نہیں رہا سب کو یقین تھا کہ سلام ہی سچا مقدس مذہب ہے مگر وہ غرور اور حسد میں گرفتار ہوکراختلاف کرنے لگے، اور دیدہ دانستہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
[5] حکم سے مراد دین کی سمجھ، دانائی کی باتیں اور قوت فیصلہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
بنی اسرائیل پر انعامات
1: اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ہر طح کی نعمتوں سے مشرف فرمایا تھا ۔ انہیں تورات دی ۔ خاص لقمہ اور فصیل خصومات کی قابلیت بخشی ۔ اور نبوت کے فیض عمومی کو ان میں جمادی رکھا ۔ فراعنہ کے مال و دولت کا ان کو وارث بنایا ۔ اور من وسلویٰ ایسی لطیف چیزیں بلا محنت اور بغیر طلب کے ان کو دیں ۔ اور اس زمانے کے لوگوں پر ان کو فضیلت دی ۔ اور پھر اصل دین اور نفس شریعت سے ان کو آگاہ کیا ۔ ان کو بتایا ۔ کہ جہاں یہ صداقتیں پائی جائیں تم تسلیم کرو ۔ اور بغیر ادنی تامل اور جھجک کے اللہ کے پیغام کے سامنے جھک جاؤ۔ مگر ہوا یہ کو جب حضور ﷺ تسریف لائے ۔ اور آپ نے شریعت موسیٰ کی تکمیل کی ۔ اور…
Read the full tafseer →(19) کیونکہ یہ جہلا اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں آپ کے ذرا کام نہیں آسکتے اور بلا شبہ ظالم اور بےانصاف لوگ آپس میں ایک دوسری کے دوست ہوا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ متقیوں اور پرہیزگاروں کا دوست اور رفیق ہے۔ یعنی یہ ظالم لوگ ناانصافی ان کا شیوہ ہے یہ آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں یہ آپ کے دوست نہیں ہوسکتے کیونکہ آپ متقیوں کے سردار ہیں اور یہ جاہل اور ظالم اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں آپ کے کچھ کام نہیں آسکیں گے اور اللہ تعالیٰ چونکہ اہل تقویٰ کا رفیق اور کارساز ہے لہٰذا آپ اسی کی رفاقت پر اعتماد رکھیئے اور جو طریقہ آپ کو بتادیا ہے اس پر خود بھی چلئے اور دوسروں کو بھی اسی راستے چلنے کی ترغیب دیجئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
ف 4۔ غرض سب ہی طرح کی نعمتیں ان کو دیں۔
5۔ اس مضمون سے مراد دو امر مستفاد ہوگئے، ایک آپ ﷺ کی نبوت کی تائید بنی اسرائیل کی کتاب اور احکام اور نبوت ملنے سے، دوسرا آپ کا تسلیہ کہ بنی اسرائیل کو جو وجہ اختلاف کی پیش آئی تھی وہی آپ کی قوم کو آپ کے ساتھ خلاف کرنے میں پیش آئی ہے، یعنی حب دنیا اور حسد و نفسانیت یہ نہیں کہ آپ دلائل یا احکام کے وضوح میں کچھ کمی ہو، پس آپ غم نہ کریں، یہ قصہ مذکورہ یاد کرلیا کریں کہ بنی اسرائیل کے ساتھ کیا کیا معاملات ہوئے۔
Read the full tafseer →انسانوں کو راضی کرنے کے بجائے اللہ کو راضی کرنے سے عمل صحیح اور درست ہوتا ہے :
91 ؎ قرآن کریم میں جب بھی کوئی حکم نبی اعظم و آخر ﷺ کو مخاطب کرکے دیا جاتا ہے تو اس حکم پر غور و فکر کرنے ضرورت دو طرح سے ہوتی ہے ایک یہ کہ کیا یہ حکم آپ کے لئے خاص ہے یا آپ ﷺ کے لئے اور آپ ﷺ کی امت کے لئے ہے دوسرا یہ کہ اس حکم میں آپ ﷺ بھی شریک ہیں یا محض آپ ﷺ کو مخاطب کر کے آپ کی امت تک بات پہنچانا ہے کیونکہ بہت سے احکام آپ ﷺ کو مخاطب کر کے بیان کئے گئے ہیں لیکن ان کی حقیت اس حکم کو آپ ﷺ کی امت تک پہنچانا ہی ہوتی ہے کیونکہ امت کے لوگوں ہی سے وہ کوتاہی ہو سکتی ہے آپ ﷺ اس کوتاہی کو کبھی نہیں کرسکتے تھے۔ یہی وہ بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
The Status of Previous Shari'ahs for Muslims
ثُمَّ جَعَلْنَاكَ عَلَىٰ شَرِيعَةٍ مِّنَ الْأَمْرِ "Then We have put you on a certain way of the Matter (i.e. the religion)... 45:18". Here it may be borne in mind that the religion of Islam has certain fundamental articles of faith, such as the Oneness of Allah, the Hereafter and so on; and there are ordinances, laws and injunctions related to practical life. As far as the fundamental articles of faith are concerned, they are immutable and were imparted to every Prophet (علیہ السلام) and his Ummah since the inception of man. However, laws…
Read the full tafseer →24 That is, "If you make any changes in Allah's Religion only to please them, they will not be able to save you from Allah's accountability and punishment. "
Read the full tafseer →