Explained with ayahs 16–20
بنی اسرائیل اللہ تعالیٰ کے خصوصی انعامات کا تذکرہ
بنی اسرائیل پر جو نعمتیں رحیم و کریم اللہ نے انعام فرمائی تھیں ان کا ذکر فرما رہا ہے کہ کتابیں ان پر اتاریں رسول ان میں بھیجے حکومت انہیں دی۔ بہترین غذائیں اور ستھری صاف چیزیں انہیں عطا فرمائیں اور اس زمانے کے اور لوگوں پر انہیں برتری دی اور انہیں امر دین کی عمدہ اور کھلی ہوئی دلیلیں پہنچا دیں اور ان پر حجت اللہ قائم ہوگئی۔ پھر ان لوگوں نے پھوٹ ڈالی اور مختلف گروہ بن گئے اور اس کا باعث بجز نفسانیت اور خودی کے اور کچھ نہ تھا اے نبی تیرا رب ان کے ان اختلافات کا فیصلہ قیامت کے دن خود ہی کر دے گا اس میں اس امت کو چوکنا کیا گیا ہے کہ خبردار تم ان…
Read the full tafseer →سورة الْجَاثِیَة 23
مطلب یہ ہے کہ جو کام پہلے بنی اسرائیل کے سپرد کیا گیا تھا وہ اب تمہارے سپرد کیا گیا ہے۔ انہوں نے علم پانے کے باوجود اپنی نفسا نفسی سے دین میں ایسے اختلافات بر پا کیے، اور آپس میں ایسی گروہ بندیاں کر ڈالیں جن سے وہ اس قابل نہ رہے کہ دنیا کو خدا کے راستے پر بلا سکیں۔ اب اسی دین کی صاف شاہراہ پر تمہیں کھڑا کیا گیا ہے تاکہ تم وہ خدمت انجام دو جسے بنی اسرائیل چھوڑ بھی چکے ہیں اور ادا کرنے کے اہل بھی نہیں رہے ہیں۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو جلد چہارم، الشوریٰ ، آیات 13 تا 15 مع حواشی 20 تا 26)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
پچھلی امتوں کی شریعتوں کا حکم ہمارے لئے۔
(آیت) ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰي شَرِيْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ (پھر ہم نے آپ کو دین کے ایک خاص طریقے پر کردیا یہاں یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ دین اسلام کے چھ تو اصولی عقائد ہیں مثلاً توحید و آخرت وغیرہ اور کچھ عملی زندگی سے متعلق احکام ہیں۔ جہاں تک اصولی عقائد کا تعلق ہے وہ تو ہر نبی کی امت میں یکساں رہے ہیں اور ان میں کبھی ترمیم اور تبدیلی نہیں ہوئی لیکن عملی احکام مختلف انبیاء (علیہم السلام) کی شریعتوں میں اپنے اپنے زمانے کے لحاظ سے بدلتے رہے ہیں، آیت مذکورہ میں انہی دوسری قسم کے احکام کو ”دین کے ایک خاص طریقے“ سے تعبیر فرمایا گیا ہے اور اسی وجہ سے…
Read the full tafseer →ثم جعلنک علی شریعۃ من الامر فاتبعھا ولا تتبع اھوآء الذین لا یعلمون 18
نبی ضلعم کو اللہ کے اصل دین پر جمے رہنے کی تاکید
شریعت کے معنی صاف راستہ اور واضح طریقہ کے ہیں اور من الامر جس مفہوم میں اوپر والی نبی صلعم کو اللہ آیت میں استعمال ہوا ہے اسی مفہوم میں اس آیت میں بھی استعمال ہوا ہے فرمایا کہ جب ان اہل کتاب نے اللہ کی بتائی ہو صراط مستقیم گم کردی اور خلق کو صحیح راہ بتانے والا کوئی نہیں رہا تب اللہ نے تم کو اپنی ایک واضح شریعت پر مبعوث فرمایا مطلب یہ ہے کہ اگر آج بنی اسرائیل تمہاری دعوت کے خلاف یہ وسوسہ اندازی کرتے پھرتے ہیں کہ ان کے اور ان کی شریعت کے ہوتے کسی نئی کتاب اور نئی شریعت کی کیا…
Read the full tafseer →18۔ 1 شریعت کے لغوی معنی ہیں، ملت اور منہاج۔ شاہراہ کو بھی شارع کہا جاتا ہے کہ وہ مقصد اور منزل تک پہنچاتی ہے پس شریعت سے مراد، وہ دین ہے جو اللہ نے اپنے بندوں کے لئے مقرر فرمایا ہے تاکہ لوگ اس پر چل کر اللہ کی رضا کا مقصد حاصل کرلیں۔ آیت کا مطلب ہے ہم نے آپ کو دین کے ایک واضح راستے یا طریقے پر قائم کردیا ہے جو آپ کو حق تک پہنچا دے گا۔
18۔ 2 جو اللہ کی توحید اور اس کی شریعت سے ناواقف ہیں۔ مراد کفار مکہ اور ان کے ساتھی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
5: یعنی بنو اسرائیل کو تورات کا علم دیا گیا تھا، اس کے باوجود انہوں نے ایک دوسرے سے حسد اور ضد کی وجہ سے آپس میں پھوٹ ڈال لی، اور اختلافات میں پڑگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
آیت نمبر 16 تا 20
اسلام سے قبل تحریک اسلامی کی قیادت بنی اسرائیل کے پاس تھی۔ آسمانی ہدایت اور عقیدہ کے حامل یہی تھے۔ اور اللہ نے اس دور کے لئے یہ مشن ان کے سپرد کردیا تھا ۔ کیونکہ انسانیت کے لئے ہر دور میں آسمانی رہنمائی کی ضرورت رہی ہے۔ اس لیے کہ زمین کے اندر جو بھی قائدین رہے ہیں وہ خواہشات نفسانیہ کے پیروکار ، جاہل اور تقصیرات سے پر رہے ہیں اس لیے وہ انسانوں کے لئے جو قانون اور شریعت بناتے رہے ہیں۔ وہ ایسی ہی تقصیر رہی۔ اللہ تعالیٰ نے چونکہ انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ اس لیے اللہ کی شریعت ہی ایسی ہو سکتی ہے جو جہل ، ذاتی خواہشات اور تقصیرات سے پاک ہو سکتی ہے۔ اس لئے کہ سب لوگ اللہ کے بندے ہیں۔…
Read the full tafseer →9 یعنی ان اختلافات اور فرقہ وارانہ کشمکش کی موجودگی میں ہم نے آپ کو دین کے صحیح راستہ پر قائم کردیا تو آپ کو اور آپ کی امت کو چاہیے کہ اس راستہ پر برابر مستقیم رہے۔ کبھی بھول کر بھی جاہلوں اور نادانوں کی خواہشات پر نہ چلے۔ مثلاً ان کی خواہش یہ ہے کہ آپ ان کے طعن وتشنیع اور ظلم وتعدی سے تنگ آکر دعوت و تبلیغ ترک کردیں، یا مسلمانوں میں بھی ویسا ہی اختلاف و تفریق پڑجائے جس میں وہ لوگ خود مبتلا ہیں۔ اندریں صورت واجب ہے کہ ان کی خواہشات کو بالکل پامال کردیا جائے۔
Read the full tafseer →آیت 18 { ثُمَّ جَعَلْنٰکَ عَلٰی شَرِیْعَۃٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْہَا }“ پھر اے نبی ﷺ ! ہم نے آپ کو قائم کردیا دین کے معاملہ میں ایک صاف شاہراہ شریعت پر ‘ تو آپ اسی کی پیروی کریں“
حضرت آدم سے لے کر نبی آخر الزماں ﷺ تک تمام انبیاء رسل علیہ السلام اسی دین کی دعوت کے لیے مبعوث ہوئے۔ سورة الشوریٰ میں اس نکتے کی وضاحت ہم پڑھ چکے ہیں : { شَرَعَ لَـکُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰی بِہٖ نُوْحًا وَّالَّذِیْٓ اَوْحَیْنَـآ اِلَـیْکَ وَمَا وَصَّیْنَا بِہٖٓ اِبْرٰہِیْمَ وَمُوْسٰی وَعِیْسٰٓی…} آیت 13 ”اے مسلمانو ! اس نے تمہارے لیے دین میں وہی کچھ مقرر کیا ہے جس کی وصیت اس نے نوح علیہ السلام کو کی تھی اور…
Read the full tafseer →25 بنی اسرائیل سے امت محمدیہ کو اقامت دین کی پیشوائی :۔ اس آیت میں امر سے مراد اقامت دین ہے۔ یعنی اے نبی ! ہم نے پہلے اہل عالم کی رہنمائی کے لیے بنی اسرائیل کو اقامت دین کا علمبردار بنایا تھا۔ وہ آپس میں ہی کئی فرقوں میں بٹ کر آپس میں لڑنے جھگڑنے لگے۔ اس حال میں وہ اقامت دین کا فریضہ کیا سرانجام دے سکتے تھے۔ بلکہ اس قابل ہی نہ رہ گئے تھے۔ اب ہم نے آپ کو اقامت دین کی پیشوائی کے منصب پر سرفراز فرمایا ہے۔ اور جو تمہیں شریعت دی جارہی ہے اس میں اقامت دین کے لیے مکمل اور واضح ہدایات موجود ہیں۔ آپ بس ان احکام و ہدایات کے مطابق عمل کرتے جائیے۔ بنی اسرائیل کا ہر فرقہ آپ سے یہ توقع رکھے گا کہ آپ اس کے…
Read the full tafseer →14۔ یہ شیوہ تو ظالموں، فاسقوں کا ہے کہ ایک دوسرے کی راہ پر چلنے لگتے ہیں۔ آپ ﷺ کو نبوت سے سرفراز کیا۔ (آیت) ” الامر “۔ سے مراد دین ہے۔ اے من امر الدین (بیضاوی) (آیت) ’ ’ الامر “۔ ہوسکتا ہے کہ ال استغراق کا ہو، تو مراد یہ ہوگی کہ ہم نے ہر امر عظیم ومہتم بالشان میں آپ کو راہ دکھا دی اور آپ کسی امر میں بھی بےراہ نہیں رہے۔ (آیت) ” فاتبعھا “۔ یعنی دین حق کا اتباع اپنے عمل سے بھی کرتے رہئے، اور تعلیم وتبلیغ سے بھی، مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ شریعت کی مخالفت کرکے قرب و کمال کا دعوی کرنا تمامتر دعوئے باطل کرنا ہے۔ (آیت) ” الذین لایعلمون “۔ یعنی جو لوگ علم حقیقت سے بےبیگانہ ہیں، ناآشنائے ایمان،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
آیت نمبر 12 تا 21
ترجمہ : اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے دریا کو تابع کردیا کہ اس میں اس کے حکم اجازت سے کشتیاں چلیں اور تم تجارت کے ذریعہ اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ شکر بجالاؤ شمس و قمر ستارے اور پانی وغیرہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جانور اور درخت اور گھاس اور نہریں وغیرہ جو کچھ زمین میں ہے اس نے اپنی طرف سے سب کو تمہارے تابع کردیا یعنی مذکورہ چیزوں کو اس نے انسانوں کے نفع کے لئے پیدا فرمایا جمیعًا تاکید ہے، اور مِنْہُ حال ہے یعنی ان چیزوں کو تابع کردیا حال یہ ہے کہ یہ اس کی طرف سے ہے، بلاشبہ اس تابع کرنے میں ان لوگوں کے لئے جو ان میں غور (وفکر) کریں بہت سی نشانیاں ہیں کہ ایمان لے آئیں، آپ…
Read the full tafseer →ثم جعلنک علی شریعۃ من الامر فاتبعھا ولا تتبع اھواء الذین لا یعلمون۔ المتقین پھر ہم نے آپ کو دین کے ایک طریقے پر کردیا ‘ سو آپ اسی طریقے پر چلے جائیے اور ان جاہلوں کی خواہشات پر نہ چلئے۔
Read the full tafseer →پھر ہم نے آپ کو اپنے حکم اور اطاعت کے خاص طریقہ پر منتخب کرلیا، آپ اسی پر قائم رہیے اور اسی کے مطابق عمل کرتے رہیے یا یہ کہ اسلام کے ساتھ ہم نے آپ کو اعزاز عطا کیا اور اس چیز کا حکم دیا کہ اللہ کی مخلوق کو اسی کی طرف بلائیں اور ان مشرکین اور یہود و نصاری کے طریقہ پر نہ چلیے جو توحید الہی کو نہیں جانتے۔
Read the full tafseer →(1) ثم جعلنک علی شریعۃ من الامر :”شریعۃ“ کا معنی صاف راستہ اور واضح طریقہ ہے۔”الامر“ سے مراد ”امر دین“ ہے۔ یعنی بنی اسرائیل جب اپنی سرکشی، ضد اور عناد کی وجہ سے دین کے واضح احکام پر قائم نہ رہے بلکہ بہت سے گمراہ فرقوں میں بٹ گئے اور واضح اور صحیح دین کی دعوت دینے والوں سے عداوت اور گمراہی میں اس حد تک بڑھ گئے کہا نہوں نے مسیح ؑ جیسے برگزیدہ پیغمبر کو بھی قتل کرنے سے دریغ نہ کیا، بلکہ اپنے گمان میں انھیں صلیب پر چڑھا کر دم لیا۔ جب وہ سرکشی کی اس حد تک آپہنچے تو اس فضیلت سے محروم کردیئے گئے جو انھیں دنیا کی امامت کی صورت میں حاصل تھی۔ پھر اے محمد ! ہم نے تجھے اس امر (یعنی دین) کے واضح راستے اور…
Read the full tafseer →اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1:۔ لغت میں شریعت سے مراد مذہب اور ملت ہے۔ پانی کے گھاٹ کو شریعہ کہتے ہیں اسی سے لفظ شارع ہے کیونکہ یہ مقصد کی طرف جانے کا راستہ ہے شریعت اسے کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے دین شروع کیا ہوتا ہے اس کی جمع شرائع ہے دین میں شرائع سے مراد وہ مذہب ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کے لئے مشروع کیئے ہوتے ہیں۔ کا معنی ہے یعنی دین کے معاملہ میں واضح منہاج جو تجھے حق کی طرف لے جاتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : کا معنی ہے دین کے معاملہ میں ہدایت پر۔
قتادہ نے کہا : شریعت سے مراد امر، نہی، حدود اور فرائض ہیں۔ مقاتل نے کہا : اس کا معنی بینہ ہے کیونکہ یہ حق کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
1:۔ عبد بن حمید وابن المنذر (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد اتینا بنی اسرآء یل الکتب والحکم “ (اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب اور حکمت دی تھی) میں الحکم سے مراد ہے عقل سمجھ۔
2:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ثم جعلنک علی شریعۃ “ (پھر ہم نے آپ کو دین کے ایک خاص طریقہ پر کردیا) یعنی شریعۃ سے مراد ہے طریقہ۔
3:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ثم جعلنک علی شریعۃ من الامر “ سے مراد ہے کہ دین کے معاملہ ہدایت اور واضح دلیل۔
4:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ثم جعلنک علی شریعۃ من الامر “ سے مراد ہے شریعت کے فرائض اور…
Read the full tafseer →ثُمَّ جَعَلْنٰكَ [ پھر ہم نے رکھا آپ کو ] عَلٰي شَرِيْعَةٍ [ ایک ضابطہ پر ] مِّنَ الْاَمْرِ [ اس معاملہ (دین ) میں سے ] فَاتَّبِعْهَا [ تو آپ پیروی کریں اس کی ] وَلَا تَتَّبِعْ [ اور آپ پیروی مت کریں ] اَهْوَاۗءَ الَّذِيْنَ [ ان کی خواہشات کی جو ] لَا يَعْلَمُوْنَ [ علم نہیں رکھتے ]
Read the full tafseer →ہم نے آپ کو مستقل شریعت دی ہے، کفار آپ کو کچھ نفع نہیں پہنچا سکتے، وہ آپس میں ایک دوسرے کے مددگار ہیں، اور اللہ متقیوں کا ولی ہے
یہ تین آیات کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں رسول اللہ ﷺ کو خطاب فرمایا ہے کہ بنی اسرائیل کے بعد ہم نے آپ کو ایک شریعت دی ہے جو دین سے متعلق ہے۔ قال القرطبی : ای علی منھاج واضح من امر الدین یشرع بک من الحق (علامہ قرطبی فرماتے ہیں یعنی آپ کو دین حق کی جو شریعت (قانون) دی ہے اس کے واضح راستہ پر چلتے رہیں) سو آپ اس کا اتباع کریں اور ان لوگوں کا اتباع نہ کریں جو نہیں جانتے یعنی قریش مکہ جو آپ کا دین قبول کرنے کے بجائے اپنے باپ دادوں کا دین قبول کرنے کی دعوت دیتے ہیں ان کا اتباع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
انعامات دنیوی واخروی پر قوم بنی اسرائیل وبیان بغاوت ونافرمانی ایشاں :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ولقد اتینا بنی اسرائیل الکتب ..... الی ..... سآء ما یحکمون “۔
(ربط) ماقبل آیات میں حق تعالیٰ شانہ کی قدرت کی نشانیوں کا بیان چل رہا تھا اور یہ کہ اللہ رب العزت کے کس قدر انعامات ہیں کہ اس نے اپنے بندوں ہی کے فوائد ومنافع کے لیے ساری کائنات پید ا کی اور کائنات پر ان کو تصرف کرنے کی صلاحیت اور قدرت بھی عطا فرمائی جس کا ثمرہ اور نتیجہ یہی ہونا چاہئے تھا کہ انسان اپنے رب کا فرمانبردار ہوتا تو اس مقصد اور حقیقت کی توضیح کے لیے قانون کیسے انعامات سے ان کو نوازا لین اس بدنصیب قوم نے اللہ کی دی ہوئی…
Read the full tafseer →13:۔ ” ثم جعلناک علی شریعۃ۔ تا۔ رحمۃ لقوم یومنون “ یہ سورت کا مقصودی دعوی ہے اور اس شبہ کا جواب ہے کہ ہم نے مان لیا کہ ہمارے معبود شفیع غالب نہیں اور ہماری پکاریں بھی نہیں سنتے لیکن ہم ان کو صرف اس لیے پکارتے ہیں کہ ہمارے باپ دادا، ہمارے پیر اور رہنما ایسا کرتے چلے آئے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ہماری پکار ان کو سنوا دے اور وہ ہماری سفارش کردیں تو بہتر ورنہ ہماری دعا اور پکار بےکار جائیگی۔ تو اس کا جواب ارشاد فرمایا کہ جب دلائل عقل و نقل سے ثابت ہوچکا کہ سب کچھ ننے اور جاننے والا اللہ تعالیٰ ہی تو صرف اسی کو پکارو اور غیر اللہ کو مت پکارو۔ نیز ہم نے دین اسلام کی راہ واضح اور روشن کر کے اس پر آپ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
ربط آیات
اللہ تعالیٰ نے توحید کے دلائل بیان فرمائے اور پھر کافروں اور مشرکوں سے درگزر کرنے کا حکم دیا اور انتقامی کارروائی کرنے سے منع فرما دیا پھر ارشاد ہو کہ جو شخص کوئی نیکی کا کام کرتا ہے تو اس میں خود اس کا بھلا ہوتا ہے اور جو کوئی برائی کا کام کرتا ہے تو اس کا وبال خود اسی پر پڑتا ہے ہر نیکی اور بدی کی جزائے عمل کے لئے ہر شخص کو قیامت والے دن بارگاہ رب العزت میں حاضر ہو کر اپنے اپنے اعمال کا بھگتان کرنا ہے اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی مثال بیان فرمائی کہ ہم نے ان کو کتاب حکومت و نبوت عطا فرمائی روزی کے لئے پاکیزہ چیزوں کا بندوبست کیا اور اس دور میں ان کو اقوام عالم پر فضیلت…
Read the full tafseer →ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰي شَرِيْعَۃٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْہَا وَلَا تَتَّبِعْ اَہْوَاۗءَ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ 18
جعل
جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها،
( ج ع ل ) جعل
یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔
شرع
الشَّرْعُ : نهج الطّريق الواضح . يقال : شَرَعْتُ له طریقا، والشَّرْعُ : مصدر، ثم جعل اسما للطریق النّهج فقیل له : شِرْعٌ ، وشَرْعٌ ، وشَرِيعَةٌ ، واستعیر ذلک للطریقة الإلهيّة . قال تعالی:
لِكُلٍّ جَعَلْنا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهاجاً [ المائدة/ 48] ،
فذلک إشارة إلى أمرین :
أحدهما : ما سخّر اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
ترکیب : ام منقطعۃ بمعنی بل مع الانکار۔ قبل الانتقال من البیان الاول الی الثانی والھمزۃ لانکار الحسبان۔ والاجتراح الاکتساب و منہ الجوارح ان نجعلھم الجملۃ بتاویل المصدر مفعول لحسب کالذین مفعول ثان لنجعل۔ سواء بالنصب ھو حال من الضمیر المستترفی قولہ کالذین آمنوا اوا نہ مفعول ثان لحسب و قرء بالرفع فمحیاھم مبتداء و مماتھم معطوف علیہ وسواء خبرمقدم۔ وقیل رفع محیاھم و مماتہم بسواء لانہ بمعنی مستوٍ ۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا اللہ الذی سخر کہ اللہ نے تم پر یہ یہ احسانات کئے اس کے بعد دینی احسانات کا تذکرہ کرتا ہے اور سب سے اول بنی اسرائیل کا ذکر فرماتا ہے کہ ہم نے ان کو کتاب توریت دی تھی یا عام ہے اور…
Read the full tafseer →ثُمَّ جَعَلْنٰـکَ عَلٰی شَرِیْعَۃٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْھَا وَلاَ تَتَّبِعْ اَھْوَآئَ الَّذِیْنَ لاَ یَعْلَمُوْنَ ۔ (الجاثیۃ : 18)
(پھر ہم نے اے نبی ! آپ کو ایک واضح شریعت پر قائم کیا ہے، پس آپ اسی کی پیروی کریں اور ان لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کریں جو علم نہیں رکھتے۔ )
آنحضرت ﷺ کی بعثت کا سبب اور آپ کو ہدایات
یہود نے جب اللہ تعالیٰ کے دین کو اپنی خواہشات کے تابع کرکے گروہ بندیوں کی نذر کردیا اور دین کی پیدا کردہ وحدت میں اس حد تک اختلافات کے دروازے کھول دیئے کہ لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے دین کی شناخت مشکل ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ نے شریعت کی صورت میں جو انھیں صراط مستقیم دکھائی تھی اسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
فہم القرآن
ربط کلام : بنی اسرائیل حق کی ناقدری کرنے اور آپس کے اختلافات کی وجہ سے دنیا کی قیادت سے محروم ہوئے۔ ان کے بعد اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو قیادت کے منصب پر فائز فرمایا ہے۔
بنی اسرائیل میں سب سے آخر میں حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) مبعوث کئے گئے۔ جنہیں اللہ تعالیٰ نے انجیل اور بڑے، بڑے معجزات عطا فرمائے مگر بنی اسرائیل کی غالب اکثریت نے ناصرف عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ اختلاف کیا بلکہ انہوں نے اپنے طور پر عیسیٰ ( علیہ السلام) کو تختہ دار پر لٹکادیا۔ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ ( علیہ السلام) کو صحیح وسالم آسمانوں پر اٹھالیا جو قیامت کے قریب دنیا میں نزول فرمائیں گے اور حضرت امام مہدی ؓ کے…
Read the full tafseer →دین قریش اہواء کا مجموعہ ہے :
آیت 18 : ثُمَّ جَعَلْنٰـکَ (پھر ہم نے آپ کو کردیا ) ۔ اہل کتاب کے اختلاف کے بعد عَلٰی شَرِیْعَۃٍ مِّنَ الْاَمْرِ (دین کے ایک خاص طریقہ پر) فَاتَّبِعْہَا (پس آپ اسی طریقہ پر چلتے جایئے) آپ اپنی اس شریعت کی اتباع کرتے رہیں جو دلائل و شواہد سے ثابت شدہ ہے۔ وَلَا تَتَّبِعْ اَہْوَآئَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ (اور ان جہلاء کی خواہشات پر مت چلیں) جہال کی خواہشات پر مت چلیں اس لئے کہ ان کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ اور دین قریش بدعات واہواء پر ہی مشتمل تھا یہ اس مطالبے کا جواب ہے جو رؤسائے قریش کی طرف سے سامنے آیا اور بار بار سامنے آیا کہ اپنے آبائو اجداد کے دین پر لوٹ آئیں۔
Read the full tafseer →17، وآتیناھم بینا ت من الامر، یعنی علم محمد ﷺ کی بعثت کا اور آپ (علیہ السلام) کا امر جوان کے لیے بیان کیا۔
، فما اختلفوا الا من بعد ماجاء ھم العلم بغیا ان ربک یقضی بینھم یوم القیا مۃ فیما کانوافیہ یختلفون،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
16۔ 20۔ صحیح بخاری 1 ؎ میں خباب ؓ بن الارت سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے خباب نے مشرکین مکہ کی سختیوں سے تنگ آ کر آنحضرت ﷺ سے اس کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا گھبراؤ نہیں اللہ تعالیٰ اپنا وعدہ ضرور پورا کرے گا اس حدیث کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے کہ جس زمانہ میں یہ مکی آیتیں نازل ہوئی ہیں اس زمانہ میں اہل اسلام مشرکوں کے ہاتھ سے ایسے تنگ تھے جیسے کسی زمانہ میں فرعون اور اس کی قوم کے ہاتھ سے بنی اسرائیل تنگ آگئے تھے اسی واسطے ان آیتوں میں بنی اسرائیل کی راحت کی باتوں کا ذکر فرما کر مسلمانوں کو یہ تسلی دی گئی ہے کہ جس طرح بنی اسرائیل کا تکلیف کا زمانہ راحت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
آیت 18 ۔ 19
یعنی ہم نے آپ کے لئے ایک شریعت کامل کو مشروع کیا جو ہمارے حکم شرعی سے، ہر بھلائی کی طرف بلاتی ہے اور ہر برائی سے روکتی ہے۔ (فاتبعھا) ” پس اس کی اتباع کرو۔ “ کیونکہ اس کی اتباع میں ابدی سعادت، صلاح اور فلاح ہے۔ (ولا تتبع اھوآء الذین لایعلمون) ” اور ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کریں جو علم نہیں رکھتے۔ “ یعنی وہ لوگ جن کی خواہشات علم کے تابع ہیں نہ علم کی پیروی کرتی ہیں۔ ہر وہ شخص جس کی خواہش اور ارادہ شریعت رسول کے خلاف ہے تو اس کی خواہشات ان لوگوں کی خواہشات کے زمرے میں آتی ہیں جو علم سے بےبہرہ ہیں۔
(انھم لن یغنوا عنک من اللہ شیاً ) یعنی اگر تو ان کی خواہشات نفس کی پیروی کرے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–22
مشرکین سے کیسا برتائو کیا جائے
ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن نے، انہیں عبدالرزاق نے، انہیں معمر نے قتادہ سے قول باری (قل للذین امنوا یغفروا للذین لا یرجون ایام اللہ، جو لوگ ایمان لے آئے ہیں آپ ان سے کہہ دیجئے کہ وہ ان لوگوں سے درگزر کریں جو اللہ کے معاملات کا یقین نہیں رکھتے) کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ اسے قول باری (فاقتلوا المشرکین حیث وجد تموھم مشرکین کو قتل کرو انہیں جہاں بھی پائو) نے منسوخ کردیا ہے۔
Read the full tafseer →33 منکرین کا دین محض اتباع ہویٰ اور بس : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کرنا جو علم نہیں رکھتے "۔ یعنی جو علم نہیں رکھتے حق اور حقیقت کا۔ جس کے نتیجے میں وہ غافل و بےفکر ہیں اپنے رب کی معرفت اور اس کے حقوق سے۔ اور وہ جاہل ہیں اپنے فرائضِ بندگی سے۔ اور اس طرح وہ حق اور حقیقت کی روشنی سے محروم ہو کر بہائم کی زندگی گزار رہے ہیں اور خواہشات نفس کی تحصیل و تکمیل ہی ان کا اصل مطمح نظر اور مقصود حیات ہے۔ سو ایسے بندگان ھویٰ و ہوس کی پیروی سراسر ہلاکت ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ لہذا ایسوں کی پیروی کبھی نہیں کرنا۔ اگرچہ وہ ظاہری اعتبار سے اور دنیاوی چمک دمک کے لحاظ سے کتنا ہی کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–20
مومنین کو صبر کی تلقین
تشریح : ان آیات میں انسانی کردار و اخلاق کی بہتری کے کچھ اصول مثالوں کے ساتھ بتائے گئے ہیں۔ سب سے پہلے تو صبر و سکون کی ہدایت کی گئی ہے۔ جب انسان مد مقابل میں کمزور ہو تو اس کو صبر سے کام لینا چاہیے کیونکہ ایسے حالات میں صبر ہی سب سے بڑا ہتھیار ہے جیسا کہ ہجرت سے پہلے مکہ کے مسلمان ہر لحاظ سے کمزور تھے تو ہدایت کی گئی کہ منکرین کی سختیوں بد تمیزیوں اور بحث و مباحثہ کی پرواہ کئے بغیر اپنے کاموں میں مشغول رہو اور پوری نیک نیتی سے تبلیغ دین میں لگے رہو اور وحی کے احکامات پر پوری طرح عمل کرتے رہو اللہ تمہاری ضرور مدد کرے گا اور پھر ایسے ہی ہوا ہجرت کے بعد مسلمان جب مضبوط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
آیات 12 تا 21۔
اسرار ومعارف۔
اللہ تو وہ کریم ذات ہے سمندروں اور پانیوں کو بھی تمہارے لیے مسخر کردیا کہ تم ان میں جہاز رانی کروسمندری مع دنیات اور رزق کے ذرائع تلاش کرو تجارت کے راستے کے طور پر استعمال کروغرض سمندری اور آبی وسائل بھی تمہاری خدمت میں لگادیے کہ تم اللہ کا شکر ادا کرو نیز آسمانی اور زمینی ہر شے کو تمہاری خدمت پر لگادیا ہے کہ سورج چاند ہوابادل ستارے ہوں یاسیارے سب کے سب کی توجہ کامرکز زمین ہے ان کی حرکات واثرات سے زمین پر تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں اور یہ سب تبدیلیاں بالآخر بنی آدم کے کام آتی ہیں اگر کوئی ان سب باتوں پہ غور کرے تو سب کی سب عظمت الٰہی پر اور اس کے احسانات پر دلالت کرتی…
Read the full tafseer →ف 4 یعنی …کو واضح کرنے کی جو خدمت موسیٰ (علیہ السلام) کے سپرد کی گئی تھی وہی اب آپ کے سپرد کی گی ہے۔
5 یعنی انہیں اپنے قریب کرنے کے لئے دنی کے معاملے میں کسی قسم کی مدہنت سے کام نہ لیں۔ نادانوں سے مراد کفار قریش ہیں
Read the full tafseer →(45:18) ثم تراخی فی الوقت کے لئے ہے پھر۔ ای بعد از بنی اسرائیل۔
جعلنک : جعلنا ماضی جمع متکلم ۔ جعل باب فتح۔ ہم نے بنایا۔ ہم نے کیا۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ پھر ہم نے تم کو (قائم) کردیا۔ شریعۃ۔ طریقہ ، راستہ۔
المفردات میں ہے :۔ الشرع : سیدھا راستہ جو وواضع ہو۔ یہ اصل میں شرعت لہ طریقا (واضح راستہ مقرر کرنا) کا مصدر ہے اور بطور اسم کے بولا جاتا ہے۔ چناچہ واضح راستہ کو شرع و شرع وشریعۃ کہا جاتا ہے ۔ پھر استعارہ کے طور پر طریق الٰہیہ پر یہ الفاظ بولے جاتے ہیں۔ ایک دستور۔ ایک طریق۔
بعض نے کہا ہے کہ شریعت کا لفظ شریعۃ الماء سے ماخوذ ہے جس کے معنی پانی کے گھاٹ کے ہیں (جہاں لوگ بآسانی بیٹھ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
لغات القرآن آیت نمبر 16 تا 21 : شریعۃ (راستہ ، طریقہ) بصائر ( سمجھ کی باتیں) یوقنون (وہ یقین رکھتے ہیں) اجتر حوا ( انہوں نے کمایا)
تشریح : آیت نمبر 16 تا 21 : فرمایا کہ ہم نے بنی اسرائیل کو بیشمار نعمتوں سے نوازا تھا مگر انہوں نے آپس کی ضد بندی ، اختلافات اور نا شکری کا ایسا انداز اختیار کیا کہ انکی ساری عظمتوں کو چھین کر نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام کے حوالے کردیا گیا ۔ فرمایا کہ بنی اسرائیل کو توریت جیسی روشن ومنور کتاب ، سیکڑوں سال تک حکومت و اقتدار ، ہزاروں نبی اور رسول ، مال و دولت ، زندگی گزارنے کے بیشمار وسائل اور ذرائع اور بہترین طریقے سکھائے گئے تھے جن کے ذریعہ اگر وہ چاہتے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
(ف 2) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ہم نے بنی اسرائیل کو تورات، نبوت اور تورات، کے موافق فیصلے کرنے کے لیے دانش مندی دی اوانکو اچھی پاک نعمتیں غیب سے کھانے کو اتاریں حلال کشائش کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم کے اموال ودیار کا مالک کرکے اور من سلوی نازل فرما کر ان کو اس زمانہ میں سب جہانوں سے افضل کردیا، سب کا سردار بنادیا ان کو حلال و حرام اور امر ونواہی سکھائے کھلے کھلے صاف دلائل اتارے اور ان کی کتابوں میں محمد ﷺ کا صاف صاف بیان کردیا جب وہ آئے تو ان کو کچھ شک نہیں رہا سب کو یقین تھا کہ سلام ہی سچا مقدس مذہب ہے مگر وہ غرور اور حسد میں گرفتار ہوکراختلاف کرنے لگے، اور دیدہ دانستہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
[5] حکم سے مراد دین کی سمجھ، دانائی کی باتیں اور قوت فیصلہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
بنی اسرائیل پر انعامات
1: اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ہر طح کی نعمتوں سے مشرف فرمایا تھا ۔ انہیں تورات دی ۔ خاص لقمہ اور فصیل خصومات کی قابلیت بخشی ۔ اور نبوت کے فیض عمومی کو ان میں جمادی رکھا ۔ فراعنہ کے مال و دولت کا ان کو وارث بنایا ۔ اور من وسلویٰ ایسی لطیف چیزیں بلا محنت اور بغیر طلب کے ان کو دیں ۔ اور اس زمانے کے لوگوں پر ان کو فضیلت دی ۔ اور پھر اصل دین اور نفس شریعت سے ان کو آگاہ کیا ۔ ان کو بتایا ۔ کہ جہاں یہ صداقتیں پائی جائیں تم تسلیم کرو ۔ اور بغیر ادنی تامل اور جھجک کے اللہ کے پیغام کے سامنے جھک جاؤ۔ مگر ہوا یہ کو جب حضور ﷺ تسریف لائے ۔ اور آپ نے شریعت موسیٰ کی تکمیل کی ۔ اور…
Read the full tafseer →(18) پھر اے پیغمبر ہم نے آپ کو دین کے ایک خاص راستے پر قائم کردیا اور آپ کو دین کے ایک راستے پر رکھا سو آپ اس راستے پر چلے جائیے اور ان لوگوں کی خواہشات پر نہ چلئے جو صحیح علم سے بےبہرہ اور جاہل ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل کی نبوت کے دور کے بعد آپ کو نبی بنایا اور آپ کو دین کے ایک خاص طریقے اور خاص راستے پر رکھا یعنی شریعت دے کر بھیجا کہ آپ خود اس راستے پر چلیں اور دوسروں کو بھی اس شریعت کی تبلیغ کریں تو آپ اس شریعت پر قائم رہیے اور اس کی تبلیغ کرتے رہیے اور جاہلوں اور ان پڑھ لوگوں کا کہا نہ مانیے جو صحیح علم سے بےبہرہ اور کورے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
ف 4۔ غرض سب ہی طرح کی نعمتیں ان کو دیں۔
5۔ اس مضمون سے مراد دو امر مستفاد ہوگئے، ایک آپ ﷺ کی نبوت کی تائید بنی اسرائیل کی کتاب اور احکام اور نبوت ملنے سے، دوسرا آپ کا تسلیہ کہ بنی اسرائیل کو جو وجہ اختلاف کی پیش آئی تھی وہی آپ کی قوم کو آپ کے ساتھ خلاف کرنے میں پیش آئی ہے، یعنی حب دنیا اور حسد و نفسانیت یہ نہیں کہ آپ دلائل یا احکام کے وضوح میں کچھ کمی ہو، پس آپ غم نہ کریں، یہ قصہ مذکورہ یاد کرلیا کریں کہ بنی اسرائیل کے ساتھ کیا کیا معاملات ہوئے۔
Read the full tafseer →نبی اسرائیل کے بعد نبی اعظم و آخر ﷺ کو واضح رہ پر متعین کرنے کا اعلان :
81 ؎ (شریعۃ) کی اصل ش ر ع ہے اور (شریعۃ) شرع سے اسم ہے جس کے معنی راستہ ، شریعت ، الٰہی طریقہ کے ہیں۔ بعض اہل سنت کا بیان ہے کہ شریعت کا نام شرب الماء پانی کے گھاٹ سے تشبیہہ کی بنا پر پڑا ہے اسی حیثیت سے کہ جو شخص اس کی سچی حیقت پر مطلع ہوگیا وہ بحمد اللہ سیراب ہوگیا اور پاک ہوگیا اور اس پاکیزگی سے مراد جس کو کسی حکیم نے بیان کیا ہے کہ ” میں پیتا رہا اور سیراب نہ ہوا پھر جب اللہ تعالیٰ کی معرفمت ہوئی تو بن پئے سیراب ہوگیا “ اور پاک ہونے سے مراد یہ ہے ، جسے اللہ تعالیٰ نے خود بیان فرمایا کہ ” اللہ یہی چاہتا ہے کہ دور کر دے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
The Status of Previous Shari'ahs for Muslims
ثُمَّ جَعَلْنَاكَ عَلَىٰ شَرِيعَةٍ مِّنَ الْأَمْرِ "Then We have put you on a certain way of the Matter (i.e. the religion)... 45:18". Here it may be borne in mind that the religion of Islam has certain fundamental articles of faith, such as the Oneness of Allah, the Hereafter and so on; and there are ordinances, laws and injunctions related to practical life. As far as the fundamental articles of faith are concerned, they are immutable and were imparted to every Prophet (علیہ السلام) and his Ummah since the inception of man. However, laws…
Read the full tafseer →23 It means: "The mission that had been entrusted to the children of Israel before you has now been entrusted to you. They, in spite of receiving knowledge, created such differences in religion out of selfish motives and stirred up such divisions among themselves that they became disqualified to call the people to God's way. Now you have been set upon the clear highway of Religion so that you may perform the service which the children of Israel have failed to perform and become disqualified to perform it. " (For further explanation, see Ash-Shura: 13-15 and E.N.'s 20 to 26).
Read the full tafseer →