Explained with ayahs 16–20
بنی اسرائیل اللہ تعالیٰ کے خصوصی انعامات کا تذکرہ
بنی اسرائیل پر جو نعمتیں رحیم و کریم اللہ نے انعام فرمائی تھیں ان کا ذکر فرما رہا ہے کہ کتابیں ان پر اتاریں رسول ان میں بھیجے حکومت انہیں دی۔ بہترین غذائیں اور ستھری صاف چیزیں انہیں عطا فرمائیں اور اس زمانے کے اور لوگوں پر انہیں برتری دی اور انہیں امر دین کی عمدہ اور کھلی ہوئی دلیلیں پہنچا دیں اور ان پر حجت اللہ قائم ہوگئی۔ پھر ان لوگوں نے پھوٹ ڈالی اور مختلف گروہ بن گئے اور اس کا باعث بجز نفسانیت اور خودی کے اور کچھ نہ تھا اے نبی تیرا رب ان کے ان اختلافات کا فیصلہ قیامت کے دن خود ہی کر دے گا اس میں اس امت کو چوکنا کیا گیا ہے کہ خبردار تم ان…
Read the full tafseer →سورة الْجَاثِیَة 22
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد اول، البقرہ، حاشیہ 23، آل عمران، حواشی 17۔ 18۔ جلد چہارم، الشوریٰ ، حواشی نمبر 22۔ 23۔
Read the full tafseer →معارف و مسائل
ان آیات کا موضوع آنحضرت ﷺ کی رسالت کا اثبات ہے اور اس کے ضمن میں کفار کی ایذا رسانیوں پر آپ کی تسلی بھی فرمائی گئی ہے۔ (آیت) اِنَّ رَبَّكَ يَقْضِيْ بَيْنَهُمْ الخ یہاں تک کے مضمون آیات سے دو باتیں مستفاد ہوئیں، ایک تو بنی اسرائیل کو کتاب و نبوت دینے سے آپ کی نبوت کی تائید، دوسرے آپ کی تسلی کہ بنی اسرائیل کو اختلاف کی وجہ جو پیش آئی تھی وہی آپ کی قوم کو آپ کے ساتھ اختلاف کرنے میں پیش آئی ہے یعنی حب دنیا اور حسد و نفسانیت یہ نہیں کہ آپ کے دلائل میں کچھ کمی ہو پس آپ غم نہ کریں۔ (بیان القرآن)
Read the full tafseer →واتینھم بینت من الامر فما اختلفوا الامن بعد ماجآء ھم العلم، بغیا بینھم ان ربک یقضی بینھم یوم القیمۃ فیما کانوافیہ یختلفون 17
یہود کی رہنمائی کے لئے مزید اہتمام اور ان کی طرف سے اس کی ناقدری
امر سے مراد یہاں دین و شریعت ہے فرمایا کہ مزید برآں ہم نے یہ کیا کہ شریعت کے احکام ان کو نہایت واضح قطعی اور غیر مشتبہ شکل میں دیے تاکہ ان میں کسی اختلاف یا ان سے فرار کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔ لیکن اس سارے اہتمام کے باوجود انہوں نے اختلاف کیا اور یہ اختلاف اس وجہ سے نہیں کہ اس کے لئے کوئی وجہ موجود تھی بلکہ علم وحی کی روشنی موجود ہوتے ہوئے انہوں نے محض غلام ضدا کے باعث یہ اختلاف برپا کیا جس کا نتیجہ…
Read the full tafseer →17۔ 1 آپس میں ایک دوسرے سے حسد اور بغض وعناد کا مظاہرہ کرتے ہوئے یا جاہ و منصب کی خاطر۔ انہوں نے اپنے دین میں، علم آجانے کے باوجود، اختلاف یا نبی ﷺ کی رسالت سے انکار کیا۔
17۔ 2 یعنی اہل حق کو اچھی جزا اور اہل باطل کو بری جزا دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
5: یعنی بنو اسرائیل کو تورات کا علم دیا گیا تھا، اس کے باوجود انہوں نے ایک دوسرے سے حسد اور ضد کی وجہ سے آپس میں پھوٹ ڈال لی، اور اختلافات میں پڑگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
آیت نمبر 16 تا 20
اسلام سے قبل تحریک اسلامی کی قیادت بنی اسرائیل کے پاس تھی۔ آسمانی ہدایت اور عقیدہ کے حامل یہی تھے۔ اور اللہ نے اس دور کے لئے یہ مشن ان کے سپرد کردیا تھا ۔ کیونکہ انسانیت کے لئے ہر دور میں آسمانی رہنمائی کی ضرورت رہی ہے۔ اس لیے کہ زمین کے اندر جو بھی قائدین رہے ہیں وہ خواہشات نفسانیہ کے پیروکار ، جاہل اور تقصیرات سے پر رہے ہیں اس لیے وہ انسانوں کے لئے جو قانون اور شریعت بناتے رہے ہیں۔ وہ ایسی ہی تقصیر رہی۔ اللہ تعالیٰ نے چونکہ انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ اس لیے اللہ کی شریعت ہی ایسی ہو سکتی ہے جو جہل ، ذاتی خواہشات اور تقصیرات سے پاک ہو سکتی ہے۔ اس لئے کہ سب لوگ اللہ کے بندے ہیں۔…
Read the full tafseer →7 یعنی نہایت واضح اور مفصل احکام، کھلے کھلے معجزات جو دین کے باب میں بطور حجت وبرہان کے پیش کیے جاتے ہیں۔
8 یعنی آپس کی ضد اور نفسانیت سے اصل کتاب کو چھوڑ کر بیشمار فرقے بن گئے۔ جن کا عملی فیصلہ قیامت کے دن کیا جائے گا اس وقت پتہ لگے کہ ان کا منشاء نفس پروری اور ہوا پرستی کے سوا کچھ نہ تھا۔
Read the full tafseer →آیت 17 { وَاٰتَیْنٰہُمْ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْاَمْرِ } ”اور ہم نے انہیں عطا کیں دین کے معاملہ میں واضح ہدایات۔“
یہاں ”امر“ سے مراد دین و شریعت ہے۔ یعنی ان کے انبیاء کو وحی کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمام ضروری ہدایات مسلسل ملتی رہیں۔ اس کے علاوہ انہیں تورات ‘ زبور اور انجیل جیسی کتابیں بھی عطا گئیں۔
{ فَمَا اخْتَلَفُوْٓا اِلَّا مِنْم بَعْدِ مَا جَآئَ ہُمُ الْعِلْمُ لا بَغْیًام بَیْنَہُمْ } ”اور انہوں نے نہیں اختلاف کیا مگر اس کے بعد کہ ان کے پاس علم آچکا تھا ‘ محض باہمی ِضدم ّضدا کے سبب سے۔“
کتاب اللہ کی واضح تعلیمات ان لوگوں تک پہنچ چکی تھیں۔ اس کے باوجود ضد بازی کی بنیاد پر ان کے اندر شدید…
Read the full tafseer →22 یہاں امر سے مراد اقامت دین ہے۔ کہ اللہ کے دین کو دنیا میں قائم اور نافذ کرنے کے لیے انہیں تمام ہدایات دے دی گئی تھیں اور یہ ہدایت بالکل واضح تھیں۔
23 فرقہ بازی کی اصل وجوہ نفسانی خواہشات :۔ یعنی اختلافات یا تفرقہ بازی کی وجہ یہ نہیں ہوتی کہ کسی اختلاف کا فیصلہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح ہدایات موجود نہیں ہوتیں اور معاملہ اختلافی بن جاتا ہے۔ بلکہ ان اختلافات اور تفرقہ بازی کی وجوہ کچھ اور ہی ہوتی ہیں۔ ان وجوہ کو پوری طرح سمجھنے کے لیے مسلمانوں کے موجودہ فرقوں پر ہی نظر ڈال لیجئے۔ کتاب و سنت ایک ہی ہے۔ اور وہ سب فرقوں کے پاس موجود ہے اور ہر فرقہ کتاب و سنت سے ہی استدلال کرکے اپنے…
Read the full tafseer →12۔ کیا ٹھکانا تھا ان کی ضد، جہالت ونفسانیت کا کہ جو شے دافع اختلاف ہوسکتی تھی، یعنی العلم یا وحی، عین اسی کو باعث تفریق وشقاق بنالیا ! (آیت) ” بینت من الامر “۔ الامر سے مراد دین ہے۔ اور بینات کے تحت میں دلائل ومسائل یعنی حسی اور معنوی اور علمی ہر طرح کی ہدایتیں آگئیں۔
13۔ (سو آپ یہاں ان کی ہدایت کے زیادہ درپے نہ رہیں) آخرت میں فیصلہ عملی اور مشاہداتی رنگ میں ہوگا۔ دلائل و شواہد کے لحاظ سے تو فیصلہ آج بھی موجود ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
آیت نمبر 12 تا 21
ترجمہ : اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے دریا کو تابع کردیا کہ اس میں اس کے حکم اجازت سے کشتیاں چلیں اور تم تجارت کے ذریعہ اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ شکر بجالاؤ شمس و قمر ستارے اور پانی وغیرہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جانور اور درخت اور گھاس اور نہریں وغیرہ جو کچھ زمین میں ہے اس نے اپنی طرف سے سب کو تمہارے تابع کردیا یعنی مذکورہ چیزوں کو اس نے انسانوں کے نفع کے لئے پیدا فرمایا جمیعًا تاکید ہے، اور مِنْہُ حال ہے یعنی ان چیزوں کو تابع کردیا حال یہ ہے کہ یہ اس کی طرف سے ہے، بلاشبہ اس تابع کرنے میں ان لوگوں کے لئے جو ان میں غور (وفکر) کریں بہت سی نشانیاں ہیں کہ ایمان لے آئیں، آپ…
Read the full tafseer →واتینھم بینت من الامر فما اختلفوا الا من بعد ما جاءھم العلم بغیا بینھم ان ربک یقضی بینھم یوم القیمۃ فیما کانوا فیہ یختلفون اور دین کے معاملہ میں ہم نے ان کو کھلی کھلی دلیلیں دی ‘ سو انہوں نے علم ہی کے آنے کے بعد آپس کی ضداضدی کی وجہ سے باہم اختلاف کیا۔ بلاشبہ آپ کا رب قیامت کے دن ان کے باہمی اختلافی مسائل کا فیصلہ کر دے گا۔
الْکِتٰبَ یعنی توریت ‘ انجیل ‘ زبور۔
الْحُکْمَ یعنی ان کے علماء اور بادشاہوں کو اہل حکم بنایا۔
النُّبُوَّۃَ خصوصیت کے ساتھ اس جگہ نبوت کا ذکر اسلئے کیا کہ بنی اسرائیل میں اللہ نے بکثرت انبیاء مبعوث فرمائے۔
الطَّیِّبٰتِ لذیذ حلال کھانے کی چیزیں ‘ جیسے من وسلویٰ…
Read the full tafseer →اور ہم نے دین کے بارے میں انہیں واضح دلیلیں دیں مگر انہوں نے اپنی کتاب کے ذریعے علم آجانے کے بعد رسول اکرم اور قرآن کریم اوردین اسلام میں اختلاف کیا اور آپس کے حسد کی وجہ سے ان کا انکار کیا۔
اے نبی اکرم آپ کا پروردگار یہود و نصاری اور مسلمانوں کے درمیان قیامت کے دن ان امور میں جن میں یہ دنیا میں باہم مختلف تھے فیصلہ کردے گا۔
Read the full tafseer →(1) واتینم بینت من الامر : یعنی ہم نے انھیں دنی کے بارے میں واضح احکام دیئے، جن میں کوئی ابہام یا پیچیدگی نہیں تھی، نہ ان سے اختلاف یا ان سے فرار کی کوئی صورت تھی۔
(2) فما اختلفوا الا من بعد ماجآء ھم العلم…: یعنی ان میں جو اختلاف رونما ہوا وہ جہل یا ناواقفیت کی بنا پر نہ تھا، بلکہ دیکھیے سورة یونس (93) اور سورة شوریٰ (15) کی تفسیر۔ اس آیت میں ہماری امت کے لئے بھی زبردست تنبیہ ہے کہ اگر انہوں نے اللہ کی طرف سے آنے والے علم یعنی قرآن و سنت کیے ساتھ وہی برتاؤ کیا جو یہود و نصاریٰ نے کیا تھا تو ان کا انجام بھی انہی جیسا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
اس کے بارے میں وہ گفتگو گزر چکی ہے۔
کتاب سے مراد تورات ہے حکم سے مراد کتاب کا فہم ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے حکم سے مراد لوگوں پر حکم چلانا اور فیصلہ کرنا ہے : یعنی حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ تک انبیا ہیں۔
طیبات سے مراد غذائوں، پھلوں اور کھانوں میں سے حلال چزیں جو ملک شام میں تھیں ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد تیہ کے ریگستان میں من وسلویٰ ہے : یعنی ان کے زمانہ کے عالم، جس طرح اس کی وضاحت سورة دخان میں گزر چکی ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : سے مراد نبی کریم ﷺ کا امر اور آپ کی نبوت کے شواہد ہیں (1) کہ آپ تہامہ سے یثرب کی طرف ہجرت کریں گے اہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
1:۔ عبد بن حمید وابن المنذر (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد اتینا بنی اسرآء یل الکتب والحکم “ (اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب اور حکمت دی تھی) میں الحکم سے مراد ہے عقل سمجھ۔
2:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ثم جعلنک علی شریعۃ “ (پھر ہم نے آپ کو دین کے ایک خاص طریقہ پر کردیا) یعنی شریعۃ سے مراد ہے طریقہ۔
3:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ثم جعلنک علی شریعۃ من الامر “ سے مراد ہے کہ دین کے معاملہ ہدایت اور واضح دلیل۔
4:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ثم جعلنک علی شریعۃ من الامر “ سے مراد ہے شریعت کے فرائض اور…
Read the full tafseer →وَاٰتَيْنٰهُمْ [ اور ہم نے دین ان کو ] بَيِّنٰتٍ [ روشن (نشانیاں ) ] مِّنَ الْاَمْرِ ۚ [ ان معاملہ (یعنی دین ) میں سے ] فَمَا اخْتَلَفُوْٓا [ تو انھوں نے اختلاف نہیں کیا ] اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ [ مگر اس کے بعد سے ] مَا جَاۗءَهُمُ [ (کہ ) جو آیا ان کے پاس ] الْعِلْمُ ۙ [ علم ] بَغْيًۢا [ سرکشی کرتے ہوئے ] بَيْنَهُمْ ۭ [ اپنے درمیان ] اِنَّ رَبَّكَ يَقْضِيْ [ بیشک آپ کا رب فیصلہ کرے گا ] بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ [ ان کے درمیان قیامت کے دن ] فِيْمَا [ اس میں ] كَانُوْا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ [ وہ لوگ جس میں اختلاف کرتے تھے ]
نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 17 ۔ سے ایک نہایت اہم حقیقت یہ واضح ہوئی کی دین کی…
Read the full tafseer →﴿وَ اٰتَيْنٰهُمْ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْاَمْرِ 1ۚ ﴾ (اور ہم نے انہیں دین کے بارے میں کھلے ہوئے واضح دلائل عطا فرمائے) جن میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات بھی تھے۔ صاحب روح المعانی نے بعض حضرات کا قول نقل کیا ہے کہ اس سے رسول اللہ ﷺ کی بعثت کی نشانیاں مراد ہیں یہودیوں کو آپ کی بعثت کی نشانیاں معلوم تھیں لیکن جب آپ تشریف لائے تو یہ لوگ جانتے ہوئے آپ کی بعثت اور رسالت کا یقین ہوتے ہوئے منکر ہوگئے۔ ﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِهٖ﴾ (پھر جب وہ چیز آپہنچی جس کو وہ پہچانتے ہیں اس کا انکار کر بیٹھے۔ )
﴿فَمَا اخْتَلَفُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ 1ۙ بَغْيًۢا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
انعامات دنیوی واخروی پر قوم بنی اسرائیل وبیان بغاوت ونافرمانی ایشاں :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ولقد اتینا بنی اسرائیل الکتب ..... الی ..... سآء ما یحکمون “۔
(ربط) ماقبل آیات میں حق تعالیٰ شانہ کی قدرت کی نشانیوں کا بیان چل رہا تھا اور یہ کہ اللہ رب العزت کے کس قدر انعامات ہیں کہ اس نے اپنے بندوں ہی کے فوائد ومنافع کے لیے ساری کائنات پید ا کی اور کائنات پر ان کو تصرف کرنے کی صلاحیت اور قدرت بھی عطا فرمائی جس کا ثمرہ اور نتیجہ یہی ہونا چاہئے تھا کہ انسان اپنے رب کا فرمانبردار ہوتا تو اس مقصد اور حقیقت کی توضیح کے لیے قانون کیسے انعامات سے ان کو نوازا لین اس بدنصیب قوم نے اللہ کی دی ہوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
11:۔ ” ولقد اتینا “ تا ” یختلفون “ یہ توحید پر دلیل نقلی ہے۔ ہم نے بنی اسرائیل کو ایک عظیم الشان کتاب (تورات) عطا فرمائی اور ان میں بادشاہ پیدا کیے جو لوگوں پر حکم چلاتے اور ان کے امور و معاملات کے فیصلے کرتے تھے اور ہم نے ان میں بہت سے انبیاء (علیہم السلام) مبعوث کیے جو تورات ہی کے مطابق اپنی امتوں کو تبیغ کرتے اور دین کی تعلیم دیتے تھے تورات جو تمام انبیاء بنی اسرائیل کے لیے دستور العمل تھی اس میں ہم نے یہی حکم دیا تھا کہ میرے سوا کسی کو کارساز نہ بنانا۔ ” واتینا موسیٰ الکتب وجعلنہ ھدی لبنی اسرائیل ان لا تتخذوا من دونی وکیلا “ (بنی اسرائیل رکوع 1) ۔
12:۔ ” ورزقناھم “ بنی اسرائیل پر ہم نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–17
ربطہ آیات
سورۃ الجاثیہ کی ابتدائی آیات میں قرآن کریم کی حقنیت و صداقت بیان ہوئی اور پھر اللہ نے توحید اور معاد کے مشترکہ دلائل ذکر کئے پھر نافرمانوں کا گمراہی پر اصرار کا ذکر ہوا۔ اور جزائے عمل کے طور پر انہیں جہنم کی وعید سنائی گئی۔ اللہ نے فرمایا کہ یہ لوگ اس دنیا میں جو کچھ کماتے رہے وہ قیامتو الے دن کچھ کام نہیں آئیگا اور نہ ہ یان کے خود ساختہ معبود کچھ کام آئیں گے جن کو یہ اپنا کار ساز اور حاجت روا سمجھتے رہے اور یہ لوگ عذاب عظیم میں مبتلا ہوں گے۔
اللہ نے دلائل توحید ہی کے ضمن میں فرمایا ہے اللہ الذی سخرلہ البحر اللہ تعالیٰ کی ذات و ہ ہے جس نے تمہارے لئے سمندروں کو مسخر کردیا ہے۔ تسخیر…
Read the full tafseer →وَاٰتَيْنٰہُمْ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْاَمْرِ 0 ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْٓا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَہُمُ الْعِلْمُ 0 ۙ بَغْيًۢا بَيْنَہُمْ 0 ۭ اِنَّ رَبَّكَ يَقْضِيْ بَيْنَہُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ فِــيْمَا كَانُوْا فِيْہِ يَخْتَلِفُوْنَ 17
إِيتاء
: الإعطاء، [ وخصّ دفع الصدقة في القرآن بالإيتاء ] نحو : وَأَقامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكاةَ [ البقرة/ 277] ، وَإِقامَ الصَّلاةِ وَإِيتاءَ الزَّكاةِ [ الأنبیاء/ 73] ، ووَ لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئاً [ البقرة/ 229] ، ووَ لَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمالِ [ البقرة/ 247]
الایتاء ( افعال ) اس کے معنی اعطاء یعنی دینا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
ترکیب : ام منقطعۃ بمعنی بل مع الانکار۔ قبل الانتقال من البیان الاول الی الثانی والھمزۃ لانکار الحسبان۔ والاجتراح الاکتساب و منہ الجوارح ان نجعلھم الجملۃ بتاویل المصدر مفعول لحسب کالذین مفعول ثان لنجعل۔ سواء بالنصب ھو حال من الضمیر المستترفی قولہ کالذین آمنوا اوا نہ مفعول ثان لحسب و قرء بالرفع فمحیاھم مبتداء و مماتھم معطوف علیہ وسواء خبرمقدم۔ وقیل رفع محیاھم و مماتہم بسواء لانہ بمعنی مستوٍ ۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا اللہ الذی سخر کہ اللہ نے تم پر یہ یہ احسانات کئے اس کے بعد دینی احسانات کا تذکرہ کرتا ہے اور سب سے اول بنی اسرائیل کا ذکر فرماتا ہے کہ ہم نے ان کو کتاب توریت دی تھی یا عام ہے اور…
Read the full tafseer →وَاٰتَیْنٰـھُمْ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْاَمْرِ ج فَمَااخْتَلَفُوْٓا اِلاَّ مِنْ م بَعْدِ مَاجَآئَ ھُمُ الْعِلْمُ لا بَغْیًا م بَیْنَھُمْ ط اِنَّ رَبَّـکَ یَقْضِیْ بَیْنَھُمْ یَوْمَ الْقِیٰـمَۃِ فِیْمَا کَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ ۔ (الجاثیۃ : 17)
(اور ہم نے انھیں دین کے معاملے میں واضح ہدایات دیں پھر انھوں نے اختلاف نہیں کیا مگر بعد اس کے کہ ان کے پاس علم آچکا تھا، آپس کی ضد سے، بیشک تیرا رب ان کے درمیان فیصلہ کرے گا قیامت کے دن ان تمام چیزوں کے بارے میں جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں۔ )
مزید ایک احسان کا ذکر
اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر چھٹا احسان یہ کیا کہ انھیں دین کے معاملے میں واضح احکام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
فہم القرآن
ربط کلام : جن لوگوں نے ایام اللہ کی پرواہ نہ کی ان میں بنی اسرائیل بھی شامل ہیں۔
قرآن مجید نے جن اقوام کے حالات اور واقعات سب سے زیادہ بیان کئے گئے ہیں ان میں سرفہرست بنی اسرائیل ہیں۔ بنی اسرائیل پر فرعون نے مظالم کی انتہا کر رکھی تھی۔ فرعون ان کے مردوں کو قتل کرتا اور ان کی بہوبیٹیوں کو باقی رہنے دیتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو فرعون کے عذاب اور اس کی غلامی سے نکالنے کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کو رسول منتخب کیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے عظیم اور طویل جدوجہد کی جس کے نتیجہ میں فرعون اور اس کے ساتھی غرق ہوئے اور بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے نجات عطا فرمائی۔…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے علم نبوت اختلاف کے ازالہ کے لئے اتارا ‘ انہوں نے حد سے انکار کردیا :
آیت 17 : وَ ٰاتَیْنٰہُمْ بَیِّنٰتٍ (اور ہم نے ان کو دین کے بارے میں واضح دلیلیں دیں) بینات سے آیات اور معجزات مراد ہیں۔ مِّنَ الْاَمْرِ (یعنی دین کے معاملہ میں) فَمَا اخْتَلَفُوْا (پس انہوں نے اختلاف نہیں کیا) ان کے مابین دین میں اختلاف واقع نہ ہوا۔ اِلاَّ مِنْم بَعْدِ مَا جَآئَ ہُمُ الْعِلْمُ بَغْیًام بَیْنَہُمْ (مگر علم آجانے کے بعد آپس کی ضد کی وجہ سے) یعنی اس وقت اختلاف ڈالا جب اللہ تعالیٰ نے ایسی چیز اتاری جو مخالفت کو زائل کرنے والی تھی۔ اور وہ علم نبوت ہے۔ انہوں نے اختلاف کو حسد و عداوت کی بناء پر قائم…
Read the full tafseer →16، ولقد اتینا بنی اسرائیل الکتاب، تو ریت ۔ ، والحکم والنبوۃ ورزقناھم منالطیبات ، حلال چیزیں یعنی من وسلوی ، وفضلنا ھم علی العالمین، یعنی ان کے زمانہ کے جہان والوں پر۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ان کے زمانہ میں جہان والوں میں سے کوئی ایک اللہ پر معزز اور پسند یدہ نہ تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
16۔ 20۔ صحیح بخاری 1 ؎ میں خباب ؓ بن الارت سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے خباب نے مشرکین مکہ کی سختیوں سے تنگ آ کر آنحضرت ﷺ سے اس کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا گھبراؤ نہیں اللہ تعالیٰ اپنا وعدہ ضرور پورا کرے گا اس حدیث کو آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے کہ جس زمانہ میں یہ مکی آیتیں نازل ہوئی ہیں اس زمانہ میں اہل اسلام مشرکوں کے ہاتھ سے ایسے تنگ تھے جیسے کسی زمانہ میں فرعون اور اس کی قوم کے ہاتھ سے بنی اسرائیل تنگ آگئے تھے اسی واسطے ان آیتوں میں بنی اسرائیل کی راحت کی باتوں کا ذکر فرما کر مسلمانوں کو یہ تسلی دی گئی ہے کہ جس طرح بنی اسرائیل کا تکلیف کا زمانہ راحت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
آیت 16
ہم نے بنی اسرائیل کو ایسی ایسی نعمتیں عطا کیں جو دوسروں کو حاصل نہ تھیں۔ ہم نے انہیں (الکتب) یعنی تو رات و انجیل سے سرفراز کیا اور (الحکم) ہم نے انہیں لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کی قوت اور (النبوہ) ” نبوت “ عطا کی۔ نبوت کی وجہ سے وہ دنیا میں ممتاز ہوئے۔ حضرت ابراہیم کی اولاد میں سب سے زیادہ بنی اسرائیل کے گھرانے میں نبوت رہی۔
(ورزقنھم من الطیبت) اور ہم نے انہیں ماکولات، مشروبات اور ملبوسات میں سے پاکیزہ چیزوں سے نوازا اور ان پر من وسلویٰ نازل کیا۔ (وفضلنھم علی العلمین) اور ان نعمتوں کے ذریعے سے ہم نے انہیں تمام خلائق پر فضیلت دی۔ اس عموم لفظی سے امت محمد یہ خارج ہے کیونکہ امت محمد یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–22
مشرکین سے کیسا برتائو کیا جائے
ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن نے، انہیں عبدالرزاق نے، انہیں معمر نے قتادہ سے قول باری (قل للذین امنوا یغفروا للذین لا یرجون ایام اللہ، جو لوگ ایمان لے آئے ہیں آپ ان سے کہہ دیجئے کہ وہ ان لوگوں سے درگزر کریں جو اللہ کے معاملات کا یقین نہیں رکھتے) کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ اسے قول باری (فاقتلوا المشرکین حیث وجد تموھم مشرکین کو قتل کرو انہیں جہاں بھی پائو) نے منسوخ کردیا ہے۔
Read the full tafseer →31 بنی اسرائیل کے حسد اور ان کی ہٹ دھرمی کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس سب کے باوجود اور علم کی روشنی آجانے کے بعد انہوں نے اختلاف کیا محض آپس کے حسد اور ضد وعناد کی بنا پر "۔ سو آپس کی ضد اور حسد ایسی خطرناک اور ہولناک بیماری ہے جو انسان کو اوندھا کر کے رکھ دیتی ہے۔ جس کے نتیجے میں وہ حق و ہدایت کے نور اور علم کی روشنی کے کھلے اور واضح دلائل اور ثبوت آجانے کے باوجود اندھا بن جاتا ہے اور ضلالت و گمراہی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں بھٹکنے لگتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں کے پاس علم حق کی روشنی پہنچ چکی تھی مگر انہوں نے اس کے باوجود اس میں اختلاف کیا۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–20
مومنین کو صبر کی تلقین
تشریح : ان آیات میں انسانی کردار و اخلاق کی بہتری کے کچھ اصول مثالوں کے ساتھ بتائے گئے ہیں۔ سب سے پہلے تو صبر و سکون کی ہدایت کی گئی ہے۔ جب انسان مد مقابل میں کمزور ہو تو اس کو صبر سے کام لینا چاہیے کیونکہ ایسے حالات میں صبر ہی سب سے بڑا ہتھیار ہے جیسا کہ ہجرت سے پہلے مکہ کے مسلمان ہر لحاظ سے کمزور تھے تو ہدایت کی گئی کہ منکرین کی سختیوں بد تمیزیوں اور بحث و مباحثہ کی پرواہ کئے بغیر اپنے کاموں میں مشغول رہو اور پوری نیک نیتی سے تبلیغ دین میں لگے رہو اور وحی کے احکامات پر پوری طرح عمل کرتے رہو اللہ تمہاری ضرور مدد کرے گا اور پھر ایسے ہی ہوا ہجرت کے بعد مسلمان جب مضبوط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
آیات 12 تا 21۔
اسرار ومعارف۔
اللہ تو وہ کریم ذات ہے سمندروں اور پانیوں کو بھی تمہارے لیے مسخر کردیا کہ تم ان میں جہاز رانی کروسمندری مع دنیات اور رزق کے ذرائع تلاش کرو تجارت کے راستے کے طور پر استعمال کروغرض سمندری اور آبی وسائل بھی تمہاری خدمت میں لگادیے کہ تم اللہ کا شکر ادا کرو نیز آسمانی اور زمینی ہر شے کو تمہاری خدمت پر لگادیا ہے کہ سورج چاند ہوابادل ستارے ہوں یاسیارے سب کے سب کی توجہ کامرکز زمین ہے ان کی حرکات واثرات سے زمین پر تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں اور یہ سب تبدیلیاں بالآخر بنی آدم کے کام آتی ہیں اگر کوئی ان سب باتوں پہ غور کرے تو سب کی سب عظمت الٰہی پر اور اس کے احسانات پر دلالت کرتی…
Read the full tafseer →ف 3 یعنی ان میں جو اختلاف رونما ہوا وہ جہالت اور ناواقفیت کی بنا پر نہ تھا بلکہ وہ انبیاء کے ذریعہ صحیح راہ کا علم آجانے کے بعد رونما ہوا اور اس کی بنیاد سراسر ضد اور خودپسندی پر تھی۔
Read the full tafseer →(45:17) بینت من الامر : بینت کھلی ہوئی دلیلیں۔ روشن اور واضح دلیلیں۔ بینۃ کی جمع۔ کھول کر بیان کی ہوئی۔ تبیین (تفعیل مصدر سے) الامر سے مراد امر دین ہے۔ یعنی امر دین کی واضح دلیلیں و احکام۔
اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان تمام امور کا علم عطا فرما دیا تھا جن کو جانن اور ان پر عقیدہ رکھنا ضرور تھا۔ یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت اور بعثت کی نشانیاں بھی بتادی تھیں۔ وہ رسول اللہ ﷺ کو اتنا ہی یقینی طور پر جانتے اور پہچانتے تھے جتنا کہ اپنی اولاد کو پہچانتے تھے۔
بغیا : تمیز ۔ ضد ، زیادتی، بینھم۔ مضاف مضاف الیہ ایک دوسرے کے مابین ۔ باہمی ۔ ترجمہ : اور ہم نے ان کو دین کے بارے میں روشن اور واضح احکام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
لغات القرآن آیت نمبر 16 تا 21 : شریعۃ (راستہ ، طریقہ) بصائر ( سمجھ کی باتیں) یوقنون (وہ یقین رکھتے ہیں) اجتر حوا ( انہوں نے کمایا)
تشریح : آیت نمبر 16 تا 21 : فرمایا کہ ہم نے بنی اسرائیل کو بیشمار نعمتوں سے نوازا تھا مگر انہوں نے آپس کی ضد بندی ، اختلافات اور نا شکری کا ایسا انداز اختیار کیا کہ انکی ساری عظمتوں کو چھین کر نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام کے حوالے کردیا گیا ۔ فرمایا کہ بنی اسرائیل کو توریت جیسی روشن ومنور کتاب ، سیکڑوں سال تک حکومت و اقتدار ، ہزاروں نبی اور رسول ، مال و دولت ، زندگی گزارنے کے بیشمار وسائل اور ذرائع اور بہترین طریقے سکھائے گئے تھے جن کے ذریعہ اگر وہ چاہتے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
(ف 2) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ہم نے بنی اسرائیل کو تورات، نبوت اور تورات، کے موافق فیصلے کرنے کے لیے دانش مندی دی اوانکو اچھی پاک نعمتیں غیب سے کھانے کو اتاریں حلال کشائش کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم کے اموال ودیار کا مالک کرکے اور من سلوی نازل فرما کر ان کو اس زمانہ میں سب جہانوں سے افضل کردیا، سب کا سردار بنادیا ان کو حلال و حرام اور امر ونواہی سکھائے کھلے کھلے صاف دلائل اتارے اور ان کی کتابوں میں محمد ﷺ کا صاف صاف بیان کردیا جب وہ آئے تو ان کو کچھ شک نہیں رہا سب کو یقین تھا کہ سلام ہی سچا مقدس مذہب ہے مگر وہ غرور اور حسد میں گرفتار ہوکراختلاف کرنے لگے، اور دیدہ دانستہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
[5] حکم سے مراد دین کی سمجھ، دانائی کی باتیں اور قوت فیصلہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
بنی اسرائیل پر انعامات
1: اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ہر طح کی نعمتوں سے مشرف فرمایا تھا ۔ انہیں تورات دی ۔ خاص لقمہ اور فصیل خصومات کی قابلیت بخشی ۔ اور نبوت کے فیض عمومی کو ان میں جمادی رکھا ۔ فراعنہ کے مال و دولت کا ان کو وارث بنایا ۔ اور من وسلویٰ ایسی لطیف چیزیں بلا محنت اور بغیر طلب کے ان کو دیں ۔ اور اس زمانے کے لوگوں پر ان کو فضیلت دی ۔ اور پھر اصل دین اور نفس شریعت سے ان کو آگاہ کیا ۔ ان کو بتایا ۔ کہ جہاں یہ صداقتیں پائی جائیں تم تسلیم کرو ۔ اور بغیر ادنی تامل اور جھجک کے اللہ کے پیغام کے سامنے جھک جاؤ۔ مگر ہوا یہ کو جب حضور ﷺ تسریف لائے ۔ اور آپ نے شریعت موسیٰ کی تکمیل کی ۔ اور…
Read the full tafseer →(17) اور ہم نے ان کو دین کے بارے میں واضح دلائل اور کھلی باتیں عطا فرمائیں پھر انہوں نے صحیح علم آجانے کے بعد محض آپس کی ضد بحث میں باہم ایک دوسرے سے اختلاف کیا اور پھوٹ ڈال لی۔ بیشک آپ کا پروردگار قیامت کے دن ان کے مابین ان امور کا فیصلہ کردے گا جن میں یہ باہم اختلاف کیا کرتے تھے۔
واضح دلائل اور کھلی باتوں سے مراد شاید حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دیگر معجزات ہوں مثلاً دریا کا پھٹ جانا اور لکڑی مار کر پتھر سے پانی نکالنا وغیرہ پھر یہ آپس میں مختلف نہیں ہوتے مگر صحیح علم آجانے کے بعد اور وہ اختلاف بھی محض آپ کے حسد اور ضد بحث کی بنا پر اختلاف ڈالا اور ٹولیاں ٹولیاں بن گئے صحیح علم یعنی علم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
ف 4۔ غرض سب ہی طرح کی نعمتیں ان کو دیں۔
5۔ اس مضمون سے مراد دو امر مستفاد ہوگئے، ایک آپ ﷺ کی نبوت کی تائید بنی اسرائیل کی کتاب اور احکام اور نبوت ملنے سے، دوسرا آپ کا تسلیہ کہ بنی اسرائیل کو جو وجہ اختلاف کی پیش آئی تھی وہی آپ کی قوم کو آپ کے ساتھ خلاف کرنے میں پیش آئی ہے، یعنی حب دنیا اور حسد و نفسانیت یہ نہیں کہ آپ دلائل یا احکام کے وضوح میں کچھ کمی ہو، پس آپ غم نہ کریں، یہ قصہ مذکورہ یاد کرلیا کریں کہ بنی اسرائیل کے ساتھ کیا کیا معاملات ہوئے۔
Read the full tafseer →71 ؎
موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم بنی اسرائیل مصریوں کے ساتھ معاشرت اختیار کرکے ان کی بہت سی رسومات کو قبول کرچکے تھے وہ من حیث القوم تو بلاشبہ بنی اسرائیل تھے لیکن ان کی رسومات اور دوسرے بہت سے طور طریقے وہی ہوچکے تھے جو دوسرے مصریوں کے تھے۔ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ہجرت بھی کر آئے اور ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے ابدی دشمن فرعون کو غرق بھی کردیا گیا لیکن ابھی زیادہ مدت نہ گزری تھی کہ موسیٰ (علیہ السلام) اعتکاف کی صورت کے لیے کوہ طور پر تشریف لے گئے جب کہ اس اعتکاف کے دوران آپ کو تورات جیسی آسمانی کتاب سے بھی نوازا گیا لیکن قوم کی اکثریت نے آپ کی قوم ہی کے ایک منافق مرد سامری کی شعبدہ…
Read the full tafseer →Commentary
These verses purport to confirm the risalah of the Final Messenger of Allah ﷺ . Under this subject-matter, the Prophet of Allah ﷺ is consoled for the persecution carried out by the enemies against him.
إِنَّ رَبَّكَ يَقْضِي بَيْنَهُمْ ("...Surely your Lord will judge between them, on the Day of Judgment, in the matters in which they used to differ... 45:17) " This far the verses confirm two points: This verse purports to say, firstly, that the Book of Musa (علیہ السلام) contains many clear prophecies about the advent of the Holy Prophet ﷺ and, secondly to comfort the Holy Prophet…
Read the full tafseer →22 For explanation, see AI-Baqarah: 213, AI-'Imran: 19 and E.N.'s 22, 23 of Ash-Shura.
Read the full tafseer →