Explained with ayahs 24–26
زمانے کو گالی مت دو
دہریہ کفار اور ان کے ہم عقیدہ مشرکین کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ دنیا ہی ابتداء اور انتہاء ہے کچھ جیتے ہیں کچھ مرتے ہیں قیامت کوئی چیز نہیں فلاسفہ اور علم کلام کے قائل یہی کہتے تھے یہ لوگ ابتداء اور انتہاء کے قائل نہ تھے اور فلاسفہ میں سے جو لوگ دھریہ اور دوریہ تھے وہ خالق کے بھی منکر تھے ان کا خیال تھا کہ ہر چھتیس ہزار سال کے بعد زمانے کا ایک دور ختم ہوتا ہے اور ہر چیز اپنی اصلی حالت پر آجاتی ہے اور ایسے کئی دور کے وہ قائل تھے دراصل یہ معقول سے بھی بیکار جھگڑتے تھے اور منقول سے بھی روگردانی کرتے تھے اور کہتے تھے کہ گردش زمانہ ہی ہلاک کرنے…
Read the full tafseer →سورة الْجَاثِیَة 35
یعنی وہ آیات جن میں آخرت کے امکان پر مضبوط عقلی دلائل دیے گئے ہیں، اور جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ اس کا ہونا عین حکمت و انصاف کا تقاضا ہے اور اس کے نہ ہونے سے یہ سارا نظام عالم بےمعنی ہوجاتا ہے۔
سورة الْجَاثِیَة 36
دوسرے الفاظ میں ان کی اس حجت کا مطلب یہ تھا کہ جب کوئی ان سے یہ کہے کہ موت کے بعد دوسری زندگی ہوگی تو اسے لازماً قبر سے ایک مردہ اٹھا کر ان کے سامنے لے آنا چاہیے۔ اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو وہ یہ نہیں مان سکتے کہ مرے ہوئے انسان کسی وقت از سر نو زندہ کر کے اٹھائے جانے والے ہیں۔ حالانکہ یہ بات سرے سے کسی نے بھی ان سے نہیں کہی تھی کہ اس دنیا میں متفرق طور پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
(آیت) وَمَا يُهْلِكُنَآ اِلَّا الدَّهْرُ۔ لفظ دہر دراصل اس تمام مدت کے مجموعہ کا نام ہے جو اس عالم کی ابتدا سے انتہا تک ہے اور کبھی بہت بڑی مدت کو بھی دہر کہہ دیا جاتا ہے۔ کفار نے یہ قول بطور دلیل کے پیش کیا ہے کہ ہماری موت وحیات کا خدا کے حکم و مشیت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اسباب طبعیہ کے تابع ہے جس کا مشاہدہ موت کے متعلق تو سب کرتے ہیں کہ اعضاء انسانی اور اس کی قوتیں استعمال کے سبب گھٹتی رہتی ہیں اور ایک زمانہ دراز گزر جانے کے بعد وہ بالکل معطل ہوجاتی ہیں اسی کا نام موت ہے اسی پر حیات کو بھی قیاس کرلو کہ وہ بھی کسی خدائی حکم سے نہیں بلکہ مادہ کی طبعی حرکتوں سے حاصل ہوتی ہے۔
دہر، یا زمانے کو…
Read the full tafseer →واذا تتلی علیھم ایتنا بینت ما کان حجتھم الا ان قالوا ائنوا بابآئنا ان کنتم صدقین 25
قرآن کے دلائل کے مقابل میں کفار کی واحد ڈھال
یہ ان کے اس گمان کی وضاحت ہے جس کو انہوں نے قرآن کے واضح دلائل کے مقابل میں اپنا رہنما بنایا۔ فرمایا کہ جب قیامت کے باب میں ان کو ہماری نہایت واضح ایٓتیں سنائی جاتی ہیں تو واحد چیز جس کو وہ ان کی تردید میں اپنی حجت بناتے ہیں وہ پیغمبر ﷺ اور ان کے ساتھیوں سے ان کا یہ مطالبہ ہوتا ہے کہ اگر تم لوگ اپنے اس دعوے میں سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو جو وفات پا چکے ہیں، زندہ کر کے لائو۔
حجتھم کان کی خبر ہے یہی مضمون سورة عنکبوت میں بھی ذرا مختلف الفاظ میں آیا ہے فما کان جواب…
Read the full tafseer →25۔ 1 یہ ان کی سب سے بڑی دلیل ہے جو ان کی کٹ حجتی کا مظہر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
7: یہ ترجمہ وَھُمْ لَایُظْلَمُوْنَ کے جملے کو تُجْزٰی کُلُّ نَفْسٍ سے حال قرار دینے پر مبنی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
درس نمبر 236 ایک نظر میں
یہ اس سورت کا آخری پیراگراف ہے۔ اس میں آخرت کے حساب و کتاب اور حشر ونشر کے بارے میں مشرکین کے عقائد و خیالات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس پر تردید کے لئے خود ان کے وجود کو پیش کیا گیا ہے کہ آخر تم موجود ہو اور کوئی تمہیں اٹھائے ہوئے ہے۔ اس سے تو تم انکار نہیں کرسکتے ہو۔ اس کے بعد قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر پیش کیا جاتا ہے کہ قیام قیامت کا وقت تو اگرچہ معلوم نہیں ہے لیکن وہاں تمہارے ساتھ یہ کچھ ہونے والا ہے اور یہ منظر نہایت ہی موثر کلمات میں پیش کیا جاتا ہے۔
سورت کا خاتمہ الحمد للہ پر ہوتا ہے کہ اللہ واحد ہے ، وہ رب ہے ، تمام جہان والوں کا رب ہے۔ اس کی عظمت اور اس کی…
Read the full tafseer →6 یعنی جب قرآن کی آیات با بعث بعدالموت کے دلائل اس کو سنائی جاتے ہیں تو کہتا ہے کہ میں کسی دلیل کو نہیں مانوں گا۔ بس اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو ہمارے مرے ہوئے باپ دادوں کو زندہ کر کے دکھلا دو ۔ تب ہم تسلیم کریں گے کہ بیشک موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونا حق ہے۔
Read the full tafseer →آیت 25{ وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ مَّا کَانَ حُجَّتَہُمْ اِلَّآ اَنْ قَالُوا ائْتُوْا بِاٰبَـآئِنَآ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ } ”اور جب انہیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ہماری روشن آیات تو نہیں ہوتی ان کی کوئی دلیل سوائے اس کے کہ وہ کہتے ہیں کہ زندہ کر کے لے آئو ہمارے آباء و اَجداد کو اگر تم سچے ہو !“
اس ضمن میں ان کے پاس واحد حجت اور دلیل یہی ہوتی ہے کہ چلو اگر تم ہمارے فوت شدہ آباء و اَجداد کو زندہ کر کے ہمارے پاس لے آئو تو ہم بعث بعد الموت کے تمہارے دعوے کو مان لیں گے۔
Read the full tafseer →37 منکرین آخرت کا اعتراض کوئی مردہ زندہ کرکے دکھاؤ :۔ لے دے کے ان کا جواب یہ ہوتا ہے کہ اچھا اگر مرنے کے بعد زندگی یقینی ہے تو ہمیں ہمارا کوئی بڑا بزرگ زندہ کرکے دکھا دو ۔ حالانکہ پیغمبروں کا دعویٰ یہ ہوتا ہی نہیں کہ جب کوئی انکار کرے تو قبر سے مردہ زندہ کرکے اسے دکھا سکتے ہیں تاکہ اسے پوری طرح یقین آجائے بلکہ ان کا دعویٰ صرف یہ ہوتا ہے کہ قیامت کے بعد اللہ تعالیٰ بیک وقت تمام انسانوں کو از سر نو زندہ کرے گا۔ یہ نہیں کہ قیامت سے پہلے بھی وقتاً فوقتاً مردے زندہ کئے جاتے رہیں گے۔ پھر جب وہ تمہارے آباء و اجداد کو زندہ کرے گا اس وقت تمہیں بھی زندہ کرے گا اور ساری حقیقت تم سب کے سامنے آجائے گی۔
Read the full tafseer →22۔ (از سرنوزندہ کرکے) گویا کوئی بندہ جب چاہے مردہ کو زندہ کر کے لاسکتا ہے ! کسی مومن کا دعوی کسی نبی، رسول یا فرشتہ کے متعلق کبھی یہ رہا ہے ؟ حواس پرستوں کی عقلیں ایسی ہی ماری جاتی ہیں۔ ! عقلی دلیل کو مشاہدہ کی سطح پر اتار لانے اور اسی میں اس کو محدود ومحصور رکھنے کے لحاظ سے کس قدر مشابہت عرب کے ” دہری “ اور فرنگستان کے (MAteriAlist) کے درمیان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
آیت نمبر 22 تا 26
ترجمہ : آسمانوں اور زمینوں کو اللہ تعالیٰ نے حکمت کے ساتھ پیدا فرمایا بالحقِّ ، خلَقَ کے متعلق ہے تاکہ اس کی قدرت اور وحدانیت پر دلالت کرے اور تاکہ ہر شخص کو اس کے کئے ہوئے کام کا خواہ از قبیل معاصی ہو یا از قبیل طاعات پورا پورا بدلہ دے تو کافر اور مومن برابر نہ ہوں گے اور ان پر ظلم نہ کیا جائے گا، بھلا بتاؤ تو کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہشات ہی کو معبود بنا رکھا ہے یعنی جس پتھر کو یکے بعد دیگرے پسند کرتا ہے (معبود بنا لیتا ہے) اور اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے علم (ازلی) کے مطابق گمراہ کردیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ اس کی پیدائش سے پہلے ہی جانتا ہے کہ وہ اہل ضلالت میں…
Read the full tafseer →واذا تتلی علیھم ایتنا بینت ما کنا حجتھم الا ان قالوا ائتوا بابائنا ان کنتم صدقین۔ اور جس وقت (اس بارے میں) انکے سامنے ہماری کھلی کھلی آیات پڑھی جاتی ہیں تو ان کا بجز اسکے اور کوئی جواب نہیں ہوتا کہ کہتے ہیں : اگر سچے ہو تو ہمارے باپ دادوں کو (زندہ کر کے ہمارے سامنے) لے آؤ۔
Read the full tafseer →اور جس وقت ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کے سامنے ہماری اوامرو نواہی کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو ان کا اس پر سوائے اس کے اور کوئی عذر اور جواب نہیں ہوتا کہ وہ رسول اکرم سے کہتے ہیں کہ ہمارے باپ دادا کو زندہ کر کے لاؤ ہم خود آپ کی بات کے بارے میں ان سے پوچھ لیں کہ یہ صحیح ہے یا غلط اگر آپ اپنے اس بعث بعد الموت کے دعوے میں سچے ہیں۔
Read the full tafseer →(1) واذا تتلی علیھم ایتنا …: یہ کفار کی سب سے وزنی دلیل تھی جو وہ آخرت کی نفی کے لئے پیغمبروں کے سامنے پیش کرتے تھے کہ ”اگر تم اپنے اس عقیدہ میں سچے ہو کہ مرنے کے بعد ہم پھر جی اٹھیں گے تو ہمارے آبا و اجداد میں سے کسی کو لے آؤ۔“ حالانکہ قیامت سے پہلے فرداً فرداً اس دنیا میں زندہ ہو کر واپس آنے کو قرآن نے محال اور ناممکن بنایا ہے، جبکہ قیامت کے دن دوبارہ زندگی کے امکان پر عقلی دلائل قائم کئے ہیں جو اٹل اور ناقابل انکار ہیں۔ رہا آخرت پر ایمان تو اس کا انحصار سراسر انبیاء ؑ کی تصدیق پر ہے۔ اس آیت کی مفصل تفسیر سورة دخان کی آیت (36) کے تحت گزر چکی ہے۔
(2) ما کان حجتھم الا ان قالوا…: ظاہر ہے کہ ان…
Read the full tafseer →جب ان مشرکوں پر ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں جو بعث کے جواز میں نازل ہوئی ہیں تو ان کے پاس رد کرنے کے کوئی دلائل نہیں۔
یہ کان کی خبر ہے اور اسم ہے یعنی ہمارے مردہ آباء کو لے آئو جن سے ہم اس بارے میں سوال کریں گے کہ جو کچھ کہتے ہو وہ سچ ہے اللہ تعالیٰ نے ان کا قول رد کردیا
بعد اس کے کہ تم مردہ نطفہ تھے تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں زندہ کردیا پھر تمہیں مارے گا پھر تمہیں قیامت کے روز جمع کرے گا جس طرح اس نے تمہیں دنیا میں زندہ کیا۔ اکثر لوگ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ انہیں دوبارہ زندہ کرے گا جس طرح اس نے تمہیں پہلی دفعہ پیدا کیا تھا۔
زمحشری نے کہا : اگر تو کہے ان کے قول کو کیوں حجت قرار دیا گیا جبکہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
1:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والحاکم وابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ دور جاہلیت کے لوگ کہتے تھے کہ ہم کو رات اور دن ہلاک کرتے ہیں اللہ نے اپنی کتاب میں فرمایا (آیت ) ” وقالوا ماھی الا حیاتنا الدنیا نموت ونحیا وما یھلکنا الا لدھر “ (اور انہوں نے کہا کہ بجز ہماری اس دنیوی زندگی کے اور کوئی زندگی نہیں ہے ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہم کو صرف زمانہ کی گردش سے موت آتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ابن آدم مجھ کو تکلیف دیتا ہے کہ وہ زمانے کو برا کہتا ہے حالانکہ میں ہی زمانہ ہوں سارے اختیارات میرے ہاتھ میں ہیں میں رات اور دن کو بدلتا ہوں۔ 2:۔ ابوعبید وابن المنذر (رح) وابن ابی…
Read the full tafseer →وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ [ اور جب کبھی پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ان کو ] اٰيٰتُنَا [ ہماری آئتیں ] بَيِّنٰتٍ [ واضح ہوتے ہوئے ] مَّا كَانَ حُجَّـــتَهُمْ [ تو نہیں ہوتی ان کی حجت ] اِلَّآ اَنْ [ سوائے اس کے کہ ] قَالُوا [ کہ وہ کہتے ہیں ] ائْتُوْا بِاٰبَاۗىِٕنَآ [ تم لوگ لاؤ ہمارے باپ دادا کو ] اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ [ اگر تم لوگ سچے ہو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
منکرین قیامت کی حجت بازی
﴿وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ ﴾ اور جب ان کے اوپر ہماری آیات تلاوت کی جاتی ہیں جن میں قیامت واقع ہونے کا بھی تذکرہ ہوتا ہے اور اس کے امکان اور وقوع کے دلائل دئیے جاتے ہیں تو اصلی دلیل سے عاجز ہوکر کٹ حجتی پر اتر آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ قیامت آنے کی جو خبر دے رہے ہو اگر تمہارا یہ خبر دینا سچ ہے تو ہمارے باپ دادوں کو سامنے لے آؤ جنہیں مرے ہوئے زمانہ دراز گزر چکا ہے اگر وہ لوگ زندہ ہوکر سامنے آجائیں تو ایک تو ہمیں موت کے بعد زندہ ہونے کا یقین آجائے گا دوسرے ہم ان سے پوچھ لیں گے کہ موت کے بعد کیا کیا ہوا اللہ تعالیٰ شانہٗ نے فرمایا ﴿قُلِ اللّٰهُ يُحْيِيْكُمْ ﴾ (آپ فرما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–37
دلائل قدرت خداوندی وتردید کفار ودھریین مع بیان انجام ہدایت وضلالت :
قال اللہ تعالیٰ : وخلق اللہ السموت والارض ...... الی ...... وھو العزیز الحکیم “۔
(ربط) ماقبل آیات میں بنی اسرائیل پر ان خاص انعامات کا بیان تھا جن سے ان کو نوازا گیا تھا ان انعامات میں دین ودنیا کی نعمتیں عزت و راحت اور علم و حکمت کے فضائل و کمالات شامل تھے ساتھ ہی ان کی نافرمانی اور بغاوت کا ذکر تھا اور یہ کہ قانون خداوندی یہ طے ہوچکا کہ نیک اور بد برابر نہیں ہوسکتے نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں تو اب ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے اپنی قدرت کی نشانیاں بیان فرمائیں، دھریوں کا رد فرمایا اور یہ کہ خالقیت ومالکیت اور حاکمیت سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
19:۔ ” واذا تتلی۔ الایۃ “ یہ دوسرا شکوی ہے جب اللہ تعالیٰ کی آیات بینات ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں اور ان میں کہیں حشر و نشر کا ذکر آجاتا ہے تو اس کے انکار کیلئے ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی سوائے اس کے کہ کٹ حجتی کے طور پر کہنے لگتے ہیں کہ اگر تم اس دعوے میں سچے ہو کہ واقعی ہم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جائیں گے تو ہمارے اطمینان کے لیے ہمارے باپ دادا کو زندہ کر کے دکھلا دو ۔ ” قل اللہ یحییکم۔ الایۃ “ یہ دونوں شکو وں کا جواب ہے کہ دنیا میں پیدا کرنے والا بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے اور عمر ختم ہوجانے کے بعد مارتا بھی وہی ہے اور تمام حوادث دہر اسی کے اختایر و تصرف میں ہیں اور جب قیامت قائم ہونے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے آخری شریعت کے نزول کا ذکر کیا اور اس کے اتباع کا معمہ دیا۔ نیز خواہشات نفسانی کی پیروی سے منع فرمایا اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ قرآن کی یہ آیتیں اور سورتیں بصیرت ہدایت اور ہمت ہیں مگر اس شخص کے لئے جو یقین رکھتا ہے …اللہ نے نیک و بد کے متعلق فرمایا کہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے بعض برے لوگ برائیاں کماتے ہیں جب کہ بعض اہل ایمان نیکی کے کام کرتے ہیں ۔ ان دونوں کی زندگی اور موت میں فرق ہے اور یہ تفاوت اگلے جہان میں بھی قائم رہے گا۔
ارض و سما کی تخلیق
اب آج کی پہلی آیت میں اللہ نے تخلیق ارض و سما کا ذکر فرمایا ہے جو ایک طرف اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دلیل ہے تو…
Read the full tafseer →وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْہِمْ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ مَّا كَانَ حُجَّـتَہُمْ اِلَّآ اَنْ قَالُوا ائْتُوْا بِاٰبَاۗىِٕنَآ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ 25
إذا
إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو : 11-إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له
( اذ ا ) اذ ا
۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
تفسیر : جبکہ خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا تھا کہ کافرو مومن درجات سعادت میں برابر نہیں تو اس کے اب دلائل بیان فرماتا ہے : فقال و خلق اللہ الخ یہ اول دلیل ہے کہ اللہ نے آسمانوں و زمین کو برحق بنایا اگر نیک و بد برابر ہوجائیں تو یہ انتظام عالم درہم برہم ہوجاوے (2) ولتجزی کل نفسالخ اس کا عطف بالحق پر ہے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو حق ظاہر کرنے کے لیے اور اس لیے بنایا ہے کہ ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ ملے ظلم نہ ہو یعنی مقصود اس عالم کے پیدا کرنے سے عدل و رحمت کا ظاہر کرنا ہے اور یہ جب ہی پورا ہوگا کہ قیامت برپا ہو اور وہاں نیک و بد کا پورا انصاف ہو کر پوری جزاء و سزا دی جاوے۔ (3) افریت من اتخذالہہ…
Read the full tafseer →وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْھِمْ اٰیٰـتُنَا بَیِّنٰتٍ مَّاکَانَ حُجَّتَھُمْ اِلَّآ اَنْ قَالُوا ائْتُوْا بِاٰ بَـآئِنَـآ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ (الجاثیۃ : 25)
(اور جب ہماری واضح آیات انھیں سنائی جاتی ہیں تو ان کے پاس کوئی حجت اس کے سوا نہیں ہوتی کہ اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو زندہ کرکے ہمارے پاس لائو۔ )
قرآن کریم کے مقابل میں ان کی واحد دلیل
یہ نام نہاد دانشور جو علم کے باوجود ضلالت و گمراہی کا شکار ہوئے ان کی علمی بےمائیگی کا عالم یہ ہے کہ وہ علم کی بنیادوں کو کھو چکے اور ظن و گمان کو زندگی کا سرمایہ جان کر یہ رویہ اپنا چکے ہیں کہ قرآن کریم کے واضح دلائل کے مقابلے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
فہم القرآن
ربط کلام : اپنے نفس کو معبود بنانے والا شخص دنیا کی لذات پر اس قدر فریفتہ ہوجاتا ہے کہ اس کا مرنے کو جی نہیں چاہتا اس وجہ سے یہ سمجھتا ہے کہ ہمارا جینا اور مرنا صرف دنیا میں ہے موت کے بعد نہ ہم نے زندہ ہونا ہے اور نہ کسی کے سامنے جواب دینا ہے۔
انسان اپنے نظریات اور جذبات کو اس وقت الٰہ کا درجہ دیتا ہے جب دنیا پر بےحد فریفتہ ہو کر وہ حقیقی الٰہ کو بھول جاتا ہے۔ اس وجہ سے نفس کا بچاری سمجھ بیٹھتا ہے کہ مرنے کے بعد نہ میں نے زندہ ہونا ہے اور نہ کسی کے سامنے حساب دینا ہے۔ اس بنیاد پر کہتا ہے کہ بس ہم نے اسی دنیا میں جینا اور مرنا ہے۔ ہماری زندگی اور موت کا معاملہ زمانے کے ساتھ تعلق…
Read the full tafseer →آیت 25 : وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِمْ ٰایٰتُنَا (اور جس وقت ان کے سامنے ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں) آیات سے قرآن مراد ہے وہ آیات جن میں بعث بعدالموت کا تذکرہ ہے۔ بَیِّنٰتٍ مَّا کَانَ حُجَّتَہُمْ (کھلی کھلی تو انکا جواب یہی ہوتا ہے) ان کی بات کو حجت فرمایا اگرچہ وہ واقعہ میں حجت نہ تھی۔ کیونکہ ان کے خیال میں تو حجت تھی گویا بقول انکے انکی دلیل اِلاَّ اَنْ قَالُوا ائْتُوْا بِٰابَآپنَا (کہ ہمارے باپ دادوں کو سامنے لے آئو) یعنی انکو زندہ کرو۔ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ (اگر تم سچے ہو) اپنے بعث بعدالموت کے دعویٰ میں۔
نحو : کان کا اسم ان قالوا ہے اور حجتہم اس کی خبر ہے۔ معنی یہ ہے۔ انکی حجت آجاکر یہ بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
تفسیر 24۔ ، وقالوا، یعنی بعث کا انکار کرنے والے، ماھی الاحیاتنا الدنیا، یعنی زندگی صرف دنیا کی زندگی ہے۔ ، نموت ونحیا، یعنی آباء مرجاتے ہیں اور اولادزندہ رکھی جاتی ہے اور زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ یعنی ہم مرجاتے ہیں اور ہم زندہ ہوتے ہیں پس واؤجمع کے لیے ہے۔ ، ومایھلکنا الاالدھر، یعنی زمانے کا گزرنا اور عمرکا لمبا ہونا اور رات ودن کا آناجانا ہمیں فناکرتا ہے۔
، ومالھم بذلک، یعنی جو انہوں نے کہا ہے، من علم ، یعنی انہوں نے یہ کسی علم سے نہیں کہا۔ ، ان ھم الا یظنون، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بندہ یہ نہ کہے اے زمانہ کی خرابی کیونکہ میں زمانہ ہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
22۔ 27۔ مشرکین مکہ یہ جو کہتے تھے کہ مرنے کے بعد خاک ہو کر سب برابر ہوجائیں گے کیونکہ انسان کا پھر دوبارہ جینا اور جزا و سزا کا دیا جانا کچھ سمجھ میں نہیں آتا اوپر کی آیت میں اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا تھا کہ ایسی ناانصافی کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ نے دنیا کو پیدا نہیں کیا کہ نیک و بد دونوں کے مر کر خاک ہوجانے کے بعد پھر خبر نہ لی جائے کہ نیک شخص نے نیکی جو کی تھی اس کی جزا اور بد شخص نے بدی جو کی تھی اس کی سزا کچھ ہونے کی ہے یا نہیں ان آیتوں میں اس جواب کو پورا کرنے کے لئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اس انصاف کی بنیاد پر پیدا کیا ہے کہ آخر عمر تک نیکی بدی جو جس کا جی چاہے کرلے پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
آیت 23
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (افرء یت) کیا آپ نے اس گمراہ شخص کو دیکھا ؟ (من اتخذ الھہ ھوۂ ) ” جس نے اپنی خواہش نفس کو معبود بنا لیا۔ “ جس راستے پر چاہا چلتا رہا، خواہ اس راستے پر چلنے کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے یا اس کو سخت ناپسند کرتا ہے۔ (واضلہ اللہ علی علم) اللہ تعالیٰ نے یہ جانتے ہوئے اسے گمراہی میں پھینک دیا کہ وہ ہدایت کے لائق نہیں اور نہ ہدایت کے ذریعے سے وہ پاک ہی ہوسکتا ہے۔ (وختم علی سمعہ) ” اور اس کے کانوں پر مہر لگا دی۔ “ اس لئے وہ کوئی ایسی چیز نہیں سن سکتا جو اس کے لئے فائدہ مند ہو (وقلبہ) ” اور اس کے دل پر “ پس وہ بھلائی کو یاد نہیں رکھ سکتا (وجعل علی بصرہ غشوۃ) ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–37
قول باری ہے (وقالوا ماھی الا حیاتنا الدنیا نموت ونحیا وما یھلکنا الا الدھر۔ اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ بجز ہماری اس دنیوی زندگی کے اور کوئی زندگی نہیں۔ ہم بس ایک ہی بار مرتے اور بس ایک ہی بار زندگی پاتے ہیں۔ اور ہم کو صرف زمانہ ہی ہلاک کرتا ہے۔ )
ایک قول کے مطابق آیت کے الفاظ میں تقدیم و تاخیر ہے یعنی
(ہم زندگی پاتے اور مرجاتے ہیں جس کے بعد لوٹنا نہیں ہے) ایک قول کے مطابق مفہوم یہ کہ ” ہم مرجاتے ہیں اور ہماری اولاد زندہ رہتی ہے۔ جس طرح مقولہ ہے۔” جس شخص نے فلاں شخص جیسا بیٹا اپنے پیچھے چھوڑا ہو وہ کبھی مر نہیں سکتا۔ “
قول باری (وما یھلکنا الا الدھر ) کی تفسیر کے سلسلے میں ہمیں عبداللہ بن محمد نے…
Read the full tafseer →49 منکرین کا حق کے مقابلے میں ایک لچر اور بیہودہ قول : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب قیامت کے بارے میں ان لوگوں کو ہماری کھلی کھلی اور نہایت واضح اور روشن آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو اس کے جواب میں یہ لوگ کہتے ہیں کہ لے آؤ ہمارے باپ دادا کو اگر تم لوگ سچے ہو "۔ یعنی وہی مرغے کی ایک ٹانگ کہ جب تک قیامت کا وہ دن ہمارے مشاہدے میں نہیں آئے گا ہم نہیں مانیں گے۔ اور دور قدیم کی مادہ پرست ذہنیت کی یہی چھاپ آپ کو عصر حاضر کے بہت سے پڑھے لکھے برخود غلط لوگوں پر بھی پوری طرح عیاں نظر آئے گی کہ یہ لوگ بھی عالم غیب کی باتوں اور وہاں کے غیبی حقائق کا اپنی ان مادی اور مادہ پرست آنکھوں سے مشاہدہ کرنا چاہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–37
مومنوں اور منکروں کا انجام ایک جیسا نہیں ہوگا
تشریح : غافل ‘ مغرور اور نافرمان بندے اس قدر غافل ہوجاتے ہیں کہ نہ تو ان کو برائی بری لگتی ہے اور نہ ہی اچھائی کا کوئی فائدہ نظر آتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نیکی کا ارادہ کرنے والے کیلئے اچھے اسباب پیدا کردیتا ہے اور برائی کی طرف بڑھنے والے کیلئے برائیوں کے اسباب پیدا کردیتا ہے جیسا کہ مثل مشہور ہے کہ شکر خورے کو شکر مل جاتی ہے۔ تو ایسے لوگوں کو غفلت سے جگانے کیلئے خبردار کیا جا رہا ہے کہ ایسے غافل لوگوں کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ بہت زیادہ انصاف کرنے والا خبردار اور ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ اس کا بندوبست زمین و آسمان کی بہترین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
آیات 22 تا 26۔
اسرار ومعارف۔
اللہ نے یہ سارانظام آسمانوں اور زمین کا بھی حق و انصاف پر بنایا ہے جس طرح اس کی تعمیر و تخلیق میں ہے ہر شے کو ایک حیثیت اور حق دیا گیا ہے اسی طرح سے اعمال کا بدلہ بھی یقینا دیاجائے گا مثلا جیسے کھانا کھانے کا نتیجہ ہے کہ بھوک ختم ہوجاتی ہے پھر اگر درست ہوتوصحت ہوتی ہے خراب ہوتوبیمار کردیتا ہے اسی طرح ایک نتیجہ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ جائز وسائل سے حاصل کیا گیا تھا یا نہیں جس کا اظہار یقینا قیامت کو ہوگا اور وہاں کسی کے ساتھ زیادتی نہ کی جائے گی مگر ان کی مصیبت یہ کہ آپ دیکھیں انہوں نے اپنی خواہش نفس کو ہی اپنا معبود بنارکھا ہے۔
خواہش نفس کو معبود بنارکھا ہے۔
کوئی…
Read the full tafseer →ف 4 یعنی ان کو اتنا شعور نہیں کہ جس چیز کو وہ زمانہ کہتے ہیں وہ خود کوئی چیز نہیں ورنہ بجائے خود اسے آدمی پر کوئی اختیار ہے۔ زندگی اور موت کے جو ظاہری اسباب وہ دیکھتے ہیں، انہیں اللہ تعالیٰ ہی نے بنایا ہے اور وہ اسی کے حکم کے تحت کام کر رہے ہیں۔ اسی حقیقت کو آنحضرت نے ایک حدیث میں یوں بیان فرمایا ہے : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آدم کا بیٹا جب زمانہ کو برا بھلا کہتا ہے تو مجھے تکلیف دیتا ہے کیونکہ زمانہ خد کچھ نہیں میں ہی زمانہ نہ ہوں، میرے ہی ہاتھ میں معاملہ ہے اور میں ہی رات اور دن میں الٹ پھیر کرتا ہوں۔ (شوکانی بحوالہ صحیحین عن ابی ہریرہ)
5 یعنی اگر اپنے اس عقیدہ میں سچے ہو کر مرے کے بعد ہم…
Read the full tafseer →(45:25) تتلی مضارع مجہول واحد مؤنث غائب تلاوۃ (باب نصر) مصدر ت، ل، و، مادہ۔ وہ پڑھی جاتی ہے، وہ تلاوت کی جاتی ہے
ما کان حجتہم : حجۃ منصوب ہے کیونکہ وہ کان خبر ہے کان کا اسم قولہ تعالیٰ الا ان قالوا ئتوا بابائنا ان کنتم صدقین اس ترکیب کی اور مثالیں قرآن مجید میں موجود ہیں۔ (7:82:27:56:69:29 پر ملاحظہ فرما دیں۔
حجتہم : مضاف مضاف الیہ۔ ان کی دلیل۔ حجت کوئی ایسی بات جس سے استدلال کرسکیں۔ مشرکوں اور منکروں کے قول کو حجت صرف ان کے خیال کے اعتبار سے فرمایا ورنہ ان کا یہ قول واقع میں کوئی حجت یعنی انکار قیامت کی دلیل نہیں ہے۔
الا حرف استثناء ان مصدریہ ائتوا فعل امر۔ جمع مذکر حاضر۔ ایتان (باب ضرب)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–37
تشریح آیات نمبر 25 تا 37
جو لوگ یہ کہتے تھے کہ ہمارا مرنا اور ہمارا جینا یہ سب کا سب گردش زمانہ کا کمال ہے وہی ہمیں زندگی دیتا ہے اور وہی ہمیں موت کی وادیوں میں دھکیل دیتا ہے نیکی ، بدی ، اچھائی ، برائی اور دین و آخرت یہ سب کہنے کی باتیں ہیں ان سے فرمایا جارہا ہے کہ اس کائنات میں ہر چیز ہر حکومت و سلنطت صرف اللہ کی ہے وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت کو طاری کرے گا۔ ہر چیز اس قبضہ قدرت میں ہے۔ اس نے اس دنیا کو اور زمین و آسمان کے نظام کو انسانوں کے لئے بنایا ہے ۔ جب اس کی ضرورت نہ رہے گی تو اس پورے نظام کائنات کو ختم کرکے ایک نیا جہان پیدا کردیا جائے گا جو قیامت کا اور انصاف کا دن ہوگا۔ وہ لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–29
(ف 2) اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو انصاف وعدالت سے حق طور پر بنایا، اور دنیا کو اس انصاف کی بنیاد پر پیدا کیا ہے کہ آخرعمر تک نیکی بدی جو جس کا جی چاہے کرلیوے پھر اس طرح ہر شخص کی عمر آخر ہوتے ہوتے جب دنیا ختم ہوجائے تو تمام دنیا کی نیکی وبدی کی جزا وسزا کا فیصلہ ایک دن کردیاجائے۔ اور اس دن رتی رتی ذرہ حساب ہوگا، اور یہ فیصلہ اس طرح انصاف سے ہوگا کہ اس میں کسی پر ذرا بھی ظلم نہ ہوگا کیونکہ ظلم اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پاک پر حرام کرلیا ہے آگے فرمایا اے محبوب ﷺ ان مشرکوں کی بےٹھکانے کی باتوں کا کچھ تعجب نہ کرنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جن باتوں کو دین ٹھہرایا ہے ان کو تو یہ لوگ جانتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–32
[7] یعنی ان لوگوں کی محرومی یہ نہیں ہے کہ انہیں علم کی روشنی نہیں ملی، بلکہ ان کی اصل بدبختی یہ ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے جو علم دیا تھا اس کی قدر کرنے کی بجائے انہوں نے اپنی خواہشوں کی پیروی کی جس کے نتیجے میں اللہ کی طرف سے انہیں گمراہی میں پھینک دیا گیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ جو شخص سرے سے ہدایت کا طالب ہی نہیں اللہ اسے جبری ہدایت نہیں دیتا بلکہ اسے بھٹکنے کے لئے چھوڑ دیتا ہے۔
[8] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 8 صفحہ 93۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
ف 3: یعنی جب ان کے سامنے حشرونشر کی کیفیات سے متعلق دلائل پیش کئے جاتے ہیں تو یہ کہتے ہیں ۔ کہ ہم تو جب مانیں گے ۔ جب ہمارے سامنے آباؤاجداد آکر کھڑے ہوجائیں ۔ اور رونما ہوکر اس عقیدے کی صداقت پر گواہی دیں ۔ فرمایا : کیا زندگی اور موت کا ردوبدل تم روزانہ ملاحظہ نہیں کرتے ۔ کیا یہ نہیں دیکھتے ۔ کہ تم میں لاکھوں انسان ہر روز کتم عدم سے عالم وجود میں آتے ہیں ۔ اور لاکھوں زندگی کی دنیا سے موت کی دنیا میں منتقل ہوجاتے ہیں ۔ کیا یہ اس بات کا اہم ترین ثبوت نہیں ۔ کہ سب لوگوں کو اسی طرح ایک وقفہ زندہ ہونا ہے ۔ اور خدا کے حضور میں اپنے عمال کا حساب پیش کرنا ہے ۔
Read the full tafseer →(25) اور جب ان کے روبرو ہماری کھلی کھلی آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو ان کے پاس سوائے اس کٹ حجتی کے اور کوئی جواب نہیں ہوتا اور ان کے پاس بجز اس کے کوئی جواب نہیں ہوتا کہ یوں کہتے ہیں اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادوں کو زندہ کرکے لے آئو۔ وہی بات جو سو رہ دخان میں گزر چکی ہے ہمارے بڑوں کو زندہ کر لائو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
ف 5۔ مطلب یہ کہ مرور زمانہ سے قوی بدنیہ تحلیل ہوتے ہیں اور ان اسباب طبیعہ سے موت آجاتی ہے، اور اس طرح حیات کا سبب بھی امور طبیعہ ہیں۔ پس جب موت وحیات مقتضا اسباب طبیعہ کا ہے اور حیات ثانیہ کو اسباب طبعیہ مقتضی ہیں نہیں تو حیات ثانیہ نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →آخرت کا انکار کرنے والوں کی حماقت کہیں یا دلیل بہر حال وہ درج ذیل ہے۔
52 ؎ آخرت کا اثبات پیش کرنے والوں کا دعویٰ کیا ہے ؟ یہ کہ جو شخص اس دنیا میں پیدا ہوا اور اس نے اچھے برے اعمال کئے اور نیا کے اندر اس کو موت دیدی گئی وہ ایک بار مرنے کے بعد دوبارہ اس دنیا میں کسی صورت بھیجا نہیں جاسکتا کہ یہ رب کریم کا فیصلہ ہے اور اللہ تعالیٰ کا ہر فیصلہ گویا وعدہ ہے اور وعدہ کا خلاف اللہ تعالیٰ نہیں کرتا اور نہ ہی ہونے دیتا ہے اس لئے اگر کوئی شخص دوبارہ زندہ ہو کر دنیا میں آنے کا اقرار کرتا ہے تو وہ بےدلیل بات کرتا ہے جو محض ایک مفروضہ اور وہم ہے اس کے سوا اس کی کوئی حقیقت نہیں اور اس طرح یہ بات ہے کہ جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
وَمَا يُهْلِكُنَا إِلَّا الدَّهْرُ "...and nothing destroys us except time...(45:24) " The word dahr means ` time from the beginning of the world to its end'. It also refers to ` a very long period of time'. The atheists alleged that their life and death have nothing to do with Divine will and command. They happen under natural causes. Death is a process which they say they experience when their human limbs, organs and abilities diminish on account of constant use and, with the passage of time, the matter becomes dissolved and is destroyed; and that this is the be-all and end-all of human…
Read the full tafseer →35 "Our clear Revelations": the Revelations in which strong arguments have been given for the possibility of the Hereafter and in which it has been stated that its occurrence is the demand of both wisdom and justice, and its nonoccurrence renders the whole system of the universe meaningless and absurd.
36 In other words, what they meant to say was: When somebody tells them that there is life after death, he must raise a dead person from the grave and present him before them. And if this is not done, they cannot believe that the dead would ever be raised to life once again at same time in the…
Read the full tafseer →