Explained with ayahs 12–15
اللہ تعالیٰ کے ابن آدم پر احسانات
اللہ تعالیٰ اپنی نعمتیں بیان فرما رہا ہے کہ اسی کے حکم سے سمندر میں اپنی مرضی کے مطابق سفر طے کرتے ہوئے بڑی بڑی کشتیاں مال اور سواریوں سے لدی ہوئی ادھر سے ادھر لے جاتے ہو تجارتیں اور کمائی کرتے ہو۔ یہ اس لئے بھی ہے کہ تم اللہ کا شکر بجا لاؤ نفع حاصل کر کے رب کا احسان مانو پھر اس نے آسمان کی چیز جیسے سورج چاند ستارے اور زمین کی چیز جیسے پہاڑ نہریں اور تمہارے فائدے کی بیشمار چیزیں تمہارے لئے مسخر کردی، یہ سب اس کا فضل و احسان انعام و اکرام ہے اور اسی ایک کی طرف سے ہے، جیسے ارشاد ہے آیت (وَمَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
سورة الْجَاثِیَة 18
اصل الفاظ ہیں اَلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّام اللہِ۔ لفظی ترجمہ یہ ہوگا کہ " جو لوگ اللہ کے دنوں کی توقع نہیں رکھتے "۔ لیکن عربی محاورے میں ایسے مواقع پر ایام سے مراد محض دن نہیں بلکہ وہ یادگار دن ہوتے ہیں جن میں اہم تاریخی واقعات پیش آئے ہوں۔ مثلاً ایام العرب کا لفظ تاریخ عرب کے اہم واقعات اور قبائل عرب کی ان بڑی بڑی لڑائیوں کے لیے بولا جاتا ہے جنہیں بعد کی نسلیں صدیوں تک یاد کرتی رہی ہیں۔ یہاں ایام اللہ سے مراد کسی قوم کے وہ برے دن ہیں جب اللہ کا غضب اس پر ٹوٹ پڑے اور اپنے کرتوتوں کی پاداش میں وہ تباہ کر کے رکھ دی جائے۔ اسی معنی کے لحاظ سے ہم نے اس فقرے کا ترجمہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
(آیت) قُلْ لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يَغْفِرُوْا لِلَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ اَيَّام اللّٰهِ (آپ ایمان والوں سے فرما دیجئے کہ ان لوگوں سے درگزر کریں جو خدا تعالیٰ کے معاملات کا یقین نہیں رکھتے) اس آیت کے شان نزول میں دو روایت میں ہیں۔ ایک یہ کہ مکہ مکرمہ میں کسی مشرک نے حضرت عمر ؓ پر دشنام طرازی کی تھی۔ حضرت عمر نے اس کے بدلے میں اسے کچھ تکلیف پہنچانے کا ارادہ فرمایا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اس روایت کے مطابق یہ آیت مکی ہے۔ دوسری روایت یہ ہے کہ غزوہ بنو المصطلق کے موقعہ پر آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ نے مریسیع نامی ایک کنویں کے قریب پڑاؤ ڈالا۔ منافقین کا سردار عبداللہ بن ابی بھی مسلمانوں کے لشکر میں…
Read the full tafseer →قل للذین امنوا یغفروالذین لایرجون ایام اللہ لیجزی قوماً بما کانوا یکسبون 14
یغفروا، یہاں درگزر اور نظر انداز کرنے کے معنی میں ہے۔
ایام اللہ، سے مراد اللہ تعالیٰ کے عدل و انتقام کے وہ تاریخی دن ہیں جس میں اس نے رسولوں کے مکذبین کو صفحہ ارض سے نیست و نابود کیا ہے۔ قرآن میں قوموں کی جو تاریخ بیان ہوئی ہے اس میں ان ایام کا ذکر گزر چکا ہے اور آگے بھی ان کی تفصیل آئے گی۔ لیجزی قوماً میں قوم سے مراد یہی مخالفین ہیں جن کا ذکر اوپر سے چلا آ رہا ہے۔ اس لفظ کی تنکیر اظہار نفرت و بیزاری کے لئے ہے جس طرح ام علی قلوب اقفالھا میں لفظ قلوب کی تنکیر ہے جن لوگوں نے اس سے مسلمانوں کو مراد لیا ہے انہوں نے سیاق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
15۔ 1 یعنی ہر گروہ اور فرد کا عمل، اچھا یا برا، اس کا فائدہ یا نقصان خود کرنے والے ہی کو پہنچے گا، کسی دوسرے کو نہیں اس میں نیکی کی ترغیب بھی ہے اور بدی سے ترہیب بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
2: اللہ کے دنوں سے مراد وہ دن ہیں جن میں اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے اعمال جزاء دے، چاہے دنیا میں یا آخرت میں، اور مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اس بات سے بےفکر ہیں، بلکہ اس بات کا انکار کرتے ہیں کہ کوئی ایسے دن آنے والے ہیں۔
3: درگزر کرنے کا مطلب یہاں یہ ہے کہ ان کی طرف سے جو تکلیفیں پہنچائی جائیں ان کا بدلہ نہ لیں، یہ حکم مکی زندگی میں دیا گیا تھا جہاں مسلمانوں کو مسلسل صبر کی تلقین کی جارہی تھی، اور ہاتھ اٹھانے سے منع کیا گیا تھا۔
4: اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ مسلمانوں سے کہا جارہا ہے کہ کافر لوگ ان پر جو ستم ڈھا رہے ہیں تم ان کا فی الحال بدلہ نہ لو، کیونکہ اللہ تعالیٰ خود ہی ان کا بدلہ لے لے گا، چاہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
آیت نمبر 14 تا 15
اہل ایمان کو ہدایت کی گئی ہے کہ جو لوگ اللہ کے عذاب سے نہیں ڈرے ، ان سے درگزر کرو اور ان کے ساتھ دشمنی کی بجائے ہمدردی کا رویہ اختیار کرو۔ اور شریفانہ اور اخلاق عالیہ کا رویہ اختیار کرو۔ درگزر کرو اور ان پر رحم کرو کہ وہ مساکین ہیں۔ وہ علم و ہدایت اور قوت اور رحمت کے اصل سرچشمے سے محروم ہیں۔ یہ ایمان ہی کا سرچشمہ ہے جو انسان کو غنی ، قوی اور رحیم و کریم بنا دیتا ہے۔ انسان اسی پر بھروسہ کرتا ہے ، مطنئن ہوتا ہے اور مشکل اوقات میں اس کے سامنے سربسجود ہوتا ہے اور اس کے سہارے آہ و فغاں کرتا ہے۔ پھر یہ لوگ ان قوانین فطرت اور سنن الہٰیہ سے بھی ناواقف ہیں جن کے نتیجے میں انسان کو ہر…
Read the full tafseer →1 " ایام اللہ " (اللہ کے دنوں) سے مراد وہ دن ہیں جن میں اللہ اپنے دشمنوں کو کوئی خاص سزا دے، یا اپنے فرمانبرداروں کو کسی خصوصی انعام و اکرام سے سرفراز فرمائے۔ لہذا " لِلَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ اَيَّام اللّٰهِ " سے وہ کفار مراد ہوئے جو اس کی رحمت سے ناامید اور اس کے عذاب سے بےفکر ہیں۔
2 یعنی مسلمان آپ سے بدلہ لینے کی فکر نہ کریں۔ اللہ پر چھوڑ دیں، وہ ان کی شرارتوں پر کافی سزا، اور مومنین کے صبر وتحمل اور عفو و درگزر کا مناسب صلہ دے گا۔
Read the full tafseer →آیت 14 { قُلْ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰہِ } ”اے نبی ﷺ ! آپ
اہل ِایمان سے کہہ دیجیے کہ وہ ذرا درگزر کریں ان لوگوں سے جو اللہ کے دنوں کی توقع نہیں رکھتے“
اس آیت کے مضمون سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سورت مکی دور کے تقریباً وسط میں نازل ہوئی ہے۔ گویا اس وقت حضور ﷺ کی دعوت کو شروع ہوئے پانچ چھ سال ہی ہوئے تھے ‘ یعنی ابھی اہل ِمکہ ّپر اتمامِ حجت نہیں ہوا تھا اور ابھی ان کے لیے مزید مہلت درکار تھی۔ چناچہ اہل ایمان کو تلقین کی جارہی ہے کہ وہ مشرکین کے مخالفانہ روییّسے دلبرداشتہ نہ ہوں۔ یہ جہالت میں ڈوبے ہوئے گمراہ لوگ ہیں ‘ انہیں ”ایام اللہ“ کے بارے میں…
Read the full tafseer →18 ایام اللہ کا مفہوم اور تذکیر بایام اللہ :۔ ایام اللہ کا لفظی اور لغوی معنی صرف اللہ کے دن ہے۔ مگر اس سے مراد عموماً وہ دن لیے جاتے ہیں جو کسی قوم کے تاریخی یادگار دن ہوں۔ اور یہ اچھے بھی ہوسکتے ہیں اور برے بھی۔ بلکہ بسا اوقات وہی دن ایک کے لیے برے اور دوسرے کے لیے اچھے ہوتے ہیں۔ مثلاً جس دن فرعون اور آل فرعون غرق ہوئے تو یہ دن ان کے لیے سب سے برا دن تھا لیکن وہی دن بنی اسرائیل کے لیے سب سے اچھا دن تھا کہ انہیں فرعون جیسے ظالم اور جابر حکمران سے نجات نصیب ہوئی۔ اور عرفاً ایام اللہ سے مراد عموماً برے ہی دن لیے جاتے ہیں۔ تذکیر بایام اللہ ایک شرعی اصطلاح ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ جن جن قوموں پر…
Read the full tafseer →9۔ (آیت) ” یغفروا “۔ غفر، یہاں عفو کے مرادف ہے، اے یعفوا ویصفحوا (بیضاوی) (آیت) ” لایرجون ایام اللہ “۔ یعنی اللہ کے اہم سے اہم جو معاملات بندوں کے ساتھ حشر میں پیش آئیں گے۔ مثلا یہ کہ فرمانبرداروں پر عطا و بخشش ہوگی اور نافرمانوں پر نزول عذاب وشدت ہوگا، منکرین قیامت ان سارے امور کی طرف سے اپنے کو غافل ہی بنائے ہوئے ہیں۔ (آیت) ” ایام اللہ “۔ پر حاشیہ پہلے گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
آیت نمبر 12 تا 21
ترجمہ : اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے دریا کو تابع کردیا کہ اس میں اس کے حکم اجازت سے کشتیاں چلیں اور تم تجارت کے ذریعہ اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ شکر بجالاؤ شمس و قمر ستارے اور پانی وغیرہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جانور اور درخت اور گھاس اور نہریں وغیرہ جو کچھ زمین میں ہے اس نے اپنی طرف سے سب کو تمہارے تابع کردیا یعنی مذکورہ چیزوں کو اس نے انسانوں کے نفع کے لئے پیدا فرمایا جمیعًا تاکید ہے، اور مِنْہُ حال ہے یعنی ان چیزوں کو تابع کردیا حال یہ ہے کہ یہ اس کی طرف سے ہے، بلاشبہ اس تابع کرنے میں ان لوگوں کے لئے جو ان میں غور (وفکر) کریں بہت سی نشانیاں ہیں کہ ایمان لے آئیں، آپ…
Read the full tafseer →قل للذین امنوا یغفروا للذین لا یرجون ایام اللہ لیجزی قوما بما کانوا یکسبون۔ آپ ایمان والوں سے کہہ دیجئے کہ ان لوگوں سے درگذر کیا کریں جو اللہ کے معاملات کا یقین نہیں رکھتے ‘ تاکہ اللہ ایک قوم کو (یعنی مسلمانوں کو) ان کے عمل کا صلہ دے۔
Read the full tafseer →آپ حضرت عمر فاروق اور ان کے ساتھیوں سے فرما دیجیے کہ مکہ والوں سے جو کہ عذاب الہی سے نہیں ڈرتے، درگزر کریں تاکہ اللہ تعالیٰ حضرت عمر اور ان کے ساتھیوں کو ان کے نیک اعمال کا بدلہ دے اور یہ درگرز کرنے کا حکم ہجرت سے پہلے کا تھا پھر سب کو قتال کا حکم دے دیا گیا۔
Read the full tafseer →(1) قل للذین امنوا یغفروا للذین لایرجون :”رجا برجو رجآئ“ (ي) کا معنی امید کرنا ہے۔ اس کے ضمن میں خوف بھی ہوتا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ امید پوری نہ ہو۔ غرض اس کے معنی امید اور خوف دونوں کر لئے جاتے ہیں۔
(2)”ایام اللہ“ (اللہ کے دنوں) سے مراد کسی قوم کے یادگار تاریخی دن ہیں، جن میں اللہ تعالیٰ اپنے دشمنوں کو خاص سزا دیتا ہے، یا اپنے فرماں بردار بندوں کو خاص انعام و اکرام سے نوازتا ہے۔ بعض اوقات ایسا ایک ہی دن کچھ لوگوں کے لئے سزا اور کچھ لوگوں کے لئے عطا کا دن ہوتا ہے، جیسے آل فرعون کا غرق ہونا ان کے لئے سزا کا دن تھا اور بنی اسرائیل کے لئے نجات کچھ لوگوں کے لئے عطا کا دن ہوتا ہے، جیسے آل فرعون کا…
Read the full tafseer →قل کے جواب کی وجہ سے مجزوم ہے اسے شرط و جزا کے ساتھ تشبیہ دی جس طرح تیرا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے لام کے حذف کی وجہ سے محزوم ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس معنی کی بناء پر یہ مجزوم ہے۔ یہ امر مخدوف کا جواب ہے جس امر پر کلام دلالت کرتی ہے۔ یہ علی بن عیسیٰ نے قول کیا ہے، ابن عربی نے اسے سپند کیا ہے یہ آیت اس سبب سے نازل ہوئی (1) کہ قریش کے ایک آدمی نے حضرت عمر بن خطاب کو گالیاں دیں تو آپ نے اسے پکڑنے کا ارادہ کیا ابن عربی نے کہا : یہ قول صحیح نہیں : واحدمی، قشیری اور دوسرے علماء نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ یہ آیت حضرت عمر بن خطاب کے بارے میں نازل ہوئی جو ان کا معاملہ غزوہ بنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
1:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قل للذین امنوا یغفروا “ (آپ ایمان والوں سے کہہ دیجئے کہ ان لوگوں سے درگزر کیا کریں) کے بارے میں روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ برابر درگزر کرنے کا حکم فرماتے تھے اور اس پر ابھارتے تھے اور اس کے بارے میں ترغیب دیتے تھے یہاں تک کہ حکم دیا گیا کہ اسے چھوڑدیں جو اللہ کے ایام کی امید نہیں رکھتا اور ذکر کیا گیا کہ یہ آیت منسوخ ہے اس کو اس آیت نے منسوخ کیا ہے جو سورة انفال میں ہے (آیت ) ” فاتثقفنہم فی الحرب “ (الایہ)
2:۔ ابن جریر (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے اس آیت (آیت ) ” قل للذین امنوا یغفروا “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے نبی…
Read the full tafseer →قُلْ لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا [ آپ کہہ دیجئے ان سے جو ایمان لائے ] يَغْفِرُوْا [ وہ درگزر کریں ] لِلَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ [ ان سے جو امید نہیں رکھتے ] اَيَّامَ اللّٰهِ [ اللہ کی (گرفت کرنے کے ) دنوں کی ] لِيَجْزِيَ [تاکہ وہ بدلہ دے ] قَوْمًۢا [ایک قوم کو ] بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ [بسبب اس کے جو وہ کمائی کرتے تھے ]
نوٹ۔ 3: آیت ۔ 14 ۔ میں ایام اللہ کے الفاظ آئے ہیں عربی محاورے میں ایسے مواقع پر ایام سے مراد وہ دن ہوتے ہیں جس میں اہم تاریخی واقعات پیش آئے ہوں ، یہاں ایام اللہ سے مراد کسی قوم کے وہ برے دن ہیں جب اللہ کا غضب ان پر ٹوٹ پڑے اور ان کو تباہ کر دے ۔
بعض مفسرین نے اس آیت کو منسوخ…
Read the full tafseer →آپ اہل ایمان سے فرما دیں کہ منکریں سے در گزر کریں، ہر شخص کا نیک عمل اسی کے لیے ہے، اور برے عمل کا وبال بھی عمل کرنے والے پر ہے
صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ ﴿ يَغْفِرُوْا ﴾ جو اب امر ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے تقدیر عبارت یوں ہے قُلْ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا غَفَرُوْا یَغْفِرُوْا یعنی آپ اپنے ایمان والوں سے فرما دیں کہ درگزر کر وہ اس پر عمل کرتے ہوئے ان لوگوں سے در گزر کریں جو اللہ کے دنوں کی امید نہیں کرتے یعنی کافر لوگ جنہیں اس کا خیال نہیں کہ اللہ تعالیٰ دنوں کو پلٹ دیتا ہے ہمیشہ یکساں زمانہ نہیں رہتا وہ دشمنوں سے انتقام لے لیتا ہے، صاحب روح المعانی نے اس کی دوسری تفسیر حضرت مجاہد تابعی ؓ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
دلائل قدرت وتکوینی انعامات خداوندی :
قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” اللہ الذی سخرلکم البحر ......... الی ....... ثم الی ربکم ترجعون “۔
(ربط) گزشتہ آیات حق تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں پر مشتمل تھیں جن سے پروردگار عالم کی الوہتی ووحدانیت کو ثابت کرتے ہوئے اعراض و انحراف کرنے والوں پر وعید تھی اب مزید چند دلائل کا ذکر کرتے ہوئے بعث بعد الموت اور قیامت کو ثابت فرمایا جارہا ہے۔ ارشاد خداوندی ہے۔
اللہ ہی ہے جس نے تمہارے بس میں کردیا ہے سمندر کو تاکہ چلیں اس میں جہاز اس کے حکم سے حالانکہ سمندر جیسی ہیبت ناک موجوں پر جہازوں اور کشتیوں کا چلنا مادی اسباب کے لحاظ سے متوقع نہ تھا اب بحری سفر انسان کررہا ہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
10:۔ ” قل للذین۔ الایۃ “ یہ تخویف دنیوی ہے۔ یغفروا ای یعفوا ویصفحوا (روح) ۔ لایرجون لا یاملون او لایخافون (قرطبی) ۔ او لایعتقدون (الشیخ قدس سرہ) ۔ ایام اللہ سے مجازا وقائع و حوادث مراد ہیں جو اللہ اپنے دشمنوں پر لاتا ہے (بحر) لیجزی کا متعلق محذوف ہے۔ لتاتین ایام اللہ (الشیخ (رح)) ۔ یا یہ یغفروا سے متعلق ہے۔ (روح) ۔ مطلب یہ ہے کہ ایمان والوں سے فرما دیں کہ وہ ان لوگوں سے نزاع وجدال نہ کریں بلکہ درگذر کریں جو دنیا میں اللہ کے عذاب کی توقع ہی نہیں رکھتے یا اس کے آنے پر ان کا ایمان ہی نہیں اللہ کا عذاب مختلف وقائع و حوادث کی شکل میں ضور آئے گا تاکہ ان منکرین کو ان کے کیے کی سزا دی جائے۔ یا مطلب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–17
ربطہ آیات
سورۃ الجاثیہ کی ابتدائی آیات میں قرآن کریم کی حقنیت و صداقت بیان ہوئی اور پھر اللہ نے توحید اور معاد کے مشترکہ دلائل ذکر کئے پھر نافرمانوں کا گمراہی پر اصرار کا ذکر ہوا۔ اور جزائے عمل کے طور پر انہیں جہنم کی وعید سنائی گئی۔ اللہ نے فرمایا کہ یہ لوگ اس دنیا میں جو کچھ کماتے رہے وہ قیامتو الے دن کچھ کام نہیں آئیگا اور نہ ہ یان کے خود ساختہ معبود کچھ کام آئیں گے جن کو یہ اپنا کار ساز اور حاجت روا سمجھتے رہے اور یہ لوگ عذاب عظیم میں مبتلا ہوں گے۔
اللہ نے دلائل توحید ہی کے ضمن میں فرمایا ہے اللہ الذی سخرلہ البحر اللہ تعالیٰ کی ذات و ہ ہے جس نے تمہارے لئے سمندروں کو مسخر کردیا ہے۔ تسخیر…
Read the full tafseer →قُلْ لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يَغْفِرُوْا لِلَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ اَيَّامَ اللہِ لِيَجْزِيَ قَوْمًۢا بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ 14
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ،
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
ترکیب : جمیعا حال من مافی السماوات الخ و تاکید لہ ومنہ متعلق بمحذوف ای کائنامنہ اوبسخر اوحال من مافی السماوات اوخبر لمبتدء محذوف لتجری اللام متعلقہ بیغفروا و قریٔ لنجزی بالنون۔
تفسیر … دریا کا مسخر ہونا : پھر مسئلہ توحید پر دلائل بیان کرتا ہے اور عرب کے روزمرہ کی بات میں اپنی قدرت کا نمونہ دکھاتا ہے تاکہ وہ خدا تعالیٰ پر ایمان لاویں فقال اللہ الذی سخر لکم البحر کہ اللہ وہ ہے کہ جس نے تمہارے لیے دریا کو بس میں کردیا کہ اس میں کشتیاں چلتی ہیں اور روزی تلاش کرتے ہیں تاکہ تم شکر کرو۔ یہ بڑی عبرت کی بات ہے دریا میں کہ سوائے پانی کے اور کچھ نظر نہیں آتا ہے ہوائوں کے ذریعہ سے لاکھوں من بوجھ لے کر…
Read the full tafseer →قُلْ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لاَ یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰہِ لِیَجْزِیَ قَوْمًا م بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ۔ (الجاثیۃ : 14)
(اے پیغمبر ان لوگوں سے کہہ دیجیے جو ایمان لائے ہیں کہ وہ درگزر کریں ان لوگوں سے جو اللہ تعالیٰ کے دنوں کے ظہور کی توقع نہیں رکھتے تاکہ اللہ ایک قوم کو اس کا پورا پورا بدلہ دے جو وہ کرتی رہی ہے۔ )
مسلمانوں کو تسلی
ایام اللہ سے مراد وہ تاریخی دن ہیں جن میں کوئی بڑا معرکہ وقوع پذیر ہوا ہے اور اس نے قوم کی تاریخ پر گہرا اثر ڈالا ہے یا جس میں کسی قوم پر رسول کی تکذیب یا اللہ تعالیٰ کے احکام کی نافرمانی کی وجہ سے کبھی اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
فہم القرآن
ربط کلام : جو شخص اپنے رب کی قدرتوں پر غوروفکر اور اس کی نعمتوں کا شکرادا کرتا ہے وہ ہر صورت اپنے رب پر ایمان لاتا ہے۔ ایمان لانے والوں کو خصوصی ہدایت کی گئی ہے۔
ایمان کی ابتدا ” لا الٰہ الا اللہ “ سے ہوتی ہے جس کا معنٰی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہی ضرورتیں پوری کرنے اور بگڑی بنانے والا ہے ہے۔ اس بات کا اقرار کرنے سے پہلے ہر معبود کی نفی کرنا فرض ہے۔ جو شخص اللہ کے سوا دوسرے معبودوں کی نفی نہیں کرتا اللہ تعالیٰ اس کا کلمہ قبول نہیں کرتا۔ کلمہ طیبہ میں پہلے معبودان باطلہ کی نفی ہے۔ ظاہر بات ہے کہ جب ایماندار اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کی نفی کرتا ہے تو کافر اور مشرک…
Read the full tafseer →آیت 14 : قُلْ لِّلَّذِیْنَ ٰامَنُوْا یَغْفِرُوْا (آپ ایمان والوں سے فرما دیجئے۔ کہ ان لوگوں سے در گزر کریں) یعنی ان کو کہہ دیں تم در گزر کرو وہ در گزر کریں گے۔ قال کا مقولہ حذف کردیا۔ کیونکہ جواب اس پر دلالت کر رہا تھا۔ یغفروا کا معنی معاف اور در گزر کرنا ہے۔
ایک قول یہ ہے :
یہ لام مضمرہ کی وجہ سے مجزوم ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے۔ لیغفروا۔ پس اس صورت میں یہ امر ہے اور جملہ مستانفہ ہے۔ اور امر پر دلالت کی وجہ سے حذف لام جائز ہے۔
لِلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰہِ (جو اللہ تعالیٰ کے معاملات کا یقین نہیں رکھتے) وہ توقع نہیں رکھتے اللہ تعالیٰ کے ان معاملات کی جو وہ اپنے دشمنوں سے فرماتا ہے۔…
Read the full tafseer →13، وسخرلکم مافی السموات ومافی الارض، اور اس کی تسخیر کا معنی یہ ہے کہ اس نے اس کو پیداکیا ہمارے منافع کے لیے۔ پس وہ ہمارے تابع ہیں کیونکہ ہم ان سے نفع حاصل کرتے ہیں۔ ، جمیعا منہ، پس تم اللہ کا شریک نہ بناؤ۔
ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ، جمیعا منہ، یہ تمام اس کی طرف سے رحمت ہے۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ یہ تمام اس کا فضل و احسان ہے۔ ، ان فی ذ(رح) لک لایات لقوم یتفکرون،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–15
3۔ 15۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی چند نشانیوں کا ذکر فرمایا ہے مثلاً آسمان و زمین کا پیدا کرنا ‘ آسمان میں فرشتوں اور سورج و چاند ستاروں کا پیدا کرنا زمین میں انسان جن چرند پرند طرح طرح کے جانوروں کا جنگل اور دریا میں پیدا کرنا دریا اور ندیوں کا جاری کرنا اور ان میں کشتیوں کا چلانا دنیا کے کاروبار کے لئے دن اور سورج کی روشنی کو پیدا کرنا اور کاروبار کی محنت سے جو آدمی تھک جاتا ہے اس تھکان کے رفع کرنے کیلئے رات اور رات کی نیند کو پیدا کرنا آسمان سے مینہ کا برسانا جس سے ہر طرح کے اناج ہر طرح کے میووں ہر طرح کی ترکاریوں کا زمین میں پیدا ہونا ہر طرح کی ہوا کا چلانا جس کی تاثیر سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
آیت 14 ۔ 15
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ حسن اخلاق سے کام لیں اور ان مشرکین کی ایذا رسانی پر صبر کریں جو ایام الٰہی کی امید نہیں رکھتے، یعنی جو اللہ تعالیٰ کے ثواب کے امیدوار ہیں نہ گناہگاروں کے بارے میں سنت الٰہی سے خائف ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر قوم کو اس کی کمائی کا بدلہ دیتا ہے، پس اے مومنوں کے گروہ ! اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان، تمہارے درگزر اور تمہارے صبر کی جزا کے طور پر تمہیں ثواب جزیل سے بہرہ مند کرے گا۔
اگر کفار و مشرکین اپنی تکذیب پر جمے رہے تو تم پر پر وہ رسوا کن سخت عذاب نازل نہیں ہوگا جو ان پر نازل ہوگا۔ بنا بریں فرمایا : (من عمل صالحاً فلنفسہ ومن اسآء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–22
مشرکین سے کیسا برتائو کیا جائے
ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن نے، انہیں عبدالرزاق نے، انہیں معمر نے قتادہ سے قول باری (قل للذین امنوا یغفروا للذین لا یرجون ایام اللہ، جو لوگ ایمان لے آئے ہیں آپ ان سے کہہ دیجئے کہ وہ ان لوگوں سے درگزر کریں جو اللہ کے معاملات کا یقین نہیں رکھتے) کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ اسے قول باری (فاقتلوا المشرکین حیث وجد تموھم مشرکین کو قتل کرو انہیں جہاں بھی پائو) نے منسوخ کردیا ہے۔
Read the full tafseer →21 عفو و درگزر کی تعلیم و تلقین : سو اس ارشاد میں ایمان والوں کو عفو و درگزر سے کام لینے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے۔ سو توحید وقدرت خداوندی کے دلائل بیان فرمانے کے بعد اب یہاں سے اخلاق فاضلہ کی تعلیم دی جا رہی ہے کہ انسان کی اصل قدر و قیمت اس کے اخلاق فاضلہ ہی سے ہے۔ مگر اخلاق فاضلہ وہ جو عقیدئہ توحید پر مبنی ہوں اور نور ایمان و یقین سے جنم لیں۔ اس آیت کریمہ کے مفسرین کرام نے دو مطلب بیان کیے ہیں۔ اور وہ دونوں ہی صحیح ہیں۔ اور اس میں ان دونوں ہی کی گنجائش موجود ہے۔ ایک یہ کہ اہل ایمان ان ظالم لوگوں کی زیادتیوں پر صبر و برداشت اور عفو و درگزر سے کام لیں جو اللہ کے دنوں کی امید نہیں رکھتے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–20
مومنین کو صبر کی تلقین
تشریح : ان آیات میں انسانی کردار و اخلاق کی بہتری کے کچھ اصول مثالوں کے ساتھ بتائے گئے ہیں۔ سب سے پہلے تو صبر و سکون کی ہدایت کی گئی ہے۔ جب انسان مد مقابل میں کمزور ہو تو اس کو صبر سے کام لینا چاہیے کیونکہ ایسے حالات میں صبر ہی سب سے بڑا ہتھیار ہے جیسا کہ ہجرت سے پہلے مکہ کے مسلمان ہر لحاظ سے کمزور تھے تو ہدایت کی گئی کہ منکرین کی سختیوں بد تمیزیوں اور بحث و مباحثہ کی پرواہ کئے بغیر اپنے کاموں میں مشغول رہو اور پوری نیک نیتی سے تبلیغ دین میں لگے رہو اور وحی کے احکامات پر پوری طرح عمل کرتے رہو اللہ تمہاری ضرور مدد کرے گا اور پھر ایسے ہی ہوا ہجرت کے بعد مسلمان جب مضبوط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
آیات 12 تا 21۔
اسرار ومعارف۔
اللہ تو وہ کریم ذات ہے سمندروں اور پانیوں کو بھی تمہارے لیے مسخر کردیا کہ تم ان میں جہاز رانی کروسمندری مع دنیات اور رزق کے ذرائع تلاش کرو تجارت کے راستے کے طور پر استعمال کروغرض سمندری اور آبی وسائل بھی تمہاری خدمت میں لگادیے کہ تم اللہ کا شکر ادا کرو نیز آسمانی اور زمینی ہر شے کو تمہاری خدمت پر لگادیا ہے کہ سورج چاند ہوابادل ستارے ہوں یاسیارے سب کے سب کی توجہ کامرکز زمین ہے ان کی حرکات واثرات سے زمین پر تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں اور یہ سب تبدیلیاں بالآخر بنی آدم کے کام آتی ہیں اگر کوئی ان سب باتوں پہ غور کرے تو سب کی سب عظمت الٰہی پر اور اس کے احسانات پر دلالت کرتی…
Read the full tafseer →ف 7 ” اللہ تعالیٰ کے دنوں ‘ سے مراد وہ دن ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کے دنوں “ سے مراد وہ دن ہیں جن میں اللہ تعالیٰ اپنے دشمنوں کو خاص سزا دیتا ہے یا اپنے فرمانبردار بندوں کو خاص انعام و اکرام سے نوازتا ہے۔ لہٰذا جو لوگ اللہ تعالیٰ کے دنوں کی امیدن ہیں رکھتے اس سے مراد کفار ہیں جو اس کی رحمت سے مایوس اور اس کی گرفت سے بےفکر ہیں۔
8 یعنی ان کی زیادتیوں اور ایذا رسانیوں پر صبر و تحمل سے کام لیں اور ان کا معاوضہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیں … واضح رہے کہ مسلمانوں کو یہ حکم مکہ معظمہ میں دیا گیا جب انہیں کفار کے مقابل ہمیں تلوار اٹھانے کی اجازت نہ تھی۔ بعد میں مدینہ پہنچ کر جب جہاد بالسیف کا حکم نازل ہوا…
Read the full tafseer →(45:14) یغفروا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ مغفرۃ (باب ضرب) مصدر سے بمعنی کسی کا گناہ معاف کرنا۔ درگزر کرنا۔ معاف کردیں۔ (ایمان والوں سے فرما دیجئے کہ وہ معاف کردیں۔ یا درگزر کردیں۔
لایرجعون : مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ رجاء (باب نصر) مصدر۔ اندیشہ کرنا۔ خوف رکھنا۔ امید رکھنا۔ یقین رکھنا۔ جو امید نہیں رکھتے اور خوف نہیں رکھتے۔ یعنی اے پیغمبر ﷺ آپ ایمان والوں سے کہہ دیجئے کہ ان لوگوں سے درگزر کریں یا ان کو معاف کردیا کریں جو ایام اللہ کا یقین نہیں رکھتے۔
ایام اللّٰہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ ایام بوجہ مفعول ہونے کے منصوب ہے اللہ کے دن۔ اللہ کے دنوں سے مراد وہ دن ہیں جن میں اللہ تعالیٰ سرکشوں سے انتقام لے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
لغات القرآن آیت نمبر 12 تا 15 : تبتغوا ( تم ڈھونڈتے ہو) یرجون ( تم امید رکھتے ہو) اسائ ( اس نے برا کیا)
تشریح : آیت نمبر 16 تا 15 : یہ اللہ تعالیٰ کا کتنا بڑا کرم ہے کہ اس نے انسان کو بیشمار نعمتوں سے نوازرکھا ہے سمندر اور دریا جو بےانتہاء طاقت ور ہیں اور کائنات کی وہ لا تعداد چیزیں جن کے سامنے انسان کی کوئی حیثیت نہیں ہے ان کو انسانوں کی خدمت میں لگا رکھا ہے۔ آدمی جس طرح چاہتا ہے ان چیزوں کو استعمال کرتا ہے۔
اللہ نے اپنی نعمتوں کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا کہ سمندر جیسی عظیم قوت کو انسان کے تابع اور مسخر کردیا ہے جس میں جہازوں اور کشتیوں کے ذریعہ گہرے پانیوں تک پہنچنا ممکن ہوتا ہے۔ آدمی ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
عجائبات قدرت۔
(ف 1) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی چند نشانیاں کا ذکر فرمایا ہے ، مثلا آسمان و زمین کا پیدا کرنا، آسمان میں فرشتوں اور سورج و چاند ستاروں کا پیدا کرنا، زمین میں انسان جن، چرند، پرند، طرح طرح کے جانوروں کا جنگل اور دریا میں پیدا کرنا اور ندیوں کا جاری کرنا اور ان میں کشتیوں کا چلانا، دنیا کے کاروبار کے لی دن اور سورج کی روشنی کو پیدا کرنا اور کاروبار کی محنت سے جو آدمی تھک جاتا ہے اس تھکان کے رفع کرنے کے لیے رات اور رات کی نیند کو پیدا کرنا، آسمان سے مینہ کا برسانا، جس سے ہر طرح کے اناج، ہر طرح کے میوؤں ، ہر طرح کی ترکاریوں کا زمین میں پیدا ہونا، ہر طرح کی ہوا کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
[4] اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے عدل و انتقام کے وہ تاریخی دن ہیں جن میں اس نے رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ قرآن میں جن قوموں کی تاریخ بیان ہوئی ہے اس میں ان ایام کا ذکر گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
قرآن کا عقلمندوں سے خطاب ہے
1: قرآن حکیم ایک ایسی کتاب ہے جو اپنے لئے ان لوگوں کو منتخب کرتی ہے ۔ جو صاحب غوروفکر ہیں ۔ وہ ان کو دعوت دیتی ہے ۔ جو مظاہر کائنات پر فکروتدبیر کی نظریں دوڑائیں ۔ اور دیکھیں ۔ کہ کہاں تک اسلامی حقائق فطرت کے مطاق اور موافق ہیں فرمایا کہ تم جن لوگوں کی پرستش کرتے ہو ۔ وہ قطعاً اس احترام کی اہلیت نہیں رکھتے ۔ پوجا کے لائق وہ ذات ہے جس نے تم کو تسخیر بحر کے علوم سے بہرہ ور کیا ہے جن کی وجہ سے تم سمندر کے سینہ پر کشتیاں اور جہاز چلاتے ہو ۔ اور اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کی تلاش میں کہاں سے کہاں نکل جاتے ہو ۔ اور وہ ہے جس آسمانوں اور زمین کی تمام مخلوقات کو تمہاری خدمت…
Read the full tafseer →(14) اے پیغمبر آپ ان لوگوں سے جو ایمان لائے ہیں فرمادیجئے کہ وہ ان لوگوں سے فی الحال درگزر کریں جو ایام خداوندی یعنی معاملات الٰہی کا یقین نہیں رکھتے تاکہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے ان اعمال کا بدلادے جو وہ کماتے تھے۔
ایام اللہ سے وہ وقائع اور حوادثات مراد ہیں جو کبھی کبھی دنیا میں ظاہر ہوتے ہیں اور آخرت میں تو ان کا وقوع یقینی ہے مسلمانوں کو صبر کی تلقین فرمائی کہ دشمنوں کی زیادتی پر فی الحال کوئی بدلا نہ لو بلکہ انتظار کرو شاید اللہ تعالیٰ دنیا ہی میں ہی سرکشوں اور ظالموں کو خوار ورسوا کردے یا قیامت میں دشمنوں سے بدلا لے۔ کفار کی تعریف یہاں لا یرجون ایام اللہ کے الفاظ سے فرمائی یعنی نہ تو…
Read the full tafseer →ف 2۔ یعنی آخرت کے منکر ہیں۔
Read the full tafseer →ایمان والوں کو ایمان نہ لانے والوں سے درگزر کرتے رہنے کی واضح ہدایت
41 ؎ (یغفروا) کا اصل غر ہے اور غفر کے معنی ڈھانپنے کے ہیں۔ کسی چیز کو محفوظ رکھنے کے لیے کسی چیز میں چھپا دینا جیسے عربی محاورہ ہے اغفر ثوبک فی الوعاء اپنے کپڑے محفوظ رکھنے کے لیے کسی چیز میں چھپا دو ۔ اصبغ ثوبک فانہ اغفر للوسخ کپڑے رنگ لو اس طرح میل سے کپڑا محفوظ رہتا ہے یعنی رنگ کپڑے کے میل کو چھپالیتا ہے۔ اور کبھی اس سے ظاہری طور پر درگزر کرنے کے معنی بھی مراد لیے جاتے ہیں خواہ دل سے معاف نہ کیا جائے بلکہ وقتی مصلحت ہی سمجھی جائے۔ (المفرودات) اور اس جگہ یہی آخری معنی مراد ہیں۔ مسلمانوں سے فرمایا جارہا ہے کہ تم کفار سے عفو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
قُل لِّلَّذِينَ آمَنُوا يَغْفِرُوا لِلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ أَيَّامَ اللَّـهِ ("Tell those who believe that they should forgive those who do not believe in Allah's days ...14) ". There are two narrations recorded relating to its cause of revelation. According to one narration, a pagan in Makkah reviled Sayyidna ` Umar ؓ and the latter intended to retaliate, but this verse came down and asked the believers to forgive the unbelievers and endure their harm that they direct against them. According to this incident the verse is Makki. Another narration reports that on the occasion of the battle…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
18 Literally: `Who do not except the days of Allah." But in Arabic usage on such occasions ayyam does not merely mean days but those memorable days in which important historical events may have taken place. For example, the word ayyam-ul 'Arab is used for the important events of the history of the Arabs and the major battles of the Arab tribes, which the later generations remember for centuries. Here, ayyam-AIlah implies the evil days of a nation when the wrath of Allah may descend on it and ruin it in consequence of its misdeeds. That is who we have translated it: "Those who do not fear the…
Read the full tafseer →