Explained with ayahs 12–15
اللہ تعالیٰ کے ابن آدم پر احسانات
اللہ تعالیٰ اپنی نعمتیں بیان فرما رہا ہے کہ اسی کے حکم سے سمندر میں اپنی مرضی کے مطابق سفر طے کرتے ہوئے بڑی بڑی کشتیاں مال اور سواریوں سے لدی ہوئی ادھر سے ادھر لے جاتے ہو تجارتیں اور کمائی کرتے ہو۔ یہ اس لئے بھی ہے کہ تم اللہ کا شکر بجا لاؤ نفع حاصل کر کے رب کا احسان مانو پھر اس نے آسمان کی چیز جیسے سورج چاند ستارے اور زمین کی چیز جیسے پہاڑ نہریں اور تمہارے فائدے کی بیشمار چیزیں تمہارے لئے مسخر کردی، یہ سب اس کا فضل و احسان انعام و اکرام ہے اور اسی ایک کی طرف سے ہے، جیسے ارشاد ہے آیت (وَمَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
سورة الْجَاثِیَة 18
اصل الفاظ ہیں اَلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّام اللہِ۔ لفظی ترجمہ یہ ہوگا کہ " جو لوگ اللہ کے دنوں کی توقع نہیں رکھتے "۔ لیکن عربی محاورے میں ایسے مواقع پر ایام سے مراد محض دن نہیں بلکہ وہ یادگار دن ہوتے ہیں جن میں اہم تاریخی واقعات پیش آئے ہوں۔ مثلاً ایام العرب کا لفظ تاریخ عرب کے اہم واقعات اور قبائل عرب کی ان بڑی بڑی لڑائیوں کے لیے بولا جاتا ہے جنہیں بعد کی نسلیں صدیوں تک یاد کرتی رہی ہیں۔ یہاں ایام اللہ سے مراد کسی قوم کے وہ برے دن ہیں جب اللہ کا غضب اس پر ٹوٹ پڑے اور اپنے کرتوتوں کی پاداش میں وہ تباہ کر کے رکھ دی جائے۔ اسی معنی کے لحاظ سے ہم نے اس فقرے کا ترجمہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
(آیت) قُلْ لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يَغْفِرُوْا لِلَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ اَيَّام اللّٰهِ (آپ ایمان والوں سے فرما دیجئے کہ ان لوگوں سے درگزر کریں جو خدا تعالیٰ کے معاملات کا یقین نہیں رکھتے) اس آیت کے شان نزول میں دو روایت میں ہیں۔ ایک یہ کہ مکہ مکرمہ میں کسی مشرک نے حضرت عمر ؓ پر دشنام طرازی کی تھی۔ حضرت عمر نے اس کے بدلے میں اسے کچھ تکلیف پہنچانے کا ارادہ فرمایا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اس روایت کے مطابق یہ آیت مکی ہے۔ دوسری روایت یہ ہے کہ غزوہ بنو المصطلق کے موقعہ پر آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ نے مریسیع نامی ایک کنویں کے قریب پڑاؤ ڈالا۔ منافقین کا سردار عبداللہ بن ابی بھی مسلمانوں کے لشکر میں…
Read the full tafseer →من عمل صالحاً فلنفسہ ج ومن اسآء فعلیھاز ثم الی ربکم ترجعون 15
یہ اسی تسلی کے مضمون کی مزید وضاحت ہے کہ اگر یہ لوگ نیکی کی راہ اختیار کریں گے تو اس کا نفع انہی کو پہنچے گا اور اگر بدی پر جمے رہے گئے تو اس کا وبال انہی پر آئے گا۔ اس کی کوئی ذمہ داری اہل ایمان پر نہیں ہوگی جب کہ انہوں نے حق لوگوں کو پہنچا دیا۔ پھر قیامت کے دن سب کی پیشی خدا کے سامنے ہوگی اور اس دن فیصلہ ہوجائے گا کہ کون حق پر رہا اور کون باطل پر اور کون کس انجام کا سزا وار ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
15۔ 1 یعنی ہر گروہ اور فرد کا عمل، اچھا یا برا، اس کا فائدہ یا نقصان خود کرنے والے ہی کو پہنچے گا، کسی دوسرے کو نہیں اس میں نیکی کی ترغیب بھی ہے اور بدی سے ترہیب بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
2: اللہ کے دنوں سے مراد وہ دن ہیں جن میں اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے اعمال جزاء دے، چاہے دنیا میں یا آخرت میں، اور مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اس بات سے بےفکر ہیں، بلکہ اس بات کا انکار کرتے ہیں کہ کوئی ایسے دن آنے والے ہیں۔
3: درگزر کرنے کا مطلب یہاں یہ ہے کہ ان کی طرف سے جو تکلیفیں پہنچائی جائیں ان کا بدلہ نہ لیں، یہ حکم مکی زندگی میں دیا گیا تھا جہاں مسلمانوں کو مسلسل صبر کی تلقین کی جارہی تھی، اور ہاتھ اٹھانے سے منع کیا گیا تھا۔
4: اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ مسلمانوں سے کہا جارہا ہے کہ کافر لوگ ان پر جو ستم ڈھا رہے ہیں تم ان کا فی الحال بدلہ نہ لو، کیونکہ اللہ تعالیٰ خود ہی ان کا بدلہ لے لے گا، چاہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
آیت نمبر 14 تا 15
اہل ایمان کو ہدایت کی گئی ہے کہ جو لوگ اللہ کے عذاب سے نہیں ڈرے ، ان سے درگزر کرو اور ان کے ساتھ دشمنی کی بجائے ہمدردی کا رویہ اختیار کرو۔ اور شریفانہ اور اخلاق عالیہ کا رویہ اختیار کرو۔ درگزر کرو اور ان پر رحم کرو کہ وہ مساکین ہیں۔ وہ علم و ہدایت اور قوت اور رحمت کے اصل سرچشمے سے محروم ہیں۔ یہ ایمان ہی کا سرچشمہ ہے جو انسان کو غنی ، قوی اور رحیم و کریم بنا دیتا ہے۔ انسان اسی پر بھروسہ کرتا ہے ، مطنئن ہوتا ہے اور مشکل اوقات میں اس کے سامنے سربسجود ہوتا ہے اور اس کے سہارے آہ و فغاں کرتا ہے۔ پھر یہ لوگ ان قوانین فطرت اور سنن الہٰیہ سے بھی ناواقف ہیں جن کے نتیجے میں انسان کو ہر…
Read the full tafseer →3 یعنی بھلے کام کا فائدہ کام کرنے والے کو پہنچتا ہے۔ اللہ کو اس کی کیا ضرورت ؟ اور بدی کرنے والا خود اپنے حق میں برا بیج بو رہا ہے۔ ایک کی برائی دوسرے پر نہیں پڑتی۔ غرض ہر شخص اپنے نفع نقصان کی فکر کرلے۔ اور جو عمل کرے یہ سمجھ کر کرے کہ اس کا سود و زیاں اسی کی ذات کو پہنچے گا۔
4 یعنی وہاں پہنچ کر سب برائی بھلائی سامنے آجائے گی۔ اور ہر ایک اپنی کرتوت کا پھل چکھے گا۔
Read the full tafseer →آیت 15 { مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِہٖ وَمَنْ اَسَآئَ فَعَلَیْہَاز ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمْ تُرْجَعُوْنَ } ”جس کسی نے اچھا کام کیا تو اس نے اپنے ہی بھلے کے لیے کیا ‘ اور جس کسی نے برا کام کیا تو اس کا وبال بھی اسی پر ہوگا ‘ پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹا دیے جائو گے۔“
Read the full tafseer →20 یعنی اگر کوئی شخص اچھا کام کرتا ہے تو اس سے اللہ کی نہ کوئی ضرورت پوری ہوتی ہے اور نہ اسے کچھ فائدہ ہوتا ہے بلکہ اس کا فائدہ اچھا کام کرنے والے کی ذات ہی کو پہنچتا ہے اور وہ اس دنیا میں بھی پہنچتا ہے اور آخرت میں بھی پہنچے گا۔ یہ خطاب ربط مضمون کے لحاظ سے ان مسلمانوں سے ہے جو کفار مکہ کی سختیاں برداشت کر رہے تھے اور انہیں درگزر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اور برے کام کرنے والے یعنی اسلام کی راہ روکنے، مسلمانوں پر سختیاں کرنے اور مذاق اڑانے والے اللہ کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ اس کا وبال انہیں پر پڑے گا اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور آخرت میں جب تم سب کو اللہ تعالیٰ اپنے ہاں حاضر کرے گا تو…
Read the full tafseer →10۔ (وہاں مطیعون کو اپنی طاعتوں کا بدل بلکہ نعم البدل ملے گا اور سرکشوں کو اپنے کرتوتوں کا بدلہ، دنیا میں ان نافرمانوں سے درگزر ہی مناسب ہے) آیت کا مقصود اس انتقام سے روکنا ہے جس سے مقصود اپنے غیظ کی تسکین ہوتی ہے۔ باقی قتال جو اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے ہوتا ہے اس سے نفیا واثباتا آیت کو کوئی تعلق نہیں۔ (آیت) ” من عمل صالحا فلنفسہ “۔ یہ اس حقیقت کا اعلان ہے کہ جو کوئی بھی نیک عمل کرتا ہے اپنے ہی نفع کیلئے کرتا ہے کسی دوسرے پر احسان نہیں کرتا۔ جاہلی قومیں یہ سمجھتی تھیں کہ کسی دیوی دیوتا کی پوجا کرنا خود اس پر کرم کرنا اور اس کو زیر بار منت کرنا ہے۔ (آیت) ” ومن اسآء فعلیھا “۔ یہ اس حقیقت کا اظہار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
آیت نمبر 12 تا 21
ترجمہ : اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے دریا کو تابع کردیا کہ اس میں اس کے حکم اجازت سے کشتیاں چلیں اور تم تجارت کے ذریعہ اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ شکر بجالاؤ شمس و قمر ستارے اور پانی وغیرہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جانور اور درخت اور گھاس اور نہریں وغیرہ جو کچھ زمین میں ہے اس نے اپنی طرف سے سب کو تمہارے تابع کردیا یعنی مذکورہ چیزوں کو اس نے انسانوں کے نفع کے لئے پیدا فرمایا جمیعًا تاکید ہے، اور مِنْہُ حال ہے یعنی ان چیزوں کو تابع کردیا حال یہ ہے کہ یہ اس کی طرف سے ہے، بلاشبہ اس تابع کرنے میں ان لوگوں کے لئے جو ان میں غور (وفکر) کریں بہت سی نشانیاں ہیں کہ ایمان لے آئیں، آپ…
Read the full tafseer →من عمل صالحا فلنفسہ ومن اساء فعلیھا ثم الی ربکم ترجعون جو شخص نیک کام کرتا ہے ‘ سو اپنے ذاتی نفع کیلئے اور جو شخص برا کام کرتا ہے ‘ اس کا وبال اس پر ہی پڑتا ہے ‘ پھر تم کو اپنے پروردگار کے پاس لوٹ کر جانا ہے۔
یَغْفِرُوْا یعنی آپ مسلمانوں سے کہہ دیجئے : معاف کر دو ۔ اگر آپ ان کو معافی کا حکم دے دیں گے تو وہ معاف کردیں گے۔
لاَ یَرْجُوْنَ جو امید نہیں رکھتے اور خوف نہیں کرتے۔
اَیَّام اللّٰہِ یعنی ان واقعات سے جو اللہ نے اپنے دشمنوں کے ساتھ کئے ‘ مطلب یہ کہ ان اوقات کے آنے کی ان کو امید بھی نہیں جو اللہ نے مؤمنوں کی نصرت و کامیابی کیلئے مقرر کر رکھے ہیں۔
بغوی نے قرظی اور سدی کا قول نقل کیا ہے کہ…
Read the full tafseer →جو شخص خلوص ایمانی کے ساتھ نیک کام کرتا ہے اس کا ثواب اسی کو ملے گا اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرے تو اس کی سزا اسی کو بھگتنی پڑے گی پھر مرنے کے بعد تم سب کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ وہ تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ دے گا۔
Read the full tafseer →من عمل صالحاً فلنفسہ…: اس آیت کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة حم سجدہ کی آیت (46) کی تفسیر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
اس کے بارے میں وہ گفتگو گزر چکی ہے۔
کتاب سے مراد تورات ہے حکم سے مراد کتاب کا فہم ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے حکم سے مراد لوگوں پر حکم چلانا اور فیصلہ کرنا ہے : یعنی حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ تک انبیا ہیں۔
طیبات سے مراد غذائوں، پھلوں اور کھانوں میں سے حلال چزیں جو ملک شام میں تھیں ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد تیہ کے ریگستان میں من وسلویٰ ہے : یعنی ان کے زمانہ کے عالم، جس طرح اس کی وضاحت سورة دخان میں گزر چکی ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : سے مراد نبی کریم ﷺ کا امر اور آپ کی نبوت کے شواہد ہیں (1) کہ آپ تہامہ سے یثرب کی طرف ہجرت کریں گے اہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
1:۔ عبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قل للذین امنوا یغفروا “ (آپ ایمان والوں سے کہہ دیجئے کہ ان لوگوں سے درگزر کیا کریں) کے بارے میں روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ برابر درگزر کرنے کا حکم فرماتے تھے اور اس پر ابھارتے تھے اور اس کے بارے میں ترغیب دیتے تھے یہاں تک کہ حکم دیا گیا کہ اسے چھوڑدیں جو اللہ کے ایام کی امید نہیں رکھتا اور ذکر کیا گیا کہ یہ آیت منسوخ ہے اس کو اس آیت نے منسوخ کیا ہے جو سورة انفال میں ہے (آیت ) ” فاتثقفنہم فی الحرب “ (الایہ)
2:۔ ابن جریر (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے اس آیت (آیت ) ” قل للذین امنوا یغفروا “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے نبی…
Read the full tafseer →مَنْ عَمِلَ صَالِحًا [ جس نے عمل کیا کسی نیکی کا ] فَلِنَفْسِهٖ ۚ [ تو (وہ) اس کی اپنی جان کے لئے ہے ] وَمَنْ اَسَاۗءَ [ اور جس نے برا کیا ] فَعَلَيْهَا ۡ [ تو (وہ) اس پر (وبال ) ہے ] ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ [ پھر تمہارے رب کی طرف ہی ] تُرْجَعُوْنَ [ تم سب لوٹائے جاؤگے ]
Read the full tafseer →﴿مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ 1ۚ﴾ (جو شخص نیک عمل کرے سو وہ اسی کی جان کے لیے ہے) ﴿ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَيْهَاٞ ﴾ (اور جس نے برے کام کیے ان کا وبال اسی پر ہوگا) ﴿ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ 0015﴾ (پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے) اہل ایمان کو ایمان کا، اعمال صالحہ اور اخلاق حسنہ کا ثواب ملے گا اور ان کے مخالفین کافرین اور مشرکین اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے عذاب کے مستحق ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
دلائل قدرت وتکوینی انعامات خداوندی :
قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” اللہ الذی سخرلکم البحر ......... الی ....... ثم الی ربکم ترجعون “۔
(ربط) گزشتہ آیات حق تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں پر مشتمل تھیں جن سے پروردگار عالم کی الوہتی ووحدانیت کو ثابت کرتے ہوئے اعراض و انحراف کرنے والوں پر وعید تھی اب مزید چند دلائل کا ذکر کرتے ہوئے بعث بعد الموت اور قیامت کو ثابت فرمایا جارہا ہے۔ ارشاد خداوندی ہے۔
اللہ ہی ہے جس نے تمہارے بس میں کردیا ہے سمندر کو تاکہ چلیں اس میں جہاز اس کے حکم سے حالانکہ سمندر جیسی ہیبت ناک موجوں پر جہازوں اور کشتیوں کا چلنا مادی اسباب کے لحاظ سے متوقع نہ تھا اب بحری سفر انسان کررہا ہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
10:۔ ” قل للذین۔ الایۃ “ یہ تخویف دنیوی ہے۔ یغفروا ای یعفوا ویصفحوا (روح) ۔ لایرجون لا یاملون او لایخافون (قرطبی) ۔ او لایعتقدون (الشیخ قدس سرہ) ۔ ایام اللہ سے مجازا وقائع و حوادث مراد ہیں جو اللہ اپنے دشمنوں پر لاتا ہے (بحر) لیجزی کا متعلق محذوف ہے۔ لتاتین ایام اللہ (الشیخ (رح)) ۔ یا یہ یغفروا سے متعلق ہے۔ (روح) ۔ مطلب یہ ہے کہ ایمان والوں سے فرما دیں کہ وہ ان لوگوں سے نزاع وجدال نہ کریں بلکہ درگذر کریں جو دنیا میں اللہ کے عذاب کی توقع ہی نہیں رکھتے یا اس کے آنے پر ان کا ایمان ہی نہیں اللہ کا عذاب مختلف وقائع و حوادث کی شکل میں ضور آئے گا تاکہ ان منکرین کو ان کے کیے کی سزا دی جائے۔ یا مطلب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–17
ربطہ آیات
سورۃ الجاثیہ کی ابتدائی آیات میں قرآن کریم کی حقنیت و صداقت بیان ہوئی اور پھر اللہ نے توحید اور معاد کے مشترکہ دلائل ذکر کئے پھر نافرمانوں کا گمراہی پر اصرار کا ذکر ہوا۔ اور جزائے عمل کے طور پر انہیں جہنم کی وعید سنائی گئی۔ اللہ نے فرمایا کہ یہ لوگ اس دنیا میں جو کچھ کماتے رہے وہ قیامتو الے دن کچھ کام نہیں آئیگا اور نہ ہ یان کے خود ساختہ معبود کچھ کام آئیں گے جن کو یہ اپنا کار ساز اور حاجت روا سمجھتے رہے اور یہ لوگ عذاب عظیم میں مبتلا ہوں گے۔
اللہ نے دلائل توحید ہی کے ضمن میں فرمایا ہے اللہ الذی سخرلہ البحر اللہ تعالیٰ کی ذات و ہ ہے جس نے تمہارے لئے سمندروں کو مسخر کردیا ہے۔ تسخیر…
Read the full tafseer →مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِہٖ 0 ۚ وَمَنْ اَسَاۗءَ فَعَلَيْہَا 0 ۡثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ 15
عمل
العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل «6» ، لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ
[ البقرة/ 277]
( ع م ل ) العمل
ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
ترکیب : جمیعا حال من مافی السماوات الخ و تاکید لہ ومنہ متعلق بمحذوف ای کائنامنہ اوبسخر اوحال من مافی السماوات اوخبر لمبتدء محذوف لتجری اللام متعلقہ بیغفروا و قریٔ لنجزی بالنون۔
تفسیر … دریا کا مسخر ہونا : پھر مسئلہ توحید پر دلائل بیان کرتا ہے اور عرب کے روزمرہ کی بات میں اپنی قدرت کا نمونہ دکھاتا ہے تاکہ وہ خدا تعالیٰ پر ایمان لاویں فقال اللہ الذی سخر لکم البحر کہ اللہ وہ ہے کہ جس نے تمہارے لیے دریا کو بس میں کردیا کہ اس میں کشتیاں چلتی ہیں اور روزی تلاش کرتے ہیں تاکہ تم شکر کرو۔ یہ بڑی عبرت کی بات ہے دریا میں کہ سوائے پانی کے اور کچھ نظر نہیں آتا ہے ہوائوں کے ذریعہ سے لاکھوں من بوجھ لے کر…
Read the full tafseer →مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِہٖ ج وَمَنْ اَسَآئَ فَعَلَیْھَا ز ثُمَّ اِلٰی رَبِّـکُمْ تُرْجَعُوْنَ ۔ (الجاثیۃ : 15)
(جو کوئی نیک عمل کرے گا تو اس کا فائدہ اسی کے لیے ہے، اور جو برائی کرے گا اس کا وبال اسی پر پڑے گا، پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ )
ایک اصولی بات
مضمون کو سمیٹتے ہوئے آخر میں ایک اصولی بات ارشاد فرمائی گئی ہے اور یہ بات ایسی ہے کہ جو آدمی دنیا میں اخلاق کی حقیقت پر غور کرتا ہے وہ کبھی اس کا انکار نہیں کرسکتا۔ قطع نظر اس سے کہ وہ آخرت کو تسلیم کرتا ہے یا نہیں کرتا۔ وہ اصولی بات یہ ہے کہ دنیا میں ہر شخص دو ہی طرح کے کام کرتا ہے بھلائی یا برائی، خیریا شر۔ اور ظاہر ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
فہم القرآن
ربط کلام : جو شخص اپنے رب کی قدرتوں پر غوروفکر اور اس کی نعمتوں کا شکرادا کرتا ہے وہ ہر صورت اپنے رب پر ایمان لاتا ہے۔ ایمان لانے والوں کو خصوصی ہدایت کی گئی ہے۔
ایمان کی ابتدا ” لا الٰہ الا اللہ “ سے ہوتی ہے جس کا معنٰی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہی ضرورتیں پوری کرنے اور بگڑی بنانے والا ہے ہے۔ اس بات کا اقرار کرنے سے پہلے ہر معبود کی نفی کرنا فرض ہے۔ جو شخص اللہ کے سوا دوسرے معبودوں کی نفی نہیں کرتا اللہ تعالیٰ اس کا کلمہ قبول نہیں کرتا۔ کلمہ طیبہ میں پہلے معبودان باطلہ کی نفی ہے۔ ظاہر بات ہے کہ جب ایماندار اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کی نفی کرتا ہے تو کافر اور مشرک…
Read the full tafseer →آیت 15 : مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِہٖ وَمَنْ اَسَآئَ فَعَلَیْہَا (جو شخص نیک کام کرتا ہے وہ اپنے ذاتی نفع کے لئے کرتا ہے اور جو شخص برا کام کرتا ہے تو اس کا و بال اسی پر پڑتا ہے) ۔ نیک کام والے کو اپنا ثواب ملے گا اور برے کام والے کو اپنا عذاب ہوگا۔ ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمْ تُرْجَعُوْنَ (پھر تم اپنے رب کی بارگاہ میں لوٹائے جائو گے) الی ربکم سے اپنے رب کی جزاء کی طرف
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
14، ، قل للذین امنوایغفرواللذین لایرجعون ایام اللہ، یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نہیں ڈرتے اور اس کی سزا کی پرواہ نہیں کرتے ۔ ابن عباس ؓ اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ یہ عمر بن خطاب ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ بنی غفار کے ایک شخص نے مکہ میں آپ ؓ کو گالیاں دیں تو حضرت عمرؓ نے اس کو پکڑنے کا ارادہ کیا توا للہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور ان کو حکم دیا کہ اس کو معاف کردے اور قرظی اور سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ اہل مکہ سے رسول اللہ ﷺ کے چندساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے، یہ لوگ قتال کے حکم سے پہلے مشرکین کی طرف سے سخت تکلیفوں میں تھے تو انہوں نے اس بات کی شکایت رسول اللہ ﷺ کو کی تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–15
3۔ 15۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی چند نشانیوں کا ذکر فرمایا ہے مثلاً آسمان و زمین کا پیدا کرنا ‘ آسمان میں فرشتوں اور سورج و چاند ستاروں کا پیدا کرنا زمین میں انسان جن چرند پرند طرح طرح کے جانوروں کا جنگل اور دریا میں پیدا کرنا دریا اور ندیوں کا جاری کرنا اور ان میں کشتیوں کا چلانا دنیا کے کاروبار کے لئے دن اور سورج کی روشنی کو پیدا کرنا اور کاروبار کی محنت سے جو آدمی تھک جاتا ہے اس تھکان کے رفع کرنے کیلئے رات اور رات کی نیند کو پیدا کرنا آسمان سے مینہ کا برسانا جس سے ہر طرح کے اناج ہر طرح کے میووں ہر طرح کی ترکاریوں کا زمین میں پیدا ہونا ہر طرح کی ہوا کا چلانا جس کی تاثیر سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
آیت 14 ۔ 15
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ حسن اخلاق سے کام لیں اور ان مشرکین کی ایذا رسانی پر صبر کریں جو ایام الٰہی کی امید نہیں رکھتے، یعنی جو اللہ تعالیٰ کے ثواب کے امیدوار ہیں نہ گناہگاروں کے بارے میں سنت الٰہی سے خائف ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر قوم کو اس کی کمائی کا بدلہ دیتا ہے، پس اے مومنوں کے گروہ ! اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان، تمہارے درگزر اور تمہارے صبر کی جزا کے طور پر تمہیں ثواب جزیل سے بہرہ مند کرے گا۔
اگر کفار و مشرکین اپنی تکذیب پر جمے رہے تو تم پر پر وہ رسوا کن سخت عذاب نازل نہیں ہوگا جو ان پر نازل ہوگا۔ بنا بریں فرمایا : (من عمل صالحاً فلنفسہ ومن اسآء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–22
مشرکین سے کیسا برتائو کیا جائے
ہمیں عبداللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن نے، انہیں عبدالرزاق نے، انہیں معمر نے قتادہ سے قول باری (قل للذین امنوا یغفروا للذین لا یرجون ایام اللہ، جو لوگ ایمان لے آئے ہیں آپ ان سے کہہ دیجئے کہ وہ ان لوگوں سے درگزر کریں جو اللہ کے معاملات کا یقین نہیں رکھتے) کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ اسے قول باری (فاقتلوا المشرکین حیث وجد تموھم مشرکین کو قتل کرو انہیں جہاں بھی پائو) نے منسوخ کردیا ہے۔
Read the full tafseer →24 اچھے عمل کا صلہ و بدلہ خود کرنے والے کو : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو کوئی اچھا عمل کرے گا تو وہ خود اپنے ہی لیے کرے گا "۔ کہ اس کا اجر و صلہ خود اسی کو ملے گا۔ سو اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو کوئی اپنے کسی نفلی عمل کا ثواب کسی دوسرے کو بخشے گا تو اس کا اجر وثواب اس بخشنے والے کو خود بھی ملے گا۔ کیونکہ یہ عمل تو اسی کا ہے۔ بہرکیف نیکی کا بدلہ خود نیکی کرنے والے ہی کو ملے گا۔ دنیا کی اس عارضی زندگی میں بھی مختلف قسم کی خیرات اور برکات کی صورت میں اور آخرت کی اس حقیقی اور ابدی زندگی میں بھی جنت کی نعیم مقیم کی شکل میں۔ پس ضرورت اس امر کی ہے کہ کسب خیرات کے سلسلے میں جتنا ہوسکے آگے بڑھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–20
مومنین کو صبر کی تلقین
تشریح : ان آیات میں انسانی کردار و اخلاق کی بہتری کے کچھ اصول مثالوں کے ساتھ بتائے گئے ہیں۔ سب سے پہلے تو صبر و سکون کی ہدایت کی گئی ہے۔ جب انسان مد مقابل میں کمزور ہو تو اس کو صبر سے کام لینا چاہیے کیونکہ ایسے حالات میں صبر ہی سب سے بڑا ہتھیار ہے جیسا کہ ہجرت سے پہلے مکہ کے مسلمان ہر لحاظ سے کمزور تھے تو ہدایت کی گئی کہ منکرین کی سختیوں بد تمیزیوں اور بحث و مباحثہ کی پرواہ کئے بغیر اپنے کاموں میں مشغول رہو اور پوری نیک نیتی سے تبلیغ دین میں لگے رہو اور وحی کے احکامات پر پوری طرح عمل کرتے رہو اللہ تمہاری ضرور مدد کرے گا اور پھر ایسے ہی ہوا ہجرت کے بعد مسلمان جب مضبوط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
آیات 12 تا 21۔
اسرار ومعارف۔
اللہ تو وہ کریم ذات ہے سمندروں اور پانیوں کو بھی تمہارے لیے مسخر کردیا کہ تم ان میں جہاز رانی کروسمندری مع دنیات اور رزق کے ذرائع تلاش کرو تجارت کے راستے کے طور پر استعمال کروغرض سمندری اور آبی وسائل بھی تمہاری خدمت میں لگادیے کہ تم اللہ کا شکر ادا کرو نیز آسمانی اور زمینی ہر شے کو تمہاری خدمت پر لگادیا ہے کہ سورج چاند ہوابادل ستارے ہوں یاسیارے سب کے سب کی توجہ کامرکز زمین ہے ان کی حرکات واثرات سے زمین پر تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں اور یہ سب تبدیلیاں بالآخر بنی آدم کے کام آتی ہیں اگر کوئی ان سب باتوں پہ غور کرے تو سب کی سب عظمت الٰہی پر اور اس کے احسانات پر دلالت کرتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
ف 1 حکمت سے مراد کتاب کا علم و فہم اور دین کی سمجھ ہے اور حکومت سے مراد لوگوں کے درمیان کتاب کے مطابق عدل و انصاف سے فیصلے کرنے کی صلاحیت …دینے سے مراد ان کے درمیان بہت سے پیغمبر بھیجتا۔ (فتح)
2 ” اپنے زمانے میں “ کی شرط اس لئے ضروری ہے کہ مطلق طور پر سب سے زیادہ فضیلت (بزرگی) والی امت امت مسلمہ ہے۔ جیسا کہ فرمایا :” کنتم خیر امۃ اخرجت للناس “ تم سب سے بہتر امت ہو جو لوگوں کی ہدایت کے لئے پیدا کی گئی ہو (آل عمران 110)
Read the full tafseer →(45:15) اسائ۔ ماضی واھد مذکر غائب ۔ اساء ۃ (افعال) مصدر سوء مادہ۔ کام خراب کرنا۔ بگاڑنا۔ برا کام انجام دینا۔ برا کرنا۔ برائی کرنا۔ (جس نے) برا کام کیا۔ یہ آیت، سابقہ آیت لیجزی قوما بما کانوا یکسبون کی تفسیر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
لغات القرآن آیت نمبر 12 تا 15 : تبتغوا ( تم ڈھونڈتے ہو) یرجون ( تم امید رکھتے ہو) اسائ ( اس نے برا کیا)
تشریح : آیت نمبر 16 تا 15 : یہ اللہ تعالیٰ کا کتنا بڑا کرم ہے کہ اس نے انسان کو بیشمار نعمتوں سے نوازرکھا ہے سمندر اور دریا جو بےانتہاء طاقت ور ہیں اور کائنات کی وہ لا تعداد چیزیں جن کے سامنے انسان کی کوئی حیثیت نہیں ہے ان کو انسانوں کی خدمت میں لگا رکھا ہے۔ آدمی جس طرح چاہتا ہے ان چیزوں کو استعمال کرتا ہے۔
اللہ نے اپنی نعمتوں کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا کہ سمندر جیسی عظیم قوت کو انسان کے تابع اور مسخر کردیا ہے جس میں جہازوں اور کشتیوں کے ذریعہ گہرے پانیوں تک پہنچنا ممکن ہوتا ہے۔ آدمی ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
عجائبات قدرت۔
(ف 1) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی چند نشانیاں کا ذکر فرمایا ہے ، مثلا آسمان و زمین کا پیدا کرنا، آسمان میں فرشتوں اور سورج و چاند ستاروں کا پیدا کرنا، زمین میں انسان جن، چرند، پرند، طرح طرح کے جانوروں کا جنگل اور دریا میں پیدا کرنا اور ندیوں کا جاری کرنا اور ان میں کشتیوں کا چلانا، دنیا کے کاروبار کے لی دن اور سورج کی روشنی کو پیدا کرنا اور کاروبار کی محنت سے جو آدمی تھک جاتا ہے اس تھکان کے رفع کرنے کے لیے رات اور رات کی نیند کو پیدا کرنا، آسمان سے مینہ کا برسانا، جس سے ہر طرح کے اناج، ہر طرح کے میوؤں ، ہر طرح کی ترکاریوں کا زمین میں پیدا ہونا، ہر طرح کی ہوا کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
[4] اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے عدل و انتقام کے وہ تاریخی دن ہیں جن میں اس نے رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ قرآن میں جن قوموں کی تاریخ بیان ہوئی ہے اس میں ان ایام کا ذکر گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →ف 2: مخالفین میں کچھ ایسے ذلیل لوگ تھے ۔ جن میں یہ جرات تو نہ تھی ۔ کہ اسلام کے بڑھتے ہوئے سیلاب کو روک دیں ۔ مگر محض تسکین نفس کے لئے وہ مسلمانوں کو گالیاں دے کر دل کے پھپھولے پھوڑ لیتے ۔ اس آیت میں مسلمانوں کو ان کے بلند اخلاق کے نام پر کہا ہے ۔ کہ وہ ان حقیر اور مذبوحی حرکات کو بالکل ناقابل اعتناء سمجھیں ۔ اور قطعاً ان سے تعرض نہ کریں ۔
حل لغات :۔ من فضلہ ۔ مال و دولت کو اس سے تعبیر کیا ہے تاکہ مسلمان ازراہ رہبانیت اس کے حصول میں کوتاہی نہ کریں ایام اللہ ۔ خدا کے وہ دن جن میں وہ مجرموں کو سزا دیتا ہے ۔
Read the full tafseer →(15) جو شخص نیک عمل کرتا ہے تو اپنے ہی بھلے کو کرتا ہے اور جو شخص برا کرتا ہے تو اس برائی کا وبال اسی پر پڑتا ہے پھر تم سب اپنے پروردگار ہی کی طرف لوٹائے جائو گے۔ اور تمہاری بازگشت تمہارے پروردگار ہی کی جانب ہوگی وہاں ظالموں کو ان کے ظلم کا بدلا دیا جائے گا اور صبر کرنے والے اور درگزر کرنے والے مظلوم اپنا صلہ پائیں گے آگے نبوت کا مسئلہ مذکور ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
ف 3۔ پس وہاں تم کو اخلاق و اعمال حسنہ کا نعم البدل اور ان تمہارے مخالفین کو ان کفر و معاصی پر بئس العوض دیا جاوے گا سو تم کو یہاں درگزر ہی مناسب ہے۔ (فائدہ) اور اس سے جہاد کی نفی نہیں ہوتی کیونکہ یہاں اس انتقام سے روکا ہے جس سے اصل مقصود اعلاء کلمة اللہ نہ ہو، بلکہ محض تسکین غیظ ہو، اور جہاد میں اصل مقصود اعلاء کلمة اللہ ہے، گو طبعا تسکین غضب بھی ہوجائے۔
Read the full tafseer →نیک عمل کرنے والوں کا اپنا فائدہ اور بداعمال لوگوں کا اپنا نقصان ہے
51 ؎ ہر طرح کے عمل کے ساتھ اس کا نیجہ لازم کردیا گیا ہے اگر عمل اچھا ہوگا تو یقینا اس کا نتیجہ بھی اچھا ہی نکلے گا اور اگر عمل برا ہوا تو یقینا اس کا نتیجہ بھی برا ہی ہوگا اور اس طرح ہر عمل کرنے والے کو اس کے نتیجہ سے دوچار ہونا ہے ایسا نہیں ہوسکتا کہ عمل تو الف کرے اور اس کا نتیجہ ب کے ذمہ لازم کردیا جائے یہ اندھیر نگری اللہ تعالیٰ کے قانون میں نہیں ہے اس لیے ہر عمل کرنے والے کو اپنے عمل کی طرف دھیان دینا ہوگا کیونکہ وہی اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے اور اچھے برے کی پہچان بھی ان کو کرادی گئی ہے۔ قانون الٰہی ییع ہے کہ (لیروا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
قُل لِّلَّذِينَ آمَنُوا يَغْفِرُوا لِلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ أَيَّامَ اللَّـهِ ("Tell those who believe that they should forgive those who do not believe in Allah's days ...14) ". There are two narrations recorded relating to its cause of revelation. According to one narration, a pagan in Makkah reviled Sayyidna ` Umar ؓ and the latter intended to retaliate, but this verse came down and asked the believers to forgive the unbelievers and endure their harm that they direct against them. According to this incident the verse is Makki. Another narration reports that on the occasion of the battle…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
18 Literally: `Who do not except the days of Allah." But in Arabic usage on such occasions ayyam does not merely mean days but those memorable days in which important historical events may have taken place. For example, the word ayyam-ul 'Arab is used for the important events of the history of the Arabs and the major battles of the Arab tribes, which the later generations remember for centuries. Here, ayyam-AIlah implies the evil days of a nation when the wrath of Allah may descend on it and ruin it in consequence of its misdeeds. That is who we have translated it: "Those who do not fear the…
Read the full tafseer →