Explained with ayahs 12–15
اللہ تعالیٰ کے ابن آدم پر احسانات
اللہ تعالیٰ اپنی نعمتیں بیان فرما رہا ہے کہ اسی کے حکم سے سمندر میں اپنی مرضی کے مطابق سفر طے کرتے ہوئے بڑی بڑی کشتیاں مال اور سواریوں سے لدی ہوئی ادھر سے ادھر لے جاتے ہو تجارتیں اور کمائی کرتے ہو۔ یہ اس لئے بھی ہے کہ تم اللہ کا شکر بجا لاؤ نفع حاصل کر کے رب کا احسان مانو پھر اس نے آسمان کی چیز جیسے سورج چاند ستارے اور زمین کی چیز جیسے پہاڑ نہریں اور تمہارے فائدے کی بیشمار چیزیں تمہارے لئے مسخر کردی، یہ سب اس کا فضل و احسان انعام و اکرام ہے اور اسی ایک کی طرف سے ہے، جیسے ارشاد ہے آیت (وَمَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ…
Read the full tafseer →سورة الْجَاثِیَة 15
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، ابراہیم، حاشیہ 44، جلد چہارم، لقمان، حاشیہ 35۔
سورة الْجَاثِیَة 16
اس فقرے کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ کا یہ عطیہ دنیا کے بادشاہوں کا سا عطیہ نہیں ہے جو رعیت سے حاصل کیا ہوا مال رعیت ہی میں سے کچھ لوگوں کو بخش دیتے ہیں، بلکہ کائنات کی ساری نعمتیں اللہ کی اپنی پیدا کردہ ہیں اور اس نے اپنی طرف سے یہ انسان کو عطا فرمائی ہیں۔ دوسرے یہ کہ نہ ان کی نعمتوں کے پیدا کرنے میں کوئی اللہ کا شریک، نہ انہیں انسان کے لیے مسخر کرنے میں کسی اور ہستی کا کوئی دخل، تنہا اللہ ہی ان کا خالق بھی ہے اور اسی نے اپنی طرف سے وہ انسان کو عطا کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
خلاصہ تفسیر
اللہ ہی ہے جس نے تمہارے (فائدہ کے) لئے دریا کو مسخر (قدرت) بنایا تاکہ اس کے حکمل سے اس میں کشتیاں چلیں اور تاکہ (ان کشتیوں میں سفر کر کے) تم اس کی روزی تلاش کرو اور تاکہ (وہ روزی حاصل کر کے) تم شکر کرو اور (اسی طرح) جتنی چیزیں آسمانوں میں ہیں اور جتنی چیزیں زمین میں ہیں، ان سب کو اپنی طرف سے (یعنی اپنے حکم اور فضل سے) مسخر (قدرت) بنایا (تاکہ تمہارے منافع کا سبب ہو) بیشک ان باتوں میں ان لوگوں کے لئے دلائل (قدرت) ہیں جو غور کرتے رہتے ہیں (اور کفار کی شرارتوں پر بعض اوقات مسلمانوں کو غصہ آ جایا کرتا تھا، آگے ان کو درگزر کرنے کا حکم ہے) آپ ایمان والوں سے فرما دیجئے کہ ان لوگوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
اللہ الذی سخر لکم البحر لتجری انفلک فیہ بامرہ ولتبتغوا من فضلہ ولعلکم تشکرون، وسخرلکم ما فی السموت وما فی الارض جمیعاً منہ ط ان فی ذلک لایت لقوم یتفکرون (13-12)
دلائل کا سلسلہ بیان
اوپر کی چار آیتیں توحید اور معاد کے دلائل کے بیچ میں بطور تنبیہ و تذکیر آگئی تھیں تاکہ قریش کے لیڈروں کو برسر موقع تنبیہ ہوجائے اور آنحضرت ﷺ کو تسلی دے دی جائے، اب اس آیت میں اصل سسلہ کلام کو پھر لے لیا۔ فرمایا کہ اللہ ہی ہے جس نے سمندر کو اس طرح تمہاری خدمت میں لگا رکا ہے کہ وہ اپنے سینہ پر تمہاری کشتویں کو چلاتا ہے۔ بامرہ یعنی یہ بات خاص خدا کے حکم سے ہوتی ہے۔ اگر خدا کا حکم نہ ہوتا تو دیکھتے ہو کہ کشتی سے کہیں…
Read the full tafseer →13۔ 1 مطیع کرنے کا مطلب یہی ہے کہ ان کو تمہاری خدمت پر مامور کردیا ہے، تمہارے منافع اور تمہاری معاش سب انہی سے وابستہ ہے، جیسے چاند، سورج ستارے، بارش، بادل اور ہوائیں وغیرہ ہیں۔ اور اپنی طرف سے کا مطلب، اپنی رحمت اور فضل خاص سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
1: جیسا کہ پہلے کئی بار عرض کیا گیا، اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرنا قرآن کریم کی اصطلاح میں روزی تلاش کرنے کو کہا جاتا ہے۔ یہاں سمندری تجارت مراد ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
آیت نمبر 12 تا 13
اللہ کی یہ چھوٹی سی مخلوق انسان پر اللہ کے بڑے کرم ہیں کہ اس نے اس کے لئے اس کائنات کی عظیم مخلوقات کو مسخر کردیا ہے۔ اور ان مخلوقات سے یہ مختلف طریقوں سے فائدہ اٹھا تا ہے اور اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے اسے یہ سمجھایا ہے کہ اس کائنات کا قانون فطرت کیا ہے ؟ جس کے مطابق یہ کائنات چلتی ہے اور اس کے خلاف نہیں جاسکتی۔ اگر اللہ کی جانب سے انسان کو اس قدر علمی صلاحیت نہ دی گئی ہوتی تو اس کے لئے ممکن نہ تھا کہ وہ ان کائناتی قوتوں کو اس طرح مسخر کر کے ان سے اس طرح استفادہ کرتا بلکہ اس کے لئے ان قوتوں کے اندر زندہ رہنا بھی مشکل ہوجاتا کیونکہ انسان ایک چھوٹا سا کیڑا ہے اور فطرت کی قوتیں…
Read the full tafseer →9 یعنی اپنے حکم اور قدرت سے سب کو تمہارے کام میں لگا دیا۔ یہ اسی کی مہربانی ہے کہ ایسی ایسی عظیم الشان مخلوقات انسان کی خدمت گزاری میں لگی ہوئی ہیں۔
10 آدمی دھیان کرے تو سمجھ سکتا ہے کہ یہ چیز اس کے بس کی نہ تھی محض اللہ کے فضل اور اس کی قدرت کاملہ سے یہ اشیاء ہمارے کام میں لگی ہوئی ہیں۔ تو لامحالہ ہم کو بھی کسی کے کام میں لگنا چاہیے وہ کام یہ ہی ہے کہ اس منعم حقیقی اور محسن علی الاطلاق کی فرمانبرداری اور اطاعت گزاری میں اپنی حیات مستعار کے لمحات صرف کردیں تاکہ آئندہ چل کر ہمارا انجام درست ہو۔
Read the full tafseer →آیت 13 { وَسَخَّرَ لَکُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْہُ } ”اور اس نے مسخر کردیا تمہارے لیے اپنی طرف سے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب کچھ۔“
{ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ } ”یقینا اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر سے کام لیں۔“
اس مفہوم کی تمام آیات قرآنی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ان میں بنی نوع انسان کے لیے دعوت تسخیر ہے کہ اللہ نے تو زمین و آسمان کی ہر ہرچیز کو تمہارے لیے مسخر کردیا ہے ‘ اب یہ تمہاری ہمت پر منحصر ہے کہ تم اپنے علم اور ٹیکنالوجی کے َبل بوتے پر کس کس مقام اور کون کون سی چیز تک رسائی حاصل کرتے ہو۔…
Read the full tafseer →17 تمام اشیائے کائنات سے انسان کا استفادہ :۔ یعنی کائنات کی تمام چیزیں انسان کے زندہ رہنے کے لیے ضروری ہیں اور ہر چیز کا انسان کو کچھ نہ کچھ فائدہ پہنچ رہا ہے۔ مثلاً پانی، ہوا، زمین کی پیداوار اور اس میں مدفون خزانے، سمندر، پہاڑ، سورج، چاند، ستارے غرض ہر چیز انسان کے فائدے کے لیے پیدا کی گئی ہے۔ ان کا اپنا کچھ بھی فائدہ نہیں ہے۔ اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ اگر چیزوں میں سے ایک بھی نہ ہو تو انسان زندہ نہیں رہ سکتا یا اس کی زندگی مشکلات میں پڑجاتی ہے اور وہ کئی طرح کے فوائد سے محروم ہوجاتا ہے۔ پھر انسان میں یہ صلاحیت بھی رکھ دی گئی ہے کہ وہ اشیائے کائنات کے خواص معلوم کرکے نئے سے نئے فوائد حاصل…
Read the full tafseer →8۔ غوروفکر کی قوتیں بھی اللہ کی دی ہوئی ہیں، اور ان سے اگر صحیح طور پر کام لیاجائے، تو ہدایت ومعرفت ہی کی راہیں کھلتی رہیں گی، اصطلاحی فلسفہ قدیم یونان کا ہو یا یورپ کا وہ عقل و استدلال کے استعمال کا نہیں، سوء استعمال کانمونہ ہے۔ اور غور وفکر کو ایک مسخ کردیا کہ سورج، چاند ستارے، ہوا، خشکی، تری، کی جتنی بھی قوتیں ہیں۔ انسان ان سب کو اپنے کائناتی تصرف میں لائے گا اور جوں جوں قوانیں فطرت کا زیادہ راز دار ہوتا جائے گا، منشاء فطرت اور زیادہ پورا ہوتا جائے گا ، (آیت) ” منہ “۔ اس تصریح نے اسے صاف کردیا کہ یہ تسخیر فطرت کی بھی ساری نعمت تمامتر اللہ ہی کی دی ہوئی ہے، کوئی دیوی دیوتا اس میں شریک نہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
آیت نمبر 12 تا 21
ترجمہ : اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے دریا کو تابع کردیا کہ اس میں اس کے حکم اجازت سے کشتیاں چلیں اور تم تجارت کے ذریعہ اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ شکر بجالاؤ شمس و قمر ستارے اور پانی وغیرہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جانور اور درخت اور گھاس اور نہریں وغیرہ جو کچھ زمین میں ہے اس نے اپنی طرف سے سب کو تمہارے تابع کردیا یعنی مذکورہ چیزوں کو اس نے انسانوں کے نفع کے لئے پیدا فرمایا جمیعًا تاکید ہے، اور مِنْہُ حال ہے یعنی ان چیزوں کو تابع کردیا حال یہ ہے کہ یہ اس کی طرف سے ہے، بلاشبہ اس تابع کرنے میں ان لوگوں کے لئے جو ان میں غور (وفکر) کریں بہت سی نشانیاں ہیں کہ ایمان لے آئیں، آپ…
Read the full tafseer →وسخرلکم ما فی السموت وما فی الارض جمیعا منہ ان فی ذلک لایت لقوم یتفکرون اور (اسی طرح) جتنی چیزیں آسمانوں میں ہیں اور جتنی چیزیں زمین میں ہیں ‘ ان سب کو اپنی طرف سے تمہارا مسخر بنایا ہے۔ بیشک ان چیزوں میں ان لوگوں کیلئے دلائل ہیں جو غور کرتے ہیں۔
سَخَّرَ یعنی سمندر کی سطح چکنی ہموار بنائی۔ تختہ ‘ لکڑی وغیرہ اسکے اندر گھس جائے تو پھر ابھر کر تیرے لگتی ہے اور اسکے اندر غوطہ لگایا جاسکتا ہے۔
بِاَمْرِہٖ اپنے حکم سے ‘ یعنی اپنے تسخیری حکم سے۔
مِنْ فَضْلِہٖ یعنی تجارت۔ غوطہ زنی اور شکار کے ذریعہ سے خداداد رزق تم طلب کرو۔
مَا فِی السَّمٰوٰتِ یعنی چاند ‘ سورج ‘ ستاے ‘ پانی ‘ برف وغیرہ۔
مَا فِی…
Read the full tafseer →اور تمہارے نفع کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے چاند سورج بادل درخت جانور پہاڑ اور سمندروں کو مسخر کیا ان مذکورہ چیزوں میں ان لوگوں کے لیے جو کہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی چیزوں میں غوروفکر کرتے ہیں دلائل قدرت اور عبرتیں ہیں۔
Read the full tafseer →(1) وسخرلکم ما فی السموت وما فی الارض جمیعاً منہ : پچھلی آیت اور اس آیت میں ”شخرلکم“ کا ”لام“ انتفاع کے لئے ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے سمندر کو اور آسمان و زمین میں موجود ہر چیز کو تمہارے فائدے کے لئے مسخر اور اپنا تابع فرمان بنادیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس نے یہ سب کچھ تمہارے تابع فرمان بنادیا ہے۔ آسمان و زمین، سورج چاند اور سمندر تو بہت دور کی بات ہے انسان کا اپنا سانس اور دل کی دھڑکن اس کے اپنے تابع فرمان نہیں، پھر اس کا تسخیر کائنات کا دعویٰ دیوانے کی بڑ کے سوا کیا ہوسکتا ہے۔ لفظ ”جمیعا منہ“ اس بات کی تصریح کے لئے ہے کہ ان تمام چیزوں کو تمہارے فائدے کے لئے کام میں لگا دینا صرف اس کا کام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
اللہ تعالیٰ نے اپنی کمال قدرت اور اپنے بندوں پر تمام نعمتوں کا ذکر کیا اور اس امر کی وضاحت کی کہ جو کچھ پیدا کیا وہ لوگوں کے منافع کے لئے پیدا کیا۔
یعنی یہ اللہ تعالیٰ کا فعل، اس کی تخلیق اس کا احسان اور انعام ہے۔ حضرت ابن عباس، حجدری اور دوسرے علماء نے پڑھا ہے یعنی میم مسکور، نون مشدد اور ھاء پر تنوین ہے۔ یہ مفعول مطلق کے طریقہ پر منصوب ہے ابو عمرو نے کہا : میں نے مسلمہ سے اس طرح سنا کہ انہوں نے اسے منہ پڑھا، یعنی فضل وکرم کے طریقہ پر۔
مسلم بن محارب نے اسے پڑھا ہے کہ من کا لفظ ھاء کنایہ کی طرف منسوب ہے۔ ابو حاتم کے نزدیک یہ مبتدا مخدوف کی خبر ہے یعنی ذلک و ھونہ جماعت کی قرأت ظاہر ہے۔
Read the full tafseer →1:۔ ابن المنذر (رح) نے عکرمہ ؓ کے طریق سے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ نے چار آیتوں کی تفسیر نہیں کی اللہ تعالیٰ کا قول ہے (آیت ) ” وسخرلکم مافی السموت وما فی الارض جمیعا منہ “ (اور جتنی چیزیں آسمان میں ہوں گی اور جتنی چیزیں زمین میں ہیں ان سب کو اپنی طرف سے تمہارا تابع بنایا ہے) یعنی ان میں تعظیما الرقیم اور الغسلین کا ذکر ہے۔
2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ نے اس آیت کی تفسیر نہیں کی مگر قاری کی خوش بیانی وہ (آیت) ہے ” وسخرلکم مافی السموت وما فی الارض جمیعا منہ “
3:۔ عبدالرزاق (رح) والفریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابوالشیخ نے العظمہ میں عکرمہ ؓ کے طریق سے…
Read the full tafseer →وَسَخَّرَ لَكُمْ [ اور اس نے مطیع کیا تمہارے لئے ] مَّا فِي السَّمٰوٰتِ [ اس کو جو آسمانوں میں ہے ] وَمَا فِي الْاَرْضِ [ اور اس کو جو زمین میں ہے ] جَمِيْعًا [ سب کے سب کو ] مِّنْهُ ۭ [ اپنے ( فضل) سے ] اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ [ بیشک اس میں ] لَاٰيٰتٍ [ یقینا نشانیاں ہیں ] لِّقَوْمٍ [ ایسے لوگوں کیلئے ] يَّتَفَكَّرُوْنَ [ جو سوچ بچار کرتے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
تسخیر بحر اور تسخیر ما فی السمٰوٰت والارض میں فکر کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں
ان آیات میں اللہ تعالیٰ کے انعامات اور دلائل توحید بیان فرمائے ہیں۔
اولاً : سمندر کا تذکرہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر کو تمہارے لیے مسخر فرما دیا یعنی تمہاری ضرورتوں میں کام آنے والا بنا دیا اس تسخیر کا نتیجہ یہ ہے کہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلتی ہیں ان کشتیوں میں سفر کرتے ہو اور ایک جگہ سے دوسری جگہ سامان بھی لے جاتے ہو اور اللہ کا فضل بھی تلاش کرتے ہو تجارت کے ذریعے فائدہ اٹھاتے ہو سمندر میں غوطے مارتے ہو موتی نکالتے ہو شکار پکڑتے ہو یہ سب اللہ کا فضل ہے تمہیں چاہیے کہ اللہ کا شکر ادا کرو، ثانیاً یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
دلائل قدرت وتکوینی انعامات خداوندی :
قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” اللہ الذی سخرلکم البحر ......... الی ....... ثم الی ربکم ترجعون “۔
(ربط) گزشتہ آیات حق تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں پر مشتمل تھیں جن سے پروردگار عالم کی الوہتی ووحدانیت کو ثابت کرتے ہوئے اعراض و انحراف کرنے والوں پر وعید تھی اب مزید چند دلائل کا ذکر کرتے ہوئے بعث بعد الموت اور قیامت کو ثابت فرمایا جارہا ہے۔ ارشاد خداوندی ہے۔
اللہ ہی ہے جس نے تمہارے بس میں کردیا ہے سمندر کو تاکہ چلیں اس میں جہاز اس کے حکم سے حالانکہ سمندر جیسی ہیبت ناک موجوں پر جہازوں اور کشتیوں کا چلنا مادی اسباب کے لحاظ سے متوقع نہ تھا اب بحری سفر انسان کررہا ہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
9:۔ ” اللہ الذی سخر “ تا ” لقوم یتفکرون “ یہ توحید پر دوسری عقلی دلیل ہے بطور ترقی۔ پہلی دلیل میں عجائب قدرت اور غرائب فطرت کا ذکر تھا اب اس سے اگلا درجہ ذکر فرمایا کہ اس نے ساری کائنات کیا علوی کیا سفلی پیدا فرما کر اپنے حکم و اختیار سے تمہارے کام میں لگا رکھی ہے دریاؤ اور سمندروں کو اس نے اپنے حکم سے تمہارے کام میں لگا رکھا ہے کہ اس میں کشتیاں چلتی ہیں تاکہ اپنا سامان اور مال تجارت ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جا کر نفع کماؤ اور اس انعام الٰہی پر اس کا شکر بجا لاؤ۔ اس کے علاوہ زمین و آسمان میں جو کچھ بھی ہے سب ہی اللہ کے حکم سے تمہاری خدمت میں مصروف ہے۔ جمیعا اور منہ دونوں ما فی السموات وما فی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–17
ربطہ آیات
سورۃ الجاثیہ کی ابتدائی آیات میں قرآن کریم کی حقنیت و صداقت بیان ہوئی اور پھر اللہ نے توحید اور معاد کے مشترکہ دلائل ذکر کئے پھر نافرمانوں کا گمراہی پر اصرار کا ذکر ہوا۔ اور جزائے عمل کے طور پر انہیں جہنم کی وعید سنائی گئی۔ اللہ نے فرمایا کہ یہ لوگ اس دنیا میں جو کچھ کماتے رہے وہ قیامتو الے دن کچھ کام نہیں آئیگا اور نہ ہ یان کے خود ساختہ معبود کچھ کام آئیں گے جن کو یہ اپنا کار ساز اور حاجت روا سمجھتے رہے اور یہ لوگ عذاب عظیم میں مبتلا ہوں گے۔
اللہ نے دلائل توحید ہی کے ضمن میں فرمایا ہے اللہ الذی سخرلہ البحر اللہ تعالیٰ کی ذات و ہ ہے جس نے تمہارے لئے سمندروں کو مسخر کردیا ہے۔ تسخیر…
Read the full tafseer →وَسَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا مِّنْہُ 0 ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ 13
سخر
التَّسْخِيرُ : سياقة إلى الغرض المختصّ قهرا، قال تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمْ ما فِي السَّماواتِ وَما فِي الْأَرْضِ [ الجاثية/ 13]
( س خ ر ) التسخیر
( تفعیل ) کے معنی کسی کو کسی خاص مقصد کی طرف زبر دستی لیجانا کے ہیں قرآن میں ہے وَسَخَّرَ لَكُمْ ما فِي السَّماواتِ وَما فِي الْأَرْضِ [ الجاثية/ 13] اور جو کچھ آسمان میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اس نے ( اپنے کرم سے ) ان سب کو تمہارے کام میں لگا رکھا ہے ۔
ما
مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف .
فإذا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
ترکیب : جمیعا حال من مافی السماوات الخ و تاکید لہ ومنہ متعلق بمحذوف ای کائنامنہ اوبسخر اوحال من مافی السماوات اوخبر لمبتدء محذوف لتجری اللام متعلقہ بیغفروا و قریٔ لنجزی بالنون۔
تفسیر … دریا کا مسخر ہونا : پھر مسئلہ توحید پر دلائل بیان کرتا ہے اور عرب کے روزمرہ کی بات میں اپنی قدرت کا نمونہ دکھاتا ہے تاکہ وہ خدا تعالیٰ پر ایمان لاویں فقال اللہ الذی سخر لکم البحر کہ اللہ وہ ہے کہ جس نے تمہارے لیے دریا کو بس میں کردیا کہ اس میں کشتیاں چلتی ہیں اور روزی تلاش کرتے ہیں تاکہ تم شکر کرو۔ یہ بڑی عبرت کی بات ہے دریا میں کہ سوائے پانی کے اور کچھ نظر نہیں آتا ہے ہوائوں کے ذریعہ سے لاکھوں من بوجھ لے کر…
Read the full tafseer →وَسَخَّرَلَـکُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْہُ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَـکَّرُوْنَ ۔ (الجاثیۃ : 13)
(اور اسی نے تمہارے لیے مسخر کردیا ہے ان تمام چیزوں کو جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں، اپنی طرف سے، بیشک اس کے اندر نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں۔ )
خاص کے بعد عام کا ذکر
اوپر کی آیت میں سمندر کی تسخیر کا ذکر فرمایا گیا ہے جو اپنی طاقت اور وسعت میں سب سے زیادہ زوردار اور بظاہر بالکل ناقابلِ تسخیر بھی ہے۔ اب یہ خاص کے بعد عام چیزوں کا حوالہ دیا گیا ہے جو انسان کی خدمت میں براہ راست لگی ہوئی ہیں یا بالواسطہ انجام دے رہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
فہم القرآن
ربط کلام : مجرموں کو عذاب کی خوشخبری سنانے کے بعد ایک دفعہ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی نشانیوں کا تذکرہ کیا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی مرتبہ لیل ونہار کی گردش چاند، سورج کا آنا جانا بارش کا برسنا اور کشتیوں کا سمندر میں چلناان سب کو اپنی قدرت کی نشانیاں بتلایا ہے۔ لیکن جہاں بھی ان چیزوں کا ذکر کیا ہے انداز اور استدلال جدا جدا ہے۔ غور فرمائی ! اس مقام پر کشتیوں کا سمند میں چلنے کے عمل کو اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم کے ساتھ منسوب کیا اور فرمایا ہے کہ یہ کشتیاں میرے حکم کے ساتھ سمندر میں چلتی ہیں تاکہ تم سمندر سے اللہ کا فضل تلاش کرو اور اس کا شکریہ…
Read the full tafseer →تمام کائنات کی تسخیر :
آیت 13 : وَسَخَّرَ لَکُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْہُ (اور جتنی چیزیں آسمانوں میں جتنی چیزیں زمین میں ہیں۔ ان سب کو اپنی طرف سے مسخر کیا) : جمیعًایہ مافی السمٰوٰت کی تاکید ہے اور سخرکا مفعول ہے۔ دوسرا قول یہ ہے۔ یہ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ مِنْہُ : یہ حال ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے۔ سخر ہذہ الاشیاء کائنۃ منہ وحاصلۃ من عندہٖ ۔ ان اشیاء کو مسخر کیا اس حال میں کہ وہ اس کی طرف سے ہونے والی اور اس کے ہاں سے وجود میں آنے والی ہیں۔ یا مصدر محذوف کی صفت ہے ای تسخیرًا منہ۔ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ (بیشک ان باتوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
11، ھذا، یعنی یہ قرآن ، ھدی، گمراہی سے بیان ہے۔ ، والذین کفروابایات ربھم لھم عذاب من رجزالیم،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–15
3۔ 15۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی چند نشانیوں کا ذکر فرمایا ہے مثلاً آسمان و زمین کا پیدا کرنا ‘ آسمان میں فرشتوں اور سورج و چاند ستاروں کا پیدا کرنا زمین میں انسان جن چرند پرند طرح طرح کے جانوروں کا جنگل اور دریا میں پیدا کرنا دریا اور ندیوں کا جاری کرنا اور ان میں کشتیوں کا چلانا دنیا کے کاروبار کے لئے دن اور سورج کی روشنی کو پیدا کرنا اور کاروبار کی محنت سے جو آدمی تھک جاتا ہے اس تھکان کے رفع کرنے کیلئے رات اور رات کی نیند کو پیدا کرنا آسمان سے مینہ کا برسانا جس سے ہر طرح کے اناج ہر طرح کے میووں ہر طرح کی ترکاریوں کا زمین میں پیدا ہونا ہر طرح کی ہوا کا چلانا جس کی تاثیر سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
آیات 12
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنے فضل و احسان کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے حکم سے آسانی پیدا کر کے جہازوں اور کشتیوں کو چلانے کے لئے سمندر کو مسخر کیا۔ (لتبتغوا من فضلہ) تاکہ تم مختلف قسم کی تجارتوں اور مکاسب کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرسکو۔ (ولعلکم تشکرون) ” اور تاکہ تم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو۔ “ اور جب تم اس کا شکر ادا کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں اور زیادہ نعمتیں عطا کرے گا اور تمہاری شکر گزاری پر بہت بڑے اجر سے نوازے گا۔ (وسخرلکم ما فی السموت وما فی الارض جمیعاً منہ) ” اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، سب کو تمہارے لئے مسخر کردیا۔ “…
Read the full tafseer →17 آسمان کی سب چیزیں انسان کی خدمت میں : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " اسی نے تمہارے کام میں لگا دیا ان سب چیزوں کو جو کہ آسمانوں میں ہیں "۔ جیسے سورج، چاند، ستارے، بادل، بارشیں اور ہوا وغیرہ۔ جن سے تمہیں طرح طرح کے اور بےحد و حساب فائدے پہنچتے ہیں اور لگاتار اور دن رات پہنچتے ہیں۔ سو صرف سمندر کی تسخیر اور اس کے گوناں گوں فوائد و منافع ہی کی بات نہیں بلکہ تم لوگ ذرا نگاہ اٹھا کر اپنے اوپر تنی ہوئی آسمان کی اس عظیم الشان چھت کو بھی دیکھ لو۔ تمہیں اس میں بھی حضرت خالق کی عظیم الشان قدرت، حکمت اور اس کی عظیم الشان رحمت و عنایت کے چمکتے دمکتے ایسے عظیم الشان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
اللہ کی برتری کا یقین
تشریح : اللہ کو پہچان کر اس پر یقین کرلینا اور اس کی کتاب کو غور سے پڑھ کر زندگی ‘ کائنات ‘ اور کائنات کی تمام چیزوں سے واقفیت حاصل کر کے ان سے پورا پورا فائدہ اٹھانا یہ بڑی سیدھی آسان اور معقول بات ہے۔ اللہ نے انسان کو سچائی کی فطرت پر پیدا کیا ہے۔ یعنی جب عالم ارواح میں تمام روحوں سے اللہ نے سوال کیا کہ تمہیں کس نے پیدا کیا ہے تو سب نے یک زبان جواب دیا کہ اللہ نے۔ اسی طرح کوئی کتنا ہی برا منکر خدا، پکا کافر ہی کیوں نہ ہو جب آپ اس سے پوچھتے ہیں کہ بھئی تمہیں کس نے پیدا کیا ہے ؟ تو وہ فورا جواب دے گا اللہ نے مسلمان تو اپنے خالق کو اللہ کہتا ہے جبکہ غیر مسلم اپنی زبان میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
آیات 12 تا 21۔
اسرار ومعارف۔
اللہ تو وہ کریم ذات ہے سمندروں اور پانیوں کو بھی تمہارے لیے مسخر کردیا کہ تم ان میں جہاز رانی کروسمندری مع دنیات اور رزق کے ذرائع تلاش کرو تجارت کے راستے کے طور پر استعمال کروغرض سمندری اور آبی وسائل بھی تمہاری خدمت میں لگادیے کہ تم اللہ کا شکر ادا کرو نیز آسمانی اور زمینی ہر شے کو تمہاری خدمت پر لگادیا ہے کہ سورج چاند ہوابادل ستارے ہوں یاسیارے سب کے سب کی توجہ کامرکز زمین ہے ان کی حرکات واثرات سے زمین پر تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں اور یہ سب تبدیلیاں بالآخر بنی آدم کے کام آتی ہیں اگر کوئی ان سب باتوں پہ غور کرے تو سب کی سب عظمت الٰہی پر اور اس کے احسانات پر دلالت کرتی…
Read the full tafseer →ف 5 یعنی ان چیزوں کو اس نے محض اپنے فضل و کرم سے تمہارے کام میں لگا دیا ہے ورنہ تمہارا اس پر کوئی زور نہ تھا۔ آج سمندروں اور دریائوں سے انسان جو فوائد حاصل کر رہا ہے یہ سب اللہ کا فضل و کرم ہی ہے۔
6 یعنی جو بھی اپنے آپ کو ضد اور ہٹ دھرمی سے الگ کر کے غور و فکر سے کام لے گا۔ وہ اس نتیجہ پر پہنچے بغیر نہیں رہ سکتا کہ کائنات کے اس نظام کو بنانے اور چلانے والا ایک ایسا خدا ہے جو اپنی ذات وصفات میں اکیلا ہے اور ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →(45:13) جمیعا منہ : ای ہی جمیعا منہ : یعنی منہ خبر ہے ہی مبتداء محذوف کی یہ سب کچھ اسی کا عطا کر وہ ہے۔ یا یہ حال ہے ما سے۔ ای سخر ھذاہ الاشیاء کائنۃ منہ۔
یتفکرون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ تفکر (تفعل) مصدر۔ وہ غور کرتے ہیں یعنی زمین و آسمان اور ان کے مابین کی جملہ اشیاء کی تخلیق کے متعلق غور کرتے ہیں تو ان پر اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی قدرت اور اس کی سلطنت کے حقائق عیاں ہوتے ہیں ۔ اور ان کا ایمان مضبوط سے مضبوط تر ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 11 : یبت (وہ پھیلاتا ہے) تصریف ( الٹتا پلٹتا ہے) حدیث (بات) افاک ( جھوٹ بولنے والا) بصر (وہ ضد کرتا ہے ، اڑجاتا ہے) رجز ( سزا ، عذاب)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 11 : سورة الجاثیہ مکہ مکرمہ میں ہجرت سے کچھ عرصے پہلے ہی نازل ہوئی ۔ مکی سورتوں کی طرح اس میں بھی انسان کے بنیادی عقیدوں کی اصلاح ، توحیدخالص ، نبوت و رسالت اور فکر آخرت کو مختلف انداز سے بیان کیا گیا ہے تا کہ ایمان ، یقین اور عقل و فہم رکھنے والے جو کائنات میں غور و فکر کرتے ہیں اور صاحب بصیرت ہیں وہ حقیقی کامیابی حاصل کرسکیں ۔ زمین و آسمان کا مرتب نظام ، چاند سورج کا باقاعدگی سے نکلنا ، انسان اور جان داروں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–13
(ف 1) فرمایا کہ دنیا میں تو یہ لوگ اللہ کا کلام جو ان کے سامنے پڑھاجاتا ہے اور اللہ کے کلام میں جو قدرت کی نشانیاں ہیں وہ سب سن کر مکڑائیاں کرتے ہیں اور اپنے کفر پر قائم رہتے ہیں اور اللہ کے کلام کو مسخراپن اور جھوٹی باتوں میں اڑاتے ہیں لیکن عقبی میں ان مکڑائیاں کا بہت خمیازہ بھگتنا ہوگا انکو اور انہوں نے دنیا میں جو مال واولاد وعزت و حشمت جمع کیا ہے اور جن بتوں کی یہ لوگ پوجا کرتے ہیں کوئی چیز ان کے کام نہیں آئے گی اور کوئی یہ چیز ان کو دوزخ کے عذاب سے نہ چھڑائے گی ان کو وہاں سخت عذاب ہوگا پھر فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسو کا کام نصیحت کرنا ہے جو کوئی اس نصیحت کو مان کر کچھ نیکی کرے گا اپنا…
Read the full tafseer →[3] تشریح کے ملاحظہ ہو سورة لقمان حاشیہ 11 صفحہ 779۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
قرآن کا عقلمندوں سے خطاب ہے
1: قرآن حکیم ایک ایسی کتاب ہے جو اپنے لئے ان لوگوں کو منتخب کرتی ہے ۔ جو صاحب غوروفکر ہیں ۔ وہ ان کو دعوت دیتی ہے ۔ جو مظاہر کائنات پر فکروتدبیر کی نظریں دوڑائیں ۔ اور دیکھیں ۔ کہ کہاں تک اسلامی حقائق فطرت کے مطاق اور موافق ہیں فرمایا کہ تم جن لوگوں کی پرستش کرتے ہو ۔ وہ قطعاً اس احترام کی اہلیت نہیں رکھتے ۔ پوجا کے لائق وہ ذات ہے جس نے تم کو تسخیر بحر کے علوم سے بہرہ ور کیا ہے جن کی وجہ سے تم سمندر کے سینہ پر کشتیاں اور جہاز چلاتے ہو ۔ اور اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کی تلاش میں کہاں سے کہاں نکل جاتے ہو ۔ اور وہ ہے جس آسمانوں اور زمین کی تمام مخلوقات کو تمہاری خدمت…
Read the full tafseer →(13) اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اس سب کو اپنی جانب یعنی اپنے حکم سے تمہارے کام میں لگا رکھا ہے بیشک ان امورمذکورہ میں ان لوگوں کے لئے بڑے دلائل ہیں جو غور و فکر سے کام لیتے اور دھیان کرتے ہیں۔ عالم علوی اور عالم سفلی کی کوئی ایسی چیز نہیں جو دنیا کے انسانوں کے کام نہ آتی ہو ہر چیز انسانی نشو و نما اور انسانی آرام و آسائش کے کاموں میں لگی ہوئی ہے ان سب کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کرکے انسان کے کام میں لگا رکھا ہے یہ سب کچھ اسی کی طرف اور اسی حکم سے ہے اسی کو تسخیر فرمایا اور اسی کو اہل فکر کے لئے توحید کی دلیل فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
ف 1۔ مطلب یہ کہ جن آیتوں کو تلاوت میں سنتا ہے ان کی بھی تکذیب کرتا ہے، اور جن آیتوں کی ویسے ہی خبر سن لیتا ہے ان کی بھی تکذیب کرتا ہے، غرض تکذیب آیات میں بہت بڑھا ہوا ہے۔
Read the full tafseer →آسمان و زمین کی ہرچیز اس نے تمہارے لیے مسخر کردی ہے
31 ؎ گزشتہ آیت میں صرف سمندروں کا ذکر تھا سمندر تمہارے مسخر کردئیے گئے ہیں اور سمندروں میں جو کچھ ہے اس کو شمار کرنا شروع کردیں تو ان کا شمار کرنا اتنا سہل نہیں ہے لیکن زیر نظر آیت میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اس کائنات میں جو کچھ ہے وہ سب کا سب انسان کے لیے مسخر کردیا گیا ہے اور اس کائنات کی کوئی چیز ایسی نہیں جو انسان کے لیے مسخر نہ کردی گئی ہو اب یہ انسان کا اپنا معاملہ ہے کہ وہ کس کس چیز سے استفادہ کرتا ہے اور کس کس چیز سے نہیں اور پھر یہ بھی کہ اس تسخیر میں کسی دیوپری ، بت ، صاحب بت ، قبر ، صاحب قبر ،۔ کسی نبی ، ولی بزرگ اور پیرومرشد کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
Commentary
اللَّـهُ الَّذِي سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِيَ الْفُلْكُ فِيهِ بِأَمْرِهِ وَلِتَبْتَغُوا مِن فَضْلِهِ ("Allah is the One who has subjugated for you the sea, so that you may seek His grace, ... 45:12) ". Generally, when Qur'an uses the expression ` to seek His grace' it refers to exerting oneself in seeking one's livelihood. Another meaning of the phrase could be that man has been given the skill to move the boats or pilot the ships on the surface of the waters so that he may carry out his commercial activities across the globe. It is possible that ` seeking grace' does…
Read the full tafseer →15 For explanation, see Ibrahim: 32 and E.N. 44 on it, and E.N. 35 of Luqman.
16 This sentence has two meanings: (1) `This gift and favor of AIlah is not like the gift of the worldly kings, who favor their favorites with the wealth that they have collected from the people themselves, but, on the contrary, aII the good things, in the universe have been created by Allah Himself, and He has granted these to man from Himself ; " and (2) `neither is anyone a partner of Allah in the creation of these good things, nor has anyone anything to do in making them subservient to man. Allah alone is their…
Read the full tafseer →