Explained with ayahs 12–15
اللہ تعالیٰ کے ابن آدم پر احسانات
اللہ تعالیٰ اپنی نعمتیں بیان فرما رہا ہے کہ اسی کے حکم سے سمندر میں اپنی مرضی کے مطابق سفر طے کرتے ہوئے بڑی بڑی کشتیاں مال اور سواریوں سے لدی ہوئی ادھر سے ادھر لے جاتے ہو تجارتیں اور کمائی کرتے ہو۔ یہ اس لئے بھی ہے کہ تم اللہ کا شکر بجا لاؤ نفع حاصل کر کے رب کا احسان مانو پھر اس نے آسمان کی چیز جیسے سورج چاند ستارے اور زمین کی چیز جیسے پہاڑ نہریں اور تمہارے فائدے کی بیشمار چیزیں تمہارے لئے مسخر کردی، یہ سب اس کا فضل و احسان انعام و اکرام ہے اور اسی ایک کی طرف سے ہے، جیسے ارشاد ہے آیت (وَمَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ…
Read the full tafseer →سورة الْجَاثِیَة 13
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہم القرآن، جلد دوم، بنی اسرائیل، حاشیہ 83، جلد سوم، الروم، حاشیہ 69، جلد چہارم، لقمان، حاشیہ 55، المومن، حاشیہ۔ 11، الشوریٰ ، حاشیہ 54۔
سورة الْجَاثِیَة 14
یعنی سمندر میں تجارت، ماہی گیری، غواصی، جہاز رانی اور دوسرے ذرائع سے رزق حلال حاصل کرنے کی کوشش کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
خلاصہ تفسیر
اللہ ہی ہے جس نے تمہارے (فائدہ کے) لئے دریا کو مسخر (قدرت) بنایا تاکہ اس کے حکمل سے اس میں کشتیاں چلیں اور تاکہ (ان کشتیوں میں سفر کر کے) تم اس کی روزی تلاش کرو اور تاکہ (وہ روزی حاصل کر کے) تم شکر کرو اور (اسی طرح) جتنی چیزیں آسمانوں میں ہیں اور جتنی چیزیں زمین میں ہیں، ان سب کو اپنی طرف سے (یعنی اپنے حکم اور فضل سے) مسخر (قدرت) بنایا (تاکہ تمہارے منافع کا سبب ہو) بیشک ان باتوں میں ان لوگوں کے لئے دلائل (قدرت) ہیں جو غور کرتے رہتے ہیں (اور کفار کی شرارتوں پر بعض اوقات مسلمانوں کو غصہ آ جایا کرتا تھا، آگے ان کو درگزر کرنے کا حکم ہے) آپ ایمان والوں سے فرما دیجئے کہ ان لوگوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
اللہ الذی سخر لکم البحر لتجری انفلک فیہ بامرہ ولتبتغوا من فضلہ ولعلکم تشکرون، وسخرلکم ما فی السموت وما فی الارض جمیعاً منہ ط ان فی ذلک لایت لقوم یتفکرون (13-12)
دلائل کا سلسلہ بیان
اوپر کی چار آیتیں توحید اور معاد کے دلائل کے بیچ میں بطور تنبیہ و تذکیر آگئی تھیں تاکہ قریش کے لیڈروں کو برسر موقع تنبیہ ہوجائے اور آنحضرت ﷺ کو تسلی دے دی جائے، اب اس آیت میں اصل سسلہ کلام کو پھر لے لیا۔ فرمایا کہ اللہ ہی ہے جس نے سمندر کو اس طرح تمہاری خدمت میں لگا رکا ہے کہ وہ اپنے سینہ پر تمہاری کشتویں کو چلاتا ہے۔ بامرہ یعنی یہ بات خاص خدا کے حکم سے ہوتی ہے۔ اگر خدا کا حکم نہ ہوتا تو دیکھتے ہو کہ کشتی سے کہیں…
Read the full tafseer →12۔ 1 یعنی اس کو ایسا بنادیا کہ تم کشتیوں اور جہازوں کے ذریعے اس پر سفر کرسکو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
1: جیسا کہ پہلے کئی بار عرض کیا گیا، اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرنا قرآن کریم کی اصطلاح میں روزی تلاش کرنے کو کہا جاتا ہے۔ یہاں سمندری تجارت مراد ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
آیت نمبر 12 تا 13
اللہ کی یہ چھوٹی سی مخلوق انسان پر اللہ کے بڑے کرم ہیں کہ اس نے اس کے لئے اس کائنات کی عظیم مخلوقات کو مسخر کردیا ہے۔ اور ان مخلوقات سے یہ مختلف طریقوں سے فائدہ اٹھا تا ہے اور اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے اسے یہ سمجھایا ہے کہ اس کائنات کا قانون فطرت کیا ہے ؟ جس کے مطابق یہ کائنات چلتی ہے اور اس کے خلاف نہیں جاسکتی۔ اگر اللہ کی جانب سے انسان کو اس قدر علمی صلاحیت نہ دی گئی ہوتی تو اس کے لئے ممکن نہ تھا کہ وہ ان کائناتی قوتوں کو اس طرح مسخر کر کے ان سے اس طرح استفادہ کرتا بلکہ اس کے لئے ان قوتوں کے اندر زندہ رہنا بھی مشکل ہوجاتا کیونکہ انسان ایک چھوٹا سا کیڑا ہے اور فطرت کی قوتیں…
Read the full tafseer →7 یعنی سمندر جیسی مخلوق کو ایسا مسخر کردیا کہ تم بےتکلف اپنی کشتیاں اور جہاز اس میں لیے پھرتے ہو۔ میلوں کی گہرائیوں کو پایاب کر رکھا ہے۔
8 یعنی بحری تجارت کرو، یا شکار کھیلو، یا اس کی تہ میں سے موتی نکالو۔ اور یہ سب منافے و فوائد حاصل کرتے وقت منعم حقیقی کو نہ بھولو۔ اس کا حق پہچانو، زبان و دول اور قلب و قالب سے شکر ادا کرو۔
Read the full tafseer →آیت 12 { اَللّٰہُ الَّذِیْ سَخَّرَ لَکُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِیَ الْفُلْکُ فِیْہِ بِاَمْرِہٖ } ”اللہ ہی ہے جس نے مسخر کردیا تمہارے لیے سمندر کو تاکہ اس میں کشتیاں چلیں اس کے حکم سے“
{ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہٖ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ } ”تاکہ تم تلاش کرو اس کا فضل اور تاکہ تم شکر ادا کرو۔“
اللہ کا فضل تلاش کرنے سے یہاں تجارت کے ذریعے روزی تلاش کرنا مراد ہے ‘ جبکہ کشتیاں اور جہاز سمندروں اور دریائوں میں سامانِ تجارت کی نقل و حمل کا بہت بڑا ذریعہ ہیں۔
Read the full tafseer →15 سمندر کو مسخر کرنا :۔ پانی کے لیے اللہ نے یہ قانون بنایا ہے کہ وہ ہر چیز کو اوپر اپنی سطح کی طرف اچھالتا ہے۔ لہذا جو چیزیں اپنے مساوی الحجم پانی سے ہلکی ہوتی ہیں وہ پانی کی سطح پر آکر تیرنے لگتی ہیں۔ جیسے لکڑی، کاغذ، تنکے، گتا وغیرہ اور جو بھاری ہوتی ہیں وہ پانی میں ڈوب جاتی ہیں۔ جیسے پتھر اور دھاتیں، تاہم پانی میں اچھالنے کی قوت کی وجہ سے ان کا وزن کم ہوجاتا ہے اور اتنا ہی کم ہوتا ہے اس کے مساوی الحجم پانی کا وزن ہوتا ہے پھر اگر کسی چیز کی شکل ہی کشتی یا پیالہ یا گلاس کی بنادی جائے تو بھاری چیزیں مثلاً لو ہا وغیرہ کی طرح کی چیزیں پانی میں تیرنے اور بہت سا بوجھ اٹھا کر پانی میں تیرنے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
7۔ اور اس شکر گزاری کی سب سے بڑی فرد یہ ہے کہ اللہ کی توحید و ربوبیت کا اقرار کرو، اور اس کے احکام کی تعمیل، (آیت) ’ ’ سخرلکم “۔ یعنی تمہارے نفع کیلئے اپنے احکام تکوینی کا تابع بنایا۔ خطاب یہاں عام نوع انسانی سے ہے۔ (آیت) ” لتبتغوا من فضلہ “۔ یعنی تاکہ تم ان کشتیوں پر سوار ہو کر اور سفر کر کرکے ہر طرح کے نفع حاصل کرو، (آیت) ” من فضلہ “۔ فضل۔ یہاں بہت وسیع معنی میں ہے۔ بحری تجارت، بحری شکار، جہاز رانی سیپی، موتی، مونگے کا کاروبار، غواصی وغیرہ سب کچھ اس میں آجاتا ہے۔ التجارۃ والغوص والصید وغیرھا (بیضاوی) (آیت) ” بامرہ “۔ میں اشارہ کردیا کہ سمندر کا اتنا مسخر ہوجانا یہ تمامتر احسان خداوندی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
آیت نمبر 12 تا 21
ترجمہ : اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے دریا کو تابع کردیا کہ اس میں اس کے حکم اجازت سے کشتیاں چلیں اور تم تجارت کے ذریعہ اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ شکر بجالاؤ شمس و قمر ستارے اور پانی وغیرہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جانور اور درخت اور گھاس اور نہریں وغیرہ جو کچھ زمین میں ہے اس نے اپنی طرف سے سب کو تمہارے تابع کردیا یعنی مذکورہ چیزوں کو اس نے انسانوں کے نفع کے لئے پیدا فرمایا جمیعًا تاکید ہے، اور مِنْہُ حال ہے یعنی ان چیزوں کو تابع کردیا حال یہ ہے کہ یہ اس کی طرف سے ہے، بلاشبہ اس تابع کرنے میں ان لوگوں کے لئے جو ان میں غور (وفکر) کریں بہت سی نشانیاں ہیں کہ ایمان لے آئیں، آپ…
Read the full tafseer →اللہ الذی سخر لکم البحر لتجری الفلک فیہ بامرہ ولتبتغوا من فضلہ ولعلکم تشکرون۔ اللہ ہی ہے جس نے دریا کو تمہارے لئے مسخر بنایا تاکہ اسکے حکم سے کشتیاں اس میں چلیں اور تم اس کی (عطا کردہ) روزی تلاش کرو اور تاکہ تم شکر ادا کرو
Read the full tafseer →اللہ ہی نے تمہارے لیے دریا کو مسخر بنایا کہ اس میں اس کے حکم سے کشتیاں چلتی ہیں اور تاکہ تم اس کی روزی تلاش کرو اور تاکہ تم اس کی دی ہوئی نعمتوں پر شکر کرو۔
Read the full tafseer →(1) اللہ الذی سخرلکم البحر …: اس سے پہلی آیات میں کائنات کی تخلیق اور اس میں موجود بہت سی چیزوں کا ذکر اس لحاظ سے ہوا ہے کہ وہ سب اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی وحدانیت اور قیامت پر دلالت کرتی ہیں۔ یہاں سے سمندر کی تسخیر اور دوسری چیزوں کا اس لحاظ سے ذکر شروع ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ انسان پر اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں، جن کا شکر اس پر واجب ہے، مگر انہوں نے اسے چھوڑ کر ایسی ہستیوں کو اپنا داتا و دستگیر، مشکل کشا اور حاجت روا بنا رکھا ہے جن کا ان نعمتوں میں کوئی دخل نہیں اور اس طرح وہ یہ تمام نعمتیں عطا کرنے والے کے شکر کے بجائے اس کی نعمتوں کا صاف انکار اور ناشکری کر رہے ہیں۔
(2) لفظ ”اللہ“ مبتدا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
اللہ تعالیٰ نے اپنی کمال قدرت اور اپنے بندوں پر تمام نعمتوں کا ذکر کیا اور اس امر کی وضاحت کی کہ جو کچھ پیدا کیا وہ لوگوں کے منافع کے لئے پیدا کیا۔
یعنی یہ اللہ تعالیٰ کا فعل، اس کی تخلیق اس کا احسان اور انعام ہے۔ حضرت ابن عباس، حجدری اور دوسرے علماء نے پڑھا ہے یعنی میم مسکور، نون مشدد اور ھاء پر تنوین ہے۔ یہ مفعول مطلق کے طریقہ پر منصوب ہے ابو عمرو نے کہا : میں نے مسلمہ سے اس طرح سنا کہ انہوں نے اسے منہ پڑھا، یعنی فضل وکرم کے طریقہ پر۔
مسلم بن محارب نے اسے پڑھا ہے کہ من کا لفظ ھاء کنایہ کی طرف منسوب ہے۔ ابو حاتم کے نزدیک یہ مبتدا مخدوف کی خبر ہے یعنی ذلک و ھونہ جماعت کی قرأت ظاہر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–12
1:۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وما انزل اللہ من السمآء من رزق “ (اور جو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے رزق نازل فرمایا) یعنی بارش (آیت ) ” وتصریف الریح “ (اور ہواؤں کے چلانے میں) یعنی جب چاہے اس کو رحمت بنادے اور جب چاہے اس کو عذاب بنادے (آیت ) ” لکل افاک اثیم “ (ہر چھوٹے اور سخت گناہگار کے لئے) یعنی بہت جھوٹ بولنے والا۔
2:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لکل افاک اثیم “ سے مراد مغیرہ بن مخزوم ہے۔
Read the full tafseer →اَللّٰهُ الَّذِيْ [ اللہ وہ ہے جس نے ] سَخَّرَ لَكُمُ [ مطیع کیا تمہارے لیے ] الْبَحْرَ [سمندر کو ] لِتَجْرِيَ الْفُلْكُ فِيْهِ [ تاکہ چلیں کشتیاں اس میں ] بِاَمْرِهٖ [ اس کے حکم سے ] وَلِتَبْتَغُوْا [ اور تاکہ تم لوگ تلاش کرو ] مِنْ فَضْلِهٖ [ اس کے فضل میں سے ] وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ [ اور شاید کہ تم لوگ شکر ادا کرو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
تسخیر بحر اور تسخیر ما فی السمٰوٰت والارض میں فکر کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں
ان آیات میں اللہ تعالیٰ کے انعامات اور دلائل توحید بیان فرمائے ہیں۔
اولاً : سمندر کا تذکرہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے سمندر کو تمہارے لیے مسخر فرما دیا یعنی تمہاری ضرورتوں میں کام آنے والا بنا دیا اس تسخیر کا نتیجہ یہ ہے کہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلتی ہیں ان کشتیوں میں سفر کرتے ہو اور ایک جگہ سے دوسری جگہ سامان بھی لے جاتے ہو اور اللہ کا فضل بھی تلاش کرتے ہو تجارت کے ذریعے فائدہ اٹھاتے ہو سمندر میں غوطے مارتے ہو موتی نکالتے ہو شکار پکڑتے ہو یہ سب اللہ کا فضل ہے تمہیں چاہیے کہ اللہ کا شکر ادا کرو، ثانیاً یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
دلائل قدرت وتکوینی انعامات خداوندی :
قال اللہ تعالیٰ (آیت ) ” اللہ الذی سخرلکم البحر ......... الی ....... ثم الی ربکم ترجعون “۔
(ربط) گزشتہ آیات حق تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں پر مشتمل تھیں جن سے پروردگار عالم کی الوہتی ووحدانیت کو ثابت کرتے ہوئے اعراض و انحراف کرنے والوں پر وعید تھی اب مزید چند دلائل کا ذکر کرتے ہوئے بعث بعد الموت اور قیامت کو ثابت فرمایا جارہا ہے۔ ارشاد خداوندی ہے۔
اللہ ہی ہے جس نے تمہارے بس میں کردیا ہے سمندر کو تاکہ چلیں اس میں جہاز اس کے حکم سے حالانکہ سمندر جیسی ہیبت ناک موجوں پر جہازوں اور کشتیوں کا چلنا مادی اسباب کے لحاظ سے متوقع نہ تھا اب بحری سفر انسان کررہا ہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
9:۔ ” اللہ الذی سخر “ تا ” لقوم یتفکرون “ یہ توحید پر دوسری عقلی دلیل ہے بطور ترقی۔ پہلی دلیل میں عجائب قدرت اور غرائب فطرت کا ذکر تھا اب اس سے اگلا درجہ ذکر فرمایا کہ اس نے ساری کائنات کیا علوی کیا سفلی پیدا فرما کر اپنے حکم و اختیار سے تمہارے کام میں لگا رکھی ہے دریاؤ اور سمندروں کو اس نے اپنے حکم سے تمہارے کام میں لگا رکھا ہے کہ اس میں کشتیاں چلتی ہیں تاکہ اپنا سامان اور مال تجارت ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جا کر نفع کماؤ اور اس انعام الٰہی پر اس کا شکر بجا لاؤ۔ اس کے علاوہ زمین و آسمان میں جو کچھ بھی ہے سب ہی اللہ کے حکم سے تمہاری خدمت میں مصروف ہے۔ جمیعا اور منہ دونوں ما فی السموات وما فی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–17
ربطہ آیات
سورۃ الجاثیہ کی ابتدائی آیات میں قرآن کریم کی حقنیت و صداقت بیان ہوئی اور پھر اللہ نے توحید اور معاد کے مشترکہ دلائل ذکر کئے پھر نافرمانوں کا گمراہی پر اصرار کا ذکر ہوا۔ اور جزائے عمل کے طور پر انہیں جہنم کی وعید سنائی گئی۔ اللہ نے فرمایا کہ یہ لوگ اس دنیا میں جو کچھ کماتے رہے وہ قیامتو الے دن کچھ کام نہیں آئیگا اور نہ ہ یان کے خود ساختہ معبود کچھ کام آئیں گے جن کو یہ اپنا کار ساز اور حاجت روا سمجھتے رہے اور یہ لوگ عذاب عظیم میں مبتلا ہوں گے۔
اللہ نے دلائل توحید ہی کے ضمن میں فرمایا ہے اللہ الذی سخرلہ البحر اللہ تعالیٰ کی ذات و ہ ہے جس نے تمہارے لئے سمندروں کو مسخر کردیا ہے۔ تسخیر…
Read the full tafseer →اَللہُ الَّذِيْ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِيَ الْفُلْكُ فِيْہِ بِاَمْرِہٖ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ 12 ۚ
الله
الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة «3» لاتخاذهم إياها معبودا .
وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ.
فالإله علی هذا هو المعبود «4» . وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
ترکیب : جمیعا حال من مافی السماوات الخ و تاکید لہ ومنہ متعلق بمحذوف ای کائنامنہ اوبسخر اوحال من مافی السماوات اوخبر لمبتدء محذوف لتجری اللام متعلقہ بیغفروا و قریٔ لنجزی بالنون۔
تفسیر … دریا کا مسخر ہونا : پھر مسئلہ توحید پر دلائل بیان کرتا ہے اور عرب کے روزمرہ کی بات میں اپنی قدرت کا نمونہ دکھاتا ہے تاکہ وہ خدا تعالیٰ پر ایمان لاویں فقال اللہ الذی سخر لکم البحر کہ اللہ وہ ہے کہ جس نے تمہارے لیے دریا کو بس میں کردیا کہ اس میں کشتیاں چلتی ہیں اور روزی تلاش کرتے ہیں تاکہ تم شکر کرو۔ یہ بڑی عبرت کی بات ہے دریا میں کہ سوائے پانی کے اور کچھ نظر نہیں آتا ہے ہوائوں کے ذریعہ سے لاکھوں من بوجھ لے کر…
Read the full tafseer →اَللّٰہُ الَّذِیْ سَخَّرَلَـکُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِیَ الْفُلْـکُ فِیْہِ بِاَمْرِہٖ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہٖ وَلَعَلَّـکُمْ تَشْکُرُوْنَ ۔ (الجاثیۃ : 12)
(اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے سمندر کو مسخر کیا تاکہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلیں اور تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم شکر گزار رہو۔ )
جملہ ہائے معترضہ کے بعد اصل مضمون کا اجرا
گزشتہ چار آیتوں سے پہلے توحید اور معاد پر دلائل دیئے جارہے تھے کہ قریش کے لیڈروں کو تنبیہ کے لیے جملہ معترضہ کے طور پر چار آیتیں نازل کی گئیں۔ اس طرح انھیں ہوشیار کرکے پھر اسی سلسلہ ٔ بیان کو شروع کردیا گیا کہ اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے تمہارے لیے دریا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
فہم القرآن
ربط کلام : مجرموں کو عذاب کی خوشخبری سنانے کے بعد ایک دفعہ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی نشانیوں کا تذکرہ کیا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی مرتبہ لیل ونہار کی گردش چاند، سورج کا آنا جانا بارش کا برسنا اور کشتیوں کا سمندر میں چلناان سب کو اپنی قدرت کی نشانیاں بتلایا ہے۔ لیکن جہاں بھی ان چیزوں کا ذکر کیا ہے انداز اور استدلال جدا جدا ہے۔ غور فرمائی ! اس مقام پر کشتیوں کا سمند میں چلنے کے عمل کو اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم کے ساتھ منسوب کیا اور فرمایا ہے کہ یہ کشتیاں میرے حکم کے ساتھ سمندر میں چلتی ہیں تاکہ تم سمندر سے اللہ کا فضل تلاش کرو اور اس کا شکریہ…
Read the full tafseer →تسخیر بحر کی نشانی :
آیت 12 : اَللّٰہُ الَّذِیْ سَخَّرَ لَکُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِیَ الْفُلْکُ فِیْہِ بِاَمْرِہٖ (اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جس نے سمندر کو مسخر کیا اپنے حکم سے تاکہ اس میں کشتیاں چلیں) بامرہ کا معنی باذنہٖ ہے۔ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہٖ (تاکہ تم اس کی روزی تلاش کرو) ۔ تجارت کے ذریعہ یا غوطہ خوری کر کے لو لو ٔ اور مرجان نکالو۔ اور تازہ گوشت مچھلی کی صورت میں اس سے نکالووَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ (تاکہ تم شکر ادا کرو)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
11، ھذا، یعنی یہ قرآن ، ھدی، گمراہی سے بیان ہے۔ ، والذین کفروابایات ربھم لھم عذاب من رجزالیم،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–15
3۔ 15۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی چند نشانیوں کا ذکر فرمایا ہے مثلاً آسمان و زمین کا پیدا کرنا ‘ آسمان میں فرشتوں اور سورج و چاند ستاروں کا پیدا کرنا زمین میں انسان جن چرند پرند طرح طرح کے جانوروں کا جنگل اور دریا میں پیدا کرنا دریا اور ندیوں کا جاری کرنا اور ان میں کشتیوں کا چلانا دنیا کے کاروبار کے لئے دن اور سورج کی روشنی کو پیدا کرنا اور کاروبار کی محنت سے جو آدمی تھک جاتا ہے اس تھکان کے رفع کرنے کیلئے رات اور رات کی نیند کو پیدا کرنا آسمان سے مینہ کا برسانا جس سے ہر طرح کے اناج ہر طرح کے میووں ہر طرح کی ترکاریوں کا زمین میں پیدا ہونا ہر طرح کی ہوا کا چلانا جس کی تاثیر سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
آیات 12
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنے فضل و احسان کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے حکم سے آسانی پیدا کر کے جہازوں اور کشتیوں کو چلانے کے لئے سمندر کو مسخر کیا۔ (لتبتغوا من فضلہ) تاکہ تم مختلف قسم کی تجارتوں اور مکاسب کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرسکو۔ (ولعلکم تشکرون) ” اور تاکہ تم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو۔ “ اور جب تم اس کا شکر ادا کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں اور زیادہ نعمتیں عطا کرے گا اور تمہاری شکر گزاری پر بہت بڑے اجر سے نوازے گا۔ (وسخرلکم ما فی السموت وما فی الارض جمیعاً منہ) ” اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، سب کو تمہارے لئے مسخر کردیا۔ “…
Read the full tafseer →14 دلائلِ توحید کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ وہی ہے جس نے تمہارے لیے مسخر کردیا سمندر ۔ کے اس عظیم الشان ذخیرئہ آب۔ کو "۔ یعنی اللہ پاک کی معرفت حاصل کرنی ہے تو اس کی بےانتہا قدرت اور بےمثال حکمت کے ان آثار و مظاہر کو دیکھو اور ان میں غور و فکر کرو۔ نہ کہ اس کی ذات اور حقیقت میں۔ کہ یہ تمہارے بس سے باہر ہے۔ جیسا کہ حدیث پاک میں وارد ہے کہ اللہ کی مخلوق میں غور کرو اللہ میں غور نہ کرو۔ کیونکہ انسان کا دائرئہ فکر مخلوق ہی ہوسکتا ہے نہ کہ حضرت خالق ۔ جل و علا ۔ سو اللہ وہی وحدہ لاشریک ہے جس نے آسمان و زمین کی اس حکمتوں بھری کائنات کو اور اس میں موجود ہر چیز کو وجود بخشا اور اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
اللہ کی برتری کا یقین
تشریح : اللہ کو پہچان کر اس پر یقین کرلینا اور اس کی کتاب کو غور سے پڑھ کر زندگی ‘ کائنات ‘ اور کائنات کی تمام چیزوں سے واقفیت حاصل کر کے ان سے پورا پورا فائدہ اٹھانا یہ بڑی سیدھی آسان اور معقول بات ہے۔ اللہ نے انسان کو سچائی کی فطرت پر پیدا کیا ہے۔ یعنی جب عالم ارواح میں تمام روحوں سے اللہ نے سوال کیا کہ تمہیں کس نے پیدا کیا ہے تو سب نے یک زبان جواب دیا کہ اللہ نے۔ اسی طرح کوئی کتنا ہی برا منکر خدا، پکا کافر ہی کیوں نہ ہو جب آپ اس سے پوچھتے ہیں کہ بھئی تمہیں کس نے پیدا کیا ہے ؟ تو وہ فورا جواب دے گا اللہ نے مسلمان تو اپنے خالق کو اللہ کہتا ہے جبکہ غیر مسلم اپنی زبان میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
آیات 12 تا 21۔
اسرار ومعارف۔
اللہ تو وہ کریم ذات ہے سمندروں اور پانیوں کو بھی تمہارے لیے مسخر کردیا کہ تم ان میں جہاز رانی کروسمندری مع دنیات اور رزق کے ذرائع تلاش کرو تجارت کے راستے کے طور پر استعمال کروغرض سمندری اور آبی وسائل بھی تمہاری خدمت میں لگادیے کہ تم اللہ کا شکر ادا کرو نیز آسمانی اور زمینی ہر شے کو تمہاری خدمت پر لگادیا ہے کہ سورج چاند ہوابادل ستارے ہوں یاسیارے سب کے سب کی توجہ کامرکز زمین ہے ان کی حرکات واثرات سے زمین پر تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں اور یہ سب تبدیلیاں بالآخر بنی آدم کے کام آتی ہیں اگر کوئی ان سب باتوں پہ غور کرے تو سب کی سب عظمت الٰہی پر اور اس کے احسانات پر دلالت کرتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
ف 4 یعنی پانی میں باوجود اس کے گہرا ہونے کے جہاز اور کشتیاں غرق نہیں ہوتیں اور یہ محض اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نظام تکوینی ایسا بنایا ہے کہ انسان برویجر میں نقل و حرکت کرسکے۔ اگر اللہ تعالیٰ کا حکم ایسا نہ ہوتا تو سمندر میں جہازوں اور کشتیوں کے چلنے کا ہرگز امکان نہ ہوتا۔
Read the full tafseer →(45:12) سخر ماضی واحد مذکر غائب تسخیر (تفعیل) مصدر اس نے بس میں کردیا۔ اس نے تابع کردیا۔ تسخیر کے معنی جس میں کونے اور کبھی زبردستی کسی خاص کام میں لگا دینے کے ہیں۔
لتجری : لام تعلیل کا ہے۔ تجری : مضارع واحد مؤنث غائب۔ جری وجریان (باب ضرب) مصدر۔ وہ جاری ہے، وہ چلتی ہے۔ الفلک۔ کشتی، کشتیاں، واحد اور جمع دونوں پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ فیہ ای فی البحر تاکہ اس (دریا، یا سمندر میں) کشتیاں چلیں۔ بامرہ ای باذنہ اس کے حکم سے۔
ولتبلغوا : واؤ عاطفہ۔ لام تعلیل کا ۔ تبتغوا مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ ابتغاء (افتعال) مصدر تبتغوا اصل میں تبتغون تھا نون اعرابی عامل لام تعلیل کے آنے سے گرگیا۔ تاکہ تم تلاش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 11 : یبت (وہ پھیلاتا ہے) تصریف ( الٹتا پلٹتا ہے) حدیث (بات) افاک ( جھوٹ بولنے والا) بصر (وہ ضد کرتا ہے ، اڑجاتا ہے) رجز ( سزا ، عذاب)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 11 : سورة الجاثیہ مکہ مکرمہ میں ہجرت سے کچھ عرصے پہلے ہی نازل ہوئی ۔ مکی سورتوں کی طرح اس میں بھی انسان کے بنیادی عقیدوں کی اصلاح ، توحیدخالص ، نبوت و رسالت اور فکر آخرت کو مختلف انداز سے بیان کیا گیا ہے تا کہ ایمان ، یقین اور عقل و فہم رکھنے والے جو کائنات میں غور و فکر کرتے ہیں اور صاحب بصیرت ہیں وہ حقیقی کامیابی حاصل کرسکیں ۔ زمین و آسمان کا مرتب نظام ، چاند سورج کا باقاعدگی سے نکلنا ، انسان اور جان داروں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–13
(ف 1) فرمایا کہ دنیا میں تو یہ لوگ اللہ کا کلام جو ان کے سامنے پڑھاجاتا ہے اور اللہ کے کلام میں جو قدرت کی نشانیاں ہیں وہ سب سن کر مکڑائیاں کرتے ہیں اور اپنے کفر پر قائم رہتے ہیں اور اللہ کے کلام کو مسخراپن اور جھوٹی باتوں میں اڑاتے ہیں لیکن عقبی میں ان مکڑائیاں کا بہت خمیازہ بھگتنا ہوگا انکو اور انہوں نے دنیا میں جو مال واولاد وعزت و حشمت جمع کیا ہے اور جن بتوں کی یہ لوگ پوجا کرتے ہیں کوئی چیز ان کے کام نہیں آئے گی اور کوئی یہ چیز ان کو دوزخ کے عذاب سے نہ چھڑائے گی ان کو وہاں سخت عذاب ہوگا پھر فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسو کا کام نصیحت کرنا ہے جو کوئی اس نصیحت کو مان کر کچھ نیکی کرے گا اپنا…
Read the full tafseer →[2] فضل یہاں بہت وسیع معنی میں ہے۔ بحری تجارت، بحری شکار، جہاز رانی، سیپی، موتی، مونگے کا کاروبار سب کچھ اس میں آجاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
قرآن صحیفہ رشدوہدایت ہے
1: نضر بن حارث ایک شخص تھا ۔ جس کو حضور ﷺ سے سخت عداوت تھی ۔ یہ عجمی قصے اور افسانے خرید لاتا ۔ اور جب حضور ﷺ لوگوں کو قرآن سناتے تو وہ یہ کہانیاں لے بیٹھتا ۔ اور لوگوں سے کہتا ۔ کہ قرآن سے تو یہ یہی باتیں زیادہ دلچسپ ہیں ۔ ان کو سنو ، اور قرآن کی طرف توجہ نہ کرو ۔ اس کا خیال تھا ۔ کہ یہ قرآن کی موثریت کا جواب ہے ۔ ان آیات میں اسی قسم کے لوگوں کا تذکرہ ہے ۔ کہ جو جھوٹے قصے سنتے ہیں ۔ اور لوگوں کو لغو اور جھوٹی کہانیاں سناتے ہیں ۔ قرآن کی آیتوں کو بوجہ کبر و غرور سنی ان سنی کردیتے ہیں ۔ اور ان کا مذاق اڑاتے ہیں ۔ فرمایا ۔ کہ ان لوگوں کے لئے خدا کے ہاں درد ناک عذاب ہے ۔…
Read the full tafseer →(12) اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے دریا کو تمہارے لئے تمسخر کردیا اور دریا کو تمہارے بس میں کردیا تاکہ اللہ کے حکم سے دریا میں کشتیاں اور جہاز چلیں اور تاکہ تم لوگ اس کا فضل یعنی روزی تلاش کرو اور طلب معیشت کرو۔ اور تاکہ تم اس کا شکر بجالائو۔ یہاں سے توحید کا بیان فرمایا دریائوں کی تسخیر اور دریائی سفر سے بیشمار منافع کا حصول ظاہر ہے اور ان انعامات پر شکر بجا لانا انسانیت کا بڑا وظیفہ ہے بلکہ انسانیت کی دلیل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
ف 1۔ مطلب یہ کہ جن آیتوں کو تلاوت میں سنتا ہے ان کی بھی تکذیب کرتا ہے، اور جن آیتوں کی ویسے ہی خبر سن لیتا ہے ان کی بھی تکذیب کرتا ہے، غرض تکذیب آیات میں بہت بڑھا ہوا ہے۔
Read the full tafseer →اللہ وہ ہے جس نے سمندروں کو تمہارے کام میں لگادیا ہے ، چاہے کہ تم اس کا شکر ادا کرو
21 ؎ مسخر کرنا کیا ہے ؟ کسی کو مجبو رکرکے کسی کام پر لگایا جانا جس میں اس کی اپنی مرضی کو کوئی عمل دخل نہ ہو انسان کے لیے اس کائنات کی ہرچیز مسخر کردی گئی ہے اور کوئی شے ایسی نہیں ہے جو اپنی مرضی اور اختیار کرسکے بلکہ انسان میں یہ طاقت وقوت اور سمجھ وسوچ کا ایسا مادہ پیدا کردیا گیا ہے کہ وہ اس کائنات کی ہرچیز کو مسخر کرسکتا ہے اگر مسخر کرنا چاہے اور کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کے مسخر کرنے سے مسخر نہ ہوسکے بشرطیکہ وہ مسخر کرنا چاہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کسی چیز کو اتنا اختیار نہیں دیا جتنا کہ اللہ رب کریم نے ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
Commentary
اللَّـهُ الَّذِي سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِيَ الْفُلْكُ فِيهِ بِأَمْرِهِ وَلِتَبْتَغُوا مِن فَضْلِهِ ("Allah is the One who has subjugated for you the sea, so that you may seek His grace, ... 45:12) ". Generally, when Qur'an uses the expression ` to seek His grace' it refers to exerting oneself in seeking one's livelihood. Another meaning of the phrase could be that man has been given the skill to move the boats or pilot the ships on the surface of the waters so that he may carry out his commercial activities across the globe. It is possible that ` seeking grace' does…
Read the full tafseer →13 For explanation, see Bani Isra'il: 66-67, Ar-Rum: 46 and the corresponding E.N.'s, and E.N. 55 of Luqman, E.N. 110 of Al Mu'min, and E.N. 54 of Ash-Shura.
14 "Seek His bounty": Seek lawful provisions by trade, fishing, diving, navigation and other means in the sea.
Read the full tafseer →