Al-Jaathiya 45:11

Al-Jaathiya · from ayah 11

45:11

هٰذَا هُدًی ۚ— وَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ ۟۠هٰذَا هُدًى‌ ‌ۚ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمۡ لَهُمۡ عَذَابٌ مِّنۡ رِّجۡزٍ اَلِيۡمٌ

یہ ہدایت (کی کتاب) ہے۔ اور جو لوگ اپنے پروردگار کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں ان کو سخت قسم کا درد دینے والا عذاب ہوگا

— Fateh Muhammad Jalandhari

This [Qur'an] is guidance. And those who have disbelieved in the verses of their Lord will have a painful punishment of foul nature.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Jaathiya

All translations of 45:11

یہ قرآن سراسر ہدایت ہے، اور اُن لوگوں کے لیے بلا کا درد ناک عذاب ہے جنہوں نے اپنے رب کی آیات کو ماننے سے انکار کیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ ہدایت (کی کتاب) ہے۔ اور جو لوگ اپنے پروردگار کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں ان کو سخت قسم کا درد دینے والا عذاب ہوگا

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ (سر تاپا) ہدایت ہے اور جن لوگوں نے اپنے رب کی آیتوں کو نہ مانا ان کے لیے بہت سخت دردناک عذاب ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ (قرآن) سراپا ہدایت ہے اور جن لوگوں نے اپنے پروردگار کی آیتوں کا انکار کیا ہے، ان کے لیے بلا کا دردناک عذاب ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہ راہ دکھانا ہے اور جنہوں نے اپنے رب کی آیتوں کو نہ مانا ان کے لیے دردناک عذاب میں سے سخت تر عذاب ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہ (قرآن) ہدایت ہے، اور جن لوگوں نے اپنے رب کی آیات کے ساتھ کفر کیا اُن کے لئے سخت ترین دردناک عذاب ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہ سراسر ہدایت ہے اور وہ لوگ جنھوں نے اپنے رب کی آیات کا انکار کیا ان کے لیے عذاب میں سے دردناک عذاب ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ قرآن تو سراسر ہدایت ہے اور جو لوگ اپنے پروردگار کی آیات کے منکر ہیں ان کے لئے بلا کا دردناک عذاب ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ اصل ہدایت ہے اور جنہوں نے اپنے رب کی آیات کا انکار کیا تو ان کے لئے ایک درد ناک عذاب ہے کپکپی پیدا کر دینی والی نوعیت کا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ (قرآن) تو سراسر ہدایت ہے اور جو لوگ (اس کے باوجود اس سے منہ موڑے) اپنے رب کی آیتوں کا انکار ہی کئے جا رہے ہیں ان کے لئے بلا کا ایک نہایت دردناک عذاب ہے

— مولانا اسحاق مدنی

یہ (قرآن) ہدایت ہی ہے اور جو لوگ اپنے پروردگار کی نشانیوں سے کفر کرتے ہیں ان کے لئے سختی کا عذاب دردناک ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ (قرآن) ہے ہدایت۔ اور جن لوگوں نے اپنے رب کی آیات کا کفر کیا ان کے لیے بہت ہی دردناک عذاب ہوگا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ ہدایت کی کتاب ہے اور جو لوگ اپنے رب کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں ان کو سخت قسم کا درد دینے والا عذاب ہوگا

— محترمہ رفعت اعجاز

This (Qur'an) is the true guidance. Those who deny the Signs of their Lord shall suffer the torment of a woeful scourge.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

This is guidance, and those who reject the verses of their Lord, for them there is a painful punishment of the divine scourge.

— Muhammad Taqi Usmani

This is guidance, and those who reject the verses of their Lord, for them there is a painful punishment of the divine scourge.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

This is guidance. And those who disbelieve in the Ayat of their Lord, for them there is a painful torment of Rijz.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

This is guidance. And those who disbelieve the revelations of their Lord, for them there is a painful doom of wrath.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

This [Qur'an] is guidance. And those who have disbelieved in the verses of their Lord will have a painful punishment of foul nature.

— Saheeh International

This (Quran) is a guidance. Those who reject the revelations of their Lord will suffer the most painful punishment.

— Muhammad Sarwar

This is guidance; and (as for) those who disbelieve in the communications of their Lord, they shall have a painful punishment on account of uncleanness.

— Muhammad Habib Shakir

This Book is guidance, and those who disbelieve in the revelations of their Lord, theirs shall be torment of calamity, afflictive.

— Abdul Majid Daryabadi

This is (true) Guidance and for those who reject the Signs of their Lord, is a grievous Penalty of abomination.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 45:11

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 6–11

قرآن عظیم کی اہانت سے بچاؤ مطلب یہ ہے کہ قرآن جو حق کی طرف نہایت صفائی اور وضاحت سے نازل ہوا ہے۔ اس کی روشن آیتیں تجھ پر تلاوت کی جا رہی ہیں۔ جسے یہ سن رہے ہیں اور پھر بھی نہ ایمان لاتے ہیں نہ عمل کرتے ہیں تو پھر آخر ایمان کس چیز پر لائیں گے ؟ ان کے لئے ویل ہے اور ان پر افسوس ہے جو زبان کے جھوٹے کام کے گنہگار اور دل کے کافر ہیں اس کی باتیں سنتے ہوئے اپنے کفر انکار اور بد باطنی پر اڑے ہوئے ہیں گویا سنا ہی نہیں انہیں سنا دو کہ ان کے لئے اللہ کے ہاں دکھ کی مار ہے قرآن کی آیتیں ان کے مذاق کی چیز رہ گئی ہیں۔ تو جس طرح یہ میرے کلام کی آج اہانت کرتے ہیں کل میں انہیں ذلت کی سزا دوں گا۔ حدیث شریف میں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 10–11

سورة الْجَاثِیَة 11 اصل الفاظ ہیں مِنْ وَّرَآئِھِمْ جَھَنَّمُ۔ وراء کا لفظ عربی زبان میں ہر اس چیز کے لیے بولا جاتا ہے جو آدمی کی نظر سے اوجھل ہو، خواہ وہ آگے ہو یا پیچھے۔ اس لیے دوسرا ترجمہ ان الفاظ کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ " ان کے پیچھے جہنم ہے۔ " اگر پہلے معنی لیے جائیں تو مطلب یہ ہوگا کہ وہ بیخبر منہ اٹھائے اس راہ پر دوڑے جا رہے ہیں اور انہیں احساس نہیں ہے کہ آگے جہنم ہے جس میں وہ جا کر گرنے والے ہیں۔ دوسرے معنی لینے کی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ وہ آخرت سے بےفکر ہو کر اپنی اس شرارت میں مشغول ہیں اور انہیں پتہ نہیں ہے کہ جہنم ان کے پیچھے لگی ہوئی ہے۔ سورة الْجَاثِیَة 12 یہاں ولی کا لفظ دو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–11

(آیت) مِنْ وَّرَاۗىِٕهِمْ جَهَنَّمُ ، ”ورائ“ کا لفظ عربی میں ”پیچھے“ کے لئے زیادہ اور ”سامنے“ کیلئے کم استعمال ہوتا ہے لیکن اکثر مفسرین نے یہاں ”سامنے“ کے معنی قرار دیئے ہیں۔ چناچہ خلاصہ تفسیر میں ترجمہ اسی کے مطابق کیا گیا ہے البتہ بعض مفسرین نے ’ پیچھے ‘ کے معنی لئے ہیں اور مطلب یہ قرار دیا ہے کہ دنیا میں وہ جس نخوت وتکبر کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں اس کے پیچھے یعنی بعد میں جہنم آنیوالی ہے (قرطبی)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ھذا ھدی والدین کفروا بایت ربھم لھم عذاب من رجز الیم (11) یعنی یہ قرآن اللہ کی نازل کردہ ہدایت ہے۔ یہ ہنسی مسخری کی چیز نہیں ہے۔ جو لوگ اللہ کی ان آیات کا انکار کریں گے یا مذاق اڑائیں گے وہ یاد رکھیں کہ ان کے لئے ایک درد ناک عذاب ہوگا۔ من رجز کے الفاظ اس عذاب کی نوعیت واضح کر رہے ہیں۔ رجز اس سزا یا عذاب کو کہتے ہیں جو کپکپی پیدا کر دے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کوئی معمولی عذاب نہیں ہوگا بلکہ نہایت درد ناک ہوگا۔ جو دلوں کو لرزا دے گا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

11، 1 یعنی قرآن ! کیونکہ اس کے نزول کا مقصد ہی یہ ہے کہ لوگوں کو کفر و شرک کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان کی روشنی میں لایا جائے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آیت نمبر 11 اس قرآن کی حقیقت بس یہ ہے کہ یہ ایک رہنمائی ہے۔ خالص ہدایت ، صاف صاف ہدایت ۔ ایسی ہدایت جس میں ضلالت کا کوئی شائبہ نہیں ہے۔ اس لیے اس قسم کی آیات کا جو لوگ انکار کرتے ہیں ، وہ اس بات کے مستحق ہوجاتے ہیں کہ ان کو دردناک عذاب سے دوچار کردیا جائے۔ الیم کے معنی میں شدت الم اور ایذا رسانی کے معنی ظاہر ہیں۔ رجز کے معنی ہیں عذاب شدید۔ اور جس عذاب کی انہیں دھمکی دی جارہی ہے ، وہ الیم بھی ہے اور شدید بھی ۔ یعنی اس کی شدت اور اس کا الم دونوں مکررو مشدد ہیں۔ تاکید بعد تاکید ہے اور جو لوگ واضح خالص اور صریح ہدایت کا انکار کرتے ہیں ان کے لئے ایسا عذاب ہی ہونا چاہئے۔ ٭٭٭٭٭ اس شدید دھمکی اور سخت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی یہ قرآن عظیم الشان ہدایت ہے جو سب طرح کی برائی بھلائی انسان کو سمجھانے کے لیے آتی ہے جو اس کو نہ مانیں وہ سخت غلیظ اور دردناک عذاب بھگتنے کے لیے تیار رہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 11 { ہٰذَا ہُدًیج وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمْ لَہُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ} ”یہ قرآن ہے ہدایت۔ اور جن لوگوں نے اپنے رب کی آیات کا کفر کیا ان کے لیے بہت ہی دردناک عذاب ہوگا۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

14 جو بروقت تمہیں خبردار کر رہا ہے کہ قیامت کے دن تمہارا کوئی کارساز تمہارے کام نہ آسکے گا۔ نیز یہ قرآن تمہیں دنیا میں زندگی گزارنے کا بھی نہایت مناسب اور متوازن راستہ بتاتا ہے۔ نیز وہ راہ بھی جس سے تمہیں اخروی عذاب سے نجات حاصل ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 11–12

7۔ اور اس شکر گزاری کی سب سے بڑی فرد یہ ہے کہ اللہ کی توحید و ربوبیت کا اقرار کرو، اور اس کے احکام کی تعمیل، (آیت) ’ ’ سخرلکم “۔ یعنی تمہارے نفع کیلئے اپنے احکام تکوینی کا تابع بنایا۔ خطاب یہاں عام نوع انسانی سے ہے۔ (آیت) ” لتبتغوا من فضلہ “۔ یعنی تاکہ تم ان کشتیوں پر سوار ہو کر اور سفر کر کرکے ہر طرح کے نفع حاصل کرو، (آیت) ” من فضلہ “۔ فضل۔ یہاں بہت وسیع معنی میں ہے۔ بحری تجارت، بحری شکار، جہاز رانی سیپی، موتی، مونگے کا کاروبار، غواصی وغیرہ سب کچھ اس میں آجاتا ہے۔ التجارۃ والغوص والصید وغیرھا (بیضاوی) (آیت) ” بامرہ “۔ میں اشارہ کردیا کہ سمندر کا اتنا مسخر ہوجانا یہ تمامتر احسان خداوندی ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–11

آیت نمبر 1 تا 11 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے کتاب یعنی قرآن کا نزول اللہ کی طرف سے ہے (من اللہ) خبر ہے جو کہ اپنے ملک میں غالب اور اپنی صنعت میں حکمت والا ہے بلاشبہ آسمانون اور زمین میں یعنی ان دونوں کے پیدا کرنے میں ایسی نشانیاں ہیں جو اللہ کی قدرت اور وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں، اور خود تمہاری پیدائش میں یعنی تم سب کو نطفہ سے پیدا کرنے میں پھر دم بستہ سے پھر گوشت کے لوتھڑے سے، حتی کہ وہ نطفہ انسان ہوجاتا ہے، اور ان جانوروں کی پیدائش میں جنہیں وہ زمین پر پھیلاتا ہے (دابۃ) ہر وہ شئ ہے جو زمین پر چلے انسان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ھذا ھدی والذین کفروا بایت ربھم لھم عذاب من رجز الیم یہ قرآن سراسر ہدایت ہے اور جو لوگ اپنے رب کی ان آیتوں کو نہیں مانتے ‘ ان کیلئے سختی کا دردناک عذاب ہے۔ ھٰذَا ھُدًی یہ قرآن ہدایت ہے ‘ یعنی ایسی چیز ہے جس سے ہدایت حاصل ہوتی ہے۔ رِجْز سخت ترین عذاب۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

کیونکہ قرآن کریم گمراہی سے ہدایت ہے اور نضر اور اس کے ساتھیوں نے رسول اکرم اور قرآن کریم کی جو تکذیب کی ہے ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) ھذا ھدی : یعنی یہ قرآن سرا سر ہدایت ہے۔ ”ھدی“ مصدر بمعنی اسم فاعل برائے مبالغہ ہے، جیسے ”زید عدل“ کا مطلب یہ ہے کہ زید اتنا عادل ہے کہ سراپا عدل ہے۔ (ھذا ھدی ‘ کے معنی کی ایک تعبیر یہ ہے کہ ”یہ قرآن ہدایت میں کامل ہے۔“ زمخشری نے فرمایا :”ھذا ھدی“ کا مطلب یہ ہے کہ یہ قرآن ہدایت میں کامل ہے، جیسے تم کہتے ہو ”زید رجل“ یعنی ”زید رجولیت میں کامل ہے۔“ (2) والذین کفروا بایت ربھم …:”رجز“ کا لفظ عذاب کی سخت ترین صورتوں پر بولا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

یہ مبتدا خبر ہے یعنی قرآن سراپا ہدایت ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد وہ چیز ہے جس کو حضرت محمد ﷺ لائے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کا انکار کیا رجز سے مراد عذاب ہے، یعنی ان کے لئے دردناک عذاب ہے ان کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (بقرہ 59) رجز سے مراد عذاب ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : رجز سے مراد ناپاک شے ہے جس طرح رجس ہوا کرتا ہے یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے (ابراہیم) یعنی گندہ مشروب پینے کی صورت میں ان کے لئے عذاب ہے یہ لفظ جہاں بھی واقع ہوا ہے ابن محیصن نے راء کو ضمہ دیا ہے ابن کثیر، ابن محیصن اور حفص نے الیم کو مرفوع پڑھا ہے معنی ہے ان کے لئے درد ناک عذاب ہے جو رجز ہے باقی قراء…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 5–12

1:۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وما انزل اللہ من السمآء من رزق “ (اور جو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے رزق نازل فرمایا) یعنی بارش (آیت ) ” وتصریف الریح “ (اور ہواؤں کے چلانے میں) یعنی جب چاہے اس کو رحمت بنادے اور جب چاہے اس کو عذاب بنادے (آیت ) ” لکل افاک اثیم “ (ہر چھوٹے اور سخت گناہگار کے لئے) یعنی بہت جھوٹ بولنے والا۔ 2:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لکل افاک اثیم “ سے مراد مغیرہ بن مخزوم ہے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

ھٰذَا هُدًى ۚ [ یہ (قرآن) ہدایت ہے ] وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا [ اور وہ لوگ جنھوں نے انکار کیا ] بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ [ اپنے رب کی آیات کا ] لَهُمْ عَذَابٌ [ ان کے لئے ایک ایسا عذاب ہے ] مِّنْ رِّجْزٍ [ گندگی میں سے ] اَلِيْمٌ [ جو دردناک ہے ] آیت ۔ 11 ۔ الیم کی رفع بتارہی ہے کہ یہ عذاب کی صفت یا بدل ہے۔ اگر یہ الیم ہوتا تو پھر یہ رجز کی صفت ہوتی ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿هٰذَا هُدًى1ۚ﴾ (یہ قرآن سراپا ہدایت ہے اس پر ایمان لانا اور عمل کرنا لازم ہے) مذکورہ صفات سے متصف ہونے والوں کے لیے تینوں طرح کا عذاب بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا ﴿ وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ ﴾ (الآیۃ) اور جن لوگوں نے اپنے رب کی آیات کے ساتھ کفر کیا ان کے لیے سخت عذاب کا بڑا حصہ ہوگا جو درد ناک ہوگا وہاں کا عذاب الیم بھی ہے یعنی درد ناک اور ﴿ مُّهِيْنٌ ﴾ ہے یعنی ذلیل کرنے والا اور عظیم یعنی بڑا بھی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–11

بیان عظمت کتاب خداوندی وذکر دلائل قدرت وتنبیہ بر اعراض و انحراف : قال اللہ تعالیٰ :۔ (آیت ) ” حم تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم ...... الی ....... من رجز الیم “۔ (ربط) گزشتہ سورت کا مضمون ان اوصاف کے بیان پر ختم کیا گیا تھا۔ جو انسانی فوز و فلاح اور سعادت کے ضامن ہیں اور یہ کہ قرآن کریم عربی زمین میں آسان وسہل بنا کر نازل کیا گیا اب اگر اس کے بعد بھی لوگ ہدایت قبول نہ کریں تو یہ انکی محرومی اور بدنصیبی ہے تو اس مناسبت سے سورة جاثیہ کی ابتداء عظمت کو دیکھ کر اس کی کتاب کی عظمت کو بھی پہچان سکیں، ساتھ انعامات کا بھی ذکر ہے اور قادر مطلق ومنعم حقیقی کی نافرمانی پر تنبیہ ووعید بھی، تو ارشاد…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

8:۔ ” ھذا ھدی “ الایۃ۔ ھذا یا تو اس سورت میں مذکورہ بالا مضامین کی طرف اشارہ ہے یا اس سے قرآن مراد ہے۔ جمہور مفسرین نے یہی لکھا ہے یہ قرآن سراپا رشد و ہدایت ہے۔ ” والذین کفروا الخ “ اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیات بینات کا انکار کرتے ہیں ان کے لیے سخت ترین اور دردناک عذاب کی سزا ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 6–11

سورة کی ابتدا میں قرآن کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان فی السموت والارض سے لے کر لقوم یعقلون تک اپنی توحید کے بعض دلائل اجمالاً ذکر کئے اب انہی دلائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے تلک ایت اللہ نتلوھا علیک بالحق یہ اللہ تعالیٰ کی آیتیں ہیں جو ہم پڑھتے ہیں آپ پر حق کے ساتھ یعنی ان آیات کو صحیح صحیح سچے انداز میں حقیقت کے ساتھ تلاوت کرتے ہیں تاکہ ان میں کسی قسم کا اشتباہ باقی نہ رہے۔ آیات آیت کی جمع ہے اور قرآن پاک میں یہ لفظ نشانی (علامت ) ، دلیل (حجت) معجزہ یا حکم کے معانی میں استعمال کیا گیا ہے۔ تاہم اس مقام پر آیات سے مراد علامات اور دلائل لئے گئے ہیں۔ چناچہ ا س سورة…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ھٰذَا ہُدًى۝ 0 ۚ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّہِمْ لَہُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِيْمٌ۝ 11 ۧ هذا ( ذَاكَ ذلك) وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال : هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] ، إلى غير ذلك هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] ، هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 7–11

فرماتا ہے ویل لکل افاک اثیم الخ یہاں سے منکروں کے اقسام ذکر کرتا ہے اور انکار پر برانگیختہ کرنے والی خباثت کا بھی ذکر کرتا ہے۔ قسم اول سن کر کانوں میں مار جانے والے گویا سنا ہی نہیں تکبر کی راہ سے اس کی کچھ پرواہی نہ کی۔ اور اس کا محرک اور مادہ کیا ہے افک اثم جو افاک واثیم سے سمجھا گیا۔ افک جھوٹ بولنا افاک بڑا جھوٹا اثم گناہ اثیم بڑا گناہگار۔ بیشک جس میں یہ بدخصلتیں پیدا ہوجاتی ہیں اس کا دل سیاہ ہوجاتا ہے حق قبول کرنے کا مادہ نہیں رہتا۔ یہ قریش کے بعض سرداروں کی عادت تھی جن کی طرف ان لفظوں میں اشارہ ہے۔ اول اس کے لیے صرف لفظ ویل فرمایا تھا یعنی خرابی ہو اس کی یاویل جہنم کی ایک جگہ ہے کہ یہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ھٰذَا ھُدًی ج وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمْ لَھُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ۔ (الجاثیۃ : 11) (یہ قرآن) سراسر ہدایت ہے، اور جن لوگوں نے اپنے رب کی آیات کا انکار کیا ان کے لیے کپکپی پیدا کردینے والا دردناک عذاب ہے۔ ) قرآن کریم سے متعلق قول فیصل اور مخالفین کا انجام رِجْزٍاس سزا یا عذاب کو کہتے ہیں جو کپکپی پیدا کردے۔ رکوع کے آخر میں قرآن کریم کے حوالے سے مخالفین کو تنبیہ کرتے ہوئے ایک ایسی بات ارشاد فرمائی گئی ہے جسے فیصلہ کن اور آخری بات کہنا چاہیے۔ فرمایا گیا ہے کہ یہ کتاب، کتاب ہدایت ہے۔ انسان زندگی گزارنے کے لیے رہنمائی کا محتاج ہے۔ اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے حواس دیئے ہیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 7–11

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیاں دیکھنے اور اس کی نعمتوں سے مستفید ہونے کے باوجود جھوٹا اور متکبر آدمی اپنے رب کو اس کے حکم کے مطابق ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ ایسے شخص کا انجام بدترین ہوگا۔ جو آدمی توحید و رسالت کو جھٹلانے اور تکبر کا راستہ اختیار کرلیتا ہے اس کی حالت یہ ہوتی ہے کہ جب بھی اسے اللہ کی توحید کی آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ انہیں سننے کے باوجود ایسا رویہ اختیار کرتا ہے گویا کہ اس نے اپنے رب کی آیات کو سنا ہی نہیں۔ اگر کسی وقت توجہ سے سن لیتا ہے تو ایمان لانے کی بجائے انہیں مذاق کرتا ہے۔ اس کے بارے میں ارشاد ہوا کہ اس کو اذیت ناک عذاب کی خوشخبری سنائیں۔ جو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 11 : ہٰذَا ہُدًی (یہ قرآن مکمل ہدایت ہے) ہذا کا مشارالیہ قرآن ہے۔ اس پر یہ آیت دلالت کر رہی ہے۔ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمْ (اور جو لوگ اپنے رب کی آیات کو نہیں مانتے) آیات رب تو قرآن مجید ہے۔ یعنی یہ قرآن ہدایت میں کامل ہے۔ جیسا کہتے ہیں زیدٌ رجل ای کامل فی الرجولیۃ۔ لَہُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ (ان کے لئے سختی کا درد ناک عذاب ہوگا) رجز سخت ترین عذاب کو کہتے ہیں۔ قراءت : الیمٌ کو رفع کے ساتھ مکی ٗ یعقوب وحفص نے پڑھا ہے۔ یہ عذاب کی صفت ہے اور دیگر قراء نے رجزٍ کی صفت قرار دے کر مجرور پڑھا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

10، من ورائھم، ان کے سامنے، جھنم، یعنی وہ دنیا میں اپنے اموال کے ساتھ نفع اٹھا نے والے ہیں اور ان کے لیے آخرت میں جہنم ہے جس میں وہ داخل ہوں گے۔ ، ولا یغنی عنھم ماکسبوا، اموال میں سے، شیئا ولا مااتخذوا من دون اللہ اولیائ، اور نہ وہ جن معبودوں کی وہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ عبادت کرتے ہیں۔ ، ولھم عذاب عظیم،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 3–15

3۔ 15۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی چند نشانیوں کا ذکر فرمایا ہے مثلاً آسمان و زمین کا پیدا کرنا ‘ آسمان میں فرشتوں اور سورج و چاند ستاروں کا پیدا کرنا زمین میں انسان جن چرند پرند طرح طرح کے جانوروں کا جنگل اور دریا میں پیدا کرنا دریا اور ندیوں کا جاری کرنا اور ان میں کشتیوں کا چلانا دنیا کے کاروبار کے لئے دن اور سورج کی روشنی کو پیدا کرنا اور کاروبار کی محنت سے جو آدمی تھک جاتا ہے اس تھکان کے رفع کرنے کیلئے رات اور رات کی نیند کو پیدا کرنا آسمان سے مینہ کا برسانا جس سے ہر طرح کے اناج ہر طرح کے میووں ہر طرح کی ترکاریوں کا زمین میں پیدا ہونا ہر طرح کی ہوا کا چلانا جس کی تاثیر سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–11

آیت 1 ۔ 11 اللہ تبارک و تعالٰ ایک ایسی خبر دیتا ہے جو قرآن کی تعظیم اور اس کے اہتمام کو متضمن ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ کتاب (تنزیل) ” نازل کی گئی ہے۔ “ (من اللہ) ” اللہ کی طرف سے۔ “ جو معبود ہے کیونکہ وہ صفات کمال سے متصف ہے صرف وہی ہے جو نعمتیں عطا کرتا ہے جو غلبہ کامل اور حکمت تامہ کا مالک ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آیات افقیہ و نفسیہ کا ذکر کر کے اس کی تائید فرمائی۔ یعنی آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا ذکر فرمایا، نیز زمین کے اندر جو چوپائے پھیلائے، آسمان اور زمین میں جو منفعتیں ودیعت کیں، آسمان سے جو پانی نازل کیا جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین اور اپنے بندوں کو زندگی بخشتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

12 یہ کتاب حکیم سراسر ہدایت ہے : یعنی یہاں پر " ھادی " نہیں " ھدًی " فرمایا گیا ہے جو کہ مصدر ہے۔ یعنی یہ کتاب حکیم نری ہدایت، عین ہدایت، سراسر ہدایت اور کامل ہدایت کا مجموعہ ہے۔ اس کو جس پہلو سے بھی دیکھا جائے یہ حق و ہدایت کے نور سے سرفراز کرتی ہے۔ اس کے دامن رحمت سے وابستگی دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرنے والی چیز ہے۔ اور اس سے اعراض و روگرانی ۔ والعیاذ باللہ ۔ سعادت دارین سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ زندگی کا ہر لمحہ اس کتاب حکیم کی خدمت میں صرف کرنے اور اس کے دامن رحمت و ہدایت سے وابستہ رہنے کی سعادت و توفیق بخشے اور اس کی خدمت کو محض اپنی شان کریمی و رحیمی سے قبول…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–13

اللہ کی برتری کا یقین تشریح : اللہ کو پہچان کر اس پر یقین کرلینا اور اس کی کتاب کو غور سے پڑھ کر زندگی ‘ کائنات ‘ اور کائنات کی تمام چیزوں سے واقفیت حاصل کر کے ان سے پورا پورا فائدہ اٹھانا یہ بڑی سیدھی آسان اور معقول بات ہے۔ اللہ نے انسان کو سچائی کی فطرت پر پیدا کیا ہے۔ یعنی جب عالم ارواح میں تمام روحوں سے اللہ نے سوال کیا کہ تمہیں کس نے پیدا کیا ہے تو سب نے یک زبان جواب دیا کہ اللہ نے۔ اسی طرح کوئی کتنا ہی برا منکر خدا، پکا کافر ہی کیوں نہ ہو جب آپ اس سے پوچھتے ہیں کہ بھئی تمہیں کس نے پیدا کیا ہے ؟ تو وہ فورا جواب دے گا اللہ نے مسلمان تو اپنے خالق کو اللہ کہتا ہے جبکہ غیر مسلم اپنی زبان میں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–11

آیات 1 تا 11۔ اسرار ومعارف۔ یہ کتاب اللہ کی طرف سے نازل کی گئی جو سب پر غالب ہے اور زبردست حکمتوں والا ہے یہ اسکی عظمت کی مظہر ہے اور چاہیے تھا کہ اس کو قبول کرتے اور مان جاتے اپنی نجات کا سامان کرتے اس کتاب کی عظمت یہ بھی ہے کہ محض حکماء ہی ماننے کو نہیں کہہ رہی بلکہ دلائل سے حق کو ثابت کرتی ہے ماننے والوں کے لیے آسمانوں اور زمین میں بیشمار دلائل ہیں کہ جیسے جیسے عقل انسانی تخلیق میں اور حیوانات کی حیات میں کسی قدر دلائل ہیں تخلیق کے فطری طریقے صحت وبیماری کے راز غذا اور حیات کا رابطہ اور ایک خلیے کی تعمیر وتخریب بھلاکس قدر دلائل سے بھرپور ہے اگر علم نصیب ہوتوشب وروز کا اختلاف باعتبار اوقات…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 10–12

ف 4 یعنی پانی میں باوجود اس کے گہرا ہونے کے جہاز اور کشتیاں غرق نہیں ہوتیں اور یہ محض اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نظام تکوینی ایسا بنایا ہے کہ انسان برویجر میں نقل و حرکت کرسکے۔ اگر اللہ تعالیٰ کا حکم ایسا نہ ہوتا تو سمندر میں جہازوں اور کشتیوں کے چلنے کا ہرگز امکان نہ ہوتا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(45:11) ھذا ھدی : ھذا۔ ای القران۔ یہ قرآن سراسر ہدایت ہے۔ عذاب من رجز الیم : عذاب الیم موصوف و صفت، دردناک عذاب ۔ رجز کے متعلق ضیاء القرآن میں ہے :۔ علامہ ابن منطور اس کی تحقیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ (ترجمہ) ابو اسحاق کہتے ہیں کہ رجز کا لفظ جو قرآن میں مذکور ہے۔ اس کا معنی ہے ایسا عذاب جو اپنی شدت کے باعث لرزہ خیز ہو۔ اس کے جھٹکے شدید اور لگاتار ہوں۔ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ :۔ وہ بدبخت جو ازراہ غرور تکبر اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں انہیں شدید عذاب سے دردناک عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ امام راغب اصفہانی المفردات میں لکھتے ہیں :۔ الرجز کے اسل معنی اضطراب کے ہیں اور اسی سے رجز البعیر ہے جس کے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–13

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 11 : یبت (وہ پھیلاتا ہے) تصریف ( الٹتا پلٹتا ہے) حدیث (بات) افاک ( جھوٹ بولنے والا) بصر (وہ ضد کرتا ہے ، اڑجاتا ہے) رجز ( سزا ، عذاب) تشریح : آیت نمبر 1 تا 11 : سورة الجاثیہ مکہ مکرمہ میں ہجرت سے کچھ عرصے پہلے ہی نازل ہوئی ۔ مکی سورتوں کی طرح اس میں بھی انسان کے بنیادی عقیدوں کی اصلاح ، توحیدخالص ، نبوت و رسالت اور فکر آخرت کو مختلف انداز سے بیان کیا گیا ہے تا کہ ایمان ، یقین اور عقل و فہم رکھنے والے جو کائنات میں غور و فکر کرتے ہیں اور صاحب بصیرت ہیں وہ حقیقی کامیابی حاصل کرسکیں ۔ زمین و آسمان کا مرتب نظام ، چاند سورج کا باقاعدگی سے نکلنا ، انسان اور جان داروں کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 8–13

(ف 1) فرمایا کہ دنیا میں تو یہ لوگ اللہ کا کلام جو ان کے سامنے پڑھاجاتا ہے اور اللہ کے کلام میں جو قدرت کی نشانیاں ہیں وہ سب سن کر مکڑائیاں کرتے ہیں اور اپنے کفر پر قائم رہتے ہیں اور اللہ کے کلام کو مسخراپن اور جھوٹی باتوں میں اڑاتے ہیں لیکن عقبی میں ان مکڑائیاں کا بہت خمیازہ بھگتنا ہوگا انکو اور انہوں نے دنیا میں جو مال واولاد وعزت و حشمت جمع کیا ہے اور جن بتوں کی یہ لوگ پوجا کرتے ہیں کوئی چیز ان کے کام نہیں آئے گی اور کوئی یہ چیز ان کو دوزخ کے عذاب سے نہ چھڑائے گی ان کو وہاں سخت عذاب ہوگا پھر فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسو کا کام نصیحت کرنا ہے جو کوئی اس نصیحت کو مان کر کچھ نیکی کرے گا اپنا…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 10–12

قرآن صحیفہ رشدوہدایت ہے 1: نضر بن حارث ایک شخص تھا ۔ جس کو حضور ﷺ سے سخت عداوت تھی ۔ یہ عجمی قصے اور افسانے خرید لاتا ۔ اور جب حضور ﷺ لوگوں کو قرآن سناتے تو وہ یہ کہانیاں لے بیٹھتا ۔ اور لوگوں سے کہتا ۔ کہ قرآن سے تو یہ یہی باتیں زیادہ دلچسپ ہیں ۔ ان کو سنو ، اور قرآن کی طرف توجہ نہ کرو ۔ اس کا خیال تھا ۔ کہ یہ قرآن کی موثریت کا جواب ہے ۔ ان آیات میں اسی قسم کے لوگوں کا تذکرہ ہے ۔ کہ جو جھوٹے قصے سنتے ہیں ۔ اور لوگوں کو لغو اور جھوٹی کہانیاں سناتے ہیں ۔ قرآن کی آیتوں کو بوجہ کبر و غرور سنی ان سنی کردیتے ہیں ۔ اور ان کا مذاق اڑاتے ہیں ۔ فرمایا ۔ کہ ان لوگوں کے لئے خدا کے ہاں درد ناک عذاب ہے ۔…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(11) یہ قرآن سراسر ہدایت ہے اور جو لوگ اپنے پروردگار کی آیتوں کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور نہیں مانتے ان کو بری بلا کا درد ناک عذاب ہونے والا ہے۔ یعنی جو اس ہدایات کے منکر ہیں ان کے لئے سخت دردناک عذاب ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 9–13

ف 1۔ مطلب یہ کہ جن آیتوں کو تلاوت میں سنتا ہے ان کی بھی تکذیب کرتا ہے، اور جن آیتوں کی ویسے ہی خبر سن لیتا ہے ان کی بھی تکذیب کرتا ہے، غرض تکذیب آیات میں بہت بڑھا ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قرآن کریم پر ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت ہے اور نہ ماننے والوں کے لیے عذاب کی خبر 11 ؎ قرآن کریم ہدایت ہے لیکن ان لوگوں کے لیے جو اس کو بطور ہدایت قبول کرتے ہیں اور جو لوگ اس کی ہدایت سے استفادہ نہیں کنا چاہتے اور اس کو اللہ کی کتاب تسلیم نہیں کرتے ان کے لیے درد ناک عذاب کی ایک خبر ہے جو قبل از وقت ان کو سنائی جارہی ہے (رجز) کی اصل ر ج ز ہے اور یہ لفظ تین بار قرآن کریم میں بیان ہوا ہے اس کے معنی پلیدی ، گناہ ، عذاب اور بت وغیرہ کے آتے ہیں اور رجز اصل میں وہ چیز ہے جس سے گھن آئے اور (رجس) کے ہم معنی ہی استعمال ہوتا ہے اور بعض نے ہیں تک لکھا ہے کہ ” زا “ ” سین “ سے بدل گیا ہے یا ” سین “ ” زا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 10–11

مِّن وَرَ‌ائِهِمْ جَهَنَّمُ "In front of them, there is Jahannam...45:10" The word وَرَ‌اءِ war' in Arabic is mostly used in the sense of "behind" and occasionally used in the sense of "front". Most commentators have taken the word in this context to mean ` front' and we have translated it accordingly. However, some of the commentators have taken it in this context to mean ` back/behind' and interpreted it to mean that those who are living in haughtiness and arrogance, the fire of Hell is trailing behind/after them. (Qurtubi).

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 10–11

11 The word wara' is used for every such thing as is hidden from man, whether it is before. him or behind him. Therefore, another translation can be: "They have Hell behind them." In the first case, the meaning would be: "They are unconsciously running on this way and have no idea that there is Hell in front of them in which they would fall ; " in the second case, it would mean: "They are engaged in this mischief of theirs, thoughtless of the Hereafter, and they have no idea that Hell is in pursuit of them." 12 Here, the word wali (guardian) has been used in two meanings; (1) For those gods…

Read the full tafseer →