Al-Jaathiya 45:10

Al-Jaathiya · from ayah 10

45:10

مِنْ وَّرَآىِٕهِمْ جَهَنَّمُ ۚ— وَلَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ مَّا كَسَبُوْا شَیْـًٔا وَّلَا مَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ ۚ— وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ ۟ؕمِنۡ وَّرَآئِهِمۡ جَهَنَّمُۚ وَلَا يُغۡنِىۡ عَنۡهُمۡ مَّا كَسَبُوۡا شَيۡـئًـا وَّلَا مَا اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اَوۡلِيَآءَ‌ ۚ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌؕ

ان کے سامنے دوزخ ہے۔ اور جو کام وہ کرتے رہے کچھ بھی ان کے کام نہ آئیں گے۔ اور نہ وہی (کام آئیں گے) جن کو انہوں نے خدا کے سوا معبود بنا رکھا تھا۔ اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Before them is Hell, and what they had earned will not avail them at all nor what they had taken besides Allah as allies. And they will have a great punishment.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Jaathiya

All translations of 45:10

اُن کے آگے جہنم ہے جو کچھ بھی انہوں نے دنیا میں کمایا ہے اس میں سے کوئی چیز اُن کے کسی کام نہ آئے گی، نہ اُن کے وہ سرپرست ہی اُن کے لیے کچھ کر سکیں گے جنہیں اللہ کو چھوڑ کر انہوں نے اپنا ولی بنا رکھا ہے اُن کے لیے بڑا عذاب ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ان کے سامنے دوزخ ہے۔ اور جو کام وہ کرتے رہے کچھ بھی ان کے کام نہ آئیں گے۔ اور نہ وہی (کام آئیں گے) جن کو انہوں نے خدا کے سوا معبود بنا رکھا تھا۔ اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان کے پیچھے دوزخ ہے، جو کچھ انہوں نے حاصل کیا تھا وه انہیں کچھ بھی نفع نہ دے گا اور نہ وه (کچھ کام آئیں گے) جن کو انہوں نے اللہ کے سوا کارساز بنا رکھا تھا، ان کے لیے تو بہت بڑا عذاب ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

ان کے آگے جہنم ہے اور جو کچھ انہوں نے کمایا ہے نہ وہ ان کے کچھ کام آئے گا اور نہ وہ کام آئیں گے جن کو انہوں نے اللہ کے بجائے اپنا رکھوالا بنا رکھا ہے۔ اور ان کے حصے میں ایک زبردست عذاب آئے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ان کے پیچھے جہنم ہے اور انہیں کچھ کام نہ دے گا ان کا کمایا ہوا اور نہ وہ جو اللہ کے سوا حمایتی ٹھہرا رکھے تھے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اُن کے (اس عرصۂ حیات کے) بعد دوزخ ہے اور جو (مالِ دنیا) انہوں نے کما رکھا ہے اُن کے کچھ کام نہیں آئے گا اور نہ وہ بت (ہی کام آئیں گے) جنہیں اللہ کے سوا انہوں نے کارساز بنا رکھا ہے، اور اُن کے لئے بہت سخت عذاب ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ان کے آگے جہنم ہے اور نہ وہ ان کے کچھ بھی کام آئے گا جو انھوں نے کمایا اور نہ وہ جو انھوں نے اللہ کے سوا حمایتی بنائے اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر اس کے بعد ان کے لئے جہنم ہے اور جو کچھ انہوں نے دنیا میں کمایا نہ تو وہ ان کے کچھ کام آئے گا اور نہ وہ جنہیں انہوں نے اللہ کے سوا کارساز بنا رکھا تھا، اور انہیں بڑا سخت عذاب ہوگا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

آگے ان کے جہنم ہے اور جو چیزیں انہوں نے کمائی ہیں وہ ان کے ذرا کام آنے والی نہیں بنیں گی اور نہ ہی ان کے کام آنے والے بنیں گے جو اللہ کے سو انہوں نے اپنے لئے کار ساز بنا رکھے ہیں اور ان کے لئے ایک بڑا عذاب ہوگا ،

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ان کے آگے جہنم ہے وہاں نہ تو وہ سازو سامان ان کے کچھ کام آسکے گا جو یہ لوگ (دنیا میں) کماتے رہے تھے اور نہ ہی ان کے وہ حمایتی (اور سرپرست) جو انہوں نے اللہ کے سوا اپنا رکھے تھے اور ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہوگا

— مولانا اسحاق مدنی

ان کے آگے جہنم ہے اور ان کے کام نہ تو وہ چیزیں کچھ بھی آئیں گی جو یہ کما گئے اور نہ وہ جن کو انہوں نے اللہ کے سوا کارساز تیار کیا تھا اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ان کے پیچھے جہنم ہے اور جو کچھ انہوں نے کمایا ہے وہ ان کے ذرا بھی کام نہیں آسکے گا اور نہ وہ جن کو انہوں نے اللہ کے سوا مدد گار بنا رکھا ہے اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہوگا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر اس کے بعد ان کے لیے دوزخ ہے اور جو کام وہ کرتے رہے کچھ بھی ان کے کام نہ آئیں گے اور نہ ہی وہ معبود ان کے کام آئیں گے جن کو انہوں نے اللہ کے سوا معبود بنا رکھا تھا اور ان کیلئے بڑا عذاب ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Hell is behind them. Their worldly earnings shall not avail them, nor those whom they took as protectors instead of Allah. An awesome chastisement lies in store for them.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

In front of them, there is Jahannam (Hell). And whatever they have earned will not be of any use to them, nor the patrons they have adopted instead of Allah. And for them, there is a horrible punishment.

— Muhammad Taqi Usmani

In front of them, there is Jahannam (Hell). And whatever they have earned will not be of any use to them, nor the patrons they have adopted instead of Allah. And for them, there is a horrible punishment.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

In front of them there is Hell. And that which they have earned will be of no profit to them, nor those whom they have taken as protective friends besides Allah. And theirs will be a great torment.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Beyond them there is hell, and that which they have earned will naught avail them, nor those whom they have chosen for protecting friends beside Allah. Theirs will be an awful doom.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Before them is Hell, and what they had earned will not avail them at all nor what they had taken besides Allah as allies. And they will have a great punishment.

— Saheeh International

Hell is awaiting them and none of their deeds will be of any benefit to them, nor will any guardian whom they have chosen besides God. They will suffer a great torment.

— Muhammad Sarwar

Before them is hell, and there shall not avail them aught of what they earned, nor those whom they took for guardians besides Allah, and they shall have a grievous punishment.

— Muhammad Habib Shakir

Before them is Hell; naught will avail them of that which they earned, nor those whom they took for patrons beside Allah. Theirs shall be a torment mighty.

— Abdul Majid Daryabadi

In front of them is Hell: and of no profit to them is anything they may have earned, nor any protectors they may have taken to themselves besides Allah: for them is a tremendous Penalty.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 45:10

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 6–11

قرآن عظیم کی اہانت سے بچاؤ مطلب یہ ہے کہ قرآن جو حق کی طرف نہایت صفائی اور وضاحت سے نازل ہوا ہے۔ اس کی روشن آیتیں تجھ پر تلاوت کی جا رہی ہیں۔ جسے یہ سن رہے ہیں اور پھر بھی نہ ایمان لاتے ہیں نہ عمل کرتے ہیں تو پھر آخر ایمان کس چیز پر لائیں گے ؟ ان کے لئے ویل ہے اور ان پر افسوس ہے جو زبان کے جھوٹے کام کے گنہگار اور دل کے کافر ہیں اس کی باتیں سنتے ہوئے اپنے کفر انکار اور بد باطنی پر اڑے ہوئے ہیں گویا سنا ہی نہیں انہیں سنا دو کہ ان کے لئے اللہ کے ہاں دکھ کی مار ہے قرآن کی آیتیں ان کے مذاق کی چیز رہ گئی ہیں۔ تو جس طرح یہ میرے کلام کی آج اہانت کرتے ہیں کل میں انہیں ذلت کی سزا دوں گا۔ حدیث شریف میں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 10–11

سورة الْجَاثِیَة 11 اصل الفاظ ہیں مِنْ وَّرَآئِھِمْ جَھَنَّمُ۔ وراء کا لفظ عربی زبان میں ہر اس چیز کے لیے بولا جاتا ہے جو آدمی کی نظر سے اوجھل ہو، خواہ وہ آگے ہو یا پیچھے۔ اس لیے دوسرا ترجمہ ان الفاظ کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ " ان کے پیچھے جہنم ہے۔ " اگر پہلے معنی لیے جائیں تو مطلب یہ ہوگا کہ وہ بیخبر منہ اٹھائے اس راہ پر دوڑے جا رہے ہیں اور انہیں احساس نہیں ہے کہ آگے جہنم ہے جس میں وہ جا کر گرنے والے ہیں۔ دوسرے معنی لینے کی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ وہ آخرت سے بےفکر ہو کر اپنی اس شرارت میں مشغول ہیں اور انہیں پتہ نہیں ہے کہ جہنم ان کے پیچھے لگی ہوئی ہے۔ سورة الْجَاثِیَة 12 یہاں ولی کا لفظ دو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–11

(آیت) مِنْ وَّرَاۗىِٕهِمْ جَهَنَّمُ ، ”ورائ“ کا لفظ عربی میں ”پیچھے“ کے لئے زیادہ اور ”سامنے“ کیلئے کم استعمال ہوتا ہے لیکن اکثر مفسرین نے یہاں ”سامنے“ کے معنی قرار دیئے ہیں۔ چناچہ خلاصہ تفسیر میں ترجمہ اسی کے مطابق کیا گیا ہے البتہ بعض مفسرین نے ’ پیچھے ‘ کے معنی لئے ہیں اور مطلب یہ قرار دیا ہے کہ دنیا میں وہ جس نخوت وتکبر کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں اس کے پیچھے یعنی بعد میں جہنم آنیوالی ہے (قرطبی)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

من ورآئھم جھنم ولایغنی عنھم ماکسبوا شیئاً ولاما اتغذوا من دون اللہ اولیآء ج ولھم عذاب عظیم (10) من ورآء کا مفہوم ہمارے اردو کے ورے اور پرے کی طرح موقع و محل سے معین ہوتا ہے۔ اس کا مطلب آگے بھی ہوسکتا ہے اور پیچھے بھی فرمایا کہ ان لوگوں کے لئے آگے جہنم ہے جس میں یہ پڑیں گے اور اس میں پڑنے کے بعد نہ ان کا وہ حرام اندوختہ ان کے کچھ کام آئے گا جو ان کے استکبار اور حق سے اعراض کا سبب بنا اور نہ ان کے وہ مزعومہ شرکاء و شفعاء ہی کچھ کام آئیں گے جن کو انہوں نے اللہ کے سوا اپنا کار ساز بنایا۔ ولھم عذاب عظیم اور عذاب بھی کوئی ایسا ویسا نہیں ہوگا جو کسی طرح جھیلا جاسکے بلکہ بہت بڑا عذاب ہوگا۔ اس کی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 7–10

آیت نمبر 7 تا 10 جیسا کہ ہم نے اس سورت کے مقدمے میں بھی وضاحت کی کہ مکہ میں مشرکین نے جس طرح دعوت اسلامی کا استقبال کیا ، اس کی تصویر کشی ان آیات میں کی گئی ہے۔ انہوں نے اپنے باطل موقف پر اصرار کیا۔ ایسی سچی دعوت کا ایک لفظ بھی سننے سے انکار کیا جو حق پر مبنی تھی اور جو اپنی ذات میں واضح تھی۔ آفتاب آمد دلیل آفتاب تھی۔ انہوں نے اس حقیقت کے ماننے میں اس قدر ہٹ دھرمی سے کام لیا کہ یوں نظر آتا تھا کہ گویا یہ دعوت ان کے ہاں اذہان تک پہنچی ہی نہیں ہے بلکہ الٹا وہ اللہ کے معاملے میں گستاخ ہوگئے۔ اور قرآن کی جو آیات ان تک پہنچی ان سے منہ موڑنے لگے قرآن کریم نے ان کے اس رویے کی نہایت شدید مذمت کی ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی اموال و اولاد وغیرہ کوئی چیز اس وقت کام نہ آئے گی۔ نہ وہ کام آئیں گے جن کو اللہ کے سوا معبود یا رفیق و مددگار بنا رکھا تھا اور جن سے بہت کچھ اعانت و امداد کی توقعات تھیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 10 { مِنْ وَّرَآئِہِمْ جَہَنَّمُ } ”ان کے پیچھے جہنم ہے۔“ یعنی جہنم ان کی منتظر ہے۔ -۔ -۔ -۔ - وَرَاء کا لفظ ہر اس چیز کے لیے بولا جاتا ہے جو آدمی کی نظر سے اوجھل ہو خواہ آگے ہو یا پیچھے ہو۔ لہٰذا ان الفاظ کا دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ”ان کے آگے جہنم ہے“ جس میں وہ گرنے والے ہیں۔ { وَلَا یُغْنِیْ عَنْہُمْ مَّا کَسَبُوْا شَیْئًا } ”اور جو کچھ انہوں نے کمایا ہے وہ ان کے ذرا بھی کام نہیں آسکے گا“ دُنیا میں انہوں نے جو کچھ کمایا ہے اور مال و دولت جمع کیا ہے ‘ یہ سب کچھ انہیں جہنم سے نہ بچا سکے گا۔ { وَّلَا مَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَوْلِیَآئَج وَلَہُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ } ”اور…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

11 وراء کا لغوی مفہوم :۔ ورآء کا معنی آگے بھی اور پیچھے بھی، ادھر بھی اور ادھر بھی۔ اس لحاظ سے اس کے دو مطلب ہوئے۔ ایک یہ کہ ایسے لوگوں کو دنیا میں ذلت کا عذاب ہوگا پھر اس کے بعد ان کے لیے عذاب جہنم بھی تیار ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ انہیں یہ معلوم ہی نہیں کہ اس ذلت کے عذاب کے بعد جہنم بھی ان کے پیچھے لگی ہوئی ہے۔ 12 یعنی مال و دولت کام آئے گی اور نہ آل اولاد اور نہ ان کے اچھے اعمال۔ کیونکہ دنیا میں اگر انہوں نے کچھ اچھے عمل کئے بھی ہوں گے وہ برباد ہوجائیں گے اور ان کے کسی کام نہ آئیں گے۔ وجہ یہ ہے کہ انہوں نے وہ کام اس نیت سے کئے ہی نہ تھے کہ وہ آخرت میں ان کے کام آئیں گے بلکہ ان کا آخرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

6۔ (آیت) ” عذاب عظیم “۔ کی تصریح سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ وہ عذاب علاوہ (آیت) ” مھین “۔ ہونے کے باعث تفضیح ورسوائی ہونے کے شدید بھی بہت سخت ہوگا۔ (آیت) ” ماکسبوا “۔ اس کے عموم میں دنیا کے احوال، اعمال سب داخل ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–11

آیت نمبر 1 تا 11 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے کتاب یعنی قرآن کا نزول اللہ کی طرف سے ہے (من اللہ) خبر ہے جو کہ اپنے ملک میں غالب اور اپنی صنعت میں حکمت والا ہے بلاشبہ آسمانون اور زمین میں یعنی ان دونوں کے پیدا کرنے میں ایسی نشانیاں ہیں جو اللہ کی قدرت اور وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں، اور خود تمہاری پیدائش میں یعنی تم سب کو نطفہ سے پیدا کرنے میں پھر دم بستہ سے پھر گوشت کے لوتھڑے سے، حتی کہ وہ نطفہ انسان ہوجاتا ہے، اور ان جانوروں کی پیدائش میں جنہیں وہ زمین پر پھیلاتا ہے (دابۃ) ہر وہ شئ ہے جو زمین پر چلے انسان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

من وراءھم جھنم ان کے آگے دوزخ آرہی ہے۔ وَاِذَا عَلِمَ مِنْ اٰیٰتِنَا شَیْءَا یعنی قرآن کا کچھ حصہ اس کو پہنچ جاتا ہے ‘ تو وہ ہماری آیات (یا آیت) کو ٹھٹول بناتا ہے (مذاق کی چیز) مطلب یہ ہے کہ وہ فوراً اس کا مذاق بنانے لگتا ہے۔ اُوْلٰٓءِکَ لَھُمْ یعنی ایسے تمام جھوٹوں کیلئے۔ عَذَابٌ مُّھِیْنٌ یعنی قبروں میں ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔ مِنْ وَرَآءِھِمْ جَھَنَّمُ اس سے آگے جہنم ہے۔ آگے ہونے کا یہ مطلب ہے کہ ان کا رخ جہنم کی طرف ہے۔ ورآء کا ترجمہ ورے بھی ہے اور پرے بھی ‘ آگے بھی اور پیچھے بھی۔ ولا یغنی عنھم ما کسبوا شیئا ولا ما اتخذوا من دون اللہ اولیاء ولھم عذاب عظیم اور (اس وقت) نہ تو ان کے وہ چیزیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

مرنے کے بعد ان کے آگے جہنم ہے عذاب الہی کے مقابلہ میں ان کا جمع کردہ مال اور ان کی برائیاں کچھ کام نہ آئیں گے اور نہ وہ جھوٹے معبود باطل جن کی انہوں نے پوجا پاٹ کی ہے اور اس کے لیے بہت بڑا عذاب ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) من ورآئھم جھنم :”ورائ“ کا معنی ”پیچھے“ بھی ہے اور ”آگے“ بھی۔ دیکھیے کہف : 79) کیونکہ یہ لفظ اس چیز کے لئے استعمال ہوتا ہے جو نگاہ سے اوجھل ہو۔ یعنی جہنم ان کے تعاقب میں ہے، یا جہنم ان کے آگے تیار ہے۔ دونوں معنی درست ہیں۔ (2) ولا یغنی عنھم ما کسبوا شیئاً : یعنی نہ ان کا مال ان کے کام آئے گا، نہ ان کی آل اولاد (دیکھیے آل عمران : 10) اور نہ ان کے اچھے اعمال، کیونکہ انہوں نے دنیا میں اگر کچھ اچھے اعمال کئے بھی ہوں گے تو صرف دنیا کی نیت سے کئے جانے کی وجہ سے آخرت میں کام نہیں آسکیں گے، بلکہ برباد ہوجائیں گے۔ مزید دیکھیے سورة فرقان (23) اور سورة کہف (103 تا 106)۔ (3) ولا مااتخذوا من دون اللہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 9–10

جس طرح زقوم کے بارے میں کہتے تھے کہ یہ مکھن اور کھجور کا مجموعہ ہے جہنم کے دارغوں کے بارے میں کہتا : اگر وہ انیس ہیں تو میں اکیلا انہیں کافی ہو جائوں گا۔ مھین سے مراد ذلیل و رسوا کرنے والا ہے۔ دنیا میں جس غلبہ میں تھے اور حق سے تکبر کیا کرتے تھے اب ان کے آگے جہنم ہوے حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ان کے آگے جہنم ہے۔ اس کی مثل (ابراہیم) یعنی ان کے آگے جہنم ہے : شاعر نے کہا : اگر میری موت موخر ہوجائے تو کیا میرے آگے ایسا وقت نہیں کہ میں بچوں کے ساتھ رینگوں گا اور گدھ کی طرح گھسٹوں گا۔ یعنی مال او اولاد میں سے کوئی چیز انہیں نفع نہ دے گی۔ اسی کی مثل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ (آل عمران 10) یہاں بھی مراد…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 5–12

1:۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وما انزل اللہ من السمآء من رزق “ (اور جو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے رزق نازل فرمایا) یعنی بارش (آیت ) ” وتصریف الریح “ (اور ہواؤں کے چلانے میں) یعنی جب چاہے اس کو رحمت بنادے اور جب چاہے اس کو عذاب بنادے (آیت ) ” لکل افاک اثیم “ (ہر چھوٹے اور سخت گناہگار کے لئے) یعنی بہت جھوٹ بولنے والا۔ 2:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لکل افاک اثیم “ سے مراد مغیرہ بن مخزوم ہے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

مِنْ وَّرَاۗىِٕهِمْ [ ان کے پیچھے ] جَهَنَّمُ ۚ [ جہنم ہے ] وَلَا يُغْنِيْ عَنْهُمْ [ اور کام نہ آئے گا ان کے ] مَّا كَسَبُوْا [ وہ جو انھوں نے کمایا ] شَيْـــــًٔا [ کچھ بھی ] وَّلَا مَا [ اور نہ ہی وہ جن کو ] اتَّخَذُوْا [ انھوں نے بنایا ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ [ اللہ کے علاوہ ] اَوْلِيَاۗءَ ۚ [ کارساز ] وَلَهُمْ [ اور ان کے لئے ] عَذَابٌ عَظِيْمٌ [ ایک عظیم عذاب ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 8–10

اس بڑے جھوٹے اور بڑے گنہگار کی صفت بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا ﴿ يَّسْمَعُ اٰيٰتِ اللّٰهِ تُتْلٰى عَلَيْهِ ﴾ (یہ اللہ کی آیات کو سنتا ہے جو اس پر پڑھی جاتی ہیں) ﴿ ثُمَّ يُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا ﴾ پھر وہ اپنے کفر پر اور شرارت پر اور گنہگاری پر اصرار کرتا ہے اس کا یہ اصرار تکبر کرنے کی حالت میں ہے ﴿ كَاَنْ لَّمْ يَسْمَعْهَا 1ۚ ﴾ (وہ تکبر کرتے ہوئے اس طرح بےرخی اختیار کرلیتا ہے کہ گویا اس نے اللہ کی آیات کو سنا ہی نہیں) ﴿ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ 008﴾ (سو آپ اسے درد ناک عذاب کی خوشخبری سنا دیں) یہ شخص یہ نہ سمجھے کہ دنیا میں بڑا ہوں سردار بنا ہوا ہوں ہمیشہ اس حال میں رہوں گا یہ دنیا فانی ہے تھوڑی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–11

بیان عظمت کتاب خداوندی وذکر دلائل قدرت وتنبیہ بر اعراض و انحراف : قال اللہ تعالیٰ :۔ (آیت ) ” حم تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم ...... الی ....... من رجز الیم “۔ (ربط) گزشتہ سورت کا مضمون ان اوصاف کے بیان پر ختم کیا گیا تھا۔ جو انسانی فوز و فلاح اور سعادت کے ضامن ہیں اور یہ کہ قرآن کریم عربی زمین میں آسان وسہل بنا کر نازل کیا گیا اب اگر اس کے بعد بھی لوگ ہدایت قبول نہ کریں تو یہ انکی محرومی اور بدنصیبی ہے تو اس مناسبت سے سورة جاثیہ کی ابتداء عظمت کو دیکھ کر اس کی کتاب کی عظمت کو بھی پہچان سکیں، ساتھ انعامات کا بھی ذکر ہے اور قادر مطلق ومنعم حقیقی کی نافرمانی پر تنبیہ ووعید بھی، تو ارشاد…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 9–10

7:۔ ” واذا علم “ یہ زجر ثانی ہے۔ ہماری آیتوں کو ماننا تو درکنار جب ہماری آیت میں سے کوئی آیت اس تک پہنچ جاتی ہے تو اس سے استہزاء کرتا ہے۔ ایسے بدبختوں کے لیے ذلت آمیز اور رسوا کن عذاب تیار ہے۔ ” من ورائہم جہنم “ یہ لوگ دنیا کی عیش میں اور کفر و طغیان میں منہمک ہیں، لیکن اس سے غافل اور بیخبر ہیں کہ ان کے آگے ان کے لیے جہنم ہے جس کے عذاب سے ان کو نہ تو معبودان باطلہ کی پکار بچا سکے گی اور نہ ان کے خود ساختہ کارساز اور سفارشی ہی ان کو اس سے نجات دلا سکیں گے اور نہ دنیا میں کائی ہوئی دولت ہی وہاں کچھ کام آئیگی۔ ” ماکسبوا “ سے مال واولاد مراد ہے۔ حضرت شیخ قدس سرہ کے نزدیک اس میں غیر اللہ کی پکار…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 6–11

سورة کی ابتدا میں قرآن کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان فی السموت والارض سے لے کر لقوم یعقلون تک اپنی توحید کے بعض دلائل اجمالاً ذکر کئے اب انہی دلائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے تلک ایت اللہ نتلوھا علیک بالحق یہ اللہ تعالیٰ کی آیتیں ہیں جو ہم پڑھتے ہیں آپ پر حق کے ساتھ یعنی ان آیات کو صحیح صحیح سچے انداز میں حقیقت کے ساتھ تلاوت کرتے ہیں تاکہ ان میں کسی قسم کا اشتباہ باقی نہ رہے۔ آیات آیت کی جمع ہے اور قرآن پاک میں یہ لفظ نشانی (علامت ) ، دلیل (حجت) معجزہ یا حکم کے معانی میں استعمال کیا گیا ہے۔ تاہم اس مقام پر آیات سے مراد علامات اور دلائل لئے گئے ہیں۔ چناچہ ا س سورة…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

مِنْ وَّرَاۗىِٕہِمْ جَہَنَّمُ۝ 0 ۚ وَلَا يُغْنِيْ عَنْہُمْ مَّا كَسَبُوْا شَيْـــــًٔا وَّلَا مَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللہِ اَوْلِيَاۗءَ۝ 0 ۚ وَلَہُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ۝ 10 ۭ وراء ( وَرَاءُ ) إذا قيل : وَرَاءُ زيدٍ كذا، فإنه يقال لمن خلفه . نحو قوله تعالی: وَمِنْ وَراءِ إِسْحاقَ يَعْقُوبَ [هود/ 71] ، ( و ر ی ) واریت الورآء کے معنی خلف یعنی پچھلی جانب کے ہیں مثلا جو زہد کے پیچھے یا بعد میں آئے اس کے متعلق ورآء زید کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَمِنْ وَراءِ إِسْحاقَ يَعْقُوبَ [هود/ 71] اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوش خبری دی ۔ جهنم جَهَنَّم اسم لنار اللہ الموقدة، قيل : وأصلها فارسيّ معرّب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 7–11

فرماتا ہے ویل لکل افاک اثیم الخ یہاں سے منکروں کے اقسام ذکر کرتا ہے اور انکار پر برانگیختہ کرنے والی خباثت کا بھی ذکر کرتا ہے۔ قسم اول سن کر کانوں میں مار جانے والے گویا سنا ہی نہیں تکبر کی راہ سے اس کی کچھ پرواہی نہ کی۔ اور اس کا محرک اور مادہ کیا ہے افک اثم جو افاک واثیم سے سمجھا گیا۔ افک جھوٹ بولنا افاک بڑا جھوٹا اثم گناہ اثیم بڑا گناہگار۔ بیشک جس میں یہ بدخصلتیں پیدا ہوجاتی ہیں اس کا دل سیاہ ہوجاتا ہے حق قبول کرنے کا مادہ نہیں رہتا۔ یہ قریش کے بعض سرداروں کی عادت تھی جن کی طرف ان لفظوں میں اشارہ ہے۔ اول اس کے لیے صرف لفظ ویل فرمایا تھا یعنی خرابی ہو اس کی یاویل جہنم کی ایک جگہ ہے کہ یہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

مِنْ وَّرَآئِہِمْ جَھَنَّمُ ج وَلاَ یُغْنِیْ عَنْھُمْ مَّاکَسَبُوْا شَیْـًٔاوَّلاَ مَااتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَوْلِیَـآئَ ج وَلَھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ (الجاثیۃ : 10) (ان کے آگے جہنم ہے، اور جو کچھ انھوں نے دنیا میں کمایا اس میں سے کوئی چیز ان کے کسی کام نہ آئے گی، اور نہ وہ ان کے کام آئیں گے جنھیں اللہ کو چھوڑ کر انھوں نے اپنا ولی بنا رکھا ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔ ) قرآن کریم کے مقابلے میں تکبر کا انجام قرآن کریم کے بارے میں جن لوگوں نے وہ متکبرانہ رویہ اختیار کر رکھا ہے جس کا ذکر اوپر کی آیات میں ہوا ہے، ان کے لیے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ آج تو یہ کبر و غرور کی وجہ سے قرآن کو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 7–11

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیاں دیکھنے اور اس کی نعمتوں سے مستفید ہونے کے باوجود جھوٹا اور متکبر آدمی اپنے رب کو اس کے حکم کے مطابق ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ ایسے شخص کا انجام بدترین ہوگا۔ جو آدمی توحید و رسالت کو جھٹلانے اور تکبر کا راستہ اختیار کرلیتا ہے اس کی حالت یہ ہوتی ہے کہ جب بھی اسے اللہ کی توحید کی آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ انہیں سننے کے باوجود ایسا رویہ اختیار کرتا ہے گویا کہ اس نے اپنے رب کی آیات کو سنا ہی نہیں۔ اگر کسی وقت توجہ سے سن لیتا ہے تو ایمان لانے کی بجائے انہیں مذاق کرتا ہے۔ اس کے بارے میں ارشاد ہوا کہ اس کو اذیت ناک عذاب کی خوشخبری سنائیں۔ جو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 10 : مِنْ وَّرَآئِ ِہمْ (ان کے آگے) الوراء : ہر اس جہت کو کہتے ہیں جو آدمی کو چھپائے خواہ آگے ہو یا پیچھے۔ جَہَنَّمُ وَلَا یُغْنِیْ عَنْہُمْ مَّا کَسَبُوْا (جہنم ہے اور نہ تو ان کو وہ چیزیں ذرا کام آئیں گی جو وہ کما کر گئے تھے) ماکسبوا سے اموال مراد ہیں۔ شَیْئًا (ذرا بھر) اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لئے ذرا بھر وَلَا مَا اتَّخَذُوْا (اور نہ وہ جن کو انہوں نے بنایا تھا) نحو : مَا۔ دونوں میں مصدریہ ہے۔ یا موصولہ ہے۔ مِنْ دُوْنِ اللّّٰہِ اَوْلِیَآئَ وَلَہُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ (کار ساز اللہ تعالیٰ کے سوا) یعنی بت۔ اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے جہنم میں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

9، واذا علم من آیاتنا، مقاتل (رح) فرماتے ہیں قرآن میں سے ، شیئا اتخذھا ھزوا اولئک لھم عذاب مھین، یہاں جمع کے لفظ کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ باری تعالیٰ کے قول ، لکل افاک اثیم، کی طرف رد کرتے ہوئے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 3–15

3۔ 15۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی چند نشانیوں کا ذکر فرمایا ہے مثلاً آسمان و زمین کا پیدا کرنا ‘ آسمان میں فرشتوں اور سورج و چاند ستاروں کا پیدا کرنا زمین میں انسان جن چرند پرند طرح طرح کے جانوروں کا جنگل اور دریا میں پیدا کرنا دریا اور ندیوں کا جاری کرنا اور ان میں کشتیوں کا چلانا دنیا کے کاروبار کے لئے دن اور سورج کی روشنی کو پیدا کرنا اور کاروبار کی محنت سے جو آدمی تھک جاتا ہے اس تھکان کے رفع کرنے کیلئے رات اور رات کی نیند کو پیدا کرنا آسمان سے مینہ کا برسانا جس سے ہر طرح کے اناج ہر طرح کے میووں ہر طرح کی ترکاریوں کا زمین میں پیدا ہونا ہر طرح کی ہوا کا چلانا جس کی تاثیر سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–11

آیت 1 ۔ 11 اللہ تبارک و تعالٰ ایک ایسی خبر دیتا ہے جو قرآن کی تعظیم اور اس کے اہتمام کو متضمن ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ کتاب (تنزیل) ” نازل کی گئی ہے۔ “ (من اللہ) ” اللہ کی طرف سے۔ “ جو معبود ہے کیونکہ وہ صفات کمال سے متصف ہے صرف وہی ہے جو نعمتیں عطا کرتا ہے جو غلبہ کامل اور حکمت تامہ کا مالک ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آیات افقیہ و نفسیہ کا ذکر کر کے اس کی تائید فرمائی۔ یعنی آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا ذکر فرمایا، نیز زمین کے اندر جو چوپائے پھیلائے، آسمان اور زمین میں جو منفعتیں ودیعت کیں، آسمان سے جو پانی نازل کیا جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین اور اپنے بندوں کو زندگی بخشتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

11 منکرین و مکذبین کی بےکسی اور بےبسی کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہاں پر نہ وہ ساز و سامان انکے کچھ کام آسکے گا جو یہ لوگ دنیا میں کماتے اور بناتے رہے تھے اور نہ انکے وہ حمایتی اور سرپرست انکے کچھ کام آسکیں گے جن کو انہوں نے اللہ کے سوا ازخود گھڑ رکھا تھا "۔ جن کو یہ لوگ اللہ پاک کے سوا حاجت روا و مشکل کشا سمجھ کر پوجا پکارا کرتے تھے۔ اور جن کے بارے میں ان کا یہ دعویٰ اور گھمنڈ تھا کہ یہ مشکل وقت آنے پر ہمارے کام آئیں گے۔ سو وہ اس مشکل ترین موقع پر ان کے کچھ بھی کام نہیں آسکیں گے کہ یہ ان کے بس میں ہی نہیں ہوگا ۔ اَنّٰی لَہُمْ ذَالِکَ ؟ ۔ سو اس وقت ایسے لوگ بےکسی اور بےبسی کی تصویر بنے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–13

اللہ کی برتری کا یقین تشریح : اللہ کو پہچان کر اس پر یقین کرلینا اور اس کی کتاب کو غور سے پڑھ کر زندگی ‘ کائنات ‘ اور کائنات کی تمام چیزوں سے واقفیت حاصل کر کے ان سے پورا پورا فائدہ اٹھانا یہ بڑی سیدھی آسان اور معقول بات ہے۔ اللہ نے انسان کو سچائی کی فطرت پر پیدا کیا ہے۔ یعنی جب عالم ارواح میں تمام روحوں سے اللہ نے سوال کیا کہ تمہیں کس نے پیدا کیا ہے تو سب نے یک زبان جواب دیا کہ اللہ نے۔ اسی طرح کوئی کتنا ہی برا منکر خدا، پکا کافر ہی کیوں نہ ہو جب آپ اس سے پوچھتے ہیں کہ بھئی تمہیں کس نے پیدا کیا ہے ؟ تو وہ فورا جواب دے گا اللہ نے مسلمان تو اپنے خالق کو اللہ کہتا ہے جبکہ غیر مسلم اپنی زبان میں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–11

آیات 1 تا 11۔ اسرار ومعارف۔ یہ کتاب اللہ کی طرف سے نازل کی گئی جو سب پر غالب ہے اور زبردست حکمتوں والا ہے یہ اسکی عظمت کی مظہر ہے اور چاہیے تھا کہ اس کو قبول کرتے اور مان جاتے اپنی نجات کا سامان کرتے اس کتاب کی عظمت یہ بھی ہے کہ محض حکماء ہی ماننے کو نہیں کہہ رہی بلکہ دلائل سے حق کو ثابت کرتی ہے ماننے والوں کے لیے آسمانوں اور زمین میں بیشمار دلائل ہیں کہ جیسے جیسے عقل انسانی تخلیق میں اور حیوانات کی حیات میں کسی قدر دلائل ہیں تخلیق کے فطری طریقے صحت وبیماری کے راز غذا اور حیات کا رابطہ اور ایک خلیے کی تعمیر وتخریب بھلاکس قدر دلائل سے بھرپور ہے اگر علم نصیب ہوتوشب وروز کا اختلاف باعتبار اوقات…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 10–12

ف 4 یعنی پانی میں باوجود اس کے گہرا ہونے کے جہاز اور کشتیاں غرق نہیں ہوتیں اور یہ محض اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نظام تکوینی ایسا بنایا ہے کہ انسان برویجر میں نقل و حرکت کرسکے۔ اگر اللہ تعالیٰ کا حکم ایسا نہ ہوتا تو سمندر میں جہازوں اور کشتیوں کے چلنے کا ہرگز امکان نہ ہوتا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(45:10) من ورائھم جھنم : ان کے آگے جہنم ہے (یعنی قیامت کے روز) ۔ ورائہم مضاف مضاف الیہ۔ ورآء اسم ہے جہت کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ صاحب اضواء البیان نے بڑے وثوق سے لکھا ہے کہ اس کے معنی آگے کے ہیں ملاحظہ ہو اضواء البیان جلد 7 تفسیر آیۃ ہذا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید میں اس کا استعمال تقریبا ہر جہت کے لئے ہوا ہے۔ مثلا (1) بمعنی پیچھے۔ پس پشت۔ واما من اوتی کتبہ ورآء ظھرہ (84:10) اور جس کا اعمال نامہ اس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا۔ (2) بمعنی آگے :۔ من ورا آئھم۔ (آیۃ ہذا) (3) آگے، پیچھے، ہر طرف سے : واللّٰہ من ورآئہم محیط (85:20) اور خدا ان کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے۔ صاحب تفسیر مظہری رقم…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–13

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 11 : یبت (وہ پھیلاتا ہے) تصریف ( الٹتا پلٹتا ہے) حدیث (بات) افاک ( جھوٹ بولنے والا) بصر (وہ ضد کرتا ہے ، اڑجاتا ہے) رجز ( سزا ، عذاب) تشریح : آیت نمبر 1 تا 11 : سورة الجاثیہ مکہ مکرمہ میں ہجرت سے کچھ عرصے پہلے ہی نازل ہوئی ۔ مکی سورتوں کی طرح اس میں بھی انسان کے بنیادی عقیدوں کی اصلاح ، توحیدخالص ، نبوت و رسالت اور فکر آخرت کو مختلف انداز سے بیان کیا گیا ہے تا کہ ایمان ، یقین اور عقل و فہم رکھنے والے جو کائنات میں غور و فکر کرتے ہیں اور صاحب بصیرت ہیں وہ حقیقی کامیابی حاصل کرسکیں ۔ زمین و آسمان کا مرتب نظام ، چاند سورج کا باقاعدگی سے نکلنا ، انسان اور جان داروں کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 8–13

(ف 1) فرمایا کہ دنیا میں تو یہ لوگ اللہ کا کلام جو ان کے سامنے پڑھاجاتا ہے اور اللہ کے کلام میں جو قدرت کی نشانیاں ہیں وہ سب سن کر مکڑائیاں کرتے ہیں اور اپنے کفر پر قائم رہتے ہیں اور اللہ کے کلام کو مسخراپن اور جھوٹی باتوں میں اڑاتے ہیں لیکن عقبی میں ان مکڑائیاں کا بہت خمیازہ بھگتنا ہوگا انکو اور انہوں نے دنیا میں جو مال واولاد وعزت و حشمت جمع کیا ہے اور جن بتوں کی یہ لوگ پوجا کرتے ہیں کوئی چیز ان کے کام نہیں آئے گی اور کوئی یہ چیز ان کو دوزخ کے عذاب سے نہ چھڑائے گی ان کو وہاں سخت عذاب ہوگا پھر فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسو کا کام نصیحت کرنا ہے جو کوئی اس نصیحت کو مان کر کچھ نیکی کرے گا اپنا…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 10–12

قرآن صحیفہ رشدوہدایت ہے 1: نضر بن حارث ایک شخص تھا ۔ جس کو حضور ﷺ سے سخت عداوت تھی ۔ یہ عجمی قصے اور افسانے خرید لاتا ۔ اور جب حضور ﷺ لوگوں کو قرآن سناتے تو وہ یہ کہانیاں لے بیٹھتا ۔ اور لوگوں سے کہتا ۔ کہ قرآن سے تو یہ یہی باتیں زیادہ دلچسپ ہیں ۔ ان کو سنو ، اور قرآن کی طرف توجہ نہ کرو ۔ اس کا خیال تھا ۔ کہ یہ قرآن کی موثریت کا جواب ہے ۔ ان آیات میں اسی قسم کے لوگوں کا تذکرہ ہے ۔ کہ جو جھوٹے قصے سنتے ہیں ۔ اور لوگوں کو لغو اور جھوٹی کہانیاں سناتے ہیں ۔ قرآن کی آیتوں کو بوجہ کبر و غرور سنی ان سنی کردیتے ہیں ۔ اور ان کا مذاق اڑاتے ہیں ۔ فرمایا ۔ کہ ان لوگوں کے لئے خدا کے ہاں درد ناک عذاب ہے ۔…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(10) ان کے آگے جہنم ہے اور جو کچھ انہوں نے کمایا تھا نہ تو وہ کمائی ان کو کچھ نفع دے گی اور نہ وہ معبود اور رفیق ان کے کچھ کام آئیں گے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا معبود اور رفیق اور کارساز بنارکھا تھا اور ان لوگوں کو بڑا عذاب ہوگا۔ یعنی نضر بن حارث اور اس کے ہم مشربوں کا یہ حال ہوگا کہ آگے ان کے دوزخ ہے پھر وہاں نہ تو ان کے اعمال ان کے کچھ کام آئیں گے اور نہ وہ ان کے معبود اور کارساز ہی کچھ ان کے کام آسکیں گے جن کو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے علاوہ اپنا کار ساز اور معبود بنارکھا تھا اور ان کو بڑا سخت عذاب ہوگا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 9–13

ف 1۔ مطلب یہ کہ جن آیتوں کو تلاوت میں سنتا ہے ان کی بھی تکذیب کرتا ہے، اور جن آیتوں کی ویسے ہی خبر سن لیتا ہے ان کی بھی تکذیب کرتا ہے، غرض تکذیب آیات میں بہت بڑھا ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان کے آگے جہنم ہے جو انہوں نے دنیا میں کمایا ہے اس کے نتیجہ سے وہ دوچار ہوں گے 01 ؎ اب ان لوگوں کے لیے دوزخ کے عذاب کے سوا کچھ نہیں ہوگا اس لیے کہ جہاں وہ پہنچ گئے ہیں وہاں اس سے آگے اور ہے ہی کیا ؟ عذاب ہی عذاب تو ہے کیونکہ ان کے کیے کا نتیجہ ہی ان کو ملنا ہے وہ اس کے سوا کچھ نہیں ہے اور اسی میں وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے گلتے سڑتے رہیں گے۔ دنیا کی زندگی تو ایک مختصر سی چیز تھی کیونکہ اس کے پیچھے موت تھی جس نے دنیا کی ساری چیزوں سے نجات دے دی لیکن اب تو موت بھی نہیں اور اگر کوئی مرنا بھی چاہے تو یقینا وہ مر نہیں سکے گا کیونکہ موت کو تو موت دی جاچکی ہوگی۔ انہوں نے جو کچھ اپنی دنیوی زندگی میں آگے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 10–11

مِّن وَرَ‌ائِهِمْ جَهَنَّمُ "In front of them, there is Jahannam...45:10" The word وَرَ‌اءِ war' in Arabic is mostly used in the sense of "behind" and occasionally used in the sense of "front". Most commentators have taken the word in this context to mean ` front' and we have translated it accordingly. However, some of the commentators have taken it in this context to mean ` back/behind' and interpreted it to mean that those who are living in haughtiness and arrogance, the fire of Hell is trailing behind/after them. (Qurtubi).

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 10–11

11 The word wara' is used for every such thing as is hidden from man, whether it is before. him or behind him. Therefore, another translation can be: "They have Hell behind them." In the first case, the meaning would be: "They are unconsciously running on this way and have no idea that there is Hell in front of them in which they would fall ; " in the second case, it would mean: "They are engaged in this mischief of theirs, thoughtless of the Hereafter, and they have no idea that Hell is in pursuit of them." 12 Here, the word wali (guardian) has been used in two meanings; (1) For those gods…

Read the full tafseer →