Explained with ayahs 6–11
قرآن عظیم کی اہانت سے بچاؤ
مطلب یہ ہے کہ قرآن جو حق کی طرف نہایت صفائی اور وضاحت سے نازل ہوا ہے۔ اس کی روشن آیتیں تجھ پر تلاوت کی جا رہی ہیں۔ جسے یہ سن رہے ہیں اور پھر بھی نہ ایمان لاتے ہیں نہ عمل کرتے ہیں تو پھر آخر ایمان کس چیز پر لائیں گے ؟ ان کے لئے ویل ہے اور ان پر افسوس ہے جو زبان کے جھوٹے کام کے گنہگار اور دل کے کافر ہیں اس کی باتیں سنتے ہوئے اپنے کفر انکار اور بد باطنی پر اڑے ہوئے ہیں گویا سنا ہی نہیں انہیں سنا دو کہ ان کے لئے اللہ کے ہاں دکھ کی مار ہے قرآن کی آیتیں ان کے مذاق کی چیز رہ گئی ہیں۔ تو جس طرح یہ میرے کلام کی آج اہانت کرتے ہیں کل میں انہیں ذلت کی سزا دوں گا۔ حدیث شریف میں…
Read the full tafseer →سورة الْجَاثِیَة 10
یعنی اس ایک آیت کا مذاق اڑانے پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ تمام آیات کا مذاق اڑانے لگتا ہے۔ مثلاً جب وہ سنتا ہے کہ قرآن میں فلاں بات بیان ہوئی ہے تو اسے سیدھے معنی میں لینے کے بجائے پہلے تو اسی میں کوئی ٹیڑھ تلاش کر کے نکال لاتا ہے تاکہ اسے مذاق کا موضوع بنائے، پھر اس کا مذاق اڑانے کے بعد کہتا ہے اجی ان کے کیا کہنے ہیں، وہ تو روز ایک سے ایک نرالی بات سنا رہے ہیں، دیکھو فلاں آیت میں انہوں نے یہ دلچسپ بات کہی ہے، اور فلاں آیت کے لطائف کا تو جواب ہی نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
(آیت) وَيْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِيْمٍ ، (بڑی خرابی ہوگی اس شخص کے لئے جو جھوٹا اور نافرمان ہو) اس آیت کے شان نزول میں متعدد روایات ہیں۔ بعض سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی، بعض میں ہے کہ حارث بن کلدہ کے بارے میں اور بعض کا کہنا ہے کہ اس سے مراد ابوجہل اور اس کے اصحاب ہیں (قرطبی) اور درحقیقت قرآنی مفہوم کی تشریح کے لئے کسی ایک شخص کو متعین کرنے کی ضرورت نہیں ”کل“ کا لفظ بتارہا ہے کہ خواہ نزول آیت کے پس منظر میں یہ تینوں افراد ہوں لیکن مراد ہر وہ شخص ہے جو ان جیسی صفات کا حامل ہو۔
Read the full tafseer →واذا علم من ایتنا شیاء اتخذھا ھزوا ط اولئک لھم عذاب مھین (9)
حق کی مخالفت کا عامیانہ حربہ
اوپر کی آیت میں متکبرین کا وہ رویہ بیان ہوا ہے جو وہ اس وقت اختیار کرتے۔ جب ہی ﷺ بذات خود ان کو قرآن سنانے کی کوشش فرماتے۔ اب ان کا وہ رویہ بیان ہو رہا ہے جو اس وقت وہ اختیار کرتے جب قرآن کی کوئی بات ان کو کسی اور واسطہ سے پہنچتی۔ فرمایا کہ ان کو ہماری آیات میں سے کسی چیز کا علم ہوتا ہے تو اس کو مذاق میں اڑانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ دوسرے ان سے متاثر نہ ہونے پائیں۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ قرآن کے زمانہ نزول میں قریش کے اندر ایسے لوگ بھی تھے جو غیر جاندبارانہ ذہن کے ساتھ قرآن کو آیتیں سنتے اور ان سے وہ…
Read the full tafseer →9۔ 1 یعنی اول تو وہ قرآن کو غور سے سنتا ہی نہیں اور اگر کوئی بات اس کے کان میں پڑجاتی ہے یا کوئی بات اس کے علم میں آجاتی ہے تو اسے مذاق کا موضوع بنا لیتا ہے۔ اپنی کم عقلی اور نافہمی کی وجہ سے یا کفر و معصیت پر اصرار و استکبار کی وجہ سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
آیت نمبر 7 تا 10
جیسا کہ ہم نے اس سورت کے مقدمے میں بھی وضاحت کی کہ مکہ میں مشرکین نے جس طرح دعوت اسلامی کا استقبال کیا ، اس کی تصویر کشی ان آیات میں کی گئی ہے۔ انہوں نے اپنے باطل موقف پر اصرار کیا۔ ایسی سچی دعوت کا ایک لفظ بھی سننے سے انکار کیا جو حق پر مبنی تھی اور جو اپنی ذات میں واضح تھی۔ آفتاب آمد دلیل آفتاب تھی۔ انہوں نے اس حقیقت کے ماننے میں اس قدر ہٹ دھرمی سے کام لیا کہ یوں نظر آتا تھا کہ گویا یہ دعوت ان کے ہاں اذہان تک پہنچی ہی نہیں ہے بلکہ الٹا وہ اللہ کے معاملے میں گستاخ ہوگئے۔ اور قرآن کی جو آیات ان تک پہنچی ان سے منہ موڑنے لگے قرآن کریم نے ان کے اس رویے کی نہایت شدید مذمت کی ہے۔…
Read the full tafseer →4 یعنی جس طرح وہ آیات اللہ کے ساتھ اہانت و استخاف کا معاملہ کرتا ہے، سزا بھی سخت اہانت و ذلت کی ملے گی۔ جو آگے آرہی ہے۔
Read the full tafseer →آیت 9 { وَاِذَا عَلِمَ مِنْ اٰیٰتِنَا شَیْئَانِ اتَّخَذَہَا ہُزُوًا اُولٰٓئِکَ لَہُمْ عَذَابٌ مُّہِیْنٌ} ”اور جب ہماری آیات میں سے کوئی بات اس کے علم میں آتی ہے تو وہ اس کا مذاق اڑاتا ہے۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے اہانت آمیز عذاب ہوگا۔“
Read the full tafseer →10 مشرکین کن آیات کا تمسخر اڑاتے ہیں :۔ قریشی سردار نصیحت حاصل کرنے کے لیے تو قرآن کی ایک بھی آیت سننا گوارا نہیں کرتے تھے۔ مگر ایسی آیات کی ٹوہ ضرور لگائے رکھتے تھے جن میں انہیں کوئی ایسا نکتہ ہاتھ آجائے کہ وہ آیات الٰہی کا مذاق اڑا سکیں۔ ان کا نشانہ تضحیک پہلے نمبر پر تو وہ آیات تھیں جن میں دوبارہ جی اٹھنے اور روز آخرت اور حشر و نشر کا ذکر ہوتا۔ سیدنا خباب بن ارت نے عاص بن وائل سہمی سے اپنی کچھ مزدوری لینا تھی۔ انہوں نے مزدوری کا مطالبہ کیا تو کہنے لگا : محمد ﷺ کا دین چھوڑ دو تو مزدوری مل جائے گی۔ سیدنا خباب کہنے لگے : وہ تو میں تمہارے دوبارہ جی اٹھنے کے دن تک بھی نہیں چھوڑ سکتا عاص کہنے…
Read the full tafseer →5۔ چونکہ انکار وتکذیب کی بنیاد استکبار نفس پر تھی، اس لئے عذاب مہین (ذلیل ورسوا کرنے والے) کی مناسبت بالکل ظاہر ہے۔ (آیت) ” اذا ...... ھزوا “۔ استہزاء و تمسخر کا درجہ محض انکار وتکذیب سے کہیں بڑھا ہوا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیت نمبر 1 تا 11
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے کتاب یعنی قرآن کا نزول اللہ کی طرف سے ہے (من اللہ) خبر ہے جو کہ اپنے ملک میں غالب اور اپنی صنعت میں حکمت والا ہے بلاشبہ آسمانون اور زمین میں یعنی ان دونوں کے پیدا کرنے میں ایسی نشانیاں ہیں جو اللہ کی قدرت اور وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں، اور خود تمہاری پیدائش میں یعنی تم سب کو نطفہ سے پیدا کرنے میں پھر دم بستہ سے پھر گوشت کے لوتھڑے سے، حتی کہ وہ نطفہ انسان ہوجاتا ہے، اور ان جانوروں کی پیدائش میں جنہیں وہ زمین پر پھیلاتا ہے (دابۃ) ہر وہ شئ ہے جو زمین پر چلے انسان…
Read the full tafseer →واذا علم من ایتنا شیئا اتخذھا ھزوا اولئک لھم عذاب مھین اور جب وہ ہماری آیتوں میں سے کسی آیت کی خبر پاتا ہے تو اس کا مذاق بناتا ہے۔ ایسے لوگوں کیلئے ذلت کا عذاب ہے ‘
Read the full tafseer →اور یہ جب قرآن کریم کو سنتا ہے تو اس کا مذاق اڑاتا ہے اس نضر کے لیے سخت ترین عذاب ہے۔
Read the full tafseer →(1) واذا علم من ایتنا شیئاً اتخذھا ھزوا :”اتخذھا“ میں ضمیر ”ھا“ ”شیئاً“ کی طرف بھی لوٹ سکتی ہے، کیونکہ ”شیئاً“ کا لفظ اگرچہ مذکر ہے مگر اس سے مراد کوئی ”آیۃ“ (آیت) ہے، اس لئے ضمیر مونث ”ھا“ استعمال فرمائی ہے اور ”ایتنا“ کی طرف بھی لوٹ سکتی ہے۔ پہلی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ جب وہ ہماری آیات میں سے کوئی آیت معلوم کرلیتا ہے (جسے وہ صحیح طور پر سمجھ نہیں پاتا یا جس کا مطلب الٹا نکال لیتا ہے) تو اسے مذاق بنا لیتا ہے۔ دوسری صورت میں مطلب یہ ہے کہ جب وہ ہماری آیات میں سے کوئی آیت معلوم کرلیتا ہے تو صرف اس کا مذاق اڑانے پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ ہماری تمام آیات کو مذاق بنا لیتا ہے۔ مثلاً جب اس کے ہاتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
جس طرح زقوم کے بارے میں کہتے تھے کہ یہ مکھن اور کھجور کا مجموعہ ہے جہنم کے دارغوں کے بارے میں کہتا : اگر وہ انیس ہیں تو میں اکیلا انہیں کافی ہو جائوں گا۔ مھین سے مراد ذلیل و رسوا کرنے والا ہے۔ دنیا میں جس غلبہ میں تھے اور حق سے تکبر کیا کرتے تھے اب ان کے آگے جہنم ہوے حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ان کے آگے جہنم ہے۔ اس کی مثل (ابراہیم) یعنی ان کے آگے جہنم ہے : شاعر نے کہا :
اگر میری موت موخر ہوجائے تو کیا میرے آگے ایسا وقت نہیں کہ میں بچوں کے ساتھ رینگوں گا اور گدھ کی طرح گھسٹوں گا۔
یعنی مال او اولاد میں سے کوئی چیز انہیں نفع نہ دے گی۔ اسی کی مثل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ (آل عمران 10) یہاں بھی مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–12
1:۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وما انزل اللہ من السمآء من رزق “ (اور جو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے رزق نازل فرمایا) یعنی بارش (آیت ) ” وتصریف الریح “ (اور ہواؤں کے چلانے میں) یعنی جب چاہے اس کو رحمت بنادے اور جب چاہے اس کو عذاب بنادے (آیت ) ” لکل افاک اثیم “ (ہر چھوٹے اور سخت گناہگار کے لئے) یعنی بہت جھوٹ بولنے والا۔
2:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لکل افاک اثیم “ سے مراد مغیرہ بن مخزوم ہے۔
Read the full tafseer →وَاِذَا عَلِمَ [ اور جب کبھی وہ جان لیتا ہے ] مِنْ اٰيٰتِنَا شَيْئَۨا [ ہماری آیات میں سے کوئی چیز ] اتَّخَذَهَا [ تو وہ بناتا اس کو ] هُزُوًا ۭ [ مذاق کا ذریعہ ] اُولٰۗىِٕكَ [ یہ وہ لوگ ہیں ] لَهُمْ [ جن کے لئے ] عَذَابٌ مُّهِيْنٌ [ ایک ذلیل کرنے والا عذاب ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
اس بڑے جھوٹے اور بڑے گنہگار کی صفت بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا ﴿ يَّسْمَعُ اٰيٰتِ اللّٰهِ تُتْلٰى عَلَيْهِ ﴾ (یہ اللہ کی آیات کو سنتا ہے جو اس پر پڑھی جاتی ہیں) ﴿ ثُمَّ يُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا ﴾ پھر وہ اپنے کفر پر اور شرارت پر اور گنہگاری پر اصرار کرتا ہے اس کا یہ اصرار تکبر کرنے کی حالت میں ہے ﴿ كَاَنْ لَّمْ يَسْمَعْهَا 1ۚ ﴾ (وہ تکبر کرتے ہوئے اس طرح بےرخی اختیار کرلیتا ہے کہ گویا اس نے اللہ کی آیات کو سنا ہی نہیں) ﴿ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ 008﴾ (سو آپ اسے درد ناک عذاب کی خوشخبری سنا دیں) یہ شخص یہ نہ سمجھے کہ دنیا میں بڑا ہوں سردار بنا ہوا ہوں ہمیشہ اس حال میں رہوں گا یہ دنیا فانی ہے تھوڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
بیان عظمت کتاب خداوندی وذکر دلائل قدرت وتنبیہ بر اعراض و انحراف :
قال اللہ تعالیٰ :۔ (آیت ) ” حم تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم ...... الی ....... من رجز الیم “۔
(ربط) گزشتہ سورت کا مضمون ان اوصاف کے بیان پر ختم کیا گیا تھا۔ جو انسانی فوز و فلاح اور سعادت کے ضامن ہیں اور یہ کہ قرآن کریم عربی زمین میں آسان وسہل بنا کر نازل کیا گیا اب اگر اس کے بعد بھی لوگ ہدایت قبول نہ کریں تو یہ انکی محرومی اور بدنصیبی ہے تو اس مناسبت سے سورة جاثیہ کی ابتداء عظمت کو دیکھ کر اس کی کتاب کی عظمت کو بھی پہچان سکیں، ساتھ انعامات کا بھی ذکر ہے اور قادر مطلق ومنعم حقیقی کی نافرمانی پر تنبیہ ووعید بھی، تو ارشاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
7:۔ ” واذا علم “ یہ زجر ثانی ہے۔ ہماری آیتوں کو ماننا تو درکنار جب ہماری آیت میں سے کوئی آیت اس تک پہنچ جاتی ہے تو اس سے استہزاء کرتا ہے۔ ایسے بدبختوں کے لیے ذلت آمیز اور رسوا کن عذاب تیار ہے۔ ” من ورائہم جہنم “ یہ لوگ دنیا کی عیش میں اور کفر و طغیان میں منہمک ہیں، لیکن اس سے غافل اور بیخبر ہیں کہ ان کے آگے ان کے لیے جہنم ہے جس کے عذاب سے ان کو نہ تو معبودان باطلہ کی پکار بچا سکے گی اور نہ ان کے خود ساختہ کارساز اور سفارشی ہی ان کو اس سے نجات دلا سکیں گے اور نہ دنیا میں کائی ہوئی دولت ہی وہاں کچھ کام آئیگی۔ ” ماکسبوا “ سے مال واولاد مراد ہے۔ حضرت شیخ قدس سرہ کے نزدیک اس میں غیر اللہ کی پکار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
سورة کی ابتدا میں قرآن کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان فی السموت والارض سے لے کر لقوم یعقلون تک اپنی توحید کے بعض دلائل اجمالاً ذکر کئے اب انہی دلائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے تلک ایت اللہ نتلوھا علیک بالحق یہ اللہ تعالیٰ کی آیتیں ہیں جو ہم پڑھتے ہیں آپ پر حق کے ساتھ یعنی ان آیات کو صحیح صحیح سچے انداز میں حقیقت کے ساتھ تلاوت کرتے ہیں تاکہ ان میں کسی قسم کا اشتباہ باقی نہ رہے۔
آیات آیت کی جمع ہے اور قرآن پاک میں یہ لفظ نشانی (علامت ) ، دلیل (حجت) معجزہ یا حکم کے معانی میں استعمال کیا گیا ہے۔ تاہم اس مقام پر آیات سے مراد علامات اور دلائل لئے گئے ہیں۔ چناچہ ا س سورة…
Read the full tafseer →وَاِذَا عَلِمَ مِنْ اٰيٰتِنَا شَيْئَۨا اتَّخَذَہَا ہُزُوًا 0 ۭ اُولٰۗىِٕكَ لَہُمْ عَذَابٌ مُّہِيْنٌ 9 ۭ
إذا
إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو : 11-إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له
( اذ ا ) اذ ا
۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
فرماتا ہے ویل لکل افاک اثیم الخ یہاں سے منکروں کے اقسام ذکر کرتا ہے اور انکار پر برانگیختہ کرنے والی خباثت کا بھی ذکر کرتا ہے۔ قسم اول سن کر کانوں میں مار جانے والے گویا سنا ہی نہیں تکبر کی راہ سے اس کی کچھ پرواہی نہ کی۔ اور اس کا محرک اور مادہ کیا ہے افک اثم جو افاک واثیم سے سمجھا گیا۔ افک جھوٹ بولنا افاک بڑا جھوٹا اثم گناہ اثیم بڑا گناہگار۔ بیشک جس میں یہ بدخصلتیں پیدا ہوجاتی ہیں اس کا دل سیاہ ہوجاتا ہے حق قبول کرنے کا مادہ نہیں رہتا۔ یہ قریش کے بعض سرداروں کی عادت تھی جن کی طرف ان لفظوں میں اشارہ ہے۔ اول اس کے لیے صرف لفظ ویل فرمایا تھا یعنی خرابی ہو اس کی یاویل جہنم کی ایک جگہ ہے کہ یہ…
Read the full tafseer →وَاِذَا عَلِمَ مِنْ اٰیٰـتِنَا شَیْئَا نِ اتَّخَذَھَا ھُزُوًا ط اُوْلٰٓئِکَ لَھُمْ عَذَابٌ مُّھِیْنٌ۔ (الجاثیۃ : 9)
(اور جب وہ جان لیتا ہے ہماری آیات میں سے کوئی بات، تو اس کو مذاق بنا لیتا ہے، یہی لوگ ہیں جن کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔ )
حق کو بےاثر کرنے کا حربہ
اوپر کی آیت میں اشرارِقریش کا یہ رویہ بیان ہوا ہے کہ جب ان کے سامنے آنحضرت ﷺ یا کوئی مسلمان قرآن کریم کی آیات پڑھ کر سناتا ہے تو وہ ایسا متکبرانہ رویہ اختیار کرتے ہیں جیسے انھوں نے اس قرآن کو سنا ہی نہیں، بلکہ وہ اپنے آپ کو قرآن کریم سننے سے بہت بالابلند سمجھتے ہیں۔ اور قرآن کریم کو ایسی کتاب سمجھتے ہیں جسے محمد ﷺ جیسے غریب اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیاں دیکھنے اور اس کی نعمتوں سے مستفید ہونے کے باوجود جھوٹا اور متکبر آدمی اپنے رب کو اس کے حکم کے مطابق ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ ایسے شخص کا انجام بدترین ہوگا۔
جو آدمی توحید و رسالت کو جھٹلانے اور تکبر کا راستہ اختیار کرلیتا ہے اس کی حالت یہ ہوتی ہے کہ جب بھی اسے اللہ کی توحید کی آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ انہیں سننے کے باوجود ایسا رویہ اختیار کرتا ہے گویا کہ اس نے اپنے رب کی آیات کو سنا ہی نہیں۔ اگر کسی وقت توجہ سے سن لیتا ہے تو ایمان لانے کی بجائے انہیں مذاق کرتا ہے۔ اس کے بارے میں ارشاد ہوا کہ اس کو اذیت ناک عذاب کی خوشخبری سنائیں۔ جو…
Read the full tafseer →کفار کا قرآن سے استہزاء :
آیت 9 : وَاِذَا عَلِمَ مِنْ اٰیٰتِنَا شَیْئَا (اور جب وہ ہماری آیتوں میں سے کسی آیت کی خبر پاتا ہے) جب اس کو ہماری آیات میں سے کوئی چیز پہنچتی ہے اور وہ جان لیتا ہے کہ یہ ان آیات میں سے ہے۔ اڑتَّخَذَہَا (تو اس کی ہنسی اڑاتا ہے) وہ ان آیات کو بناتا ہے۔ ہُزُوًا (مذاق) ۔
ایک نکتہ :
یہاں اتخذہٗ نہیں فرمایا۔ تاکہ یہ بتلا دیا جائے کہ جب وہ کلام کا کوئی سا حصہ پاتا ہے تو اس کو تمام آیات سے مذاق سوجھتی ہے اور تمام قرآن کا مذاق اڑاتا ہے۔ صرف قرآن کے اسی حصے کے استہزاء پر اکتفاء نہیں کرتا۔
نمبر 2۔ ضمیر ہا کا مرجع شیٔ بھی ہوسکتا ہے۔ کیونکہ وہ آیت کے معنی میں ہے۔ جیسا ابو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
7، ویل لکل افاک اثیم، جھوٹا گناہ گار یعنی نضربن حارث۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–15
3۔ 15۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی چند نشانیوں کا ذکر فرمایا ہے مثلاً آسمان و زمین کا پیدا کرنا ‘ آسمان میں فرشتوں اور سورج و چاند ستاروں کا پیدا کرنا زمین میں انسان جن چرند پرند طرح طرح کے جانوروں کا جنگل اور دریا میں پیدا کرنا دریا اور ندیوں کا جاری کرنا اور ان میں کشتیوں کا چلانا دنیا کے کاروبار کے لئے دن اور سورج کی روشنی کو پیدا کرنا اور کاروبار کی محنت سے جو آدمی تھک جاتا ہے اس تھکان کے رفع کرنے کیلئے رات اور رات کی نیند کو پیدا کرنا آسمان سے مینہ کا برسانا جس سے ہر طرح کے اناج ہر طرح کے میووں ہر طرح کی ترکاریوں کا زمین میں پیدا ہونا ہر طرح کی ہوا کا چلانا جس کی تاثیر سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیت 1 ۔ 11
اللہ تبارک و تعالٰ ایک ایسی خبر دیتا ہے جو قرآن کی تعظیم اور اس کے اہتمام کو متضمن ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ کتاب (تنزیل) ” نازل کی گئی ہے۔ “ (من اللہ) ” اللہ کی طرف سے۔ “ جو معبود ہے کیونکہ وہ صفات کمال سے متصف ہے صرف وہی ہے جو نعمتیں عطا کرتا ہے جو غلبہ کامل اور حکمت تامہ کا مالک ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آیات افقیہ و نفسیہ کا ذکر کر کے اس کی تائید فرمائی۔ یعنی آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا ذکر فرمایا، نیز زمین کے اندر جو چوپائے پھیلائے، آسمان اور زمین میں جو منفعتیں ودیعت کیں، آسمان سے جو پانی نازل کیا جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین اور اپنے بندوں کو زندگی بخشتا…
Read the full tafseer →9 دین حق کا مذاق اڑانا باعث ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ کا مذاق اڑانا محرومیوں کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ روایات کے مطابق یہ آیتیں نضربن حارث کے بارے میں نازل ہوئیں جو لوگوں کو قرآن اور دین سے پھیرنے کے لئے انہیں مختلف قسم کے قصوں کہانیوں کی کتابیں لا کر سناتا۔ اور ان سے کہتا کہ محمد جو قصے پہلی قوموں کے تمہیں سناتا ہے ان سے بہتر یہ قصے ہیں جو میں تم لوگوں کو سناتا ہوں۔ لہذا تم اس کی بجائے میری بات سنو۔ لیکن یہ حکم الفاظ و کلمات کے عموم کے مطابق عام اور ہر اس شخص کو شامل ہے جو کہ لوگوں کو راہ حق و ہدایت سے روکنے اور ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
اللہ کی برتری کا یقین
تشریح : اللہ کو پہچان کر اس پر یقین کرلینا اور اس کی کتاب کو غور سے پڑھ کر زندگی ‘ کائنات ‘ اور کائنات کی تمام چیزوں سے واقفیت حاصل کر کے ان سے پورا پورا فائدہ اٹھانا یہ بڑی سیدھی آسان اور معقول بات ہے۔ اللہ نے انسان کو سچائی کی فطرت پر پیدا کیا ہے۔ یعنی جب عالم ارواح میں تمام روحوں سے اللہ نے سوال کیا کہ تمہیں کس نے پیدا کیا ہے تو سب نے یک زبان جواب دیا کہ اللہ نے۔ اسی طرح کوئی کتنا ہی برا منکر خدا، پکا کافر ہی کیوں نہ ہو جب آپ اس سے پوچھتے ہیں کہ بھئی تمہیں کس نے پیدا کیا ہے ؟ تو وہ فورا جواب دے گا اللہ نے مسلمان تو اپنے خالق کو اللہ کہتا ہے جبکہ غیر مسلم اپنی زبان میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیات 1 تا 11۔
اسرار ومعارف۔
یہ کتاب اللہ کی طرف سے نازل کی گئی جو سب پر غالب ہے اور زبردست حکمتوں والا ہے یہ اسکی عظمت کی مظہر ہے اور چاہیے تھا کہ اس کو قبول کرتے اور مان جاتے اپنی نجات کا سامان کرتے اس کتاب کی عظمت یہ بھی ہے کہ محض حکماء ہی ماننے کو نہیں کہہ رہی بلکہ دلائل سے حق کو ثابت کرتی ہے ماننے والوں کے لیے آسمانوں اور زمین میں بیشمار دلائل ہیں کہ جیسے جیسے عقل انسانی تخلیق میں اور حیوانات کی حیات میں کسی قدر دلائل ہیں تخلیق کے فطری طریقے صحت وبیماری کے راز غذا اور حیات کا رابطہ اور ایک خلیے کی تعمیر وتخریب بھلاکس قدر دلائل سے بھرپور ہے اگر علم نصیب ہوتوشب وروز کا اختلاف باعتبار اوقات…
Read the full tafseer →ف 3 یا یہ مطلب ہے کہ جب اسے ہماری آیتوں میں کوئی بات معلوم ہوجاتی ہے۔ (جسے وہ صحیح طور پر سمجھ نہیں پاتا) تو ساری آیات اور شریعت کا مذاق اڑانے لگتا ہے۔ یہ مطلب اس صورت میں ہے کہ اتخذھا میں ” ھا “ کی ضمیر آیات کے لئے قرار دی جائے اور اگر اسی ضمیر کو شیئاً کے لئے قرا دیا جائے تو پہلا مطلب صحیح ہوگا۔
Read the full tafseer →(45:9) واذا۔ واؤ عاطفہ ہے اذا ظرف زمان ہے بمعنی جب۔ مفاجاتیہ بھی استعمال ہوتا ہے بمعنی ناگہاں۔ اچانک۔ یکایک۔
یہاں دونوں صورتیں ممکن ہیں۔ پہلی صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ اور جب وہ ہماری آیتوں میں سے کسی آیت کی خبر پاتا ہے تو اس کا مذاق بناتا ہے۔ دوسری صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ اور جب وہہماری آیتوں میں سے کسی آیت کی خبر پاتا ہے تو فورا مذاق بنانے لگتا ہے۔
اتخذھا : اتخذ۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے بنا لیا۔ اس نے ٹھہرا لیا۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب سیئا کی طرف راجع ہے (ہماری آیات میں سے کوئی حصہ) ۔ لیکن روح المعانی میں ہے :۔
بادرالی الاستھزاء بالایت کلہا ولم یقتصر علی الاستھزاء بما بلغہ۔ وہ اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 11 : یبت (وہ پھیلاتا ہے) تصریف ( الٹتا پلٹتا ہے) حدیث (بات) افاک ( جھوٹ بولنے والا) بصر (وہ ضد کرتا ہے ، اڑجاتا ہے) رجز ( سزا ، عذاب)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 11 : سورة الجاثیہ مکہ مکرمہ میں ہجرت سے کچھ عرصے پہلے ہی نازل ہوئی ۔ مکی سورتوں کی طرح اس میں بھی انسان کے بنیادی عقیدوں کی اصلاح ، توحیدخالص ، نبوت و رسالت اور فکر آخرت کو مختلف انداز سے بیان کیا گیا ہے تا کہ ایمان ، یقین اور عقل و فہم رکھنے والے جو کائنات میں غور و فکر کرتے ہیں اور صاحب بصیرت ہیں وہ حقیقی کامیابی حاصل کرسکیں ۔ زمین و آسمان کا مرتب نظام ، چاند سورج کا باقاعدگی سے نکلنا ، انسان اور جان داروں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–13
(ف 1) فرمایا کہ دنیا میں تو یہ لوگ اللہ کا کلام جو ان کے سامنے پڑھاجاتا ہے اور اللہ کے کلام میں جو قدرت کی نشانیاں ہیں وہ سب سن کر مکڑائیاں کرتے ہیں اور اپنے کفر پر قائم رہتے ہیں اور اللہ کے کلام کو مسخراپن اور جھوٹی باتوں میں اڑاتے ہیں لیکن عقبی میں ان مکڑائیاں کا بہت خمیازہ بھگتنا ہوگا انکو اور انہوں نے دنیا میں جو مال واولاد وعزت و حشمت جمع کیا ہے اور جن بتوں کی یہ لوگ پوجا کرتے ہیں کوئی چیز ان کے کام نہیں آئے گی اور کوئی یہ چیز ان کو دوزخ کے عذاب سے نہ چھڑائے گی ان کو وہاں سخت عذاب ہوگا پھر فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسو کا کام نصیحت کرنا ہے جو کوئی اس نصیحت کو مان کر کچھ نیکی کرے گا اپنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–11
[1] یہاں رزق سے مراد مادّہ رزق یعنی بارش ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–9
ف 1: قرآن کتاب فطرت ہے ۔ اس لئے یہ اپنی تصدیق میں صحیفہ قدرت کو پیش کرتا ہے ۔ اور کہتا ہے ۔ کہ تم سب کائنات کو عمیق نگاہوں سے دیکھو گے ۔ اور آسمانوں اور زمین کے متعلق وقت نظر سے معائنہ کرو گے اور خود اپنی قامت کے متعلق سوچو گے ۔ اور غم الحیوانات کو حاصل کروگے تو تمہیں اس کی صداقت میں بہت دلائل مل جائیں گے ۔ تمہیں یہ زیبا ہے ۔ کہ لیل ونہار کے ردوبدل میں اور ہم الریاح میں خصوصیت کے ساتھ غور وفکر سے کام لو ۔ یہ سب مظاہر قدرت اپنے اندر عقل وایقان کا بہرہ وافر رکھتے ہیں ۔ قرآن کو علوم طبعی کے ارتقاء میں نہ صرف کوئی خطرہ محسوس ہوتا ہے ۔ بلکہ قرآن کی خواہش ہے ۔ کہ لوگ ان علوم میں بیش از بیش ترقی…
Read the full tafseer →(9) اور جب وہ ہماری آیات میں سے کسی آیت کی خبر پاتا ہے تو اس کا مذاق اڑاتا ہے اور اس کو ٹھٹا ٹھہراتے ہے اور اس کی ہنسی اڑاتا ہے ایسے لوگوں کے لئے ذلیل و خوار کرنے والا عذاب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب کسی آیت کے نزول کا لوگوں سے اس کو علم ہوجاتا ہے مثلاً کوئی اس سے کہہ دیتا ہے کہ آج محمد ﷺ پر فلاں آیت اتری ہے تو اس کو سن کر ہنسی اڑاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
ف 1۔ مطلب یہ کہ جن آیتوں کو تلاوت میں سنتا ہے ان کی بھی تکذیب کرتا ہے، اور جن آیتوں کی ویسے ہی خبر سن لیتا ہے ان کی بھی تکذیب کرتا ہے، غرض تکذیب آیات میں بہت بڑھا ہوا ہے۔
Read the full tafseer →قرآن کریم کی آیتوں کو سن کر ان کا مذاق اڑانے کی سزا کا بیان
9 ؎ جو مضمون ہم نے اوپر درج کیا ہے اسی مضمون کو پڑھ کر ہمارا مذہی گروہ سیخ پا ہوجاتا ہے اور پھر وہ فتویٰ دیتا ہے کہ اس طرح کھلا بیان کرنے والا قرآن کریم کے ساتھ مذاق کررہا ہے اور وہ کفر کا مرتکب ہوا اور لاریب وہ واجب القتل ہے اس طرح لوگوں کو بھڑکا کر وہ سستے داموں جنت کا سودا کرے گا لیکن کبھی اپنی حالت پر غور نہیں کرے گا کہ اس کفر کے فتویٰ کا وہ مستحق ہے جو قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھنے کی تلقین کرتا ہے یا وہ مستحق ہے جس نے لوگوں کی جہالت کی ترجمانی کرتے ہوئے کفر کا فتویٰ لگایا ہے ؟ قرآن کریم کو زندوں کی بجائے مردوں کے ثواب کے لیے پڑھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
وَيْلٌ لِّكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ ("Woe to every sinful liar... 45:7) " There are several views related to the background of revelation of this verse. Some Traditions relate that the verse was revealed in connection with Nadr Ibn Harith. Others report that it was revealed in connection with Harith Ibn Kaldah, and yet others feel it is about Abu Jahl and his comrades. (Qurtubi). There is no need to refer to a particular person in order to determine the meaning of a Qur'anic verse. The word کُل kull [ every ] refers to every person who bears the characteristics of the three persons who might…
Read the full tafseer →10 That is, "He dons not rest content with mocking any one particular Revelation, but mocks all the Revelations. For example, when he hears that a particular thing has been mentioned in the Qur'an, he does not take it in its straight-forward meaning, but first puts a crooked meaning on it in order to make it a subject of ridicule and mockery, then after making fun of it, says: "These arc strange things: one daily hears one or the other funny thing from them. "
Read the full tafseer →