Al-Jaathiya 45:8

Al-Jaathiya · from ayah 8

45:8

یَّسْمَعُ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُتْلٰی عَلَیْهِ ثُمَّ یُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا ۚ— فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ۟يَّسۡمَعُ اٰيٰتِ اللّٰهِ تُتۡلٰى عَلَيۡهِ ثُمَّ يُصِرُّ مُسۡتَكۡبِرًا كَاَنۡ لَّمۡ يَسۡمَعۡهَا‌ ۚ فَبَشِّرۡهُ بِعَذَابٍ اَ لِيۡمٍ

(کہ) خدا کی آیتیں اس کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کو سن تو لیتا ہے (مگر) پھر غرور سے ضد کرتا ہے کہ گویا ان کو سنا ہی نہیں۔ سو ایسے شخص کو دکھ دینے والے عذاب کی خوشخبری سنا دو

— Fateh Muhammad Jalandhari

Who hears the verses of Allah recited to him, then persists arrogantly as if he had not heard them. So give him tidings of a painful punishment.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Jaathiya

All translations of 45:8

جس کے سامنے اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں، اور وہ اُن کو سنتا ہے، پھر پورے استکبار کے ساتھ اپنے کفر پر اِس طرح اڑا رہتا ہے کہ گویا اس نے اُن کو سنا ہی نہیں ایسے شخص کو درد ناک عذاب کا مژدہ سنا دو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(کہ) خدا کی آیتیں اس کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کو سن تو لیتا ہے (مگر) پھر غرور سے ضد کرتا ہے کہ گویا ان کو سنا ہی نہیں۔ سو ایسے شخص کو دکھ دینے والے عذاب کی خوشخبری سنا دو

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو آیتیں اللہ کی اپنے سامنے پڑھی جاتی ہوئی سنے پھر بھی غرور کرتا ہوا اس طرح اڑا رہے کہ گویا سنی ہی نہیں، تو ایسے لوگوں کو دردناک عذاب کی خبر (پہنچا) دیجئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

جو اللہ کی آیتیں سنتا ہے جبکہ وہ اسے پڑھ کر سنائی جارہی ہوتی ہیں، پھر بھی وہ تکبر کے عالم میں اس طرح (کفر پر) اڑا رہتا ہے جیسے اس نے وہ آیتیں سنی ہی نہیں۔ لہذا ایسے شخص کو دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اللہ کی آیتوں کو سنتا ہے کہ اس پر پڑھی جاتی ہیں پھر ہٹ پر جمتا ہے غرور کرتا گویا انہیں سنا ہی نہیں تو اسے خوشخبری سناؤ درد ناک عذاب کی،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جو اللہ کی (اُن) آیتوں کو سنتا ہے جو اُس پر پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں پھر (اپنے کفر پر) اصرار کرتا ہے تکبّر کرتے ہوئے، گویا اُس نے انہیں سنا ہی نہیں، تو آپ اسے دردناک عذاب کی بشارت دے دیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جو اللہ کی آیات سنتا ہے، جبکہ اس کے سامنے پڑھی جاتی ہیں، پھر وہ تکبر کرتے ہوئے اڑا رہتا ہے، گویا اس نے وہ نہیں سنیں، سو اسے دردناک عذاب کی بشارت دے دے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جس کے سامنے اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں اور وہ انہیں سنتا ہے پھر از راہ تکبر اپنی بات پر یوں اڑ جاتا ہے جیسے اس نے انہیں سنا ہی نہیں۔ ایسے شخص کو آپ دردناک عذاب کی بشارت دے دیجئے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جو اللہ کی آیتیں سنتا ہے، اس کو پڑھ کر سنائی جا رہی ہیں، پھر وہ استکبار کے ساتھ اپنی روش پر ضد کرتا ہے گویا اس نے وہ سنی ہی نہیں۔ تو ان کو ایک درد ناک عذاب کی خوشخبری سنا دو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جو سنتا ہے اللہ کی ان آیتوں کو جو اس کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں پھر بھی وہ اڑا رہتا ہے اپنی بڑائی کے گھمنڈ (اور اپنی گمراہی) پر گویا کہ اس نے ان کو سنا ہی نہیں سو خوشخبری سنا دو اس کو ایک بڑے ہی دردناک عذاب کی

— مولانا اسحاق مدنی

نافرمان ہے اللہ کی آیتوں کو سنتا ہے جب وہ اس کے روبرو پڑھی جاتی ہیں پھر بھی تکبر کرتا ہوا اڑارہتا ہے جیسے اس نے انہیں سنا ہی نہیں سو اسے عذاب دردناک کی خوشخبری سنا دیجئے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ سنتا ہے اللہ کی وہ آیات جو اسے پڑھ کر سنائی جاتی ہیں پھر وہ اڑ جاتا ہے ضد پر تکبر ّکرتے ہوئے جیسے کہ اس نے انہیں سنا ہی نہ ہو تو آپ ﷺ اسے ایک دردناک عذاب کی بشارت دے دیجئے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہ اللہ کی آیتیں اس کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ‘ اور وہ ان کو سن بھی لیتا ہے مگر پھر غرور سے ضد کرتا ہے کہ گویا ان کو سنا ہی نہیں تو ایسے شخص کو دکھ دینے والے عذاب کی خوشخبری سنا دو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

who hears Allah's Signs being rehearsed to him, and yet persists in his pride, as though he had not heard it. Announce to him, then, the tidings of a grievous chastisement.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

who hears Allah‘s verses being recited to him, then he remains adamant out of arrogance, as if he never heard them. So give him the _good news‘ of a painful punishment.

— Muhammad Taqi Usmani

who hears Allah‘s verses being recited to him, then he remains adamant out of arrogance, as if he never heard them. So give him the _good news‘ of a painful punishment.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Who hears the Ayat of Allah Tutla (recited) to him, yet persists with pride as if he heard them not. So announce to him a painful torment!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Who heareth the revelations of Allah recited unto him, and then continueth in pride as though he heard them not. Give him tidings of a painful doom.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Who hears the verses of Allah recited to him, then persists arrogantly as if he had not heard them. So give him tidings of a painful punishment.

— Saheeh International

He hears the revelations of God which are recited to him, then persists in his arrogance as if he had not even heard them. Tell him that he will suffer a painful torment.

— Muhammad Sarwar

Who hears the communications of Allah recited to him, then persists proudly as though he had not heard them; so announce to him a painful punishment.

— Muhammad Habib Shakir

Who heareth the revelations of Allah rehearsed Unto him, and yet persisteth with stiff-neckedness as though he heard them not. Announce thou Unto him, then, a torment afflictive.

— Abdul Majid Daryabadi

He hears the Signs of Allah rehearsed to him, yet is obstinate and lofty, as if he had not heard them: then announce to him a Penalty Grievous!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 45:8

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 6–11

قرآن عظیم کی اہانت سے بچاؤ مطلب یہ ہے کہ قرآن جو حق کی طرف نہایت صفائی اور وضاحت سے نازل ہوا ہے۔ اس کی روشن آیتیں تجھ پر تلاوت کی جا رہی ہیں۔ جسے یہ سن رہے ہیں اور پھر بھی نہ ایمان لاتے ہیں نہ عمل کرتے ہیں تو پھر آخر ایمان کس چیز پر لائیں گے ؟ ان کے لئے ویل ہے اور ان پر افسوس ہے جو زبان کے جھوٹے کام کے گنہگار اور دل کے کافر ہیں اس کی باتیں سنتے ہوئے اپنے کفر انکار اور بد باطنی پر اڑے ہوئے ہیں گویا سنا ہی نہیں انہیں سنا دو کہ ان کے لئے اللہ کے ہاں دکھ کی مار ہے قرآن کی آیتیں ان کے مذاق کی چیز رہ گئی ہیں۔ تو جس طرح یہ میرے کلام کی آج اہانت کرتے ہیں کل میں انہیں ذلت کی سزا دوں گا۔ حدیث شریف میں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْجَاثِیَة 9 بالفاظ دیگر فرق اور بہت بڑا فرق ہے اس شخص میں جو نیک نیتی کے ساتھ اللہ کی آیات کو کھلے دل سے سنتا اور سنجیدگی کے ساتھ ان پر غور کرتا ہے، اور اس شخص میں جو انکار کا پیشگی فیصلہ کر کے سنتا ہے اور کسی غور و فکر کے بغیر اپنے اسی فیصلے پر قائم رہتا ہے جو ان آیات کو سننے سے پہلے وہ کرچکا تھا۔ پہلی قسم کا آدمی اگر آج ان آیات کو سن کر ایمان نہیں لا رہا ہے تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ کافر رہنا چاہتا ہے، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مزید اطمینان کا طالب ہے۔ اس لیے اگر اس کے ایمان لانے میں دیر بھی لگ رہی ہے تو یہ بات عین متوقع ہے کہ کل کوئی دوسری آیت اس کے دل میں اتر جائے اور وہ مطمئن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–9

(آیت) وَيْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِيْمٍ ، (بڑی خرابی ہوگی اس شخص کے لئے جو جھوٹا اور نافرمان ہو) اس آیت کے شان نزول میں متعدد روایات ہیں۔ بعض سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی، بعض میں ہے کہ حارث بن کلدہ کے بارے میں اور بعض کا کہنا ہے کہ اس سے مراد ابوجہل اور اس کے اصحاب ہیں (قرطبی) اور درحقیقت قرآنی مفہوم کی تشریح کے لئے کسی ایک شخص کو متعین کرنے کی ضرورت نہیں ”کل“ کا لفظ بتارہا ہے کہ خواہ نزول آیت کے پس منظر میں یہ تینوں افراد ہوں لیکن مراد ہر وہ شخص ہے جو ان جیسی صفات کا حامل ہو۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 7–8

ویل لکل افاک اثیم، یسمع ایات اللہ تتلی علیہ ثم یصر متکبراً کان لم یسمعھا، ج فبشوہ بعذاب الیم (8-7) یہ اسی ملامت کے مضمون کی مزید توسیع ہے کہ جن لوگوں نے اس طرح تمام حقائق تلپٹ کردیے ہیں تاکہ اپنی گہنگار انہ زندگی کے لئے سند جواز فراہم کریں ان کے لئے ہلاکی ہے۔ افاک اور اثیم ، افاک کے معنی ہیں حقائق کی قلب ماہیت کر دنیے والا، یعنی خدا کی نشانیاں اور اس کی آیات تو کسی اور حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہوں لیکن وہ محض اپنی خواہشات نفس کی بندگی میں اس حقیقت کی بالکل قلب ہیت کر دے۔ اس کے مصداق اول تو قریش کے مشرکین تھے جنہوں نے محض اپنے نفس کی خواہشات کی پیروی میں دین ابراہیم کو مسخ کیا لیکن اس کے عام…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

8۔ 1 یعنی کفر پر اڑا رہتا ہے اور حق کے مقابلے میں اپنے کو بڑا سمجھتا ہے اور اسی غرور میں سنی ان سنی کردیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 7–10

آیت نمبر 7 تا 10 جیسا کہ ہم نے اس سورت کے مقدمے میں بھی وضاحت کی کہ مکہ میں مشرکین نے جس طرح دعوت اسلامی کا استقبال کیا ، اس کی تصویر کشی ان آیات میں کی گئی ہے۔ انہوں نے اپنے باطل موقف پر اصرار کیا۔ ایسی سچی دعوت کا ایک لفظ بھی سننے سے انکار کیا جو حق پر مبنی تھی اور جو اپنی ذات میں واضح تھی۔ آفتاب آمد دلیل آفتاب تھی۔ انہوں نے اس حقیقت کے ماننے میں اس قدر ہٹ دھرمی سے کام لیا کہ یوں نظر آتا تھا کہ گویا یہ دعوت ان کے ہاں اذہان تک پہنچی ہی نہیں ہے بلکہ الٹا وہ اللہ کے معاملے میں گستاخ ہوگئے۔ اور قرآن کی جو آیات ان تک پہنچی ان سے منہ موڑنے لگے قرآن کریم نے ان کے اس رویے کی نہایت شدید مذمت کی ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 7–8

3 یعنی ضد اور غرور کی وجہ سے اللہ کی بات نہیں سنتا۔ اس کی شیخی اجازت نہیں دیتی کہ اپنی جہالت سے ہٹے۔ حق کو سن کر اس طرح منہ پھیر لیتا ہے گویا سنا ہی نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 8 { یَّسْمَعُ اٰیٰتِ اللّٰہِ تُتْلٰی عَلَیْہِ ثُمَّ یُصِرُّ مُسْتَکْبِرًا کَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْہَا } ”وہ سنتا ہے اللہ کی وہ آیات جو اسے پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ‘ پھر وہ اڑ جاتا ہے ضد پر تکبر ّکرتے ہوئے جیسے کہ اس نے انہیں سنا ہی نہ ہو۔“ { فَـبَشِّرْہُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ } ”تو آپ ﷺ اسے ایک دردناک عذاب کی بشارت دے دیجئے۔“ یہ دراصل سردارانِ قریش کے رویے کا ذکر ہے۔ ان میں سے اکثر کا یہی حال تھا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 7–8

9 ایسے لوگ جو زبانی طور پر تو اللہ کی مذکورہ بالا آیات کو تسلیم کرتے ہیں مگر عملاً ان چیزوں پر تصرف اور اختیار دوسروں کا تسلیم کرتے ہیں یہ درحقیقت اللہ پر بہتان لگانے والے ہوتے ہیں جو اللہ کے تصرفات میں دوسروں کو شریک کرلیتے یا پورے کا پورا اختیار انہیں کو سونپ دیتے ہیں۔ ان کی دوسری صفت یہ ہوتی ہے کہ ایسے لوگ مجرم ضمیر ہوتے ہیں انہیں ایسی کوئی تعلیم یا ہدایت راس نہیں آتی جو ان پر اخلاقی پابندیاں عائد کرتی ہو اگر وہ کسی کی بات مان لیں تو ان کی انا مجروح ہوتی ہے۔ اور ان کی تیسری صفت یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے غرور اور گھمنڈ کی وجہ سے اپنے آپ کو بہت اونچی چیز سمجھتے ہیں اور اللہ کی آیات اس لیے سننا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 6–8

4۔ (کہ وضوح حق کے بعد روش استکبار کی سزا عذاب الیم ہی ہے) (آیت) ” فبای ..... یؤمنون “۔ یعنی توحید، معاد، نبوت وغیرہ مسائل حقہ کا اثبات انہیں آیات ہی سے تو ہوتا ہے۔ سو اب اور کون چیز باقی ہے۔ جس پر ان کے ایمان لانے کی توقی کی جاسکے۔ (آیت) ” بعد اللہ وایتہ “۔ مراد بعد ایات اللہ ہی ہے الفاظ جس ترتیب و ترکیب کے ساتھ قرآن مجید میں آئے ہیں اس نے کلام میں زور وتاکید پیدا کردی ہے۔ تقدیم اسم اللہ للمبالغۃ والتعظیم (بیضاوی) (آیت) ” بعد اللہ “۔ میں بعد سے مراد بعض نے بعد کتاب اللہ لی ہے، اور کتاب کو محذوف سمجھا ہے۔ (آیت) ” بعداللہ “۔ میں بعد کے معنی ” اس سے بڑھ کر “ کے ہیں، امام رازی (رح) نے آیت سے یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–11

آیت نمبر 1 تا 11 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے کتاب یعنی قرآن کا نزول اللہ کی طرف سے ہے (من اللہ) خبر ہے جو کہ اپنے ملک میں غالب اور اپنی صنعت میں حکمت والا ہے بلاشبہ آسمانون اور زمین میں یعنی ان دونوں کے پیدا کرنے میں ایسی نشانیاں ہیں جو اللہ کی قدرت اور وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں، اور خود تمہاری پیدائش میں یعنی تم سب کو نطفہ سے پیدا کرنے میں پھر دم بستہ سے پھر گوشت کے لوتھڑے سے، حتی کہ وہ نطفہ انسان ہوجاتا ہے، اور ان جانوروں کی پیدائش میں جنہیں وہ زمین پر پھیلاتا ہے (دابۃ) ہر وہ شئ ہے جو زمین پر چلے انسان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یسمع ایت اللہ تتلی علیہ ثم یصر مستکبرا کان لم یسمعھا فبشرہ بعذاب الیم کہ اللہ کی آیتیں اسکے سامنے پڑھی جاتی ہیں پھر بھی وہ تکبر کے ساتھ کفر پر) جما رہتا ہے ‘ گویا اس نے اللہ کی آیتوں کو سنا ہی نہیں۔ آپ اسکو دردناک عذاب کی خوشخبری دے دیجئے۔ اَثِیْمٍ بہت بڑا گناہگار ‘ اس سے نضر بن حارث مراد ہے۔ وَیْلٌ سے آخر تک جملہ معترضہ ہے۔ ثُمَّ یُصِرُّ لفظ ثم عربی میں تراخی کیلئے آتا ہے) سماع آیات کے بعد کفر پر جما رہنا بہت ہی بعید ہے ‘ اسی بعد کو ظاہر کرنے کیلئے اس جگہ لفظ ثم استعمال کیا گیا ہے (یعنی بعد زمانہ کے قائم مقام بعد مرتبہ کو قرار دیا اور لفظ ثم سے اس کا اظہار کیا) ۔ فَبَشِّرْہُ- فَ سببیت کیلئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اس کے باوجود کہ وہ آیات قرآنیہ کو سنتا ہے جو اس کے سامنے اوامرو نواہی کے بیان کے لیے پڑھی جاتی ہیں پھر بھی وہ رسول اکرم اور قرآن کریم پر ایمان لانے سے تکبر کرتا ہوا اپنے کفر پر اس طرح اڑا رہتا ہے گویا کہ اس نے ان کو سنا یہ نہیں۔ اے نبی کریم آپ اسے دردناک عذاب کی خبر سنا دیجئیے، چناچہ یہ بدر کے دن مارا گیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) یسمع ایت اللہ تتلی علیہ … : جو اللہ کی آیات سنتا ہے، جو اس کے سامنے پڑھی جاتی ہیں، پھر تکبر کرتے ہوئے اپنے کفر و شرک کپر ڈٹا رہتا ہے جیسے اس نے انھیں سنا ہی نہیں، سوا اسے درج ناک عذاب کی بشارت دے دے۔ (2) ثم یصر مستکبراً : یہاں ”ثم“ کا لفظ اظہار تعجب کیلئے ہے کہ اگر اس نے اللہ کی آیات نہ سنی ہوتیں تو الگ بات تھی، تعجب اس بات پر ہے کہ اللہ کی آیات اس کے سامنے پڑھی جاتی ہیں پھر وہ تکبر کرتے ہوئے کفر پر اصرار کرتا ہے، حالانکہ انسان کو تکبر زیب ہی نہیں دیتا، کیونکہ بڑائی تو صرف اللہ کی شان ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے سورة انعام کے شروع میں فرمایا۔ (الحمد للہ الذی خلق السموت والارض وجعل الظلمت…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ سے مراد قرآن کی آیات ہیں وہ اپنے کفر میں بہت دور نکل گیا ہے اور اطاعت کرنے سے اپنے آپ کو عظیم خیال کرتا ہے یہ ضرالضہ سے ماخوذ ہے جب وہ تھیلی کو باندھے، یہ معنی حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء نے کیا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : اصل میں وہ اپنے کان کھڑے کر کے اس کی طرف مڑتا ہے کان میں امشقلہ سے مخففہ ہے گوگویا اس نے اس کو سنا ہی نہیں ضمیر ضمیر شان ہے جس طرح اس مصرعہ میں اسم ضمیر شان مخذوف ہے : گویا ہرن تروتازہ سلم کے درخت سے کھاتا ہے۔ جملہ کا محل نصب ہے یعنی کان اس طرح کھڑے کرتا ہے جس طرح نہ سننے والا کان کھڑے کرتا ہے۔ سورة لقمان کے آغاز میں اس آیت کا معنی گزر چکا ہے۔ کا معنی بھی سورة بقرہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 5–12

1:۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وما انزل اللہ من السمآء من رزق “ (اور جو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے رزق نازل فرمایا) یعنی بارش (آیت ) ” وتصریف الریح “ (اور ہواؤں کے چلانے میں) یعنی جب چاہے اس کو رحمت بنادے اور جب چاہے اس کو عذاب بنادے (آیت ) ” لکل افاک اثیم “ (ہر چھوٹے اور سخت گناہگار کے لئے) یعنی بہت جھوٹ بولنے والا۔ 2:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لکل افاک اثیم “ سے مراد مغیرہ بن مخزوم ہے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

يَّسْمَعُ اٰيٰتِ اللّٰهِ [ وہ سنتا ہے اللہ کی آیات کو ] تُتْلٰى عَلَيْهِ [ جو پڑھ کر سنائی جاتیں ہیں اس کو ] ثُمَّ يُصِرُّ [ پھر وہ اڑتا ہے (کفر پر ) ] مُسْتَكْبِرًا [ بڑا بنتے ہوئے ] كَاَنْ [ جیسے کہ ] لَّمْ يَسْمَعْهَا ۚ [ اس نے سنا ہی نہ تھا ان کو ] فَبَشِّرْهُ [ تو آپ بشارت دیں اس کو ] بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ [ ایک درد ناک عذاب کی ] ترکیب : آیت ۔ 8 ۔ میں کان دراصل کان ہی ہے ۔ ان ۔ ان ۔ لکن وغیر ہ کے بعد فعل نہیں آتا ، اسم ہی آتا ہے اور یہ اپنے اسم کو نصب دیتے ہیں ۔ لیکن اگر ان کو خفیف کرلیں جیسے ان ، ان لکن وغیرہ تو پھر یہ عامل نہیں رہتے ، یعنی اپنے اسم کو نصب نہیں دیتے۔ اس لئے ان کے بعد فعل…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 8–10

اس بڑے جھوٹے اور بڑے گنہگار کی صفت بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا ﴿ يَّسْمَعُ اٰيٰتِ اللّٰهِ تُتْلٰى عَلَيْهِ ﴾ (یہ اللہ کی آیات کو سنتا ہے جو اس پر پڑھی جاتی ہیں) ﴿ ثُمَّ يُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا ﴾ پھر وہ اپنے کفر پر اور شرارت پر اور گنہگاری پر اصرار کرتا ہے اس کا یہ اصرار تکبر کرنے کی حالت میں ہے ﴿ كَاَنْ لَّمْ يَسْمَعْهَا 1ۚ ﴾ (وہ تکبر کرتے ہوئے اس طرح بےرخی اختیار کرلیتا ہے کہ گویا اس نے اللہ کی آیات کو سنا ہی نہیں) ﴿ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ 008﴾ (سو آپ اسے درد ناک عذاب کی خوشخبری سنا دیں) یہ شخص یہ نہ سمجھے کہ دنیا میں بڑا ہوں سردار بنا ہوا ہوں ہمیشہ اس حال میں رہوں گا یہ دنیا فانی ہے تھوڑی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–11

بیان عظمت کتاب خداوندی وذکر دلائل قدرت وتنبیہ بر اعراض و انحراف : قال اللہ تعالیٰ :۔ (آیت ) ” حم تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم ...... الی ....... من رجز الیم “۔ (ربط) گزشتہ سورت کا مضمون ان اوصاف کے بیان پر ختم کیا گیا تھا۔ جو انسانی فوز و فلاح اور سعادت کے ضامن ہیں اور یہ کہ قرآن کریم عربی زمین میں آسان وسہل بنا کر نازل کیا گیا اب اگر اس کے بعد بھی لوگ ہدایت قبول نہ کریں تو یہ انکی محرومی اور بدنصیبی ہے تو اس مناسبت سے سورة جاثیہ کی ابتداء عظمت کو دیکھ کر اس کی کتاب کی عظمت کو بھی پہچان سکیں، ساتھ انعامات کا بھی ذکر ہے اور قادر مطلق ومنعم حقیقی کی نافرمانی پر تنبیہ ووعید بھی، تو ارشاد…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 7–8

6:۔ ” ویل لکل افاک “ یہ زجر ہے مع تخویف اخروی۔ اس بہت بڑے جھوٹے اور مجرم کے لیے ویل (ہلاکت یا جہنم کی ایک وادی) ہے جو اللہ کی آیتوں کو سنتا ہے لیکن غرور و استکبار سے ان کی پرواہ نہیں کرتا اور اپنے کفر وعناد پر قائم رہتا ہے اور آیات الٰہیہ سے اس طرح اعراض کرتا ہے گویا اس نے ان کو سنا ہی نہیں ایسے معاندین و مستکبرین کو دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دیجئے یہ عذاب اس کے غرور و استکبار، کفر پر اصرار اور آیات الٰہیہ سے اعراض کی سزا ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 6–11

سورة کی ابتدا میں قرآن کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان فی السموت والارض سے لے کر لقوم یعقلون تک اپنی توحید کے بعض دلائل اجمالاً ذکر کئے اب انہی دلائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے تلک ایت اللہ نتلوھا علیک بالحق یہ اللہ تعالیٰ کی آیتیں ہیں جو ہم پڑھتے ہیں آپ پر حق کے ساتھ یعنی ان آیات کو صحیح صحیح سچے انداز میں حقیقت کے ساتھ تلاوت کرتے ہیں تاکہ ان میں کسی قسم کا اشتباہ باقی نہ رہے۔ آیات آیت کی جمع ہے اور قرآن پاک میں یہ لفظ نشانی (علامت ) ، دلیل (حجت) معجزہ یا حکم کے معانی میں استعمال کیا گیا ہے۔ تاہم اس مقام پر آیات سے مراد علامات اور دلائل لئے گئے ہیں۔ چناچہ ا س سورة…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يَّسْمَعُ اٰيٰتِ اللہِ تُتْلٰى عَلَيْہِ ثُمَّ يُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ يَسْمَعْہَا۝ 0 ۚ فَبَشِّرْہُ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ۝ 8 سمع السَّمْعُ : قوّة في الأذن به يدرک الأصوات، وفعله يقال له السَّمْعُ أيضا، وقد سمع سمعا . ويعبّر تارة بالسمّع عن الأذن نحو : خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلى سَمْعِهِمْ [ البقرة/ 7] ، وتارة عن فعله كَالسَّمَاعِ نحو : إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ [ الشعراء/ 212] ، وقال تعالی: أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ [ ق/ 37] ، وتارة عن الفهم، وتارة عن الطاعة، تقول : اسْمَعْ ما أقول لك، ولم تسمع ما قلت، وتعني لم تفهم، قال تعالی: وَإِذا تُتْلى…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 7–11

فرماتا ہے ویل لکل افاک اثیم الخ یہاں سے منکروں کے اقسام ذکر کرتا ہے اور انکار پر برانگیختہ کرنے والی خباثت کا بھی ذکر کرتا ہے۔ قسم اول سن کر کانوں میں مار جانے والے گویا سنا ہی نہیں تکبر کی راہ سے اس کی کچھ پرواہی نہ کی۔ اور اس کا محرک اور مادہ کیا ہے افک اثم جو افاک واثیم سے سمجھا گیا۔ افک جھوٹ بولنا افاک بڑا جھوٹا اثم گناہ اثیم بڑا گناہگار۔ بیشک جس میں یہ بدخصلتیں پیدا ہوجاتی ہیں اس کا دل سیاہ ہوجاتا ہے حق قبول کرنے کا مادہ نہیں رہتا۔ یہ قریش کے بعض سرداروں کی عادت تھی جن کی طرف ان لفظوں میں اشارہ ہے۔ اول اس کے لیے صرف لفظ ویل فرمایا تھا یعنی خرابی ہو اس کی یاویل جہنم کی ایک جگہ ہے کہ یہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 7–8

وَیْلٌ لِّـکُلِّ اَفَّاکٍ اَثِیْمٍ ۔ یَّسْمَعُ اٰیٰتِ اللّٰہِ تُتْلٰی عَلَیْہِ ثُمَّ یُصِرُّمُسْتَـکْبِرًا کَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْھَا ج فَبَشِّرْہُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ۔ (الجاثیۃ : 7، 8) (تباہی ہے ہر اس جھوٹے بداعمال شخص کے لیے۔ جو اللہ کی آیتیں سنتا ہے جو اسے پڑھ کر سنائی جاتی ہیں، پھر وہ اپنے کفر پر اصرار کرتا ہے استکبار کے ساتھ، گویا اس نے ان کو سنا ہی نہیں، آپ اس کو ایک دردناک عذاب کا مژدہ سنا دیں۔ ) ہدایت سے محروم لوگوں کے اوصاف اس آیت کریمہ میں اس شخص کا تعارف کرایا گیا ہے جس پر قرآن کریم کے معجزانہ دلائل بھی اثرانداز نہیں ہوتے۔ ایسے لوگوں کی اولین صفت یہ ہے کہ وہ پرلے درجے کے جھوٹے لوگ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 7–11

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیاں دیکھنے اور اس کی نعمتوں سے مستفید ہونے کے باوجود جھوٹا اور متکبر آدمی اپنے رب کو اس کے حکم کے مطابق ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ ایسے شخص کا انجام بدترین ہوگا۔ جو آدمی توحید و رسالت کو جھٹلانے اور تکبر کا راستہ اختیار کرلیتا ہے اس کی حالت یہ ہوتی ہے کہ جب بھی اسے اللہ کی توحید کی آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ انہیں سننے کے باوجود ایسا رویہ اختیار کرتا ہے گویا کہ اس نے اپنے رب کی آیات کو سنا ہی نہیں۔ اگر کسی وقت توجہ سے سن لیتا ہے تو ایمان لانے کی بجائے انہیں مذاق کرتا ہے۔ اس کے بارے میں ارشاد ہوا کہ اس کو اذیت ناک عذاب کی خوشخبری سنائیں۔ جو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 8 : یَّسْمَعُ اٰیٰتِ اللّٰہِ (وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سنتا ہے) : یہ موضع جر میں صفت ہے۔ تُتْلٰی عَلَیْہِ (جبکہ وہ اس کے سامنے پڑھی جاتی ہیں) ۔ یہ آیات اللہ سے حال ہے۔ ثُمَّ یُصِرُّ (پھر بھی وہ تکبر کرتا ہے) اپنے کفر کی طرف متوجہ اور قائم رہتا ہے۔ مُسْتَکْبِرًا (آیات حقہ پر ایمان لانے اور یقین کرنے سے تکبر کرتا ہے) ان آیات میں عیب نکالتا اور اپنے ہاں جو کچھ ہے اس کو بہت کچھ خیال کرتا ہے۔ ایک قول یہ ہے : کہ یہ نضر بن حارث کے متعلق اتریں وہ عجم سے قصے خرید کر لاتا اور اس میں لوگوں کو مصروف کر کے قرآن سننے سے رکاوٹ بنتا۔ آیات اپنے عموم میں تمام اعدائے دین کو شامل ہیں۔ نکتہ ٔ ثم : ثم یہاں لا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 3–15

3۔ 15۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی چند نشانیوں کا ذکر فرمایا ہے مثلاً آسمان و زمین کا پیدا کرنا ‘ آسمان میں فرشتوں اور سورج و چاند ستاروں کا پیدا کرنا زمین میں انسان جن چرند پرند طرح طرح کے جانوروں کا جنگل اور دریا میں پیدا کرنا دریا اور ندیوں کا جاری کرنا اور ان میں کشتیوں کا چلانا دنیا کے کاروبار کے لئے دن اور سورج کی روشنی کو پیدا کرنا اور کاروبار کی محنت سے جو آدمی تھک جاتا ہے اس تھکان کے رفع کرنے کیلئے رات اور رات کی نیند کو پیدا کرنا آسمان سے مینہ کا برسانا جس سے ہر طرح کے اناج ہر طرح کے میووں ہر طرح کی ترکاریوں کا زمین میں پیدا ہونا ہر طرح کی ہوا کا چلانا جس کی تاثیر سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–11

آیت 1 ۔ 11 اللہ تبارک و تعالٰ ایک ایسی خبر دیتا ہے جو قرآن کی تعظیم اور اس کے اہتمام کو متضمن ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ کتاب (تنزیل) ” نازل کی گئی ہے۔ “ (من اللہ) ” اللہ کی طرف سے۔ “ جو معبود ہے کیونکہ وہ صفات کمال سے متصف ہے صرف وہی ہے جو نعمتیں عطا کرتا ہے جو غلبہ کامل اور حکمت تامہ کا مالک ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آیات افقیہ و نفسیہ کا ذکر کر کے اس کی تائید فرمائی۔ یعنی آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا ذکر فرمایا، نیز زمین کے اندر جو چوپائے پھیلائے، آسمان اور زمین میں جو منفعتیں ودیعت کیں، آسمان سے جو پانی نازل کیا جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین اور اپنے بندوں کو زندگی بخشتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 7–8

8 استکبار محرومی اور فساد کی جڑ بنیاد ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے معلوم ہوا کہ استکبار یعنی اپنی بڑائی کا گھمنڈ اور اس کی بنا پر حق کے مقابلے میں اکڑ جانا انسان کو حق سے محروم کردیتا ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیَاتِیَ الَّذِیْنَ یَتَکَبَّرُوْنَ فِی الاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ } (الاعراف : 126) اور یہ اس لیے کہ کبریائی حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ ہی کا حق اور اسی کو سزا وار ہے۔ جبکہ بندے کا اصل کمال و مقام اس امر میں ہے کہ وہ اپنی عبدیت اور اپنے خالق ومالک کے آگے جھکنے اور اسی کی طرف رجوع کرنے میں کمال پیدا کرے۔ اسی پر وہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے دارین کی سعادت و…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–13

اللہ کی برتری کا یقین تشریح : اللہ کو پہچان کر اس پر یقین کرلینا اور اس کی کتاب کو غور سے پڑھ کر زندگی ‘ کائنات ‘ اور کائنات کی تمام چیزوں سے واقفیت حاصل کر کے ان سے پورا پورا فائدہ اٹھانا یہ بڑی سیدھی آسان اور معقول بات ہے۔ اللہ نے انسان کو سچائی کی فطرت پر پیدا کیا ہے۔ یعنی جب عالم ارواح میں تمام روحوں سے اللہ نے سوال کیا کہ تمہیں کس نے پیدا کیا ہے تو سب نے یک زبان جواب دیا کہ اللہ نے۔ اسی طرح کوئی کتنا ہی برا منکر خدا، پکا کافر ہی کیوں نہ ہو جب آپ اس سے پوچھتے ہیں کہ بھئی تمہیں کس نے پیدا کیا ہے ؟ تو وہ فورا جواب دے گا اللہ نے مسلمان تو اپنے خالق کو اللہ کہتا ہے جبکہ غیر مسلم اپنی زبان میں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–11

آیات 1 تا 11۔ اسرار ومعارف۔ یہ کتاب اللہ کی طرف سے نازل کی گئی جو سب پر غالب ہے اور زبردست حکمتوں والا ہے یہ اسکی عظمت کی مظہر ہے اور چاہیے تھا کہ اس کو قبول کرتے اور مان جاتے اپنی نجات کا سامان کرتے اس کتاب کی عظمت یہ بھی ہے کہ محض حکماء ہی ماننے کو نہیں کہہ رہی بلکہ دلائل سے حق کو ثابت کرتی ہے ماننے والوں کے لیے آسمانوں اور زمین میں بیشمار دلائل ہیں کہ جیسے جیسے عقل انسانی تخلیق میں اور حیوانات کی حیات میں کسی قدر دلائل ہیں تخلیق کے فطری طریقے صحت وبیماری کے راز غذا اور حیات کا رابطہ اور ایک خلیے کی تعمیر وتخریب بھلاکس قدر دلائل سے بھرپور ہے اگر علم نصیب ہوتوشب وروز کا اختلاف باعتبار اوقات…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 7–8

ف 2 ” خراب “ یہ ” ویل “ کا ترجمہ ہے اور ویل جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے دوزخ کی ایک وادی کا نام بھی ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(45:8) یسمع ایت اللّٰہ۔ وہ اللہ کی آیات کو سنتا ہے۔ یہ افاک اثیم کی تیسری صفت ہے یا یہ جملہ مستانفہ ہے۔ تتلی علیہ۔ یہ جملہ ایت اللّٰہ سے حال ہے یعنی درآں حالیکہ وہ (آیات) اس کے اوپر پڑھی جاتی ہیں۔ تتلی مضارع مجہول کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ وہ پڑھی جاتی ہیں۔ وہ تلاوت کی جاتی ہیں۔ تلاوۃ (باب نصر) مصدر۔ ت ل و۔ مادہ۔ ثم۔ حرف عطف ہے مہلت کے ساتھ ترتیب کے اظہار کے لئے آتا ہے۔ عام طور پر التراخی الوقت (وقت کی تاخیر کا وقفہ یعنی ترتیب میں ایک شے کا دوسری شے سے کینے وقفہ کے بعد وقوع ہوا) کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ بمعنی پھر۔ اس کے بعد لیکن بعض دفعہ التراخی فی الرتبہ کے لئے بھی بول لیتے ہیں۔ یہاں اس کا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–13

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 11 : یبت (وہ پھیلاتا ہے) تصریف ( الٹتا پلٹتا ہے) حدیث (بات) افاک ( جھوٹ بولنے والا) بصر (وہ ضد کرتا ہے ، اڑجاتا ہے) رجز ( سزا ، عذاب) تشریح : آیت نمبر 1 تا 11 : سورة الجاثیہ مکہ مکرمہ میں ہجرت سے کچھ عرصے پہلے ہی نازل ہوئی ۔ مکی سورتوں کی طرح اس میں بھی انسان کے بنیادی عقیدوں کی اصلاح ، توحیدخالص ، نبوت و رسالت اور فکر آخرت کو مختلف انداز سے بیان کیا گیا ہے تا کہ ایمان ، یقین اور عقل و فہم رکھنے والے جو کائنات میں غور و فکر کرتے ہیں اور صاحب بصیرت ہیں وہ حقیقی کامیابی حاصل کرسکیں ۔ زمین و آسمان کا مرتب نظام ، چاند سورج کا باقاعدگی سے نکلنا ، انسان اور جان داروں کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 8–13

(ف 1) فرمایا کہ دنیا میں تو یہ لوگ اللہ کا کلام جو ان کے سامنے پڑھاجاتا ہے اور اللہ کے کلام میں جو قدرت کی نشانیاں ہیں وہ سب سن کر مکڑائیاں کرتے ہیں اور اپنے کفر پر قائم رہتے ہیں اور اللہ کے کلام کو مسخراپن اور جھوٹی باتوں میں اڑاتے ہیں لیکن عقبی میں ان مکڑائیاں کا بہت خمیازہ بھگتنا ہوگا انکو اور انہوں نے دنیا میں جو مال واولاد وعزت و حشمت جمع کیا ہے اور جن بتوں کی یہ لوگ پوجا کرتے ہیں کوئی چیز ان کے کام نہیں آئے گی اور کوئی یہ چیز ان کو دوزخ کے عذاب سے نہ چھڑائے گی ان کو وہاں سخت عذاب ہوگا پھر فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسو کا کام نصیحت کرنا ہے جو کوئی اس نصیحت کو مان کر کچھ نیکی کرے گا اپنا…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 2–9

ف 1: قرآن کتاب فطرت ہے ۔ اس لئے یہ اپنی تصدیق میں صحیفہ قدرت کو پیش کرتا ہے ۔ اور کہتا ہے ۔ کہ تم سب کائنات کو عمیق نگاہوں سے دیکھو گے ۔ اور آسمانوں اور زمین کے متعلق وقت نظر سے معائنہ کرو گے اور خود اپنی قامت کے متعلق سوچو گے ۔ اور غم الحیوانات کو حاصل کروگے تو تمہیں اس کی صداقت میں بہت دلائل مل جائیں گے ۔ تمہیں یہ زیبا ہے ۔ کہ لیل ونہار کے ردوبدل میں اور ہم الریاح میں خصوصیت کے ساتھ غور وفکر سے کام لو ۔ یہ سب مظاہر قدرت اپنے اندر عقل وایقان کا بہرہ وافر رکھتے ہیں ۔ قرآن کو علوم طبعی کے ارتقاء میں نہ صرف کوئی خطرہ محسوس ہوتا ہے ۔ بلکہ قرآن کی خواہش ہے ۔ کہ لوگ ان علوم میں بیش از بیش ترقی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(8) جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو سنتا ہے جب وہ آیتیں اس کے روبرو پڑھی جاتی ہیں پھر بھی وہ تکبر اور غرور کی راہ سے اس طرح کفر پر اڑا رہتا ہے اور کفر کو لازم پکڑتا ہے کہ گویا اس نے ان آیتوں کو سنا ہی نہیں پس ایسے شخص کو آپ ایک دردناک عذاب کی خبردے دیجئے۔ شاید یہ آیت نصربن حارث کے بارے میں نازل ہوئی ہے جیسا کہ سورة لقمان میں تفصیل گزر چکی ہے یہ شخص بڑا سخت کافر تھا قرآن کو پہلے لوگوں کی قصہ کہانیاں کہا کرتا تھا اور گانے والی عورتوں کی تجارت کیا کرتا تھا اس کے حق میں یہ وعید فرمائی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آیات اللہ کو سن کر ان سنی کردینا اور تکبر سے منہ موڑنا عذاب الٰہی کا مستحق ہونا ہے 8 ؎ اللہ تعالیٰ کی آیات سن کر اور سمجھ کر ان سے منہ پھیرلینا اور اپنی مرضی کرتے چلے جانا تکبر کی علامات میں سے ایک بہت بڑی علامت ہے۔ اب سمجھنا یہ ہے کہ قرآن کریم کی آیات کو سن کر ان سے منہ کیسے پھیرا جاسکتا ہے ؟ قرآن کریم کی آیات کریمات میں ادامرد نواہی بیان کیے گئے ہیں اور ان کو سن کر ان کے مطابق عمل نہ کرنا ہی منہ پھیرنا ہے اور اس بات کو پیٹھ پیچھے پھینک دینے سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ آج فی زمانہ مسلمانوں نے مکمل طور پر قرآن کریم سے منہ پھیرلیا ہوا ہے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ اس کو کوئی تسلیم کرنے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–9

وَيْلٌ لِّكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ ("Woe to every sinful liar... 45:7) " There are several views related to the background of revelation of this verse. Some Traditions relate that the verse was revealed in connection with Nadr Ibn Harith. Others report that it was revealed in connection with Harith Ibn Kaldah, and yet others feel it is about Abu Jahl and his comrades. (Qurtubi). There is no need to refer to a particular person in order to determine the meaning of a Qur'anic verse. The word کُل kull [ every ] refers to every person who bears the characteristics of the three persons who might…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

9 In other words, there is a marked difference between the person who listens to Allah's Revelations sincerely with an open mind and ponders over them seriously and the person who listens to them resolved that he would deny them, and then persists in the resolve already made without any serious thought. If the first person dces not believe in the Revelations immediately, it does not mean that he wants to remain an unbeliever, but because he wants to have greater satisfaction. Therefore, even if he is taking time to believe, it is just possible that another Revelation might enter his heart and…

Read the full tafseer →