Al-Jaathiya 45:7

Al-Jaathiya · from ayah 7

45:7

وَیْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍ ۟ۙوَيۡلٌ لِّـكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِيۡمٍۙ

ہر جھوٹے گنہگار پر افسوس ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Woe to every sinful liar

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Jaathiya

All translations of 45:7

تباہی ہے ہر اُس جھوٹے بد اعمال شخص کے لیے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہر جھوٹے گنہگار پر افسوس ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ویل اور افسوس ہے ہر ایک جھوٹے گنہگار پر

— مولانا محمد جوناگڑہی

برا ہو اس جھوٹے گنہگار کا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

خرابی ہے ہر بڑے بہتان ہائے گنہگار کے لیے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ہر بہتان تراشنے والے کذّاب (اور) بڑے سیاہ کار کے لئے ہلاکت ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بڑی ہلاکت ہے ہر سخت جھوٹے، گناہ گار کے لیے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تباہی ہے ہر اس بہتان تراش اور گنہگار کے لئے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

سو ہلاکت ہے ہر اس لپاٹیے گنہگار کے لئے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بڑی تباہی ہے ہر اس بڑے جھوٹے بدکار انسان کے لئے

— مولانا اسحاق مدنی

بڑی خرابی ہے ہر اس شخص کیلئے جو جھوٹ لگانے والا ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

بربادی ہے ہر جھوٹ گھڑنے والے گنہگار کے لیے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ہر جھوٹے گنہگار پر افسوس ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Woe to every sinful liar,

— Muhammad Taqi Usmani

Woe to every sinful liar,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Woe to every sinful liar.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Woe to every sinful liar

— Saheeh International

Woe to every sinful liar!

— Muhammad Sarwar

Woe to every sinful liar,

— Muhammad Habib Shakir

Woe Unto every liar, sinner!

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 45:7

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 6–11

قرآن عظیم کی اہانت سے بچاؤ مطلب یہ ہے کہ قرآن جو حق کی طرف نہایت صفائی اور وضاحت سے نازل ہوا ہے۔ اس کی روشن آیتیں تجھ پر تلاوت کی جا رہی ہیں۔ جسے یہ سن رہے ہیں اور پھر بھی نہ ایمان لاتے ہیں نہ عمل کرتے ہیں تو پھر آخر ایمان کس چیز پر لائیں گے ؟ ان کے لئے ویل ہے اور ان پر افسوس ہے جو زبان کے جھوٹے کام کے گنہگار اور دل کے کافر ہیں اس کی باتیں سنتے ہوئے اپنے کفر انکار اور بد باطنی پر اڑے ہوئے ہیں گویا سنا ہی نہیں انہیں سنا دو کہ ان کے لئے اللہ کے ہاں دکھ کی مار ہے قرآن کی آیتیں ان کے مذاق کی چیز رہ گئی ہیں۔ تو جس طرح یہ میرے کلام کی آج اہانت کرتے ہیں کل میں انہیں ذلت کی سزا دوں گا۔ حدیث شریف میں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 6–7

سورة الْجَاثِیَة 8 یعنی جب اللہ کی ہستی اور اس کی وحدانیت پر خود اللہ ہی کے بیان کیے ہوئے یہ دلائل سامنے آجانے کے بعد بھی یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو اب کیا چیز ایسی آسکتی ہے جس سے انہیں دولت ایمان نصیب ہوجائے۔ اللہ کا کلام تو وہ آخری چیز ہے جس کے ذریعہ سے کوئی شخص یہ نعمت پاسکتا ہے۔ اور ایک ان دیکھی حقیقت کا یقین دلانے کے لیے زیادہ سے زیادہ جو معقول دلائل ممکن ہیں وہ اس کلام پاک میں پیش کردیے گئے ہیں۔ اس کے بعد اگر کوئی انکار ہی کرنے پر تلا ہوا ہو تو انکار کرتا رہے۔ اسکے انکار سے حقیقت نہیں بدل جائے گی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–9

(آیت) وَيْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِيْمٍ ، (بڑی خرابی ہوگی اس شخص کے لئے جو جھوٹا اور نافرمان ہو) اس آیت کے شان نزول میں متعدد روایات ہیں۔ بعض سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی، بعض میں ہے کہ حارث بن کلدہ کے بارے میں اور بعض کا کہنا ہے کہ اس سے مراد ابوجہل اور اس کے اصحاب ہیں (قرطبی) اور درحقیقت قرآنی مفہوم کی تشریح کے لئے کسی ایک شخص کو متعین کرنے کی ضرورت نہیں ”کل“ کا لفظ بتارہا ہے کہ خواہ نزول آیت کے پس منظر میں یہ تینوں افراد ہوں لیکن مراد ہر وہ شخص ہے جو ان جیسی صفات کا حامل ہو۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 7–8

ویل لکل افاک اثیم، یسمع ایات اللہ تتلی علیہ ثم یصر متکبراً کان لم یسمعھا، ج فبشوہ بعذاب الیم (8-7) یہ اسی ملامت کے مضمون کی مزید توسیع ہے کہ جن لوگوں نے اس طرح تمام حقائق تلپٹ کردیے ہیں تاکہ اپنی گہنگار انہ زندگی کے لئے سند جواز فراہم کریں ان کے لئے ہلاکی ہے۔ افاک اور اثیم ، افاک کے معنی ہیں حقائق کی قلب ماہیت کر دنیے والا، یعنی خدا کی نشانیاں اور اس کی آیات تو کسی اور حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہوں لیکن وہ محض اپنی خواہشات نفس کی بندگی میں اس حقیقت کی بالکل قلب ہیت کر دے۔ اس کے مصداق اول تو قریش کے مشرکین تھے جنہوں نے محض اپنے نفس کی خواہشات کی پیروی میں دین ابراہیم کو مسخ کیا لیکن اس کے عام…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 7–10

آیت نمبر 7 تا 10 جیسا کہ ہم نے اس سورت کے مقدمے میں بھی وضاحت کی کہ مکہ میں مشرکین نے جس طرح دعوت اسلامی کا استقبال کیا ، اس کی تصویر کشی ان آیات میں کی گئی ہے۔ انہوں نے اپنے باطل موقف پر اصرار کیا۔ ایسی سچی دعوت کا ایک لفظ بھی سننے سے انکار کیا جو حق پر مبنی تھی اور جو اپنی ذات میں واضح تھی۔ آفتاب آمد دلیل آفتاب تھی۔ انہوں نے اس حقیقت کے ماننے میں اس قدر ہٹ دھرمی سے کام لیا کہ یوں نظر آتا تھا کہ گویا یہ دعوت ان کے ہاں اذہان تک پہنچی ہی نہیں ہے بلکہ الٹا وہ اللہ کے معاملے میں گستاخ ہوگئے۔ اور قرآن کی جو آیات ان تک پہنچی ان سے منہ موڑنے لگے قرآن کریم نے ان کے اس رویے کی نہایت شدید مذمت کی ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 7–8

3 یعنی ضد اور غرور کی وجہ سے اللہ کی بات نہیں سنتا۔ اس کی شیخی اجازت نہیں دیتی کہ اپنی جہالت سے ہٹے۔ حق کو سن کر اس طرح منہ پھیر لیتا ہے گویا سنا ہی نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 7 { وَیْلٌ لِّکُلِّ اَفَّاکٍ اَثِیْمٍ } ”بربادی ہے ہر جھوٹ گھڑنے والے گنہگار کے لیے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 7–8

9 ایسے لوگ جو زبانی طور پر تو اللہ کی مذکورہ بالا آیات کو تسلیم کرتے ہیں مگر عملاً ان چیزوں پر تصرف اور اختیار دوسروں کا تسلیم کرتے ہیں یہ درحقیقت اللہ پر بہتان لگانے والے ہوتے ہیں جو اللہ کے تصرفات میں دوسروں کو شریک کرلیتے یا پورے کا پورا اختیار انہیں کو سونپ دیتے ہیں۔ ان کی دوسری صفت یہ ہوتی ہے کہ ایسے لوگ مجرم ضمیر ہوتے ہیں انہیں ایسی کوئی تعلیم یا ہدایت راس نہیں آتی جو ان پر اخلاقی پابندیاں عائد کرتی ہو اگر وہ کسی کی بات مان لیں تو ان کی انا مجروح ہوتی ہے۔ اور ان کی تیسری صفت یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے غرور اور گھمنڈ کی وجہ سے اپنے آپ کو بہت اونچی چیز سمجھتے ہیں اور اللہ کی آیات اس لیے سننا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 6–8

4۔ (کہ وضوح حق کے بعد روش استکبار کی سزا عذاب الیم ہی ہے) (آیت) ” فبای ..... یؤمنون “۔ یعنی توحید، معاد، نبوت وغیرہ مسائل حقہ کا اثبات انہیں آیات ہی سے تو ہوتا ہے۔ سو اب اور کون چیز باقی ہے۔ جس پر ان کے ایمان لانے کی توقی کی جاسکے۔ (آیت) ” بعد اللہ وایتہ “۔ مراد بعد ایات اللہ ہی ہے الفاظ جس ترتیب و ترکیب کے ساتھ قرآن مجید میں آئے ہیں اس نے کلام میں زور وتاکید پیدا کردی ہے۔ تقدیم اسم اللہ للمبالغۃ والتعظیم (بیضاوی) (آیت) ” بعد اللہ “۔ میں بعد سے مراد بعض نے بعد کتاب اللہ لی ہے، اور کتاب کو محذوف سمجھا ہے۔ (آیت) ” بعداللہ “۔ میں بعد کے معنی ” اس سے بڑھ کر “ کے ہیں، امام رازی (رح) نے آیت سے یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–11

آیت نمبر 1 تا 11 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے کتاب یعنی قرآن کا نزول اللہ کی طرف سے ہے (من اللہ) خبر ہے جو کہ اپنے ملک میں غالب اور اپنی صنعت میں حکمت والا ہے بلاشبہ آسمانون اور زمین میں یعنی ان دونوں کے پیدا کرنے میں ایسی نشانیاں ہیں جو اللہ کی قدرت اور وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں، اور خود تمہاری پیدائش میں یعنی تم سب کو نطفہ سے پیدا کرنے میں پھر دم بستہ سے پھر گوشت کے لوتھڑے سے، حتی کہ وہ نطفہ انسان ہوجاتا ہے، اور ان جانوروں کی پیدائش میں جنہیں وہ زمین پر پھیلاتا ہے (دابۃ) ہر وہ شئ ہے جو زمین پر چلے انسان…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

تو بڑی خرابی ہوگی یا یہ کہ دوزخ میں خون اور پیپ کی وادی ہوگی ہر ایسے شخص کے لیے جو کہ جھوٹا اور نافرمان ہو یعنی نضر بن حارث۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) ویل لکل افالیہ اثیم : آیات سن کر ان کا اثر قبول کرنے کے لحاظ سے لوگوں کی دو قسمیں ہیں۔ اس سے پہلے ان لوگوں کا ذکر تھا جو ایمان و یقین اور عقل سے بہرہ ور ہوتے ہیں، اب ان لوگوں کا ذکر ہے جو تکبر کی وجہ سے اللہ کی آیات کے انکار پر اصرار کرنے والے ہیں۔ (2) ”ویل“ کے لئے دیکھیے سورة بقرہ کی آیت (79) ”افک“ بدترین جھوٹ، بہتان،”افاک“ مبالغے کا صیغہ ہے سخت جھوٹا۔ ”اثیم“ سخت گناہگار۔ یعنی ہر ایسے انسان کے لئے بہت بڑی ہلاکت اور بربادی ہے جو قول میں سخت جھوٹا اور فعل میں سخت گناہگار ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ویل جہنم میں ایک وادی ہے جو آدمی اللہ تعالیٰ کی آیات سے استدلال کو ترک کرتا ہے اس کے لئے دھمکی ہے آفاک کا معنی کذاب ہے افک کا معنی جھوٹ ہے آثیم گناہ کا ارتکاب کرنے والا مراد ہے نضر بن حارث۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے : مراد حارث بن کلدہ ہے ثعلبی نے حکایت بیان کی ہے : مراد ابو جہل اور اس کے ساتھی ہیں۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 5–12

1:۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وما انزل اللہ من السمآء من رزق “ (اور جو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے رزق نازل فرمایا) یعنی بارش (آیت ) ” وتصریف الریح “ (اور ہواؤں کے چلانے میں) یعنی جب چاہے اس کو رحمت بنادے اور جب چاہے اس کو عذاب بنادے (آیت ) ” لکل افاک اثیم “ (ہر چھوٹے اور سخت گناہگار کے لئے) یعنی بہت جھوٹ بولنے والا۔ 2:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لکل افاک اثیم “ سے مراد مغیرہ بن مخزوم ہے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَيْلٌ [ تباہی ہے ] للِّكُلِّ اَفَّاكٍ [ ہر ایک بہتان باز ] اَثِيْمٍ [ پکے گنہار کے لئے ] نوٹ۔ 1: افاک کے معنی ہیں حقائق کی قلب ماہیت کردینے والا یعنی خدا کی آیات اور اس کی نشانیاں تو کسی اور حقیقت کی طرف اشارہ کررہی ہوں لیکن وہ محض اپنی خواہشات نفس کی بندگی میں اس حقیقت کو بالکل بدل دے ، اس کے مصداق اول تو قریش کے مشرکین تھے لیکن اس کے عام مصداق میں ہر دور کے وہ محرفین دین شامل ہیں جو اللہ کی آیات اور اس کے احکام میں اپنی خواہشات کے تحت تحریف کے مرتکب ہوئے یا ہورہے ہیں ۔ (تدبر قرآن )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

ہر جھوٹے، گنہگار اور متکبر اور منکر کے لیے عذاب الیم ہے قریش مکہ میں جو لوگ ایمان نہیں لائے ان میں بعض لوگ کفر و شرک کے سرغنہ ہوئے تھے۔ جو اسلام قبول نہیں کرتے تھے اور دوسروں کو بھی قبول نہیں کرنے دیتے تھے ان میں سے ابو جہل بھی تھا اور نضر بن حارث بھی، معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ آیت کریمہ ﴿ وَيْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِيْمٍۙ007﴾ نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی یہ عجمیوں کی باتیں (قصے کہانیاں) خرید کر لاتا تھا اور لوگوں کو سناتا تھا اس کا مقصد یہ تھا کہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس نہ جائیں اور قرآن شریف نہ سنیں۔ جس کا کچھ بیان سورة لقمان کے پہلے رکوع میں آیت کریمہ ﴿ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–11

بیان عظمت کتاب خداوندی وذکر دلائل قدرت وتنبیہ بر اعراض و انحراف : قال اللہ تعالیٰ :۔ (آیت ) ” حم تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم ...... الی ....... من رجز الیم “۔ (ربط) گزشتہ سورت کا مضمون ان اوصاف کے بیان پر ختم کیا گیا تھا۔ جو انسانی فوز و فلاح اور سعادت کے ضامن ہیں اور یہ کہ قرآن کریم عربی زمین میں آسان وسہل بنا کر نازل کیا گیا اب اگر اس کے بعد بھی لوگ ہدایت قبول نہ کریں تو یہ انکی محرومی اور بدنصیبی ہے تو اس مناسبت سے سورة جاثیہ کی ابتداء عظمت کو دیکھ کر اس کی کتاب کی عظمت کو بھی پہچان سکیں، ساتھ انعامات کا بھی ذکر ہے اور قادر مطلق ومنعم حقیقی کی نافرمانی پر تنبیہ ووعید بھی، تو ارشاد…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 7–8

6:۔ ” ویل لکل افاک “ یہ زجر ہے مع تخویف اخروی۔ اس بہت بڑے جھوٹے اور مجرم کے لیے ویل (ہلاکت یا جہنم کی ایک وادی) ہے جو اللہ کی آیتوں کو سنتا ہے لیکن غرور و استکبار سے ان کی پرواہ نہیں کرتا اور اپنے کفر وعناد پر قائم رہتا ہے اور آیات الٰہیہ سے اس طرح اعراض کرتا ہے گویا اس نے ان کو سنا ہی نہیں ایسے معاندین و مستکبرین کو دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دیجئے یہ عذاب اس کے غرور و استکبار، کفر پر اصرار اور آیات الٰہیہ سے اعراض کی سزا ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 6–11

سورة کی ابتدا میں قرآن کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان فی السموت والارض سے لے کر لقوم یعقلون تک اپنی توحید کے بعض دلائل اجمالاً ذکر کئے اب انہی دلائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے تلک ایت اللہ نتلوھا علیک بالحق یہ اللہ تعالیٰ کی آیتیں ہیں جو ہم پڑھتے ہیں آپ پر حق کے ساتھ یعنی ان آیات کو صحیح صحیح سچے انداز میں حقیقت کے ساتھ تلاوت کرتے ہیں تاکہ ان میں کسی قسم کا اشتباہ باقی نہ رہے۔ آیات آیت کی جمع ہے اور قرآن پاک میں یہ لفظ نشانی (علامت ) ، دلیل (حجت) معجزہ یا حکم کے معانی میں استعمال کیا گیا ہے۔ تاہم اس مقام پر آیات سے مراد علامات اور دلائل لئے گئے ہیں۔ چناچہ ا س سورة…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَيْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِيْمٍ۝ 7 ۙ ويل قال الأصمعيّ : وَيْلٌ قُبْحٌ ، وقد يستعمل علی التَّحَسُّر . ووَيْسَ استصغارٌ. ووَيْحَ ترحُّمٌ. ومن قال : وَيْلٌ وادٍ في جهنّم، قال عز وجل : فَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا يَكْسِبُونَ [ البقرة/ 79] ، وَوَيْلٌ لِلْكافِرِينَ [إبراهيم/ 2] وَيْلٌ لِكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ [ الجاثية/ 7] ، فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا [ مریم/ 37] ، فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا [ الزخرف/ 65] ، وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ [ المطففین/ 1] ، وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ [ الهمزة/ 1] ، يا وَيْلَنا مَنْ بَعَثَنا[يس/ 52] ، يا وَيْلَنا إِنَّا كُنَّا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 7–11

فرماتا ہے ویل لکل افاک اثیم الخ یہاں سے منکروں کے اقسام ذکر کرتا ہے اور انکار پر برانگیختہ کرنے والی خباثت کا بھی ذکر کرتا ہے۔ قسم اول سن کر کانوں میں مار جانے والے گویا سنا ہی نہیں تکبر کی راہ سے اس کی کچھ پرواہی نہ کی۔ اور اس کا محرک اور مادہ کیا ہے افک اثم جو افاک واثیم سے سمجھا گیا۔ افک جھوٹ بولنا افاک بڑا جھوٹا اثم گناہ اثیم بڑا گناہگار۔ بیشک جس میں یہ بدخصلتیں پیدا ہوجاتی ہیں اس کا دل سیاہ ہوجاتا ہے حق قبول کرنے کا مادہ نہیں رہتا۔ یہ قریش کے بعض سرداروں کی عادت تھی جن کی طرف ان لفظوں میں اشارہ ہے۔ اول اس کے لیے صرف لفظ ویل فرمایا تھا یعنی خرابی ہو اس کی یاویل جہنم کی ایک جگہ ہے کہ یہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 7–8

وَیْلٌ لِّـکُلِّ اَفَّاکٍ اَثِیْمٍ ۔ یَّسْمَعُ اٰیٰتِ اللّٰہِ تُتْلٰی عَلَیْہِ ثُمَّ یُصِرُّمُسْتَـکْبِرًا کَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْھَا ج فَبَشِّرْہُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ۔ (الجاثیۃ : 7، 8) (تباہی ہے ہر اس جھوٹے بداعمال شخص کے لیے۔ جو اللہ کی آیتیں سنتا ہے جو اسے پڑھ کر سنائی جاتی ہیں، پھر وہ اپنے کفر پر اصرار کرتا ہے استکبار کے ساتھ، گویا اس نے ان کو سنا ہی نہیں، آپ اس کو ایک دردناک عذاب کا مژدہ سنا دیں۔ ) ہدایت سے محروم لوگوں کے اوصاف اس آیت کریمہ میں اس شخص کا تعارف کرایا گیا ہے جس پر قرآن کریم کے معجزانہ دلائل بھی اثرانداز نہیں ہوتے۔ ایسے لوگوں کی اولین صفت یہ ہے کہ وہ پرلے درجے کے جھوٹے لوگ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 7–11

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیاں دیکھنے اور اس کی نعمتوں سے مستفید ہونے کے باوجود جھوٹا اور متکبر آدمی اپنے رب کو اس کے حکم کے مطابق ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ ایسے شخص کا انجام بدترین ہوگا۔ جو آدمی توحید و رسالت کو جھٹلانے اور تکبر کا راستہ اختیار کرلیتا ہے اس کی حالت یہ ہوتی ہے کہ جب بھی اسے اللہ کی توحید کی آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ انہیں سننے کے باوجود ایسا رویہ اختیار کرتا ہے گویا کہ اس نے اپنے رب کی آیات کو سنا ہی نہیں۔ اگر کسی وقت توجہ سے سن لیتا ہے تو ایمان لانے کی بجائے انہیں مذاق کرتا ہے۔ اس کے بارے میں ارشاد ہوا کہ اس کو اذیت ناک عذاب کی خوشخبری سنائیں۔ جو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 7 : وَیْلٌ لِّکُلِّ اَفَّاکٍ اَثِیْمٍ (بڑی خرابی ہوگی ہر ایسے شخص کے لئے جو جھوٹا ہونا فرمان ہو) افاک۔ کذاب۔ اثیم۔ جو پہ درپہ گناہ کرنے والا ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

6، تلک آیات اللہ نتلوھا علیک بالحق، مراد یہ ہے کہ یہ جو ہم نے آپ پر اللہ کی آیات بیان کیں ہم ان کو آپ پر حق کے ساتھ بیان کرتے ہیں ، فبای حدیث بعد اللہ ، اللہ کی کتاب کے بعد، وآیاتہ یؤمنون، ابن عامر ، حمزہ ، کسائی ، ابوبکر اور یعقوب رحمہم اللہ نے ، تؤمنون، تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس معنی پر کہ اے محمد ﷺ آپ ان کو کہہ دیں کہ کون سی بات پر تم ایمان لاتے ہو ؟ اور دیگر حضرات نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 3–15

3۔ 15۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی چند نشانیوں کا ذکر فرمایا ہے مثلاً آسمان و زمین کا پیدا کرنا ‘ آسمان میں فرشتوں اور سورج و چاند ستاروں کا پیدا کرنا زمین میں انسان جن چرند پرند طرح طرح کے جانوروں کا جنگل اور دریا میں پیدا کرنا دریا اور ندیوں کا جاری کرنا اور ان میں کشتیوں کا چلانا دنیا کے کاروبار کے لئے دن اور سورج کی روشنی کو پیدا کرنا اور کاروبار کی محنت سے جو آدمی تھک جاتا ہے اس تھکان کے رفع کرنے کیلئے رات اور رات کی نیند کو پیدا کرنا آسمان سے مینہ کا برسانا جس سے ہر طرح کے اناج ہر طرح کے میووں ہر طرح کی ترکاریوں کا زمین میں پیدا ہونا ہر طرح کی ہوا کا چلانا جس کی تاثیر سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–11

آیت 1 ۔ 11 اللہ تبارک و تعالٰ ایک ایسی خبر دیتا ہے جو قرآن کی تعظیم اور اس کے اہتمام کو متضمن ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ کتاب (تنزیل) ” نازل کی گئی ہے۔ “ (من اللہ) ” اللہ کی طرف سے۔ “ جو معبود ہے کیونکہ وہ صفات کمال سے متصف ہے صرف وہی ہے جو نعمتیں عطا کرتا ہے جو غلبہ کامل اور حکمت تامہ کا مالک ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آیات افقیہ و نفسیہ کا ذکر کر کے اس کی تائید فرمائی۔ یعنی آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا ذکر فرمایا، نیز زمین کے اندر جو چوپائے پھیلائے، آسمان اور زمین میں جو منفعتیں ودیعت کیں، آسمان سے جو پانی نازل کیا جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین اور اپنے بندوں کو زندگی بخشتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 7–8

8 استکبار محرومی اور فساد کی جڑ بنیاد ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے معلوم ہوا کہ استکبار یعنی اپنی بڑائی کا گھمنڈ اور اس کی بنا پر حق کے مقابلے میں اکڑ جانا انسان کو حق سے محروم کردیتا ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیَاتِیَ الَّذِیْنَ یَتَکَبَّرُوْنَ فِی الاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ } (الاعراف : 126) اور یہ اس لیے کہ کبریائی حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ ہی کا حق اور اسی کو سزا وار ہے۔ جبکہ بندے کا اصل کمال و مقام اس امر میں ہے کہ وہ اپنی عبدیت اور اپنے خالق ومالک کے آگے جھکنے اور اسی کی طرف رجوع کرنے میں کمال پیدا کرے۔ اسی پر وہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے دارین کی سعادت و…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–13

اللہ کی برتری کا یقین تشریح : اللہ کو پہچان کر اس پر یقین کرلینا اور اس کی کتاب کو غور سے پڑھ کر زندگی ‘ کائنات ‘ اور کائنات کی تمام چیزوں سے واقفیت حاصل کر کے ان سے پورا پورا فائدہ اٹھانا یہ بڑی سیدھی آسان اور معقول بات ہے۔ اللہ نے انسان کو سچائی کی فطرت پر پیدا کیا ہے۔ یعنی جب عالم ارواح میں تمام روحوں سے اللہ نے سوال کیا کہ تمہیں کس نے پیدا کیا ہے تو سب نے یک زبان جواب دیا کہ اللہ نے۔ اسی طرح کوئی کتنا ہی برا منکر خدا، پکا کافر ہی کیوں نہ ہو جب آپ اس سے پوچھتے ہیں کہ بھئی تمہیں کس نے پیدا کیا ہے ؟ تو وہ فورا جواب دے گا اللہ نے مسلمان تو اپنے خالق کو اللہ کہتا ہے جبکہ غیر مسلم اپنی زبان میں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–11

آیات 1 تا 11۔ اسرار ومعارف۔ یہ کتاب اللہ کی طرف سے نازل کی گئی جو سب پر غالب ہے اور زبردست حکمتوں والا ہے یہ اسکی عظمت کی مظہر ہے اور چاہیے تھا کہ اس کو قبول کرتے اور مان جاتے اپنی نجات کا سامان کرتے اس کتاب کی عظمت یہ بھی ہے کہ محض حکماء ہی ماننے کو نہیں کہہ رہی بلکہ دلائل سے حق کو ثابت کرتی ہے ماننے والوں کے لیے آسمانوں اور زمین میں بیشمار دلائل ہیں کہ جیسے جیسے عقل انسانی تخلیق میں اور حیوانات کی حیات میں کسی قدر دلائل ہیں تخلیق کے فطری طریقے صحت وبیماری کے راز غذا اور حیات کا رابطہ اور ایک خلیے کی تعمیر وتخریب بھلاکس قدر دلائل سے بھرپور ہے اگر علم نصیب ہوتوشب وروز کا اختلاف باعتبار اوقات…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 7–8

ف 2 ” خراب “ یہ ” ویل “ کا ترجمہ ہے اور ویل جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے دوزخ کی ایک وادی کا نام بھی ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(45:7) ویل اسم مرفوع۔ ہلاکت، عذاب، دوزخ کی ایک وادی، عذاب کی شدت، ویل اصل میں کلمہ عذاب و ہلاکت ہے۔ یہ مصدر ہے اور اس سے فعل کا کوئی صیغہ نہیں آتا۔ (اضواء البیان) افاک۔ جھوٹا۔ افک سے مبالغہ کا صیغہ ہے بروزن فعال۔ الافک ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو اپنے صحیح رخ سے پھیر دی گئی ہو۔ اسی بناء پر ان ہواؤں کو جو اپنا اصلی رخ چھوڑ دیں مؤتفکۃ کہا جاتا ہے۔ اور آیت شریفہ ولمؤتفکۃ اھوی (53:53) اور الٹی ہوئی بستیوں کو دے پٹکا۔ میں مؤتفکۃ سے مراد بستیاں ہیں۔ جن کو اللہ تعالیٰ نے مع ان کے بسنے والوں کے لاٹ دیا تھا۔ اور جھوٹے کو افاک اس لئے کہتے ہیں کہ وہ اعتقاد حق سے باطل کی طرف سچائی سے جھوٹ کی طرف اور…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–13

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 11 : یبت (وہ پھیلاتا ہے) تصریف ( الٹتا پلٹتا ہے) حدیث (بات) افاک ( جھوٹ بولنے والا) بصر (وہ ضد کرتا ہے ، اڑجاتا ہے) رجز ( سزا ، عذاب) تشریح : آیت نمبر 1 تا 11 : سورة الجاثیہ مکہ مکرمہ میں ہجرت سے کچھ عرصے پہلے ہی نازل ہوئی ۔ مکی سورتوں کی طرح اس میں بھی انسان کے بنیادی عقیدوں کی اصلاح ، توحیدخالص ، نبوت و رسالت اور فکر آخرت کو مختلف انداز سے بیان کیا گیا ہے تا کہ ایمان ، یقین اور عقل و فہم رکھنے والے جو کائنات میں غور و فکر کرتے ہیں اور صاحب بصیرت ہیں وہ حقیقی کامیابی حاصل کرسکیں ۔ زمین و آسمان کا مرتب نظام ، چاند سورج کا باقاعدگی سے نکلنا ، انسان اور جان داروں کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 2–7

(ف 1) مشرکین یہ جو کہتے تھے کہ قرآن اللہ کا کلام نہیں ہے محمد ﷺ اپنی طرف سے روز قرآن کی آیتیں بنالیتے ہیں اور ان کو اللہ کا کلام بتلاتے ہیں اسی کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے کئی جگہ قرآن میں فرمایا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور اللہ کی طرف سے اتارا گیا ہیے قرآن سے پہلے جو اللہ کا کلام اور انبیاء پر اترا، اور ان انبیاء کی امتوں نے اس کو نہیں مانا، تو اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں سے بدلہ لینے میں ایسازبردست ہے کہ اس نے ایسے نافرمان لوگوں کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کردیا، اگر یہ حال کے لوگ بھی قرآن کی آیتوں کے جھٹلانے پر اڑے رہیں گے تو یہی انجام ان کا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 2–9

ف 1: قرآن کتاب فطرت ہے ۔ اس لئے یہ اپنی تصدیق میں صحیفہ قدرت کو پیش کرتا ہے ۔ اور کہتا ہے ۔ کہ تم سب کائنات کو عمیق نگاہوں سے دیکھو گے ۔ اور آسمانوں اور زمین کے متعلق وقت نظر سے معائنہ کرو گے اور خود اپنی قامت کے متعلق سوچو گے ۔ اور غم الحیوانات کو حاصل کروگے تو تمہیں اس کی صداقت میں بہت دلائل مل جائیں گے ۔ تمہیں یہ زیبا ہے ۔ کہ لیل ونہار کے ردوبدل میں اور ہم الریاح میں خصوصیت کے ساتھ غور وفکر سے کام لو ۔ یہ سب مظاہر قدرت اپنے اندر عقل وایقان کا بہرہ وافر رکھتے ہیں ۔ قرآن کو علوم طبعی کے ارتقاء میں نہ صرف کوئی خطرہ محسوس ہوتا ہے ۔ بلکہ قرآن کی خواہش ہے ۔ کہ لوگ ان علوم میں بیش از بیش ترقی…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہر جھوٹے گنہگار کے لیے خرابی ہی خرابی ہے 7 ؎ (افاک) اس کا اصل مادہ اک اور (افک) جھوٹ اور بہتان کو کہتے ہیں کیونکہ اس کے مفہوم میں کسی شے کا اس کی اصل جانب سے منہ پھیرنے کا نام (افک) ہے اس لیے جو بات اپنی اصل صورت سے پھر گئی اس کو (افک) کہیں گے۔ جھوٹ اور بہتان میں چونکہ یہ صفت بدرجہ اتم موجود ہے اس لیے ان کو (افک) کہا گیا ہے اور اس طرح (افک) بہت جھوٹ بولنے والے اور بہتان تراشنے والے کو کہا جائے گا اور زیر نظر آیت میں فرمایا جارہا ہے کہ افسوس ہے ہر اس شخص کے لیے جو جھوٹ بولتا اور بہتان تراشتا ہے اور اس طرح گناہ پر گناہ کیے چلا جاتا ہے اور یہ بات اب اس کی عادت ثانیہ بن کر رہ گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–9

وَيْلٌ لِّكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ ("Woe to every sinful liar... 45:7) " There are several views related to the background of revelation of this verse. Some Traditions relate that the verse was revealed in connection with Nadr Ibn Harith. Others report that it was revealed in connection with Harith Ibn Kaldah, and yet others feel it is about Abu Jahl and his comrades. (Qurtubi). There is no need to refer to a particular person in order to determine the meaning of a Qur'anic verse. The word کُل kull [ every ] refers to every person who bears the characteristics of the three persons who might…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 6–7

8 That is, "When these people have not believed even after Allah's own arguments have been presented for His Existence and His Unity, what else can be there by which they will gain the faith ? For Allah's Word is the final thing by which a person can attain to this blessing, and the maximum of the rational arguments that could possibly be given to convince someone of an unseen reality have been presented in this Divine Word. In spite of this if a person is bent upon denial, he may persist in his denial, for his denial cannot change the reality."

Read the full tafseer →