Al-Jaathiya 45:6

Al-Jaathiya · from ayah 6

45:6

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ ۚ— فَبِاَیِّ حَدِیْثٍ بَعْدَ اللّٰهِ وَاٰیٰتِهٖ یُؤْمِنُوْنَ ۟تِلۡكَ اٰيٰتُ اللّٰهِ نَـتۡلُوۡهَا عَلَيۡكَ بِالۡحَقِّ‌ ‌ۚ فَبِاَىِّ حَدِيۡثٍۢ بَعۡدَ اللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ يُؤۡمِنُوۡنَ

یہ خدا کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو سچائی کے ساتھ پڑھ کر سناتے ہیں۔ تو یہ خدا اور اس کی آیتوں کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

These are the verses of Allah which We recite to you in truth. Then in what statement after Allah and His verses will they believe?

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Jaathiya

All translations of 45:6

یہ اللہ کی نشانیاں ہیں جنہیں ہم تمہارے سامنے ٹھیک ٹھیک بیان کر رہے ہیں اب آخر اللہ اور اس کی آیات کے بعد اور کون سی بات ہے جس پر یہ لوگ ایمان لائیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ خدا کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو سچائی کے ساتھ پڑھ کر سناتے ہیں۔ تو یہ خدا اور اس کی آیتوں کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ ہیں اللہ کی آیتیں جنہیں ہم آپ کو راستی سے سنا رہے ہیں، پس اللہ تعالیٰ اور اس کی آیتوں کے بعد یہ کس بات پر ایمان ﻻئیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ اللہ کی آیتیں ہیں جو ہم تمہیں ٹھیک ٹھیک پڑھ کر سنا رہے ہیں۔ اب اللہ اور اس کی آیتوں کے بعد کون سی بات ہے جس پر یہ لوگ ایمان لائیں گے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہ اللہ کی آیتیں ہیں کہ ہم تم پر حق کے ساتھ پڑھتے ہیں، پھر اللہ اور اس کی آیتوں کو چھوڑ کر کونسی بات پر ایمان لائیں گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہ اللہ کی آیتیں ہیں جنہیں ہم آپ پر پوری سچائی کے ساتھ تلاوت فرماتے ہیں، پھر اللہ اور اُس کی آیتوں کے بعد یہ لوگ کس بات پر ایمان لائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہ اللہ کی آیات ہیں، ہم انھیں تجھ پر حق کے ساتھ پڑھتے ہیں، پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ اللہ کی آیات ہیں جنہیں ہم آپ کو ٹھیک ٹھیک پڑھ کر سنا رہے ہیں۔ پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد آخر وہ کون سی بات ہے جس پر یہ لوگ ایمان لائیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم تمہیں بالکل حق کے ساتھ سنا رہے ہیں تو اللہ اور اس کی آیات کے بعد اور کون سی بات ہے جس پر وہ ایمان لائیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ اللہ کی آیتیں ہیں جو ہم پڑھ کر سناتے آپ کو حق کے ساتھ (اے پیغمبر !) پھر اللہ کی (ان عظیم الشان رحمتوں و عنایتوں اور اس کی) آیتوں کے بعد آخر یہ لوگ کس بات پر ایمان لائیں گے ؟

— مولانا اسحاق مدنی

یہ اللہ کی نشانیاں ہیں جو صحیح طور پر ہم آپ کو پڑھ کر سناتے ہیں تو پھر اللہ اور اس کی نشانیوں کے سوا اور کون سی بات ہوگی جس پر یہ لوگ ایمان لائے گے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم پڑھ کر سنا رہے ہیں آپ کو حق کے ساتھ تو اب اللہ اور اس کی آیات کے بعد اور کون سی بات ہے جس پر یہ لوگ ایمان لائیں گے ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ اللہ کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو پڑھ کر سناتے ہیں سچائی کے ساتھ۔ تو یہ اللہ اور اس کی آیتوں کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

These are Allah's Signs that We rehearse to you in Truth. In what kind of discourse after Allah and His Signs will they, then, believe?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

These are Allah‘s verses that We recite to you rightly. Then, in which discourse, after Allah and His verses, will they believe?

— Muhammad Taqi Usmani

These are Allah‘s verses that We recite to you rightly. Then, in which discourse, after Allah and His verses, will they believe?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

These are the Ayat of Allah, which We recite to you with truth. Then in which speech after Allah and His Ayat will they believe

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

These are the portents of Allah which We recite unto thee (Muhammad) with truth. Then in what fact, after Allah and His portents, will they believe?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

These are the verses of Allah which We recite to you in truth. Then in what statement after Allah and His verses will they believe?

— Saheeh International

These are the revelations of God which We recite to you for a genuine purpose. In what statements other than God's and His revelations will they then believe?

— Muhammad Sarwar

These are the communications of Allah which We recite to you with truth; then in what announcement would they believe after Allah and His communications?

— Muhammad Habib Shakir

These are the revelations of Allah which We rehearse Unto thee with truth: in what discourse then, after Allah and His revelations, will they believe?

— Abdul Majid Daryabadi

Such are the Signs of Allah, which We rehearse to thee in Truth; then in what exposition will they believe after (rejecting) Allah and His Signs?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 45:6

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 6–11

قرآن عظیم کی اہانت سے بچاؤ مطلب یہ ہے کہ قرآن جو حق کی طرف نہایت صفائی اور وضاحت سے نازل ہوا ہے۔ اس کی روشن آیتیں تجھ پر تلاوت کی جا رہی ہیں۔ جسے یہ سن رہے ہیں اور پھر بھی نہ ایمان لاتے ہیں نہ عمل کرتے ہیں تو پھر آخر ایمان کس چیز پر لائیں گے ؟ ان کے لئے ویل ہے اور ان پر افسوس ہے جو زبان کے جھوٹے کام کے گنہگار اور دل کے کافر ہیں اس کی باتیں سنتے ہوئے اپنے کفر انکار اور بد باطنی پر اڑے ہوئے ہیں گویا سنا ہی نہیں انہیں سنا دو کہ ان کے لئے اللہ کے ہاں دکھ کی مار ہے قرآن کی آیتیں ان کے مذاق کی چیز رہ گئی ہیں۔ تو جس طرح یہ میرے کلام کی آج اہانت کرتے ہیں کل میں انہیں ذلت کی سزا دوں گا۔ حدیث شریف میں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 6–7

سورة الْجَاثِیَة 8 یعنی جب اللہ کی ہستی اور اس کی وحدانیت پر خود اللہ ہی کے بیان کیے ہوئے یہ دلائل سامنے آجانے کے بعد بھی یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو اب کیا چیز ایسی آسکتی ہے جس سے انہیں دولت ایمان نصیب ہوجائے۔ اللہ کا کلام تو وہ آخری چیز ہے جس کے ذریعہ سے کوئی شخص یہ نعمت پاسکتا ہے۔ اور ایک ان دیکھی حقیقت کا یقین دلانے کے لیے زیادہ سے زیادہ جو معقول دلائل ممکن ہیں وہ اس کلام پاک میں پیش کردیے گئے ہیں۔ اس کے بعد اگر کوئی انکار ہی کرنے پر تلا ہوا ہو تو انکار کرتا رہے۔ اسکے انکار سے حقیقت نہیں بدل جائے گی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 3–6

(آیت) اِنَّ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَاٰيٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ۔ ان آیات سے توحید کا اثبات مقصود ہے۔ اس سے ملتی جلتی آیتیں دوسرے پارے کے رکوع (آیت) ان فی خلق السموت والارض۔ میں گزر چکی ہیں۔ وہیں ان کی مفصل تفسیر مذکور ہے اور یہ بھی کہ ان چیزوں سے توحید کیونکہ ثابت ہوتی ہے دونوں مقامات میں عنوان کا جو تھوڑا تھوڑا فرق ہے اس سے متعلق نکات اہل علم امام رازی کی تفسیر کبیر میں دیکھ سکتے ہیں۔ البتہ ایک بات قابل ذکر ہے کہ یہاں کائنات کی مختلف نشانیاں بیان فرما کر ایک جگہ یہ فرمایا گیا ہے کہ اس میں ”ایمان لانے والوں کے لئے“ نشانیاں ہیں، دوسری جگہ ا رشاد ہے کہ ”یقین کرنے والوں کے لئے“ نشانیاں ہیں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

تلک ایت اللہ نتلوھا علیک بالحق، فبای حدیث، بعد اللہ مایتہ یومنون (6) آنحضرت صلعم کے لئے تسلی اور مخالفین کو ملامت یہ آنحضرت ﷺ کے لئے تسلی اور آپ کے مخلافین کو ملامت ہے۔ تلک کا اشارہ آفاق وانفس کی انہی نشانیوں کی طرف ہے جو اوپر کی آیات میں مذکور ہوئیں۔ فرمایا کہ اللہ کی توحید، اس کی قدرت و حکمت اور اس کے روز جزاء و سزا کی یہ نشانیاں ہیں جو اس قرآن کے ذریعہ سے ہم تم کو ان کے صحیح نتائج ولوازم کے ساتھ، پڑھ کر سنا رہے ہیں۔ یہ نشانیاں اس قدر واضح ہیں کہ کوئی ذی ہوش ان کا انکار نہیں کرسکتا۔ انہی کے واقعی نتائج و لوازم کو قرآن تسلیم کرنے کی دعوت دے رہا ہے۔ اگر تمہارے یہ مخالفین ان نشانیوں کے بدیہی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

6۔ 1 یعنی اللہ کا نازل کردہ قرآن، جس میں اس کی توحید کے دلائل وبراہین ہیں۔ اگر یہ اس پر بھی ایمان نہیں لاتے تو اللہ کی بات کے بعد کس کی بات ہے اور اس کی نشانیوں کے بعد کون سی نشانیاں ہیں جن پر ایمان لائیں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آیت نمبر 6 کوئی کلام ، کلام الٰہی کی طرح فصیح نہیں اور کوئی تخلیق مخلوقات الٰہیہ کی طرح بدیع نہیں ہے۔ کوئی حقیقت بھی وجود باری کی طرح ثابت نہیں ہے۔ پس ان دلائل واقیہ کے بعد وجود باری واضح اور یقینی ہے۔ لہٰذا ان دلائل کے بعد بھی اگر کوئی ایمان نہیں لاتا تو اسے دھکمی دینے اور خبردار کرنے کے سوا اور کیا کیا جاسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی اللہ کو چھوڑ کر دوسرا کون ہے اور اس کی باتیں چھوڑ کر کس کی بات ماننے کے قابل ہے۔ جب اس بڑے مالک کی ایسی سچی اور صاف باتیں بھی کوئی بدبخت قبول نہ کرے تو آخر کس چیز کا منتظر ہے جسے قبول کرے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 6 { تِلْکَ اٰیٰتُ اللّٰہِ نَتْلُوْہَا عَلَیْکَ بِالْحَقِّ } ”یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم پڑھ کر سنا رہے ہیں آپ کو حق کے ساتھ۔“ { فَبِاَیِّ حَدِیْثٍم بَعْدَ اللّٰہِ وَاٰیٰتِہٖ یُؤْمِنُوْنَ } ”تو اب اللہ اور اس کی آیات کے بعد اور کون سی بات ہے جس پر یہ لوگ ایمان لائیں گے ؟“ اگر یہ لوگ کائنات میں موجود آیات آفاقی کا بچشم ِسر مشاہدہ کرنے اور قرآن کی آیات کو سننے کے بعد بھی ایمان نہیں لائے تو اور کس معجزے کو دیکھ کر ایمان لائیں گے ؟ ایمان کی دولت تو صرف اسے ہی نصیب ہوتی ہے جو خود طالب ِہدایت ہو۔ بلاشبہ قرآن ہر طالب ہدایت کے لیے ایک بہت بڑا معجزہ ‘ سراج منیر اور منبع رشد و ہدایت ہے۔ لیکن اگر کسی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

8 یعنی اللہ کی آیات تو وہ ہیں جو اوپر مذکور ہوئیں۔ یہ نظام کائنات، یہ بےجان چیزوں سے جانداروں کی تخلیق، یہ گردش لیل و نہار، یہ آسمان سے تمام مخلوق کی روزی کا نزول یہ ہواؤں کے رخ اور ان میں تبدیلی۔ یہ سب تو اللہ اکیلے ہی کی نشانیاں ہیں اب اگر تم ان پر ایمان نہیں لاتے تو ان کے علاوہ کسی دوسری ہستی کی بھی کچھ نشانیاں ہیں جو ان سے بڑھ کر ہوں اور تم اللہ کو چھوڑ کو اس کی نشانیوں اور اس کی باتوں پر ایمان لانا چاہتے ہو ؟ اگر تمہارے خیال میں کوئی ایسی ہستی ہے تو اس کی نشاندہی کیوں نہیں کرتے ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 6–8

4۔ (کہ وضوح حق کے بعد روش استکبار کی سزا عذاب الیم ہی ہے) (آیت) ” فبای ..... یؤمنون “۔ یعنی توحید، معاد، نبوت وغیرہ مسائل حقہ کا اثبات انہیں آیات ہی سے تو ہوتا ہے۔ سو اب اور کون چیز باقی ہے۔ جس پر ان کے ایمان لانے کی توقی کی جاسکے۔ (آیت) ” بعد اللہ وایتہ “۔ مراد بعد ایات اللہ ہی ہے الفاظ جس ترتیب و ترکیب کے ساتھ قرآن مجید میں آئے ہیں اس نے کلام میں زور وتاکید پیدا کردی ہے۔ تقدیم اسم اللہ للمبالغۃ والتعظیم (بیضاوی) (آیت) ” بعد اللہ “۔ میں بعد سے مراد بعض نے بعد کتاب اللہ لی ہے، اور کتاب کو محذوف سمجھا ہے۔ (آیت) ” بعداللہ “۔ میں بعد کے معنی ” اس سے بڑھ کر “ کے ہیں، امام رازی (رح) نے آیت سے یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–11

آیت نمبر 1 تا 11 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے کتاب یعنی قرآن کا نزول اللہ کی طرف سے ہے (من اللہ) خبر ہے جو کہ اپنے ملک میں غالب اور اپنی صنعت میں حکمت والا ہے بلاشبہ آسمانون اور زمین میں یعنی ان دونوں کے پیدا کرنے میں ایسی نشانیاں ہیں جو اللہ کی قدرت اور وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں، اور خود تمہاری پیدائش میں یعنی تم سب کو نطفہ سے پیدا کرنے میں پھر دم بستہ سے پھر گوشت کے لوتھڑے سے، حتی کہ وہ نطفہ انسان ہوجاتا ہے، اور ان جانوروں کی پیدائش میں جنہیں وہ زمین پر پھیلاتا ہے (دابۃ) ہر وہ شئ ہے جو زمین پر چلے انسان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

تلک ایت اللہ نتلوھا علیک بالحق فبای حدیث بعد اللہ وایتہ یؤمنون یہ اللہ کی آیتیں ہیں جو صحیح صحیح طور پر ہم آپ کو پڑھ کر سناتے ہیں ‘ پھر (اگر یہ اس کو بھی نہیں مانگیں گے تو) اللہ کے کلام اور اس کی آیتوں کے بعد اور جس بات پر ایمان لائیں گے ؟ تِلْکَ اٰیٰتُ اللّٰہِ یہ نشانیاں اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں (ان سے اللہ کی قدرت کا ثبوت ملتا ہے) ۔ بِالْحَقِّ یہ نشانیاں برحق ہیں ‘ اب اگر آیات اللہ پر یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو بَعْدَ اللّٰہِ اللہ کی کتاب کے بعد۔ وَاٰیٰتِہٖ اور اللہ کی آیات کے بعد اور کس بات پر یہ ایمان لائیں گے ‘ یعنی کفار مکہ اگر ان آیات کو نہیں مانتے تو اور کس دلیل کو مانیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

یہ اللہ تعالیٰ کی آیات ہیں جو بذریعہ جبریل امین حق و باطل کے بیان کرنے کے لیے آپ پر نازل کی ہیں۔ تو پھر کلام خداوندی اور اس کی کتاب کے بعد یا یہ کہ اس کے عجائبات کے بعد اور کون سی بات ہوسکتی ہے جس پر یہ لوگ ایمان لائیں اگر اس قرآن پر ایمان نہیں لاتے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) تلک ایت اللہ نتلوھا علیک بالحق : یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی آیات ہیں جو ہم تمجھے حق کے ساتھ پڑھ کر سنا رہے ہیں، ان میں کوئی بات باطل نہیں، نہ ان میں کوئی جھوٹ ہے نہ جادو اور نہ یہ محض خیالی باتیں ہیں۔ (2) فبای حدیث بعد اللہ وایتہ یومنون : یہاں ایک لمبی بات کو مختصر فرما دیا ہے کہ اگر یہ لوگ اللہ کی آیات سن کر بھی ایمان نہیں لاتے تو پھر اللہ کے بعد کون سی ہستی ہے اور اس کی آیات کے بعد کون سی بات ہے جس پر وہ ایمان لائیں گے ؟

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

یہ اللہ تعالیٰ کی آیات ہیں یعنی ایسے دلائل اور براہین ہیں جو اللہ تعالیٰ کی واحدنیت اور اس کی قدرت پر دلالت کرتے ہیں۔ حق سے مراد صدق ہے۔ یعنی یہ ایسی آیات ہیں جو باطل نہیں اور جن میں جھوٹ نہیں۔ اسے یتلوھا پڑھا گیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے کلام کے بعد۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کے قرآن کے بعد : عام قرأت کے ساتھ ہے ابن محیصن اور ابوبکر نے عاصم سے حمزہ اور کسائی نے تومنون تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 5–12

1:۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وما انزل اللہ من السمآء من رزق “ (اور جو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے رزق نازل فرمایا) یعنی بارش (آیت ) ” وتصریف الریح “ (اور ہواؤں کے چلانے میں) یعنی جب چاہے اس کو رحمت بنادے اور جب چاہے اس کو عذاب بنادے (آیت ) ” لکل افاک اثیم “ (ہر چھوٹے اور سخت گناہگار کے لئے) یعنی بہت جھوٹ بولنے والا۔ 2:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لکل افاک اثیم “ سے مراد مغیرہ بن مخزوم ہے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

تِلْكَ اٰيٰتُ اللّٰهِ [ یہ اللہ کی آیتیں ہیں ] نَتْلُوْهَا عَلَيْكَ [ ہم انھیں پڑھ کر سناتے ہیں آپ کو ] بِالْحَقِّ ۚ [ حق کے ساتھ ] فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ [ پھر کون سی بات پر ] بَعْدَ اللّٰهِ وَاٰيٰتِهٖ [ اللہ اور اس کی نشانیوں کے بعد ] يُؤْمِنُوْنَ [ یہ لوگ ایمان لائیں گے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 2–6

یہ کتاب عزیز و حکیم کی طرف سے ہے، آسمان اور زمین، انسان کی تخلیق، لیل و نہار کے اختلاف اور بارش کے نزول میں معرفت الٰہیہ کی نشانیاں ہیں ان آیات میں اول تو یہ فرمایا ہے کہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے نازل کی گئی ہے وہ عزیز بھی ہے حکیم بھی ہے، اس کے بعد توحید کی نشانیاں بیان فرمائیں۔ ارشاد فرمایا کہ آسمانوں اور زمین میں اہل ایمان کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں، اہل ایمان ان کو دیکھتے ہیں اور متاثر ہوتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ تمہارے پیدا کرنے میں اور جو چوپائے زمین میں پھیلا رکھے ہیں ان سب میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں اور دلائل ہیں جو لوگ یقین رکھتے ہیں اس طرح رات اور دن کے آگے پیچھے آنے میں اور اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–11

بیان عظمت کتاب خداوندی وذکر دلائل قدرت وتنبیہ بر اعراض و انحراف : قال اللہ تعالیٰ :۔ (آیت ) ” حم تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم ...... الی ....... من رجز الیم “۔ (ربط) گزشتہ سورت کا مضمون ان اوصاف کے بیان پر ختم کیا گیا تھا۔ جو انسانی فوز و فلاح اور سعادت کے ضامن ہیں اور یہ کہ قرآن کریم عربی زمین میں آسان وسہل بنا کر نازل کیا گیا اب اگر اس کے بعد بھی لوگ ہدایت قبول نہ کریں تو یہ انکی محرومی اور بدنصیبی ہے تو اس مناسبت سے سورة جاثیہ کی ابتداء عظمت کو دیکھ کر اس کی کتاب کی عظمت کو بھی پہچان سکیں، ساتھ انعامات کا بھی ذکر ہے اور قادر مطلق ومنعم حقیقی کی نافرمانی پر تنبیہ ووعید بھی، تو ارشاد…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

5:۔ ” تلک ایت اللہ۔ الایۃ “ یہ اللہ کی وحدانیت کے دلائل وبراہین ہیں جو ہم آپ کو سنا رہے یہ سراپا حق وصدق ہیں اور ان میں کوئی بات غلط اور باطل نہیں۔ اگر یہ معاندین ان آیات کو دیکھ سن کر بھی ایمان نہیں لاتے تو پھر وہ کونسا بیان ہے اور وہ کون سے دلائل ہیں جن کا وہ مطالبہ کرتے ہیں، کیونکہ اس سے واضح تر کوئی بیان نہیں اور ان سے مضبوط تر کوئی دلیل نہیں ای ھذہ ایات اللہ، ای حججہ وبراہینہ الدالۃ علی وحدانیتہ وقدرتہ (قرطبی ج 16 ص 158) ۔ لا بیان ازید من ھذا البیان ولا ایۃ ادال من ھذہ الایۃ (روح ج 25 ص 142) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 6–11

سورة کی ابتدا میں قرآن کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان فی السموت والارض سے لے کر لقوم یعقلون تک اپنی توحید کے بعض دلائل اجمالاً ذکر کئے اب انہی دلائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے تلک ایت اللہ نتلوھا علیک بالحق یہ اللہ تعالیٰ کی آیتیں ہیں جو ہم پڑھتے ہیں آپ پر حق کے ساتھ یعنی ان آیات کو صحیح صحیح سچے انداز میں حقیقت کے ساتھ تلاوت کرتے ہیں تاکہ ان میں کسی قسم کا اشتباہ باقی نہ رہے۔ آیات آیت کی جمع ہے اور قرآن پاک میں یہ لفظ نشانی (علامت ) ، دلیل (حجت) معجزہ یا حکم کے معانی میں استعمال کیا گیا ہے۔ تاہم اس مقام پر آیات سے مراد علامات اور دلائل لئے گئے ہیں۔ چناچہ ا س سورة…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

تِلْكَ اٰيٰتُ اللہِ نَتْلُوْہَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ۝ 0 ۚ فَبِاَيِّ حدیث بَعْدَ اللہِ وَاٰيٰتِہٖ يُؤْمِنُوْنَ۝ 6 الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

دلائل یقینہ بیان فرما کر ارشاد فرماتا ہے تلک آیات اللہ نتلوھاعلیک بالحق یہ اللہ کی آیتیں ہیں جو اے محمد ـ ﷺ آپ کو بہت اچھی طرح سے سنائی جاتی ہیں۔ یہاں سے پھر مسئلہ نبوت کی طرف رجوع کیا دلائل وجود و توحید باری بیان فرما کر۔ اور مناسبت یہ ہے کہ جس کتاب میں اس کیفیت کے ساتھ توحید وجود باری کے ایسے دلائل ہوں وہ کتاب خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ قرآن مجید اور جس پر وہ کتاب نازل ہوئی ہے وہ خدا کا رسول برحق ہے یعنی محمد ﷺ ۔ فبای حدیث بعداللہ و آیۃ یومنون پھر کس بات پر ایمان لاویں گے جبکہ اللہ یعنی اس کے کلام پر ایمان نہ لائے اور اس کی آیات بینات پر یقین نہ لائے۔ پھر آگے ان کے انکار کی کیفیت اور اس کی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

تِلْـکَ اٰیٰتُ اللّٰہِ نَتْلُوْھَا عَلَیْکَ بِالْحَقِّ ج فَبِاَیِّ حَدِیْثٍ م بَعْدَاللّٰہِ وَاٰیٰـتِہٖ یُؤْمِنُوْنَ ۔ (الجاثیۃ : 6) (یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپ کو ٹھیک ٹھیک پڑھ کے سنا رہے ہیں، تو اللہ اور اس کی آیات کے بعد اور کون سی بات ہے جس پر یہ لوگ ایمان لائیں گے۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی اس آیت کریمہ میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے اور مخالفین کو ملامت کرتے ہوئے انھیں آئینہ دکھایا گیا ہے۔ تِلْـکَ سے اشارہ ان تمام آفاق وانفس کی نشانیوں کی طرف ہے جنھیں دلائل کے طور پر گزشتہ آیات میں پروردگار نے بیان فرمایا۔ جس میں ایک ایک دلیل اور ایک ایک نشانی اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کی قدرت و حکمت اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 5–6

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی قدرت کی مزید نشانیوں کا تذکرہ۔ قرآن مجید کی تلاوت کرنے والا شخص جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رات اور دن کے آنے جانے اور آسمان سے بارش برسانے اور بارش کے ذریعے مردہ زمین کو زندہ کرنے اور ہواؤں کا کئی بار تذکرہ کیا ہے۔ یہ تمام کام صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مظہر ہیں۔ ان میں کوئی ایک کام ایسا نہیں جس کا معمولی حصہ بھی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی کرسکے اور نہ ہی ان کاموں میں اس کا کوئی معاون ہے اور نہ ہوگا۔ لیکن ان کاموں پر وہی شخص غور کرے گا جو اپنی عقل سے کام لے گا۔ جس نے ان چیزوں پر غور کرلیا وہ ” اللہ “ پر ضرور ایمان لائے گا۔ اس لیے ان آیات میں پہلے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 6 : تِلْکَ (یہ) اس سے آیات سابقہ متقدمہ کی طرف اشارہ کیا ہے ای تلک الایات۔ (آیات) اٰیٰتُ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کی آیات ہیں) نَتْلُوْہَا (ہم ان کو پڑھ کر سناتے ہیں) یہ محل حال میں ہے۔ ای متلوۃ۔ اس حال میں کہ پڑھی جانے والی ہیں۔ عَلَیْکَ بِالْحَقِّ (آپ کو صحیح طور پر) اور عامل پر تلک کا اشارہ والا معنی دلالت کر رہا ہے۔ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍم بَعْدَ اللّٰہِ وَاٰیٰتِہٖ یُؤْمِنُوْنَ (تو پھر اللہ تعالیٰ اور اس کی آیتوں کے بعد اور کونسی بات پر یہ لوگ ایمان لائیں گے) بعداللہ کا معنی بعد آیات اللہ۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کے بعد یہ اسی طرح ہے جیسے کہتے ہیں اعجبنی زیدٌ وکرمہ۔ اس سے ان کا مقصد اعجبنی کرم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

5، واختلاف اللیل والنھار وما انزل اللہ من السماء من رزق، یعنی وہ بارش جو بندوں کے رزق کا سبب ہے۔ ، فاحیابہ الارض بعد موتھا وتصریف الریاح آیات لقوم یعقلون،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 3–15

3۔ 15۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی چند نشانیوں کا ذکر فرمایا ہے مثلاً آسمان و زمین کا پیدا کرنا ‘ آسمان میں فرشتوں اور سورج و چاند ستاروں کا پیدا کرنا زمین میں انسان جن چرند پرند طرح طرح کے جانوروں کا جنگل اور دریا میں پیدا کرنا دریا اور ندیوں کا جاری کرنا اور ان میں کشتیوں کا چلانا دنیا کے کاروبار کے لئے دن اور سورج کی روشنی کو پیدا کرنا اور کاروبار کی محنت سے جو آدمی تھک جاتا ہے اس تھکان کے رفع کرنے کیلئے رات اور رات کی نیند کو پیدا کرنا آسمان سے مینہ کا برسانا جس سے ہر طرح کے اناج ہر طرح کے میووں ہر طرح کی ترکاریوں کا زمین میں پیدا ہونا ہر طرح کی ہوا کا چلانا جس کی تاثیر سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–11

آیت 1 ۔ 11 اللہ تبارک و تعالٰ ایک ایسی خبر دیتا ہے جو قرآن کی تعظیم اور اس کے اہتمام کو متضمن ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ کتاب (تنزیل) ” نازل کی گئی ہے۔ “ (من اللہ) ” اللہ کی طرف سے۔ “ جو معبود ہے کیونکہ وہ صفات کمال سے متصف ہے صرف وہی ہے جو نعمتیں عطا کرتا ہے جو غلبہ کامل اور حکمت تامہ کا مالک ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آیات افقیہ و نفسیہ کا ذکر کر کے اس کی تائید فرمائی۔ یعنی آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا ذکر فرمایا، نیز زمین کے اندر جو چوپائے پھیلائے، آسمان اور زمین میں جو منفعتیں ودیعت کیں، آسمان سے جو پانی نازل کیا جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین اور اپنے بندوں کو زندگی بخشتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

7 منکرین و مکذبین کے دل و دماغ پر ایک دستک : سو منکرین و مکذبین کے دل و دماغ پر ایک زوردار دستک کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر اللہ اور اس کی آیتوں کے بعد آخر یہ لوگ کس کلام پر ایمان لائیں گے ؟ "۔ یعنی ایسی بےمثال قدرتوں اور بےانتہا رحمتوں کے مالک ربِّ کریم اور حکمتوں و عظمتوں سے لبریز اس کے اس کلام معجز نظام کے سوا نہ تو ایسی کوئی ہستی ہوسکتی ہے اور نہ کوئی ایسا کلام جس پر ایمان لایا جاسکے۔ لہذا اس اللہ وحدہ لاشریک اور اس کے اس کلام عظیم پر ایمان لا کر اپنی دنیا و عقبیٰ درست کرو ۔ اَللّٰہُمَّ ارْزُقْنَا حَلَاوَۃَ الْاِیمَانِ بِمَنِّکَ وَکَرَمِکَ یَا اَرْحَمْ الرَّحِمِیْنَ ۔ بہرکیف ارشاد…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–13

اللہ کی برتری کا یقین تشریح : اللہ کو پہچان کر اس پر یقین کرلینا اور اس کی کتاب کو غور سے پڑھ کر زندگی ‘ کائنات ‘ اور کائنات کی تمام چیزوں سے واقفیت حاصل کر کے ان سے پورا پورا فائدہ اٹھانا یہ بڑی سیدھی آسان اور معقول بات ہے۔ اللہ نے انسان کو سچائی کی فطرت پر پیدا کیا ہے۔ یعنی جب عالم ارواح میں تمام روحوں سے اللہ نے سوال کیا کہ تمہیں کس نے پیدا کیا ہے تو سب نے یک زبان جواب دیا کہ اللہ نے۔ اسی طرح کوئی کتنا ہی برا منکر خدا، پکا کافر ہی کیوں نہ ہو جب آپ اس سے پوچھتے ہیں کہ بھئی تمہیں کس نے پیدا کیا ہے ؟ تو وہ فورا جواب دے گا اللہ نے مسلمان تو اپنے خالق کو اللہ کہتا ہے جبکہ غیر مسلم اپنی زبان میں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–11

آیات 1 تا 11۔ اسرار ومعارف۔ یہ کتاب اللہ کی طرف سے نازل کی گئی جو سب پر غالب ہے اور زبردست حکمتوں والا ہے یہ اسکی عظمت کی مظہر ہے اور چاہیے تھا کہ اس کو قبول کرتے اور مان جاتے اپنی نجات کا سامان کرتے اس کتاب کی عظمت یہ بھی ہے کہ محض حکماء ہی ماننے کو نہیں کہہ رہی بلکہ دلائل سے حق کو ثابت کرتی ہے ماننے والوں کے لیے آسمانوں اور زمین میں بیشمار دلائل ہیں کہ جیسے جیسے عقل انسانی تخلیق میں اور حیوانات کی حیات میں کسی قدر دلائل ہیں تخلیق کے فطری طریقے صحت وبیماری کے راز غذا اور حیات کا رابطہ اور ایک خلیے کی تعمیر وتخریب بھلاکس قدر دلائل سے بھرپور ہے اگر علم نصیب ہوتوشب وروز کا اختلاف باعتبار اوقات…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 یعنی جب قرآن کی آیات سن کر بھی وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لا رہے تو اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر اور کون سی ہستی ہے جس کی بات پر یہ ایمان لائیں گے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(45:6) نتلوھا : نتلوا مضارع جمع متکلم ہم پڑھ کر سناتے ہیں۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب ، یہاں جمع کے لئے استعمال ہوا ہے اور اس کا مرجع آیات ہے۔ علیک آپ پر ۔ آپ کو، یہ اللہ کی آیات ہیں جو صحیح صحیح طور پر پڑھ کر ہم آپ کو سناتے ہیں۔ ای۔ کونسی، جس ، کس کس۔ کیا کیا۔ یہ استفہامیہ بھی ہوتا ہے اور شرطیہ بھی۔ حدیث : بات۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–13

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 11 : یبت (وہ پھیلاتا ہے) تصریف ( الٹتا پلٹتا ہے) حدیث (بات) افاک ( جھوٹ بولنے والا) بصر (وہ ضد کرتا ہے ، اڑجاتا ہے) رجز ( سزا ، عذاب) تشریح : آیت نمبر 1 تا 11 : سورة الجاثیہ مکہ مکرمہ میں ہجرت سے کچھ عرصے پہلے ہی نازل ہوئی ۔ مکی سورتوں کی طرح اس میں بھی انسان کے بنیادی عقیدوں کی اصلاح ، توحیدخالص ، نبوت و رسالت اور فکر آخرت کو مختلف انداز سے بیان کیا گیا ہے تا کہ ایمان ، یقین اور عقل و فہم رکھنے والے جو کائنات میں غور و فکر کرتے ہیں اور صاحب بصیرت ہیں وہ حقیقی کامیابی حاصل کرسکیں ۔ زمین و آسمان کا مرتب نظام ، چاند سورج کا باقاعدگی سے نکلنا ، انسان اور جان داروں کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 2–7

(ف 1) مشرکین یہ جو کہتے تھے کہ قرآن اللہ کا کلام نہیں ہے محمد ﷺ اپنی طرف سے روز قرآن کی آیتیں بنالیتے ہیں اور ان کو اللہ کا کلام بتلاتے ہیں اسی کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے کئی جگہ قرآن میں فرمایا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور اللہ کی طرف سے اتارا گیا ہیے قرآن سے پہلے جو اللہ کا کلام اور انبیاء پر اترا، اور ان انبیاء کی امتوں نے اس کو نہیں مانا، تو اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں سے بدلہ لینے میں ایسازبردست ہے کہ اس نے ایسے نافرمان لوگوں کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کردیا، اگر یہ حال کے لوگ بھی قرآن کی آیتوں کے جھٹلانے پر اڑے رہیں گے تو یہی انجام ان کا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 2–9

ف 1: قرآن کتاب فطرت ہے ۔ اس لئے یہ اپنی تصدیق میں صحیفہ قدرت کو پیش کرتا ہے ۔ اور کہتا ہے ۔ کہ تم سب کائنات کو عمیق نگاہوں سے دیکھو گے ۔ اور آسمانوں اور زمین کے متعلق وقت نظر سے معائنہ کرو گے اور خود اپنی قامت کے متعلق سوچو گے ۔ اور غم الحیوانات کو حاصل کروگے تو تمہیں اس کی صداقت میں بہت دلائل مل جائیں گے ۔ تمہیں یہ زیبا ہے ۔ کہ لیل ونہار کے ردوبدل میں اور ہم الریاح میں خصوصیت کے ساتھ غور وفکر سے کام لو ۔ یہ سب مظاہر قدرت اپنے اندر عقل وایقان کا بہرہ وافر رکھتے ہیں ۔ قرآن کو علوم طبعی کے ارتقاء میں نہ صرف کوئی خطرہ محسوس ہوتا ہے ۔ بلکہ قرآن کی خواہش ہے ۔ کہ لوگ ان علوم میں بیش از بیش ترقی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(6) اے پیغمبر یہ اللہ تعالیٰ کی آیتیں ہیں جو ہم صحیح صحیح طور پر آپ کو پڑھ کر سناتے ہیں پھر اب یہ دین حق کے منکر اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات کے بعد کون سی بات پر ایمان لائیں گے۔ یعنی جب اللہ تعالیٰ اور اس کی باتوں کو نہیں مانتے تو ان کے بعد کون سی بات پر ایمان لائیں گے یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کی باتوں سے بڑھ کر اور کون سی بات ہوگی جس پر یہ لوگ ایمان لائیں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں جو ہم آپ کو ٹھیک ٹھیک سنا رہے ہیں۔ 6 ؎ قرآن کریم کی آیتوں کو پڑھ کر سنایا جائے تو یہ آیات کریمات اللہ تعالیٰ کی ہیں اگر تمہاری اپنی جانوں سے استشہاد کے طور پر انفس سے کچھ بیان کیا جائے تو بھی یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں کیونکہ وہی ذات اقدس انسانوں کو پیدا کرنے والی ہے اور اگر آفاق سے کچھ نشانیاں پیش کی جائیں جیسے بادل ، ہوائیں ، سورج ، چاند ، ستارے ، زمین ، پہاڑ ، دریا اور زمین کے اندر کے خزائن تو یہ تمام کی تمام اللہ تعالیٰ ہی کی نشانیاں ہیں اور ان ساری نشانیوں کو ہم نے قرآن کریم میں بیان کردیا ہے اور قرآن کریم تم پر پڑھا جاتا ہے تم خود پڑھتے ہو اور اگر تم کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 3–6

إِنَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ لَآيَاتٍ لِّلْمُؤْمِنِينَ ("Surely in the heavens and the earth, there are signs for those who have faith.. ..45:3) " The purpose of this verse, and similar other verses, is to affirm the Oneness of Allah. Similar verses are available in [ 2:164] إِنَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ ("Surely, in the creation of heavens and earth..." ) where their detailed commentary will be found. How the two verses prove the Oneness of Allah is also explained on that occasion. In the two places, there is a slight difference in the argumentation: Scholars interested might…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 6–7

8 That is, "When these people have not believed even after Allah's own arguments have been presented for His Existence and His Unity, what else can be there by which they will gain the faith ? For Allah's Word is the final thing by which a person can attain to this blessing, and the maximum of the rational arguments that could possibly be given to convince someone of an unseen reality have been presented in this Divine Word. In spite of this if a person is bent upon denial, he may persist in his denial, for his denial cannot change the reality."

Read the full tafseer →