Al-Jaathiya 45:5

Al-Jaathiya · from ayah 5

45:5

وَاخْتِلَافِ الَّیْلِ وَالنَّهَارِ وَمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ رِّزْقٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَتَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ۟وَاخۡتِلَافِ الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ وَمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنۡ رِّزۡقٍ فَاَحۡيَا بِهِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَا وَ تَصۡرِيۡفِ الرِّيٰحِ اٰيٰتٌ لِّقَوۡمٍ يَّعۡقِلُوۡنَ

اور رات اور دن کے آگے پیچھے آنے جانے میں اور وہ جو خدا نے آسمان سے (ذریعہٴ) رزق نازل فرمایا پھر اس سے زمین کو اس کے مرجانے کے بعد زندہ کیا اس میں اور ہواؤں کے بدلنے میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And [in] the alternation of night and day and [in] what Allah sends down from the sky of provision and gives life thereby to the earth after its lifelessness and [in His] directing of the winds are signs for a people who reason.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Jaathiya

All translations of 45:5

اور شب و روز کے فرق و اختلاف میں، اور اُس رزق میں جسے اللہ آسمان سے نازل فرماتا ہے پھر اس کے ذریعہ سے مردہ زمین کو جِلا اٹھاتا ہے، اور ہواؤں کی گردش میں بہت نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور رات اور دن کے آگے پیچھے آنے جانے میں اور وہ جو خدا نے آسمان سے (ذریعہٴ) رزق نازل فرمایا پھر اس سے زمین کو اس کے مرجانے کے بعد زندہ کیا اس میں اور ہواؤں کے بدلنے میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور رات دن کے بدلنے میں اور جو کچھ روزی اللہ تعالیٰ آسمان سے نازل فرما کر زمین کو اس کی موت کے بعد زنده کر دیتا ہے، (اس میں) اور ہواؤں کے بدلنے میں بھی ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں نشانیاں ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

نیز رات اور دن کے آنے جانے میں اور اللہ نے آسمان سے رزق کا جو ذریعہ اتارا، پھر اس سے زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد نئی زندگی دی، اس میں اور ہواؤں کی گردش میں ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور رات اور دن کی تبدیلیوں میں اور اس میں کہ اللہ نے آسمان سے روزی کا سبب مینہ اتارا تو اس سے زمین کو اس کے مَرے پیچھے زندہ کیا اور ہواؤں کی گردش میں نشانیاں ہیں عقل مندوں کے لیے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور رات دن کے آگے پیچھے آنے جانے میں اور (بصورتِ بارش) اُس رِزق میں جسے اللہ آسمان سے اتارتا ہے، پھر اس سے زمین کو اُس کی مُردنی کے بعد زندہ کر دیتا ہے اور (اسی طرح) ہواؤں کے رُخ پھیرنے میں، اُن لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو عقل و شعور رکھتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور رات اور دن کے بدلنے میں اور اس رزق میں جو اللہ نے آسمان سے اتارا، پھر اس کے ساتھ زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کردیا اور ہواؤں کے پھیرنے میں ان لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں جو سمجھتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

نیز رات اور دن کے ادل بدل کر آنے میں ، اور جو اللہ نے آسمان سے رزق نازل فرمایا۔ پھر اس زمین کو مرنے کے بعد زندہ کردیا، اور ہواؤں کی گردش میں ان لوگوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور رات اور دن کی آمد و شد میں اور اس ذریعہ رزق میں جو اللہ آسمان سے اتارتا ہے، پھر اس سے زمین کو زندہ کردیتا ہے اس کے مرجانے کے بعد، اور ہوائوں کی گردش میں بھی بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو سمجھیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

نیز رات اور دن کے ادلنے بدلنے (کے اس نہایت منظم اور پُر حکمت سلسلے) میں بھی اور اس رزق (یعنی پانی) میں بھی جس کو اللہ اتارتا ہے آسمان سے (ایک نہایت ہی پُر حکمت نظام کے تحت) پھر اس کے ذریعے وہ زندہ کرتا ہے اس زمین کو اس کے بعد کہ وہ مرچکی ہوتی ہے اور ہواؤں کی گردش میں بھی بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور (اسی طرح) رات اور دن کے الٹ پھیر میں اور اس رزق میں جس کو اللہ نے آسمان سے اتارا پھر اس زمین کو تروتازہ کیا اس کے خشک ہوئے پیچھے اور ہواؤں کے ادل بدل میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل رکھتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور رات اور دن کے اختلاف میں اور اس میں جو اللہ آسمان سے رزق اتارتا ہے پھر زندہ کردیتا ہے اس سے زمین کو اس کی موت کے بعد اور ہوائوں کے چلنے میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

رات اور دن کے ردو بدل میں اور جو اللہ نے رزق کا ذریعہ آسمان سے اتارا (یعنی بارش) پھر اس سے مردہ زمین کو زندہ کیا ‘ اس میں اور ہواؤں کے بدلنے میں عقل والوں کیلئے نشانیاں ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

and in the succession of night and day, and in the provision that Allah sends down from the sky wherewith He gives life to the earth after it had been lifeless, and in the change of the winds: (in all these) there are Signs for people who use reason.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And in the alternation of the day and the night, and in the provision He has sent down from the sky, then has revived the earth after its death, and in changing of the winds, there are signs for a people who understand.

— Muhammad Taqi Usmani

And in the alternation of the day and the night, and in the provision He has sent down from the sky, then has revived the earth after its death, and in changing of the winds, there are signs for a people who understand.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And in the alternation of night and day, and the provision that Allah sends down from the sky, and revives therewith the earth after its death, and in the turning about of the winds, are signs for a people who understand.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And the difference of night and day and the provision that Allah sendeth down from the sky and thereby quickeneth the earth after her death, and the ordering of the winds, are portents for a people who have sense.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And [in] the alternation of night and day and [in] what Allah sends down from the sky of provision and gives life thereby to the earth after its lifelessness and [in His] directing of the winds are signs for a people who reason.

— Saheeh International

In the alternation of the night and the day, the sustenance which God has sent down from the sky to revive the barren earth, and in the changing of the direction of the winds there is evidence of the truth for the people of understanding.

— Muhammad Sarwar

And (in) the variation of the night and the day, and (in) what Allah sends down of sustenance from the cloud, then gives life thereby to the earth after its death, and (in) the changing of the winds, there are signs for a people who understand.

— Muhammad Habib Shakir

And in the alternation of night and day and that which Allah sendeth down of provision from the heaven and thereby quickeneth the earth after the death thereof and the turning about of the winds, are signs Unto a people who reflect.

— Abdul Majid Daryabadi

And in the alternation of Night and Day, and the fact that Allah sends down Sustenance from the sky, and revives therewith the earth after its death, and in the change of the winds,- are Signs for those that are wise.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 45:5

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–5

اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو ہدایت فرماتا ہے کہ وہ قدرت کی نشانیوں میں غور و فکر کریں۔ اللہ کی نعمتوں کو جانیں اور پہچانیں پھر ان کا شکر بجا لائیں دیکھیں کہ اللہ کتنی بڑی قدرتوں والا ہے جس نے آسمان و زمین اور مختلف قسم کی تمام مخلوق کو پیدا کیا ہے فرشتے، جن، انسان، چوپائے، پرند، جنگلی جانور، درندے، کیڑے، پتنگے سب اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ سمندر کی بیشمار مخلوق کا خالق بھی وہی ایک ہے۔ دن کو رات کے بعد اور رات کو دن کے پیچھے وہی لا رہا ہے رات کا اندھیرا دن کا اجالا اسی کے قبضے کی چیزیں ہیں۔ حاجت کے وقت انداز کے مطابق بادلوں سے پانی وہی برساتا ہے رزق سے مراد بارش ہے اس لئے کہ اسی سے کھانے کی چیزیں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْجَاثِیَة 4 رات اور دن کا یہ فرق و اختلاف اس اعتبار سے بھی نشانی ہے کہ دونوں پوری باقاعدگی کے ساتھ ایک دوسرے کے بعد آتے ہیں، اور اس اعتبار سے بھی کہ ایک روشن ہے اور دوسرا تاریک، اور اس اعتبار سے بھی کہ ایک مدت تک بڑی تدریج دن بڑا اور رات چھوٹی ہوتی چلی جاتی ہے، پھر ایک وقت جا کر دونوں برابر ہوجاتے ہیں۔ یہ مختلف قسم کے فرق و اختلاف جو رات اور دن میں پائے جاتے ہیں اور ان سے جو عظیم حکمتیں وابستہ ہیں، وہ اس بات کی صریح علامت ہیں کہ سورج اور زمین اور موجودات زمین کا خالق ایک ہی ہے، اور ان دونوں کروں کو ایک ہی زبردست اقتدار نے قابو میں رکھا ہے، اور وہ کوئی اندھا بہرا بےحکمت اقتدار نہیں ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 3–6

(آیت) اِنَّ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَاٰيٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ۔ ان آیات سے توحید کا اثبات مقصود ہے۔ اس سے ملتی جلتی آیتیں دوسرے پارے کے رکوع (آیت) ان فی خلق السموت والارض۔ میں گزر چکی ہیں۔ وہیں ان کی مفصل تفسیر مذکور ہے اور یہ بھی کہ ان چیزوں سے توحید کیونکہ ثابت ہوتی ہے دونوں مقامات میں عنوان کا جو تھوڑا تھوڑا فرق ہے اس سے متعلق نکات اہل علم امام رازی کی تفسیر کبیر میں دیکھ سکتے ہیں۔ البتہ ایک بات قابل ذکر ہے کہ یہاں کائنات کی مختلف نشانیاں بیان فرما کر ایک جگہ یہ فرمایا گیا ہے کہ اس میں ”ایمان لانے والوں کے لئے“ نشانیاں ہیں، دوسری جگہ ا رشاد ہے کہ ”یقین کرنے والوں کے لئے“ نشانیاں ہیں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

واختلافا لیل و الھار و ما انزل اللہ من السمآء من رزق فاحیابہ الارض بعد موتھا وتصریف الریح ایت تقوم یعقلون (5) اختلاف کے معنی یہاں یکے بعد دیگرے رات اور دن کی آمد و شد کے ہیں۔ ساتھ ہی یہ لفظ اس اختلاف مزاج کی طرف بھی ایک لطیف اشارہ کر رہا ہے جو رات اور دن کے اندر پایا جاتا ہے اور جو اس کائنات کی نشو و نما اور اس کی بہبود و بقا کے لئے ضروری ہے۔ من رزق سے مراد یہاں پانی ہے جو ذریعہ رزق بنتا ہے۔ گویا مسبب سبب کے لئے استعمال ہوا ہے۔ الفاظ کا یہ طریقہ استعمال عربی بلکہ کم و بیش ہر زبان میں معروف ہے۔ رات اور ان کی آمد و شد کے اشارات اختلاف لیل و نہار کی دلیل قرآن میں جگہ جگہ مذکور ہوئی ہے کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 1–5

5۔ 1 آسمانوں و زمین، انسانی تخلیق، جانوروں کی پیدائش، رات دن کے آنے جانے اور آسمانی بارش کے ذریعے سے مردہ زمین میں زندگی کی لہر کا دوڑ جانا وغیرہ، آفاق وانفس میں بیشمار نشانیاں ہیں جو اللہ کی واحدنیت و ربوبیت پر دال ہیں۔ 5۔ 2 یعنی کبھی ہوا کا رخ شمال جنوب، کبھی پچھم (مشرق و مغرب) کو ہوتا ہے، کبھی بحری ہوائیں اور کبھی بری ہوائیں، کبھی رات کو، کبھی دن کو، بعض ہوائیں بارش خیز، بعض نتیجہ خیز، بعض ہوائیں روح کی غذا اور بعض سب کچھ جھلسا دینے والی اور محض گردو غبار کا طوفان، ہواؤں کی اتنی قسمیں بھی دلالت کرتے ہیں کہ اس کائنات کا کوئی چلانے والا ہے اور وہ ایک ہی ہے دو یا دو سے زائد نہیں تمام اختیارات…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–5

درس نمبر 235 تشریح آیات 1۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 23 آیت نمبر 1 تا 5 حا۔ میم کے بعد ، یہ آتا ہے کہ یہ کتاب اللہ عزیز اور حکیم کی طرف سے ہے اور اس کتاب کا مصدر اور فبع اللہ کی ذات ہے اور دوسرا اشارہ اس میں یہ ہے کہ یہ معجزہ کتاب انہی حروف سے بنائی گئی ہے۔ جیسا کہ حروف مقطعات کے بارے میں ہماری رائے ہے اور یہ کہ یہ چیلنج ہے ان کو کہ تم ان حروف سے ایسی کتاب نہیں بنا سکتے۔ لہٰذا حا میم دلیل ہے تنزیل الکتب پر کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ زبردست قدرت والا ہے اور اس کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا اور حکیم ہے جس نے اس پوری کائنات کو حکمت سے بنایا اور تمام معاملات اس ذات کے حکم سے طے ہوتے ہیں۔ یہ ایک ایسا تبصرہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

11 یعنی پانی آسمان کی طرف سے اتارا جو مادہ ہے روزی کا۔ 1 یعنی ذرا بھی سمجھ سے کام لیں تو معلوم ہوجائے کہ یہ امور بجز اس زبردست قادر حکیم کے اور کسی کے بس میں نہیں۔ جیسا کہ پہلے متعدد مواضع میں اس کی تقریر گزر چکی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 5 { وَاخْتِلَافِ الَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآئِ مِنْ رِّزْقٍ } ”اور رات اور دن کے اختلاف میں ‘ اور اس میں جو اللہ آسمان سے رزق اتارتا ہے“ رزق سے مراد یہاں بارش کا پانی ہے جو زمین سے روزی کے نکلنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ بارش کے پانی کا نزول گویا انسانوں اور دوسرے جانداروں کے لیے رزق کا نزول ہے۔ { فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا } ”پھر زندہ کردیتا ہے اس سے زمین کو اس کی موت کے بعد“ وہ زمین جو بنجر اور بےآب وگیاہ پڑی تھی بارش کے برستے ہی ہریالی اور طرح طرح کے نباتات کے لباس میں ملبوس نظر آنے لگی۔ { وَتَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ }…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

5 پانچویں نشانی گردش لیل ونہار :۔ رات آتی ہے تو بتدریج آتی ہے یکدم گھٹا ٹوپ اندھیرا نہیں چھا جاتا، نہ ہی سورج یک دم پوری آب و تاب کے ساتھ نکل آتا ہے۔ بلکہ وہ بھی بتدریج آتا ہے۔ راتیں لمبی ہونا شروع ہوتی ہیں تو ان میں تدریج کا قانون کام کرتا ہے۔ پھر موسم بدلتے ہیں تو بھی ان میں تدریج پائی جاتی ہے۔ پھر اس تدریج کے لیے بھی ایک قانون ہے ایک ضابطہ ہے جس میں نہ کمی بیشی ہوتی ہے اور نہ بےضابطگی۔ نیز تبدیلیاں بھی اس انداز سے ہوتی ہیں جس سے بنی نوع کی کئی مصلحتیں متعلق ہوتی ہیں۔ جن عظیم الجثہ اور مہیب کروں کو کنٹرول میں رکھ کر اللہ نے یہ دن رات اور موسموں میں نظام بنایا ہے اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

3۔ (قدرت الہی اور توحید الہی کی) مطلب یہ ہے کہ کائنات کے جتنے بھی شعبے ہیں، طبعی، نفسیانی، حیوانی، فضائی وغیرہ۔ سب میں غور کرنے والے اور انصاف وطلب حقیقت رکھنے والے انسان کیلئے دلائل و شواہد حق تعالیٰ کی توحید اور قدرت کاملہ ہی کے ملتے ہیں۔ (آیت) ” وفی خلقکم “۔ انسان کی جسمی ساخت و ترکیب وفعلیت سے متعلق جتنے بھی علوم وفنون ہیں، تشریح الابدان، عضویات، نفسیات وغیرہا۔ ان سب کے قوانین و ضوابط سے انسان معرفت الہی ہی کے سبق لے سکتا ہے۔ (آیت) ” وما یبث من دآبۃ “۔ اس کے تحت میں سارے علوم حیوانیات مع اس کے متعلقات کے آگئے۔ (آیت) ” واختلاف اللیل والنھار “۔ ہئیت، ریاضیات، فضائیات، طبیعیات مع اپنی تمام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–11

آیت نمبر 1 تا 11 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے کتاب یعنی قرآن کا نزول اللہ کی طرف سے ہے (من اللہ) خبر ہے جو کہ اپنے ملک میں غالب اور اپنی صنعت میں حکمت والا ہے بلاشبہ آسمانون اور زمین میں یعنی ان دونوں کے پیدا کرنے میں ایسی نشانیاں ہیں جو اللہ کی قدرت اور وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں، اور خود تمہاری پیدائش میں یعنی تم سب کو نطفہ سے پیدا کرنے میں پھر دم بستہ سے پھر گوشت کے لوتھڑے سے، حتی کہ وہ نطفہ انسان ہوجاتا ہے، اور ان جانوروں کی پیدائش میں جنہیں وہ زمین پر پھیلاتا ہے (دابۃ) ہر وہ شئ ہے جو زمین پر چلے انسان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واختلاف الیل والنھار وما انزل اللہ من السماء من رزق فاحیابہ الارض بعد موتھا وتصریف الریح ایت لقوم یعقلون اور اسی طرح رات اور دن کے تبادلے میں اور اس (مادۂ ) رزق میں جس کو اللہ نے آسمان سے اتارا ‘ پھر اس سے زمین کو خشک ہونے کے بعد سرسبز کیا اور ہواؤں کے چلانے میں دلائل ہیں ‘ ان لوگوں کیلئے جو عقل (سلیم) رکھتے ہیں۔ اِخْتِلاَفِ الَّیْلِ وَالنَّھَار رات دن کی آمد و رفت اور گرمی و سردی کے موسموں میں (گھٹاؤ بڑھاؤ میں) ۔ مِنْ رِّزْقٍ رزق سے مراد ہے بارش ‘ کیونکہ بارش پیدائش رزق کا سبب ہے۔ فَاَحْیَابِہِ الْاَرْضِ الخ یعنی زمین کے خشک ہوجانے کے بعد اللہ اس کو سرسبز کردیتا ہے۔ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور اسی طرح رات اور دن کی تبدیلی میں اور ان کے آگے پیچھے آنے جانے میں اور ان کی زیادتی و کمی میں تمہارے لیے عبرت اور نشانی ہے اور اسی طرح بارش میں بھی کہ جس سے اللہ تعالیٰ نے زمین کے خشک اور بنجر ہوجانے کے بعد اسے تروتازہ کیا تمہارے لیے عبرت و دلائل ہیں اور اسی طرح ہواؤں کے دائیں بائیں آگے اور پیچھے اور رحمت و عذاب کی صورت میں تبدیل کرنے میں دلائل اور نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو کہ ان کا اللہ کی جانب سے ہونا تسلیم کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) اختلاف الیل والھار : اس میں دن کے بعد رات اور رات کے بعد دن کا آنا بھی شامل ہے، رات کا دن سے لمبا ہونا اور دن کا رات سے لمبا ہونا بھی اور سارا سال ہر روز طلوع و غروب کی جگہوں کا مختلف ہونا بھی۔ (2) وما انزل اللہ من السمآء من رزق…: یہاں آسمان سے نازل کی جانے والی چیز کے لئے ”مائ“ (پانی) کے بجائے ”رزق“ کا لفظ استعمال فرمایا، کیونکہ آسمان سے بارش کے علاوہ بھی بہت کچھ اترتا ہے جس سے تمام جانداروں کے رزق کا اہتمام ہوتا ہے۔ مثلاً سورج اور چاند کی کرنیں اور روشنی، ہوائیں اور بہت سی چیزیں جو نظر نہیں آتیں م گر موجود ہیں اور اوپر کی جابن سے نازل ہوتی ہیں۔ (3) وتضریف الریح : ہواؤں کی تقسیم بھی کئی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 2–5

یعنی ان دونوں کی تخلیق ہیں۔ رزق سے مراد بارش ہے، تمام بحث سورة بقرہ اور دوسری سورتوں میں گزر چکی ہے۔ عام قرأت : دونوں آیات رفع کے ساتھ ہیں۔ حمزہ اور کسائی نے دونوں میں تاء کے نیچے کسرہ دیا ہے پہلے میں تو کوئی اختلاف نہیں کہ وہ منصوب ہے اور وہ ان کا اسم ہے اور اس کی خبر فی السموت ہے دوسرے لفظ آیات میں کسرہ اس پر عطف کی وجہ سے ہے جو اس میں حامل ہے۔ تقدیر کلام یہ ہوگی ان جہاں تک تیسرے کا تعلق ہے تو ایک قول یہ کیا گیا ہے۔ اسے اس پر محمول کریں گے جس میں ان عامل ہے ان میں فی کو مخذوف مقدر مانیں گے تقدیر کلام یہ ہے فی حذف ہوگیا کیونکہ انس کا ذکر پہلے ہوچکا تھا۔ سیبویہ نے اس کے حذف میں یہ شعر پڑھا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 5–12

1:۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وما انزل اللہ من السمآء من رزق “ (اور جو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے رزق نازل فرمایا) یعنی بارش (آیت ) ” وتصریف الریح “ (اور ہواؤں کے چلانے میں) یعنی جب چاہے اس کو رحمت بنادے اور جب چاہے اس کو عذاب بنادے (آیت ) ” لکل افاک اثیم “ (ہر چھوٹے اور سخت گناہگار کے لئے) یعنی بہت جھوٹ بولنے والا۔ 2:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لکل افاک اثیم “ سے مراد مغیرہ بن مخزوم ہے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ [اور رات اور دن کے آنے جانے میں ] وَمَآ [ اور اس میں جو ] اَنْزَلَ اللّٰهُ [ اتارا اللہ نے ] مِنَ السَّمَاۗءِ [ آسمان سے ] مِنْ رِّزْقٍ [ رزق میں سے (پانی )] فَاَحْيَا بِهِ الْاَرْضَ [ پھر اس نے زندہ کیا اس سے زمین کو ] بَعْدَ مَوْتِهَا [ اس کے مردہ ہونے کے بعد ] وَتَــصْرِيْفِ الرِّيٰحِ [ اور ہواؤں کے بار بار گھمانے پھرانے میں ] اٰيٰتٌ [نشانیاں ہیں ] لِّقَوْمٍ [ ایسے لوگوں کے لیے جو ] يَّعْقِلُوْنَ [ عقل استعمال کرتے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 2–6

یہ کتاب عزیز و حکیم کی طرف سے ہے، آسمان اور زمین، انسان کی تخلیق، لیل و نہار کے اختلاف اور بارش کے نزول میں معرفت الٰہیہ کی نشانیاں ہیں ان آیات میں اول تو یہ فرمایا ہے کہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے نازل کی گئی ہے وہ عزیز بھی ہے حکیم بھی ہے، اس کے بعد توحید کی نشانیاں بیان فرمائیں۔ ارشاد فرمایا کہ آسمانوں اور زمین میں اہل ایمان کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں، اہل ایمان ان کو دیکھتے ہیں اور متاثر ہوتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ تمہارے پیدا کرنے میں اور جو چوپائے زمین میں پھیلا رکھے ہیں ان سب میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں اور دلائل ہیں جو لوگ یقین رکھتے ہیں اس طرح رات اور دن کے آگے پیچھے آنے میں اور اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–11

بیان عظمت کتاب خداوندی وذکر دلائل قدرت وتنبیہ بر اعراض و انحراف : قال اللہ تعالیٰ :۔ (آیت ) ” حم تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم ...... الی ....... من رجز الیم “۔ (ربط) گزشتہ سورت کا مضمون ان اوصاف کے بیان پر ختم کیا گیا تھا۔ جو انسانی فوز و فلاح اور سعادت کے ضامن ہیں اور یہ کہ قرآن کریم عربی زمین میں آسان وسہل بنا کر نازل کیا گیا اب اگر اس کے بعد بھی لوگ ہدایت قبول نہ کریں تو یہ انکی محرومی اور بدنصیبی ہے تو اس مناسبت سے سورة جاثیہ کی ابتداء عظمت کو دیکھ کر اس کی کتاب کی عظمت کو بھی پہچان سکیں، ساتھ انعامات کا بھی ذکر ہے اور قادر مطلق ومنعم حقیقی کی نافرمانی پر تنبیہ ووعید بھی، تو ارشاد…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 4–5

4:۔ ” وفی خلقکم۔ الایۃ “ اس سے بڑھ کر تم خود اپنی پیدائش کو دیکھو کہ کس طرح اس نے اپنی قدرت کاملہ سے تمہیں ایک قرطہ آب سے پیدا فرمایا اور پھر زمین میں بیشمار انواع و اقسام کے چوپائے پھیلا دئیے ماننے والوں کے لیے اس میں کھلے دلائل ہیں۔ ” واختلاف الیل والنھار۔ الایۃ “ پھر اس سے آگے بڑھو اور رات دن کے یکے بعد دیگرے آنے جانے اور ان کے گھٹنے بڑھنے میں غور وفکر کرو اور دیکھو وہ آسمان سے مینہ برسا کر خشک اور ناکارہ زمین کو زرخیز بنا دیتا ہے اور ہوائیں اس کے حکم سے چلتی ہیں عقل و دانش رکھنے والوں کے لیے ان تمام چیزوں میں توحید الٰہی اور قدرت خداوندی کے عظیم الشان نشانات موجود ہیں۔ رزق سے مراد بارش ہے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–5

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة الجاثیہ ہے جو اس کی آیت 280 میں آمدہ لفظ سے ماخوذ ہے وتری کل امۃ جاثیۃ اور تم ہر گرو کو گھٹنے ٹیکے ہوئے پائو گے ، یہ قیامت والے دن حساب کتاب کی منزل کا ذکر ہے کہ اس دن لوگ نہایت عاجزی کے ساتھ گھٹنے ٹیک کر اللہ کی بارگاہ میں پیش ہوں گے مفسرین کرام اس سورة کا دوسرا نام سورة الشریعتہ بھی ذکر کرتے ہیں کیونکہ اس کی آیت 180 میں شریعت کا ذکر بھی آتا ہے ایک سورة کے متعدد نام ہونا کچھ غیر معروف بات نہیں کیونکہ سورة الفاتحہ کے ہم پندرہ نام بھی پڑھ چکے ہیں۔ بعض مفسرین اس کا نام حم الجاثیہ یا حم الشریعۃ بھی ذکر کرتے ہیں۔ یہ سورة حوامیم سبعہ کی چھٹی سورة ہے اور مکی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّہَارِ وَمَآ اَنْزَلَ اللہُ مِنَ السَّمَاۗءِ مِنْ رِّزْقٍ فَاَحْيَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا وَتَصْرِيْفِ الرِّيٰحِ اٰيٰتٌ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ۝ 5 الاختلافُ والمخالفة والاختلافُ والمخالفة : أن يأخذ کلّ واحد طریقا غير طریق الآخر في حاله أو قوله، والخِلَاف أعمّ من الضّدّ ، لأنّ كلّ ضدّين مختلفان، ولیس کلّ مختلفین ضدّين، ولمّا کان الاختلاف بين النّاس في القول قد يقتضي التّنازع استعیر ذلک للمنازعة والمجادلة، قال : فَاخْتَلَفَ الْأَحْزابُ [ مریم/ 37] ( خ ل) الاختلاف والمخالفۃ الاختلاف والمخالفۃ کے معنی کسی حالت یا قول میں ایک دوسرے کے خلاف کا لفظ ان دونوں سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 3–5

فقال ان فی السموات الخ یہ (1) آئینہ ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ اپنا جمال دیکھتا ہے مگر کئی طرح سے۔ اس لیے فرمایا کہ آسمانوں اور زمین میں اس کے وجود و توحید کے لیے بڑی بڑی نشانیاں ہیں۔ آیات فرمایا کیونکہ ان کی مقدار اور حرکات الوان مختلفہ انوار کی کمی زیادتی ہر ایک بات ایک نشانی ہے اول اس لیے کہ یہ اجسام حوادث سے خالی نہیں اور جو حوادث سے خالی نہیں وہ حادثہ ہے پس یہ تمام اجسام حادث ہیں اور ہر حادث کے لیے ایک محدث ضرور ہے۔ (دوم) یہ کہ یہ اجسام اجزاء سے مرکب ہیں اور یہ اجزاء باہم متماثل ہیں پھر ایک جزء کو ایک جگہ میں اور ایک خاص بات میں کون خاص کرنے والا ہے وہی اللہ ہے نہ طبیعت اجسام کیونکہ اس میں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاخْتِلاَفِ الَّیْلِ وَالنَّھَارِ وَمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآئِ مِنْ رِّزْقٍ فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا وَتَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ۔ (الجاثیۃ : 5) (اور رات اور دن کے آنے جانے میں، اور اس رزق میں جسے اللہ آسمان سے اتارتا ہے، پھر اس کے ذریعے سے زمین کو زندہ کردیتا ہے اس کے مرجانے کے بعد، اور ہَوائوں کی گردش میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔ ) اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور قیامت کے اثبات کے لیے چند نشانیوں کا ذکر اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی وحدانیت، اس کی حاکمیت اور انسانوں کے اعمال کی جزاء و سزا کے لیے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 5–6

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی قدرت کی مزید نشانیوں کا تذکرہ۔ قرآن مجید کی تلاوت کرنے والا شخص جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رات اور دن کے آنے جانے اور آسمان سے بارش برسانے اور بارش کے ذریعے مردہ زمین کو زندہ کرنے اور ہواؤں کا کئی بار تذکرہ کیا ہے۔ یہ تمام کام صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مظہر ہیں۔ ان میں کوئی ایک کام ایسا نہیں جس کا معمولی حصہ بھی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی کرسکے اور نہ ہی ان کاموں میں اس کا کوئی معاون ہے اور نہ ہوگا۔ لیکن ان کاموں پر وہی شخص غور کرے گا جو اپنی عقل سے کام لے گا۔ جس نے ان چیزوں پر غور کرلیا وہ ” اللہ “ پر ضرور ایمان لائے گا۔ اس لیے ان آیات میں پہلے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیاتِ قدرت : آیت 5 : وَاخْتِلَافِ الَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآئِ مِنْ رِّزْقٍ (اور یکے بعد دیگرے رات اور دن کے آنے جانے میں اور اس رزق میں جس کو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے اتارا) رزق سے مراد بارش ہے اور رزق بوجہ سبب رزق ہونے کے کہا گیا ہے۔ فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا وَتَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ (اور اس سے زمین کو ترو تازہ کردیا۔ اس کے خشک ہوجانے کے بعد اور ہوائوں کے بدلنے میں) قراءت : حمزہ و علی نے الریح پڑھا ہے۔ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ (عقل والوں کے لئے دلائل ہیں) قراءت و نحو : آیات کو علی و حمزہ نے حالت نصب سے پڑھا اور دیگر قراء نے رفع سے۔ یہ دو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

4، وفی خلقکم ومایبث من دابۃ آیات، حمزہ اور کسائی اور یعقوب رحمہم اللہ نے (آیات) اور ، تصریف الریاح آیات، تاء کی زیر کے ساتھ ان دونوں میں پڑھا ہے ، رد کرتے ہوئے اس کے قول، لایات، پر اور وہ نصب کی جگہ میں ہے۔ اور دیگر حضرات نے ان دونوں کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے۔ استئاف پر۔ اس بناء پر کہ عرب کہتے ہیں، ان لی علیک مالا وعلی اخیک مال، دوسرے کو نصب دیتے ہیں اور اس کو رفع بھی دیتے ہیں۔ ، لقوم یوقنون، کہ اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 3–15

3۔ 15۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی چند نشانیوں کا ذکر فرمایا ہے مثلاً آسمان و زمین کا پیدا کرنا ‘ آسمان میں فرشتوں اور سورج و چاند ستاروں کا پیدا کرنا زمین میں انسان جن چرند پرند طرح طرح کے جانوروں کا جنگل اور دریا میں پیدا کرنا دریا اور ندیوں کا جاری کرنا اور ان میں کشتیوں کا چلانا دنیا کے کاروبار کے لئے دن اور سورج کی روشنی کو پیدا کرنا اور کاروبار کی محنت سے جو آدمی تھک جاتا ہے اس تھکان کے رفع کرنے کیلئے رات اور رات کی نیند کو پیدا کرنا آسمان سے مینہ کا برسانا جس سے ہر طرح کے اناج ہر طرح کے میووں ہر طرح کی ترکاریوں کا زمین میں پیدا ہونا ہر طرح کی ہوا کا چلانا جس کی تاثیر سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–11

آیت 1 ۔ 11 اللہ تبارک و تعالٰ ایک ایسی خبر دیتا ہے جو قرآن کی تعظیم اور اس کے اہتمام کو متضمن ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ کتاب (تنزیل) ” نازل کی گئی ہے۔ “ (من اللہ) ” اللہ کی طرف سے۔ “ جو معبود ہے کیونکہ وہ صفات کمال سے متصف ہے صرف وہی ہے جو نعمتیں عطا کرتا ہے جو غلبہ کامل اور حکمت تامہ کا مالک ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آیات افقیہ و نفسیہ کا ذکر کر کے اس کی تائید فرمائی۔ یعنی آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا ذکر فرمایا، نیز زمین کے اندر جو چوپائے پھیلائے، آسمان اور زمین میں جو منفعتیں ودیعت کیں، آسمان سے جو پانی نازل کیا جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین اور اپنے بندوں کو زندگی بخشتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

5 ہواؤں کی گردش میں دعوت غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہواؤں کی گردش میں بھی عظیم الشان دلائل ہیں "۔ جو کبھی شرقاً غرباً چلتی ہیں اور کبھی شمالاً جنوباً ۔ کبھی نسیم سحر کی صورت میں اور کبھی باد صرصر کی شکل میں۔ کبھی سرد کبھی گرم وغیرہ وغیرہ۔ تو ذرا سوچو کہ آخر یہ سب کچھ کس قادر مطلق کی کارستانی اور کس مہربان مطلق کی مہربانی کے کرشمے ہیں ؟ سو ہواؤں کی گردش میں بھی حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کی قدرت کاملہ، حکمت بالغہ اور رحمت شاملہ کے عظیم الشان دلائل اور نشانیاں موجود ہیں۔ نیز اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ ان کی باگ ایک ہی قادر مطلق اور مصرّف حکیم کے ہاتھ میں ہے جو انکو اپنی مخلوق کے بھلے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–13

اللہ کی برتری کا یقین تشریح : اللہ کو پہچان کر اس پر یقین کرلینا اور اس کی کتاب کو غور سے پڑھ کر زندگی ‘ کائنات ‘ اور کائنات کی تمام چیزوں سے واقفیت حاصل کر کے ان سے پورا پورا فائدہ اٹھانا یہ بڑی سیدھی آسان اور معقول بات ہے۔ اللہ نے انسان کو سچائی کی فطرت پر پیدا کیا ہے۔ یعنی جب عالم ارواح میں تمام روحوں سے اللہ نے سوال کیا کہ تمہیں کس نے پیدا کیا ہے تو سب نے یک زبان جواب دیا کہ اللہ نے۔ اسی طرح کوئی کتنا ہی برا منکر خدا، پکا کافر ہی کیوں نہ ہو جب آپ اس سے پوچھتے ہیں کہ بھئی تمہیں کس نے پیدا کیا ہے ؟ تو وہ فورا جواب دے گا اللہ نے مسلمان تو اپنے خالق کو اللہ کہتا ہے جبکہ غیر مسلم اپنی زبان میں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–11

آیات 1 تا 11۔ اسرار ومعارف۔ یہ کتاب اللہ کی طرف سے نازل کی گئی جو سب پر غالب ہے اور زبردست حکمتوں والا ہے یہ اسکی عظمت کی مظہر ہے اور چاہیے تھا کہ اس کو قبول کرتے اور مان جاتے اپنی نجات کا سامان کرتے اس کتاب کی عظمت یہ بھی ہے کہ محض حکماء ہی ماننے کو نہیں کہہ رہی بلکہ دلائل سے حق کو ثابت کرتی ہے ماننے والوں کے لیے آسمانوں اور زمین میں بیشمار دلائل ہیں کہ جیسے جیسے عقل انسانی تخلیق میں اور حیوانات کی حیات میں کسی قدر دلائل ہیں تخلیق کے فطری طریقے صحت وبیماری کے راز غذا اور حیات کا رابطہ اور ایک خلیے کی تعمیر وتخریب بھلاکس قدر دلائل سے بھرپور ہے اگر علم نصیب ہوتوشب وروز کا اختلاف باعتبار اوقات…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 12 ” رات اور دن کے اختلاف ‘ سے مراد ان کا آگے پیچھے آنا بھی ہے اور کم و بیش ہونے میں مختلف ہونا بھی۔ 13 یہاں ” رزق ‘ سے مراد پانی ہے کیونکہ اس سے زمین میں رزق کے اسباب پیدا ہوتے ہیں۔ 14 ہوائوں کے رخ بدلنے سے مراد یہ ہے کہ وہ مختلف سمتوں سے چلتی رہتی ہیں اور پھر ان کے اثرات بھی مختلف ہوتے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(45:5) واختلاف الیل والنھار : ای وفی اختلاف الیل والنھار۔ اور (اسی طرح) رات دن کے ادل بدل میں موسموں کے گھٹاؤ بڑھاؤ میں۔ رزق سے یہاں مراد بارش ہے کیونکہ بارش پیدائش رزق کا سبب ہے۔ فاحیابہ۔تعقیب کا ہے بہ میں ضمیر واحد مذکر غائب رزق کے لئے ہے (یعنی بارش سے) تصریف الریاح۔ مضاف مضاف الیہ تصریف بروزن تفعیل مصدر ہے ہواؤں کا ہیر پھیر، ہواؤں کا بدلنا۔ یعنی مختلف جہات میں چلنا۔ اور مختلف حالات میں مختلف صورت میں چلنا۔ ان سب میں اہل عقل کے لئے دلائل ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–13

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 11 : یبت (وہ پھیلاتا ہے) تصریف ( الٹتا پلٹتا ہے) حدیث (بات) افاک ( جھوٹ بولنے والا) بصر (وہ ضد کرتا ہے ، اڑجاتا ہے) رجز ( سزا ، عذاب) تشریح : آیت نمبر 1 تا 11 : سورة الجاثیہ مکہ مکرمہ میں ہجرت سے کچھ عرصے پہلے ہی نازل ہوئی ۔ مکی سورتوں کی طرح اس میں بھی انسان کے بنیادی عقیدوں کی اصلاح ، توحیدخالص ، نبوت و رسالت اور فکر آخرت کو مختلف انداز سے بیان کیا گیا ہے تا کہ ایمان ، یقین اور عقل و فہم رکھنے والے جو کائنات میں غور و فکر کرتے ہیں اور صاحب بصیرت ہیں وہ حقیقی کامیابی حاصل کرسکیں ۔ زمین و آسمان کا مرتب نظام ، چاند سورج کا باقاعدگی سے نکلنا ، انسان اور جان داروں کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 2–7

(ف 1) مشرکین یہ جو کہتے تھے کہ قرآن اللہ کا کلام نہیں ہے محمد ﷺ اپنی طرف سے روز قرآن کی آیتیں بنالیتے ہیں اور ان کو اللہ کا کلام بتلاتے ہیں اسی کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے کئی جگہ قرآن میں فرمایا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور اللہ کی طرف سے اتارا گیا ہیے قرآن سے پہلے جو اللہ کا کلام اور انبیاء پر اترا، اور ان انبیاء کی امتوں نے اس کو نہیں مانا، تو اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں سے بدلہ لینے میں ایسازبردست ہے کہ اس نے ایسے نافرمان لوگوں کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کردیا، اگر یہ حال کے لوگ بھی قرآن کی آیتوں کے جھٹلانے پر اڑے رہیں گے تو یہی انجام ان کا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 2–9

ف 1: قرآن کتاب فطرت ہے ۔ اس لئے یہ اپنی تصدیق میں صحیفہ قدرت کو پیش کرتا ہے ۔ اور کہتا ہے ۔ کہ تم سب کائنات کو عمیق نگاہوں سے دیکھو گے ۔ اور آسمانوں اور زمین کے متعلق وقت نظر سے معائنہ کرو گے اور خود اپنی قامت کے متعلق سوچو گے ۔ اور غم الحیوانات کو حاصل کروگے تو تمہیں اس کی صداقت میں بہت دلائل مل جائیں گے ۔ تمہیں یہ زیبا ہے ۔ کہ لیل ونہار کے ردوبدل میں اور ہم الریاح میں خصوصیت کے ساتھ غور وفکر سے کام لو ۔ یہ سب مظاہر قدرت اپنے اندر عقل وایقان کا بہرہ وافر رکھتے ہیں ۔ قرآن کو علوم طبعی کے ارتقاء میں نہ صرف کوئی خطرہ محسوس ہوتا ہے ۔ بلکہ قرآن کی خواہش ہے ۔ کہ لوگ ان علوم میں بیش از بیش ترقی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(5) اور رات دن کے اختلاف یعنی آگے پیچھے آنے جانے میں اور اس رزق یعنی بارش میں جس کو اللہ تعالیٰ نازل کرتا ہے آسمان کی جانب سے پھر اس بارش سے زمین کو اس کے خشک ہوئے پیچھے زندہ کردیتا ہے اور ہوائوں کے بدلنے میں ان لوگوں کے لئے بڑے دلائل اور بڑی نشانیاں ہیں جو عقل سے بہرہ مند اور سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ رزق فرمایا بارش کو اس لئے کہ سبب ہے رزق کا یہ تبدیلیاں جو عالم میں ہوتی ہیں اور موسم کی الٹ پلٹ ہوائوں کی تبدیلیاں انسان اور جانوروں کی پیدائش آسمان و زمین کی بناوٹ غرض کوئی چیز بھی اس عالم کی ایسی نہیں ہے جو حضرت حق تعالیٰ کی توحید اور اس کی الوہیت پر دلالت نہ کرتی ہو۔ ہوائوں کی تبدیلی یہی کبھی…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

رات دن کے یکے بعد دیگرے آنے جانے میں بھی نشانیاں موجود ہیں 5 ؎ اب انفس سے آفاق کی طرف مضمون منتقل کیا گیا ہے اور فرمایا جارہا ہے کہ دن کے بعد رات اور رات کے بعد دن کس طرح نظم وضبط کے مطابق آتے جا رہے ہیں اور کروڑوں سال گزرچکے ہیں اور یہ نظام اتنا پختہ اور اتنا بڑا ہے کہ سارے آسمانوں اور زمینوں کو گھیرے ہوئے ہے لیکن اس کے باوجود اس میں ایک سیکنڈ کا فرق نہیں آرہا اتنے بڑے نظام کو معرض وجود میں لانا جس میں کروڑوں سیاروں ، ستاروں اور سورج و چاند کو باندھ دیا گیا ہے اور ہر ایک کو دوسرے کے ساتھ خاص قسم کا تعلق موجود ہے اور پھر اس اتنے بڑے نظام کو مسلسل چلاتے رہنا کیا یہ سب کچھ بغیر کسی بتانے اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 3–6

إِنَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ لَآيَاتٍ لِّلْمُؤْمِنِينَ ("Surely in the heavens and the earth, there are signs for those who have faith.. ..45:3) " The purpose of this verse, and similar other verses, is to affirm the Oneness of Allah. Similar verses are available in [ 2:164] إِنَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ ("Surely, in the creation of heavens and earth..." ) where their detailed commentary will be found. How the two verses prove the Oneness of Allah is also explained on that occasion. In the two places, there is a slight difference in the argumentation: Scholars interested might…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

4 The difference of the night and day is a sign because one follows the other with full regularity, because one is bright and the other dark, because over a certain period the day goes on shortening and the night lengthening gradually till the two become equal in duration, then again the day goes on lengthening and the night shortening till the two again become equal in duration. These different kinds of variations found in the night and the day and the great aspects of wisdom that accrue from these, arc a clear pointer to the fact that the Creator of the sun and the earth and of every thing…

Read the full tafseer →