Explained with ayahs 1–5
اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو ہدایت فرماتا ہے کہ وہ قدرت کی نشانیوں میں غور و فکر کریں۔ اللہ کی نعمتوں کو جانیں اور پہچانیں پھر ان کا شکر بجا لائیں دیکھیں کہ اللہ کتنی بڑی قدرتوں والا ہے جس نے آسمان و زمین اور مختلف قسم کی تمام مخلوق کو پیدا کیا ہے فرشتے، جن، انسان، چوپائے، پرند، جنگلی جانور، درندے، کیڑے، پتنگے سب اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ سمندر کی بیشمار مخلوق کا خالق بھی وہی ایک ہے۔ دن کو رات کے بعد اور رات کو دن کے پیچھے وہی لا رہا ہے رات کا اندھیرا دن کا اجالا اسی کے قبضے کی چیزیں ہیں۔ حاجت کے وقت انداز کے مطابق بادلوں سے پانی وہی برساتا ہے رزق سے مراد بارش ہے اس لئے کہ اسی سے کھانے کی چیزیں…
Read the full tafseer →سورة الْجَاثِیَة 3
یعنی جو لوگ انکار کا فیصلہ کرچکے ہیں، یا جنہوں نے شک ہی کی بھول بھلیوں میں بھٹکنا اپنے لیے پسند کرلیا ہے ان کا معاملہ تو دوسرا ہے، مگر جن لوگوں کے دل کے دروازے یقین کے لیے بند نہیں ہوئے ہیں وہ جب اپنی پیدائش پر، اور اپنے وجود کی ساخت پر، اور زمین میں پھیلے ہوئے انواع و اقسام کے حیوانات پر غور کی نگاہ ڈالیں گے تو انہیں بیشمار علامات ایسی نظر آئیں گی جنہیں دیکھ کر یہ شبہ کرنے کی ادنیٰ سی گنجائش بھی نہ رہے گی کہ شاید یہ سب کچھ کسی خدا کے بغیر بن گیا ہو، یا شاید اس کے بنانے میں ایک سے زیادہ خداؤں کا دخل ہو۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو جلد اول، النحل، حواشی 7 تا 9، جلد سوم، الحج،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
(آیت) اِنَّ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَاٰيٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ۔ ان آیات سے توحید کا اثبات مقصود ہے۔ اس سے ملتی جلتی آیتیں دوسرے پارے کے رکوع (آیت) ان فی خلق السموت والارض۔ میں گزر چکی ہیں۔ وہیں ان کی مفصل تفسیر مذکور ہے اور یہ بھی کہ ان چیزوں سے توحید کیونکہ ثابت ہوتی ہے دونوں مقامات میں عنوان کا جو تھوڑا تھوڑا فرق ہے اس سے متعلق نکات اہل علم امام رازی کی تفسیر کبیر میں دیکھ سکتے ہیں۔ البتہ ایک بات قابل ذکر ہے کہ یہاں کائنات کی مختلف نشانیاں بیان فرما کر ایک جگہ یہ فرمایا گیا ہے کہ اس میں ”ایمان لانے والوں کے لئے“ نشانیاں ہیں، دوسری جگہ ا رشاد ہے کہ ”یقین کرنے والوں کے لئے“ نشانیاں ہیں…
Read the full tafseer →مرنی خلقکم ومایبث ومن دآبۃ ایت تقوم یوقنون (4)
انسان کی خلقت کے اندر جو نشایاں ہیں ان کی طرف اشارہ
آسمانوں اور زمین کی نشانیوں کی طرف ایک جامع اشارہ کرنے کے بعد خود انسان کی خلقت اور اس کی پرورش کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس زمین میں جو اہتمام فرمایا ہے اس کی طرف توجہ دلائی کہ انسان اگر اپنی ہی خلقت کے تمام اطوار و مراحل پر غور کرے تو اس پر خالق کی قدرت، حکمت اور ربوبیت کے وہ حقائق واضح ہوں گے کہ اس کے لئے نہ خالق کی توحید میں کسی شبہ کی گنجائش باقی رہے گی نہ امکان معاد میں اور نہ جزاء و سزا کے لازمی ہونے میں جس خالق نے انسان کو مٹی سے اور پھر پانی کی ایک بوند سے ایسی اعلیٰ صورت بخش دی اس کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
5۔ 1 آسمانوں و زمین، انسانی تخلیق، جانوروں کی پیدائش، رات دن کے آنے جانے اور آسمانی بارش کے ذریعے سے مردہ زمین میں زندگی کی لہر کا دوڑ جانا وغیرہ، آفاق وانفس میں بیشمار نشانیاں ہیں جو اللہ کی واحدنیت و ربوبیت پر دال ہیں۔
5۔ 2 یعنی کبھی ہوا کا رخ شمال جنوب، کبھی پچھم (مشرق و مغرب) کو ہوتا ہے، کبھی بحری ہوائیں اور کبھی بری ہوائیں، کبھی رات کو، کبھی دن کو، بعض ہوائیں بارش خیز، بعض نتیجہ خیز، بعض ہوائیں روح کی غذا اور بعض سب کچھ جھلسا دینے والی اور محض گردو غبار کا طوفان، ہواؤں کی اتنی قسمیں بھی دلالت کرتے ہیں کہ اس کائنات کا کوئی چلانے والا ہے اور وہ ایک ہی ہے دو یا دو سے زائد نہیں تمام اختیارات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
درس نمبر 235 تشریح آیات
1۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 23
آیت نمبر 1 تا 5
حا۔ میم کے بعد ، یہ آتا ہے کہ یہ کتاب اللہ عزیز اور حکیم کی طرف سے ہے اور اس کتاب کا مصدر اور فبع اللہ کی ذات ہے اور دوسرا اشارہ اس میں یہ ہے کہ یہ معجزہ کتاب انہی حروف سے بنائی گئی ہے۔ جیسا کہ حروف مقطعات کے بارے میں ہماری رائے ہے اور یہ کہ یہ چیلنج ہے ان کو کہ تم ان حروف سے ایسی کتاب نہیں بنا سکتے۔ لہٰذا حا میم دلیل ہے تنزیل الکتب پر کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ زبردست قدرت والا ہے اور اس کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا اور حکیم ہے جس نے اس پوری کائنات کو حکمت سے بنایا اور تمام معاملات اس ذات کے حکم سے طے ہوتے ہیں۔ یہ ایک ایسا تبصرہ…
Read the full tafseer →10 یعنی انسان خود اپنی بناوٹ اور دوسرے حیوانات کی ساخت میں غور کرے۔ تو درجہ عفان و ایقان تک پہنچانے والی ہزارہا نشانیاں اس کو ملیں گی۔
Read the full tafseer →آیت 4 { وَفِیْ خَلْقِکُمْ وَمَا یَبُثُّ مِنْ دَآبَّۃٍ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ } ”اور تمہاری تخلیق میں ‘ اور جو اس نے پھیلادیے ہیں زمین میں جاندار ان میں بھی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو یقین کریں۔“
Read the full tafseer →3 توحید کی دوسری نشانی انسان کی تخلیق اندرونی اور بیرونی ساخت :۔ یعنی اگر انسان خود اپنے جسم کی اندرونی ساخت پر غور کرے تو اسے بہت کچھ حاصل ہوسکتا ہے اس کے اعضاء کی بیرونی ساخت اور اس کا کثیر المقاصد فوائد کا حامل ہونا اس کے اندر بیشمار خود کار مشینوں کا کام کرنا، تکلیف کی صورت میں خود طبیعت کا مقابلہ کرنا۔ پھر انسان کے اندر جو جو قوتیں اور جو جو جذبات رکھ دیئے گئے ہیں ان میں کسی ایک بات پر بھی غور کرنے سے انسان کو اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کا اعتراف کئے بغیر کوئی چارہ نہیں ہوتا۔
4 تیسری نشانی توالد وتناسل اور بعث بعد الموت :۔ یعنی تمہاری اور جانوروں کی پیدائش کا طبعی پہلو ایک جیسا ہے۔ دونوں ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
2۔ (اللہ کی قدرت و حکمت کی اور اس کی توحید کی) جن کے دلوں میں ایمان گھر کرچکا ہے۔ اور جن کی بصیرت مومنانہ بن چکی ہے۔ انہیں اس کارخانہ کائنات میں قدم قدم پر اللہ کی حکمتوں، صنعتوں، قدرتوں کے نمونے ملتین ہیں، اور وہ سب اس کی توحید ہی کی طرف لے جاتے ہیں، نہ کہ معبودوں کے تعدد کی جانب۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیت نمبر 1 تا 11
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے کتاب یعنی قرآن کا نزول اللہ کی طرف سے ہے (من اللہ) خبر ہے جو کہ اپنے ملک میں غالب اور اپنی صنعت میں حکمت والا ہے بلاشبہ آسمانون اور زمین میں یعنی ان دونوں کے پیدا کرنے میں ایسی نشانیاں ہیں جو اللہ کی قدرت اور وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں، اور خود تمہاری پیدائش میں یعنی تم سب کو نطفہ سے پیدا کرنے میں پھر دم بستہ سے پھر گوشت کے لوتھڑے سے، حتی کہ وہ نطفہ انسان ہوجاتا ہے، اور ان جانوروں کی پیدائش میں جنہیں وہ زمین پر پھیلاتا ہے (دابۃ) ہر وہ شئ ہے جو زمین پر چلے انسان…
Read the full tafseer →وفی خلقکم وما یبث من دابۃ ایت لقوم یوقنون اور (اسی طرح) تمہاری اور ان جانوروں کی پیدائش
میں جن کو (ا اللہ نے زمین پر) پھیلا رکھا ہے ‘ ان لوگوں کیلئے (قدرت و وحدانیت کے) دلائل ہیں جو یقین رکھتے ہیں۔
وَفِیْ خَلْقِکُمْ یعنی تم میں سے ہر ایک کے پیدا کرنے میں قدرت و وحدانیت کی نشانیاں ہیں۔ ہر انسان کی تخلیق نطفہ سے ہوئی ‘ نطفہ جم کر لوتھڑا بنا ‘ پھر لوتھڑا بوٹی بنا ‘ یہاں تک کہ (تدریجی مراتب طے کر کے) انسان بن گیا۔
وَمَا یَبُثُّ مِنْ دَآبَّۃٍ اس کا عطف (بظاہر) ضمیر مجرور پر ہے ‘ لیکن خَلْقِکُمْ پر اس کا مطعوف قرار دینا زیادہ اچھا ہے کیونکہ جانوروں کا پھیلانا اور مختلف انواع بنانا اور تکمیل معاش کے…
Read the full tafseer →اور اسی طرح خود تمہیں ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف تبدیل کرنے میں تمہارے لیے دلائل ہیں اور تمام جاندار چیزوں کے پیدا کرنے میں بھی تصدیق کرنے والوں کے لیے نشانیاں اور عبرت کی چیزیں ہیں۔
Read the full tafseer →(1) وفی خلقکم ومایبث من دآبۃ : یعنی جو لوگ انسان کی پیدائش میں اور خشکی اور سمندر میں پھیلائی ہوئی جاندار مخلوقات میں، جن کا شمار نہیں، غور کریں گے انھیں بیشمار ایسی نشانیاں ملیں گی جنہیں دیکھ کر کوئی شبہ باقی نہیں رہے گا کہ یقیناً یہ سب کچھ ایک ہی خلاق ومالک کا بنایا ہوا ہے اور وہی اسے چلا رہا ہے اور سب کچھ بےمقصد پیدا نہیں کیا گیا ، بلکہ یقیناً ایک دن ہر ایک کو اس کے اعمال کی جزا ملنے والی ہے۔
(2) ایت لقوم یوقنون : یعنی جو لوگ شک کی بھول بھلیوں میں بھٹکتے رہنے کا یا انکار کا فیصلہ کرچکے ہوں ان کی بات دوسری ہے، مگر جو لوگ بات ثابت ہوجانے پر یقین کرنے والے ہیں ان کے لئے انسان کی پیدائش میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
یعنی ان دونوں کی تخلیق ہیں۔ رزق سے مراد بارش ہے، تمام بحث سورة بقرہ اور دوسری سورتوں میں گزر چکی ہے۔ عام قرأت : دونوں آیات رفع کے ساتھ ہیں۔ حمزہ اور کسائی نے دونوں میں تاء کے نیچے کسرہ دیا ہے پہلے میں تو کوئی اختلاف نہیں کہ وہ منصوب ہے اور وہ ان کا اسم ہے اور اس کی خبر فی السموت ہے دوسرے لفظ آیات میں کسرہ اس پر عطف کی وجہ سے ہے جو اس میں حامل ہے۔ تقدیر کلام یہ ہوگی ان جہاں تک تیسرے کا تعلق ہے تو ایک قول یہ کیا گیا ہے۔ اسے اس پر محمول کریں گے جس میں ان عامل ہے ان میں فی کو مخذوف مقدر مانیں گے تقدیر کلام یہ ہے فی حذف ہوگیا کیونکہ انس کا ذکر پہلے ہوچکا تھا۔ سیبویہ نے اس کے حذف میں یہ شعر پڑھا…
Read the full tafseer →وَفِيْ خَلْقِكُمْ [ اور تمہارے پیدا کرنے میں ] وَمَا [ اور اس میں جو ] يَبُثُّ [ وہ بکھیرتا ہے ] مِنْ دَاۗبَّةٍ [ جاندار میں سے ] اٰيٰتٌ [ نشانیاں ہیں ] لِّقَوْمٍ [ ایسے لوگوں کے لیے جو ] يُّوْقِنُوْنَ [ یقین کرتے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
یہ کتاب عزیز و حکیم کی طرف سے ہے، آسمان اور زمین، انسان کی تخلیق، لیل و نہار کے اختلاف اور بارش کے نزول میں معرفت الٰہیہ کی نشانیاں ہیں
ان آیات میں اول تو یہ فرمایا ہے کہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے نازل کی گئی ہے وہ عزیز بھی ہے حکیم بھی ہے، اس کے بعد توحید کی نشانیاں بیان فرمائیں۔ ارشاد فرمایا کہ آسمانوں اور زمین میں اہل ایمان کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں، اہل ایمان ان کو دیکھتے ہیں اور متاثر ہوتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ تمہارے پیدا کرنے میں اور جو چوپائے زمین میں پھیلا رکھے ہیں ان سب میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں اور دلائل ہیں جو لوگ یقین رکھتے ہیں اس طرح رات اور دن کے آگے پیچھے آنے میں اور اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
بیان عظمت کتاب خداوندی وذکر دلائل قدرت وتنبیہ بر اعراض و انحراف :
قال اللہ تعالیٰ :۔ (آیت ) ” حم تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم ...... الی ....... من رجز الیم “۔
(ربط) گزشتہ سورت کا مضمون ان اوصاف کے بیان پر ختم کیا گیا تھا۔ جو انسانی فوز و فلاح اور سعادت کے ضامن ہیں اور یہ کہ قرآن کریم عربی زمین میں آسان وسہل بنا کر نازل کیا گیا اب اگر اس کے بعد بھی لوگ ہدایت قبول نہ کریں تو یہ انکی محرومی اور بدنصیبی ہے تو اس مناسبت سے سورة جاثیہ کی ابتداء عظمت کو دیکھ کر اس کی کتاب کی عظمت کو بھی پہچان سکیں، ساتھ انعامات کا بھی ذکر ہے اور قادر مطلق ومنعم حقیقی کی نافرمانی پر تنبیہ ووعید بھی، تو ارشاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
4:۔ ” وفی خلقکم۔ الایۃ “ اس سے بڑھ کر تم خود اپنی پیدائش کو دیکھو کہ کس طرح اس نے اپنی قدرت کاملہ سے تمہیں ایک قرطہ آب سے پیدا فرمایا اور پھر زمین میں بیشمار انواع و اقسام کے چوپائے پھیلا دئیے ماننے والوں کے لیے اس میں کھلے دلائل ہیں۔ ” واختلاف الیل والنھار۔ الایۃ “ پھر اس سے آگے بڑھو اور رات دن کے یکے بعد دیگرے آنے جانے اور ان کے گھٹنے بڑھنے میں غور وفکر کرو اور دیکھو وہ آسمان سے مینہ برسا کر خشک اور ناکارہ زمین کو زرخیز بنا دیتا ہے اور ہوائیں اس کے حکم سے چلتی ہیں عقل و دانش رکھنے والوں کے لیے ان تمام چیزوں میں توحید الٰہی اور قدرت خداوندی کے عظیم الشان نشانات موجود ہیں۔ رزق سے مراد بارش ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الجاثیہ ہے جو اس کی آیت 280 میں آمدہ لفظ سے ماخوذ ہے وتری کل امۃ جاثیۃ اور تم ہر گرو کو گھٹنے ٹیکے ہوئے پائو گے ، یہ قیامت والے دن حساب کتاب کی منزل کا ذکر ہے کہ اس دن لوگ نہایت عاجزی کے ساتھ گھٹنے ٹیک کر اللہ کی بارگاہ میں پیش ہوں گے مفسرین کرام اس سورة کا دوسرا نام سورة الشریعتہ بھی ذکر کرتے ہیں کیونکہ اس کی آیت 180 میں شریعت کا ذکر بھی آتا ہے ایک سورة کے متعدد نام ہونا کچھ غیر معروف بات نہیں کیونکہ سورة الفاتحہ کے ہم پندرہ نام بھی پڑھ چکے ہیں۔ بعض مفسرین اس کا نام حم الجاثیہ یا حم الشریعۃ بھی ذکر کرتے ہیں۔
یہ سورة حوامیم سبعہ کی چھٹی سورة ہے اور مکی…
Read the full tafseer →وَفِيْ خَلْقِكُمْ وَمَا يَبُثُّ مِنْ دَاۗبَّۃٍ اٰيٰتٌ لِّقَوْمٍ يُّوْقِنُوْنَ 4 ۙ
خلق
الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما،
( خ ل ق ) الخلق
۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے
بث
أصل البَثِّ : التفریق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
فقال ان فی السموات الخ یہ (1) آئینہ ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ اپنا جمال دیکھتا ہے مگر کئی طرح سے۔ اس لیے فرمایا کہ آسمانوں اور زمین میں اس کے وجود و توحید کے لیے بڑی بڑی نشانیاں ہیں۔ آیات فرمایا کیونکہ ان کی مقدار اور حرکات الوان مختلفہ انوار کی کمی زیادتی ہر ایک بات ایک نشانی ہے اول اس لیے کہ یہ اجسام حوادث سے خالی نہیں اور جو حوادث سے خالی نہیں وہ حادثہ ہے پس یہ تمام اجسام حادث ہیں اور ہر حادث کے لیے ایک محدث ضرور ہے۔ (دوم) یہ کہ یہ اجسام اجزاء سے مرکب ہیں اور یہ اجزاء باہم متماثل ہیں پھر ایک جزء کو ایک جگہ میں اور ایک خاص بات میں کون خاص کرنے والا ہے وہی اللہ ہے نہ طبیعت اجسام کیونکہ اس میں…
Read the full tafseer →وَفِیْ خَلْقِکُمْ وَمَا یَـبُثُّ مِنْ دَآبَّۃٍ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ ۔ (الجاثیۃ : 4)
(اور تمہاری اپنی پیدائش میں اور ان حیوانات میں جو اس نے زمین میں پھیلا رکھے ہیں بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو یقین کرنا چاہیں۔ )
گزشتہ مضمون کے حق میں انسان کی خلقت اور ربوبیت سے استدلال
گزشتہ مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور ربوبیت اور اس کی قدرت و حکمت اور اس کے پیغام کی صداقت اور حقانیت پر زمین و آسمان میں جابجا نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں اسی طرح خود انسان کی تخلیق میں اور انسان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اس نے زمین میں جو حیوانات پیدا کر رکھے ہیں ان میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
فہم القرآن
سورۃ الدّخان کے آخر میں ارشاد ہوا ہے کہ اے نبی ﷺ ! ہم نے آپ کی زبان پر قرآن مجید کو آسان کردیا ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ سورة الجاثیہ کی ابتداء میں یہ ارشاد ہوا کہ جس قرآن کو آپ کے لیے آسان بنایا گیا ہے اس کو صرف ” اللہ “ نے نازل فرمایا ہے جو ہر کام کرنے پر غالب اور اس کے ہر حکم میں حکمت پائی جاتی ہے۔
” اللہ “ ہی نے قرآن کو نازل فرمایا ہے۔ وہ ہر اعتبار سے اپنے بندوں پر غالب ہے مگر اس نے اپنی حکمت کے تحت لوگوں کو اختیاردیا ہے کہ وہ اس کی نازل کردہ کتاب پر ایمان لائیں یا انکار کریں۔ البتہ اگر لوگ زمین و آسمان کی بناوٹ اور سجاوٹ پر غور کریں تو یقیناً قرآن مجید کی نصیحت پر ایمان…
Read the full tafseer →آیت 4 : وَفِیْ خَلْقِکُمْ (اور تمہاری پیدائش میں) وَمَایَبُثُّ مِنْ دَآبَّۃٍ (اور ان حیوانات کے پیدا کرنے میں جن کو پھیلا رکھا ہے)
نحو : اس کا عطف خلق جو مضاف ہے اس پر ہے۔ کیونکہ مضاف الیہ ضمیرمجرور متصل ہے اس پر عطف قبیح ہے۔
ٰایٰتٌ (دلائل ہیں) قراءت : حمزہ ٗ علی نے نصب سے پڑھا ہے باقی قراء نے رفع سے۔ جیسے تم کہو ٗ ان زیدًا فی الدار وعمروًا فی السوق یا عمرٌو فی السوق۔ اسم پر عطف کی صورت میں منصوب ہے اور مبتدأ ہونے کی حیثیت سے مرفوع ہے۔ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ (ان لوگوں کے لئے جو یقین رکھتے ہیں)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
مکمل سورت سوائے آیت نمبر 14 کے مکی ہے کیونکہ یہ آیت مدنی ہے اور اس کی سینتیس (37) آیات ہیں۔ سورة الدخان کے بعد نازل ہوئی۔
خواص سورة الجاثیہ
1، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ جو شخص سورة جاثیہ پڑھے وہ قیامت کے دن حساب کے وقت نہیں درے گا اور اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی فرمائیں گے۔
2، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ جو شخص سورة جا ثیہ پڑھے گا اللہ تعالیٰ اسے دنیا وآخرت کی ہر سختی وتنگی سے محفوظ رکھیں گے۔
3، جو آدمی اس سورت کو لکھ کر اپنے پاس رکھے یاگلے میں لٹکائے وہ ہر چغل خور کی چغل خوری سے محفوظ رہے گا اور کوئی اس کی غیبت نہیں کرے گا۔
4، اگر بچہ کے پیدا ہوتے ہی اس کے گلے میں سورة جاثیہ لکھ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–15
3۔ 15۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی چند نشانیوں کا ذکر فرمایا ہے مثلاً آسمان و زمین کا پیدا کرنا ‘ آسمان میں فرشتوں اور سورج و چاند ستاروں کا پیدا کرنا زمین میں انسان جن چرند پرند طرح طرح کے جانوروں کا جنگل اور دریا میں پیدا کرنا دریا اور ندیوں کا جاری کرنا اور ان میں کشتیوں کا چلانا دنیا کے کاروبار کے لئے دن اور سورج کی روشنی کو پیدا کرنا اور کاروبار کی محنت سے جو آدمی تھک جاتا ہے اس تھکان کے رفع کرنے کیلئے رات اور رات کی نیند کو پیدا کرنا آسمان سے مینہ کا برسانا جس سے ہر طرح کے اناج ہر طرح کے میووں ہر طرح کی ترکاریوں کا زمین میں پیدا ہونا ہر طرح کی ہوا کا چلانا جس کی تاثیر سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیت 1 ۔ 11
اللہ تبارک و تعالٰ ایک ایسی خبر دیتا ہے جو قرآن کی تعظیم اور اس کے اہتمام کو متضمن ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ کتاب (تنزیل) ” نازل کی گئی ہے۔ “ (من اللہ) ” اللہ کی طرف سے۔ “ جو معبود ہے کیونکہ وہ صفات کمال سے متصف ہے صرف وہی ہے جو نعمتیں عطا کرتا ہے جو غلبہ کامل اور حکمت تامہ کا مالک ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آیات افقیہ و نفسیہ کا ذکر کر کے اس کی تائید فرمائی۔ یعنی آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا ذکر فرمایا، نیز زمین کے اندر جو چوپائے پھیلائے، آسمان اور زمین میں جو منفعتیں ودیعت کیں، آسمان سے جو پانی نازل کیا جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین اور اپنے بندوں کو زندگی بخشتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
4 رات اور دن کے ادلنے بدلنے میں سامان غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " رات اور دن کے ادلنے بدلنے میں بھی "۔ یعنی ان میں بھی غور و فکر کرنے والوں کے لیے عظیم الشان دلائل قدرت و حکمت ہیں۔ کہ ایک آ رہا ہے اور دوسرا جا رہا ہے۔ ایک چھوٹا ہو رہا ہے اور دوسرا بڑا۔ ان دونوں میں سے ہر ایک کبھی سرد ہو رہا ہے کبھی گرم۔ ایک اپنی روشنی اور گرمی و تمازت کے ذریعے تمہارے لئے طرح طرح کے فائدوں اور راحتوں کا سامان کرتا ہے اور دوسرا تمہارے لئے اندھیرے اور گہرے سناٹے کا وہ پرکیف ماحول فراہم کرتا ہے جس میں تم لوگ آرام و سکون کی گہری نیند سوتے ہو۔ تو سوچو اور غور کرو کہ آخر یہ سب کچھ کس قادر مطلق کی قدرت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
اللہ کی برتری کا یقین
تشریح : اللہ کو پہچان کر اس پر یقین کرلینا اور اس کی کتاب کو غور سے پڑھ کر زندگی ‘ کائنات ‘ اور کائنات کی تمام چیزوں سے واقفیت حاصل کر کے ان سے پورا پورا فائدہ اٹھانا یہ بڑی سیدھی آسان اور معقول بات ہے۔ اللہ نے انسان کو سچائی کی فطرت پر پیدا کیا ہے۔ یعنی جب عالم ارواح میں تمام روحوں سے اللہ نے سوال کیا کہ تمہیں کس نے پیدا کیا ہے تو سب نے یک زبان جواب دیا کہ اللہ نے۔ اسی طرح کوئی کتنا ہی برا منکر خدا، پکا کافر ہی کیوں نہ ہو جب آپ اس سے پوچھتے ہیں کہ بھئی تمہیں کس نے پیدا کیا ہے ؟ تو وہ فورا جواب دے گا اللہ نے مسلمان تو اپنے خالق کو اللہ کہتا ہے جبکہ غیر مسلم اپنی زبان میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیات 1 تا 11۔
اسرار ومعارف۔
یہ کتاب اللہ کی طرف سے نازل کی گئی جو سب پر غالب ہے اور زبردست حکمتوں والا ہے یہ اسکی عظمت کی مظہر ہے اور چاہیے تھا کہ اس کو قبول کرتے اور مان جاتے اپنی نجات کا سامان کرتے اس کتاب کی عظمت یہ بھی ہے کہ محض حکماء ہی ماننے کو نہیں کہہ رہی بلکہ دلائل سے حق کو ثابت کرتی ہے ماننے والوں کے لیے آسمانوں اور زمین میں بیشمار دلائل ہیں کہ جیسے جیسے عقل انسانی تخلیق میں اور حیوانات کی حیات میں کسی قدر دلائل ہیں تخلیق کے فطری طریقے صحت وبیماری کے راز غذا اور حیات کا رابطہ اور ایک خلیے کی تعمیر وتخریب بھلاکس قدر دلائل سے بھرپور ہے اگر علم نصیب ہوتوشب وروز کا اختلاف باعتبار اوقات…
Read the full tafseer →ف 11 رہے وہ لوگ جو شک میں پڑے ہوئے ہیں انہیں کسی چیز میں کوئی نشانی نظر نہیں آتی۔
Read the full tafseer →(45:4) وما یبث من دابۃ۔ واؤ عاطفہ۔ جملہ کا عطف خلقکم پر ہے ما موصولہ یبث مضارع واحد مذکر غائب۔ بث (باب نصر) مصدر ضمیر فاعل اللہ کی طرف راجع ہے۔ دابۃ جانور، چلنے والا۔ رینگنے والا۔ پاؤں دھرنے والا۔ اسم فاعل کا صیغہ مذکر اور مؤنث ، دنوں کے لئے مستعمل ہے ۃ وحدت کی ہے دواب جمع ہے (تمہاری) اور ان جانوروں کی پیدائش میں جن کو اللہ نے (زمین پر) پھیلا رکھا ہے یقین رکھنے والوں کے لئے بہت سے دلائل ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 11 : یبت (وہ پھیلاتا ہے) تصریف ( الٹتا پلٹتا ہے) حدیث (بات) افاک ( جھوٹ بولنے والا) بصر (وہ ضد کرتا ہے ، اڑجاتا ہے) رجز ( سزا ، عذاب)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 11 : سورة الجاثیہ مکہ مکرمہ میں ہجرت سے کچھ عرصے پہلے ہی نازل ہوئی ۔ مکی سورتوں کی طرح اس میں بھی انسان کے بنیادی عقیدوں کی اصلاح ، توحیدخالص ، نبوت و رسالت اور فکر آخرت کو مختلف انداز سے بیان کیا گیا ہے تا کہ ایمان ، یقین اور عقل و فہم رکھنے والے جو کائنات میں غور و فکر کرتے ہیں اور صاحب بصیرت ہیں وہ حقیقی کامیابی حاصل کرسکیں ۔ زمین و آسمان کا مرتب نظام ، چاند سورج کا باقاعدگی سے نکلنا ، انسان اور جان داروں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
(ف 1) مشرکین یہ جو کہتے تھے کہ قرآن اللہ کا کلام نہیں ہے محمد ﷺ اپنی طرف سے روز قرآن کی آیتیں بنالیتے ہیں اور ان کو اللہ کا کلام بتلاتے ہیں اسی کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے کئی جگہ قرآن میں فرمایا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور اللہ کی طرف سے اتارا گیا ہیے قرآن سے پہلے جو اللہ کا کلام اور انبیاء پر اترا، اور ان انبیاء کی امتوں نے اس کو نہیں مانا، تو اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں سے بدلہ لینے میں ایسازبردست ہے کہ اس نے ایسے نافرمان لوگوں کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کردیا، اگر یہ حال کے لوگ بھی قرآن کی آیتوں کے جھٹلانے پر اڑے رہیں گے تو یہی انجام ان کا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–9
ف 1: قرآن کتاب فطرت ہے ۔ اس لئے یہ اپنی تصدیق میں صحیفہ قدرت کو پیش کرتا ہے ۔ اور کہتا ہے ۔ کہ تم سب کائنات کو عمیق نگاہوں سے دیکھو گے ۔ اور آسمانوں اور زمین کے متعلق وقت نظر سے معائنہ کرو گے اور خود اپنی قامت کے متعلق سوچو گے ۔ اور غم الحیوانات کو حاصل کروگے تو تمہیں اس کی صداقت میں بہت دلائل مل جائیں گے ۔ تمہیں یہ زیبا ہے ۔ کہ لیل ونہار کے ردوبدل میں اور ہم الریاح میں خصوصیت کے ساتھ غور وفکر سے کام لو ۔ یہ سب مظاہر قدرت اپنے اندر عقل وایقان کا بہرہ وافر رکھتے ہیں ۔ قرآن کو علوم طبعی کے ارتقاء میں نہ صرف کوئی خطرہ محسوس ہوتا ہے ۔ بلکہ قرآن کی خواہش ہے ۔ کہ لوگ ان علوم میں بیش از بیش ترقی…
Read the full tafseer →(4) اور خود تمہارے پیدا کرنے میں اور نیز ان حیوانات اور جانوروں میں جن کو اللہ تعالیٰ نے زمین میں پھیلا رکھا اور بکھیررکھا ہے ان لوگوں کے لئے قدرت خداوندی اور اس کی توحید کے بڑے دلائل ہیں جو یقین رکھتے ہیں۔
Read the full tafseer →نشانیاں تو ان کی اپنی پیدائش اور جانداروں کی پیدائش میں بھی موجود ہیں
4 ؎ جو شخص اپنی پیدائش پر غوروفکر کرتا ہے اور ان جانداروں کو دیکھتا ہے جو اس کے اردگرد پھیلے ہوئے ہیں تو وہ ہر ایک چیز کو توحید الٰہی کی طرف راہنمائی کرتے ہوئے پاتا ہے کیونکہ ان سب کا پیدا کرنے والا اور ان کی فطرت کے مطابق ان کو رزق مہیا کرنے والا اور ان کی فطری ضرورتوں کو پورا کرنے والا صرف اور صرف وہی اللہ تعالیٰ ہے اس کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہے اگرچہ وہ دیکھا نہیں جاسکتا لیکن یہ ساری چیزیں اس کے موجود ہونے کی دلیل ہیں۔ انسان اپنی پیدائش پر ، اپنے وجود کی ساخت پر ، اپنے اندرودیعت کیے گئے فطری تقاضوں پر ، اپنی ایک ایک حاجت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
إِنَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِّلْمُؤْمِنِينَ ("Surely in the heavens and the earth, there are signs for those who have faith.. ..45:3) " The purpose of this verse, and similar other verses, is to affirm the Oneness of Allah. Similar verses are available in [ 2:164] إِنَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ("Surely, in the creation of heavens and earth..." ) where their detailed commentary will be found. How the two verses prove the Oneness of Allah is also explained on that occasion. In the two places, there is a slight difference in the argumentation: Scholars interested might…
Read the full tafseer →3 That is, "The case of those who have made up their minds not to believe, or of those who have chosen for themselves to remain lost in the blind alleys of doubt, is different, but when those who have not locked up their hearts against belief and conviction, will consider seriously their own creation, the structure of their own body, and the variety of animals found on the earth, they will see countless such signs as will leave no doubt in their minds that all this did not come into being without a God, or that it stood in need of more than one Cod for its creation. (For explanation, see A1…
Read the full tafseer →