Al-Jaathiya 45:3

Al-Jaathiya · from ayah 3

45:3

اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ ۟ؕاِنَّ فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ لَاٰيٰتٍ لِّلۡمُؤۡمِنِيۡنَؕ

بےشک آسمانوں اور زمین میں ایمان والوں کے لئے (خدا کی قدرت کی) نشانیاں ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, within the heavens and earth are signs for the believers.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Jaathiya

All translations of 45:3

حقیقت یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین میں بے شمار نشانیاں ہیں ایمان لانے والوں کے لیے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بےشک آسمانوں اور زمین میں ایمان والوں کے لئے (خدا کی قدرت کی) نشانیاں ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

آسمانوں اور زمین میں ایمان داروں کے لیے یقیناً بہت سی نشانیاں ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

حقیقت یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین میں ماننے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک آسمانوں اور زمین میں نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لیے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک آسمانوں اور زمین میں یقیناً مومنوں کے لئے نشانیاں ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بلا شبہ آسمانوں اور زمین میں ایمان والوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بلاشبہ آسمانوں اور زمین میں ایمان لانے والوں کے لئے کئی نشانیاں ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

آسمانوں اور زمین میں ایمان لانے والوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلاشبہ آسمانوں اور زمین میں بڑی بھاری نشانیاں ہیں ایمانداروں کے لئے

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک آسمانوں اور زمین میں نشانیاں ہیں اہل ایمان کے لئے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقینا آسمانوں اور زمین میں (بہت سی) نشانیاں ہیں ماننے والوں کے لیے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بیشک آسمانوں اور زمین میں ایمان والوں کیلئے اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Behold, for those who believe there are (myriad) Signs in the heavens and the earth

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely in the heavens and the earth, there are signs for those who have faith.

— Muhammad Taqi Usmani

Surely in the heavens and the earth, there are signs for those who have faith.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, in the heavens and the earth are signs for the believers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! in the heavens and the earth are portents for believers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, within the heavens and earth are signs for the believers.

— Saheeh International

In the heavens and the earth there is evidence (of the Truth) for the believers.

— Muhammad Sarwar

Most surely in the heavens and the earth there are signs for the believers.

— Muhammad Habib Shakir

Verily in the heavens and the earth are signs Unto the believers.

— Abdul Majid Daryabadi

Verily in the heavens and the earth, are Signs for those who believe.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 45:3

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–5

اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو ہدایت فرماتا ہے کہ وہ قدرت کی نشانیوں میں غور و فکر کریں۔ اللہ کی نعمتوں کو جانیں اور پہچانیں پھر ان کا شکر بجا لائیں دیکھیں کہ اللہ کتنی بڑی قدرتوں والا ہے جس نے آسمان و زمین اور مختلف قسم کی تمام مخلوق کو پیدا کیا ہے فرشتے، جن، انسان، چوپائے، پرند، جنگلی جانور، درندے، کیڑے، پتنگے سب اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ سمندر کی بیشمار مخلوق کا خالق بھی وہی ایک ہے۔ دن کو رات کے بعد اور رات کو دن کے پیچھے وہی لا رہا ہے رات کا اندھیرا دن کا اجالا اسی کے قبضے کی چیزیں ہیں۔ حاجت کے وقت انداز کے مطابق بادلوں سے پانی وہی برساتا ہے رزق سے مراد بارش ہے اس لئے کہ اسی سے کھانے کی چیزیں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْجَاثِیَة 2 تمہید کے بعد اصل تقریر کا آغاز اس طرح کرنے سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ پس منظر میں اہل مکہ کے وہ اعتراضات ہیں جو وہ نبی ﷺ کی پیش کردہ تعلیم پر کر رہے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ آخر محض ایک شخص کے کہنے سے ہم اتنی بڑی بات کیسے مان لیں کہ جن بزرگ ہستیوں کے آستانوں سے آج تک ہماری عقیدتیں وابستہ رہی ہیں وہ سب ہیچ ہیں اور خدائی بس ایک خدا کی ہے۔ اس پر فرمایا جارہا ہے کہ جس حقیقت کو ماننے کی دعوت تمہیں دی جا رہی ہے اس کی سچائی کے نشانات سے تو سارا عالم بھرا پڑا ہے۔ آنکھیں کھول کر دیکھو۔ تمہارے اندر اور تمہارے باہر ہر طرف نشانیاں ہی نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں جو شہادت دے رہی ہیں کہ یہ ساری کائنات…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 3–6

(آیت) اِنَّ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَاٰيٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ۔ ان آیات سے توحید کا اثبات مقصود ہے۔ اس سے ملتی جلتی آیتیں دوسرے پارے کے رکوع (آیت) ان فی خلق السموت والارض۔ میں گزر چکی ہیں۔ وہیں ان کی مفصل تفسیر مذکور ہے اور یہ بھی کہ ان چیزوں سے توحید کیونکہ ثابت ہوتی ہے دونوں مقامات میں عنوان کا جو تھوڑا تھوڑا فرق ہے اس سے متعلق نکات اہل علم امام رازی کی تفسیر کبیر میں دیکھ سکتے ہیں۔ البتہ ایک بات قابل ذکر ہے کہ یہاں کائنات کی مختلف نشانیاں بیان فرما کر ایک جگہ یہ فرمایا گیا ہے کہ اس میں ”ایمان لانے والوں کے لئے“ نشانیاں ہیں، دوسری جگہ ا رشاد ہے کہ ”یقین کرنے والوں کے لئے“ نشانیاں ہیں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ان فی السموت والارض لایت للمومنین (3) قرآن کی دعوت یہ قرآن کی دعوت توحید اور اس کے انداز قیامت کے حق میں آفاق کے دلائل کی طرف اشارہ ہے تاکہ اس کا حکیمانہ کلام ہونا واضح ہو۔ فرمایا کہ قرآن لوگوں کو جس چیز کی طرف بلا رہا ہے اور جس چیز سے کرا رہا ہے اس کی نشانیاں آسمانوں اور زمین کے چپہ چپہ میں موجود ہیں لیکن یہ نشانیاں کارآمد ان لوگوں کے لئے جو ایمان لانے والے ہوں۔ جو لوگ ایمان لانے والے نہ ہوں وہ سب کچھ دیکھ کر بھی اندھے ہی بنے رہتے ہیں اور روز نئی نئی نشانیوں کا مطالبہ کرتے ہیں اور اگر ان کی طلب کے مطابق کوئی نئی نشانی دکھا بھی دی جائے تو اس سے بھی وہ قائل نہیں ہوتے بلکہ کسی دوسری نشانی کا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 1–5

5۔ 1 آسمانوں و زمین، انسانی تخلیق، جانوروں کی پیدائش، رات دن کے آنے جانے اور آسمانی بارش کے ذریعے سے مردہ زمین میں زندگی کی لہر کا دوڑ جانا وغیرہ، آفاق وانفس میں بیشمار نشانیاں ہیں جو اللہ کی واحدنیت و ربوبیت پر دال ہیں۔ 5۔ 2 یعنی کبھی ہوا کا رخ شمال جنوب، کبھی پچھم (مشرق و مغرب) کو ہوتا ہے، کبھی بحری ہوائیں اور کبھی بری ہوائیں، کبھی رات کو، کبھی دن کو، بعض ہوائیں بارش خیز، بعض نتیجہ خیز، بعض ہوائیں روح کی غذا اور بعض سب کچھ جھلسا دینے والی اور محض گردو غبار کا طوفان، ہواؤں کی اتنی قسمیں بھی دلالت کرتے ہیں کہ اس کائنات کا کوئی چلانے والا ہے اور وہ ایک ہی ہے دو یا دو سے زائد نہیں تمام اختیارات…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–5

درس نمبر 235 تشریح آیات 1۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 23 آیت نمبر 1 تا 5 حا۔ میم کے بعد ، یہ آتا ہے کہ یہ کتاب اللہ عزیز اور حکیم کی طرف سے ہے اور اس کتاب کا مصدر اور فبع اللہ کی ذات ہے اور دوسرا اشارہ اس میں یہ ہے کہ یہ معجزہ کتاب انہی حروف سے بنائی گئی ہے۔ جیسا کہ حروف مقطعات کے بارے میں ہماری رائے ہے اور یہ کہ یہ چیلنج ہے ان کو کہ تم ان حروف سے ایسی کتاب نہیں بنا سکتے۔ لہٰذا حا میم دلیل ہے تنزیل الکتب پر کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ زبردست قدرت والا ہے اور اس کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا اور حکیم ہے جس نے اس پوری کائنات کو حکمت سے بنایا اور تمام معاملات اس ذات کے حکم سے طے ہوتے ہیں۔ یہ ایک ایسا تبصرہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 1–3

9 یعنی آدمی ماننا چاہے تو اسی آسمان و زمین کی پیدائش اور ان کے محکم نظام میں غور کر کے مان سکتا ہے ہے کہ ضرور کوئی ان کا پیدا کرنے والا اور تھامنے والا ہے۔ جس نے کمال حکمت و خوبی سے ان کو بنایا اور لامحدود قدرت سے ان کی حفاطت کی۔ " البعرۃ تدل علی البعیرد الاقدام تدل علی المسیر فکیف لا یدل ہذا النظام العجیب الغریب علی الصانع اللطیف الخبیر۔ "

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 3 { اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ } ”یقینا آسمانوں اور زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں ماننے والوں کے لیے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

2 توحید کے دلائل :۔ تمہید کے بعد توحید کے اثبات اور شرک کے ابطال پر دلائل کا آغاز ہوا ہے۔ خ توحید کی پہلی نشانی کائنات کا نظم ونسق :۔ پہلی دلیل یہ کائنات اور اس کا نظام ہے اسی کے ایک پہلو پر ہی اگر غور کرلیا جائے تو معلوم ہوجائے گا کہ اس میں الگ الگ خداؤں کی خدائی چلنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ ناممکن ہے کہ بادلوں کا دیوتا کوئی اور ہو، ہواؤں کا کوئی دوسرا ہو، بارشوں کا کوئی تیسرا ہو، سورج کا کوئی اور ہو۔ اگر ایسی بات ہوتی تو اس کائنات کے نظام میں کبھی باقاعدگی اور ہم آہنگی برقرار نہیں رہ سکتی تھی۔ مگر اس کائنات میں ایسی نشانیاں تو اس شخص کے لیے ہی سود مند ہوسکتی ہیں جو خود ہدایت کا طالب ہو اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 3–4

2۔ (اللہ کی قدرت و حکمت کی اور اس کی توحید کی) جن کے دلوں میں ایمان گھر کرچکا ہے۔ اور جن کی بصیرت مومنانہ بن چکی ہے۔ انہیں اس کارخانہ کائنات میں قدم قدم پر اللہ کی حکمتوں، صنعتوں، قدرتوں کے نمونے ملتین ہیں، اور وہ سب اس کی توحید ہی کی طرف لے جاتے ہیں، نہ کہ معبودوں کے تعدد کی جانب۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–11

آیت نمبر 1 تا 11 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے کتاب یعنی قرآن کا نزول اللہ کی طرف سے ہے (من اللہ) خبر ہے جو کہ اپنے ملک میں غالب اور اپنی صنعت میں حکمت والا ہے بلاشبہ آسمانون اور زمین میں یعنی ان دونوں کے پیدا کرنے میں ایسی نشانیاں ہیں جو اللہ کی قدرت اور وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں، اور خود تمہاری پیدائش میں یعنی تم سب کو نطفہ سے پیدا کرنے میں پھر دم بستہ سے پھر گوشت کے لوتھڑے سے، حتی کہ وہ نطفہ انسان ہوجاتا ہے، اور ان جانوروں کی پیدائش میں جنہیں وہ زمین پر پھیلاتا ہے (دابۃ) ہر وہ شئ ہے جو زمین پر چلے انسان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان فی السموت والارض لایت للمؤمنین بلاشبہ آسمانوں میں اور زمین میں (ا اللہ کی قدرت و وحدانیت کی) مؤمنوں کیلئے کثیر نشانیاں ہیں۔ آیت کا یہ ظاہر مطلب بھی مراد ہوسکتا ہے کہ لفظ خَلْق کو محذوف بھی قرار دیا جاتا ہے ‘ یعنی آسمانوں کے اور زمین کے پیدا کرنے میں مؤمنوں کیلئے بڑی نشانیاں ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

چاند سورج ستارے اور بادل جو آسمانوں میں ہیں اور درخت و پہاڑ اور سمندر جو زمین میں ہیں ان تمام چیزوں میں ان لوگوں کے لیے جو کہ اپنے ایمان میں سچے ہیں بڑے دلائل ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ان فی السموت ولارض لایت للمومنین : سورة بقرہ (164) میں ”ان فی خلق السموت والارض“ فرمایا، جبکہ یہاں ”ان فی السموت والارض“ فرمایا، تو یہ اس سے عام ہے، کیونکہ اس میں آسمان و زمین ک پیدائش بھی شامل ہے اور ان کی ذات بھی۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں اور ان کے بعد مذکور چیزوں میں کس چیز کی نشانیاں ہیں ؟ جواب یہ ہے کہ یہ بات معلوم تھی کہ مشرکین اللہ تعالیٰ کی توحید کو اور قیامت کو ماننے کے لئے تیار نہیں تھے، کچھ دہریے بھی تھے جو اللہ تعالیٰ کے وجود ہی کو نہیں مانتے تھے، جیسا کہ اسی سورت کی آیت (24) میں آرہا ہے :(وقالوا ماھی الا حیاتنا الدنیا نموت ونحیا ومایھلکنا الا الدھر)”اور…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 2–5

یعنی ان دونوں کی تخلیق ہیں۔ رزق سے مراد بارش ہے، تمام بحث سورة بقرہ اور دوسری سورتوں میں گزر چکی ہے۔ عام قرأت : دونوں آیات رفع کے ساتھ ہیں۔ حمزہ اور کسائی نے دونوں میں تاء کے نیچے کسرہ دیا ہے پہلے میں تو کوئی اختلاف نہیں کہ وہ منصوب ہے اور وہ ان کا اسم ہے اور اس کی خبر فی السموت ہے دوسرے لفظ آیات میں کسرہ اس پر عطف کی وجہ سے ہے جو اس میں حامل ہے۔ تقدیر کلام یہ ہوگی ان جہاں تک تیسرے کا تعلق ہے تو ایک قول یہ کیا گیا ہے۔ اسے اس پر محمول کریں گے جس میں ان عامل ہے ان میں فی کو مخذوف مقدر مانیں گے تقدیر کلام یہ ہے فی حذف ہوگیا کیونکہ انس کا ذکر پہلے ہوچکا تھا۔ سیبویہ نے اس کے حذف میں یہ شعر پڑھا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنَّ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ [ بیشک آسمانوں اور زمین میں ] لَاٰيٰتٍ [ یقینا نشانیاں ہیں ] لِّلْمُؤْمِنِيْنَ [ ایمان لانے والوں کے لیے ] نوٹ۔ 1: کائنات کی مختلف نشانیاں بیان فرما کر ایک جگہ یہ فرمایا ہے کہ اس میں ایمان لانے والوں کے لیے نشانیاں ہیں دوسری جگہ فرمایا کہ یقین کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں اور تیسری جگہ ہے کہ عقل رکھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں ۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ ان نشانیوں سے پورا فائدہ تو وہی اٹھا سکتے ہیں جو ایمان لے آئیں ، دوسرے نمبر یہ ان لوگوں کے لیے مفید ہوسکتی ہیں ، جو فورا ایمان نہ لائیں لیکن ان کے دل میں یقین پیدا ہوجائے کہ یہ چیزیں توحید پر دلالت کرتی ہیں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 2–6

یہ کتاب عزیز و حکیم کی طرف سے ہے، آسمان اور زمین، انسان کی تخلیق، لیل و نہار کے اختلاف اور بارش کے نزول میں معرفت الٰہیہ کی نشانیاں ہیں ان آیات میں اول تو یہ فرمایا ہے کہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے نازل کی گئی ہے وہ عزیز بھی ہے حکیم بھی ہے، اس کے بعد توحید کی نشانیاں بیان فرمائیں۔ ارشاد فرمایا کہ آسمانوں اور زمین میں اہل ایمان کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں، اہل ایمان ان کو دیکھتے ہیں اور متاثر ہوتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ تمہارے پیدا کرنے میں اور جو چوپائے زمین میں پھیلا رکھے ہیں ان سب میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں اور دلائل ہیں جو لوگ یقین رکھتے ہیں اس طرح رات اور دن کے آگے پیچھے آنے میں اور اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–11

بیان عظمت کتاب خداوندی وذکر دلائل قدرت وتنبیہ بر اعراض و انحراف : قال اللہ تعالیٰ :۔ (آیت ) ” حم تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم ...... الی ....... من رجز الیم “۔ (ربط) گزشتہ سورت کا مضمون ان اوصاف کے بیان پر ختم کیا گیا تھا۔ جو انسانی فوز و فلاح اور سعادت کے ضامن ہیں اور یہ کہ قرآن کریم عربی زمین میں آسان وسہل بنا کر نازل کیا گیا اب اگر اس کے بعد بھی لوگ ہدایت قبول نہ کریں تو یہ انکی محرومی اور بدنصیبی ہے تو اس مناسبت سے سورة جاثیہ کی ابتداء عظمت کو دیکھ کر اس کی کتاب کی عظمت کو بھی پہچان سکیں، ساتھ انعامات کا بھی ذکر ہے اور قادر مطلق ومنعم حقیقی کی نافرمانی پر تنبیہ ووعید بھی، تو ارشاد…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

3:۔ ” ان فی السموات “ تا ” فبای حدیث بعد اللہ وایاتہ یومنون “ یہ توحید پر پہلی عقلی ہے۔ علی سبیل التدریج۔ اس میں درجہ بدرجہ ایسے امور بیان کیے گئے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور اس کی وحدانیت کی دلیل ہیں۔ اس عظیم الشان سورت کا مضمون یہ ہے کہ نفس آسمان و زمین ہی ایمان والوں کے لیے اللہ کی قدرت ووحدانیت پر کافی دلیل ہیں۔ زمین و آسمان میں عجائب المخلوقات اور کائنات کی ہر چیز ایک مستقل دلیل ہے۔ ان انفسہما لایات لما فیہما من فنون الدلالۃ علی القادر الحکیم جل شانہ (روح ج 25 ص 139) لایات لدلالات علی وحدانیتہ (مدارک ج 4 ص 101) ۔ پھر آسمان کا ستونوں کے بغیر محض اس کے حکم سے قائم رہنا اور زمین کا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–5

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة الجاثیہ ہے جو اس کی آیت 280 میں آمدہ لفظ سے ماخوذ ہے وتری کل امۃ جاثیۃ اور تم ہر گرو کو گھٹنے ٹیکے ہوئے پائو گے ، یہ قیامت والے دن حساب کتاب کی منزل کا ذکر ہے کہ اس دن لوگ نہایت عاجزی کے ساتھ گھٹنے ٹیک کر اللہ کی بارگاہ میں پیش ہوں گے مفسرین کرام اس سورة کا دوسرا نام سورة الشریعتہ بھی ذکر کرتے ہیں کیونکہ اس کی آیت 180 میں شریعت کا ذکر بھی آتا ہے ایک سورة کے متعدد نام ہونا کچھ غیر معروف بات نہیں کیونکہ سورة الفاتحہ کے ہم پندرہ نام بھی پڑھ چکے ہیں۔ بعض مفسرین اس کا نام حم الجاثیہ یا حم الشریعۃ بھی ذکر کرتے ہیں۔ یہ سورة حوامیم سبعہ کی چھٹی سورة ہے اور مکی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَاٰيٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ۝ 3 ۭ سما سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ، ( س م و ) سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض نہیں بنتا ۔ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 3–5

فقال ان فی السموات الخ یہ (1) آئینہ ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ اپنا جمال دیکھتا ہے مگر کئی طرح سے۔ اس لیے فرمایا کہ آسمانوں اور زمین میں اس کے وجود و توحید کے لیے بڑی بڑی نشانیاں ہیں۔ آیات فرمایا کیونکہ ان کی مقدار اور حرکات الوان مختلفہ انوار کی کمی زیادتی ہر ایک بات ایک نشانی ہے اول اس لیے کہ یہ اجسام حوادث سے خالی نہیں اور جو حوادث سے خالی نہیں وہ حادثہ ہے پس یہ تمام اجسام حادث ہیں اور ہر حادث کے لیے ایک محدث ضرور ہے۔ (دوم) یہ کہ یہ اجسام اجزاء سے مرکب ہیں اور یہ اجزاء باہم متماثل ہیں پھر ایک جزء کو ایک جگہ میں اور ایک خاص بات میں کون خاص کرنے والا ہے وہی اللہ ہے نہ طبیعت اجسام کیونکہ اس میں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لِاٰیٰتٍ لِّـلْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (الجاثیۃ : 3) (بےشک آسمانوں اور زمین میں ایمان لانے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔ ) قرآن کریم کی دعوت کے اثبات میں آفاق وانفس کے دلائل اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی جانے والی یہ آخری کتاب نوع انسانی کو جس ہدایت کی طرف بلا رہی ہے اور آنحضرت ﷺ شب و روز جن حقائق کی تبلیغ فرما رہے ہیں قرآن کریم کی حقانیت کو واضح کرنے کے بعد اب ان حقائق پر دلائل کا آغاز کیا جارہا ہے اور اس کے لیے کسی ایک نشانی کا ذکر کرنے کی بجائے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی دعوت و تبلیغ اور قرآن کریم کے دعوت کے حق میں بیشمار نشانیاں موجود ہیں۔ بلکہ انسان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 2–4

فہم القرآن سورۃ الدّخان کے آخر میں ارشاد ہوا ہے کہ اے نبی ﷺ ! ہم نے آپ کی زبان پر قرآن مجید کو آسان کردیا ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ سورة الجاثیہ کی ابتداء میں یہ ارشاد ہوا کہ جس قرآن کو آپ کے لیے آسان بنایا گیا ہے اس کو صرف ” اللہ “ نے نازل فرمایا ہے جو ہر کام کرنے پر غالب اور اس کے ہر حکم میں حکمت پائی جاتی ہے۔ ” اللہ “ ہی نے قرآن کو نازل فرمایا ہے۔ وہ ہر اعتبار سے اپنے بندوں پر غالب ہے مگر اس نے اپنی حکمت کے تحت لوگوں کو اختیاردیا ہے کہ وہ اس کی نازل کردہ کتاب پر ایمان لائیں یا انکار کریں۔ البتہ اگر لوگ زمین و آسمان کی بناوٹ اور سجاوٹ پر غور کریں تو یقیناً قرآن مجید کی نصیحت پر ایمان…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 3 : اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ (آسمان و زمین میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر دلائل کثیرہ موجود ہیں) اور نمبر 2۔ یہ معنی بھی درست ہے۔ بلاشبہ آسمان و زمین کی پیدائش میں ایمان والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ اس کی دلیل اگلی آیت وفی خلقکم ہے۔ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ (مؤمنین کیلئے)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 1–4

مکمل سورت سوائے آیت نمبر 14 کے مکی ہے کیونکہ یہ آیت مدنی ہے اور اس کی سینتیس (37) آیات ہیں۔ سورة الدخان کے بعد نازل ہوئی۔ خواص سورة الجاثیہ 1، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ جو شخص سورة جاثیہ پڑھے وہ قیامت کے دن حساب کے وقت نہیں درے گا اور اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی فرمائیں گے۔ 2، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ جو شخص سورة جا ثیہ پڑھے گا اللہ تعالیٰ اسے دنیا وآخرت کی ہر سختی وتنگی سے محفوظ رکھیں گے۔ 3، جو آدمی اس سورت کو لکھ کر اپنے پاس رکھے یاگلے میں لٹکائے وہ ہر چغل خور کی چغل خوری سے محفوظ رہے گا اور کوئی اس کی غیبت نہیں کرے گا۔ 4، اگر بچہ کے پیدا ہوتے ہی اس کے گلے میں سورة جاثیہ لکھ کر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 3–15

3۔ 15۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی چند نشانیوں کا ذکر فرمایا ہے مثلاً آسمان و زمین کا پیدا کرنا ‘ آسمان میں فرشتوں اور سورج و چاند ستاروں کا پیدا کرنا زمین میں انسان جن چرند پرند طرح طرح کے جانوروں کا جنگل اور دریا میں پیدا کرنا دریا اور ندیوں کا جاری کرنا اور ان میں کشتیوں کا چلانا دنیا کے کاروبار کے لئے دن اور سورج کی روشنی کو پیدا کرنا اور کاروبار کی محنت سے جو آدمی تھک جاتا ہے اس تھکان کے رفع کرنے کیلئے رات اور رات کی نیند کو پیدا کرنا آسمان سے مینہ کا برسانا جس سے ہر طرح کے اناج ہر طرح کے میووں ہر طرح کی ترکاریوں کا زمین میں پیدا ہونا ہر طرح کی ہوا کا چلانا جس کی تاثیر سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–11

آیت 1 ۔ 11 اللہ تبارک و تعالٰ ایک ایسی خبر دیتا ہے جو قرآن کی تعظیم اور اس کے اہتمام کو متضمن ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ کتاب (تنزیل) ” نازل کی گئی ہے۔ “ (من اللہ) ” اللہ کی طرف سے۔ “ جو معبود ہے کیونکہ وہ صفات کمال سے متصف ہے صرف وہی ہے جو نعمتیں عطا کرتا ہے جو غلبہ کامل اور حکمت تامہ کا مالک ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آیات افقیہ و نفسیہ کا ذکر کر کے اس کی تائید فرمائی۔ یعنی آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا ذکر فرمایا، نیز زمین کے اندر جو چوپائے پھیلائے، آسمان اور زمین میں جو منفعتیں ودیعت کیں، آسمان سے جو پانی نازل کیا جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین اور اپنے بندوں کو زندگی بخشتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 3–4

4 رات اور دن کے ادلنے بدلنے میں سامان غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " رات اور دن کے ادلنے بدلنے میں بھی "۔ یعنی ان میں بھی غور و فکر کرنے والوں کے لیے عظیم الشان دلائل قدرت و حکمت ہیں۔ کہ ایک آ رہا ہے اور دوسرا جا رہا ہے۔ ایک چھوٹا ہو رہا ہے اور دوسرا بڑا۔ ان دونوں میں سے ہر ایک کبھی سرد ہو رہا ہے کبھی گرم۔ ایک اپنی روشنی اور گرمی و تمازت کے ذریعے تمہارے لئے طرح طرح کے فائدوں اور راحتوں کا سامان کرتا ہے اور دوسرا تمہارے لئے اندھیرے اور گہرے سناٹے کا وہ پرکیف ماحول فراہم کرتا ہے جس میں تم لوگ آرام و سکون کی گہری نیند سوتے ہو۔ تو سوچو اور غور کرو کہ آخر یہ سب کچھ کس قادر مطلق کی قدرت و…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–13

اللہ کی برتری کا یقین تشریح : اللہ کو پہچان کر اس پر یقین کرلینا اور اس کی کتاب کو غور سے پڑھ کر زندگی ‘ کائنات ‘ اور کائنات کی تمام چیزوں سے واقفیت حاصل کر کے ان سے پورا پورا فائدہ اٹھانا یہ بڑی سیدھی آسان اور معقول بات ہے۔ اللہ نے انسان کو سچائی کی فطرت پر پیدا کیا ہے۔ یعنی جب عالم ارواح میں تمام روحوں سے اللہ نے سوال کیا کہ تمہیں کس نے پیدا کیا ہے تو سب نے یک زبان جواب دیا کہ اللہ نے۔ اسی طرح کوئی کتنا ہی برا منکر خدا، پکا کافر ہی کیوں نہ ہو جب آپ اس سے پوچھتے ہیں کہ بھئی تمہیں کس نے پیدا کیا ہے ؟ تو وہ فورا جواب دے گا اللہ نے مسلمان تو اپنے خالق کو اللہ کہتا ہے جبکہ غیر مسلم اپنی زبان میں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–11

آیات 1 تا 11۔ اسرار ومعارف۔ یہ کتاب اللہ کی طرف سے نازل کی گئی جو سب پر غالب ہے اور زبردست حکمتوں والا ہے یہ اسکی عظمت کی مظہر ہے اور چاہیے تھا کہ اس کو قبول کرتے اور مان جاتے اپنی نجات کا سامان کرتے اس کتاب کی عظمت یہ بھی ہے کہ محض حکماء ہی ماننے کو نہیں کہہ رہی بلکہ دلائل سے حق کو ثابت کرتی ہے ماننے والوں کے لیے آسمانوں اور زمین میں بیشمار دلائل ہیں کہ جیسے جیسے عقل انسانی تخلیق میں اور حیوانات کی حیات میں کسی قدر دلائل ہیں تخلیق کے فطری طریقے صحت وبیماری کے راز غذا اور حیات کا رابطہ اور ایک خلیے کی تعمیر وتخریب بھلاکس قدر دلائل سے بھرپور ہے اگر علم نصیب ہوتوشب وروز کا اختلاف باعتبار اوقات…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 10 یعنی جو لوگ ماننے اور ایمان لانے کے لئے تیار ہوں وہ اگر اس کائنات کے نظام پر غور کریں تو انہیں صاف پتا چل سکتا ہے کہ نہ ان کی پیدائش خود بخود ہوگئی ہے اور نہ ان کا نظام از خود چل رہا ہے بلکہ ایک زبرسدت حکمت والا خدا ہے جس نے انہیں اپنی قدرت سے پیدا کیا اور جو اس نظام کو اپنی حکمت کے مطابق چلا رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 2–3

(45:2) تنزیل الکتب : تنزیل بروزن تفعیل مصدر ہے بمعنی اتارنا۔ نازل کرنا۔ الکتب ای القران۔ مرکب اضافی ہے۔ اس کتاب یعنی قرآن مجید کا اتارا جانا یا نازل کرنا یا کیا جانا۔ من اللّٰہ اللہ کی طرف سے ہے۔ العزیز الحکیم۔ جو العزیز الحکیم ہے۔ العزیز غالب الحکیم حکمت والا (ہے) یعنی غالب اور حکمت والے اللہ کی طرف سے ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–13

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 11 : یبت (وہ پھیلاتا ہے) تصریف ( الٹتا پلٹتا ہے) حدیث (بات) افاک ( جھوٹ بولنے والا) بصر (وہ ضد کرتا ہے ، اڑجاتا ہے) رجز ( سزا ، عذاب) تشریح : آیت نمبر 1 تا 11 : سورة الجاثیہ مکہ مکرمہ میں ہجرت سے کچھ عرصے پہلے ہی نازل ہوئی ۔ مکی سورتوں کی طرح اس میں بھی انسان کے بنیادی عقیدوں کی اصلاح ، توحیدخالص ، نبوت و رسالت اور فکر آخرت کو مختلف انداز سے بیان کیا گیا ہے تا کہ ایمان ، یقین اور عقل و فہم رکھنے والے جو کائنات میں غور و فکر کرتے ہیں اور صاحب بصیرت ہیں وہ حقیقی کامیابی حاصل کرسکیں ۔ زمین و آسمان کا مرتب نظام ، چاند سورج کا باقاعدگی سے نکلنا ، انسان اور جان داروں کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 2–7

(ف 1) مشرکین یہ جو کہتے تھے کہ قرآن اللہ کا کلام نہیں ہے محمد ﷺ اپنی طرف سے روز قرآن کی آیتیں بنالیتے ہیں اور ان کو اللہ کا کلام بتلاتے ہیں اسی کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے کئی جگہ قرآن میں فرمایا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور اللہ کی طرف سے اتارا گیا ہیے قرآن سے پہلے جو اللہ کا کلام اور انبیاء پر اترا، اور ان انبیاء کی امتوں نے اس کو نہیں مانا، تو اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں سے بدلہ لینے میں ایسازبردست ہے کہ اس نے ایسے نافرمان لوگوں کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کردیا، اگر یہ حال کے لوگ بھی قرآن کی آیتوں کے جھٹلانے پر اڑے رہیں گے تو یہی انجام ان کا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 2–9

ف 1: قرآن کتاب فطرت ہے ۔ اس لئے یہ اپنی تصدیق میں صحیفہ قدرت کو پیش کرتا ہے ۔ اور کہتا ہے ۔ کہ تم سب کائنات کو عمیق نگاہوں سے دیکھو گے ۔ اور آسمانوں اور زمین کے متعلق وقت نظر سے معائنہ کرو گے اور خود اپنی قامت کے متعلق سوچو گے ۔ اور غم الحیوانات کو حاصل کروگے تو تمہیں اس کی صداقت میں بہت دلائل مل جائیں گے ۔ تمہیں یہ زیبا ہے ۔ کہ لیل ونہار کے ردوبدل میں اور ہم الریاح میں خصوصیت کے ساتھ غور وفکر سے کام لو ۔ یہ سب مظاہر قدرت اپنے اندر عقل وایقان کا بہرہ وافر رکھتے ہیں ۔ قرآن کو علوم طبعی کے ارتقاء میں نہ صرف کوئی خطرہ محسوس ہوتا ہے ۔ بلکہ قرآن کی خواہش ہے ۔ کہ لوگ ان علوم میں بیش از بیش ترقی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(3) بے شک اہل ایمان کے لئے آسمانوں میں اور زمین میں بڑے دلائل موجود ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی الوہیت کے لئے بڑے بڑے دلائل موجود ہیں جو حق کی متلاشی ہیں اور حق کے متلاشی اہل ایمان کے علاوہ اور ہیں بھی کہاں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

3 ؎ سب کو معلوم ہے اور سب اس بات کو معترف ہیں کہ آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا اللہ رب کریم ہے جو اپنی رحمت کی چادر کو دور دور تک پھیلاء ہوئے ہے اور اس نے اپنی رحمت کے تقاضے کے مطابق رحمۃ للعالمین ﷺ کو مبعوث فرمایا ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ لوگ غفلت کی چادر تانے سوتے رہیں اور عیش و عشرت کا گھن ان کی تعمیری صلاحیتوں کو مسلسل چاٹتا رہے اور فسق وفجور کے بدنما داغ بدستور ان کے چہروں کو برابر مسخ کرتے رہیں۔ اس رب کریم نے اس کائنات کے اندرمختلف نشانیاں رکھ دی ہیں جن پر ہر انسان غوروفکر کرکے اپنی اصلاح خود کر کستا ہے اگر وہ کرنا چاہے اور یہ نشانیاں آفاق وانفس میں موجود ہیں اور اللہ کے کلام قرآن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 3–6

إِنَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ لَآيَاتٍ لِّلْمُؤْمِنِينَ ("Surely in the heavens and the earth, there are signs for those who have faith.. ..45:3) " The purpose of this verse, and similar other verses, is to affirm the Oneness of Allah. Similar verses are available in [ 2:164] إِنَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ ("Surely, in the creation of heavens and earth..." ) where their detailed commentary will be found. How the two verses prove the Oneness of Allah is also explained on that occasion. In the two places, there is a slight difference in the argumentation: Scholars interested might…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

2 To begin the discourse like this after the introduction, indicates that in the background there are the objections of the people of Makkah, which they were raising against the teachings of the Holy Prophet. They said: 'After alI, how can we believe this one man when he says that all those great beings to whose shrines we have been dedicated and devoted so far, are nothing and that Godhead belongs to only One God ?" About this it is being said that the world is replete with the signs of the Reality to which they are being invited. If on]y they saw with open eves, they would find those signs…

Read the full tafseer →