Explained with ayahs 1–5
اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو ہدایت فرماتا ہے کہ وہ قدرت کی نشانیوں میں غور و فکر کریں۔ اللہ کی نعمتوں کو جانیں اور پہچانیں پھر ان کا شکر بجا لائیں دیکھیں کہ اللہ کتنی بڑی قدرتوں والا ہے جس نے آسمان و زمین اور مختلف قسم کی تمام مخلوق کو پیدا کیا ہے فرشتے، جن، انسان، چوپائے، پرند، جنگلی جانور، درندے، کیڑے، پتنگے سب اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ سمندر کی بیشمار مخلوق کا خالق بھی وہی ایک ہے۔ دن کو رات کے بعد اور رات کو دن کے پیچھے وہی لا رہا ہے رات کا اندھیرا دن کا اجالا اسی کے قبضے کی چیزیں ہیں۔ حاجت کے وقت انداز کے مطابق بادلوں سے پانی وہی برساتا ہے رزق سے مراد بارش ہے اس لئے کہ اسی سے کھانے کی چیزیں…
Read the full tafseer →سورة الْجَاثِیَة 1
یہ اس سورے کی مختصر تمہید ہے جس میں سامعین کو دو باتوں سے خبردار کیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ کتاب محمد ﷺ کی اپنی تصنیف نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر نازل ہو رہی ہے۔ دوسرے یہ کہ اسے وہ خدا نازل کر رہا ہے جو زبردست بھی ہے اور حکیم بھی۔ اس کا زبردست ہونا اس بات کا متقاضی ہے کہ انسان اس کے فرمان سے سرتابی کی جرأت نہ کرے، کیونکہ نافرمانی کر کے وہ اس کی سزا سے کسی طرح بچ نہیں سکتا۔ اور اس کا حکیم ہونا اس کا متقاضی ہے کہ انسان پورے اطمینان کے ساتھ برضا ورغبت اس کی ہدایات اور اس کے احکام کی پیروی کرے، کیونکہ اس کی کسی تعلیم کے غلط یا نامناسب یا نقصان دہ ہونے کا کوئی امکان نہیں۔
Read the full tafseer →معارف و مسائل
یہ پوری سورت مکی ہے، صرف ایک قول یہ ہے کہ (آیت) قل للذین امنوا یغفروا للذین لا یرجون ایام اللہ مدنی ہے اور باقی مکی، لیکن جمہور کے قول کے مطابق پوری سورت قبل الہجرة ہی نازل ہوئی ہے اور دوسری مکی سورتوں کی طرح اس کا بنیادی مضمون عقائد ہی کی اصلاح ہے، چناچہ اس میں توحید، رسالت اور آخرت کے عقاد ہی کو مختلف طریقوں سے مدلل کیا گیا ہے، خاص طور سے آخرت کے اثبات کے دلائل، منکرین کے شبہات اور دہریوں کی تردید اس میں زیادہ تفصیل سے آئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
-1 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
حم، تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم 2-1
اس سورة کا بھی قرآنی نام حم ہی ہے۔ اس نام سے موسوم سورتوں کے مطالب کے اشتراک اور ان کے مزاج کی ہم رنگی پر پچھلی سورتوں کی تفسیر میں ہم روشنی ڈال چکے ہیں۔
سورة کی تمہید
تنزیل الکتب …الایۃ، سابق سورة کی طرح اس سورة کی تمہید میں بھی قرآن کی عظمت و اہمیت کا حوالہ ہے البتہ اس میں اہمیت کے بیان کا پہلو سابق سورة سے مختلف ہے۔ لفظ تنزیل، پر ہم اس کے محل میں بحث کر کے بتا چکے ہیں کہ اس کے اندر تدریج و اہتمام کا مفہوم پایا جاتا ہے اور قرآن کے اتارے جانے کے معاملے میں اللہ نے جو اہتمام خاص ملحوظ رکھا ہے اس کی وضاحت اس کتاب میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
5۔ 1 آسمانوں و زمین، انسانی تخلیق، جانوروں کی پیدائش، رات دن کے آنے جانے اور آسمانی بارش کے ذریعے سے مردہ زمین میں زندگی کی لہر کا دوڑ جانا وغیرہ، آفاق وانفس میں بیشمار نشانیاں ہیں جو اللہ کی واحدنیت و ربوبیت پر دال ہیں۔
5۔ 2 یعنی کبھی ہوا کا رخ شمال جنوب، کبھی پچھم (مشرق و مغرب) کو ہوتا ہے، کبھی بحری ہوائیں اور کبھی بری ہوائیں، کبھی رات کو، کبھی دن کو، بعض ہوائیں بارش خیز، بعض نتیجہ خیز، بعض ہوائیں روح کی غذا اور بعض سب کچھ جھلسا دینے والی اور محض گردو غبار کا طوفان، ہواؤں کی اتنی قسمیں بھی دلالت کرتے ہیں کہ اس کائنات کا کوئی چلانے والا ہے اور وہ ایک ہی ہے دو یا دو سے زائد نہیں تمام اختیارات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
درس نمبر 235 تشریح آیات
1۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 23
آیت نمبر 1 تا 5
حا۔ میم کے بعد ، یہ آتا ہے کہ یہ کتاب اللہ عزیز اور حکیم کی طرف سے ہے اور اس کتاب کا مصدر اور فبع اللہ کی ذات ہے اور دوسرا اشارہ اس میں یہ ہے کہ یہ معجزہ کتاب انہی حروف سے بنائی گئی ہے۔ جیسا کہ حروف مقطعات کے بارے میں ہماری رائے ہے اور یہ کہ یہ چیلنج ہے ان کو کہ تم ان حروف سے ایسی کتاب نہیں بنا سکتے۔ لہٰذا حا میم دلیل ہے تنزیل الکتب پر کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ زبردست قدرت والا ہے اور اس کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا اور حکیم ہے جس نے اس پوری کائنات کو حکمت سے بنایا اور تمام معاملات اس ذات کے حکم سے طے ہوتے ہیں۔ یہ ایک ایسا تبصرہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
9 یعنی آدمی ماننا چاہے تو اسی آسمان و زمین کی پیدائش اور ان کے محکم نظام میں غور کر کے مان سکتا ہے ہے کہ ضرور کوئی ان کا پیدا کرنے والا اور تھامنے والا ہے۔ جس نے کمال حکمت و خوبی سے ان کو بنایا اور لامحدود قدرت سے ان کی حفاطت کی۔ " البعرۃ تدل علی البعیرد الاقدام تدل علی المسیر فکیف لا یدل ہذا النظام العجیب الغریب علی الصانع اللطیف الخبیر۔ "
Read the full tafseer →آیت 2 { تَنْزِیْلُ الْکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْحَکِیْمِ } ”اس کتاب کا اتارا جانا ہے اس اللہ کی طرف سے جو زبردست ‘ کمال حکمت والا ہے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1 بطور تمہید سب سے پہلے یہ بتایا گیا ہے کہ یہ کتاب کسی انسان کی تالیف یا اختراع نہیں ہے بلکہ اس اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے جو سب پر غالب ہے۔ اور اپنے فیصلوں کو نافذ کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہے کوئی اس کے فیصلوں میں نہ دخل دے سکتا ہے اور نہ روک سکتا ہے۔ نیز وہ حکیم بھی ہے۔ اس کے فیصلوں اور احکام میں کسی جھول اور غلطی کا امکان نہیں ہوتا۔ اس کے تمام فیصلے اور احکام بنی نوع انسان کے مصالح پر مبنی ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1۔ (اور اس لئے اس کے مضامین بھی نہایت ہی قابل توجہ ہیں) (آیت) ” حم “۔ ملاحظہ ہو حاشیہ سورة مومن نمبر 1 پ 24 (آیت) ” تنزیل ...... الحکیم “۔ اس میں منکرین قدیم وجدید کے اس اتہام کی بھی تردید آگئی کہ یہ کلام رسول کا گڑھا ہوا ہے۔ (آیت) ” من .... الحکیم “۔ کلام میں خود مصنف کا اثر آگیا ہے۔ اور کتاب اسی شان اور اسی پایہ کی ہوگئی ہے۔ جیسی (آیت) ” العزیز۔ اور الحکیم “۔ کی کتاب کو ہونا چاہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیت نمبر 1 تا 11
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے کتاب یعنی قرآن کا نزول اللہ کی طرف سے ہے (من اللہ) خبر ہے جو کہ اپنے ملک میں غالب اور اپنی صنعت میں حکمت والا ہے بلاشبہ آسمانون اور زمین میں یعنی ان دونوں کے پیدا کرنے میں ایسی نشانیاں ہیں جو اللہ کی قدرت اور وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں، اور خود تمہاری پیدائش میں یعنی تم سب کو نطفہ سے پیدا کرنے میں پھر دم بستہ سے پھر گوشت کے لوتھڑے سے، حتی کہ وہ نطفہ انسان ہوجاتا ہے، اور ان جانوروں کی پیدائش میں جنہیں وہ زمین پر پھیلاتا ہے (دابۃ) ہر وہ شئ ہے جو زمین پر چلے انسان…
Read the full tafseer →تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم غالب اور حکمت والے اللہ کی طرف سے یہ کتاب نازل کردہ ہے۔
الْعَزِیْزِ الْحَکِیْمِ انتقام لینے والا (یعنی عذاب دینے) میں غالب اور تدبیر و انتظام خلائق حکمت سے کرنے والا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(1۔ 2) یعنی جو کچھ ہونے والا ہے اس کو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ یہ لفظ ایک قسم ہے جو کہ تاکیدا کھائی گئی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی ہوئی کتاب ہے جو کہ کافر کو سزا دینے میں غالب اور حکمت والا ہے کہ اس نے اس بات کا حکم دیا کہ اس کے علاوہ اور کسی کی عبادت نہ کی جائے یا یہ کہ اپنی بادشاہت اور سلطنت میں غالب اور اپنے حکم و فیصلہ میں حکمت والا ہے۔
Read the full tafseer →تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم : اس آیت میں وہ باتیں بیان کی گئی ہیں، ایک یہ کہ یہ کتاب محمد ﷺ کی تصنیف نہیں بلکہ یہ آپ ﷺ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بتدریج نازل کی گئی ہے، کیونکہ ”تنزیل“ کے مفہوم میں تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کرنا بھی ہے۔ دوسری یہ کہ اسے نازل کرنے والی کوئی معمولی ہستی نہیں کہ چاہو تو اس کی بات مان لو، چاہو تو نہ مانو، بلکہ اسے نازل کرنے والا وہ ہے جو سب پر غالب ہے، کوئی اس کے حکم سے سرتابین ہیں کرسکتا اور اگر کرتا ہے تو اس کی سزا سے بچ کر کہیں نہیں جاسکتا۔ وہ کمال حکمت والا ہے، اس کے کسی کام میں غلطی نہیں نکالی جاسکتی۔ مزید تفصیل کے لئے دیکھیے سورة زمر اور سورة مومن کی ابتداء۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
یعنی ان دونوں کی تخلیق ہیں۔ رزق سے مراد بارش ہے، تمام بحث سورة بقرہ اور دوسری سورتوں میں گزر چکی ہے۔ عام قرأت : دونوں آیات رفع کے ساتھ ہیں۔ حمزہ اور کسائی نے دونوں میں تاء کے نیچے کسرہ دیا ہے پہلے میں تو کوئی اختلاف نہیں کہ وہ منصوب ہے اور وہ ان کا اسم ہے اور اس کی خبر فی السموت ہے دوسرے لفظ آیات میں کسرہ اس پر عطف کی وجہ سے ہے جو اس میں حامل ہے۔ تقدیر کلام یہ ہوگی ان جہاں تک تیسرے کا تعلق ہے تو ایک قول یہ کیا گیا ہے۔ اسے اس پر محمول کریں گے جس میں ان عامل ہے ان میں فی کو مخذوف مقدر مانیں گے تقدیر کلام یہ ہے فی حذف ہوگیا کیونکہ انس کا ذکر پہلے ہوچکا تھا۔ سیبویہ نے اس کے حذف میں یہ شعر پڑھا…
Read the full tafseer →تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ [ اس کتاب کا اتارنا ] مِنَ اللّٰهِ [اللہ (کی طرف ) سے ہے ] الْعَزِيْزِ الْحَكِيْمِ [ جو بالا دست ہے حکمت والا ہے ]
ترکیب : آیت ۔ 3 میں لایت ، ان کا اسم ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے، فی السموت والارض قائم مقام خبر ہے کیونکہ خبر محذوف ہے جو کہ موجود یا ثابت ہوسکتی ہے جبکہ آیات ۔ 4 ۔ 5 ۔ میں ایت مبتدا مؤخر نکرہ ہونے کی وجہ سے حالت رفع میں ہیں آیت ۔ 5 ۔ میں واختلاف اور تصریف کی جر سابقہ آیت میں فی خلقکم کی فی پر عطف ہونے کی وجہ سے ہے ۔ اسی طرح سے ما انزل اللہ میں ما بھی اسی فی پر عطف ہے اور محلا حالت جر میں ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
یہ کتاب عزیز و حکیم کی طرف سے ہے، آسمان اور زمین، انسان کی تخلیق، لیل و نہار کے اختلاف اور بارش کے نزول میں معرفت الٰہیہ کی نشانیاں ہیں
ان آیات میں اول تو یہ فرمایا ہے کہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے نازل کی گئی ہے وہ عزیز بھی ہے حکیم بھی ہے، اس کے بعد توحید کی نشانیاں بیان فرمائیں۔ ارشاد فرمایا کہ آسمانوں اور زمین میں اہل ایمان کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں، اہل ایمان ان کو دیکھتے ہیں اور متاثر ہوتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ تمہارے پیدا کرنے میں اور جو چوپائے زمین میں پھیلا رکھے ہیں ان سب میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں اور دلائل ہیں جو لوگ یقین رکھتے ہیں اس طرح رات اور دن کے آگے پیچھے آنے میں اور اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
بیان عظمت کتاب خداوندی وذکر دلائل قدرت وتنبیہ بر اعراض و انحراف :
قال اللہ تعالیٰ :۔ (آیت ) ” حم تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم ...... الی ....... من رجز الیم “۔
(ربط) گزشتہ سورت کا مضمون ان اوصاف کے بیان پر ختم کیا گیا تھا۔ جو انسانی فوز و فلاح اور سعادت کے ضامن ہیں اور یہ کہ قرآن کریم عربی زمین میں آسان وسہل بنا کر نازل کیا گیا اب اگر اس کے بعد بھی لوگ ہدایت قبول نہ کریں تو یہ انکی محرومی اور بدنصیبی ہے تو اس مناسبت سے سورة جاثیہ کی ابتداء عظمت کو دیکھ کر اس کی کتاب کی عظمت کو بھی پہچان سکیں، ساتھ انعامات کا بھی ذکر ہے اور قادر مطلق ومنعم حقیقی کی نافرمانی پر تنبیہ ووعید بھی، تو ارشاد…
Read the full tafseer →2:۔ ” تنزیل الکتاب۔ الایۃ “ یہ تمہید مع ترغیب ہے۔ یہ حکمنامہ اس شہنشاہ کا ہے جو سب پر غالب اور حکمت والا ہے، جس کا ہر حکم اور ہر فعل حکمت بالغہ کا آئینہ دار ہوتا ہے، اسے مانو اور اس پر عمل کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة الجاثیہ ہے جو اس کی آیت 280 میں آمدہ لفظ سے ماخوذ ہے وتری کل امۃ جاثیۃ اور تم ہر گرو کو گھٹنے ٹیکے ہوئے پائو گے ، یہ قیامت والے دن حساب کتاب کی منزل کا ذکر ہے کہ اس دن لوگ نہایت عاجزی کے ساتھ گھٹنے ٹیک کر اللہ کی بارگاہ میں پیش ہوں گے مفسرین کرام اس سورة کا دوسرا نام سورة الشریعتہ بھی ذکر کرتے ہیں کیونکہ اس کی آیت 180 میں شریعت کا ذکر بھی آتا ہے ایک سورة کے متعدد نام ہونا کچھ غیر معروف بات نہیں کیونکہ سورة الفاتحہ کے ہم پندرہ نام بھی پڑھ چکے ہیں۔ بعض مفسرین اس کا نام حم الجاثیہ یا حم الشریعۃ بھی ذکر کرتے ہیں۔
یہ سورة حوامیم سبعہ کی چھٹی سورة ہے اور مکی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ حٰـمۗ 1 ۚ تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللہِ الْعَزِيْزِ الْحَكِيْمِ 2
نزل
النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ.
يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106]
( ن ز ل ) النزول ( ض )
اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ترکیب : حم امامتبدا تنزیل الکتاب خبرہ والتقدیر تنزیل الکتاب اوقسم و تنزیل الکتاب جواب القسم اوان فی السماوات العزیز الحکیم صفۃ اللہ تعالیٰ ویجوزان یکون صفۃ الکتاب۔ لایات منصوبۃ لکونھا خبر ان فی السماوات الخ خبرھا۔ آیات بالرفع علی انہ مبتداوفی خلقکم خبرہ وہی جملۃ مستانفۃ۔ ویقراء بکسرالتاء ایضا علیٰ ان مضمرۃ خدلت لدلالۃ ان الاولی علیھا ولیست معطوفۃ علی آیات الاولی لمافیہ من العطف علی عالمین واختلاف اللیل بالجر معطعوفاً علی المجرور بفی و آیات توکیدوا جازقوم ان یکون ذلک من باب العطف علی عالمین وما نحلا لمجرور للعطف علے اختلاف وکذ اتصریف الریاح۔
تفسیر : یہ سورة بھی بالاتفاق مکہ میں نازل ہوئی ہے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
حٰـمٓ۔ تَنْزِیْلُ الْـکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ الْعَزِیْزِالْحَکِیْمِ ۔ (الجاثیۃ : 1، 2)
(حٰ ۔ مٓ۔ اس کتاب کی تنزیل اللہ کی طرف سے ہے جو زبردست اور حکیم ہے۔ )
سورة کی تمہید
قریش اور دیگر اہل مکہ کی تنقید کا اصل ہدف نبی کریم ﷺ کی نبوت، آپ پر نازل ہونے والی کتاب اور آپ کی دعوت اور پیغام تھا۔ وہ آپ کی نبوت کا انکار تو کرتے تھے لیکن ان کے لیے آپ ﷺ کو دروغ گو کہنا بہت مشکل تھا۔ کیونکہ آپ کی گزشتہ زندگی آپ کی صدق بیانی اور سچائی کی عملی شہادت تھی۔ اور آپ کی زندگی کا کوئی گوشہ اہل مکہ کی نگاہوں سے اوجھل نہ تھا۔ البتہ جو بات ان کے لیے اَن دیکھی اور نئی تھی اور جس کا انکار کرنا ان کے لیے چنداں مشکل نہ تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
فہم القرآن
سورۃ الدّخان کے آخر میں ارشاد ہوا ہے کہ اے نبی ﷺ ! ہم نے آپ کی زبان پر قرآن مجید کو آسان کردیا ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ سورة الجاثیہ کی ابتداء میں یہ ارشاد ہوا کہ جس قرآن کو آپ کے لیے آسان بنایا گیا ہے اس کو صرف ” اللہ “ نے نازل فرمایا ہے جو ہر کام کرنے پر غالب اور اس کے ہر حکم میں حکمت پائی جاتی ہے۔
” اللہ “ ہی نے قرآن کو نازل فرمایا ہے۔ وہ ہر اعتبار سے اپنے بندوں پر غالب ہے مگر اس نے اپنی حکمت کے تحت لوگوں کو اختیاردیا ہے کہ وہ اس کی نازل کردہ کتاب پر ایمان لائیں یا انکار کریں۔ البتہ اگر لوگ زمین و آسمان کی بناوٹ اور سجاوٹ پر غور کریں تو یقیناً قرآن مجید کی نصیحت پر ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
آیت 1 : حٰمٓ : اگر اس کو سورت کا نام قرار دو تو پھر یہ مبتدأ ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے۔ اور تَنْزِیْلُ الْکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ یہ خبر ہے۔ من اللہ یہ تنزیل کا صلہ ہے۔ نمبر 2۔ اگر یہ حروف مقطعات سے شمار ہو۔ تو پھر تنزیل الکتاب مبتدأ اور ظرف خبر ہے۔ الْعَزِیْزِ (وہ زبردست ہے) اپنے انتقام میں الْحَکِیْمِ (حکمت والا ہے) ۔ اپنی تدبیر میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
مکمل سورت سوائے آیت نمبر 14 کے مکی ہے کیونکہ یہ آیت مدنی ہے اور اس کی سینتیس (37) آیات ہیں۔ سورة الدخان کے بعد نازل ہوئی۔
خواص سورة الجاثیہ
1، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ جو شخص سورة جاثیہ پڑھے وہ قیامت کے دن حساب کے وقت نہیں درے گا اور اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی فرمائیں گے۔
2، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ جو شخص سورة جا ثیہ پڑھے گا اللہ تعالیٰ اسے دنیا وآخرت کی ہر سختی وتنگی سے محفوظ رکھیں گے۔
3، جو آدمی اس سورت کو لکھ کر اپنے پاس رکھے یاگلے میں لٹکائے وہ ہر چغل خور کی چغل خوری سے محفوظ رہے گا اور کوئی اس کی غیبت نہیں کرے گا۔
4، اگر بچہ کے پیدا ہوتے ہی اس کے گلے میں سورة جاثیہ لکھ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1۔ 2۔ حم حروف مقطعات میں سے ہے ان حروف کی تفسیر کا ذکر سورة بقر اور سورة آل عمران میں گزر چکا ہے مشرکین مکہ یہ جو کہتے تھے کہ قرآن اللہ کا کلام نہیں ہے محمد ﷺ اپنی طرف سے روز قرآن کی آیتیں بنا لیتے ہیں اور ان کو اللہ کا کلام بتاتے ہیں اسی کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے کئی جگہ قرآن میں یہ فرمایا ہے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور اللہ کی طرف سے اتارا گیا ہے العزیز کا یہ مطلب ہے کہ قرآن سے پہلے جو اللہ کا کلام اور انبیاء پر اترا اور ان انبیاء کی امتوں نے اس کو نہیں مانا تو اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں سے بدلہ لینے میں ایسا زبردست ہے کہ اس نے ایسے نافرمان لوگوں کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کردیا اگر یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیت 1 ۔ 11
اللہ تبارک و تعالٰ ایک ایسی خبر دیتا ہے جو قرآن کی تعظیم اور اس کے اہتمام کو متضمن ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ کتاب (تنزیل) ” نازل کی گئی ہے۔ “ (من اللہ) ” اللہ کی طرف سے۔ “ جو معبود ہے کیونکہ وہ صفات کمال سے متصف ہے صرف وہی ہے جو نعمتیں عطا کرتا ہے جو غلبہ کامل اور حکمت تامہ کا مالک ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آیات افقیہ و نفسیہ کا ذکر کر کے اس کی تائید فرمائی۔ یعنی آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا ذکر فرمایا، نیز زمین کے اندر جو چوپائے پھیلائے، آسمان اور زمین میں جو منفعتیں ودیعت کیں، آسمان سے جو پانی نازل کیا جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین اور اپنے بندوں کو زندگی بخشتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1 قرآن حکیم سراسر اللہ کا کلام : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ سراسر اتاری ہوئی کتاب ہے "۔ یعنی " نازل " یا " منزل " وغیرہ کا کوئی صفت کا صیغہ استعمال فرمانے کی بجائے " تنزیل " مصدر کا صیغہ استعمال فرمایا گیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب سراسر، از اول تا آخر ایک نازل شدہ کتاب ہے۔ مخلوق میں سے کسی بھی جن وانس وغیرہ کی طرف سے اس میں کسی حرف و حرکت اور شوشہ تک کا بھی کوئی دخل اور کسی طرح کی کوئی آمیزش نہیں ہے۔ پس جو لوگ کہتے ہیں کہ اس کتاب کو محمد ﷺ خود بناکر لائے ہیں وہ قعطی طور پر غلط کہتے اور جھوٹ بولتے ہیں۔ یہ خالص خداوند قدوس کی طرف سے اتاری گئی کتاب حکیم ہے۔ اور تنزیل کے لفظ میں خاص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
اللہ کی برتری کا یقین
تشریح : اللہ کو پہچان کر اس پر یقین کرلینا اور اس کی کتاب کو غور سے پڑھ کر زندگی ‘ کائنات ‘ اور کائنات کی تمام چیزوں سے واقفیت حاصل کر کے ان سے پورا پورا فائدہ اٹھانا یہ بڑی سیدھی آسان اور معقول بات ہے۔ اللہ نے انسان کو سچائی کی فطرت پر پیدا کیا ہے۔ یعنی جب عالم ارواح میں تمام روحوں سے اللہ نے سوال کیا کہ تمہیں کس نے پیدا کیا ہے تو سب نے یک زبان جواب دیا کہ اللہ نے۔ اسی طرح کوئی کتنا ہی برا منکر خدا، پکا کافر ہی کیوں نہ ہو جب آپ اس سے پوچھتے ہیں کہ بھئی تمہیں کس نے پیدا کیا ہے ؟ تو وہ فورا جواب دے گا اللہ نے مسلمان تو اپنے خالق کو اللہ کہتا ہے جبکہ غیر مسلم اپنی زبان میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیات 1 تا 11۔
اسرار ومعارف۔
یہ کتاب اللہ کی طرف سے نازل کی گئی جو سب پر غالب ہے اور زبردست حکمتوں والا ہے یہ اسکی عظمت کی مظہر ہے اور چاہیے تھا کہ اس کو قبول کرتے اور مان جاتے اپنی نجات کا سامان کرتے اس کتاب کی عظمت یہ بھی ہے کہ محض حکماء ہی ماننے کو نہیں کہہ رہی بلکہ دلائل سے حق کو ثابت کرتی ہے ماننے والوں کے لیے آسمانوں اور زمین میں بیشمار دلائل ہیں کہ جیسے جیسے عقل انسانی تخلیق میں اور حیوانات کی حیات میں کسی قدر دلائل ہیں تخلیق کے فطری طریقے صحت وبیماری کے راز غذا اور حیات کا رابطہ اور ایک خلیے کی تعمیر وتخریب بھلاکس قدر دلائل سے بھرپور ہے اگر علم نصیب ہوتوشب وروز کا اختلاف باعتبار اوقات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ف 9 زبردست ہے یعنی کوئی اس کے حکم سے سرتابی نہیں کرسکتا اور اگر کرتا تو اس کی سزا سے بچ کر کہیں نہیں جاسکتا۔ حکمت والا ہے یعنی اس کا ہر حکم اور ہر کام حکمت سے لبریز ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
(45:2) تنزیل الکتب : تنزیل بروزن تفعیل مصدر ہے بمعنی اتارنا۔ نازل کرنا۔ الکتب ای القران۔ مرکب اضافی ہے۔ اس کتاب یعنی قرآن مجید کا اتارا جانا یا نازل کرنا یا کیا جانا۔ من اللّٰہ اللہ کی طرف سے ہے۔
العزیز الحکیم۔ جو العزیز الحکیم ہے۔ العزیز غالب الحکیم حکمت والا (ہے) یعنی غالب اور حکمت والے اللہ کی طرف سے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 11 : یبت (وہ پھیلاتا ہے) تصریف ( الٹتا پلٹتا ہے) حدیث (بات) افاک ( جھوٹ بولنے والا) بصر (وہ ضد کرتا ہے ، اڑجاتا ہے) رجز ( سزا ، عذاب)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 11 : سورة الجاثیہ مکہ مکرمہ میں ہجرت سے کچھ عرصے پہلے ہی نازل ہوئی ۔ مکی سورتوں کی طرح اس میں بھی انسان کے بنیادی عقیدوں کی اصلاح ، توحیدخالص ، نبوت و رسالت اور فکر آخرت کو مختلف انداز سے بیان کیا گیا ہے تا کہ ایمان ، یقین اور عقل و فہم رکھنے والے جو کائنات میں غور و فکر کرتے ہیں اور صاحب بصیرت ہیں وہ حقیقی کامیابی حاصل کرسکیں ۔ زمین و آسمان کا مرتب نظام ، چاند سورج کا باقاعدگی سے نکلنا ، انسان اور جان داروں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
(ف 1) مشرکین یہ جو کہتے تھے کہ قرآن اللہ کا کلام نہیں ہے محمد ﷺ اپنی طرف سے روز قرآن کی آیتیں بنالیتے ہیں اور ان کو اللہ کا کلام بتلاتے ہیں اسی کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے کئی جگہ قرآن میں فرمایا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور اللہ کی طرف سے اتارا گیا ہیے قرآن سے پہلے جو اللہ کا کلام اور انبیاء پر اترا، اور ان انبیاء کی امتوں نے اس کو نہیں مانا، تو اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں سے بدلہ لینے میں ایسازبردست ہے کہ اس نے ایسے نافرمان لوگوں کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کردیا، اگر یہ حال کے لوگ بھی قرآن کی آیتوں کے جھٹلانے پر اڑے رہیں گے تو یہی انجام ان کا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–9
ف 1: قرآن کتاب فطرت ہے ۔ اس لئے یہ اپنی تصدیق میں صحیفہ قدرت کو پیش کرتا ہے ۔ اور کہتا ہے ۔ کہ تم سب کائنات کو عمیق نگاہوں سے دیکھو گے ۔ اور آسمانوں اور زمین کے متعلق وقت نظر سے معائنہ کرو گے اور خود اپنی قامت کے متعلق سوچو گے ۔ اور غم الحیوانات کو حاصل کروگے تو تمہیں اس کی صداقت میں بہت دلائل مل جائیں گے ۔ تمہیں یہ زیبا ہے ۔ کہ لیل ونہار کے ردوبدل میں اور ہم الریاح میں خصوصیت کے ساتھ غور وفکر سے کام لو ۔ یہ سب مظاہر قدرت اپنے اندر عقل وایقان کا بہرہ وافر رکھتے ہیں ۔ قرآن کو علوم طبعی کے ارتقاء میں نہ صرف کوئی خطرہ محسوس ہوتا ہے ۔ بلکہ قرآن کی خواہش ہے ۔ کہ لوگ ان علوم میں بیش از بیش ترقی…
Read the full tafseer →(2) اس کتاب کا نازل کیا جانا اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے جو بڑا زبردست بڑی حکمت والا ہے۔ یعنی یہ کتاب اللہ تعالیٰ جو کمال قوت اور کمال علم کا مالک ہے اس کی جانب سے اتاری گئی ہے۔
Read the full tafseer →یہ کتاب اللہ تعالیٰ نے نازل کی ہے جو زبردست حکمت والا ہے
2 ؎ مکہ کے لوگوں کو اس بات سے بھی انکار تھا کہ یہ کتاب یعنی قرآن کریم اللہ کی کتاب نہیں بلکہ خود محمد رسول اللہ ﷺ کی گھڑی ہوئی ہے اور اس کے کچھ حصے دوسرے لوگوں نے آپ سے بیان کیے ہیں۔ اس لیے بار بار ان کو یہ باور کرایا جارہا ہے کہ یہ بات تمہاری سراسر بہتان اور افتراء ہے اگر یہ گھڑ کر لائی گئی ہے اور کسی انسان کی یہ تصنیف ہے تو پھر تم بھی ایک کتاب اسی طرح کی گڑھ کرلے آئو اگر ساری نہیں تو اس کا کچھ حصہ ہی سہی۔ انہوں نے اس کی ہمت بھی نہ کی اور نہ ہی وہ کرسکتے تھے لیکن اپنی ہٹ دھرمی کے باعث اس کو اللہ کی کتاب تسلیم بھی نہیں کیا اس لیے بار…
Read the full tafseer →Commentary
This entire Surah was revealed at Makkah except for one verse. According to one view, the following verse was revealed at Madinah: لِّلَّذِينَ آمَنُوا يَغْفِرُوا لِلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ أَيَّامَ اللَّـهِ ("Tell those who believe that they should forgive those who do not believe in Allah's days ... 45:14) ". According to this opinion, the rest of the Surah was revealed at Makkah. The overwhelming view, however, is that the entire Surah was revealed before hijrah or migration. Like other Makki Surahs, its basic subject-matter is the basic beliefs of Islam, such as Oneness of…
Read the full tafseer →1 In this brief introduction to the Surah, the listeners have been warned of two things: (1) That this Book is not the composition of Muhammad (upon whom be Allah's peace) himself, but it is being sent down to him by Allah; and (2) that it is being sent down by that Allah Who is All-Mighty as well as All-Wise. His being the Almighty demands that man should not dare disobey His Commands, for if he disobeys Him, he cannot escape His punishment; and His being the All-Wise demands that man should obey and follow His Guidance and His Commands with full satisfaction and willingness of the heart,…
Read the full tafseer →