حٰمٓ ۟ۚحٰمٓ
حٰم
— Fateh Muhammad Jalandhari
Ha, Meem.
— Saheeh International
Juz 25 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz
Crouching · Meccan · 37 ayahs · 4 rukus
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
حٰمٓ ۟ۚحٰمٓ
حٰم
— Fateh Muhammad Jalandhari
Ha, Meem.
— Saheeh International
Juz 25 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Jaathiya
حٰم
حا، میم (حقیقی معنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)،
حٰمۤ۔
یہ حم ہے۔
حٰ مٓ
حٰم (حروف مقطعات میں سے ہے)
Ha Mim .
Ha Mim .
Ha Mim.
Ha, Meem.
Ha. Mim.
Ha Mim.
Ha. Mim.
Explained with ayahs 1–5
اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو ہدایت فرماتا ہے کہ وہ قدرت کی نشانیوں میں غور و فکر کریں۔ اللہ کی نعمتوں کو جانیں اور پہچانیں پھر ان کا شکر بجا لائیں دیکھیں کہ اللہ کتنی بڑی قدرتوں والا ہے جس نے آسمان و زمین اور مختلف قسم کی تمام مخلوق کو پیدا کیا ہے فرشتے، جن، انسان، چوپائے، پرند، جنگلی جانور، درندے، کیڑے، پتنگے سب اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ سمندر کی بیشمار مخلوق کا خالق بھی وہی ایک ہے۔ دن کو رات کے بعد اور رات کو دن کے پیچھے وہی لا رہا ہے رات کا اندھیرا دن کا اجالا اسی کے قبضے کی چیزیں ہیں۔ حاجت کے وقت انداز کے مطابق بادلوں سے پانی وہی برساتا ہے رزق سے مراد بارش ہے اس لئے کہ اسی سے کھانے کی چیزیں…
Read the full tafseer →حم، یہ نازل کی ہوئی کتاب ہے، اللہ غالب حکمت والے کی طرف سے (اور جب یہ ایسی کتاب ہے تو اس کے مضامین کو خوب توجہ سے سننا چاہیے، چناچہ اس مقام پر ایک مضمون تو توحید کا ہے جس کا بیان یہ ہے کہ) آسمانوں اور زمین میں اہل ایمان کے (استدلال کے) لئے بہت سے دلائل (قدرت اور توحید کے) ہیں اور (اسی طرح) خود تمہارے اور ان حیوانات کے پیدا کرنے میں جن کو (زمین پر) پھیلا رکھا ہے (نیز) دلائل (قدرت و توحید) ہیں ان لوگوں کے (سمجھنے کے) لئے جو یقین رکھتے ہیں اور (اسی طرح) یکے بعد دیگرے رات اور دن کے آنے جانے میں اور (اسی طرح) اس (مادہ) رزق میں جس کو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے اتارا (مراد بارش ہے) پھر اس (بارش) سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
-1 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت حم، تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم 2-1 اس سورة کا بھی قرآنی نام حم ہی ہے۔ اس نام سے موسوم سورتوں کے مطالب کے اشتراک اور ان کے مزاج کی ہم رنگی پر پچھلی سورتوں کی تفسیر میں ہم روشنی ڈال چکے ہیں۔ سورة کی تمہید تنزیل الکتب …الایۃ، سابق سورة کی طرح اس سورة کی تمہید میں بھی قرآن کی عظمت و اہمیت کا حوالہ ہے البتہ اس میں اہمیت کے بیان کا پہلو سابق سورة سے مختلف ہے۔ لفظ تنزیل، پر ہم اس کے محل میں بحث کر کے بتا چکے ہیں کہ اس کے اندر تدریج و اہتمام کا مفہوم پایا جاتا ہے اور قرآن کے اتارے جانے کے معاملے میں اللہ نے جو اہتمام خاص ملحوظ رکھا ہے اس کی وضاحت اس کتاب میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
5۔ 1 آسمانوں و زمین، انسانی تخلیق، جانوروں کی پیدائش، رات دن کے آنے جانے اور آسمانی بارش کے ذریعے سے مردہ زمین میں زندگی کی لہر کا دوڑ جانا وغیرہ، آفاق وانفس میں بیشمار نشانیاں ہیں جو اللہ کی واحدنیت و ربوبیت پر دال ہیں۔ 5۔ 2 یعنی کبھی ہوا کا رخ شمال جنوب، کبھی پچھم (مشرق و مغرب) کو ہوتا ہے، کبھی بحری ہوائیں اور کبھی بری ہوائیں، کبھی رات کو، کبھی دن کو، بعض ہوائیں بارش خیز، بعض نتیجہ خیز، بعض ہوائیں روح کی غذا اور بعض سب کچھ جھلسا دینے والی اور محض گردو غبار کا طوفان، ہواؤں کی اتنی قسمیں بھی دلالت کرتے ہیں کہ اس کائنات کا کوئی چلانے والا ہے اور وہ ایک ہی ہے دو یا دو سے زائد نہیں تمام اختیارات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
درس نمبر 235 تشریح آیات 1۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 23 آیت نمبر 1 تا 5 حا۔ میم کے بعد ، یہ آتا ہے کہ یہ کتاب اللہ عزیز اور حکیم کی طرف سے ہے اور اس کتاب کا مصدر اور فبع اللہ کی ذات ہے اور دوسرا اشارہ اس میں یہ ہے کہ یہ معجزہ کتاب انہی حروف سے بنائی گئی ہے۔ جیسا کہ حروف مقطعات کے بارے میں ہماری رائے ہے اور یہ کہ یہ چیلنج ہے ان کو کہ تم ان حروف سے ایسی کتاب نہیں بنا سکتے۔ لہٰذا حا میم دلیل ہے تنزیل الکتب پر کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ زبردست قدرت والا ہے اور اس کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا اور حکیم ہے جس نے اس پوری کائنات کو حکمت سے بنایا اور تمام معاملات اس ذات کے حکم سے طے ہوتے ہیں۔ یہ ایک ایسا تبصرہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
9 یعنی آدمی ماننا چاہے تو اسی آسمان و زمین کی پیدائش اور ان کے محکم نظام میں غور کر کے مان سکتا ہے ہے کہ ضرور کوئی ان کا پیدا کرنے والا اور تھامنے والا ہے۔ جس نے کمال حکمت و خوبی سے ان کو بنایا اور لامحدود قدرت سے ان کی حفاطت کی۔ " البعرۃ تدل علی البعیرد الاقدام تدل علی المسیر فکیف لا یدل ہذا النظام العجیب الغریب علی الصانع اللطیف الخبیر۔ "
Read the full tafseer →آیت 1 { حٰمٓ } ”ح ‘ م۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1 بطور تمہید سب سے پہلے یہ بتایا گیا ہے کہ یہ کتاب کسی انسان کی تالیف یا اختراع نہیں ہے بلکہ اس اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے جو سب پر غالب ہے۔ اور اپنے فیصلوں کو نافذ کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہے کوئی اس کے فیصلوں میں نہ دخل دے سکتا ہے اور نہ روک سکتا ہے۔ نیز وہ حکیم بھی ہے۔ اس کے فیصلوں اور احکام میں کسی جھول اور غلطی کا امکان نہیں ہوتا۔ اس کے تمام فیصلے اور احکام بنی نوع انسان کے مصالح پر مبنی ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1۔ (اور اس لئے اس کے مضامین بھی نہایت ہی قابل توجہ ہیں) (آیت) ” حم “۔ ملاحظہ ہو حاشیہ سورة مومن نمبر 1 پ 24 (آیت) ” تنزیل ...... الحکیم “۔ اس میں منکرین قدیم وجدید کے اس اتہام کی بھی تردید آگئی کہ یہ کلام رسول کا گڑھا ہوا ہے۔ (آیت) ” من .... الحکیم “۔ کلام میں خود مصنف کا اثر آگیا ہے۔ اور کتاب اسی شان اور اسی پایہ کی ہوگئی ہے۔ جیسی (آیت) ” العزیز۔ اور الحکیم “۔ کی کتاب کو ہونا چاہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیت نمبر 1 تا 11 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے کتاب یعنی قرآن کا نزول اللہ کی طرف سے ہے (من اللہ) خبر ہے جو کہ اپنے ملک میں غالب اور اپنی صنعت میں حکمت والا ہے بلاشبہ آسمانون اور زمین میں یعنی ان دونوں کے پیدا کرنے میں ایسی نشانیاں ہیں جو اللہ کی قدرت اور وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں، اور خود تمہاری پیدائش میں یعنی تم سب کو نطفہ سے پیدا کرنے میں پھر دم بستہ سے پھر گوشت کے لوتھڑے سے، حتی کہ وہ نطفہ انسان ہوجاتا ہے، اور ان جانوروں کی پیدائش میں جنہیں وہ زمین پر پھیلاتا ہے (دابۃ) ہر وہ شئ ہے جو زمین پر چلے انسان…
Read the full tafseer →حٰمٓ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(1۔ 2) یعنی جو کچھ ہونے والا ہے اس کو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ یہ لفظ ایک قسم ہے جو کہ تاکیدا کھائی گئی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی ہوئی کتاب ہے جو کہ کافر کو سزا دینے میں غالب اور حکمت والا ہے کہ اس نے اس بات کا حکم دیا کہ اس کے علاوہ اور کسی کی عبادت نہ کی جائے یا یہ کہ اپنی بادشاہت اور سلطنت میں غالب اور اپنے حکم و فیصلہ میں حکمت والا ہے۔
Read the full tafseer →حم : حروف مقطعات کی وضاحت کے لئے دیکھیے سورة بقرہ کی پہلی آیت۔
Read the full tafseer →حم۔ یہ مبتدا ہے تنزیل یہ خبر ہے بعض نے کہا : حم سورت کا نام ہے تنزیل الکتب مبتدا ہے اس کی خبر امن اللہ ہے کتاب سے مراد قرآن ہے العزیز کا معنی زبردست محفوظ الحکیم اپنے افعال میں حکمت والا۔ ان تمام کلمات کے بارے میں بحث گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →حٰـمۗ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
بیان عظمت کتاب خداوندی وذکر دلائل قدرت وتنبیہ بر اعراض و انحراف : قال اللہ تعالیٰ :۔ (آیت ) ” حم تنزیل الکتب من اللہ العزیز الحکیم ...... الی ....... من رجز الیم “۔ (ربط) گزشتہ سورت کا مضمون ان اوصاف کے بیان پر ختم کیا گیا تھا۔ جو انسانی فوز و فلاح اور سعادت کے ضامن ہیں اور یہ کہ قرآن کریم عربی زمین میں آسان وسہل بنا کر نازل کیا گیا اب اگر اس کے بعد بھی لوگ ہدایت قبول نہ کریں تو یہ انکی محرومی اور بدنصیبی ہے تو اس مناسبت سے سورة جاثیہ کی ابتداء عظمت کو دیکھ کر اس کی کتاب کی عظمت کو بھی پہچان سکیں، ساتھ انعامات کا بھی ذکر ہے اور قادر مطلق ومنعم حقیقی کی نافرمانی پر تنبیہ ووعید بھی، تو ارشاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة الجاثیہ ہے جو اس کی آیت 280 میں آمدہ لفظ سے ماخوذ ہے وتری کل امۃ جاثیۃ اور تم ہر گرو کو گھٹنے ٹیکے ہوئے پائو گے ، یہ قیامت والے دن حساب کتاب کی منزل کا ذکر ہے کہ اس دن لوگ نہایت عاجزی کے ساتھ گھٹنے ٹیک کر اللہ کی بارگاہ میں پیش ہوں گے مفسرین کرام اس سورة کا دوسرا نام سورة الشریعتہ بھی ذکر کرتے ہیں کیونکہ اس کی آیت 180 میں شریعت کا ذکر بھی آتا ہے ایک سورة کے متعدد نام ہونا کچھ غیر معروف بات نہیں کیونکہ سورة الفاتحہ کے ہم پندرہ نام بھی پڑھ چکے ہیں۔ بعض مفسرین اس کا نام حم الجاثیہ یا حم الشریعۃ بھی ذکر کرتے ہیں۔ یہ سورة حوامیم سبعہ کی چھٹی سورة ہے اور مکی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ حٰـمۗ 1 ۚ تَنْزِيْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللہِ الْعَزِيْزِ الْحَكِيْمِ 2 نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ترکیب : حم امامتبدا تنزیل الکتاب خبرہ والتقدیر تنزیل الکتاب اوقسم و تنزیل الکتاب جواب القسم اوان فی السماوات العزیز الحکیم صفۃ اللہ تعالیٰ ویجوزان یکون صفۃ الکتاب۔ لایات منصوبۃ لکونھا خبر ان فی السماوات الخ خبرھا۔ آیات بالرفع علی انہ مبتداوفی خلقکم خبرہ وہی جملۃ مستانفۃ۔ ویقراء بکسرالتاء ایضا علیٰ ان مضمرۃ خدلت لدلالۃ ان الاولی علیھا ولیست معطوفۃ علی آیات الاولی لمافیہ من العطف علی عالمین واختلاف اللیل بالجر معطعوفاً علی المجرور بفی و آیات توکیدوا جازقوم ان یکون ذلک من باب العطف علی عالمین وما نحلا لمجرور للعطف علے اختلاف وکذ اتصریف الریاح۔ تفسیر : یہ سورة بھی بالاتفاق مکہ میں نازل ہوئی ہے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
حٰـمٓ۔ تَنْزِیْلُ الْـکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ الْعَزِیْزِالْحَکِیْمِ ۔ (الجاثیۃ : 1، 2) (حٰ ۔ مٓ۔ اس کتاب کی تنزیل اللہ کی طرف سے ہے جو زبردست اور حکیم ہے۔ ) سورة کی تمہید قریش اور دیگر اہل مکہ کی تنقید کا اصل ہدف نبی کریم ﷺ کی نبوت، آپ پر نازل ہونے والی کتاب اور آپ کی دعوت اور پیغام تھا۔ وہ آپ کی نبوت کا انکار تو کرتے تھے لیکن ان کے لیے آپ ﷺ کو دروغ گو کہنا بہت مشکل تھا۔ کیونکہ آپ کی گزشتہ زندگی آپ کی صدق بیانی اور سچائی کی عملی شہادت تھی۔ اور آپ کی زندگی کا کوئی گوشہ اہل مکہ کی نگاہوں سے اوجھل نہ تھا۔ البتہ جو بات ان کے لیے اَن دیکھی اور نئی تھی اور جس کا انکار کرنا ان کے لیے چنداں مشکل نہ تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
آیت 1 : حٰمٓ : اگر اس کو سورت کا نام قرار دو تو پھر یہ مبتدأ ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے۔ اور تَنْزِیْلُ الْکِتٰبِ مِنَ اللّٰہِ یہ خبر ہے۔ من اللہ یہ تنزیل کا صلہ ہے۔ نمبر 2۔ اگر یہ حروف مقطعات سے شمار ہو۔ تو پھر تنزیل الکتاب مبتدأ اور ظرف خبر ہے۔ الْعَزِیْزِ (وہ زبردست ہے) اپنے انتقام میں الْحَکِیْمِ (حکمت والا ہے) ۔ اپنی تدبیر میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
مکمل سورت سوائے آیت نمبر 14 کے مکی ہے کیونکہ یہ آیت مدنی ہے اور اس کی سینتیس (37) آیات ہیں۔ سورة الدخان کے بعد نازل ہوئی۔ خواص سورة الجاثیہ 1، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ جو شخص سورة جاثیہ پڑھے وہ قیامت کے دن حساب کے وقت نہیں درے گا اور اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی فرمائیں گے۔ 2، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ جو شخص سورة جا ثیہ پڑھے گا اللہ تعالیٰ اسے دنیا وآخرت کی ہر سختی وتنگی سے محفوظ رکھیں گے۔ 3، جو آدمی اس سورت کو لکھ کر اپنے پاس رکھے یاگلے میں لٹکائے وہ ہر چغل خور کی چغل خوری سے محفوظ رہے گا اور کوئی اس کی غیبت نہیں کرے گا۔ 4، اگر بچہ کے پیدا ہوتے ہی اس کے گلے میں سورة جاثیہ لکھ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1۔ 2۔ حم حروف مقطعات میں سے ہے ان حروف کی تفسیر کا ذکر سورة بقر اور سورة آل عمران میں گزر چکا ہے مشرکین مکہ یہ جو کہتے تھے کہ قرآن اللہ کا کلام نہیں ہے محمد ﷺ اپنی طرف سے روز قرآن کی آیتیں بنا لیتے ہیں اور ان کو اللہ کا کلام بتاتے ہیں اسی کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے کئی جگہ قرآن میں یہ فرمایا ہے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور اللہ کی طرف سے اتارا گیا ہے العزیز کا یہ مطلب ہے کہ قرآن سے پہلے جو اللہ کا کلام اور انبیاء پر اترا اور ان انبیاء کی امتوں نے اس کو نہیں مانا تو اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں سے بدلہ لینے میں ایسا زبردست ہے کہ اس نے ایسے نافرمان لوگوں کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کردیا اگر یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیت 1 ۔ 11 اللہ تبارک و تعالٰ ایک ایسی خبر دیتا ہے جو قرآن کی تعظیم اور اس کے اہتمام کو متضمن ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ کتاب (تنزیل) ” نازل کی گئی ہے۔ “ (من اللہ) ” اللہ کی طرف سے۔ “ جو معبود ہے کیونکہ وہ صفات کمال سے متصف ہے صرف وہی ہے جو نعمتیں عطا کرتا ہے جو غلبہ کامل اور حکمت تامہ کا مالک ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آیات افقیہ و نفسیہ کا ذکر کر کے اس کی تائید فرمائی۔ یعنی آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا ذکر فرمایا، نیز زمین کے اندر جو چوپائے پھیلائے، آسمان اور زمین میں جو منفعتیں ودیعت کیں، آسمان سے جو پانی نازل کیا جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ زمین اور اپنے بندوں کو زندگی بخشتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1 قرآن حکیم سراسر اللہ کا کلام : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ سراسر اتاری ہوئی کتاب ہے "۔ یعنی " نازل " یا " منزل " وغیرہ کا کوئی صفت کا صیغہ استعمال فرمانے کی بجائے " تنزیل " مصدر کا صیغہ استعمال فرمایا گیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب سراسر، از اول تا آخر ایک نازل شدہ کتاب ہے۔ مخلوق میں سے کسی بھی جن وانس وغیرہ کی طرف سے اس میں کسی حرف و حرکت اور شوشہ تک کا بھی کوئی دخل اور کسی طرح کی کوئی آمیزش نہیں ہے۔ پس جو لوگ کہتے ہیں کہ اس کتاب کو محمد ﷺ خود بناکر لائے ہیں وہ قعطی طور پر غلط کہتے اور جھوٹ بولتے ہیں۔ یہ خالص خداوند قدوس کی طرف سے اتاری گئی کتاب حکیم ہے۔ اور تنزیل کے لفظ میں خاص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
اللہ کی برتری کا یقین تشریح : اللہ کو پہچان کر اس پر یقین کرلینا اور اس کی کتاب کو غور سے پڑھ کر زندگی ‘ کائنات ‘ اور کائنات کی تمام چیزوں سے واقفیت حاصل کر کے ان سے پورا پورا فائدہ اٹھانا یہ بڑی سیدھی آسان اور معقول بات ہے۔ اللہ نے انسان کو سچائی کی فطرت پر پیدا کیا ہے۔ یعنی جب عالم ارواح میں تمام روحوں سے اللہ نے سوال کیا کہ تمہیں کس نے پیدا کیا ہے تو سب نے یک زبان جواب دیا کہ اللہ نے۔ اسی طرح کوئی کتنا ہی برا منکر خدا، پکا کافر ہی کیوں نہ ہو جب آپ اس سے پوچھتے ہیں کہ بھئی تمہیں کس نے پیدا کیا ہے ؟ تو وہ فورا جواب دے گا اللہ نے مسلمان تو اپنے خالق کو اللہ کہتا ہے جبکہ غیر مسلم اپنی زبان میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیات 1 تا 11۔ اسرار ومعارف۔ یہ کتاب اللہ کی طرف سے نازل کی گئی جو سب پر غالب ہے اور زبردست حکمتوں والا ہے یہ اسکی عظمت کی مظہر ہے اور چاہیے تھا کہ اس کو قبول کرتے اور مان جاتے اپنی نجات کا سامان کرتے اس کتاب کی عظمت یہ بھی ہے کہ محض حکماء ہی ماننے کو نہیں کہہ رہی بلکہ دلائل سے حق کو ثابت کرتی ہے ماننے والوں کے لیے آسمانوں اور زمین میں بیشمار دلائل ہیں کہ جیسے جیسے عقل انسانی تخلیق میں اور حیوانات کی حیات میں کسی قدر دلائل ہیں تخلیق کے فطری طریقے صحت وبیماری کے راز غذا اور حیات کا رابطہ اور ایک خلیے کی تعمیر وتخریب بھلاکس قدر دلائل سے بھرپور ہے اگر علم نصیب ہوتوشب وروز کا اختلاف باعتبار اوقات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ف 9 زبردست ہے یعنی کوئی اس کے حکم سے سرتابی نہیں کرسکتا اور اگر کرتا تو اس کی سزا سے بچ کر کہیں نہیں جاسکتا۔ حکمت والا ہے یعنی اس کا ہر حکم اور ہر کام حکمت سے لبریز ہے۔
Read the full tafseer →(45:1) حم : حرف مقطعات ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 11 : یبت (وہ پھیلاتا ہے) تصریف ( الٹتا پلٹتا ہے) حدیث (بات) افاک ( جھوٹ بولنے والا) بصر (وہ ضد کرتا ہے ، اڑجاتا ہے) رجز ( سزا ، عذاب) تشریح : آیت نمبر 1 تا 11 : سورة الجاثیہ مکہ مکرمہ میں ہجرت سے کچھ عرصے پہلے ہی نازل ہوئی ۔ مکی سورتوں کی طرح اس میں بھی انسان کے بنیادی عقیدوں کی اصلاح ، توحیدخالص ، نبوت و رسالت اور فکر آخرت کو مختلف انداز سے بیان کیا گیا ہے تا کہ ایمان ، یقین اور عقل و فہم رکھنے والے جو کائنات میں غور و فکر کرتے ہیں اور صاحب بصیرت ہیں وہ حقیقی کامیابی حاصل کرسکیں ۔ زمین و آسمان کا مرتب نظام ، چاند سورج کا باقاعدگی سے نکلنا ، انسان اور جان داروں کی…
Read the full tafseer →(1) حٰم ٓ
Read the full tafseer →حا… می… م حروف مقطعات میں سے ہے 1 ؎ حروف مقطعات کی بحث پیچھے سورة البقرہ کی پہلی آیت کے تحت واضح طور پر کردی گئی ہے جس کے بار بار دہرانے کی اب ضرورت نہیں اور جن سورتوں کے شروع میں (حم) کے حروف آئے ہیں یہ کل سات سورتیں ہیں جن میں اس سورت کا نمبر 6 ہے اور ابھی ایک سورت کے بعد انہی حروف سے شروع ہو رہی ہے اور ان سورتوں کو ” حوامیم “ کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔ ان سب سورتوں میں زمانہ اور ممضون کا قریب موجود ہے اور مضمون کی یکسانیت پائی جاتی ہے جیسا کہ پیچھے تعارف میں ہم نے بیان کردیا ہے۔
Read the full tafseer →