Ad-Dukhaan 44:59

Ad-Dukhaan · from ayah 59

44:59

فَارْتَقِبْ اِنَّهُمْ مُّرْتَقِبُوْنَ ۟۠فَارۡتَقِبۡ اِنَّهُمۡ مُّرۡتَقِبُوۡنَ

پس تم بھی انتظار کرو یہ بھی انتظار کر رہے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

So watch, [O Muhammad]; indeed, they are watching [for your end].

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 3 of surah · Ruku 16 of juzع

Read the whole surah · Surah Ad-Dukhaan

All translations of 44:59

اب تم بھی انتظار کرو، یہ بھی منتظر ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پس تم بھی انتظار کرو یہ بھی انتظار کر رہے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اب تو منتظر ره یہ بھی منتظر ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اب تم بھی انتظار کرو، یہ لوگ بھی انتظار کر رہے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو تم انتظار کرو وہ بھی کسی انتظار میں ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سو آپ (بھی) انتظار فرمائیں، یقیناً وہ (بھی) انتظار کر رہے ہیں (آپ اُن کا حشر و انتقام دیکھیں گے اور وہ آپ کی شان اور آپ کے تصدّق سے مومنوں پر میرا انعام دیکھیں گے)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس انتظار کر، بیشک وہ بھی انتظار کرنے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

سو آپ انتظار کیجئے وہ بھی انتظار کر رہے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو تم بھی انتظار کرو، وہ بھی انتظار کر رہے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس آپ انتظار کریں یہ لوگ بھی انتظار میں ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

تو آپ بھی منتظر رہئے یہ لوگ تو منتظر ہی ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو آپ ﷺ انتظار کیجیے یہ بھی انتظار کر رہے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پس تم بھی انتظار کرو یہ بھی انتظار کر رہے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

Wait, then; they too are waiting.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Now wait. They too are waiting.

— Muhammad Taqi Usmani

Now wait. They too are waiting.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Wait then; verily, they (too) are waiting.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Wait then (O Muhammad). Lo! they (too) are waiting.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So watch, [O Muhammad]; indeed, they are watching [for your end].

— Saheeh International

Wait (for God's decree) and they too will be waiting.

— Muhammad Sarwar

Therefore wait; surely they are waiting.

— Muhammad Habib Shakir

Wait thou then; verily they also are waiting.

— Abdul Majid Daryabadi

So wait thou and watch; for they (too) are waiting.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 44:59

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 51–59

جب موت کو ذبح کرایا جائے گا بدبختوں کا ذکر کر کے اب نیک بختوں کا حال بیان ہو رہا ہے۔ اسی لئے قرآن کریم کو مثانی کہا گیا ہے اس دنیا میں جو اللہ تعالیٰ مالک و خالق و قادر سے ڈرتے دبتے رہے وہ قیامت کے دن جنت میں نہایت امن وامان سے ہوں گے۔ موت سے وہاں سے نکلنے کے، غم و رنج، گھبراہٹ، مشکلوں، دکھ درد، تکلیف، مشقت، شیطان اور اس کے مکر سے رب کی ناراضگی سے غرض تمام آفتوں اور مصیبتوں سے نڈر بےفکر مطمئن اور بےاندیشہ ہوں گے۔ جہنمیوں کو تو زقوم کا درخت اور آگ جیسا گرم پانی ملے گا اور انہیں جنتیں اور نہریں ملیں گی مختلف قسم کے ریشمی پارچہ جات انہیں پہننے کو ملیں گے جن میں نرم باریک بھی ہوگا اور دبیز چمکیلا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 57–59

سورة الدُّخَان 45 یعنی اب اگر یہ لوگ نصیحت قبول نہیں کرتے تو دیکھتے رہو کہ ان کی کس طرح شامت آتی ہے، اور یہ بھی منتظر ہیں کہ دیکھیں تمہاری اس دعوت کا کیا انجام ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 56–59

(آیت) لَا يَذُوْقُوْنَ فِيْهَا الْمَوْتَ اِلَّا الْمَوْتَةَ الْاُوْلٰى مطلب یہ ہے کہ جو موت ایک مرتبہ آ چکی بس وہ آ چکی اس کے بعد کوئی موت ان پر نہیں آئے گی اور یہ بات اگرچہ اہل جہنم کو بھی حاصل ہوگی، لیکن ظاہر ہے کہ وہ ان کے لئے اور زیادہ تکلیف کا سبب ہوگی اور اہل جنت کے لئے سرور و کیف میں اضافے کا باعث۔ کیونکہ نعمت خواہ کتنی بڑی ہو اس کے زوال کا تصور لازماً کدورت کا سبب ہوتا ہے اور اہل جنت جب یہ تصور کریں گے کہ یہ نعمتیں کبھی ہم سے نہیں چھنیں گی تو اس سے ان کی مسرتوں میں اضافہ ہوگا۔ الحمد اللہ کہ آج بتاریخ 6 رجب 1392 ھ بروز پنجشنبہ بوقت نماز عشاء سورة دخان کی تفسیر مکمل ہوئی واللہ الحمد…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فارتقب انھم مرتقبون (59) اس آیت میں اوپر والی مضمر تنبیہ واضح ہو کر سامنے آگئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ اس کتاب سے فائدہ اٹھانے کے لئے تیار نہیں ہیں بلکہ بضد ہیں کہ جس عذاب سے یہ ان کو ڈرا رہی ہے اس کو دیکھ کر ہی اس کو مانیں گے تو تم بھی انہی کی طرح اب اس عذاب ہی کا اتنظار کرو۔ اب فیصلہ کا انحصار اسی پر ہے۔ اوپر آیت 10 پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ان سطور پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ (فالحمد للہ علی احسانہ رحمان آباد 22 مئی 1976 ء 2 ہع جمادی الثانی 1396 ھ

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 58–59

59۔ 1 تو عذاب الٰہی کا انتظار کر، اگر یہ ایمان نہ لائے۔ یہ منتظر ہیں اس بات کے کہ اسلام کے غلبہ و نفوذ سے قبل ہی شاید آپ موت سے ہمکنار ہوجائیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 54–59

14: یہ لوگ تو جھٹلانے کے انداز میں قیامت کا انتظار کر رہے ہیں، اور آنحضرت ﷺ کو تصدیق کے ساتھ اس کے انتظار کا حکم دیا گیا ہے کہ اس وقت ساری حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی، اور ان کافروں کو سخت سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 58–59

آیت نمبر 58 تا 59 یہ اس سورت کا خاتمہ ہے ، اس میں اس پوری سورت کی فضا اور اس کے موضوع بحث کا خلاصہ پیش کردیا گیا ہے۔ یہ خاتمہ اس کے آغاز اور اس میں بحث کی جو لائن اختیار کی گئی ہے اس کے مطابق ہے۔ آغاز ذکر کتاب ، نزول کتاب اور غرض نزول یعنی ڈرانے اور نصیحت کرنے سے ہوا تھا۔ اور اس کے سیاق میں اس عذاب کی تصریح کی گئی تھی۔ جو ان مکذبین کے انتظار میں ہے۔ یوم نبطش البطشۃ الکبری انا منتقمون (44 : 16) ” جس دن یہ بڑی ضرب لگائیں گے ، وہ دن ہوگا جب ہم تم سے انتقام لیں گے “۔ اب یہ خاتمہ یوں ہے کہ ان کو یاد دلایا جاتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کی زبانی قرآن مجید تمہارے لیے آسان کردیا گیا ہے جو عربی زبان میں ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی اگر نہ سمجھیں تو آپ چندے انتظار کیجیے۔ ان کا بدانجام سامنے آجائے گا۔ یہ تو منتظر ہیں کہ آپ پر کوئی افتاد پڑے۔ لیکن آپ دیکھتے جائیے کہ ان کا کیا حال بنتا ہے۔ تم سورة الدخان بفضل اللہ رحمتہ فللہ الحمد والمنۃ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 59 { فَارْتَقِبْ اِنَّہُمْ مُّرْتَقِبُوْنَ } ”تو آپ ﷺ انتظار کیجیے ‘ یہ بھی انتظار کر رہے ہیں۔“ یہی لفظ فَارْتَقِبْ قبل ازیں آیت 10 میں بھی آیا ہے ‘ جہاں دھویں کے عذاب کا ذکر ہے۔ گویا یہاں ایک دفعہ پھر اسی عذاب کے بارے میں پیشگی طور پر خبردار کردیا گیا ہے جو حضرت عبداللہ بن مسعود رض کے نزدیک اہل ِمکہ پر خشک سالی اور قحط کی صورت میں آنے والا تھا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

40 یعنی آپ تو اس بات کے منتظر ہیں کہ کب ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ان کی شامت آتی ہے۔ اور وہ اس بات کے منتظر ہیں کہ آپ پر کب کوئی ناگہانی افتاد پڑتی ہے۔ جو آپ کو اور مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے نیست و نابود کر دے اور کام تو وہی ہوگا جو اللہ کو منظور ہے اور اسی وقت ہوگا جب اللہ کو منظور ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 58–59

29۔ یعنی آپ تبلیغ کے علاوہ اور کسی فکر وتردد میں نہ پڑئیے اور ان پر نزول ضرر کے منتظر رہیے۔ جس طرح یہ اپنی حماقت سے آپ پر نزول ضرر کے منتظر ہیں (آیت) ” لعلھم یتذکرون “۔ یعنی آپ ﷺ کی زبان میں قرآن کے نازل ہونے کی ایک مصلحت یہ ہے کہ آپ ﷺ کے یہ مخاطبین اسے داعی اول ﷺ ہی کی زبان سے خوب سمجھ کر اس سے نفع حاصل کریں :۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 43–59

آیت نمبر 43 تا 59 ترجمہ : بیشک زقوم (تھوہڑ) کا درخت جو کڑوا اور خبیث ترین ہے تہامہ میں پیدا ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو دوزخ میں پیدا فرمائے گا، مجرموں کا کھانا ہے یعنی ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کا جو بڑا گنہگار ہیں، اور وہ سیاہ تیل (تارکول) کی تلچھٹ کے مانند ہے (کالمھل) ثانی خبر ہے، وہ تیز گرم پانی کے مانند پیٹ میں کھولتا رہتا ہے (تغلی) تاء فوقانیہ کے ساتھ تیسری خبر ہے اور یاء تحتانیہ کے ساتھ المھل سے حال ہے جہنم پر مقرر فرشتوں کو حکم دیا جائے گا کہ مجرم کو پکڑ لو پھر گھسیٹتے ہوئے بیچ جہنم تک پہنچا دو (فاعتلوہ) کسرۂ اور ضمہ تاء کے ساتھ یعنی اس کو سختی اور شدت کے ساتھ کھینچو، پھر اس کے سر پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فارتقب انھم مرتقبون (یہ لوگ اگر نہ مانیں) تو آپ انتظار کیجئے ‘ یہ بھی منتظر ہیں۔ یَسَّرْنٰہُ یعنی قرآن کو ہم نے آپ کی زبان میں آسانی کیلئے اتارا ہے۔ لَعَلَّھُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ تاکہ لوگ سمجھیں اور نصیحت اندوز ہوں۔ فَارْتَقِبْ یعنی اے محمد ﷺ ! اپ اس عذاب کا انتظار کیجئے جو ان پر نازل ہوگا۔ اِنَّھُمْ مُّرْتَقِبُوْنَ وہ آپ کے مبتلاء مصیبت ہونے کے منتظر ہیں ‘ یا آپ انتظار کیجئے اپنی فتح اور نصرت کا۔ وہ اپنے خیال میں آپ کے مغلوب ہونے کے منتظر ہیں۔ ترمذی نے ضعیف سند سے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص رات کو حٰمٓ الدخان پڑھتا ہے ‘ صبح ہوتی ہے تو ستر ہزار فرشتے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 58–59

(58۔ 59) سو ہم نے اس قرآن کریم کی قرات کو آسان کردیا تاکہ یہ لوگ قرآن کریم سے نصیحت قبول کریں سو آپ بدر کے دن ان کی ہلاکت کے منتظر رہیے یہ بھی آپ کے نقصان کے منتظر ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے ان سب بدبختوں کو بدر کے دن ہلاک کردیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فار تقب انھم مرتقبون : یعنی اگر قرآن آسان ہونے کے باوجود یہ لوگ نصیحت حاصل نہیں کرتے تو آپ انتظار کیجیے کہ کب اللہ کی پکڑ ان پر آتی ہے۔ یہ لوگ بھی اتنظار کر رہے ہیں کہ آپ کب زمانے کی کسی گردش میں آتے ہیں اور کب ان کی جان چھوٹتی ہے، جیسا کہ فرمایا :(ام یقولون شاعر نتربص بہ ریب المنون قل تربصوا فانی معکم من المتربصین) (الطور : 30، 31)”یا وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک شاعر ہے جس پر ہم زمانے کے حوادث کا انتظار کرتے ہیں ؟ کہہ دے انتظار کرو پس بیشک میں (بھی) تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں سے ہوں۔“

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 58–59

یعنی قرآن ہم نے اسے آپ کی زبان پر نازل کر کے آپ پر اور جو بھی اسے پڑھے اس پر آسان کردیا ہے ممکن ہے وہ نصیحت حاصل کریں اور اپنے برے اعمال سے رک جائیں اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (القمر) اس سورت کا اختتام قرآن کی اتباع پر برانگختیہ کرنے پر کیا ہے اگرچہ اس کا پہلے ذکر نہیں ہوا جس طرح سورت کے آغاز میں ہوا (القدر) جس طرح پہلے گزر چکا۔ میں نے آپ سے ان کے خلاف جو وعدہ کیا ہے اس کا انتظار کیجئے جس طرح وہ آپ کی موت کا انتظار کررہے ہیں نقاش نے اسے بیان کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اپنے رب کی جانب سے فتح کا انتظار کیجئے جس طرح وہ اپنے گمان کے مطابق تجھ پر غلبہ پانے کا انتظار کر رہے ہیں۔ ایک…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 51–59

18:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان المتقین فی مقام امین “ (بلاشبہ متقی لوگ امن کی جگہ ہوں گے یعنی موت اور عذاب سے امن میں ہوں گے۔ 19:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے ضحاک (رح) سے (آیت ) ” فی مقام امین “ کے بارے میں روایت کیا کہ (جنت) میں موت سے امن میں ہوں گے اور بوڑھا ہونے سے بھی امن میں ہوں گے۔ اور نہ وہ بھوکے ہوں گے اور نہ وہ ننگے ہوں گے۔ 20:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان المتقین فی مقام امین “ یعنی وہ امن میں ہوں گے شیطان سے اور بیماریوں سے اور غموں سے (آیت ) ” زوجنا ھم بحور عین “ (اور ہم ان کا گوری گوری فراخ آنکھوں والیوں سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَارْتَقِبْ [ تو آپ انتظار کریں ] اِنَّهُمْ مُّرْتَقِبُوْنَ [ بیشک یہ لوگ (بھی ) انتظار کرنے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 58–59

ہم نے قرآن کو آپ کی زبان پر آسان کردیا ہے، آپ انتظار کریں، یہ لوگ بھی منتظر ہیں یہ سورة الدخان کی آخری دو آیتیں ہیں یہ سورت قرآن کریم کی قسم کھانے اور مبارک رات میں نازل فرمانے کے ذکر سے شروع ہوئی تھی آخر سورت میں پھر قرآن کا تذکرہ فرمایا کہ ہم نے اس کو آپ کی زبان پر آسان کردیا ہے آپ کی زبان عربی ہے یہ بھی عربی ہے آپ اسے پڑھیں اور ان کے سامنے بیان کریں تاکہ یہ لوگ نصیحت حاصل کریں نیز یہ فرمایا کہ آپ انتظار فرمائیں یہ لوگ بھی انتظار کر رہے ہیں یعنی اگر یہ لوگ نصیحت قبول نہیں کرتے اور اس انتظار میں ہیں کہ آپ کو تکلیف پہنچ جائے تو آپ سمجھ لیں ان کے انتظار اور آرزو سے کچھ ہونے والا نہیں۔ اللہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 40–59

تہدید وتنبیہ از روز قیامت وبیان نجات و کامیابی مومنین ومتقین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان یوم الفصل ...... الی ........ فارتقب انھم مرتقبون “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں مجرمین کی سزاؤں اور ان کے عبرت ناک انجام کا بیان تھا جس کے بعد ان کے بالمقابل مطیعین کے انعام واکرام کا ذکر فرمایا گیا تو اب اختتام مضمون پر مزید یوم آخرت کی عظمت ومصیبت کا بیان فرماتے ہوئے اہل ایمان وتقوی پر حق تعالیٰ کے جو انعامات ہوں گے ان کا ذکر کیا گیا ، اور کافر ونافرمان کیسی شدت و تکلیف اور مصیبتوں میں مبتلا ہوں گے اس کو بھی واضح کرتے ہوئے فیصلہ فرمایا گیا کہ اصل کامیابی اور کامرانی حق تعالیٰ پر ایمان لانے اور آنحضرت ﷺ کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

29:۔ ” فارتقب انہم مرتقبون “ یہ تخویف دنیوی ہے اور ابتداء سورت (فارتقب یوم تاتی الخ) سے متعلق ہے تاکہ سورت کا آخر ابتداء پر منطبق ہوجائے۔ آپ ان کے انجام اور اپنی کامیابی کا انتظار کریں اور وہ بھی انتظار میں ہیں کہ آپ کا انجام کیا ہوتا ہے اور ان کا حشر کیا ہوتا ہے۔ یہ ایک طرف مشرکین کے لیے تخویف دنیوی ہے اور دوسری طرف آنحضرت ﷺ کے لیے وعدہ نصرت ہے۔ قال اللہ تعالیٰ لرسول ﷺ مسلیا لہ وواعدا لہ بالنصر ومتوعدا لمن کذبہ بالعطب والھلاک فارتقب انھم مرتقبون (ابن کثیر ج 4 ص 147) ۔ سورة دخان میں آیات توحید اور اس کی خصوصیات 1 ۔ ” انہ ھو السمیع العلیم “ تا ” ربکم ورب اباء کم الالوین “۔ نفی شرک اعتقادی۔ 2 ۔…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 42–59

ربط آیات پہلے قرآن کی حقانیت اور صداقت بیان کی۔ پھر توحید کا مسئلہ سمجھایا ، مشرکین کی قباحت ، شرک کا رد اور پھر اس کا انجام بھی بیان ہوا۔ حق کی مخالفت کرنے والوں میں فرعون اور اس کے حواریوں کا تذکرہ ہوا اور پھر ان کی غرقابی کا ذکر بھی ہوا اللہ نے بنی اسرائیل کو فرعن کی غلامی سے نجات دلائی اور ان کو اپنے زمانے میں ہاں بھر میں فضیلت عطا کی ، پھر قریش مکہ اور مشرکین عرب کو تنبیہ کی گئی کہ تم سے پہلے قوم تبع جیسے بڑے بڑے ساز و سامان اور دولت والے لوگ گزر چکے ہیں ، ان کے حالات سے عبرت پکڑو تم کس بنا پر قیامت کا انکار کر رہے ہو ، فرمایا ہم نے ارض و سما اور ان کے درمیان کی اشیاء کو محض لہو و لہب کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَارْتَقِبْ اِنَّہُمْ مُّرْتَقِبُوْنَ۝ 59 ۧ رَّقِيبُ : الحافظ، وذلک إمّا لمراعاته رقبة المحفوظ، وإما لرفعه رقبته، قال تعالی: وَارْتَقِبُوا إِنِّي مَعَكُمْ رَقِيبٌ [هود/ 93] ، وقال تعالی: إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ [ ق/ 18] ، وقال : لا يَرْقُبُونَ فِي مُؤْمِنٍ إِلًّا وَلا ذِمَّةً [ التوبة/ 10] ، والْمَرْقَبُ : المکان العالي الذي يشرف عليه الرقیب، وقیل لحافظ أصحاب المیسر الذین يشربون بالقداح رَقِيبٌ ، وللقدح الثالث رَقِيبٌ ، وتَرَقَّبَ : احترز راقبا، نحو قوله : فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] ، والرَّقُوبُ : المرأة التي تَرْقُبُ موت ولدها، لکثرة من مات لها من الأولاد،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 56–59

لایذوقون فیہا الموت الالموتۃ الاولی یعنی جنت میں کبھی موت کا مزہ نہ چکھیں گے بجز اس کے کہ جو پہلے دنیا میں چکھ چکے ہیں استثناء منقطع ہے۔ اے لکن الموتۃ کذاقال الزجاج والفراء۔ ابتدائِ سورة میں قرآن مجید کے چند اوصاف بیان فرمائے تھے منجملہ ان کے ایک یہ کہ وہ مبین ہے یعنی اس میں ہر چیز کا بیان وضاحت کے ساتھ ہے اب یہاں اس کی اور بھی تشریح کرتا ہے کہ یسرناہ بلسانک کہ اے محمد ﷺ تیری زبان میں سمجھنے کے لیے اس کو آسان کیا تاکہ لوگ سمجھیں مگر بدبخت نہیں سمجھتے اور تجھ پر موت یا ہلاکت آنے کے منتظر رہتے ہیں سو تو بھی اے محمد ﷺ ان پر بلا آنے کا انتظار کر۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 58–59

فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰـہُ بِلِسَانِکَ لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ ۔ فَارْتَقِبْ اِنَّہُمْ مُّرْتَقِبُوْنَ ۔ (الدخان : 58، 59) (پس ہم نے اس کتاب کو آپ کی زبان میں سہل بنادیا ہے تاکہ یہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ تو آپ بھی انتظار کریں، یہ بھی منتظر ہیں۔ ) قرآن کریم کا عربی زبان میں نزول اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے قرآن کریم کا عام طور پر اسلوب یہ ہے کہ وہ جس مضمون سے سورة کا آغاز کرتا ہے، سورة کے اختتام پر اسی مضمون کو Sum off کرتا ہے۔ یہاں بھی ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس سورة کا آغاز قرآن کریم کی اہمیت و افادیت سے ہوا تھا۔ اور یہ بات واضح کی گئی تھی کہ انسانوں کی دنیوی اور اخروی کامیابی کا دارومدار اس قرآن کریم…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 58–59

فہم القرآن ربط کلام : الدّخان کی ابتداء قرآن مجید کے تعارف سے ہوئی اور اس کا اختتام بھی قرآن مجید کے بیان پر ہورہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی آخرالزمان ﷺ پر قرآن مجید اس لیے نازل فرمایا تاکہ آپ لوگوں کو اس کے ساتھ نصیحت فرمائیں۔ اس لیے قرآن مجید کو ” مَوْعِظَۃً “ اور ذکر کہا ہے۔ ذکر کا معنٰی ہے ایسی نصیحت جسے بار بار پیش کیا جائے اور اسے یاد رکھا جائے۔ ” مَوْعِظَۃً “ ایسی نصیحت کو کہتے ہیں جو سننے والے کے دل پر اثر کرے۔ ظاہر بات ہے کہ نصیحت وہی مؤثر اور بہتر ہوتی ہے جس کا انداز اور الفاظ آسان تر ہوں۔ اس لیے قرآن مجید کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم نے اس کو آسان کردیا ہے کیا کوئی اسے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

بڑی کامیابی : آیت 59 : فَارْتَقِبْ (پس آپ منتظر رہیے) آپ ان پر اترنے والے عذاب کے منتظر رہیں۔ اِنَّہُمْ مُّرْتَقِبُوْنَ (یہ لوگ بھی منتظر ہیں) یہ ان دنیوی حوادث کے منتظر ہیں جو آپ پر اتریں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

58، فانما یسرناہ، ہم نے قرآن کو آسان کیا، یہ کنا، یہ ہے (ضمیرلائی) غیرمذکور چیز سے، بلسانک، آپ (علیہ السلام) کی زبان پر، لعلھم یتذکرون، وہ نصیحت حاصل کریں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 58–59

58۔ 59۔ سورة ابراہیم میں گزر چکا ہے کہ ہر ایک نبی کو اللہ تعالیٰ نے جس قوم کی ہدایت کے لئے بھیجا ہے اس نبی کو وحی بھی اسی زبان میں بھیجی ہے جو زبان اس قوم کی بول چال میں جاری تھی تاکہ وحی کے ذریعہ سے جو احکام اللہ تعالیٰ کے نازل ہوں وہ ہر وقت کے نبی اپنی قوم کو جلدی سے سمجھا دیں اور پھر ترجمہ اور تفسیر کے ذریعہ سے احکام غیر قوم کے لوگوں کو بھی پہنچ جائیں۔ آنحضرت ﷺ کی نبوت اگرچہ جن و انسان تمام مخلوقات کے ہدایت کے لئے ہے لیکن اور انبیاء کے دستور کے موافق قریش کی زبان میں قرآن کی نصیحت سے جلدی واقف ہوجائیں اور پھر ان کے ذریعہ سے قرآن کی نصیحت غیر قوم کے لوگوں کو بھی پہنچ جائے اسی حکمت کی صراحت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 51–59

آیت 51 یہ تقویٰ شعار لوگوں کی جزا ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے ڈر کر گناہوں کو ترک کیا اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔ جب ان سے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب کی نفی ہوگئی تو ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی رضا ثابت ہوگئی، نیز ثواب عظیم کے طور پر انہیں بیشمار درختوں کے گھنے سائے، پھل اور چشمے عطا ہوں گے، ان درختوں کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی جن کو اہل ایمان نعمتوں بھری جنت میں اپنے لئے نکال لیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کی اضافت نعمتوں کی طرف کی ہے کیونکہ وہ جنت جن چیزوں پر مشتمل ہے وہ سب نعمتیں ہیں جو ہر لحاظ سے کامل ہیں اور کسی طرح بھی ان میں کوئی رکاوٹ اور کسی قسم کا کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

57 پیغمبر کے لیے تسلیہ و تسکین کا سامان : سو ارشاد فرمایا گیا " پس آپ ﷺ انتظار کریں یہ لوگ بھی انتظار میں ہیں "۔ سو یہ پیغمبر۔ (علیہ الصلوۃ والسلام) ۔ کی تسلی و تسکین کے لئے فرمایا جا رہا ہے کہ یہ ہٹ دھرم لوگ جب ماننے کی بجائے الٹا آپ کے بارے میں بری خواہشات اور برے انجام ہی کے منتظر ہیں تو آپ ﷺ بھی ان کے انجام بد کی انتظار کیجئے۔ اور انجام کار غلبہ حق ہی کا ہوگا۔ اور سربلندی بہرحال اسی کلمہ حق و صدق کے لئے ہے جس کے ساتھ آپ کو بھیجا گیا ہے۔ اور اعدائے حق و دشمنان دین کے لئے بہرحال تباہی و ہلاکت مقدر ہے۔ یہ آپ ﷺ کے رب کا قطعی فیصلہ اور صاف وصریح وعدہ و اعلان ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا ۔ {…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 43–59

گنہگاروں کا حال اور نیکو کاروں کا حال تشریح : قیامت، حساب کا دن اور پھر بدلے کا دن۔ یہ سب بڑی وضاحت سے بیان کئے جا چکے ہیں۔ ایک بار پھر ہم اس پر غور کرتے ہیں بیشک انسانی تاریخ میں حق شناسی کی چنگاریاں بھی ملتی ہیں۔ مگر اس کا بڑا حصہ حق تلفی کی رو داد سے بھرا پڑا ہے۔ مورخ کو بڑی مایوسی ہوتی ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ انسان کا ضمیر جو کچھ چاہتا ہے دنیا کے واقعی حالات اس کے خلاف ہیں یہاں ہم چند اقوال نقل کرتے ہیں۔ والٹر : ” انسانی تاریخ محض جرائم اور مصائب کی تصویر ہے “۔ ہربرٹ اسن پر : ” تاریخ محض بےفائدہ گپ ہے “۔ نپولین : ” تاریخ تمام کی تمام لایعنی قصے کا نام ہے “۔ کیا انسانیت کا یہ عظیم الشان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 43–59

آیات 43 تا 59۔ اسرار ومعارف۔ کفار کا یہ حال ہوگا کہ کھانے کو انہیں زقوم (تھوہر کیکٹس) ملے گا اور بدکاروں کا کھاناایسا ہی ہوناچاہیے پھر وہ زقوم دوزخ کا ہوگا جبکہ دنیا کا بھی بہت کڑوا کسیلا اور بدشکل کانٹوں سے بھرپور ہوتا ہے وہ تو پیٹ میں ایسے کھولے گا جیسے پگھلا ہواتانبا ہو یا جی سے پانی کھولتا ہے اور حکم ہوگا کہ انہیں پکڑ لو اور گھسیٹتے ہوئے دوزخ کے درمیان لے جاؤ اور ان پر دوزخ کے جلتے پانی کا عذاب چھوڑ دو اور انہیں کہو اب اپنی کرتوتوں کا مزہ چکھو کہ تم تو بہت بڑے آدمی بنتے تھے اور تمہیں اللہ کی اطاعت اور نبی کی اتباع کرنے میں عار آتی تھی یہ وہی دوزخ ہے جس کا تمہین یقین نہ آتا تھا اور وہی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 58–59

ف 7 یعنی یہ نصیحت قبول نہیں کر رہے تو آپ دیکھتے رہیں کہ ان کی تباہی کیونکہ آتی ہے اور یہ بھی انتظار کر رہے ہیں کہ آپ جس دعوت کو لے کر اٹھے ہیں اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(44:59) فارتقب :جواب شرط محذوف کے لئے ہے ای وان لم یتذکروا فارتقب : ای فانتظر۔ اور اگر وہ نصیحت نہ پکڑیں تو پھر انتظار کرو۔ اور یہ بھی منتظر ہیں۔ یعنی آپ انتظار کریں اس عذاب کا جو ان پر نازل ہوگا۔ اور وہ آپ کے مبتلائے مصیبت ہونے کے منتظر رہیں۔ ارتقب فعل امر واحد مذکر حاضر۔ ارتقاب (افتعال) مصدر بمعنی انتظار کرنا۔ راہ دیکھنا۔ انھم مرتقبون : بیشک وہ بھی انتظار کرنے والے ہیں۔ صیغہ جمع مذکر اسم فاعل۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 43–59

لغات القرآن آیت نمبر 43 تا 59 : شجرت الزقوم ( زقوم ( جہنمیوں کی غذا) کا درخت) الاثیم ( گناہ گار) المھل (پگھلا ہوا تانبہ) یغلی (ابل رہا ہے ، کھول رہا ہے) البطون ( بطن) ( پیٹ) الحمیم (کھولتا پانی) اعتلوا ( گھسیٹتے لے جائو) صبوا (انڈیل دو ) ذق (چکھ) مقام امین ( امن و سکون کی جگہ) سندس ( باریک ریشم) استبرق (دبیر ریشم) تشریح : آیت نمبر 43 تا 59 : اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو نصیحت و عبرت کے لئے نہایت آسان اور سہل بنا کر بھیجا ہے جس میں اس حقیقت کو نہایت وضاحت سے بیان کردیا ہے کہ برے اور اچھے اعمال کا نتیجہ کیا ہے۔ جو لوگ دنیا میں زندگی بھر وقتی لذتوں ، خواہشوں ، تمناؤں اور جھوٹی عزت کے پیچھے دوڑتے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 58–59

(ف 1) اے محبوب ﷺ ہم نے یہ قرآن تم پر اتارا اور اس کا پڑھنا سنانا تم پر آسان کیا تاکہ یہ لوگ سمجھیں اور مانیں اے محبوب ﷺ اگر یہ لوگ نہ سمجھیں تو تم ان کے ہلاک ہونے کا قریب انتظار کرو اور ان کا بد انجام سامنے آجائے گا یہ تو منتظر ہیں کہ تم پر کوئی افتاد پڑے لیکن تم دیکھتے جاؤ کہ ان کا کیا حال بنتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 44–59

[13] یعنی یہ لوگ اگر نہ سمجھیں تو تم چندے انتظار کرو۔ ان کا انجام بد سامنے آجائے گا۔ یہ تو منتظر ہیں کہ تم پر کوئی افتاد پڑے

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 58–59

قرآن کیونکر سہل اور آسان ہے 1: اس آیت میں ایک نہایت ہی لطیف انداز میں یہ بتایا ہے ۔ کہ قرآن حکیم کو جو ہم نے سہل اور آسان قرار دیا ہے ۔ تو تیری تشریحات کے ساتھ اور تیری بیان کردہ تفصیلات کی وجہ سے ، یعنی اگر درمیان میں تیرا وجود نہ رہے ۔ رموز و اسرار کی عقدہ کشائی کے لئے تیری زبان فیض ترجمان نہ موجود ہو ۔ تو پھر محض عربی ادب کے بھروسہ پر اس کو سمجھنا اور اس کے معارف ونکات تک رسائی حاصل کرلینا سخت دشوار ہے ۔ اس کی تعلیمات سے صحیح معنوں میں تذکیر اور عبرت پذیری اسی وقت ممکن ہے ۔ جب مشکوٰۃ نبوت کی روشنی سے دل ودیدہ منور ہوں ۔ اور جب کہ یہ دیکھا جائے ۔ کہ اللہ کے پیغمبر اور کلام الٰہی کے اولین…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(59) غرض فی الحال آپ بھی انجام کا انتظار کیجئے یہ لوگ بھی انتظارکر رہے ہیں - یعنی آپ کا کام صرف تبلیغ ہے آپ اپنے کام کو جاری رکھیے اور کسی قسم کا فکر نہ کیجئے ان کے معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کیجئے یہ آپ کا نقصان اور آپ کے ضرر کا انتظار کررہے ہیں آپ بھی ان کے انجام اور ان پر نزول ضرر کا انتظار کرتے رہیے۔ دیکھئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کس نتیجے کا ظہور ہوتا ہے۔ (والاھرکلہ بیدہ) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرمایا نبی کریم ﷺ نے جس شخص نے سورة حم الدخان کسی رات میں پڑھی تو اس حال میں صبح کرتا ہے کہ اس کے لئے سترہزار فرشتے بخشش مانگتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے دوسری روایت میں ہے حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 50–59

ف 2۔ یعنی آپ تبلیغ سے زیادہ فکر میں نہ پڑیئے نہ مخالفت پر رنج کیجئے، ان کا معاملہ خدا تعالیٰ کے سپرد کیجئے وہ خود سمجھ لے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے رسول ﷺ ! آپ ﷺ بھی انتظار کریں وہ بھی انتظار کرنے والے ہیں 95 ؎ آپ ﷺ اپنے پیغمبر اسلام ! دیکھتے رہیں کہ آپ ﷺ کے مخالفین اور معاندین کا انجام کیا ہوتا ہے اور وہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ ان کے دیکھتے ہی دیکھتے وہ گھڑی کس طرح تیزی سے ان کی طرف بڑھ رہی ہے جس کا وہ مسلسل انکار کیے جا رہے ہیں کہ کس طرح ان کے کرتوتوں کی ان کو سزا ملتی ہے۔ جب دونوں طرف اعمال جاری ہیں تو یقینا دونوں طرف ان کے نتائج بھی سامنے آجائیں گے جو عین اعمال کے مطابق ہوں گے اور جیسا کروگے ویسا ہی بھروگے کی مثل صادق آجائے گی۔ اسی مضمون پر ہم سورة الدخان کی تفسیر کو ختم کرتے ہیں۔ رب اغفروارحم وانت خیر الراحمین عبدالکریم اثروی 41…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 56–59

لَا يَذُوقُونَ فِيهَا الْمَوْتَ إِلَّا الْمَوْتَةَ الْأُولَىٰ (They will not taste death therein, except for the first death (they faced in the world) - 44:56). In other words, they shall suffer no death other than the first death which they had encountered at the end of their lives in this world. The dwellers of Hell as well will suffer only one death at the end of their lives in this world. The latter, however, will suffer a greater degree of torture when they will know that they will remain alive in this miserable state of punishment, whereas for the former the thought that Allah has saved…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 57–59

45 That is, "If they do not accept the admonition even now, you should wait to see how they arc visited by their doom; and they also arc waiting to see what becomes of the message that you are giving them.

Read the full tafseer →