Ayahs 44:1–16آیت 1
یہ قرآن پر قرآن ہی کی قسم ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کتاب مبین کی قسم کھائی جو ہر اس چیز کے لئے ہے جس کے بیان کی حاجت ہے۔ بیشک وہ اتاری گئی ہے (فی لیلۃ مبرکۃ) یعنی خیر کثیر اور بکت والی رات میں، اس سے مراد لیلۃ القدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ یقیناً اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہترین کلام کو سب راتوں اور دنوں سے افضل رات میں مخلوق میں سے افضل ہستی پر معززین اہل عرب کی زبان میں نازل فرمایا ات کہ اس کے ذریعے سے ان لوگوں کو ڈرائے جنہیں جہالت نے اندھا کر رکھا ہے اور بدبختی ان پر غالب آچکی ہے۔ پس وہ اس کے نور سے روشنی حاصل کریں، اس کی ہدایت کو اختیار کریں اور اس کے پیچھے چلیں، اس طرح انہیں دنیا و آخرت کی بھلائی حاصل ہوگی۔ اس لئے فرمایا (آیت) ” بیشک ہم لوگوں کو متنبہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ اس (فضیلت والی) رات میں۔ “ جس میں قرآن نازل ہوا۔ (آیت) ” ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ “ یعنی ہر حکم کا فیصلہ کیا جاتا اور ممیز کیا جاتا ہے، ہر کوئی وقدری اور شرعی حکم کو سج کا اللہ تعالیٰ فیصلہ فرماتا ہے لکھ لیا جاتا ہے۔ یہ کتاب اور تفریق و امتیاز جو لیلتہ القدر کو ہوتی ہے، ان کتابات (لکھائیوں) میں سے ایک ہے جسے لکھا جاتا او ممیز کیا جاتا ہے۔ وہ اولین کتاب کے مطابق ہوتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ مخلوقات کی تقدیر، ان کا وقت مقرر، ان کا رزق، ان کے اعمال اور ان کے اموال وغیرہ درج کردیتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرشتے مقرر کردیئے ہیں کہ جو بندے پر گزرے گا وہ لکھ دیتے ہیں اور جب بندہ ماں کے پیٹ سے باہر دنیا میں قدم رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر کراماً کاتبین مقرر کردیتا ہے جو اس کے اعمال لکھتے رہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ لیلتہ القدر کو سال بھر میں پیش آنے والے واقعات کو مقدر کردیتا ہے۔ یہ سب اس کے کمال علم، کمال حکمت، اس کی بہترین حفاظت اور اپنی مخلوق کے ساتھ کامل اعتنا کی بنا پر ہے۔ (امرا من عندنا) یعنی حکمت سے لبریز یہ حکم ہماری طرف سے صادر ہوتا ہے۔ (انا کنا مرسلین) ہم رسول بھیجتے ہیں اور کتابیں نازل کرتے ہیں۔ یہ رسول اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے اور اس کی تقدیر سے باخبر کرتے ہیں۔ (رحمۃ من ربک) یعنی رسول بھیجنا اور کتابیں نازل کرنا آپ کے رب کی رحمت کی بنا پر ہے۔ ان کتابوں میں افضل ترین کتاب قرآن کریم ہے جو بندوں کے رب کی طرف سے بندوں پر رحمت کی بنا پر ہے۔ ان کتابوں میں افضل ترین کتاب قرآن کریم ہے جو بندوں کے رب کی طرف سے بندوں پر رحمت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر اس سے بڑھ کر کوئی اور رحمت نہیں کہ وہ کتابوں اور رسولوں کے ذریعے سے انہیں ہدایت سے نوازتا ہے۔ دنیا و آخرت کی جس بھلائی سے بھی وہ بہرہ مند ہیں اس کا سبب اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی ہے۔ (آیت) ” یعنی وہ تمام آوازوں کو سنتا ہے اور تمام ظاہری اور باطنی امور کو جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ بندوں کو اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں کی ضرورت ہے۔ پس اس نے ان پر رحم کرتے ہوئے احسان فرمایا۔ اللہ تعالیٰ ہی حمد و ستائش اور احسان کا مالک ہے۔
(آیت) ” جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے۔ “ یعنی وہ آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے، ان کی تدبیر کرنے اور اپنی مشیت کے مطابق ان میں تصرف کرنے والا ہے۔ (ان کنتم موقنین) اگر تم اس کے بارے میں ایسا علم رکھتے ہو جو یقین کا فائدہ دیتا ہے۔ پس جان لو کہ مخلوقات کا رب ہی ان کا معبود برحق ہے۔ اس لئے فرمایا : (لا الہ الا ہو) یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ (یحی ویمیت) وہ اکیلا ہی زندگی عطا کرتا اور موت دیتا ہے۔ وہ تمہارے مرنے کے بعد تمہیں اکٹھا کرے گا اور تمہارے اعمال کی جزا و سزا دے گا۔ اگر اعمال اچھے ہوئے تو اچھی جزا ہوگی اور اگر اعمال برے ہوئے تو بری جزا ہوگی (ربکم و رب ابآئکم الاولین) یعنی وہ اولین و آخرین کا رب، نعمتوں کے ذریعے سے ان کی تربیت کرنے والا اور ان سے ستخیوں کو دور کرنے والا اور ان سے ستخیوں کو دور کرنے والا ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی ربوبیت اور الوہیت کا اثبات کرنے کے بعد جو کہ علم کامل کا موجب ہے اور شک کو دور کرتا ہے، فرمایا کہ کفار اس توضیح و تبین کے باوجود (فی شک یلعبون) یعنی شکوک و شبہات میں مبتلا ہو کر ان مقاصد سے غافل ہیں جن کے لئے انہیں تخلیق کیا گیا ہے اور لہو و لعب میں مشغول ہیں جو انہیں نقصان کے سوا کچھ نہیں دیتے۔ (فارتقب) یعنی ان پر عذاب نازل ہونے کا انتظار کیجیے، یہ عذاب بہت قریب ہے اور اس کا وقت آپہنچا ہے (یوم تاتی السمآء بدخان مبین، یغشی الناس) ” جس دن آسمان صریح دھواں لائے گا جو لوگوں پر چھا جائے گا۔ “ یہ دھواں سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور ان سے کہا جائے گا : (ھذا عذاب الیم) یہ بہت درد ناک عذاب ہے۔
اہل تفسیر میں اس بارے میں اختلاف ہے کہ اس دھوئیں سے کیا مراد ہے، ایک قول یہ ہے کہ یہ وہ دھواں ہے کہ جب مجرم جہنم کی آگ کے قریب پہنچیں گے تو یہ انہیں اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور ان کو اندھا کر دے گا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو قیامت کے روز جہنم کے عذاب کی وعید سنائی ہے اور نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ اس دن کا انتظار کریں۔ اس تفسیم کی اس بات سے تائید ہوتی ہے کہ قرآن کا طریقہ یہ ہے کہ وہ قیامت کے روز کے بارے میں کفار کو وعید سناتا ہے اور اس روز کے عذاب سے انہیں ڈراتا ہے۔ رسول ﷺ اور مومنین کو تسلی دیتے ہوئے ان کو تکلیفیں پہنچانے والے کفار کے بارے میں انتظار کا حکم دیتا ہے، نیز اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں فرمایا : (انی لھم الذکری و قدجآء ھم رسول مبین) ” اس وقت ان کو نصیحت کہاں مفید ہوگی جب کہ ان کے پاس واضح رسول پہنچ چکے۔ “ یہ ارشاد کفار کو قیامت کے روز اس وقت سنایا جائے گا، جب وہ دنیا میں دوبارہ بھیجے جانے کی درخواست کریں گے لہٰذا ان سے کہا جائے گا کہ دنیا میں لوٹ جانے کا وقت گزر چکا ہے۔
اس کی تفسیر میں دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ عذاب ہے جو کفار قریش پر اس وقت نازل ہوا جب انہوں نے ایمان لانے سے انکار کردیا اور حق کے مقابلے میں تکبر کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے لئے بد دعا فرمائی (اللھم اجعلھا علیھم سنین کسنی یوسف) ” اے اللہ ! ان پر قحط سالی فرما جیسا کہ حضرت یوسف کے زمانے میں قحط کے سال تھے۔ “ (1) پس اللہ تعالیٰ نے ان پر بہت بڑا قحط بھیجا یہاں تک کہ وہ مردار اور ہڈیاں کھانے پر مجبور ہوگئے اور ان کی یہ حالت ہوگئی کہ انہیں آسمان اور زمین کے درمیان دھواں سا نظر آتا تھا، حالانکہ دھواں نہیں تھا۔ یہ کیفیت بھوک کی شدت کی وجہ سے تھی۔
اتب اس تفسیر کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ارشاد : (یوم تاتی السمآء بدخان) سے مراد یہ ہے کہ جو وہ مشاہدہ کریں گے وہ ان کی بصارت کی نسبت سے ہوگا وہ حقیقت میں دھواں نہیں ہوگا۔ ان پر یہی حالت طاری رہی یہاں تک کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے رحم کی بھیک مانگتے ہوئے درخواست کی کہ وہ ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ان کی بصارت کی نسبت سے ہوگا وہ حقیقت میں دھواں نہیں ہوگا۔ ان پر یہی حالت طاری رہی یہاں تک کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے رحم کی بھیک مانگتے ہوئے درخواست کی کہ وہ ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ان سے اس قحط کو دور کر دے پس اللہ تعالیٰ نے اس قحط کو ہٹا دیا۔
(1) صحیح البخاری، الادب، باب تسمیۃ الولید، حدیث :620 و صحیح مسلم، صفات المنافقین، باب الدخان، حدیث 2898
تب اس تفسیر کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ارشاد : (انا کاشفوا العذاب قلیلاً انکم عآئدون) ” ہم تھوڑے دنوں کے لئے عذاب ٹال دیتے ہیں مگر تم پھر (کفر کی طرف) لوٹ آتے ہو۔ “ میں اس بات کی خبر کہ اللہ تعالیٰ عنقریب تم سے اس عذاب کو ہٹا دے گا اور یہ ان کے تکبر اور تکذیب کے رویہ کو دوبارہ اختیار کرنے پر سخت وعید ہے، نیز اس عذاب کے وقوع کی پیش گوئی ہے۔ پس یہ عذاب واقع ہوا اور اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ عنقریب انہیں ایک زبردست عذاب کی گرفت میں لے گا اور (بعض) اہل علم کا خیال ہے کہ اس سے مراد جنگ بدر ہے۔ یہ قول بظاہر محل نظر ہے۔
ایک رائے یہ بھی ہے کہ یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کہ آخری زمانے میں ایک دھواں لوگوں کو اپنی گرفت میں لے لے گا اور وہ سانس نہیں لے سکیں گے مگر اہل ایمان کو دھواں بس عام دھوئیں کی طرح تکلیف دے گا۔
پہلا قول صحیح تفسیر ہے۔
آیات کریمہ (آیت) ” میں اس امر کا بھی احتمال موجود ہے کہ یہ سب کچھ قیامت کے روز واقع ہوگا۔
اور رہا اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی (آیت) ” تو یہ ان واقعات کی طرف اشارہ ہے جو قریش کو پیش آئے۔ جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔
جب ان آیات کریمہ کو ان دونوں معنی معنی پر محمول کیا جائے تو آپ آیات کے الفاظ میں کوئی ایسی چیز نہیں پائیں گے جو اس سے مانع ہو بلکہ آپ ان کے الفاظ کو ان معانی کے پوری طرح مطابق پائیں گے، میرے نزدیک یہی معنی ظاہر اور راجح ہے۔ (واللہ اعلم)
Ayahs 44:17–33آیت 17
رسول مصطفیٰ محمد ﷺ کی تکذیب کرنے والوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ گزشتہ زمانوں میں بھی جھٹلانے والے موجود تھے اور ان کا قصہ حضرت موسیٰ کے ساتھ ذکر فرمایا، نیز اس عذاب کا ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے ان پر نازل کیا تاکہ جھٹلانے والے اپنے اس رویے سے باز آجائیں فرمایا : (آیت) ” یعنی ہم نے اپنے رسول کریم حضرت موسیٰ بن عمران کو ان کی طرف مبعوث کر کے انہیں آزمایا جن میں بھلائی اور مکارم اخلاق بدرجہ اتم موجود تھے جو کسی اور میں موجود نہ تھے۔
(ان ادوآ الی عباد اللہ) یعنی حضرت موسیٰ نے فرعون اور اس کے سرداروں سے کہا ” اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کردو۔ “ اس سے حضرت موسیٰ کی مراد بنی اسرائیل تھے، یعنی بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دو اور اپنے بدترین عذاب سے انہیں رہائی دے دو ، کیونکہ بنی اسرائیل میرا قبیلہ ہے اور اپنے زمانے میں یہ افضل ترین لوگ ہیں۔ تم نے ان کو ناحق غلام بنا کر ان پر ظلم روا رکھا ہے۔ ان کو آزادی دے دو تاکہ یہ اپنے رب کی عبادت کریں۔ (انی لکم رسول امین) میں رب کائنات کی طرف سے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں اور جو پیغام میرے ذریعے سے بھیجا گیا ہے میں اس پر امین ہوں، میں اس میں سے تم سے کچھ نہیں چھپاتا، میں اس میں کچھ اضافہ کرتا ہوں نہ اس میں کمی کرتا ہوں اور یہ چیز کامل اطاعت کی موجب ہے۔ (وان لاتعلوا علی اللہ) ” اور اللہ کے مقابلے میں سرکشی نہ کرو۔ “ تکبر و استکبار سے اللہ تعالیٰ کی عبادت سے اپنے آپ کو بلند نہ سمجھو اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش نہ آؤ۔ (انی اتیکم بسلطن مبین) ” بیشک میں تمہارے پاس ایک واضح دلیل لے کر آیا ہوں۔ “ اس سے مراد وہ بڑے بڑے معجزات اور وہ زبردست اور ناقابل تردید دلائل ہیں جو حضرت موسیٰ لے کر تشریف لائے۔
انہوں نے حضرت موسیٰ کی تکذیب کی اور ان کو قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ حضرت موسیٰ نے ان کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ لیتے ہوئے کہا : (انی عذت بربی و ربکم ان ترجمون) یعنی میں سا بات سے اپنے اور تمہارے رب کی پناہ مانگتا ہوں کہ تم بدترین طریقے، یعنی رجم کے ذریعے سے مجھے قتل کرو۔ (وان لم تومنوا لی فاعتزلون) ” اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے الگ رہو۔ “ یعنی تمہارے لئے تین راستے ہیں :
(1) مجھ پر ایمان لے آؤ اور یہی تم سے میرا مطلوب و مقصود ہے۔
(2) اگر مجھے تم سے یہ مقصد حاصل نہیں ہوتا تو مجھے میرے حال پر چھوڑ دو ، تم میری مخالفت کرو نہ میری تائید کرو مجھ سے اپنے شر کو دور رکھو۔
(3) پس ان کفار سے پہلا اور دوسرا مقصد حاصل نہ ہوا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں سرکشی ہی کرتے رہے اور اس کے نبی حضرت موسیٰ کے خلاف جنگ نہ چھوڑی اور نہ ان کی قوم بنی اسرائیل کو ان کے ساتھ روانہ کیا۔
(فدعا ربہ ان ھولاء قوم مجرمون) ” انہوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ مجرم لوگ ہیں۔ “ انہوں نے ایسے جرم کا ارتکاب کیا ہے جو فوری سزا کا موجب ہے۔ پس حضرت موسیٰ نے اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی قوم کا حال بیان کیا اور زبان حال کے ذریعے سے یہ دعا کی جو کہ زبان مقال سے زیادہ بلیغ ہے جیسا کہ خود اپنے لیے (زبان مقال سے) یہ دعا کی تھی : (آیت) ” اے میرے رب ! جو بھلائی تو مجھ پر نازل کرے میں اس کا محتاج ہوں۔ “ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو حکم دیا کہ وہ اس کے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں اور یہ بھی بتادیا کہ فرعون اور اس کی قوم ان کا پیچھا کرے گی۔
(واترک البحر رھواً ) ” سمندر کو اس کے حال پر کھلا (ساکن) چھوڑ دے۔ “ یہ واقعہ اس طرح ہے کہ جب حضرت موسیٰ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بنی اسرائیل کو لے کر رات کے وقت نکل پڑے اور فرعون نے ان کا تعاقب کیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت کو حکم دیا کہ وہ سمندر پر اپنا عصا ماریں، انہوں نے سمندر پر اپنا عصا مارا تو سمندر میں بارہ راستے بن گئے اور سمندر میں سے گزر گئی۔ جب بنی اسرائیل سمندر سے باہر نکل آئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو حکم دیا کہ وہ سمندر کو اسی طرح اس کے حال پر چھوڑ دیں، تاکہ فرعون اور اس کے لشکر ان راستوں میں داخل ہوجائیں۔ (انھم جند مغرقون) ” یقیناً وہ ایسا لشکر ہے جو غرق دیا جائے گا۔ “
جب حضرت موسیٰ کی قوم مکمل طور پر سمندر سے باہر نکل آئی اور فرعون کے لشکر سب کے سب سمندر میں داخل ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا کہ وہ اپنی موجوں کے ذریعے سے ان کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔ وہ آخری آدمی تک سب غرق ہوگئے اور دنیاوی مال و متاع چھوڑ گئے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اس کا وارث بنادیا جو ان کے غلام بن کر رہ رہے تھے۔
بنابریں فرمایا : (آیت) ” وہ بہت سے باغ اور چشمے چھوڑ گئی اور کھیتیاں اور عمدہ و نفیس مکان اور آرائش کے سامان جن میں وہ مزے سے رہتے تھے، یہ بات اسی طرح ہے اور ہم نے اس کا وارث بنا۔ “ یعنی اس مذکورہ نعمت کا (قوما اخرین) ” دوسرے لوگوں کو “ ایک دوسری آیت کریمہ میں آتا ہے : (کذلک و اور ثنھا بنی اسرائیل) (الشعراء :59/26) ” اسیط رح ہم نے بنی اسرائیل کو ان چیزوں کا وارث بنادیا۔ “ (فما بکت علیھم السمآء والارض) جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کر کے نیست و نابود کردیا تو ان پر آسمان رویا نہ زمین، یعنی ان کے لئے کسی نے حزن و غم کا اظہار کیا نہ ان کی جدائی پر کسی کو افسوس ہوا بلکہ ان کی ہلاکت اور بربادی پر سب خوش ہوئے حتی کہ زمین و آسمان نے بھی مسرت کا اظہار کیا کیونکہ انہوں نے اپینے پیچھے ایسے کرتوت چھوڑے ہیں جو ان کے چہروں کو سیاہ کرتے ہیں اور ان پر لعنت اور لوگوں کی ناراضی کا موجب ہیں۔ (وما کانوا منظرین) یعنی عذاب کو ٹال کر ان کو مہلت نہ دی گئی بلکہ اسی وقت ان کو نیست و نابود کردیا گیا۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنے احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا (آیت) ” اور ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت کے عذاب سے نجات دی۔ “ جس وہ مبتلا تھے۔ (من فرعون) ” فرعون سے۔ “ جبکہ فرعون ان کے بیٹوں کو ذبح کرتا تھا اور ان کی بیٹیوں کو چھوڑ دیتا تھا۔ انہ کان عالیاً ) بلا شبہ وہ زمین میں ناحق تکبر کرتا تھا۔ (من المسرفین) وہ اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کرنے والوں اور اس کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کرنے والوں میں سے تھا۔ (ولقد اخترنھم) اور ہم نے انہیں پاک صاف کر کے چن لیا۔ (علی علم) ان کے متعلق اپنے علم کی بنا پر اور اس فضیلت کے لئے ان کے استحقاق کی بنا پر (علی العلمین) اپنے زمانے، اپنے سے پہلے اور بعد کے زمانے کے تمام لوگوں پر یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ امت محمدیہ کو لے آیا اور اس کو تمام جہانوں پر فضیلت دی، اسے بہترین امت قرار دیا جو تمام دنیا کی راہنمائی کے لئے کھڑی کی گئی اور اللہ تعالیٰ نے ان پر وہ احسانات کئے جو دوسروں پر نہ کئے۔
(واتینھم) اور ہم نے بنی اسرائیل کو عطا کئے (من الایت) بڑے واضح معجزات اور ظاہری نشانیاں (مافیہ بلوآء مبین) ” جن میں صاف اور صریح آزمائش تھی۔ “ یہ ہماری طرف سے ان پر بہت بڑا احسان اور ان کے بنی موسیٰ جو کچھ ان کے پاس لے کر آئے ہیں اس پر ایک دلیل ہے۔
Ayahs 44:34–37آیت 34
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے : (ان ھولآء) بیشک یہ جھٹلانے والے لوگ، مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے اور قیامت کو بہت بعید سمجھتے ہوئے کہتے ہیں : (آیت) ” یہ ہماری بس پہلی بار کی موت ہے اور ہم دوبارہ اٹھائے نہیں جائیں گے۔ “ یعنی یہ ہماری صرف دنیا ہی کی زندگی ہے، مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا جائے گا نہ جنت اور جہنم کا کوئی وجود ہے۔ پھر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں گستاخی کرتے ہوئے اور اسے عاجز سمجھتے ہوئے کہا : (آیت) ” پس اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو زندہ کر لاؤ۔ “ یہ عناد پسند جہلاء کا مطالبہ تھا جو بہت دور کی کوڑی لائے تھے۔ بلھا ! رسول کریم ﷺ کی صداقت اور ان جہلاء کے آباء و اجداد کو زندہ کر کے ان کے سامنے لانے میں کون سا تلازم ہے ؟ آپ کی دعوت کی صداقت پر آیات و دلائل ہر لحاظ سے نہایت تواتر سے دلالت کرتے ہیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (اھم خیر) ” کیا یہ بہتر ہیں ؟ “ یعنی یہ مخاطبین (ام قوم تبیع والذین من قبلھم اھلکنھم انھم کانوا مجرمین) ” یا قوم تبع اور وہ لوگ جو ان سے پہلے ہوچکے۔ ہم نے انہیں ہلاک کردیا بیشک وہ مجرم تھے۔ “ پس یہ لوگ قوم تبع وغیرہ سے بہتر نہیں، یہ بھی جرم کے ارتکاب میں ان کے شریک ہیں۔ پس یہ بھی اس ہلکات کی توقع رکھیں جو ان کے جرم شریک بھائیوں پر واقع ہوئی تھی۔