44. Surah Ad-Dukhaan

الدخانThe Smoke · 59 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 44:1–29

وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ Open ayah 44:2 in the Quran reader

قسم ہے واضح کتاب کی !

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِیْنَ Open ayah 44:3 in the Quran reader

بیشک ہم نے اس کو ایک برکت والی رات (شب قدر) میں نازل فرمایا ہے ، بیشک ہم آگاہ فرمانے والے تھے

فِیْهَا یُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِیْمٍۙ Open ayah 44:4 in the Quran reader

اس میں تمام حکمت کے کام طے کیے جاتے ہیں

اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَۚ Open ayah 44:5 in the Quran reader

ہمارے ہاں سے حکم ہو کر۔ بیشک ہم ہی بھیجنے والے ہیں

رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُۙ Open ayah 44:6 in the Quran reader

آپ کے پروردگار کی رحمت کی بنا پر (آپ کو پیغمبر بنانے والے تھے) یقینا وہ سننے والا جاننے والا ہے

رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ۘ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ Open ayah 44:7 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کا پروردگار اور جو کچھ ان کے درمیان ہے۔ بشرطیکہ تم لوگ یقین کرنے والے ہو

لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 44:8 in the Quran reader

اس کے سوا کوئی معبود نہیں (وہی) زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے (وہی) تمہارا اور تمہارے پہلے باپ دادا کا پروردگار ہے

بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ یَّلْعَبُوْنَ Open ayah 44:9 in the Quran reader

بلکہ یہ لوگ شک میں کھیل رہے ہیں

فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَاْتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 44:10 in the Quran reader

سو آپ (ان کے لئے) اس دن کا انتظار کیجئے کہ آسمان کی طرف ایک ظاہر دھواں پیدا ہو

یَّغْشَى النَّاسَ١ؕ هٰذَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 44:11 in the Quran reader

جو ان سب لوگوں کو ڈھانک لے۔ یہ درد دینے والا عذاب ہے

رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ اِنَّا مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 44:12 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ! ہم سے اس مصیبت کو دور کردے ہم ضرور ایمان لائیں گے

اَنّٰى لَهُمُ الذِّكْرٰى وَ قَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 44:13 in the Quran reader

ان کو اس وقت نصیحت کہاں فائدہ دے گی جبکہ ان کے پاس پیغمبر آچکے جو صاف صاف بیان فرمادیتے تھے

ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا مُعَلَّمٌ مَّجْنُوْنٌۘ Open ayah 44:14 in the Quran reader

پھر انہوں نے اس سے منہ پھیرلیا اور کہنے لگے یہ سکھایا ہوا دیوانہ ہے

اِنَّا كَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِیْلًا اِنَّكُمْ عَآئِدُوْنَۘ Open ayah 44:15 in the Quran reader

ہم تو تھوڑے دنوں عذاب ٹال دیتے ہیں مگر تم پھر کفر کرنے لگتے ہو

یَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرٰى١ۚ اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ Open ayah 44:16 in the Quran reader

جس دن ہم بڑی سخت پکڑ پکڑیں گے اس دن ہم پورا پورا بدلہ لیں گے

وَ لَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ كَرِیْمٌۙ Open ayah 44:17 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے ان سے پہلے فرعون کی قوم کو آزمایا تھا اور ان کے پاس ایک معزز پیغمبر آئے تھے

اَنْ اَدُّوْۤا اِلَیَّ عِبَادَ اللّٰهِ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 44:18 in the Quran reader

کہ اللہ کے بندوں (بنی اسرائیل) کو میرے حوالہ کردو بیشک میں تمہاری طرف (اللہ کا) دیانت دار پیغمبر ہو کر آیا ہوں

وَّ اَنْ لَّا تَعْلُوْا عَلَى اللّٰهِ١ۚ اِنِّیْۤ اٰتِیْكُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۚ Open ayah 44:19 in the Quran reader

اور یہ کہ تم اللہ سے سرکشی مت کرو بیشک میں تمہارے پاس واضح دلیل لے کر آیا ہوں

وَ اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ اَنْ تَرْجُمُوْنِ٘ Open ayah 44:20 in the Quran reader

اور میں اس بات سے کہ تم مجھے سنگسار کرو اپنے اور تمہارے پروردگار کی پناہ چاہتا ہوں

وَ اِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا لِیْ فَاعْتَزِلُوْنِ Open ayah 44:21 in the Quran reader

اور اگر تم لوگ مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے الگ ہی رہو

فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُوْنَ Open ayah 44:22 in the Quran reader

تب انہوں (موسیٰ علیہ السلام) نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ یہ بڑے نافرمان لوگ ہیں

فَاَسْرِ بِعِبَادِیْ لَیْلًا اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَۙ Open ayah 44:23 in the Quran reader

(ارشاد ہوا) تو میرے بندوں کو لے کر راتوں رات چلے جائیں یقینا تمہارا تعاقب کیا جائے گا

وَ اتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْوًا١ؕ اِنَّهُمْ جُنْدٌ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 44:24 in the Quran reader

اور تم لوگ دریا کو اس کی حالت پہ (یعنی خشک) چھوڑ دینا یقینا ان کا لشکر غرق کردیا جائے گا

كَمْ تَرَكُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 44:25 in the Quran reader

بہت کچھ چھوڑ گئے باغ اور چشمے

وَّ زُرُوْعٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 44:26 in the Quran reader

اور کھیتیاں اور عمدہ مکانات

وَّ نَعْمَةٍ كَانُوْا فِیْهَا فٰكِهِیْنَۙ Open ayah 44:27 in the Quran reader

اور آرام کی چیزیں جن میں عیش کیا کرتے تھے

كَذٰلِكَ١۫ وَ اَوْرَثْنٰهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 44:28 in the Quran reader

اس طرح ہوا اور ہم نے دوسری قوم کو ان کا مالک بنادیا

فَمَا بَكَتْ عَلَیْهِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ وَ مَا كَانُوْا مُنْظَرِیْنَ۠ Open ayah 44:29 in the Quran reader

سو ان پر نہ تو آسمان روایا اور (نہ ہی) زمین اور نہ ان کو مہلت دی گئی

آیات 1 تا 29۔ اسرار ومعارف۔ حم۔ اس کتاب واضح کی قسم ہے یعنی یہ دلائل سے حق کو واضح کردینے والی کتاب اس پر گواہ ہے جسے ہم نے ایک بہت بابرکت شب کو لوح محفوظ سے سماء دنیا پر نازل فرمایا کہ اس کے نزول سے مراد مخلوق کو صحیح راہ عمل دکھانا اور اعمال بد کے بد انجام سے بروقت خبر دینا ہے کہ وہ اپنی راہ متعین کرسکیں لیلہ مبارکہ : لیلہ مبارکہ سے مراد مفسرین کرام سے لیلۃ القدر ہے کہ قرآن کریم کی دوسری آیات سے اس کی تعیین ہوجاتی ہے نیز نزول قران رمضان المبارک ہی میں ہوا اور جو بات نصف شعبان کی شب کے بارے مشہور ہے ، اس کی سندیں ضعیف ہیں اس لیے اکثر علماء نے اسے قبول نہیں کیا ، اور بعض نے اس کی فضیلت اس انداز میں قبول کی ہے کہ فضائل اعمال میں ضعیف حدیث پر بھی عمل درست ہے مگر نزول قرآن کا لیلۃ القدر میں ہونا اور رمضان میں ہونا قرآن نے خود بیان فرمایا ہے۔ اسی رات اللہ کا ہر کام اور ہر فیصلہ جو حکمت پر مبنی ہوتا ہے اگلے سال تک کے لیے فرشتوں کے سپرد کیا جاتا ہے کہ علم الٰہی میں توہربات ازل سے موجود ہے اسے متعلقہ فرشتوں کو سونپا جاتا ہے اور اسی طرح یہ فیصلہ بھی ہمارا تھا کہ ہم آپ کو اپنا پیغمبر بنانے والے تھے اور آپ کی بعثت آپ کے پروردگار کی طرف سے بہت ہی بڑی رحمت ہے کہ وہی مخلوق کی ہر فریاد سننے والا اور ہر بات کا علم رکھنے والا ہے گویا دنیا وآخرت کی انسانی ہر فریاد کا جواب آپ کی ذات ستودہ صفات ہے کہ آپ کا اتباع آپ کی غلامی ہر مصیبت سے نجات اور ہر سوال کا جواب ہے لوگو اگر تمہیں اس کی ربوبیت پہ یقین ہے کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو بھی ہے سب کی تمام ضرورتیں وہی پوری کرتا ہے تو پھر ایک ایسے نبی کی ضرورت بھی تو مخلوق کو تھی جو اس کو اللہ سے واصل کرتا سو اللہ نے آپ کو مبعوث فرما کر پوری کردی یہ اس کی عظمت کی دلیل ہے کہ مخلوق کو اتنی بڑی نعمت سے نوازا اس کے سوا کوئی ایسا نہیں جس کی عبادت کی جائے کہ وہی زندگی دینے والا ہے اور وہی ذات موت دینے والی ہے پروردگار ہے تم سب کا بھی اور تمہارے آباؤ اجداد کا بھی جو تم سے پہلے گزرچکے ہیں یعنی جس طرح حیات دنیاکودیکھتے ہو کہ وہی دنیا ہے اسی طرح روحانی حیات بھی عطا کردی اپنانبی مبعوث فرما کر اس سے دوری روحانی موت ہے مگر یہ لوگ ان حقائق کے باوجود شک میں پڑے ہوئے ہیں اور دنیا کے کھیل تماشوں میں لگے ہوئے ہیں۔ آسمان سے دھواں آنا۔ آپ انتظار کیجئے جب آسمان دھواں دھواں ہوجائے اور لوگوں کو گھیر لے کہ یہ ایک دردناک عذاب ہوگا۔ مفسرین کرام نے دو معنی نقل فرمائے ہیں اول یہ کہ اہل مکہ کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے آپ نے بددعافرمائی کہ اے اللہ ان پر ایسا قحط نازل فرماجیسا اہل مصر پر یوسف کے زمانہ میں آیا تھا چناچہ سخت قحط سالی ہوئی لوگ ہڈیاں اور مردار تک کھانے لگے اور اوپر دیکھتے تو دھواں دھواں نظرآتاچنانچہ خدمت عالی میں حاضر ہو کر دعا کے طالب ہوئے کہ اے اللہ ہم پر سے یہ عذاب ہٹا دے اب ہم ایمان لائیں گے تو فرمایا ایمان تو یہ کیا لائیں گے جب اللہ کے رسول تشریف لاچکے جو سب سے بڑی اور روشن دلیل ہیں اور جن کا سراپا اور ہر ادا ایک عظیم معجزہ ہے ان کے کہنے پر ایمان نہ لائے توچندے عذاب کے ٹل جانے پہ کیا لائیں گے چناچہ جب عذاب ٹل گیا اور آپ کی دعا سے بارش ہوئی تو مکر گئے اور کہنے لگے کہ انہیں کسی شخص نے یہ باتیں سکھا کرپاگل کردیا ہے اور دوسرامعنی روز حشر کہ آسمان سے دھواں سا اترے گا حدیث شریف کے مطابق اس سے مومن کو ہلکا سازکام جیسا ہوگا جبکہ کافر کے اندر بھرجائے اور ہرمسام سے نکلے گا تو کافر دعا کریں گے اے پروردگار ہم سے یہ مصیبت ہٹا دے ہم ایمان لاتے ہیں تو ارشاد ہوگا کہ اب کہاں کا ایمان لاناجب تمہارے پاس نبی (علیہ السلام) تشریف لائے ایمان کی دعوت دی تب تو لائے نہیں اور کہا کرتے تھے انہیں کسی نے سکھایا ہے اور یہ پاگل ہیں ۔ اور اگر ہم عذاب ہٹاکر تمہیں دنیا میں بھیج بھی دیں تو بھی تمہارے اندر کفر اس طرح رچ بس گیا ہے کہ تم پھر کفر ہی اختیار کرو گے اور قیامت کی پکڑ تو بہت بڑی پکڑ ہے اور اس روز بہانے کہاں چلیں گے اس روز تو ہم پورا پورا بدلہ لیں گے ان لوگوں سے پہلے فرعون کو قوم آزمائی جاچکی جب ان کے پاس اللہ کا ایک بہت محترم ومکرم رسول تشریف لایا اور اس نے فرمایا کہ اللہ کے یہ بندے بنی اسرائیل جن پر تم ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہو میرے سپرد کرو کہ میں ان کا اہتمام کروں اور میں تمہاری طرف اللہ کا رسول اور اس کافرستادہ ہوں کہ تم بھی اس کی عظمت والوہیت پر ایمان لاؤ اور میرے مقابل بڑھ چڑھ کر باتیں نہ کرو کہ تم اللہ سے مقابلہ جوڑ رہے ہو حالانکہ میں تمہارے ساتھ دلیل سے بات کررہا ہوں اور روشن معجزات دکھا رہا ہون مگر وہ نہ مانے اور ان کو قتل اور سنگسار کرنے کی دھمکیاں دینے لگے تو انہوں نے فرمایا کہ اس زیادتی اور سنگسار میں پروردگار کی پناہ مانگتا ہوں جو تمہارا رب بھی ہے اور پھر پروردگار سے دعا کی کہ یہ قوم مان کر توکیادے گی یہ ایسے بدکار اور مجرم ہیں کہ مجھے بھی سنگسار کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ تو ارشاد ہوا کہ آپ میرے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل کھرے ہوں یہ لوگ یعنی قوم فرعون آپ کا تعاقب کریں گیا للہ آپ کے لیے سمندر میں راستے بنادے گا ، آپ قوم کو پارلے جائیں گے پانی کو تھما رہنے دیں یہ خواہش نہ کریں کہ آپ کے فورا بعد جاری ہوجائے اس طرح یہ لشکر اس میں داخل ہو کر غرق ہوجائے گا کہ جب یہ داخل ہوچکے تو پانی کے پہاڑ مل کر رواں ہوجائیں گے چناچہ ان لوگوں کے باغات اور چشمے بڑی بڑی کھیتیاں اور شاندار گھر سب کچھ دھرے کا دھرا رہ گیا جہاں کبھی وہ عیش کیا کرتے تھے اور ان کی جگہ ہم نے دوسری قوم کو یعنی بنی اسرائیل کو جسے وہ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کا مستحق سمجھتے تھے ان سب احوال کا مالک بنادیا اور ان کی اتنی بڑی تباہی پر نہ آسمان رویا اور نہ زمین نے ہی دکھ کا اظہار کیا اور نہ ہی ان کو کوئی مہلت ملی آسمان اور زمین کارونا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ یہ ایک محاورہ ہے کہ اتنے بڑے حادثے پر نظام دنیا متاثر ہوا نہ فلکی نظام مگر اکثر مفسرین کے نزدیک آپ کی وہ حدیث مراد ہے جس میں ارشاد ہے کہ نیک بندے کی وفات پر زمین بھی روتی ہے جس پر عمل کیا کرتا تھا اور آسمان بھی جہاں سے اعمال گزر کرجاتے تھے کہ ساری مخلوق میں شعور ہے اور ہر مخلوق اپنے انداز میں بات کرتی ہے اسی طرح ارض وسماء کارونا بھی ان کی اپنی طرح پر ہوگا۔