44. Surah Ad-Dukhaan

الدخانThe Smoke · 59 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayahs 44:1–3

وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ Open ayah 44:2 in the Quran reader

اس کتاب روشن کی قسم

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِیْنَ Open ayah 44:3 in the Quran reader

کہ ہم نے اس کو مبارک رات میں نازل فرمایا ہم تو سیدھا راستہ دکھانے والے ہیں

(1۔ 3) حم۔ جو کچھ ہونے والا ہے اس کا للہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا اور کتاب مبین یعنی قرآن کریم کی جو کہ حلال و حرام اوامرو نواہی کو بیان کرنے والا ہے۔ قسم ہے کہ ہم نے اس قرآن حکیم کو شب قدر میں جو کہ برکتوں اور رحمتوں اور مغفرتوں والی رات ہے، بذریعہ جبریل امین آسمان دنیا پر اتارا اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بیس سال کے عرصے میں ایک ایک آیت اور سورت کر کے رسول اکرم پر اس قرآن کریم کو بذریعہ جبریل امین نازل فرمایا کیونکہ ہم بذریعہ قرآن کریم لوگوں کو ڈرانے والے تھے۔
Ayah 44:4

فِیْهَا یُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِیْمٍۙ Open ayah 44:4 in the Quran reader

اسی رات میں تمام حکمت کے کام فیصل کئے جاتے ہیں

اس شب قدر میں ہر ایک حکمت والا معاملہ پورے سال کے لیے ہماری پیشی سے حکم صادر ہو کر طے کیا جاتا ہے جبریل، میکائیل، اسرافیل اور ملک الموت جو کہ پورے سال کے کاموں پر مقرر ہیں ہم ان پر یہ حکم طے شدہ صادر کردیتے ہیں۔
Ayahs 44:5–6

اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَۚ Open ayah 44:5 in the Quran reader

(یعنی) ہمارے ہاں سے حکم ہو کر بیشک ہم ہی (پیغمبر کو) بھیجتے ہیں

رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُۙ Open ayah 44:6 in the Quran reader

(یہ) تمہارے پروردگار کی رحمت ہے وہ تو سننے والا جاننے والا ہے

(5۔ 6) آپ کا پروردگار اپنی رحمت سے اپنے بندوں پر سولوں کو کتابوں کے ساتھ بھیج کر فرماتا ہے کہ آپ کو رسول بنانے والے تھے بیشک وہ قریش کی اس آہ وزاری کو سننے والا ہے کہ ہمارے پروردگار ہم سے اس عذاب کو دور کردے اور ان سے اور ان کی سزا سے بھی واقف ہے۔
Ayah 44:7

رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ۘ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ Open ayah 44:7 in the Quran reader

جو کہ آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب کا مالک ہے بشرطیکہ کہ تم لوگ یقین کرنے والے ہو

وہ آسمانوں اور زمین اور تمام مخلوقات کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی معبود حقیقی ہے اگر تم اس کا یقین کرنا چاہو کہ اس کے سوا اور کوئی آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا نہیں۔
Ayah 44:8

لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 44:8 in the Quran reader

اسکے سوا کوئی معبود نہیں (وہی) جلاتا ہے اور (وہی) مارتا ہے (وہی) تمہارا اور تمہارے باپ دادا کا پروردگار ہے

وہی دوبارہ زندہ کرنے کے لیے جان ڈالے گا اور وہ دنیا میں جان نکالتا ہے وہ تمہارا بھی خالق ہے اور تمہارے اگلے آباؤ اجداد کا بھی خالق ہے۔
Ayah 44:9

بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ یَّلْعَبُوْنَ Open ayah 44:9 in the Quran reader

لیکن یہ لوگ شک میں کھیل رہے ہیں

مگر یہ کفار مکہ قیامت کے قیام کے بارے میں شک میں ہیں اور اس کے استہزاء میں مصروف ہیں۔
Ayah 44:10

فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَاْتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 44:10 in the Quran reader

تو اس دن کا انتظار کرو کہ آسمان سے صریح دھواں نکلے گا

اب آپ اے نبی کریم ان کے لیے اس دن کے عذاب کا انتظار کیجیے کہ آسمان و زمین کے درمیان ایک دھواں پیدا ہو۔ شان نزول : فَارْتَـقِبْ يَوْمَ تَاْتِي السَّمَاۗءُ (الخ) امام بخاری نے حضرت ابن مسعود سے روایت کیا ہے کہ جب قریش رسول اکرم پر زیادتیاں کیں تو آپ نے ان کے لیے قحط سالی کی بددعا کی جیسا کہ یوسف ؑ کے زمانہ میں قحط سالی ہوئی تھی۔ چناچہ ان پر ایسا قحط آیا کہ انہوں نے ہڈیاں تک کھالیں اور آدمی جب اس حالت میں آسمان کی طرف دیکھتا تھا تو اسے اپنے اور آسمان کے درمیان بھوک کی شدت کی وجہ سے دھواں سا نظر آتا تھا اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی یہ آیات نازل فرمائی۔ چناچہ اس کے بعد یہ لوگ رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ مضر کے لیے اللہ تعالیٰ سے بارش کی دعا کیجیے کیونکہ وہ تو ہلاک ہوگئے چناچہ آپ نے بارش کی دعا فرمائی بارش ہوگئی اس کے بارے میں یہ جملہ نازل ہوا۔ انکم عائدون۔ اس کے بعد جب ان پر فراخی کا دور آیا تو پھر اپنی پچھلی حالت پر آگئے تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یوم نبطش (الخ) یعنی غزوہ بدر کے دن ہم ان سے بدلہ لیں گے۔
Ayahs 44:11–12

یَّغْشَى النَّاسَ١ؕ هٰذَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 44:11 in the Quran reader

جو لوگوں پر چھا جائے گا یہ درد دینے والا عذاب ہے

رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ اِنَّا مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 44:12 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ! ہم سے اس عذاب کو دور کر ہم ایمان لاتے ہیں

(11۔ 12) جو ان سب پر عام ہوجائے یہ دھواں بھی ایک دردناک سزا ہے جو ان کو بھول کی حالت میں پیش آئے گی پھر یہ عرض کریں گے اے ہمارے رب ہم سے اس بھوک کی مصیبت کو دور کردیجیے ہم آپ پر اور آپ کی کتاب اور آپ کے رسول پر ایمان لے آئیں گے۔
Ayah 44:13

اَنّٰى لَهُمُ الذِّكْرٰى وَ قَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 44:13 in the Quran reader

(اس وقت) ان کو نصیحت کہاں مفید ہوگی جبکہ ان کے پاس پیغمبر آ چکے جو کھول کھول کر بیان کردیتے ہیں

حالانکہ ان کے پاس رسولا کرم تشریف لاچکے ہیں جو ان کو ایسی زبان میں سمجھاتے ہیں جسے یہ سمجھتے ہیں۔
Ayah 44:14

ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا مُعَلَّمٌ مَّجْنُوْنٌۘ Open ayah 44:14 in the Quran reader

پھر انہوں نے ان سے منہ پھیرلیا اور کہنے لگے (یہ تو) پڑھایا ہوا (اور) دیوانہ ہے

تب بھی یہ لوگ ان پر ایمان نہیں لاتے اور یہی کہتے ہیں کہ معاذ اللہ جبر و یسار کا سکھایا ہوا دیوانہ ہے ہم اس بھوک کے عذاب کو غزوہ بدر تک کے لیے ان سے ہٹادیں گے مگر اے مکہ والو تم پھر اپنی نافرمنی کی اصلی حالت پر آجاؤ گے۔
Ayah 44:15

اِنَّا كَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِیْلًا اِنَّكُمْ عَآئِدُوْنَۘ Open ayah 44:15 in the Quran reader

ہم تو تھوڑے دنوں عذاب ٹال دیتے ہیں (مگر) تم پھر کفر کرنے لگتے ہو

چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس بھوک کی سزا کو ان سے دور کردیا تو پھر اپنی پچھلی حالت پر آگئے نتیجہ یہ ہوا کہ بدر کے دن ہلاک کردیئے گئے۔
Ayah 44:16

یَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرٰى١ۚ اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ Open ayah 44:16 in the Quran reader

جس دن ہم بڑی سخت پکڑ پکڑیں گے تو بیشک انتقام لے کر چھوڑیں گے

جس کی طرف اللہ تعالیٰ اگلی آیت میں اشارہ فرما رہا ہے بدر کے دن بذریعہ تلوار جب ان کی بہت سخت پکڑ کریں گے تو اس روز ہم بذریعہ عذاب ان سے پورا پورا بدلہ لیں گے۔
Ayah 44:17

وَ لَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ كَرِیْمٌۙ Open ayah 44:17 in the Quran reader

اور ان سے پہلے ہم نے قوم فرعون کی آزمائش کی اور ان کے پاس ایک عالی قدر پیغمبر آئے

اور ہم نے قریش سے پہلے فرعون اور اس کی قوم کو آزمایا تھا وہ یہ کہ ان کے پاس ایک معزز پیغمبر حضرت موسیٰ آئے تھے۔
Ayah 44:18

اَنْ اَدُّوْۤا اِلَیَّ عِبَادَ اللّٰهِ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 44:18 in the Quran reader

(جنہوں نے) یہ (کہا) کہ خدا کے بندوں (یعنی بنی اسرائیل) کو میرے حوالے کردو میں تمہارا امانتدار پیغمبر ہوں

اور انہوں نے کہا تھا کہ بنی اسرائیل کو میرے حوالہ کردو اور میرے ساتھ بھیج دو میں اللہ کی طرف سے امانت دار رسول ہوں۔
Ayah 44:19

وَّ اَنْ لَّا تَعْلُوْا عَلَى اللّٰهِ١ۚ اِنِّیْۤ اٰتِیْكُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۚ Open ayah 44:19 in the Quran reader

اور خدا کے سامنے سرکشی نہ کرو میں تمہارے پاس کھلی دلیل لے کر آیا ہوں

اور یہ بھی فرمایا کہ تم اللہ کے سامنے تکبر اور اس کی نافرمانی مت کرو میں ایک واضح دلیل پیش کرتا ہوں۔
Ayahs 44:20–21

وَ اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ اَنْ تَرْجُمُوْنِ٘ Open ayah 44:20 in the Quran reader

اور اس (بات) سے کہ تم مجھے سنگسار کرو اپنے اور تمہارے پروردگار کی پناہ مانگتا ہوں

وَ اِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا لِیْ فَاعْتَزِلُوْنِ Open ayah 44:21 in the Quran reader

اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے الگ ہوجاؤ

(20۔ 21) اور میں اپنے پروردگار کی اور تمہارے پروردگار کی پناہ حاصل کرتا ہوں اس سے کہ تم لوگ مجھے قتل کرو اور اگر تم میری رسالت کی تصدیق نہیں کرتے تو مجھ سے علیحدہ رہو۔ لالی ولا علی
Ayahs 44:22–23

فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُوْنَ Open ayah 44:22 in the Quran reader

تب موسیٰ نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ یہ نافرمان لوگ ہیں

فَاَسْرِ بِعِبَادِیْ لَیْلًا اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَۙ Open ayah 44:23 in the Quran reader

(خدا نے فرمایا کہ) میرے بندوں کو راتوں رات لے کر چلے جاؤ اور (فرعونی) ضرور تمہارا تعاقب کریں گے

(22۔ 23) مگر جب انہوں نے اپنی ہلاکت خود ہی مول لے لی تب موسیٰ نے دعا کی کہ پروردگار یہ تو مشرکین ہیں پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو حکم کیا کہ تم بنی اسرائیل کو رات ہی رات میں لے کر چلے جاؤ کیونکہ تم لوگوں کا دریا پر تعاقب ہوگا۔
Ayah 44:24

وَ اتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْوًا١ؕ اِنَّهُمْ جُنْدٌ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 44:24 in the Quran reader

اور دریا سے (کہ) خشک (ہو رہا ہوگا) پار ہوجاؤ (تمہارے بعد) ان کا لشکر ڈبو دیا جائے گا

اور تم اس دریا کو چوڑا رستہ بنا ہوا اسی حالت پر چھوڑ دینا کیونکہ فرعون اور اس کا لشکر اس دریا میں ڈبو دیا جائے گا۔
Ayahs 44:25–27

كَمْ تَرَكُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 44:25 in the Quran reader

وہ لوگ بہت سے باغ اور چشمے چھوڑ گئے

وَّ زُرُوْعٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 44:26 in the Quran reader

اور کھیتیاں اور نفیس مکان

وَّ نَعْمَةٍ كَانُوْا فِیْهَا فٰكِهِیْنَۙ Open ayah 44:27 in the Quran reader

اور آرام کی چیزیں جن میں عیش کیا کرتے تھے

(25۔ 27) اور وہ لوگ کتنے ہی باغ اور کتنے ہی ان باغوں میں نہریں اور کتنی ہی کھیتیاں اور کتنے ہی عمدہ مکانات اور کتنے ہی آرام کے سامان جس میں وہ خوش رہا کرتے تھے چھوڑ گئے۔
Ayah 44:28

كَذٰلِكَ١۫ وَ اَوْرَثْنٰهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 44:28 in the Quran reader

اسی طرح (ہوا) اور ہم نے دوسرے لوگوں کو ان چیزوں کا مالک بنادیا

ہم نے ان کے ساتھ اسی طرح کیا اور ان کے بعد بنی اسرائیل کو ان چیزوں کا مالک بنا دیا۔
Ayah 44:29

فَمَا بَكَتْ عَلَیْهِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ وَ مَا كَانُوْا مُنْظَرِیْنَ۠ Open ayah 44:29 in the Quran reader

پھر ان پر نہ تو آسمان کو اور زمین کو رونا آیا اور نہ ان کو مہلت ہی دی گئی

نہ فرعون اور اس کی قوم پر آسمان کا دروازہ رویا اور نہ زمین پر نماز کی جگہ روئی، کیونکہ جب مومن مرتا ہے تو اس پر آسمان کا دروازہ جس سے اس کا عمل چڑھتا اور اس کا رزق اترتا ہے اور زمین پر اس کی نماز پڑھنے کی جگہ روتی ہے اور فرعون اور اس کی قوم پر یہ مقامات نہیں روئے کیونکہ ان کے عمل چڑھنے کے لیے نہ تو آسمان پر کوئی دروازہ تھا اور نہ زمین پر ان کی نماز پڑھنے کی کوئی جگہ تھی اور نہ ان کو غرق ہونے سے کوئی مہلت دی گئی۔
Ayahs 44:30–31

وَ لَقَدْ نَجَّیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُهِیْنِۙ Open ayah 44:30 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت کے عذاب سے نجات دی

مِنْ فِرْعَوْنَ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَالِیًا مِّنَ الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 44:31 in the Quran reader

(یعنی) فرعون سے بیشک وہ سرکش (اور) حد سے نکلا ہوا تھا

(30۔ 31) اور ہم نے بنی اسرائیل کو سخت عذاب یعنی فرعون اور اس کی قوم سے نجات، کیونکہ وہ ان کے لڑکوں کو قتل کرتا تھا اور ان کی عورتوں کو غلام بنایا کرتا تھا۔ حقیقتا فرعون بڑا سخت دشمن اور سرکش اور شرک میں حد سے نکل جانے والوں میں سے تھا۔
Ayah 44:32

وَ لَقَدِ اخْتَرْنٰهُمْ عَلٰى عِلْمٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 44:32 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو اہل عالم سے دانستہ منتخب کیا تھا

اور ہم نے بنی اسرائیل کو اپنے علم کی رو سے جو کہ ہم نے ان کو سکھایا تمام جہانوں پر فوقیت دی اور من وسلوی کتاب اور رسول اور فرعون اور اس کی قوم سے نجات دے کر منتخب کیا۔
Ayah 44:33

وَ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنَ الْاٰیٰتِ مَا فِیْهِ بَلٰٓؤٌا مُّبِیْنٌ Open ayah 44:33 in the Quran reader

اور ان کو ایسی نشانیاں دی تھیں جن میں صریح آزمائش تھی

اور ہم نے ان کو ایسی بڑی بڑی نشانیاں دیں جن میں عظیم الشان انعام تھا یا یہ کہ صریح انتخاب تھا وہ یہ کہ فرعون سے اور غرق سے نجات دی اور وادی تیہ میں ان پر من وسلوی اتارا۔
Ayahs 44:34–35

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَیَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 44:34 in the Quran reader

یہ لوگ یہ کہتے ہیں

اِنْ هِیَ اِلَّا مَوْتَتُنَا الْاُوْلٰى وَ مَا نَحْنُ بِمُنْشَرِیْنَ Open ayah 44:35 in the Quran reader

کہ ہمیں صرف پہلی دفعہ (یعنی ایک بار) مرنا ہے اور (پھر) اٹھنا نہیں

(34۔ 35) مگر محمد آپ کی قوم یہی کہتی ہے کہ ہماری زندگی بس دنیوی زندگی ہے اور یہیں کا مرنا ہے اور ہم مرنے کے بعد پھر زندہ نہیں کیے جائیں گے اور محمد اگر تم اپنے دعوے بعثت میں سچے ہو۔
Ayah 44:36

فَاْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 44:36 in the Quran reader

پس اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو (زندہ کر) لاؤ

تو ہمارے آباؤ اجداد کو لاکر زندہ کرو تاکہ ہم خود ہی ان سے دریافت کرلیں کہ جو آپ دیکھ رہے ہیں وہ صحیح ہے یا غلط۔
Ayah 44:37

اَهُمْ خَیْرٌ اَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ١ۙ وَّ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ اَهْلَكْنٰهُمْ١٘ اِنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 44:37 in the Quran reader

بھلا یہ اچھے ہیں یا تبع کی قوم اور وہ لوگ جو تم سے پہلے ہوچکے ہیں ہم نے ان (سب کو ہلاک کردیا بیشک وہ گنہگار تھے

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں محمد آپ کی قوم شان و شوکت میں بڑھی ہوئی ہے یا تبع یعنی حمیر کی قوم اس کا نام اسعد بن ملیکوب اور کنیت ابو کرب تھی، متبعین کی کثرت کی وجہ سے تبع نام پڑگیا اور جو قومیں قوم تبع سے پہلے گزری ہیں مگر ہم نے ان سب کو ہلاک کردیا اس لیے وہ مشرک تھے۔
Ayahs 44:38–40

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا لٰعِبِیْنَ Open ayah 44:38 in the Quran reader

اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان میں ہے انکو کھیلتے ہوئے نہیں بنایا

مَا خَلَقْنٰهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 44:39 in the Quran reader

ان کو ہم نے تدبیر سے پیدا کیا ہے لیکن اکثر لوگ یہ نہیں جانتے

اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ مِیْقَاتُهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 44:40 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ فیصلے کا دن ان سب (کے اٹھنے) کا وقت ہے

(38۔ 40) تو پھر آپ کی قوم ان کی ہلاکت اور ان کے عذاب سے بھی نہیں ڈرتی اور ہم نے تمام مخلوقات کو بےکار نہیں بنایا ہم نے حق قبول کرنے کے لیے بنایا ہے باطل قبول کرنے کے لیے نہیں، مگر مکہ والے نہ اس چیز کو جانتے ہیں اور نہ اس کی تصدیق کرتے ہیں بیشک مخلوق کے درمیان فیصلہ کے دن ان سب کا وقت مقرر ہے۔