44. Surah Ad-Dukhaan

الدخانThe Smoke · 59 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 44:1–3

وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ Open ayah 44:2 in the Quran reader

قسم ہے روشن کتاب کی !

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِیْنَ Open ayah 44:3 in the Quran reader

ہم نے اس کو مبارک رات میں نازل کیا ہے ہم تھے کیونکہ ہم کو مبتلا کرنا منظور تھا خبردار کرنے والے

ترکیب : والکتاب۔ الواوللقسم اناانزلناہ جواب القسم وقیل ہذہ صفۃ للمقسم بہ والجواب اناکنا منذرین واختارہ ابن عطیہ۔ انا کنا مستانفۃ جواب ثان بغیر عطف فیھایفرق ھذہ الجملۃ اماصفۃ اخریٰ للیلۃ وما بینھما اعتراض۔ اومستانفۃ۔ امرا انتصابہ بیفرق ای یفرق فرقالان امرابمعنی فرقا قالہ الزجاج والفراء۔ وقال الاخفش انتصابہ علی الحال ای امرین۔ رحمۃ منصوب لکونہ مفعولا لاجلہ وقیل مصدر فی موضع الحال من ربک متعلق بالرحمۃ رب السماوات الخ قرء الجمہور بالرفع علی انہ مبتداء اوعطف بیان علی السمع۔ و قرء الکوفیون بالجریدلامن ربک۔ تفسیر : قرطبی کہتے ہیں کہ یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی ہے ابن عباس وابن زبیر ؓ کا بھی یہی قول ہے۔ دارمی وغیرہ نے اس کے فضائل نقل کئے ہیں خدا تعالیٰ ان آیات میں قرآن مجید کی تعظیم تین طور سے بیان فرماتا ہے۔ (1) اس کی تعظیم عظمت پھر اس کو تین طرح سے بیان فرمایا اول اس کی قسم کھائی بقولہ و الکتاب المبین۔ دوم اس کو مبین فرمایا کہ اس میں انسان کی تمام دینی ضرورتوں کا بیان ہے یا یہ کہ یہ روشن ہے کوئی بات اس کی خلاف عقل سلیم نہیں۔ سوم اس کا نازل کرنا اپنی طرف منسوب کیا بقولہ اناانزلناہ کہ اس کو ہم نے اتارا کسی بندہ نے ازخود تصنیف نہیں کیا ہے (2) اس کی عظمت باعتبار عظمت وقت کے فی لیلۃ مبارکۃ کہ یہ مبارک رات میں اترا ہے۔ اور ہم نے اس کو کیوں اتارا اناکنامنذرین کہ ہم کو بندوں کا خبردار اور ہوشیار کردینا اور ان کے افعالِ بد کی سزا سے آگاہ کردینا مقصود تھا۔ اس کے بعد لیلۃ مبارکۃ کی عظمت بیان فرماتا ہے
Ayahs 44:4–16

فِیْهَا یُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِیْمٍۙ Open ayah 44:4 in the Quran reader

اس رات میں ہر ایک کام جو حکمت پر مبنی ہے

اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَۚ Open ayah 44:5 in the Quran reader

ہمارے حکم سے تصفیہ پاتا ہے (ازانجملہ نزول قرآن بھی تھا) ہم تھے کس لیے کہ ہم کو رسول بھیجنا منظور تھا

رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُۙ Open ayah 44:6 in the Quran reader

یہ آپ کے رب کی رحمت سے ہوا کیونکہ وہ جو ہے تو سننے والا خبردار ہے

رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ۘ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ Open ayah 44:7 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کا اور اس کا جو ان کے درمیان ہے سب کا رب ہے اگر تم کو یقین آوے۔

لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 44:8 in the Quran reader

اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی زندہ کرتا اور مارتا ہے (وہ) تمہارا رب اور تمہارے اگلے باپ دادا کا بھی رب ہے

بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ یَّلْعَبُوْنَ Open ayah 44:9 in the Quran reader

بلکہ وہ شک میں پڑ کر کھیل رہے ہیں۔

فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَاْتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 44:10 in the Quran reader

پھر آپ بھی اس دن کا انتظار کریں کہ جس دن آسمان سے دھواں ظاہر آوے

یَّغْشَى النَّاسَ١ؕ هٰذَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 44:11 in the Quran reader

جو لوگوں کو ڈھانک لے گا یہ ہے تکلیف کی سزا

رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ اِنَّا مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 44:12 in the Quran reader

(کہیں گے) اے ہمارے رب ! ہم سے عذاب دور کر دے ہم ایمان لاتے ہیں

اَنّٰى لَهُمُ الذِّكْرٰى وَ قَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 44:13 in the Quran reader

وہ کہاں سمجھتے ہیں حالانکہ ان کے پاس کھول کر سنانے والا رسول بھی آچکا

ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا مُعَلَّمٌ مَّجْنُوْنٌۘ Open ayah 44:14 in the Quran reader

پھر وہ اس سے بھی پھرگئے اور کہہ دیا کہ سکھایا ہوا دیوانہ ہے

اِنَّا كَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِیْلًا اِنَّكُمْ عَآئِدُوْنَۘ Open ayah 44:15 in the Quran reader

ہم تھوڑے دنوں کے لیے عذاب دور کئے دیتے ہیں (مگر) تم پھر وہی کرو گے

یَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرٰى١ۚ اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ Open ayah 44:16 in the Quran reader

(پھر بدلہ اس دن لیں گے کہ) جس دن ہم بڑی پکڑ پکڑیں گے ہم بدلہ تو لے کر رہیں گے۔

فیہا یفرق کل امرا حکیم امرامن عندنا کہ اس رات میں ہر حکمت کی بات بیان اور ظاہر کی جاتی ہے۔ یعنی جو حوادث دنیا میں ظاہر ہونے والے ہوتے ہیں (جیسا کہ کسی کا مرنا ‘ کسی کا امیر ہونا ‘ کسی کا فقیر ہونا ‘ بیمار و تندرست ہونا ‘ قحط و ارزانی کا ہونا ‘ سلطنت و حکومت کا تبدل و تغیر وغیرہ) ان کو بارگاہ قدس سے ملائکہ مدبران عالم پر ظاہر کیا جاتا ہے گو لوح محفوظ میں روز اول لکھے گئے تھے مگر اس رات میں انتظام عالم کے لیے ایک سال کے حوادث ان کے مدبر اور کارکن ملائکہ پر ظاہر کئے جاتے ہیں تاکہ اس کی تعمیل کریں۔ یہ اس رات کی بڑی عظمت و عزت ہے اس کے یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ عالم ناسوت میں جو معاملات ظہور کرنے والے ہیں عالم ملکوت میں اس رات میں ظاہر کئے جاتے ہیں۔ گو خدا تعالیٰ کے نزدیک رات دن برابر ہے اور عالم ملکوت میں رات دن نہیں ہے بلکہ زمین پر بسبب آفتاب کے طلوع و غروب کے مگر مراد ایک وقت خاص ہے۔ اور وہ وقت ہم بندوں کو لیلۃ مبارکۃ کے پتے سے بتلایا گیا ہے کہ جس وقت تم پر یہ رات آتی ہے گو وہاں رات نہ ہو مگر اس وقت یہ کارروائی ہوتی ہے۔ اور گو اس کے نزدیک سب اوقات یکساں ہیں مگر اس فاعل مختار نے بعض اوقات کو بعض پر فوقیت دی ہے جب اس رات میں اور حوادث ظاہر ہوتے ہیں تو قرآن مجید کا نزول جو دنیا میں سب سے بڑا حادثہ اور مہتم بالشان ہے۔ بدرجہ اولیٰ ہوتا تھا لیلۃ مبارکۃ میں علمائِ اسلام کے دو قول ہیں۔ جمہور کے نزدیک لیلۃ القدر مراد ہے جو رمضان کے اخیر میں پائی جاتی ہے غالباً ستائیسویں رات۔ اس قول پر اس آیت میں اور دوسری آیات میں جیسا کہ اناانزلناہ فی لیلۃ القدر یا شہر رمضان الذی انزل فیہ القرآن کوئی مخالفت باقی نہیں رہتی۔ ہاں ایک شبہ باقی رہتا ہے کہ باتفاق مورخین قرآن مجید کی سب سے پہلی سورت جو نازل ہوئی تو اقراء باسم ربک الخ ہے اور وہ شوال میں نازل ہوئی تھی اور یہ بھی کہ قرآن مجید ایک بار نازل نہیں ہوا ہے تھوڑا تھوڑا مکہ اور مدینہ میں تیئس برس کے عرصہ میں نازل ہوا ہے پھر کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ وہ لیلہ مبارکہ میں نازل ہوا ہے عام ہے کہ لیلۃ مبارکۃ سے لیلۃ القدر مراد لے جاوے یا شب برات ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ لوح محفوظ سے آسمان دنیا کی طرف سب کا سب قرآن مجید لیلۃ القدر میں نازل ہوا جو رمضان کے مہینے میں واقع ہوئی تھی یا ہمیشہ رمضان ہی میں واقعہ ہوتی ہے پھر وہاں سے تھوڑا تھوڑا حسب حاجت دنیا میں آنا شروع ہوا شوال میں یا رمضان میں جیسا کہ ابن جریر طبری اپنی تفسیر میں کہتے ہیں۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لیلۃ مبارکۃ میں نازل کرنے سے مراد تمام قرآن مجید نہ ہو پس اس کا ایک حصہ آنحضرت ﷺ پر رمضان میں لیلۃ القدر میں نازل ہوا اور آپ نے اس کا اظہار شوال میں دوچار روز بعد کیا پس لیلۃ مبارکۃ میں نازل کرنا فرمانا صحیح ہوگیا۔ عکرمۃ اور ایک جماعت کہتی ہے کہ لیلۃ مبارکۃ سے مراد نصف شعبان کی رات ہے جس کو شب برات بھی کہتے ہیں۔ امام نووی شرح مسلم باب صوم التطوع میں کہتے ہیں یہ قول غلط ہے صحیح پہلی بات ہے۔ شاید عکرمۃ نے شعبان کی اس رات کو فضائل کے لحاظ سے لیلۃ مبارکۃ کہا ہے کیونکہ احادیث میں اس رات کے بھی بہت فضائل آئے ہیں نہ وہ لیلہ مبارکہ کہ جس کا ان آیات میں ذکر ہے واللہ اعلم بالصواب۔ (3) فضیلت باعتبار نازل کرنے والے کے کہ کس نے یعنی بڑے عظیم القدر نے اس کو نازل کیا ہے کماقال اناکنا مرسلین کہ ہم قرآن بھیجنے والے ہیں یا ہم رسولوں اور محمد ﷺ کو بھیجنے والے ہیں اور کیوں ؟ رحمۃ من ربک تیری رب کی رحمت کا یہی مقتضا تھا کہ وہ بندوں کو ورطہ ضلالت سے نکالے۔ پھر فرماتا ہے کہ یہ رحمت بندوں کی حاجت کے موافق واقع ہوئی بقولہ انہ ھوالسمیع العلیم کیونکہ وہ سنتا جانتا ہے ہر حاجت انسانی کا اس کو علم ہے اس کے بعد اور چند اوصافِ الٰہی کا ذکر کرتا ہے تاکہ اس کا معبود حقیقی ہونا ذہن نشین ہو کر اس کی طرف رجوع کریں رب السماوات سے لیکر رب اباء کم الاولین تک۔ پھر فرماتا ہے کہ ایسا قرآن ایسے وقت مبارک میں اپنی رحمت سے ایسے پروردگار عالم ‘ محسن ‘ قدیم ‘ رحیم و کریم ‘ شہنشاہ حقیقی نے بندوں کے فائدہ کے لیے نازل کیا مگر وہ اب بھی نہیں مانتے بل ھم فی شک یلعبون بلکہ شک میں پڑے ہوئے دنیا کے کھیل کود میں مصروف ہیں دارآخرت کی کچھ بھی فکر نہیں۔ اس کے بعد آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتا ہے اور ان مشرکوں کو ایک دنیاوی مصیبت کو پیش آنے کی خبر دے کر متنبہ کرتا ہے فقال فار تقب یوم تاقی السماء بدخان مبین الخ کہ اے رسول آپ اب اس دن کے منتظر رہیں کہ آسمان سے ایک دھواں ظاہر ہو جو سب کو ڈہانک لے گا اور سخت تکلیف دہندہ ہوگا پھر یہ کہیں گے کہ الٰہی اس بلا کو دفع کر دے ہم ایمان لاتے ہیں مگر اس کے بعد بھی کہاں ایمان لاویں گے۔ ان کے پاس بیان کرنے والا رسول آیا اس کو دیوانہ اور کسی کا بہکایا سکھایا ہوا بتایا خیر ہم وہ بلا تو دفع کردیں گے مگر پھر اخروی عذاب میں گرفتار کریں گے جو سخت عذاب ہوگا۔ اس دھوئیں میں علماء کے دو قول ہیں اول جمہور کا قول کہ اس سے مراد وہ دھواں ہے جو قریش پر آنحضرت ﷺ کی بددعا کرنے سے سات برس کا سخت قحط پڑا جس میں مردار اور ہڈیوں کے کھانے کی نوبت پہنچی اور بھوک کے مارے جواد پر دیکھتے تھے تو ایک دھواں ساضعف بصر سے معلوم ہوتا تھا اور عرب ایسے عظیم اور ہائلہ واقعہ کو دخان سے تعبیر کیا کرتے ہیں (کبیر) اس بات کو بخاری نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے نقل کیا ہے بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ دھواں ہے جو قریب قیامت کے ظاہر ہوگا۔ جس کا ذکر بعض احادیث میں ہے۔
Ayahs 44:17–28

وَ لَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ كَرِیْمٌۙ Open ayah 44:17 in the Quran reader

اور ان سے پہلے ہم فرعون کی قوم کو آزما چکے ہیں اور ان کے پاس عزت والا رسول

اَنْ اَدُّوْۤا اِلَیَّ عِبَادَ اللّٰهِ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 44:18 in the Quran reader

(موسیٰ ) آیا کہ خدا کے بندوں (بنی اسرائیل) کو میرے حوالہ کر دو کیونکہ میں تمہارے لیے امانت دار رسول ہوں

وَّ اَنْ لَّا تَعْلُوْا عَلَى اللّٰهِ١ۚ اِنِّیْۤ اٰتِیْكُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۚ Open ayah 44:19 in the Quran reader

اور یہ کہ میری سرکشی نہ کرو میں تمہارے پاس کھلی ہوئی دلیل لایا ہوں

وَ اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ اَنْ تَرْجُمُوْنِ٘ Open ayah 44:20 in the Quran reader

اور میں اپنے اور تمہارے رب سے پناہ مانگ چکا ہوں اس بات سے کہ تم مجھے سنگسار کرو

وَ اِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا لِیْ فَاعْتَزِلُوْنِ Open ayah 44:21 in the Quran reader

اور اگر میرا تمہیں یقین نہیں تو مجھ سے الگ رہو

فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُوْنَ Open ayah 44:22 in the Quran reader

(مگر وہ نہ مانے) پھر اس نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ ناہنجار قوم ہے

فَاَسْرِ بِعِبَادِیْ لَیْلًا اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَۙ Open ayah 44:23 in the Quran reader

(تب ہم نے حکم دیا کہ) میرے بندوں کو راتوں رات لے نکل کیونکہ تمہارا پیچھا کیا جائے گا

وَ اتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْوًا١ؕ اِنَّهُمْ جُنْدٌ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 44:24 in the Quran reader

اور دریا کو جما ہوا چھوڑ کر چلے چلو کس لیے کہ وہ لشکر غرق ہوگا۔

كَمْ تَرَكُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 44:25 in the Quran reader

فرعونی بہت سے باغ اور چشمے

وَّ زُرُوْعٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 44:26 in the Quran reader

اور کھیتیاں اور عمدہ مقامات چھوڑ گئے

وَّ نَعْمَةٍ كَانُوْا فِیْهَا فٰكِهِیْنَۙ Open ayah 44:27 in the Quran reader

اور ایسی نعمت کو بھی جس میں وہ مزے کیا کرتے تھے

كَذٰلِكَ١۫ وَ اَوْرَثْنٰهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 44:28 in the Quran reader

یوں ہوا اور ہم نے ایسے سازوسامان کا اور لوگوں کو مالک کردیا۔

ترکیب : ان ادوا قیل ان مفسرۃ لان مجئی الرسول متضمن لمعنی القول وقیل مخفقذمن الثقیلۃ عباد اللہ اما مفعول بہ لا دوا ای ارسلوھم معی اوانہ مناوی والتقدیر ادوا الی یا عباد اللہ ماھو واجب علیکم من الایمان والاعمال الصالحۃ۔ تفسیر : کفار مکہ کو ان کی سرکشی پر ایک آنے والی بلا سے ڈرایا گیا تھا اب اس جگہ فرعونیوں کا قصہ سنایا جاتا ہے کہ وہ باوجودیکہ تم سے زیادہ مالدار ‘ طاقت ور تھے ان کو رسول نے سمجھایا مگر نہ مانا اور سرکشی سے باز نہ آئے۔ بنی اسرائیل کے پیچھے دوڑے آئے کہ پکڑلاویں اور غلامی میں رکھیں آخر اس کے فضل سے بنی اسرائیل بحرِقلزم سے خشک پار اتر گئے اور فرعونی غرق ہوگئے تمام باغ و مکان و آرایش کی چیزیں چھوڑ گئے اس کے اور وارث ومالک ہوگئے۔ (1) رہوا ای ساکنایقال رھایرھورھوا اذاسکن لایتحرک۔ اکثر اہل لغات و مفسرین رھوا کے یہی معنی بیان کرتے ہیں اور یہ بھی کہ یہ بحر کی صفت ہے مطلب یہ کہ دریائے قلزم تمہارے گزرنے کے وقت موجیں نہ مارے گا ٹھیرا رہے گا یعنی پانی منجمد کھڑا رہے گا تم اس کے درمیان سے صاف نکل جائوگے چناچہ ایسا ہی ہوا بھی جیسا توریت میں مصرحاً مذکور ہے حسن و کعب کہتے ہیں اس کے معنی ہیں رستہ کے کہ دریا کو رستہ بنا۔ نیچر مفسر نے عجب الٹ پلٹ اور اگر مگر ملا کے اس کے معنی یہ بیان کئے کہ دریا کو خشک چھوڑ کر اس کے کنارے کے پاس سے نکل جاؤ جیسا کہ جو اربھاٹے کے وقت ہوتا ہے مگر بجز اس کے کہ خرق عادات و تصرفات خدا وندی کا انکار اس بات کی تحریک دلائے اور کوئی وجہ نہیں کہ ایسے غلط معنی تسلیم کرلیے جاویں۔ (2) اور ثنا ھاقوما آخرین بعض مفسرین نے آیت میں غور نہ کرنے سے یہ سمجھ لیا ہے کہ بنی اسرائیل فرعون اور اس کے لشکر ہلاک ہونے کے بعد قلزم پار سے لوٹ کر پھر مصر میں آئے اور فرعونیوں کی ان چیزوں کے مالک و وارث ہوئے۔ مگر یہ خیال غلط ہے قلزم پاراترنے کے بعد بنی اسرائیل کوہ سینا کی طرف روانہ ہوئے اور چالیس برس تیہ میں ٹکراتے پھرے اور یہیں سینکڑوں واقعات پیش آئے اسی سفر میں موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) بھی انتقال کر گئے۔ ان کے بعد یوشع بن نون ( علیہ السلام) کے عہد میں بنی اسرائیل ملک شام کے مالک و وارث بنے جہاں مصر کے باغوں اور چشموں اور میوئوں اور کھیتوں اور مکانوں جیسے باغ اور چشمے اور میوے اور کھیت اور عمدہ مکانات موجود تھے۔ اور ثناھا کی ضمیر اگر خاص مصر کی اشیائِ مذکورہ کی صرف پھرائی جائے تو قوماً اخرین سے مراد بنی اسرائیل نہیں بلکہ ان غرق ہونے والوں کے علاوہ اور لوگ ساکنان مصر جو ان کے خاندان کے نہ تھے اور اگر ھا کی ضمیر بالخصوص اشیائِ مذکورہ کی طرف نہ پھرائی جاوے بلکہ جنس و نوع و صفت مراد لے جاوے اور یہی قوی بھی ہے تو قوماً آخرین سے مراد بنی اسرائیل ہیں جو ان اقسام کے ملک شام میں جا کر وارث ومالک ہوئے۔ اب کذلک سے کچھ مطلب نہ رہا خواہ اس کو محلا مرفوع پڑھو خواہ منصوب۔ فمابکت آسمان و زمین کسی کو کیا روئیں گے بلکہ یہ ایک محاورے کی بات ہے سخت حادثہ اور بڑے شخص کی موت پر محاورہ میں کہہ دیا کرتے ہیں کہ اس کو آسمان و زمین روئیں گے یعنی لوگ افسوس کریں گے یہ استعارہ یا مجاز ہے۔ سو ان فرعونیوں پر کسی نے افسوس نہ کیا ان کی شرارت سے اور ممکن ہے کہ درحقیقت اچھے لوگوں کے مرنے پر آسمان و زمین اور دیگر چیزیں روتی بھی ہوں۔
Ayah 44:29

فَمَا بَكَتْ عَلَیْهِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ وَ مَا كَانُوْا مُنْظَرِیْنَ۠ Open ayah 44:29 in the Quran reader

پھر نہ تو ان پر آسمان و زمین روئے اور نہ ان کو مہلت ملی۔ 1 ؎

ا ؎ بعض نادانوں نے اس مقام پر دو اعتراض کئے ہیں اول یہ کہ بنی اسرائیل فرعونیوں کے ان مقامات کے کبھی وارث نہیں ہوئے وہ قلزم عبور کرنے کے بعد ملک شام میں حاکمانہ طور پر آئے اس بات کی تواریخ موافق و مخالف شاہد ہیں۔ اس کا جواب جیسا کہ مفسر نے اشارۃً بتایا ہے کہ اگر قوما آخرین سے بنی اسرائیل ہی مراد لیے جائیں تو ان چیزوں کے وارث کیے جانے سے یہ مراد نہیں کہ خاص انہیں چیزوں کا ان کو وارث بنا دیا ہے بلکہ ایسے ہی سازوسامان کا ملک شام میں وارث کردیا جیسا بولتے ہیں وہی باغ وہی کھیت دیے۔ ناز و نعیم جو ہمارے پاس ہیں ہمارے پاس بھی ہیں حالانکہ بالخصوص نہیں ہوتے بلکہ ان جیسے اشتراک جنسی کے لحاظ سے اس اس جنس کے ایک فرد کو دوسرے سے تعبیر کرنا ملک اور ہر قوم کا محاورہ ہے جس پر اعتراض کرنے کا کسی کو حق نہیں۔ دوسرا اعتراض یہ کیا ہے کہ آسمان و زمین کا فرعونیوں کے حال زار پر نہ رونا قرآن میں بتلایا گیا ہے حالانکہ یہ چیزیں نہ روتی ہیں نہ ہنستی ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو یہ استعارہ یا مجاز ہے کہ آسمان اور زمین والوں کو ان کے حال پر ان کی بدکاری و بدکرداری کے سبب حسرت و افسوس نہ آیا دوم آسمان و زمین بھی حکماء کے نزدیک نفوس رکھتے ہیں جیسا پھر رونا ہنسنا ان کی شان کے مناسب ہے وہ پھر ایسا روتے ہنستے ہیں۔ حقانی