44. Surah Ad-Dukhaan

الدخانThe Smoke · 59 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 44:1

حٰمٓۚۛ Open ayah 44:1 in the Quran reader

حا۔ می ... م

1 ؎ حروف مقطعات کی بحث قبل ازیں سورة البقرہ کی آیت ایک میں کی گئی ہے اور یہ بھی قبل ازیں بتایا جاچکا ہے کہ قرآن کریم کی 144 سورتوں میں 29 سورتوں کے شروع میں یہ حروف آئے ہیں (الم) سے چھ سورتیں شروع ہوتی ہیں۔ البقرہ ، آل عمران ، العنکبوت ، الروم ، لقمن اور سورة السجدہ۔ (الر) سے پانچ سورتیں شروع ہوئی ہیں سورة یونس ، ہود ، یوسف ، ابراہیم اور سورة الحجر (حم) سے سات سورتیں شروع ہوئی ہیں سورة ال مومن ، حم السجدہ ، الشوری ، الزخرف ، الدخان ، الجاثیہ اور سورة الاحقاف اور باقی سورتوں پر الگ الگ حروف آئے ہیں جیسے (کھیعص ، ص ، ن ، ق) وغیرہ وغیرہ۔
Ayah 44:2

وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ Open ayah 44:2 in the Quran reader

روشن کتاب (کے رب ) کی قسم

قسم ہے رب ذوالجلال والاکرم کی جس نے واضح کرنے والی کتاب نازل کی 2 ؎ یہ آیت گزشتہ سورة الزخرف کی دوسری آیت اور زیر نظر سورت میں بھی دوسری آیت ہی کے طور پر آئی ہے۔ وائو قسمیہ ہے اور قسمیہ حروف میں رب کا لفظ محذوف ہوتا ہے۔ (مبین) ابان یبین باب افعال کا اسم فاعل ہے اور لازم ، متعدی دونوں طرح استعمال ہوتا ہے پہلی صورت میں معنی ہیں اس رب کی قسم جس نے واضح ، ظاہر اور روشن کتاب نازل کی ہے اور معتدی ہونے کی صورت میں مفہوم ہوگا کہ اس رب کی قسم جس نے ایسی کتاب نازل کی ہے جو حق اور باطل کو واضح کرنے والی ہے۔ راہ ہدایت کو راہ ضلالت سے ممتاز کرنے والی ہے اور اس طرح ایک لفظ سے دونوں صفات کو بیان کردیا گیا ہے کہ کتاب بذات بڑی واضح اور روشن ہے جس میں کسی طرح کا الجھائو اور ابہام نہیں ہے اور یہ کہ یہ کتاب حق و باطل کو نمایاں اور آشکارا کرنے والی ہے۔ لسان العرب میں اس کی مزید وضاحت دیکھی جاسکتی ہے۔
Ayah 44:3

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِیْنَ Open ayah 44:3 in the Quran reader

بلاشبہ ہم نے اس (قرآن) کو ایک مبارک رات میں نازل فرمایا ہے بلاشبہ ہم ڈرانے والے ہیں

بلاشبہ ہم نے اس قرآن کریم کو ایک برکت والی رات میں نازل کیا ہے۔ 3 ؎ (لیلۃ مبرکۃ) قرآن کریم کا نزول شروع ہونے کی رات کو برکت والی رات کہا گیا ہے اور دوسری جگہ قرآن کریم میں اس کو (لیلۃ القدر) بھی کہا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس رات کو اس جگہ (لیلۃ مبرکۃ) کہا گیا ہے اس رات کو سورة القدر کی آیت اول میں (لیلۃ القدر) کہا گیا ہے۔ مفسرین نے اس رات میں پورے قرآن کریم کو نازل کردینے کے معنوں میں لیا ہے اور کہا ہے کہ یہ قرآن کریم پورے کا پورا لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل کردیا گیا اور پھر وہاں سے نجماً نجماً نازل کیا جاتا رہا لیکن ایسی باتوں کی صداقت کے متعلق کچھ نہیں کہا جاسکتا واضح مفہوم یہی ہے کہ قرآن کریم کا نزول اس رات کو ہوا جس کو قرآن کریم نے برکت والی رات بھی کہا اور قدر والی رات بھی قرار دیا اور دونوں ہی نسبتیں صحیح اور درست ہیں کیونکہ دونوں صفتیں خود اللہ تعالیٰ نے بیان کی ہیں۔ بعض مفسرین نے اس رات سے مراد شعبان کی پندرہ تاریخ بھی لی ہے لیکن وہ کسی حال میں بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ قرآن کریم کا نازل ہونا رمضان المبارک کے ساتھ سبھی خاص ہے اور خود قرآن کریم نے اس کی وضاحت فرمادی ہے کہ (شہر رمضان الذی انزل فیہ القرآن) اس لیے ضروری ہے کہ وہ رات رمضان المبارک ہی کی کوئی رات ہو اور احادیت میں اس کی وضاحت کردی گئی ہے کہ (لیلۃ القدر) کو رمضان المبارک کی آخری عشرہ کی راتوں میں تلاش کرو گویا یہ رات رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں سے کوئی ایک رات کہی جاسکتی ہے۔ کیا کوئی رات ، دن ، وقت ، گھڑی ، نحس یا سعد بھی ہوتی ہے ؟ لاریب فی نفسہ کسی رات یا دن کو نحس یا سعد نہیں کہا جاسکتا ہاں ! جو واقعات انسان کو پیش آئے ان واقعات میں سے بعض اوقات ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو پوری قوم کے ساتھ تعلق ہوتا ہے۔ اور وہ واقعہ جس روز ، دن یا رات یا جس گھڑی میں وقوع پذیر ہوتا ہے اس قوم کے لیے وہ وقت ، گھڑی ، یا وقت نحس ہے بالکل وہی دن رات ، گھڑی یا وقت سعد ہے بالکل وہی دن ، رات گھڑی یا وقت نحس بھی ہوسکتا ہے جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ فی نفسہ کوئی دن ، رات گھڑی یا وقت سعد یا نحس نہیں ہوتا بلکہ کسی فرد یا قوم کے لیے ایک واقعہ رونما ہونے کی وجہ سے متعلقین واقعہ کے لیے واقعہ کے نحس وسعد ہونے کے باعث اس وقت کا نام لے لیا جاتا ہے اور ہر زبان میں بول چال کے لحاظ سے اسی طرح بولا جاتا ہے جیسے یہ معلوم ہوجانے کے بعد کہ زمین گردش کرتی ہے اور سورج ایک جگہ اپنے محور پر قائم رہتے ہوئے حرکت کرتا ہے لیکن اس کے باوجود ہر انسان میں سورج ہی کو طلوع یا غروب کہا جاتا ہے کیونکہ مشاہدہ میں ایسا ہی نظر آتا ہے دیکھنے والا خواہ کون ہو ، کیسا ہو اور کہاں ہو اور اس میں یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ یہ نزول قرآن کریم محمد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خاص ہے لیکن اس کے باوجود یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس وقت اللہ نے اس کو تصنیف فرما کر نازل کیا ہے بلکہ یہی سمجھا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں یہ بات پہلے سے موجود تھی کہ جو کچھ نازل ہونا تھا اور جس وقت اس کو نازل ہونا تھا اور لاریب علم الٰہی میں کوئی چیز کسی وقت بھی پوشیدہ نہیں ہے خواہ وہ ہوچکی ہے اور خواہ ابھی اس کو ہونا ہے۔ ہاںٖ ! یہ تسلیم ہے کہ قدرت نے وقت کی تقسیم جو مختلف حصوں میں کررکھی ہے یہ بےمعنی ہیں۔ ہر موسم ، ہر گھڑی ، ہر فصل اپنے اپنے اعتبارات دوسروں سے الگ رکھتی ہے۔ صرف اپنی بیرونی اور ظاہری تاثیرات ہی کی حیثیت سے نہیں بلکہ اپنی اندرونی اور روحانی کیفیتوں ، صلاحیتوں اور مناسبتوں کے لحاظ سے بھی لیکن اس میں بھی بات پھر اسی جگہ چلی جائے گی کہ یہ بات بعض قوموں اور افراد کے لحاظ سے ہے اور علاقہ کے لحاظ سے کیونکہ ان ساری چیزوں کا تعلق مختلف علاقوں میں جانے سے مختلف ہوجاتا ہے۔ موسموں کا تغیر وتبدل ہوتا رہتا ہے لیکن کیا اس کا تعلق مختلف علاقوں کے باعث مختلف نہیں ہوتا۔ اس وقت جنوری کی 6/ تاریخ ہے اور ہمارے ہاں سردی ہے ، ہم ٹھٹھر رہے ہیں حالانکہ ظہر کا وقت ہونے والا ہے لیکن بعض علاقے ایسے بھی ہیں جہاں شدید گرمی پڑ رہی ہے اور بعض علاقوں میں موسم خوشگوار ہے اور بعض میں اتنا یخ ہے کہ پھر کے کوئلے جلاکر وقت پاس کیا جارہا ہے۔ وقت کا کوئی ٹکڑا جب آتا ہے تو اپنے ساتھ اپنی ساری مناسبتوں کو بھی لاتا ہے اور اپنی ساری کیفیتوں کو پھیلادینا چاہتا ہے۔ رات کا سناٹا جب چھانے لگتا ہے تو چرند پرند اور انسان سب اپنے اپنے کام یاد پڑجاتے ہیں اور اس کا بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جب بعض علاقوں میں رات چھارہی ہوتی ہے تو بعض میں سورج کی کرنیں پھوٹنے والی ہوتی ہیں اور وہاں کے لوگ اور دوسری ساری چیزیں اپنے کام کاج میں مصروف ہونے کے لیے اٹھ رہی ہوتی ہیں اور اس طرح ایک طرف ابھی سونے کی تیاریاں ہورہی ہیں کہ دوسری طرف جاگنے کی ہمت باندھی جارہی ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے جس علاقے میں رات آرہی ہے وہ اپنی ساری برکتوں کو ساتھ لارہی ہے اور جس علاقے میں سورج طلوع ہورہا ہے ان علاقوں میں وہ اپنا سماں ساتھ لارہا ہے۔ یہی حال ماہ رمضان کا ہے اور یہی اس کی طاق راتوں کا۔ قرآن کریم نے اس مشکل کو اس انداز اور اس طریقہ سے حلق کردیا ہے کہ کچھ کہا بھی نہیں اور جو کچھ کہنا چاہیے تھا وہ سب کچھ کہہ دیا گیا ہے جیسا کہ ارشاد فرمایا کہ ” شب قدر ہزار مہینوں سے افضل ہے “۔ اور ظاہر ہے کہ یہ مہینے اس لیے استعمال کیے گئے ہیں کہ اگر اس میں سال کا ذکر آتا تو ہر سال میں رمضان المبارک ہوتا اور رمضان میں لیلۃ القدر ہوتی تو اس طرح کہنا درست نہ ہوتا۔ چناچہ قرآن کریم نے ہزار مہینے کہہ کر اس کی وضاحت کردی کہ یہ وہ مہینے ہیں جن میں رمضان شامل نہیں ہے اور نہ ہی لۃ لن القدر شامل ہے کیونکہ لیلۃ القدر ہر رمضان میں ہے لہٰذا یہاں سالوں کا ذکر کرنے کی بجائے مہینوں کا ذکر کردیا گیا جس میں یہی حکمت تھی کہ ان مہینوں میں رمضان المبارک کو شامل نہ کیا جائے تو ایسے ہزار مہینوں کی راتوں سے یہ ایک رات افضل ہے۔ علاوہ ازیں شب رات اور شب قدر میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس میں بہت کچھ رطب ویابس ہے جن باتوں کا قرآن کریم متحمل نہیں ہے۔
Ayah 44:4

فِیْهَا یُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِیْمٍۙ Open ayah 44:4 in the Quran reader

اس رات کو (ہم نے) ہر ایک اہم معاملہ کا فیصلہ کر دیا

اس رات کو ہم نے ہر ایک اہم معاملہ کا فیصلہ کردیا 4 ؎ ( امر حکیم) کے متعلق بھی مفسرین میں بہت بحث چلی ہے اور انجام کام یہ کہا گیا ہے کہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ شب قدر میں آئندہ سال میں ہونے والے تمام کام لوح محفوظ سے نقل کرلیے جاتے ہیں۔ خیروشر ، رزق اور معیار زندگی وغیرہ یہاں تک کہ یہ بھی لکھ لیا جاتا ہے کہ فلاں شخص اس سال یہ یہ کام کرے گا جیسے حج وغیرہ۔ لوح محفوظ کیا ہے ؟ ایک استعارہ ہے جو محض اس لیے بولا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم ازلی ہے جو ہرچیز پر محیط ہے اور علم الٰہی میں کوئی ردوبدل نہیں ہوسکتا اس لیے کہ جن باتوں کا اس نے اعلان کیا ہے ان میں سے ایک بھی ایسی نہیں جو من وعن اسی طرح نہ ہوئی ہو اس لیے ہم یہ فیصلہ کرسکتے ہیں کہ وہ آئندہ بھی بالکل اسی طرح ہوگی جس طرح اس نے ہونے کا فرمایا ہے اور اس کو لکھ دینے سے تعبیر کیا ہے کیونکہ لکھی ہوئی بات زیادہ محفوظ رہ جاتی ہے اس لیے استعارتاً یہ کہا گیا ہے کہ اس میں ہر ایک چیز لکھ دی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں جو بات طے ہے اس کو ساری دنیا مل کر بدلنے کی کوشش کرے تب بھی وہ بدل نہیں سکتی نہ ہی وہ خود بدلتا ہے اور نہ ہی بدلنے دیتا ہے۔ جن چیزوں کے بدلنے یا نہ بدلنے کا اعلان نہیں کیا گیا ان میں جو جو تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں وہ عین اسی قانون الٰہی کے مطابق ہوتی ہے جو اس نے جس چیز کے لیے بنادیا ہے اس جگہ امر حکیم کے دو ہی مفہوم ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ جو حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا جاتا ہے وہ سراسر حکمت پر مبنی ہوتا ہے کسی انسان کی سمجھ میں آئے یا نہ آئے اور اس میں کوئی غلطی اور خامی نہیں ہوتی اور دوسرے یہ کہ وہ ایک پختہ اور محکم فیصلہ ہوتا ہے اس کو بدل دینا کسی کے اختیار میں نہیں ہے اور فیصلہ شدہ باتوں میں جن کا اعلان کیا جاچکا ہے ان میں وہ خود بھی ردوبدل نہیں کرتا مثلاً انسانی تخلیق کے بارے میں ایک طے شدہ اعلان ہے اور کوئی شخص کوشش کرکے اس کی تخلیق کو بدل دے اور اس سے کوئی نئی مخلوق پیدا کردے ناممکن ہی نہیں بلکہ محال ہے ، مرنے جینے ، رزق اور خیروشر کے فیصلے سارے کے سارے پہلے ہی علم الٰہی میں کردئیے گئے ہیں اس طرح کی کہانیوں کی یہاں کوئی گنجائش نہیں ہے اور نہ ہی اس کو قرآن کریم کی تفسیر کہا جاسکتا ہے اور نبی اعظم وآخر ﷺ کی طرف ایسی باتوں کی نسبت کرنا اور کبھی اس کو 51/شعبان کی رات قرار دینا اور کبھی رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق رات قرار دے کر ایسی باتیں اس کی طرف منسوب کرنا اور اسی طرح اللہ تعالیٰ سے بجٹ پاس کرانے کے لیے حلوے مانڈے اور اسی طرح کے بہت سے اسراف کرکے سارے سال کا بجٹ پاس کرالینا نہ اسلامی روایت ہیں اور نہ ہی ان کی کوئی اصل اسلام میں موجود ہے اور ان دنوں میں جو خرافات لوگ کرتے ہیں سب کی سب فضول ہیں۔
Ayah 44:5

اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَۚ Open ayah 44:5 in the Quran reader

ہماری طرف سے یہ حکم ہے بلاشبہ ہم (پہلے بھی) رسول بھیجتے رہے ہیں

اسی رات ایک رسول مبعوت کرنے کا حکم ہمارے ہاں طے تھا۔ 5 ؎ ظاہر ہے کہ جب نبی اعظم وآخر ﷺ کو دوسرے انبیاء رسل بنائے جانے کی طرح رسول اور نبی بناکر بھیجا گیا اور اسی رات کو آپ ﷺ نے جبریل کو دیکھا اور اس نے آپ ﷺ سے مخاطب ہو کر اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچایا اور یہ سلسلہ بنام الٰہی شروع ہوا اور آپ ﷺ کو رسول بنادیا گا تو دوسرے سارے کاموں کی طرح اس کام کا فیصلہ بھی علم الٰہی میں پہلے سے موجود تھا اور پھر جب اس کے اظہار ہونے کا وقت آیا تو اس کو ظاہر کردیا گیا اور رب ذوالجلال والاکرام جو آدم (علیہ السلام) سے لے کر عیسیٰ (علیہ السلام) تک نبی ورسول بھیجتا رہا اس نے اپنا آخری رسول محمد رسول اللہ ﷺ کو بھی مبعوث فرمادیا اور جب رسول مبعوث فرمادیا تو گویا وہ احکام جو اس رسول ﷺ کے ذریعے سے دنیا والوں کو دئیے جانے والے تھے وہ سب کے سب اتار دئیے گئے کیونکہ جنگ جن چیزوں کے متعلق جو جو فیصلہ تھا وہ حتمی تھا اور حتمی کام ہوچکا ہو یا ہونے کا طے کرکے اس کا اعلان کردیا ہو دونوں صورتیں صحیح اور درست ہیں اور ظاہر ہے کہ اس سے مراد کسی ایک سال کے قضا وقدر کے فیصلوں کا کسی ایک جگہ سے اتار کر دوسری جگہ رکھ دینا جیسا کہ کسی انسان کے علم میں پہلے نہیں اب بھی نہ ہونا کچھ مفہوم نہیں رکھتا۔ ہاں ! بلاشبہ اس کی برکت یہی ہے کہ اس رات میں وہ پر حکمت باتیں نازل ہوئیں جو ہدایت اور اصلاح عالم کا موجب ہوئیں اور اس کے نزول کے بعد جو ترقی وایجادات ہوئیں وہ گزشتہ کسی دور میں نہ ہوئیں اگرچہ گزشتہ ادوار میں بھی بہت کچھ ہوچکا تھا۔ اس لیے جو کچھ ہو اور جو کچھ ہورہا ہے اور جو کچھ قیامت تک ہوگا وہ سب کا سب اس میں ایک طرح سے آگیا اور وہ امور جو ابھی تک کھولے نہیں گئے نبی اعظم وآخر ﷺ کے دور رسالت رسول اللہ ﷺ ہی کے لیے اعلان کردیا گیا ہے اور آپ ﷺ کے اس دور پر بھی محیط کہا جاسکتا ہے جس دور میں قرآن کریم نازل ہوتا رہا اور اس رحمت کے نزول کے بعد اس رحمت کے قائم رکھنے کی ذمہ داری بھی خود رب کریم نے اپنے ذمہ لے لی اور دنیا نے دیکھا کہ ساری کتب سماوی میں صرف اور صرف یہی ایک کتاب ہے جو حرف بہ حرف اسی طرح محفوظ ہے جس طرح اس کا نزول ہوا اور رہتی دنیا تک اس میں کوئی شخص ایک ذرہ برابر بھی ردوبدل یا کمی بیشی نہیں کرسکے گا اس حکم کا اعلان بعثت نبوی کے ساتھ ہی کردیا گیا اور نبی اعظم وآخر ﷺ کو ہی اس فضیلت کے ساتھ معبوث فرمایا گیا۔
Ayah 44:6

رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُۙ Open ayah 44:6 in the Quran reader

(اور یہ قرآن) آپ ﷺ کے رب کی طرف سے رحمت ہے بلاشبہ وہ سننے والا جاننے والا ہے

رب کریم کی طرف سے یہ رحمت ہے جو سننے والا علم والا ہے 6 ؎ جو کچھ نبی کریم ﷺ پر نازل ہوا وہ بلاشبہ رحمت خداوندی ہے اور یہ رحمت سینہ اقدس پر نازل کی گئی ہے وہ بھی رحمۃ للعالمین ﷺ کی ذات گرامی ہے اور وہ اللہ جو اس کا نازل کرنے والا ہے اس کی رحمت کی وسعتوں نے ساری کائنات کو اپنے پردہ رحمت میں چھپا رکھا ہے اور اعلان کردیا کہ (رحمتی وسعت کل شی) میری رحمت نے ہر ایک چیز کو گھیرے میں لے رکھا ہے اور اسی کی رحمت بےپایاں نے اس رات کو برکت والی رات اور نبی اعظم و آخر ﷺ کو خاتم النبین اور رحمۃ للعالمین بناکر مبعوث فرمادیا اور بلاریب وہ اللہ رب ذوالجلال والا کرام سننے والا اور جاننے والا ہے کہ انسانوں کے دلوں کے اندر جو کچھ پوشیدہ ہے اس کو جانتا ہے اور انسان ہونٹ ہلاکر جو کچھ کہتا ہے وہ کتنا ہی آہستگی سے کہے اس کے سننے والا ہے۔ لیکن نہ تو وہ سننے کے لیے کانوں کا محتاج ہے اور جاننے کے لیے کسی سر اور اس کے اندر بھیجے کا۔ بلاشبہ نبی اعظم وآخر ﷺ رحمۃ للعالمین ہیں اور انسانوں کے لیے خصوصاً رحمت ہیں کیونکہ مقصود کائنات ہی دراصل انسان ہے اور اس کائنات میں جو کچھ ہے وہ سب کا سب انسان ہی کی خاطر بنایا گیا ہے۔ دنیا کی ایک ایک چیز کو دیکھتے جائو اور بنظر غائر دیکھو کہ کسی چیز کے پیدا ہونے کا اس کو کیا فائدہ ہے ؟ آپ یقینا اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ فی نفسہ کسی چیز کے پیدا ہونے کا اس کو کوئی فائدہ نہیں ہے جتنا فائدہ ہے سب کا سب انسان کے لیے ہے کیونکہ یہی اس کائنات کی ہرچیز سے استفادہ کررہا ہے جو چیز ظاہر ہیں ان سے ہر کہ ومہ فائدہ حاصل کررہا ہے اور بغیر کسی محنت اور کاوش کے فائدہ پارہا ہے اور جو چیزیں پوشیدہ اور مخفی رکھی گئی ہیں ان سے مخصوص لوگ فائدہ حاصل کر رہے ہیں اور ان کے فائدہ کے ساتھ دوسروں کا فائدہ بھی وابستہ کردیا گیا ہے اور اس طرح ہر کڑی دوسری کڑی سے ملادی گئی ہے اور دنیا کی کوئی چیز ایسی نہیں جس سے انسان نے فائدہ حاصل نہ کیا ہو یہاں تک کہ انسان کے دشمن درندے اور کانٹے والے زہریلے جانوروں سے بھی اس کو فائدہ پہنچایا ہے یہ دوسری بات ہے کہ جہاں پھول ہوتا ہے ساتھ کانٹا بھی اس نے لگادیا ہے اور اس میں بہت بڑی حکمت مخفی رکھی گئی ہے اور یہی اس کے سمیع وعلیم ہونے کی واضح نشانی ہے۔
Ayah 44:7

رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ۘ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ Open ayah 44:7 in the Quran reader

(اللہ ہی) پروردگار ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اگر تم یقین رکھتے ہو (تو یہ بات یقینی ہے)

وہ آسمانوں زمین کا رب ہے اور ہر اس چیز کا جو ان دونوں کے درمیان ہے 7 ؎ پیچھے لوگوں کو ڈرایا بھی گیا اور خوشخبری بھی سنائی گئی ہے اب ان سے کہا جارہا ہے کہ اس ڈرانے اور خوشخبری دینے کو تم لوگ محض ایک ڈراواہی نہ سمجھو کہ محض تم کو ڈرانے اور دھمکانے کے لیے زمین پر پائوں مارا جارہا ہے نہیں نہیں یہ عین حقیقت ہے کہ ہر ایک چیز پر اصل قبضہ اسی ذات اقدس ہی کا ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور ہر اس چیز کا بھی جو آسمانوں اور زمین کے درمیان ہے۔ وہ جو چاہتا ہے ہوتا ہے اور اسی کا قانون ہے کہ جو اسی کا قانون ہے کہ جو اس کائنات کے بندھن کو ایک دوسرے سے باندھ کر چلائے جارہا ہے۔ بلاشبہ ہے تو یہ حقیقت لیکن تم کو بھی یقین آئے ؟ انسان کو یقین دلانے کے لیے دلائل کی ضرورت ہوتی ہے لیکن وہ بھی ان ہی کے کام آسکتے ہیں جو کسی دلیل کو دلیل مان لیں اگر کوئی ماننے کے لیے تیار ہی نہ ہو تو وہ دلائل کے ڈھیر کو کوڑا سمجھ کر پھینک دے گا اور اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر بدستور اڑا ہی چلا جائے گا اور کسی انسان کی منطق بھی اس سے کچھ نہیں منواسکتی۔ ہاں ! نہ ماننے والوں کو اللہ تعالیٰ کا عذاب ہی منواسکتا ہے اگرچہ اس وقت ماننے کا کچھ فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ جو کچھ ہونا ہوتا ہے وہ ہوچکتا ہے اور گولی لگ چکنے کے بعد یہ تصور کرنا کہ خدا کرے جھوٹ ہو سراسر بےقوفی نہیں تو اور کیا ہے ؟
Ayah 44:8

لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 44:8 in the Quran reader

اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی جلاتا ہے اور وہی مارتا ہے وہی تمہارا رب ہے اور تمہارے پہلے باپ دادوں کا (بھی)

اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہی زندہ کرتا اور وہی مارتا ہے 8 ؎ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے سوا کوئی الٰہ اور معبود نہیں نہ آسمانوں میں نہ زمین میں لیکن کتنے لوگ ہیں جنہوں نے اپنے جیسی مخلوق کو رب بنالیا ہے اور اگر رب نہیں بنایا تو رب کے لیے سفارش کرنے والا بنالیا ہے حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے جو ہمیشہ سے زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گی وہ اول بھی ہے اور آخر بھی ، ظاہر بھی ہے اور باطن ، اسی سے زندگی ہے اور وہی ہے جو کائنات کی ہرچیز کو موت سے دوچار کردیتا ہے۔ تمہارا رب ہے تو وہی اور تمہارے آبائو اجداد کا رب ہے تو وہی۔ وہی اس قابل ہے کہ اس کی پرستش کی جائے اگر تمہارے آبائو اجداد نے اس رب کریم کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا رب بنالیا ہے تو بلا ریب یہ ان کی بھول ہے ، جہالت ہے تمہارے لیے بہتر ہے کہ تم اس بات کو اپنے لیے دلیل نہ بنائو اور اچھی طرح سمجھ لو کہ تم سے ان کے متعلق یقینا کوئی بات نہیں پوچھی جائے گی وہ ایک جماعت تھی جو گزر گئی تم کو اپنا حساب دینا ہے اور تمہارے آبائو اجداد کو اپنا۔ نہ تم ان کے لیے کچھ کرسکتے ہو اور نہ وہ تمہاری آخرت کے لیے کچھ کرسکتے ہیں۔ تم سے تمہارے متعلق پوچھا جائے گا اور ان سے ان کے اعمال کے بارے میں پوچھ گچھ ہوگی۔ صبح کا بھولا اگر شام کو واپس گھر آجائے تو خیر ہے جب تک اس ناک میں سانس ہے تمہارے لیے سنبھلنے کا وقت ہے کل نہیں تو آج ہی سمجھ جائو اسی میں تمہارا فائدہ ہے اور اسی میں تمہاری بہتری۔ یہ بات سمجھنے کی ہے اللہ کرے کہ تم سمجھ جائو۔
Ayah 44:9

بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ یَّلْعَبُوْنَ Open ayah 44:9 in the Quran reader

بلکہ وہ شک میں پڑے کھیل میں مصروف ہیں

یہ لوگ تو اپنے شک میں مبتلا ہیں اور اسی میں کھیل رہے ہیں 9 ؎ جو بات فی نفسہ حق ہے اگر اس کو ساری دنیا جھوٹ کہہ دے تو وہ جھوٹ نہیں ہوجائے گی اور اسی طرح ایک بات جھوٹ ہے تو ساری دنیا کے سچ کہہ دینے سے سچ نہیں ہوسکتی۔ انکار کی اصل وجہ کیا ہے ؟ محض شک ہے کہ حق کو شک کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے اور اس طرح بھلا حق کا بھی کچھ نقصان ہے ؟ ہرگز نہیں کیونکہ جو کچھ حق ہے وہ کسی کے شک کرنے سے شک نہیں ہوسکتا اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کوئی معبود نہیں یہ ہے اور اگر ساری دنیا غیر اللہ کی پرستش شروع کردے تو اس سے اللہ میاں کا کیا نقصان ہوگا ؟ اور اگر ساری دنیا نیک ہو کر راہ راست پر آجائے تو اس ذات والا صفات کا اس میں کیا فائدہ ہوگا جبکہ وہ نفع ونقصان سے پاک ہے۔ اس میں نقصان ہے تو محض ان کا جو شک میں مبتلا ہیں اور اس دنیا کی زندگی سے فائدہ حاصل کرتے ہوئے آخرت کے سنوارنے کی کچھ فکر نہیں کرتے بلکہ آخرت کو ایک ڈھکوسلا اور مذاق سمجھتے ہیں اور اگر یہ اس کے قائل ہوں گے تو اس وقت جب اس کے عذاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے اس لیے ایسے لا ابالی لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دینا ہی فائدہ ہے کہ محض اپنے آپ کو غم میں مبتلا نہ کیا جائے۔ بلاشبہ یہ نبی اعظم وآخر ﷺ کو ایک طرح سے تسلی دی جارہی ہے کہ اگر وہ لوگ شک میں مبتلا ہیں اور سیدھی بات کو ٹیڑھا سمجھنے سے باز نہیں آرہے تو جس کام میں مصروف ہیں اسی میں ان کو رہنے دیں وہ خود اپنے انجام کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔
Ayah 44:10

فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَاْتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 44:10 in the Quran reader

پس اس دن کا انتظار کیجئے جس دن آسمان سے ایک دھواں ظاہر ہو گا

اس دن کا انتظار کرو جب آسمان کو ایک دھوئیں کی شکل میں تبدیل کردیا جائے گا 01 ؎ نبی اعظم وآخر ﷺ سے پیش تر جتنے نبی ورسول آئے وہ کسی ایک بستی ، علاقہ اور قوم کی طرف آئے اس کی شہادت کتاب وسنت میں واضح اور اظہر من الشمس ہے اس کی وضاحت کی زیادہ ضرورت نہیں اگر کسی صاحب کو تسلی کرنا ہے تو وہ سورة الاعراف ، سورة ہود ، سورة الشعراء کا مطالعہ کرکے دیکھ لے جہاں گزشتہ انبیاء ورسل کا ذکر کیا گیا ہے۔ بہرحال ان کی قوم نے جب ان کی تعلیمات کو جھٹلادیا اور پھر جھٹلاتے ہی چلے گئے تو انجام کار اس نبی کو اللہ نے حکم دیا کہ اس قوم کو خبردار کردو کہ جو ڈھیل تم کو دی گئی اس کی مدت ختم ہونے والی ہے اور اتنی مدت کے اندر اندر تم کو عذاب الٰہی اپنی لپیٹ میں لے لے گا اگر تم اپنی ان حرکتوں سے باز نہ آئے اور قوم نے جب اس آخری وارننگ کی بھی پروانہ کی تو اللہ نے اپنے نبی ورسول کو اطلاع دی کہ تم اس علاقہ کو چھوڑ کر نکل جائو اور اپنے ساتھیوں کو بھی اپنے ساتھ لے نکلو ہم اس علاقہ کو تباہ کرنے والے ہیں اس طرح نبی اور اس پر ایمان لانے والے جب نکل گئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنا عذاب نازل کردیا تو اس عذاب نے ان کو صفحہ ہستی سے اس طرح مٹایا کہ ان میں سے ایک بھی نہ چھوڑا اور اس پورے علاقہ کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا پھر اس نبی ورسول پر ایمان لانے والوں سے اس علاقہ کو جو آباد ہونے کے قابل تھا آباد کروادیا اور آہستہ آہستہ وہ لوگ یعنی ان کی نسلیں وہی کام کرنے لگیں جو ان کے آبائو اجداد کرتے رہے تھے جن کو تباہ وبرباد کردیا گیا حتی کہ اللہ تعالیٰ نے اس علاقہ ، بستی اور قوم میں پھر کوئی دوسرا نبی ورسول بھیج دیا اور یہ سلسلہ عیسیٰ (علیہ السلام) تک بدستور چلتا رہا۔ عیسیٰ (علیہ السلام) قوم بنی اسرائیل کے آخری نبی ورسول تھے اس جگہ لاکر نبوت کا وہ سلسلہ جو ابراہیم (علیہ السلام) سے اسحاق (علیہ السلام) کی نسل میں جاری کیا تھا اس کو بند کردیا اور اب پیش گوئیوں کے مطابق بنی اسمعیل سے اپنا آخری نبی ورسول مبعوت فرمایا جس کا نام محمد بن عبداللہ ہے اور آپ ﷺ کو صرف ایک قوم بنی اسمعیل ہی کی طرف رسول بناکر نہ مبعوث کیا گیا بلکہ اس وقت جتنی مخلوق اللہ نے اس دھرتی پر پھیلائی تھی خواہ وہ کسی قوم ، کسی ملت ، کسی علاقہ و بستی سے تعلق رکھتی تھی سب کے لیے رسول بنادیا اور آپ ﷺ سے اعلان کروادیا کہ میں (کافۃ للناس) ساری انسانیت کی طرف رسول بناکر بھیجا گیا ہوں اگرچہ آپ ﷺ کے مخاطبین اول قریش اور اس علاقہ ہی کے لوگ تھے جس علاقہ میں آپ ﷺ مبعوث ہوئے لیکن آپ ﷺ کے اس اعلان نے پوری انسانیت کو مخاطب کیا اور پوری دنیا کے انسان آپ ﷺ کے امت قرار دئیے گئے پھر نبوت و رسالت کے ختم کرنے کا اعلان کردیا اور اپنی آخری کتاب قرآن کریم میں اپنے نبی ورسول کے ذریعہ سے بتادیا کہ اب دنیا میں کوئی نیا یا پرانارسول نہیں آئے گا اگر کوئی شخص ایسا دعویٰ کرے گا تو وہ جھوٹا اور کذاب ہوگا۔ اسطرح جب پوری انسانیت کے لیے آپ ﷺ کو رسول بنادیا گیا تو اب اس قوم کے مخالفین اور موافقین پوری دنیا میں گویا پھیل گئے اور پوری دنیا کی سرزمین آپ ﷺ کی زیر نبوت و رسالت آگئی تو ظاہر ہے کہ اب آپ ﷺ کے سارے مخالفین کو ختم کرنے کے لیے اس پورے نظام کو درہم برہم کیا جائے تو کیا جاسکتا ہے جب تک اس نظام کو چلانا اور باقی رکھنا ہے تو اس پوری کائنات کے اندر آپ ﷺ کے مخالفین ومعاندین بھی رہیں گے اور آپ ﷺ کے ماننے والے اور آپ ﷺ کی تعلیمات کے مطابق اعمال کرنے والے بھی۔ اس لیے اس امت کے لیے چھوٹے چھوٹے عذاب وقتاً فوقتاً دئیے جانے کا اعلان کردیا کہ ہم لوگوں کی رہنمائی کے لیے اس پوری قوم کے اندر کبھی کسی علاقہ میں اور کبھی کسی علاقہ میں عذاب کا ایک جھٹکا لگائیں گے تاکہ لوگوں کے دل ہل جائیں اور ان حالات سے ڈر کر ہی اگر اپنی اصلاح کرنا چاہیں تو کرلیں۔ چناچہ ارشاد فرمایا کہ ( ولنذ یقنھم من ال عذاب الادنی دون ال عذاب الاکبر لعلھم یرجعون) ” اس بڑے عذاب سے پہلے ہم اس دنیا میں کسی نہ کسی چھوٹے عذاب کا مزہ نہیں چکھاتے رہیں گے تاکہ اگر وہ چاہیں تو اپنی باغیانہ روش سے باز آجائیں۔ “ اگر وہ باز آئیں گے تو ان پر انعامات دنیا کی بارش کریں گے لیکن ان سے سب لوگ مستفید ہوں گے ، باغی بھی اور فرمانبردار بھی اور یہ سلسلہ اس بڑے عذاب تک بدستور چلتا رہے گا اور ہمارا قانون یہ ہے کہ (ومن اظلم ممن ذکر بایت ربہ ثم اعرض عنھا انا من المجرمین منتقمون) ” اور اس سے بڑا ظالم کون ہوگا جسے اس کے رب کی آیات کے ذریعہ سے نصیحت کی جائے اور پھر وہ ان سے منہ پھیرے ظاہر ہے کہ ایسے مجرموں سے (مہلت دئیے جانے کے بعد) ہم ضرور انتقام لیں گے “۔ اس کی مزید وضاحت سورة حم السجدۃ 14 کی آیت 12 ، 22 میں ملے گی ، وہاں سے ملاحظہ کریں۔ زیر نظر آیت میں انہی نشانیوں میں سے ایک نشانی کا ذکر کیا گیا ہے کہ جو نشانیاں چھوٹے چھوٹے عذاب کے متعلق بیان کی گئی ہیں اور ان نشانیوں کو عذاب الٰہی کے جھٹکوں سے تعبیر کیا جاسکتا ہے اور انہی عذاب کے جھٹکوں میں سے ایک عذاب کے جھٹکے کے انتظار کرنے کا ذکر اس جگہ کیا گیا ہے اور اس کی صورت یہ بتائی گئی ہے کہ آسمان اس طرجح نظر آئے گا جیسے دھواں ہی دھواں ہے اور یہ بات اتنی واضح ہوگی کہ ہر کہ ومہ اس کو اسی صورت میں دیکھے گا اور ظاہر ہے کہ اس طرح سورج کے نظر آنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور ظاہر ہے کہ یہ بات ایک دو دن کے لیے نہیں ہوگی کیونکہ ایسی نشانیاں تو اکثر نظر آتی رہتی ہیں اور بادلوں کے دنوں میں خصوصاً ایک دوروز تک سورج دکھائی نہیں دیتا لیکن یہ صورت حال ایسی ہوگی کہ یقینا عام لوگوں کو گھبرادے گی اور خواص بھی سوچنے پر مجبورہوں گے اور ظاہر ہے کہ یہ صورت حال ان علاقوں میں ہوگی جن علاقوں میں اکثر سورج نظر آتا ہغے اور سال میں چند روز ہی ایسے ہوسکتے ہیں کہ سورج نظر نہ آتا ہو اور اس کا عکس بھی ممکن ہے کہ جن علاقوں میں مسلسل یہ صورت حال پہلے ہی چلتی آرہی ہے ان میں اس کا الٹ ہوجائے اور آب وہوا کے اثرات اس طرح بدل جائیں کہ سورج کی تمازت اور صاف آسمان کے نیچے رہنے والے اس صورت حال سے پریشان ہوجائیں اور ایسے موسم اور ایسی آب وہوا میں رہنے والے صاف آسمان اور سورج کی تمازت کے باعث پریشان ہوجائیں بہرحال یہ وہ پیش گوئی ہے جس میں صورت حال میں خاصی تبدیلی بھی آجانے کا ذکر ہے اور اس تبدیلی کی اصل صورت حال کی نشاندھی بھی کردی گئی ہے کہ مسلسل سورج کے نظر نہ آنے اور آسمانوں کی طرف دیکھنے سے دھواں ہی دھواں نظرآئے اور لاریب آج کل اس کے جھٹکے شروع ہوگئے ہیں اور موسموں میں تغیر تبدل ہورہا ہے اور دن بدن ہوتا ہی چلا جارہا ہے اب قابل غور بات یہ ہے کہ اس بوڑھی دنیا کی عمر کے حساب ہی سے اس کا یہ جھٹکا بھی ہوگا جو ظاہر ہے کہ ہوتے ہوتے ہی ہوگا کیونکہ جس چیز میں تدریج نہ رہے وہ جھٹکا تو اتنا شدید ہوگا کہ اس کو قیامت ہی کہا جاسکتا ہے اور یقینا اس سے سارانظام درہم برہم ہوجانا یقینی ہے اور اس وقت جس چیز کا نام ہم ترقی رکھ رہے ہیں اس کا انجام بہرحال تنزلی ہوگا کیونکہ اس دنیا کا نظام ضدین پر قائم ہے اور ایک ضد کے جاتے ہی دوسری قدم رکھ دیتی ہے انسان اپنی عمر سے اس کا اچھی طرح اندازہ لگاسکتا ہے کہ کیا ترقی کا انجام تنزلی نہیں ہوتا اور جس چیز کو ہم بڑھنا اور بڑا ہونے سے تعبیر کرتے ہیں کیا اس کا نتیجہ اور انجام ختم ہونے سے ظاہر نہیں ہوتا۔ ایک بچہ پیدا ہوتا ہے اور وہ جوں جوں بڑا ہوتا ہے والدین کو نظر آتا ہے کیا والدین خوش نہیں ہوتے لیکن کیا اس کی حقیقت یہی نہیں ہے کہ اس بچے کو ایک ایک سانس چھوٹا کر رہا ہے اور پیدا ہوتے ہی گھاٹے میں جارہا ہے اور اس کا بڑھنا اس کو آہستہ آہستہ کم کرتا جارہا ہے۔ اس آیت کی تفسیر دو طریقوں سے کی گئی ہے ایک طریقہ سے اس کو قیامت کے نشانات میں سے ایک نشانی قرار دیا گیا ہے اور ایک طریقہ نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس سے مکہ میں قحط سالی سے جو صورت حال پیدا ہوئی تھی اس کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ قحط سالی نبی اعظم وآخرت ﷺ کے ہجرت کے بعد آپ ﷺ کی بددعا کے نتیجہ میں عذاب الٰہی کے طور پر لائی گئی تھی۔ نبی اعظم وآخر ﷺ نے بددعا کی تھی یہ تو ہماری سمجھ میں بات نہیں آتی کیونکہ جہاں تک نبی اعظم وآخر ﷺ کی سیرت طیبہ کا ذکر ہم نے پڑھا ہے اس میں نازک سے نازک مقامات پر پہنچ کر بھی نبی رحمت ﷺ کی زبان اقدس سے ہم نے ایسا کلمہ نہیں سنا اور میدان جنگ میں کفار کے قدموں کو ہلادینے کی دعا کو بددعا نہیں کہا جاسکتا اور آیت کی روانی مضمون سے بھی واضح کرتی ہے کہ اس سے وہ قحط جس کی طرف تفسیری روایات میں اشارہ کیا گیا ہے مراد نہیں لیا جاسکتا بلکہ جس عذاب میں کفار مکہ کو مبتلا کیا گیا تھا وہ میدان جنگ میں نہتوں سے ان کا قتل ہونا اور مسلسل شکست پر شکست کھانا بھی ہوسکتا ہے اور اگر اس دوران قحط سالی کے جھٹکے بھی آئے ہیں تو ان کو اس آیت کے مضمون سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا جس میں اتنی بڑی پیش گوئی کی گئی ہے۔ اس عذاب کے انتظار کرنے کا ذکر ہے اس لیے تفسیری روایات میں اس کے اندربہت اضافے کیے گئے ہیں اور رطب ویابس اس میں بھردیا گیا ہے تاہم اگر کھوٹے اور کھرے میں فرق کرنا مشکل ہوجائے تو بھی کھرے اور کھوٹے دونوں کو پھینک دینا کوئی عقل مندی نہیں اس میں امتیاز کرنا ہی مفید ہوسکتا ہے وہ جہاں تک انسان کرسکے عقل ودرایت کا ہتھیار اللہ نے ایسا فراہم کیا ہے اگر وہ خالی الذہن ہو کر استعمال کیا جائے تو کھرے اور کھوٹے کو بالکل الگ الگ کردیتا ہے اور اس کے مقابلہ میں انسان کے اختراعی آلات و اصول اتنا کام نہیں دیتے جتنا کہ اللہ تعالیٰ کے یہ آلات و اصول واضح کردیتے ہیں لیکن خیال رہے کہ خالی الذہن ہونا ہی اس معاملہ میں سب سے زیادہ مشکل ہے۔ ہمارے بزرگ مفسرین نے اس آیت کی جتنی وضاحت کی ہے اور جہاں جہاں وہ نکل کر گئے ہیں اور جو کچھ انہوں نے بیان کیا ہے اور پھر یہ بھی کہ نئے اور پرانے مفسرین میں جو فرق ہے اور جن مفسرین نے روایات کا تانا بانا بن کر دکھایا ہے اور جن مفسرین نے اس سارے کے سارے کا تے ہوئے کو جس طرح ٹکڑے ٹکڑے کیا ہے ہماری نظر میں ہے لیکن اس ساری ادھیڑ بن کو سامنے لانا اور پھر اس سے کوئی نتیجہ نکالنا صرف مشکل ہی نہیں بلکہ بےفائدہ بھی ہے کیونکہ قلمی بھیڑ بھڑنے کا نہ پہلے کوئی فائدہ ہوا اور نہ اب ہوگا ہماری تفہیم میں جو کچھ آیا ہم نے براہ راست قرآن کریم کی آیت کے پیش نظر وہ بیان کردیا ہے اور اس وقت جو اس کے جھٹکے لگنا شروع ہوچکے ہیں اگر اس وقت نہیں تو ان شاء اللہ العزیز آنے والی نسلوں کو وہ خود منوالیں گے کیونکہ اس دھوئیں کا اتفاقی نظر آنا نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسی صورت حال ہے جس سے دوچار ہو کر انسان فی الواقع گھبرا اٹھیں گے اور آنے والی آیت اس کی وضاحت کررہی ہے کہ یہ دھواں عذاب الٰہی بن کر ان کو گھیرے میں لے لے گا جو ایک درد ناک عذاب بن کر ظاہر ہوگا اور اس کی صحیح صورت حال وہی ہے جو ہم نے اوپر عرض کردی ہے۔
Ayah 44:11

یَّغْشَى النَّاسَ١ؕ هٰذَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 44:11 in the Quran reader

جو لوگوں کو گھیر لے گا یہی دردناک عذاب (کی ابتدائ) ہے

یہ دھواں سب لوگوں پر چھاجائے گا جو ایک درد ناک عذاب ہوگا 11 ؎ وہ چھا جانے والا دھواں کیا ہے ایک درد ناک عذاب ہے کہ ” پائے رفتن نہ جائے ماندن “ کوئی بھاگے تو کیسے اور یہ بھی کہ بھاگ کر جائے تو کہاں ؟ گویا فرار کوئی راہ نہیں ملے گی اور کوئی ایسا نظر بھی نہیں آئے گا جس کو اس درد ناک عذاب سے بچانے کی اپیل ہی کرے اس لیے کہ اس عذاب میں سب کے سب برابر کے شریک ہوں گے اور بلاشبہ ہر ایک آدمی زد میں ہوگا اور یہ بھی جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ یہ کوئی وقتی چیز نہیں ہوگی بلکہ مسلسل جس سے ہر ایک چیز گھبرا جائے گی اور وہ سب کی کمر توڑ کر رکھ دے گا اور ہر طرف سے الامان ، الامان کی صدائیں بلند ہوں گی۔
Ayah 44:12

رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ اِنَّا مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 44:12 in the Quran reader

اے ہمارے رب ! اس عذاب کو ہم سے دور کر بلاشبہ ہم ایمان لاتے ہیں

لوگ کہیں گے کہ پروردگار ہم سے عذاب ٹال دے ہم ایمان لاتے ہیں 21 ؎ اس وقت لوگ پکار اٹھیں گے کہ اے ہمارے رب ! اس عذاب کو ہم سے ٹال دے ، ہم ایمان لانے والے ہیں۔ ان کی اس بات نے گویا ثابت کردیا کہ ” لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے “ آرام اور پیار سے ان کو سمجھایا گیا لیکن ان کے کان پر جوں تک نہ رینگی لیکن جونہی اس عذاب الٰہی کا جھنجھوڑا آیا تو رام رام کرنے لگے۔ کہاں وہ وقت کہ با آواز بلند مطالبہ جاری تھا کہ عذاب ، عذاب جو تم کرتے رہتے ہو اگر فی الواقع کوئی عذاب ہے تو وہ آکیوں نہیں جاتا اور کہاں یہ وقت کہ عذاب کو دیکھتے ہی جب یقین آگیا ہے کہ یہ دھواں دواں کچھ نہیں ہے یہ تو وہی عذاب ہے تو اب بلبلانے لگے ہیں اور رو رو کر آہ وزاری کرنے لگے ہیں ، گردن ہلانے اور منہ بسورنے لگے ہیں اور ایمان لانے کی سو سو سوگند کھانے لگے ہیں۔
Ayah 44:13

اَنّٰى لَهُمُ الذِّكْرٰى وَ قَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 44:13 in the Quran reader

(اب) ان کے لیے نصیحت حاصل کرنے کا موقع کہاں ؟ ان کے پاس تو (ہمارا) رسول (بات کو) واضح کردینے والا تھا

اب نصیحت کا موقع کہاں ؟ ان کے پاس تو ہمارا رسول بات کو واضح کردینے والا آیا تھا 31 ؎ ان کی آہ زاری سن کر اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے ان کو جواب سنایا جائے گا کہ اب مگرمچھ کی طرح آنسو بہانے کا کیا فائدہ ؟ اب تو جو کچھ ہونا تھا ہوچکا کیا تم وہی لوگ نہیں ہو جن کے پاس ہمارا رسول محمد رسول اللہ ﷺ جو خاتم النبین اور نبی اعظم وآخر ﷺ ہے وہ آیا اور اس نے آکر جب اللہ کا پیغام پہنچایا تو انہوں نے سنی ان سنی کردی اور رسول پر طرح طرح کی طعنہ زنی شروع کردی اور ان لوگوں کو ذرا شرم نہ آئی کہ ہم اللہ کے رسول پر کیا کیا الزام لگا رہے ہیں۔
Ayah 44:14

ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا مُعَلَّمٌ مَّجْنُوْنٌۘ Open ayah 44:14 in the Quran reader

پھر انہوں نے اس (رسول) سے منہ پھیرلیا اور کہنے لگے (یہ تو) سکھایا ہوا ہے ، مجنون ہے

پھر انہوں نے رسول سے منہ پھیرلیا اور کہنے لگے یہ تو مجنون ہے 41 ؎ رسول اللہ ﷺ نے اللہ کے حکم سے جب ہر بات کی وضاحت ان کے سامنے پیش کردی تو انہوں نے اس وضاحت کو سن کر نہایت تکبرانہ انداز سے منہ پھیرلیا اور چونکہ وہ اس کے امی ہونے پر یقین رکھتے تھے فوراً کہنے لگے کہ یہ تو دوسروں کا لکھایا ہوا جس کو عذاب اور قیامت کا ہہضی ہوچکا ہے کہ بات بعد میں کرتا ہے اور عذاب کا ذکر پہلے اور قیامت ، قیامت کی صدائیں بلند کرتا ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ یا تو اس کو کسی کی مارلگ گئی ہے یا دماغ کھوبیٹھا ہے اس طرح کی باتیں بنانے لگے اور اسی طرح کرت کرتے نبی اعظم وآخر ﷺ سے منہ پھیر گئے کہ نہ دیکھیں اور نہ ہی اس کی سنیں۔ لیکن اللہ کی پکڑ آنے کے بعد یہ لوگ پہلے نہیں جنہوں نے اس طرح آنسو بہائے ہیں بلکہ گزشتہ قوموں کے بڑے بڑے متکبرین بھی ایسا کرتے آئے ہیں۔ تفصیل دیکھنا ہو تو عزوۃ الوثقی جلد چہارم سورة یونس 01 کی آیت 19 ، سورة ابراہیم 41 کی آیت 44 کی تفسیر دیکھیں۔ بلاشبہ کفار مکہ نے نبی اعظم وآخر ﷺ پر مجنون ہونے کا الزام لگایا اور برملا آپ ﷺ کو مخاطب کرکے کہنے لگے (وقالوا یایھا الذی نزل علیہ الذکر انک لمجنون) (الحجر 51 : 6) اور کہنے لگے آئے وہ شخص ! جس پر نصیحت اتاری گئی ہے تو تو یقیناً پاگل ہے۔ “ یہی بات فرعون نے اپنی قوم کو مخاطب کرکے موسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق کہی تھی۔ چناچہ ارشاد الٰہی ہے کہ (قال ان رسولکم الذی ارسل الیکم لمجنون) (الشعراء 62 : 62) (فرعون نے) کہا تمہارا رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے یقینا پاگل ہے۔ “ اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ہر قوم نے اپنے رسول کو پاگل یا ساحر اور سحر زدہ ہونے کا الزام دیا ہے جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے کہ (کذلک ما اتی الذین من قبلھم من رسول الا قالو ساحر او مجنون) (الذاریات 15 : 25) اس طرح ان لوگوں کے پاس جو ان سے پہلے تھے کوئی رسول نہیں آیا مگر انہوں نے کہا کہ جادوگر ہے یا دیوانہ ہے۔ “ اور قرآن کریم نے ان کی اس بات کی بہت سے مقامات پر تردید کی ہے کہ تمہارا اس طرح کہنا محض ضد اور ہٹ دھرمی کے باعث ہے حالانکہ ہمارے رسول میں ایسی کوئی بات نہیں ہے ، جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے کہ (فذکر فما انت بنعمت ربک بکا ھن ولا مجنون) (الطور 25 : 92) ” اے پیغمبر اسلام ! سو تو نصیحت کرتا رہ کہ تو اپنے رب کی نعمت سے کاہن نہیں اور نہ ہی تو دیوانہ ہے۔ “ اور ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ (ما انت بنعمۃ ربک بمجنون) (القلم 82 : 2) ” اے پیغمبر اسلام ! تو اپنے رب کے فضل سے دیوانہ نہیں ہے۔ “ جب ساری قوموں کے کافروں نے اپنے اپنے نبی پر یہ الزام دیا ہے تو نبی اعظم وآخر ﷺ بھی اللہ کے نبی ورسول ہی تھے۔ آپ ﷺ کی قوم نے بھی آپ ﷺ پر یہ الزام لگایا اور اللہ تعالیٰ نے اس کی واضح تردید کردی ہے ، کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے بلاشبہ نہ ہمارے رسول محمد رسول اللہ ﷺ ساحر تھے ، نہ سحر زدہ اور نہ ہی پاگل و دیوانہ لیکن افسوس کہ مسلمانوں کی اکثریت نے بھی آپ ﷺ کو سحر زدہ قرار دیا اگرچہ چند دن ، چند ماہ ہی کے لیے قرار دیا ہو حالانکہ یہ بات بالکل غلط اور سوفیصد الزام ہے جو بیگانوں نے مخالفت میں اور اپنوں نے سادگی میں لگایا ہے اور نہیں خیال کیا کہ ہم کیا کہہ رہے ہیں۔ فافھم فتدبر۔
Ayah 44:15

اِنَّا كَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِیْلًا اِنَّكُمْ عَآئِدُوْنَۘ Open ayah 44:15 in the Quran reader

ہم تھوڑے عرصہ کے لیے عذاب دور کیے دیتے ہیں تم پھر لوٹ آؤ گے

اب ان سے ذرا پھر عذاب ہٹادیں تو یہ لوگ وہی کچھ کریں گے جو پہلے کرتے رہے 51 ؎ عادت ایک ایسی چیز ہے کہ جب یہ پختہ ہوجاتی ہے تو اس کا بدلنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ زیر نظر آیت میں اس کی وضاحت کی جارہی ہے فرمایا گیا ہے کہ ان کے شوروغل اور رونے دھونے کے باعث اگر ہم تھوڑے سے وقفہ کے لیے اس عذاب کو ہٹادیں تو زیادہ دیر نہیں لگے گی کہ یہ لوگ اپنے اس رونے دھونے کو اس طرح بھول جائیں گے کہ جیسے یہ وہ لوگ تھے ہی نہیں اور دوبارہ وہی کچھ کرنا شروع کردیں گے جو پہلے کرتے رہے تھے حالانکہ یہ بات ان کو مخاطب کرکے کہی جارہی ہے۔ ہر انسان اپنی زندگی کے متعلق ذرا ٹھنڈے دل سے غور کرے تو وہ اپنی حقیقت کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہے کہ زندگی میں کتنی بارمشکل اوقات آئے اور کتنی بار اپنے دل ہی دل میں یہ فیصلہ بھی کیا کہ اگر میری مشکل ٹل گئی تو آئندہ میں محتاط رہوں گا اور ایسا کام نہیں کروں گا جس کا نتیجہ اس طرح نکلتا ہے لیکن جب وہ مشکل وقت نکل گیا تو پھر ” وہی ترنگڑ کھتاں وہی کالی رات “ جو پہلے کرتا رہا وہی اب کررہا ہے۔ اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ عادت کا بدلنا اگر ناممکن نہیں تو بہرحال مشکل بہت ہے۔ دنیا کے بےثباتی کا رونا اکثر ہر انسان روتا ہے اور جو محبت اور پیار اس کو دنیا کی زندگی اور اس کی چیزوں سے ہے وہ ایسی ہے کہ گویا یہاں سے اس کو کبھی جانا ہی نہیں ہے اور بلاشبہ یہ جملہ اس پر صادق آتا ہے کہ ” سامان سو برس کا پل کی خبر نہیں “۔
Ayah 44:16

یَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرٰى١ۚ اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ Open ayah 44:16 in the Quran reader

جس دن ہم سخت پکڑ پکڑیں گے (اس دن ان لوگوں سے) بلاشبہ ہم بدلہ لے کر چھوڑیں گے

جس روز ہم سخت پکڑ پکڑیں گے بلاشبہ ہم بدلہ لے کر چھوڑیں گے 61 ؎ جیسا کہ اوپر ذکر کیا جاچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس دنیا کی زندگی میں بھی انسان کو بعض اوقات مجموعی طور پر اور بعض اوقات انفرادی طور پر عذاب کے ایسے جھٹکے لگائے جاتے ہیں کہ وہ ان جھٹکوں سے اس بڑے عذاب کے آنے کو تسلیم کرکے اپنی حالت کو بدل لے اور اس بات پر سچے دل سے یقین کرے کہ قیامت کہ بہرحال آنا ہے اور میں نے اپنے کیے کا حساب دینا ہے۔ یہ بات صرف رسما نہ کہے بلکہ اس بات پر پختہ یقین کرلے اوپر آسمان کی طرف دیکھنے سے دھواں ہی دھواں نظر آنے کا جو ذکر تھا اور اس سے سارے انسانوں کے گھبرا جانے کی جو صورت بتائی تھی اس کے بعد اب انسانوں ہی کو سمجھایا جارہا ہے کہ یہ دنیا کے عذاب کے جھٹکے تو تم کو اس لیے لگائے گئے اور لگائے جاتے ہیں تاکہ تم قیامت کی اس بڑی پکڑ سے اپنے آپ کو بچالو اور سیدھے جنت میں داخل ہونے والے اعمال اختیار کرو اس لیے کہ اس چھوٹی پکڑ سے تو بہرحال تم کو چھٹکارا ملتا رہا ہے ، مل رہا ہے اور جب تک ہم چاہیں ملتا رہے گا لیکن آخرت کی پکڑ اتنی سخت ہے کہ جو شخص وہاں پکڑا گیا اس کو ہم ہرگز نہیں چھوڑیں گے اور کوئی نہیں جو ہماری پکڑ سے اس کو بچاسکے گا کیونکہ جتنے علاقے اس نے بنائے تھے اور جتنے سبب اس نے دنیوی زندگی میں اس پکڑ سے بچنے کے لیے جوڑے تھے وہ سب کے سب ہم توڑ دیں گے اور اپنے قانون کے مطابق اس کے ہر نیک وبد کا حساب پوراپورا چکادیں گے اور اچھی طرح سمجھ لو کہ برائی کا نتیجہ کبھی اچھا نہیں نکل سکتا اور نہ ہی کوئی برائی نیکی اور نہ ہی کوئی نیکی برائی بن سکتی ہے۔ جب تک ہم تم کو دنیوی زندگی میں مہلت پر مہلت دیتے رہے کہ تم اپنی اصلاح کرلو اگر اس مہلت سے تم نے کوئی فائدہ حاصل نہ کیا اور اپنے کیے پر لکیر نہ پھیری تو آخرت میں ہم یقینا تم سے انتقام لیں گے اور بلاشبہ ہماری مہلت میں جتنی نرمی ہے اتنی ہی پکڑ میں سختی بھی۔ قریش مکہ چونکہ مخاطبین اول تھے اب ان کو سمجھایا جارہا ہے کہ جو تم ہمارے رسول سے کر رہے ہو یہ بالکل وہی کچھ ہے جو تم سے پہلے فرعون موسیٰ موسیٰ (علیہ السلام) سے کرچکا ہے اس لیے تم فرعون کے انجام کو اچھی طرح نگاہ میں رکھو اور خوب کان کھول کر سن لو کہ اگر تم نے بھی اپنی روش وہی رکھی تو تمہارا انجام بھی وہی ہوگا جو فرعون اور اس کی قوم کا ہوا اور اللہ تعالیٰ کا یہ فر مان رہتی دنیا تک کے سارے لوگوں اور ساری قوموں کے لیے بدستور اسی طرح قائم ہے اور سب کو اس سے سبق سیکھ لینا چاہیے اور فرعون اور اس کی قوم کی پکڑ کو اپنی نگاہ میں رکھنا چاہیے۔
Ayah 44:17

وَ لَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ كَرِیْمٌۙ Open ayah 44:17 in the Quran reader

اور بلاشبہ ان سے پہلے ہم نے قوم فرعون کو آزمایا اور ان کے پاس ایک معزز رسول بھیجا تھا

ہم ان سے پہلے اپنا ایک معزز رسول فرعون کی قوم کی طرف بھیج کر آزماچکے ہیں 71 ؎ فرعون مصر جس کا واسطہ موسیٰ (علیہ السلام) سے پڑا وہ کوئی معمولی آدمی نہیں تھا وقت کا حکمران بھی تھا اور قوم کا تسلیم شدہ شمس دیوتا یا اس کا اوتار بھی جس کو قوم نے اپنا الٰہ اور رب تسلیم کرلیا تھا اور اس نے اپنا الٰہ اور رب ہونا قوم سے تسلیم کرالیا تھا اور فراعنہ مصر نے قوم بنی اسرائیل کو اچھوت بناکر رکھ دیا تھا اور ان پر طرح طرح سے ظلم کرتے تھے۔ رسول سارے ہی کریم ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود اس جگہ مخصوص کرکے موسیٰ (علیہ السلام) کو ” رسول کریم “ کا خطاب دیا گیا کیوں ؟ اس لیے کہ دنیا والوں کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ کوئی انسان خواہ کتنا شریف اور بہترین خصائل کا حامل ہو مخالفین نے کھی اس کی شرافت اور ان بہترین خصائل کا لحاظ نہیں کیا وہ اگر دل میں اس کا اقرار کرتے بھی ہوں تو زبان پر نہیں لاتے بلکہ نبوت و رسالت سے قل جو وہ اس کی شخصیت کے بارے میں اچھے القابات اور خطابات بولتے بھی ہوں دعویٰ نبوت و رسالت کے بعد ان کو یکسر بھول جاتے ہیں جس کا باعث دراصل ان کی مخالفت ہی ہوتی ہے جس کو وہ تسلیم بھی نہیں کرتے۔ فرعون اور موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ پیچھے عزوۃ الوثقی ، جلد اول سورة البقرہ کی آیات 16 تا 78 ، 39 تا 801 ، جلد دوم سورة النساء کی آیت 351 تا 461 ، جلد سوم سورة المائدہ کی آیات 21 ، 31 ، 02 تا 52 ، 33 ، 07 ، 17 تا 97 ، سورة الانعام کی آیت 48 تا 39 ، سورة ہود کی آیت 691 تا 011 ، سورة ابراہیم 5 ، 6 ، 8 جلد پنجم سورة النحل آیت 421 ، سورة بنی اسرائیل 101 تا 4011 ، سورة الکھف آیت 06 تا 28 ، سورة مریم آیت 15 تا 35 ، سورة طٰہ آیت 09 تا 89 ، جلد ششم سورة الانبیاء آیت 84 ، 94 ، سورة المومنون آیت 54 تا 94 ، سورة الفرقان آیت 52 ، 62 ، سورة الشعراء آیت 01 تا 66 ، سورة النمل آیت 7 تا 41 ، سورة القصص آیت 3 تا 84 ، جلد ہفتم سورة العنکبوت آیت آیت 93 ، 04 ، سورة السجدہ آیت 32 ، 42 ، سورة الصافات 411 تا 221 ، سورة ال مومن آیت 32 تا 54 جلد ہذا سورة الزخرف آیت 63 تا 65 ، سورة ہذا آیت 71 تا 33 بیان ہوا ہے اور ابھی آئندہ بھی ان شاء اللہ العزیز آئے گا۔ محولہ بالا سورتوں کے مقامات کا مظالعہ کریں۔
Ayah 44:18

اَنْ اَدُّوْۤا اِلَیَّ عِبَادَ اللّٰهِ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 44:18 in the Quran reader

(اس نے کہا) کہ اللہ کے بندوں کو میرے حوالہ کر دے میں تمہارے پاس (اللہ کی) امانت کے ساتھ بھیجا ہوا آیا ہوں

موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو کہا کہ بنی اسرائیل کو میرے حوالے کردو 81 ؎ (ادوا) کا اصل ادو ہے اور امرکا صیفہ جمع مذکر حاضر ہے جس کے معنی ہیں تم حوالے کرو اور (عباد اللہ) اللہ کے بندوں کو اور اس سے مراد بیا اسرائیل ہے یعنی فرعون کو سب سے پہلے آپ نے الٰہ اور رب ہونے سے روکا اور اس کو واضح الفاظ میں بتایا کہ تو الٰہ اور رب نہیں بلکہ رب وہ ہے جس نے مجھے اپنا رسول بناکر تیری اور قوم بنی اسرائیل کی طرف بھیجا ہے بہتر ہے کہ تم اپنی ربوبیت کا نہیں بلکہ اللہ رب العزت کی ربوبیت کا اقرار کرو جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے اور میں تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے نشانات اور روشن دلائل لے کر آیا ہوں اور اگر تم کو ضد ہے اور میرے پیغام سے اتفاق نہیں کرتے تو میری قوم بنی اسرائیل کو میرے ساتھ جانے کی اجازت دے دو ۔ ( فارسل معنا بنی اسرائیل) یہ مطالبہ آپ کا سورة الاعراف کی آیت 501 ، سورة طٰہ کی آیت 74 ، سورة الشعراء کی آیت 71 میں گزرچکا ہے۔ لیکن (ان ادوالی عباد اللہ) کے ایک معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ میں تمہارے پاس رسول بناکر بھیجا گیا ہوں اس لیے تم لوگوں کو چاہیے کہ ” اللہ کے بندو ! میرے حق کو اداکرو “ اور حق رسالت کیا ہے ؟ یہی کہ رسول کو رسول تسلیم کرکے اس کے احکام کی پیروی کی جائے اور آپ نے یہ بھی فرمایا کہ میں تمہارے پاس امانت دار پیغام رساں بن کر بھیجا گیا ہوں مطب یہ ہے کہ جو پیغام میں تم کو پہنچا رہا ہوں وہ پوری امانت ودیانت کے ساتھ پہنچارہا ہوں اور یہ بھی کہ یہ پیغام میرا نہیں بلکہ رب العالمین کا پیغام ہے اوپرجومعنی بیان کیے گئے ہیں وہ گزشتہ مطالبہ کی روشنی میں کیے گئے ہیں اور دونوں باتیں اپنی جگہ صحیح اور درست ہیں اور زیر نظر آیت دونوں مفہوم کی متحمل ہے چاہے پہلا مطلب لیا جائے اور چاہے دوسرا اور دوسرا مفہوم عبداللہ بن عباس ؓ سے بیان کیا جاتا ہے۔ (مظہری) اور کفار کو اللہ کے بندو ! کا خطاب کسی کو نہ کھٹکے بلاریب وہ بھی اللہ ہی کے بندے ہیں اس لیے ان کو اللہ کے بندے کہنے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔
Ayah 44:19

وَّ اَنْ لَّا تَعْلُوْا عَلَى اللّٰهِ١ۚ اِنِّیْۤ اٰتِیْكُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۚ Open ayah 44:19 in the Quran reader

اور (اس نے کہا) یہ کہ اللہ کے مقابلہ میں سرکشی نہ کرو میں تمہارے سامنے ایک کھلی دلیل پیش کرتا ہوں

اللہ کے مقابلے میں سرکشی نہ کرو میں تمہارے پاس واضح دلائل لے کر آیا ہوں 91 ؎ موسیٰ (علیہ السلام) نے جو پیغام فرعون اور قوم فرعون کو پہنچایا تھا وہ آپ کا ذاتی پیغام نہیں تھا بلکہ پیغام رسالت تھا اور ظاہر ہے کہ نبوت ہو یا رسالت یہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے وہی چیز ہے اور آپ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے بھیجے ہوئے آئے تھے اور کسی کے بھیجے ہوئے کے ساتھ کوئی زیادتی بھی کی جائے تو دراصل وہ زیادتی بھیجنے والے کے ساتھ ہوتی ہے اور اس کے پیاغم سے سرکشی کرنا پیغام بھیجنے والے کے سامنے سرکشی کرنا متصور ہوتا ہے اس کو سمجھنے کے لیے آپ کسی بھی حکومت کے سفیر کی صورت حال کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرسکتے ہیں کیا ہمارے دنیاوی قانون میں بھی کسی حکومت کے سفیر کے ساتھ کسی طرح کی زیادتی اس حکومت کے ساتھ زیادتی تصور نہیں کی جاتی ؟ پھر اس آیت میں اس بات کی وضاحت بھی فرمادی کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے جو بات کہی وہ بغیر دلیل کے نہیں کہی اور دلیل میں جو کچھ پیش کیا گیا وہ عصا اور یدبیضاء کے استعارات میں بیان کردیا گیا جو آپ کی ساری سرگزشت میں سرفہرست ہے۔ (سلطان) زور ، قوت ، حجت ، برہان اور سند حکومت کو کہتے ہیں۔ (تاج العروس) ” السلطان ‘ القمر والغلبۃ ویستعمل فی الحجۃ والبرہان ، وھو فی القرآن اکثر استعمالا فی الحجۃ والبرہان “ اور یہ بھی کہ جب (سلطٰن) کے معنی حجت اور دلیل کے ہوں تو اس کی جمع نہیں آتی کیونکہ اس صورت میں وہ مصدر کا قائم مقام ہوتا ہے اور اس کی اصل بہرحال میں ل ط ہے اور (سلطان) کا لفظ قرآن کریم میں 42 بار استعمال ہوا ہے اور (سلطان) کا گیارہ بار۔ عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم میں ہر جگہ (سلطان) بمعنی حجت یعنی دلیل ہی ہے اور حکمت ہی پر ہوتا ہے اور سلطان کا لفظ بطور مذکر بھی استعمال ہوتا ہے اور بطور مئونث بھی اگرچہ ازہری نے صرف بطور مذکر ہی تسلیم کیا ہے۔ یہ اقوال محض اس لیے عرض کیے گئے ہیں کہ (سلطان) کا بطور حجت اور دلیل ہونا سب نے تسلیم کیا ہے کسی نے بھی اس سے انکار نہیں کیا اس لیے عصا اور ید بیضاء بلاریب دلائل ہیں جو موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت کے نشانات کے طور پر عطا کیے تھے۔ ان کے مقابلہ میں فرعون کے دوسرے مناظرین نے بھی جو اپنے دلائل پیش کیے تھے قرآن کریم نے ان کو بھی (جبالھم وعصیھم) سے تعبیر کیا ہے اور ظاہر ہے کہ وہ لوگ اس مقصد کے لیے میدان مناظرہ میں آئے تھے کہ فرعون کی ربوبت اور الوہیت کے صحیح اور درست ہونے میں دلائل پیش کریں کیونکہ فرعون کا بلاریب یہ دعویٰ تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے اس دعویٰ کو تسلیم نہیں کیا تھا بلکہ واضح کردیا تھا کہ الٰہ اور رب تو نہیں بلکہ وہ ذات (لم یلد ولم یولد) ہے جو تمام جہانوں کا رب اور الٰہ ہے جو نہ پیدا ہوا ہے اور نہ ہی اس سے کوئی پیدا ہوا ہے اور وہ پوری کائنات کا خالق اور حقیقی مالک ہے۔ پھر فرعون نے اس کے جواب میں اپنے اعوان وانصار کو مخاطب کرکے کہا تھا کہ (الاتسعمون) اور اس کے بعد مزید کہا کہ (ان رسولکم الذی ارسل الیکم لمجنون) (الشعراء : 72) ” تمہارا یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے بالکل ہی پاگل معلوم ہوتا ہے “ اور پھر موسیٰ (علیہ السلام) کو مخاطب کرکے اس نے کہا (لئن اتخذت الھا غیری لاجعلنک من المسجونین) (62 : 92) ” اگر تو نے (اے موسیٰ ) میرے سوا کسی اور کو معبود مانا تو سجھے بھی ان لوگوں میں شامل کردوں گا جو قید خانوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ “ اس بات سے دلائل کا وہ سلسلہ شروع ہوگیا جن دلائل کو عصا اور ید بیضاء سے تعبیر کیا گیا۔ جن دلائل کا توڑ نہ فرعون سے ہوسکا اور نہ ہی اس کے موجودہ اعوان وانصار سے اور انجام کار فرعون کو موسیٰ (علیہ السلام) کے دلال کا جواب دینے کے لیے مصر کے اعلیٰ قسم کے مناظرین کو لانا پڑا چناچہ وہ لائے گئے اور انہوں نے اپنے دلائل بھی پیش کیے لیکن جونہی موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا پھینکا تو سب نے دیکھا کہ ان کے دلائل کا کوی وزن باقی نہ رہا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی پہلی ہی دلیل سوسنار کی پر ایک لوہار کی ثابت ہوئی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سامعین ہکا بکا ہو کر رہ گئے اور فرعون کے لائے ہوئے مناظرین نے موسیٰ (علیہ السلام) کی پہلی ہی دلیل کے سامنے ہارمان لی اور فرعون کی ربوبیت اور الوہیت سے انکار کرتے ہوئے رب العالمین کے رب اور الٰہ ہونے کا اعلان کردیا جس کی تفصیل آپ پیچھے بہت سے مقامات پر پڑھ چکے ۔
Ayah 44:20

وَ اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ اَنْ تَرْجُمُوْنِ٘ Open ayah 44:20 in the Quran reader

اور میں اپنے رب اور تمہارے رب کی پناہ میں آچکا ہوں اس بات سے کہ تم مجھے سنگسار کرو

موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ میں اپنے اور تمہارے رب کی پناہ مانگتا ہوں کہ تم مجھے رجم کرسکو 02 ؎ موسیٰ (علیہ السلام) کے دلائل سن کر اور خصوصاً اپنے مناظرین کی شکست کھاجانے کے بعد فرعون اور اس کی قوم بھپر پڑی کیونکہ طاقت ور جب بھی اپنی ہار سمجھ رہا ہو تو وہ طاقت کا مظاہرہ کرکے اپنی ہار اور شکست کو فتح میں بدلنے کی کوشش کرتا ہے اور اس طرح دانت پیستا اور رنگ بدلتا ہے اور ساتھ ہی ایک گرجدار آواز میں دھمکی سنادیتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہی کچھ فرعون نے بھی کیا ہکوگا جب موسیٰ علیہ اسلام نے اس کی بڑھک سنی تو فرمایا کہ میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی کہ تم لوگ مجھ کو رجم کرسکو اس طرح موسیٰ (علیہ السلام) نے نہایت ہمت اور دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے موقف کو ایک بار پھر دہرادیا تاکہ فرعون اچھی طرح سمجھ لے کر موسیٰ میری اس بڑھک کو برداشت کرچکا ہے جس کا مطلب واضح ہے کہ اگر میں نے کوئی مزید قدم اٹھایا تو یقینا تصادم ہوگا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) بھی ایک قومی لیڈر ہیں خواہ وہ قوم کتنی ہی کمزور ہے اور بڑے لوگ اس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ اگر کمزور قوم کسی قوم کے مقابلہ میں یا کوئی کمزور فرد کسی طاقت ور فرد کے مقابلہ میں کھڑا ہوجاتا ہے تو اس کا نتیجہ وقتی طور پر بہرحال نکلتا ہے جس سے کمزور کو نہیں طاقتور کو خفت اٹھانا پڑتی ہے اور فرعون تو موسیٰ (علیہ السلام) کی آمد ہی سے اس بات سے ڈر رہا تھا کہ کہیں بنی اسرائیل کے ساتھ الجھائو نہ پیدا ہوجائے کہ اگر ایسی بات ہوئی تو ہم قومی طور پر بہت خسارہ میں جائیں گے اسی ڈر کے باعث وہ موسیٰ (علیہ السلام) کی اکثر باتوں کا جواب آپ کو مخاطب کرکے دینے کی بجائے اپنے اعوان وانصار کو مخاطب کرکے دیتا تھا جس کی تفصیل آپ پیچھے عزوہ الوثقی جلد ششم سورة الشعراء کی آیت 42 سے آیت 53 تک پڑھ چکے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) سے ایک دو سوال کرنے کے بعد اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کی بات کا براہ راست جواب دینا بند کردیا اور آپ کی موجودگی میں آپ کے ہر سوال کا جواب آپ کی بجائے اپنے اعوان وانصار کو دینے لگا۔ بہرحال زیر نظر آیت نے واضح کردیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے حالات کا مقابلہ نہایت سلجھے ہوئے اور بہترین انداز میں کیا کہ اپنے موقف کو بھی واضح الفاظ میں دہرادیا اور اپنی حفاظت بھی براہ راست رب ذوالجلال والاکرام کے سپرد کردی اور اس طرح کچھ کہا بھی نہیں اور وہ سب کچھ کہہ بھی دیا جو ایک طاقتور کے مقابلہ میں دوسرا طاقتور کہتا ہے اور فرعون کی ساری تلخی کا جواب آپ کے ایک ہی جملہ میں سمٹ کر رہ گیا کہ (انی عذت بربی وربکم) کہ میں اپنے رب اور تمہارے رب کی پناہ میں آچکا ہوں اور یہی مطالبہ آپ لے کر فرعون کے پاس آئے تھے اور اس کو آپ نے نہایت خوبصورت الفاظ میں دہرادیا کہ اے فرعون میں تجھے رب نہیں مانتا بلکہ یہ مانتا ہوں کہ جو میرا رب ہے وہی تیرا بھی رب ہے اور تیری ساری قوم کا بھی اور اب اگر تو نے کوئی سخت قدم اٹھایا تو میرے مقابلہ میں نہیں بلکہ رب ذوالجلال والاکرام ہی کے مقابلہ میں ہوگا اور یقینا اس کا نتیجہ تو دیکھ لے گا کہ کیا ہوتا ہے ؟ گویا آپ اس کو واضح اور دو ٹوک الفاظ میں کہہ رہے تھے کہ اگر تو نے کوئی قدم اٹھایا تو پہلے تو نے کیا خفت اٹھائی کہ اب اٹھائے گا۔ (ان ترجمون) ” اگر تم نے مجھے رمجم کرنے کے لیے کوئی اقدام کیا “ اور اس طرح موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کی خفیہ اسکیم کو بےنقاب کرکے رکھ دیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے یقینا کوئی اس طرح کا اقدام کرنے کا ارادہ کیا تھا اگرچہ اس نے اس کو واضح نہیں کیا تھا لیکن موسیٰ (علیہ السلام) اس کو سمجھ چکے تھے اور پھر آنے والے جملہ نے آپ کے انداز جواب کو مزید واضح کردیا ہے۔