43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 43:1

حٰمٓۚۛ Open ayah 43:1 in the Quran reader

حا۔ می ... م

حا… می… م حروف مقطعات میں سے ہے 1 ؎ ” حوا میم “ میں سے یہ سورت چوتھی سورت ہے اور سات سورتیں اس نام سے قرآن کریم میں شروع ہوئی ہیں۔ سورة المؤمن سے سورة الاحقاف تک ان کا سلسلہ چلا گیا ہے۔ یہ سب سورتیں مکی دور کے وسط میں نازل ہوئی ہیں اور ان کے مضامین بھی آپس میں کافی حد تک ملتے جلتے ہیں اور سب کا اصل موضوع توحید الٰہی ہے۔ { حم } حروف مقطعات میں سے ہے اور حروف مقطعات کی مفصل بحث سورة البقرہ کے شروع میں کردی گئی ہے اگر ضرورت ہو تو وہیں سے اس کو دوبارہ دیکھ لیاجائے۔
Ayah 43:2

وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ Open ayah 43:2 in the Quran reader

اس کتاب روشن (کے رب) کی قسم

قرآن کریم ایک واضح اور روشن مضامین پر مشتمل کتاب ہے 2 ؎ واؤ ان حروف میں سے ہے جو عربوں کے ہاں بطورقسم بھی بولے جاتے تھے جیسے باء ، تاء اور لام کے حروف ہیں کہ یہ بھی کبھی بطور قسم بولے جاتے ہیں۔ قسم کے لیے یہ بات پہلے بیان کی جا چکی ہے کہ غیر اللہ کی قسم مخلوق کے لیے جائز اور درست نہیں اور قسم جب بھی کھائی جائے صحیح اور سچی بات پر کھائی جاتی ہے اور صرف اللہ تعالیٰ کے نام ہی کی قسم اٹھانا جائز ہے اس لیے جہاں بھی کوئی حرف بطور قسم آیا ہے وہاں رب کا لفظ محذوف تسلیم کیا گیا ہے اور اسی طرح مطلب یہ ہوا کہ قرآن کریم کے رب کی قسم یہ قرآن کریم ایک نہایت ہی واضح اور روشن کتاب ہے جس میں کسی قسم کا ابہام اور شک و شبہ نہیں پایا جاتا اور نہ ہی کسی قسم کا اس میں تضاد اور اختلاف پایا جاتا ہے اور یہ کہ بعض بعض کی خود وضاحت کرتا چلا گیا ہے۔ حق اور باطل دونوں کو اس نے کھول کھول کر بیان کردیا ہے اور راہ ہدایت کو راہ ضلالت سے بالکل الگ کردیا گیا ہے اور اس میں کسی قسم کا کوئی الجھاؤ موجود نہیں اگر کوئی اس طرح کی بات کسی نے بیان کی ہے تو وہ بیان کرنے والے کی سمجھ اور تفہیم کا قصور ہے اس میں قرآن کریم کا کوئی قصور نہیں ہے۔ جن لوگوں کے دل کی آنکھیں اور دل کے کان اپنا صحیح کام کرتے ہیں وہ اس کی تلاوت سے کبھی گومگو کی حالت میں نہیں رہتے وہ نہایت آسانی کے ساتھ ہدایت اور گمراہی کو پہچان جاتے ہیں پھر آنے والی آیت اس مضمون کی مزید وضاحت کرتی نظر آرہی ہے۔
Ayah 43:3

اِنَّا جَعَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَۚ Open ayah 43:3 in the Quran reader

بلاشبہ ہم نے اس کو عربی (زبان کا) قرآن بنایا ہے تاکہ تم (بآسانی) سمجھو

قرآن اللہ کی نازل کردہ کتاب ہے جو محض ان لوگوں کیلئے ہے جو عقل سے کام لیتے ہیں 3 ؎ اس میں مزید وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ قرآن کریم محمد ﷺ کی کتاب نہیں اور نہ ہی آپ ﷺ نے ان نظریات اور عقائد کو گھڑا اور بنایا ہے بلکہ اس کے نازل کرنے والے ہم ہیں یعنی اللہ تعالیٰ ہی اس کا نازل کرنے والا ہے اور اس کو ہم نے عربی زبان میں نازل کیا ہے تاکہ تم اس کو اچھی طرح سمجھ سکو کیونکہ دنیا میں جتنی زبانیں بولی گئی ہیں اور بولی جا رہی ہیں اور بولی جائیں گی ان سب میں سے واضح اور کھل کر بیان اس زبان میں دیا جاسکتا ہے اور یہی زبان محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے مخاطبین اول جو آپ ﷺ ہی کی قوم کے لوگ تھے ان سب کی زبان بھی عربی ہی تھی اور پھر اس میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ اس لیے نہیں بیان کیا گیا کہ اس کو محض تقلیداً مان لیا جائے بلکہ وہ وہر عقل و فکر رکھنے والے کو دعوت دیتا ہے کہ تم عقل و فکر سے میرے مضامین کو پڑھو اور سمجھو کیونکہ اس کے اندر کوئی بات بھی ایسی نہیں بیان کی گئی جو محض تقلیداً ماننے کے لیے بیان کی گئی ہو۔ ہر صاحب شعور کے لیے عقل و فکر کی دعوت ہے۔ اس کے مضامین میں چونکہ بہت وسعت ہے اس لیے اس کو اس زبان میں نازل کرنا مناسب تھا جو زبان ساری زبانوں میں سے زیادہ وسعت رکھتی ہو اور لاریب عربی زبان سے زیادہ کوئی زبان وسیع نہیں ہو سکتی۔ اس کے اشارات ، استعارات ، محاورات اور ضرب الامثال میں جو وسیع مفہوم پایا جاتا ہے وہ کسی دوسری زبان کے اشارات ، استعارات ، محاورات اور ضرب الامثال میں نہیں پایا جاتا۔ یہ وہ زبان ہے جس میں ایک ہی چیز کے نام کے لیے سینکڑوں ، ہزاروں الفاظ پائے جاتے ہیں اور پھر ہر حرف ، لفظ میں اس چیز کے نام کی کوئی وجہ تسمیہ ضرور پائی گئی ہے اور اس کا بیان بہت وسیع ہے۔ نبی اعظم و آخر ﷺ ” جوامع الکلم “ بھی ہیں اور یہ اسی زبان عربی کی خوبی ہے کہ آپ ﷺ کی زبان خالصتاً عربی تھی۔ آپ ﷺ نے دو تین الفاظ کا ایسا جملہ بول دیا کہ ایک آدمی عرصہ تک اس کی وضاحت کرتا رہے تو وہ مکمل نہ ہو سکے۔ اور یہ بھی کہ اگر قرآن کریم کی عبارت سے اپنا ذاتی مفہوم بیان کرنا چاہے تو بھی اس کو کچھ دشواری نہیں ہوتی چناچہ تاریخ میں ایسے واقعات موجود ہیں کہ ایک شخص نے جب بھی اپنا مافی الضمیر بیان کرنا چاہا تو اس کے لیے قرآن کریم کی کوئی آیت یا آیت کا کچھ حصہ پڑھ دینے سے جو بات وہ سامع کو سمجھانا چاہتا تھا وہ سمجھ گیا۔ ایسے واقعات میں سے ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ جناب عبد اللہ بن مبارک کی ملاقات ایک ایسی خاتون سے ہوئی جو قافلے سے بچھڑ کر راستہ بھٹک گئی تھی پھر جو کچھ ہوا اس کی روئیداد قارئین کرام دیکھ لیں تاکہ بیان کی گئی بات واضح ہوجائے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک معمر عرب خاتون حج کے راستہ میں ایک درخت کے تنے کے پاس بیٹھی تھی کہ عبد اللہ بن مبارک اس کے پاس سے گزرے۔ آپ بھی حج بیت اللہ کی غرض سے حالت سفر میں تھے۔ معمر خاتون کو پریشان اور مایوس پا کر انہوں نے اس سے عرض کیا : عبد اللہ بن مبارک : السلام علیکم و رحمۃ اللہ۔ خاتون : { سلام قولا من رب رحیم } (یٰسٓ 58:36) سلام نہایت مہربان رب کا قول ہے مراد یہ ہے کہ سلام کا جواب تو خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ خاتون : { من یضلل اللہ فلا ہادی لہ } (الاعراف : 186) جسے اللہ بھلا دے اسے کوئی راہ پر لانے والا نہیں۔ (مراد یہ کہ میں راستہ بھول گئی ہوں) عبداللہ بن مبارک : آپ کہاں سے آرہی ہیں ؟ خاتون : { سبحان الذی اسری بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الاقصی } (بنی اسرائیل 1:17) پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ لے گئی (مراد یہ تھی کہ میں مسجد اقصی سے آرہی ہوں) عبداللہ بن مبارک : آپ یہاں کب سے پڑی ہیں ؟ خاتون : { ثلث لیالٍ سویا } (مریم 10:19) برابر تین رات سے عبداللہ بن مبارک : تمہارے کھانے کا کیا انتظام ہے ؟ خاتون : { والذی ہو یطعمنی ویسقین } (الشعراء 79:26) وہ (اللہ) مجھے کھلاتا پلاتا ہے۔ عبداللہ بن مبارک : کیا وضو کا پانی موجود ہے ؟ خاتون : { فلم تجدوا ماء فتیمموا صعیدًا طیباً } (النساء 43:3) اگر تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کرو (مراد یہ ہے کہ تیمم کرلیتی ہوں) عبداللہ بن مبارک : یہ کھانا حاضری ہے کھا لیجئے ؟ خاتون : { اتموا الصیام الی الیل } (البقرہ 187:25) روزہ کو رات تک پورا کرو (مراد یہ ہے کہ میں روزے سے ہوں) عبداللہ بن مبارک : یہ رمضان کا مہینہ نہیں ہے۔ خاتون : { و من تطوع خیرا فان اللہ شاکرٌ علیمٌ} (البقرہ 158:2) اور جو شخص نیکی کے طور پر خوشی سے روزہ رکھے تو اللہ تعالیٰ قدر دان ، جاننے والا ہے (مراد یہ ہے کہ میں نے نفل روزہ رکھا ہے) عبداللہ بن مبارک : لیکن سفر میں تو روزہ افطار کرلینے کی اجازت ہے۔ { وان تصوموا خیرٌ لکم ان کنتم تعلمون } (البقرہ 148:50) اگر تم روزہ رکھو تو تمہامرے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔ عبداللہ بن مبارک : آپ میرے جیسے انداز میں بات کریں۔ خاتون : { ما یلفظ من قولٍ الا لدیہ رقیبٌ عیدٌ } (ق 18:50) انسان کوئی بات نہیں کرتا مگر یہ کہ اس کے پاس ایک مستعد نگہبان ضرور ہوتا ہے (اس لیے بہتر سمجھتی ہوں کہ قرآن کریم کی زبان میں بات کروں) عبداللہ بن مبارک : آپ کس قبیلہ سے تعلق رکھتی ہیں ؟ خاتون : { ولا تقف مالیس لک بہ علیمٌ ان السمع والبصرو الفوادکل اولئک کان عنہ مسؤلاً } (بنی اسرائیل 36:17) ” جو بات تم کو معلوم نہ ہو اس کے درپے مت ہو بلاشبہ ، کان ، آنکھ اور دل اس کی طرف سے جوابدہ ہیں (جس بات کا علم نہیں اور اس کا جاننا ضروری بھی نہیں تو اس کے متعلق سوال کرنا فضول ہے۔ عبداللہ بن مبارک : مجھے معاف کردیں میں نے واقعی غلطی کی ہے۔ خاتون : { لا تثریب علیکم الیوم یغفر اللہ لکم } (یوسف 92:12) تم پر کوئی ملامت نہیں اللہ تعالیٰ تم کو معاف فرما دے۔ عبداللہ بن مبارک : کیا آپ میری اونٹنی پر بیٹھ کر قافلہ سے جا کر ملنا پسند کریں گی ؟ خاتون : { و ما تفعلوا من خیر یعلمہ اللہ } (البقرہ 197:2) تم جو نیکی کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس کو جانتا ہے (اگر آپ مجھے اونٹنی پر بٹھا کر قافلہ سے ملوا دیں گے تو اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے گا۔ ) عبداللہ بن مبارک : اونٹنی کو بٹھاتے ہوئے اچھا اس اونٹنی پر بیٹھ جائیے۔ خاتون : { قل للمومنینٌ یغضوا من ابصارہم } (النور 30:24) ایمان والوں سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں (اونٹنی بٹھا کر منہ دوسری طرف کرلو تاکہ میں سوار ہو سکوں) عبداللہ بن مبارک : نے اونٹنی کو بٹھایا اور منہ پھیر کر کھڑے ہوگئے۔ خاتون سوار ہوئیں تو کپڑا کجاوے سے الجھ گیا اور پھٹ گیا تو وہ پکار اٹھیں۔ خاتون : { و ما اصابکم من مصیبۃٍ فبما کسبت ایدیکم } (الشوریٰ 30:42) تم کو جو مصیبت بھی پہنچتی ہے وہ تمہارے اپنے ہی کیے کے نتیجہ میں پہنچتی ہے۔ عبداللہ بن مبارک : خاتون کی بات سن کر متوجہ ہوئے اور اس کا کپڑا کجاوے سے نکال کر درست کردیا اور مہار پکڑ کر چل دیئے۔ خاتون : { ففھمنھا سلیمن } (الانبیا 79:21) ہم نے سلیمان کو اس معاملہ میں فہم و بصیرت دی۔ یہ بات کہتے ہوئے خاتون نے آیت تلاوت کی { سبحن الذی سخرلنا ہذاو ما کنا لہ مقرنین و انا الی ربنا لمنقلبون } (الزخرف 14 , 13:43) پاک ہے وہ ذات جس نے اس سواری کو ہمارے لیے عزت کے قابل بنا دیا ہے ورنہ ہم اس کو کنٹرول میں کرنے والے کب تھے ؟ یقینا ہم سب کو لوٹ کر اپنے رب کے سامنے حاضر ہوتا ہے۔ عبداللہ بن مبارک : اونٹنی کی مہار تھامے چلتے ہیں اور چلتے چلتے حدی الاپنے لگے اور بہت تیز چلنے لگے۔ خاتون : { واقصد فی مشیک واغضض من صوتک } (لقمن 19:21) اپنی چال میں اعتدال رکھو اور اپنی آواز کو پست کرو۔ عبداللہ بن مبارک : اس کی بات کو سمجھ گئے اور آہستہ آہستہ چلنے لگے اور اپنی حدی کی آواز بھی پست کردیا۔ خاتون : { فاقرء و ما تیسرمن القران } (المزمل 20:73) پس قرآن کریم پڑھو جتنا تم آسانی سے پڑھ سکتے ہو۔ عبداللہ بن مبارک : نے اس خاتون کی آواز سنی تو حدی کو چھوڑ کر قرآن کریم کی تلاوت کرنے لگے۔ خاتون : نے خوش ہو کر کہا { و مایذکر الا اولو الالباب } (البقرہ 269:2) اہل دانش و بینش ہی نصیحت قبول کرتے ہیں۔ عبداللہ بن مبارک : کچھ دیر قرآن پڑھتے رہے اور پھر خاتون سے سوال کیا ، کیا آپ کے شوہر ہیں ؟ خاتون : { یایھا الذین امنوا لا تسئلوا عن اشیاء ان تبدلکم تسؤکم } (المائدہ 11:5) اے ایمان والو ! ایسی باتوں کے متعلق سوال نہ کرو کہ اگر تم پر ظاہر کی جائیں تو تم کو بری معلوم ہوں۔ (خاتون کا خاوند بھی وفات پا چکا تھا اور نکاح ثانی کی بھی حاجت نہ تھی) عبداللہ بن مبارک : ایک قافلہ کو جاتے دیکھ کر کہنے لگے کیا اس قافلہ میں آپ کا کوئی عزیز ہے ؟ خاتون : { المال والبنون زینۃ الحیوۃ الدنیاٌ } (الکھف 46:18) مال و اولاد دنیوی زندگی کی زینت ہیں (گویا خاتون کے بیٹے بھی قافلہ میں ہیں اور مال بھی) عبداللہ بن مبارک : آپ کے لڑکے اس قافلہ میں پہچانے جائیں گے ، مطلب یہ ہے کہ ان کی پہچان کیا ہے ؟ خاتون : (و علمتٍ وبالنجم ہم یہتدون ) (النحل 16:16) اور ستاروں سے وہ راہ پاتے ہیں (گویا قافلہ میں قافلہ کی راہنمائی کا فریضہ انجام دیتے ہیں) عبداللہ بن مبارک : کیا آپ ان کا نام بتائیں گی ؟ یہ خاتون سے آپ نے دریافت کیا۔ خاتون : { واتخذا اللہ ابراہیم خلیلا } { وکلم اللہ موسیٰ تکلیما } { ییحی خذالکتب بقوۃٍ } (النساء 124:4) ، (النساء 164:4) ، (مریم 12:19) ، اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو دوست بنایا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام کی۔ اے یحییٰ اس کتاب کو قوت سے پکڑو۔ خاتون نے بتا دیا کہ اس قافلہ میں میرے تین بیٹے ہیں۔ ابراہیم ، موسیٰ اور یحییٰ ان کے نام ہیں۔ عبداللہ بن مبارک : قافلہ کے بالکل قریب پہنچے تو ان ناموں کو زور سے آواز دی تو تینوں نوجوان حاضر ہوگئے۔ خاتون : اپنے بیٹوں کو دیکھ کر بول اٹھیں { فابعثوا احدکم بورقکم ہذہ الی المدینۃ فلینظر ایھا ازکی طعاماً فلیاتکم برزقٍ منہ } (الکھف 19:18) اپنے لوگوں میں سے کسی ایک کو نقدی دے کر کھانا لانے کے لیے بھجوا اور چاہئے کہ وہ ستھرا اور بہتر کھانا لائے (خاتون نے لڑکوں کو کھانا کھلانے کی ہدایت کی) کھانا لایا گیا۔ خاتون : عبداللہ بن مبارک کو مخاطب کرتی ہے کہ { کلوا واشربوا ہنیابما اسلفتم فی الایام الخالیۃ } (الحاقہ 24:69) کھاؤ پیو بہ سبب اس کام کے جو تم نے گزشتہ ایام میں کیا۔ اس جگہ خاتون نے ایک دوسری آیت بھی ساتھ ہی تلاوت کردی کہ { ہل جزاء الاحسان الا الاحسان } (الرحمن 60:55) نیکی کا بدلہ نیکی ہی ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد خاتون کے بیٹوں نے عبداللہ بن مبارک (رح) کو بتایا کہ ان کی والدہ چالیس سال سے اسی انداز میں بات کرتی ہیں گویا قرآن کریم ہی کی کسی آیت کے کچھ حصہ سے اپنا مطلب بیان کرتی ہیں۔ یہ عربی زبان کا کمال ہے جو قرآن کریم کی زبان ٹھہری لیکن زیر نظر آیت میں جو لفظ { جعلنہ قراناً عربیاً } کے الفاظ آئے ہیں اس سے ہمارے مفسرین نے اس کے خالق یا مخلوق ہونے کی بحث کو چھیڑا ہے اور وہ بہت دور تک نکلتے چلے گئے ہیں چو کہ ہمارے خیال میں یہ الفاظ اس کے متحمل ہی نہیں ہیں اس لیے اس بحث کی بجائے ہم نے آپ کو ایک ایسا واقعہ سنا دیا ہے جو قرآن کریم کی خوبیوں میں سے ایک خوبی کے متعلق ہے اللہ کرے ہم خوبی کی بات کو پہچان کر اس کو اپنانے کی کوشش کریں اور فضول بحثوں میں مبتلا نہ ہوں جن بحثوں کا ہماری زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ قرآن کریم بلاشبہ خالق کا کلام ہے لیکن یہ کلام اس نے مخلوق ہی کے ذریعہ سے مخلوق تک پہنچایا ہے اور آج تک مخلوق ہی اس کو پڑھتی ، سنتی اور سمجھتی رہی ہے اور مخلوق ہی کے پڑھنے ، سمجھنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کے لیے اس کو نازل کیا گیا ہے اور انہی الفاظ میں نازل کیا ہے جو مخلوق ہیں اور مخلوق ہونے میں آخر کس کو کلام ہے ؟ پھر اس آیت نے خود واضح کردیا ہے کہ اس کو عربی زبان میں اس لیے نازل کیا گیا ہے تاکہ اس کے مخاطبین اول کو اس کے سمجھنے میں کوئی دقت پیش نہ آئے تاکہ وہ اس کو دوسری زبانوں میں منتقل کرسکیں اور بلاشبہ یہ کام جاری وساری ہے اور غیر اس سے اپنوں سے بھی زیادہ فائدہ حاصل کر رہے ہیں اگرچہ وہ وقتی اور خالص دنیوی ہے حالانکہ یہ فائدہاٹھانے کا اصل حق قوم مسلم ہی کو تھا۔ اللہ ہم مسلمانوں کو بھی دنیا اور آخرت کا فائدہ اس سے حاصل کرنے کی توفیق دے اور آنے والی آیت اس کی تشریح کر رہی ہے۔ ذرا غور و فکر کر کے دیکھیں ان شاء اللہ سمجھ آجائے گی۔
Ayah 43:4

وَ اِنَّهٗ فِیْۤ اُمِّ الْكِتٰبِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَكِیْمٌؕ Open ayah 43:4 in the Quran reader

اور بلاشبہ یہ (قرآن) ہمارے پاس لوح محفوظ میں (موجود) ہے بلند مرتبہ حکمت والا ہے

یہ قرآن کریم اُم الکتب میں موجود ہے جو بہت بلند اور حکمت والا ہے 4 ؎ { ام الکتب } کیا ہے ؟ { ام } کے معنی ماں کے ہیں اور ہر اس چیز کو بھی { أم } کہتے ہیں جو کسی چیز کے وجود یا اس کی تربیت ، اس کی اصلاح یا اس کی ابتداء کے لیے اصل ہو۔ (راغب) اس لحاظ سے { أم } وہ چیز یا اصل ہے جس سے دوسری چیز پیدا ہوتی ہے یا جس سے دوسری چیزیں متفرع ہوتی ہیں اس لیے ہمارے خیال میں اس جگہ { أم الکتب } سے اصول ہی مراد ہو سکتے ہیں اور مطلب یہ ہے کہ کوئی نئی طرز کی کتاب نہیں بلکہ اس کے اصول وہی اصول ہیں جو گزشتہ آسمانی کتابوں کے تھے اور اس کا نازل کرنے والا اللہ وہی ہے جو گزشتہ کتابوں کا نازل کرنے والا تھا اس لیے جو گزشتہ کتابوں میں لوگوں نے تحریف کی تھی ؟ اس کو چھوڑ دیا گیا ہے اور اب انہیں اصولوں کے تحت اس کتاب قرآن کریم کو نازل کیا گیا ہے جو آسمانی کتابوں کے نازل کرنے میں مقرر کیے گئے تھے گویا یہ کتاب آسمانی علوم کی محیط ہے۔ قرآن کریم کا خلاصہ سورة فاتحہ میں بیان کیا گیا ہے اس لیے لسان رسول ﷺ سے فاتحہ کو بھی ام الکتب کا نام دیا گیا ہے اور اسی سے مصحف کی ابتدا ہوتی ہے رہی وہ صورت جو مفسرین نے بیان کی کہ یہ علم ازلی و ابدی سے ہے اور یہ کہ لوح محفوظ ایک مقام ہے جہاں یہ قرآن کریم محفوظ کردیا گیا ہے تو بلاشبہ علم ازلی و ابدی سے کوئی چیز باہر نہیں ہے اور کوئی چیز بھی ایسی نہیں جو اللہ تعالیٰ کے ہاں محفوظ نہ ہو جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے کہ { ولا رطبٍ ولا یابس الا فی کتاب مبین } (الانعام 59:6) ” تر اور خشک میں سے کوئی چیز بھی ایسی نہیں جو کھلی کتاب میں موجود نہ ہو۔ “ ظاہر ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کے علم کی وسعت ہی کا بیان ہے کیونکہ اعمال کی جزا و سزا کا تعلق علم ہی سے ہے۔ کوئی عمل بھی ہو اور کیسا بھی ہو اس ذات الٰہ سے وہ پوشیدہ نہیں ہو سکتا۔ اس لیے علم الٰہی میں کسی چیز کا محفوظ نہ ہونا سلیم ہی نہیں ہے۔ پھر اس کتاب کی تخصیص کیا رہی۔ اس لیے جو وضاحت اوپر ہم نے بیان کی ہے کہ یہ کتاب انہیں اصولوں کو بیان کرتی ہے جن اصولوں کو گزشتہ کتابیں بیان کرتی رہی ہیں کیونکہ وہی اصول { ام الکتب } ہیں اور اسی طرح ان سارے لوگوں کو جنہوں نے قرآن کریم کو شعر ، سحر ، افتراء پردازی اور من گھڑت قرار دیا تھا سب کو مخاطب کر کے بتا دیا ہے کہ جس چیز کو تم اس طرح کے ناموں سے تعبیر کر رہے ہو وہ تو ایک بہت ہی عالی مقام چیز ہے کبھی کاہنوں کی کہانت ، شاعروں کی شاعری اور خطیبوں کی خطابت اور ساحروں کی ساحری بھی ایسی ہو سکتی ہے تمہاری کس طرح مت ماری گئی ہے اور تم کیسی کیسی باتیں بیان کرتے ہو ، وہ العلی الحکیم کی طرف سے ایک نہایت ہی برقرار پر حکمت کتاب نازل کی گئی ہے اور دنیا میں جو اس کائناتِ ارضی کی ایک کھلی کتاب ہے جتنے علوم ہیں یہ کتاب ان سب پر محیط ہے اور اس کے آنے کے بعد جو دنیا میں ترقی ہوئی ہے کبھی پہلے نہیں ہوئی اور ہر ایک ترقی کے اصول میں مخفی رکھے گئے ہیں گویا یہ وہ علوم کی کان ہے کہ اس کے علوم کو جوں جوں نکالوگے یہ نکلتے ہی جائیں گے یہاں تک کہ اس دنیا کا خاتمہ ہوجائے لیکن اس کے علوم کا آخر (End) نہیں آئے گا کیونکہ یہ لامتناہی تعلیمات کا منبہ و مخزن ہے اس لیے ہم نے اس کو ” کان “ سے تشبیہہ دی ہے اور بلاشبہ یہ نہ ختم ہونے والا خزانہ اور ایسا بحرمحیط ہے کہ اس میں جو غوطہ زن ہوگا نئی سے نئی اشیاء نکالتا ہی جائے گا جو انسان کے لیے اس دنیا میں بھی کام آئیں گی اور آخرت بھی ان سے سنورے گی۔ ہاں ! یہ غوطہ زن پر انحصار ہے کہ وہ کیسا غوطہ لگاتا ہے اور کیا نکال کر لاتا ہے اس لیے جو اس کو ترک کرے گا اور اس کی ہدایت کے مطابق عمل نہیں کرے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا ، اس کتاب کا وہ کچھ نہیں بگاڑ سکتا کیونکہ وہ کسی تعریف کی محتاج نہیں ہے اور عظمت ذاتی ہے جو تاقیام قیامت بحال رہے گی۔
Ayah 43:5

اَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا اَنْ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِیْنَ Open ayah 43:5 in the Quran reader

کیا ہم تم سے اس نصیحت کو اس لیے ہٹا لیں گے کہ تم (اپنی سرکشی میں) حد سے بڑھ گئے ہو

کیا اب تم لوگوں سے بیزار ہو کر ہم اس ذکر کو اتارنا روک دیں ؟ 5 ؎ اس آیت میں نبی کریم ﷺ کی بعثت سے لے کرتا نزول آیات جو کچھ ہوا وہ سب کا سب بند کر کے رکھ دیا گیا گویا چھ سات سال کی تاریخ کو کو زے میں بند کردیا گیا۔ نضرب عنکم۔ الضرب یقع علی جمیع الاعمال الا قلیلا۔ ضرب کا لفظ بہت کاموں پر بیان ہوتا ہے۔ اضربت عن الشی کے معنی ہیں اس سے روک دیا گیا یا اس سے رُک گیا اور اعراض کیا اور ضرب عنہ الذکر اور اضرب عنہدونوں کے معنی ہیں صرفہ اس سے پھیر دیا۔ سوار جب اپنی سواری کے جانور کو دوسری طرف پھیرنا چاہتا ہے تو اس کو مارتا ہے تاکہ اس کو دوسری طرف پھیر دے اس لیے ضرب صرف ہوگیا اس لیے کہا جاتا ہے کہ ضربت فلانا عن فلاں کہ فلاں نے فلاں سے اس کو پھیر دیا ہے۔ صفحاً صفح کے معنی جنب کے ہیں کیونکہ ہر ایک چیز کے صفح اس کی جانب ہی ہوتی ہے اور اس جگہ صفحہ کے معنی اعراض کے ہیں کیونکہ صفح عن فلان کے معنی ہیں کہ فلاں سے پیٹھ پھیرتے ہوئے اس سے اعراض کیا۔ امطلب یہ ہے کہ ایک قوم جب خطاکاری میں حد سے گزر گئی ہے تو یہ نہیں ہو سکتا کہ اللہ تعالیٰ بھی اس کو اس اعراض میں چھوڑ دے اور اس کو نصیحت نہ کرے گویا کوئی قوم کتنی ہی خطاکار کیوں نہ ہو اللہ تعالیٰ کا رحم اس کی ایک نہ ایک دن دستگیری کرتا ہے کیونکہ وہ قوم بہرحال اللہ تعالیٰ ہی کی مخلوق ہے وہ تسلیم کرے یا نہ کرے۔ اس کی وضاحت ہم پیچھے اسی جلد کی سورة الزمر کی آیت 53 میں کرچکے ہیں وہاں سے ملاحظہ کریں۔ قومِ فرعون نے حد سے تجاوز کیا تو موسیٰ (علیہ السلام) ، لوط (علیہ السلام) کو اس کے لیے ہادی و رہنما بنا کر بھیجا گیا اور یہی حال پہلی امتوں کا تھا۔ نوح ، ہود ، صالح ، لوط (علیہ السلام) سب کے حالات آپ پڑھ چکے ہیں ان میں ہر قوم بےراہ رو ہوچکی تھی اور ان کو راہ راست بتانے اور سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان نبیوں اور رسولوں کو مبعوث فرمایا اور بعینہٖ اسی طرح جب قوم قریش اور مکہ والوں نے حدود الٰہی سے بہت تجاوز کیا تو ان کی طرف نبی اعظم و آخر ﷺ کو مبعوث فرما کر پوری دنیا کے ایک ہی رسول اور نبی بنایا اور ازیں بعد اس وہبی اور عطائی عہدہ کو ختم کر کے آپ کی امت کے ذمہ تعلیم و تبلیغ کا کام لگا دیا گیا جو بحمد اللہ جاری وساری ہے جس حال میں بھی ہے اور پھر آیت کے آخر میں اس کی مزید وضاحت کردی یہ اللہ رب کریم حد سے تجاوز کرنے والوں کو وارننگ دینے سے پہلے کبھی ہلاک نہیں کرتا گویا ہلاک ہونے والوں کو ہلاکت سے قبل یہ ذمہ داری پوری کردی جاتی ہے اور پہلے یہ ذمہ داری ایک قوم کو غرق کرکے دوسری قوم لانے سے پوری کی جاتی تھی اب قوم کو چھوٹے چھوٹے عذابوں میں مبتلا کر کے اس آنے ولاے بڑے عذاب سے ڈرایا جاتا ہے اور ان عذابوں میں سب سے بڑا اور سب سے برا عذاب یہ ہے کہ قوم پر ایسے لوگ مسلط کردیئے جائیں جو ظالم اور فاسق ہوں ، جن کو اپنی تجوریاں بھرنے کا خیال ہو اور قوم کی حالت زار کا ذرا خیال نہ آئے ، جو اپنا فائدہ سوچتے ہوں اور قوم کے فائدہ کو قربان کردینے والے ہوں اور بدقسمتی سے آج قوم مسلم اسی عذاب سے دوچار ہے اور خصوصاً اس ملک عزیز کی حالت کسی سے پوشیدہ نہیں جس کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نام دیا گیا ہے اور پورے ملک میں ہر طرف شرک کا دور دورہ ہے اور حکومت ہے کہ ظالموں اور فاسقوں کے لیے لازم کردی گئی ہے اس لیے ہر آنے والا جانے والے سے بدتر ہو کر آتا ہے۔
Ayah 43:6

وَ كَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِیٍّ فِی الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:6 in the Quran reader

اور ہم گزشتہ امتوں میں بہت سے پیغمبر بھیجتے رہے ہیں

نبی اعظم و آخر ﷺ سے قبل کتنے ہی رسول بھیجے گئے تھے 6 ؎ درس توحید دینے کے لیے اللہ تعالیٰ نے جب سے انسان کو پیدا کیا اور اس کی نسل کو بڑھایا تو ساتھ ہی اس کی ہدایت کے لیے نبوت و رسالت کا سلسلہ شروع کردیا اور نبی اعظم و آخر ﷺ سے پہلے اَن گنت نبی و رسول اپنی اپنی امتوں اور بستیوں کی طرف بھیجے گئے اس طرح زیر نظر آیت نے گزشتہ آیت کی مزید وضاحت کردی اور ساتھ ہی نبی کریم ﷺ کو تسلی فرما دی گئی کہ جتنے نبی و رسول آپ ﷺ سے پہلے آئے ان سب کی امتوں نے ان کے ساتھ یہی سلوک کیا جو آپ ﷺ کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ مقصد یہ بتانا ہے کہ آپ ﷺ دل برداشتہ نہ ہوں اپنے سے پہلے نبیوں اور رسولوں کے حالات کو اپنے سامنے رکھیں اور اچھی طرح سمجھ لیں کہ انجام کار کامیابی آپ ﷺ ہی کے حصہ میں آئے گی۔
Ayah 43:7

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 43:7 in the Quran reader

اور جو پیغمبر بھی ان کے پاس آتا (اور جب بھی آتا) وہ اس کا مذاق اڑاتے (یہ بات ان کو ورثہ میں ملی ہے)

ہر نبی و رسول کا اس کی قوم نے مذاق اڑایا اور استہزاء کیا 7 ؎ جب بھی اور جہاں بھی کسی قوم کی طرف نبی و رسول بھیجا گیا تو اس کی قوم نے اس کا مذاق اڑایا کہ اچھا آپ ہی کو اللہ نے نبوت و رسالت کے لیے پسند کیا ہے ؟ آپ کو کیا سرخاب کے پَر لگے ہیں اور ہم کو نہیں کہ آپ کے ساتھ تو اللہ باتیں کرتا ہے اور ہماری طرف دیکھتا بھی نہیں۔ کبھی انسان کو بھی اللہ نبی و رسول بنا کر بھیجتا ہے جو تم کو نبوت و رسالت کے لیے چن لیا ؟ یہ اور اسی طرح کے سارے اعتراضات جو آپ ﷺ پر آپ ﷺ کی قوم نے کیے وہ گزشتہ نبیوں اور رسولوں کے ساتھ بھی ان کی قوموں نے کیے۔
Ayah 43:8

فَاَهْلَكْنَاۤ اَشَدَّ مِنْهُمْ بَطْشًا وَّ مَضٰى مَثَلُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:8 in the Quran reader

پس ہم نے ان کو جو ان سے زیادہ زور آور تھے ہلاک کر ڈالا اور اگلوں کا یہ قصہ (قرآن میں) گزر چکا

بڑے بڑے طاقتوروں کو جب ہم نے پکڑا تو ہماری پکڑ سے ان کو کوئی نہ چھڑا سکا 8 ؎ انجام کار ان ساری قوموں کو ہم نے باری باری ہلاک کردیا اور اپنے نبی و رسول کی ہم نے مدد و نصرت کی اور مذاق اڑانے والے خواہ کتنے ہی طاقت ور تھے لیکن جب ہماری پکڑ کا وقت آیا تو ہم نے ان کی ساری شان و شوکت کو ملیا میٹ کر کے رکھ دیا اور تاریخ میں آج بھی ان کی داستانیں پڑھی جاتی ہیں اور اس قرآن کریم میں بھی ہم آپ ﷺ کو کتنے نبیوں اور رسولوں کے قصے سنا چکے ہیں اور ان کی قوموں کی تباہی و بربادی کی داستانیاں پیچھے پڑھتے ہی چلے آ رہے ہو۔ جب ساری قوموں کا مزاج ایک تھا تو ظاہر ہے کہ آپ ﷺ کی قوم کا مزاج بھی وہی ہوگا جو گزشتہ قوموں کا تھا پھر بات ایسی ہے تو آخر ان کا انجام ویسا کیوں نہیں ہوگا ؟ مطلب یہ ہے کہ اگر آپ ﷺ کی قوم نے یہی روش جاری رکھی تو انجام ان کا بھی وہی ہوگا جو گزشتہ قوموں کا ہوا۔
Ayah 43:9

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ خَلَقَهُنَّ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙ Open ayah 43:9 in the Quran reader

اور ان سے اگر آپ ﷺ پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ تو یہ ضرور کہیں گے کہ ان کو زبردست علم والے نے پیدا کیا ہے

مشرکین کی تضاد بیانی آج سے نہیں شروع سے چلی آرہی ہے 9 ؎ کسی مشرک قوم کے حالات کا گہرائی میں اتر کر آپ مطالعہ کریں تو ہر قوم کے لوگ اللہ ربِّ ذوالجلال والا کرام کو ماننے والے ملیں گے ایک طرف وہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کا اقرار کریں گے اور دوسری طرف شرک کے مرتکب بھی ہوں گے جیسا کہ آپ ﷺ کی قوم کا حال ہے کہ آپ ﷺ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کا خالق کون ہے تو فوراً دو ٹوک جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی کی ذات آسمانوں کی خالق اور زمین کو پیدا کرنے والی ہے اور اللہ تعالیٰ ہی غالب آنے والا اور جاننے والا ہے۔ اور دوسری طرف زور دے کر کہیں گے کہ جن کو ہم پکارتے اور سورتے ہیں وہ محض اس لیے کہ وہ ہم کو اللہ تعالیٰ کے قریب کردیں جب کہ اللہ تعالیٰ ان کی سنتا ہے کیونکہ وہ اللہ کے نیک بندے ہیں اور نیکوکاروں کی اولاد ہیں ہم اپنی عرضیاں ان کے سامنے پیش کرتے ہیں اور وہ ہماری سفارش کر کے اللہ تعالیٰ سے معافی لے دیتے ہیں اور اس طرح ان کے نظریات آج سے نہیں شروع ہی سے مختلف چلے آ رہے ہیں اور ہر قوم نے یہ بات کہی ہے کہ جو ہم کرتے ہیں یہی کچھ ہمارے آباؤ اجداد کرتے آئے ہیں پھر آپ نے نہ معلوم یہ راہ کہاں اخذ کرلی ہے۔ بھلا سیڑھیوں کے بغیر بھی کوئی آدمی چھت پر چڑھ سکتا ہے اور بغیر وسیلہ بھی کوئی کام کبھی درست ہوا ہے یہ اور اس طرح کی بہت سی باتیں بنائیں گے لیکن جب یہ پوچھا جائے کہ روزی کون دیتا ہے ؟ تو اللہ ربِّ ذوالجلال والا کرام ہی کا نام لیں گے لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ ہی کے بندوں سے اس کے ساجھی اور شرک بھی بنائیں گے جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے کہ { وجعلوا لہ من عبادہ جزاء } (الزخوف :15) ” اور ان لوگوں نے اس کے بندوں ہی میں سے اس کا ایک جزء ٹھہرا لیا ہے “ جیسے عیسائیوں اور یہودیوں نے کیا اور بدقسمتی سے وہی کچھ آج نام کے مسلمان کر رہے ہیں غور کیجئے کہ جو احد تھا وہ احمد بن کر مدینے میں آگیا ، کہنا کیا ہے ؟ کیا وہی کچھ نہیں جو گزشتہ قوموں میں سے یہود و نصاریٰ نے کیا عزیر کو اللہ کا بیٹا اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا قرار دے دیا اور ظاہر ہے کہ بیٹا باپ کا جزء ہی ہوتا ہے اور احد اگر احمد بن گیا تو ایسا کہنے والوں نے گویا یہودیوں اور عیسائیوں کے بھی کان کاٹ ڈالے اور ان کو بہت پیچھے چھوڑ گئے کہ براہ راست اللہ تعالیٰ ہی کی ذات کو احمد ﷺ بنا لیا۔ اور اس کے باوجود آج کے مشرک بھی آسمانوں اور زمین کا خالق تو اللہ ربِّ ذوالجلال والا کرام ہی کو قرار دیتے ہیں گویا شرک کی وہی صورت ان میں رائج ہے جو مشرکین مکہ میں تھی اور نظریات میں ذرا برابر بھی فرق نہیں رہا اِلاّ یہ کہ وہ کافر و مشرک تھے اور آج کے مشرک دھڑلے کے مسلمان ہیں۔
Ayah 43:10

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۚ Open ayah 43:10 in the Quran reader

وہ (ذات) جس نے تمہارے لیے زمین کو فرش بنایا اور اس میں تمہارے لیے راہیں رکھیں تاکہ تم راہ پاؤ

اللہ تعالیٰ نے تمہارے انسانوں کے لیے زمین کو بچھونا بنا دیا 10 ؎ جہاں بھی مشرکین کے شرک کا ذکر آتا ہے تو ساتھ ہی توحید الٰہی کا بیان بھی کردیا جاتا ہے اور یہی طریقہ اس جگہ اختیار کیا گیا۔ گزشتہ آیت میں مشرکین کے شرک کا ذکر کیا گیا تھا اس لیے اب توحید الٰہی کا بیان کا آگیا ہے اور توحید کا بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ وہی ذات ہے جس نے انسانوں کے لیے زمین کو بچھونا بنا دیا ہے اگر انسان اپنی ذات میں ذرا غور کرے اور اس کائنات کی کسی چیز پر بھی غورو فکر شروع کر دے تو وہ ہر ایک جگہ قدرت الٰہی کے نشانات پائے گا کہ لازماً اس کو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اعتراف کرنا پڑے گا جیسا کہ مشرکین نے باوجود مشرک ہونے کے بار بار اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور حکمت کا اعتراف کیا ہے اور اس کی وحدانیت اور الوہیت کا اقرار کیے بغیر وہ بھی نہیں رہ سکے فرمایا انسان اگر صرف اس بات پر غور و فکر کرے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے زمین کو کیا ہی نعمت بنا دیا ہے کہ وہ جو کام اس کا جی چاہتا ہے اس سے لے لیتا ہے اور وہذرا برابر بھی اس کی بات سے انکار نہیں کرتی اور کس طرح انسان کے لیے اللہ نے اس کے اندر مختلف راہیں قائم کردی ہیں کہ وہ پہاڑوں کی چوٹیوں کو سر کرتا ہے اور صحراؤں اور ریگستانوں کو عبور کرتا ہے ، سمندروں اور دریاؤں سے گزر جاتا ہے اور اسی طرح جہاں جانے اور پہنچنے کی وہ خواہش کرتا ہے اس کی خواہش کو پورا کردیا جاتا ہے ، ایسا کیوں ہے ؟ محض اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے اس میں مختلف راہیں قائم کردی ہیں اور انسلان میں یہ صلاحیت بھی رکھ دی ہے کہ وہ جس راستے کو اختیار کرنا چاہتا ہے اختیار کرلیتا ہے اور اس سے اگر وہ راہ ہدایت اختیار کرنا چاہے تو وہ بھی اس کو مل سکتی ہے جس راہ پر وہ چل کر اپنی منزل مقصود کو پہنچ سکتا ہے بشرطیکہ وہ اس کے لیے کوشش کرے اور پھر ہر معاملہ میں انسان کے لیے یہی اصول مقرر کردیا گیا ہے کہ وہ جس چیز کے حاصل کرنے کی کوشش اور سعی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو وہی مہیا فرما دیتا ہے صرف دنیا طلب کرنے والوں کو دنیاوی اور آخرت کے طلب گار کو اس کے حصے کی دنیا بھی ملتی ہے اور آخرت بھی یقینا اس کو ملے گی۔
Ayah 43:11

وَ الَّذِیْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ١ۚ فَاَنْشَرْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ۚ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ Open ayah 43:11 in the Quran reader

اور (وہی ہے) جس نے آسمانوں سے ایک خاص اندازے سے پانی برسایا پھر ہم نے اس مردہ زمین کو زندہ کیا اسی طرح تم نکالے جاؤ گے

اللہ وہ ذات ہے جس نے تمہارے لیے آسمانوں سے پانی نازل کیا اور مردہ زمین کو زندہ کر دیا 11 ؎ مخاطبین کو کہا جا رہا ہے کہ تم نے اپنی زندگی میں بارہا یہ بات دیکھی ہوگی کہ زمین سڑی پڑی ہے اور سبزہ زار کا اس پر نام و نشان بھی باقی نہیں رہا جس طرف نظر اٹھاتے ہو تم کو صاف چٹیل میدان ہی میدان نظر آتا ہے لیکن پھر کیا ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ اس زمین پر بارش برسا دیتا ہے کہ متہارے دیکھتے ہی دیکھتے زمین ہری بھری ہوجاتی ہے اور ابھی چار دن بھی نہیں گزرتے کہ ہر طرف سبزہ ہی سبزہ نظر آنے لگتا ہے اور وہ زمین جو کل تک مردہ نظر آتی تھی آج بحمد اللہ زندگی سے بھری پڑی ہے کیا اس طرح کی مثالوں سے تم نہیں سمجھ سکتے کہ جو اللہ ربِّ ذوالجلال والاکرام اس اس مردہ زمین کو اچانک تمہارے دیکھتے ہی دیکھتے زندگی بخش دیتا ہے وہ تم کو قیامت کے روز اس طرح زندہ نہیں کرسکے گا ، آخر کیوں ؟ اچھا تم مانو یا یا نہ مانو لیکن اس طرح ہم تم کو دوبارہ میدان حشر میں لا کھڑا کریں گے کہ تمہاری آنکھیں کھلیں گی تو تم میدان حشر میں کھڑے ہو گے اور اس وقت تم کو معلوم ہوگا کہ یہ تو وہ دن آگیا جس دن کی خبر ہم کو دی جاتی رہی اور ہم اس کے آنے سے مسلسل انکار کرتے رہے اور بلاشبہ اس وقت تمہاری حالت دیدنی ہوگی۔
Ayah 43:12

وَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا وَ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَ الْاَنْعَامِ مَا تَرْكَبُوْنَۙ Open ayah 43:12 in the Quran reader

اور (وہی ہے) جس نے تمام اقسام کی مخلوق بنائی اور تمہارے لیے کشتیاں اور چوپائے بنائے جن پر تم سوار ہوتے ہو

انعامات الٰہی کا تذکرہ کیا جا رہا ہے کہ شاید تم بات کو سمجھنے کی کوشش کرو 12 ؎ اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جس نے انسانوں کو پیدا کیا تو ان میں ازدواج کا سلسلہ شروع کیا تاکہ وہ ایک دوسرے سے سکون حاصل کریں اور پھر ان کے فائدہ کے لیے طرح طرح کی مخلوق پیدا کردی اور کسی مخلوق کو پیدا ہونے کا اس کی ذات کو کچھ فائدہ نہیں بلکہ ہر ایک چیز کے پیدا کرنے اور مختلف اجناس بنانے کا فائدہ انسان ہی کو ہے اور وہی ہر ایک چیز سے مستفید ہو رہا ہے اور ایک ایک چیز میں کتنی انواع اس حکیم مطلق نے پیدا کردی ہے کہ اگر تم ان کو شمار کرنا چاہو تو شمار نہیں کرسکتے ذرا اجناس پر غورو کرو ، سبزیات پر غور کرو اور ترکاریوں کو دیکھو ان میں کتنی ہیں جن کو تم کچا بھی کھاتے ہو اور پکا کر بھی اور کتنی ہیں جن کو بغیر پکائے استعمال نہیں کرسکتے پھر ان پھل دار درختوں کی طرف نظر اٹھاؤ کتنے مزیدار ہیں اور کیا کیا ذائقے ان کے تم چکھتے ہو اور پھر میٹھی اشیاء ہیں ، ترش ہیں ، کر اری ہیں جو سب کی سب کھائی جاتی ہیں اور پھر ان کے کھانے کے طریقوں پر نظر دڑاؤ تو تم کو توحید الٰہی کے نشانات ہر جگہ بکھرے نظر آئیں گے ان سمندری کشتیوں اور جہازوں کی طرف دیکھو کہ تمہارے فائدے کے سامنے کس طرح ان پر لدے ہوئے پانی پر تیرتے چلے آ رہے ہیں۔ پانی میں یہ خاصیت کس نے رکھی ؟ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے یہ سب کچھ تمہارے فائدے کے لیے پیدا کردیا ہے اور اس طرح ایسے جانور تمہارے لیے پیدا کردیئے ہیں کہ تم اپنا بوجھ ان پر لاد کر جہاں چاہتے ہو لے جاتے ہو یہ بحرو مر ہیں جو تمہاری سواری کا بندوبست کیا گیا ہے یہ کس نے کیا ہے ؟ کیا تم نے کبھی ان چیزوں کو طلب کیا تھا یا یہ سب کچھ پہلے ہی تمہارے لیے تیار کر کے رکھ دیا گیا تھا اور تم نے جو کیا تو زیادہ سے زیادہ یہی کہ اس سرو سامان سے نئی نئی چیزیں ایجاد کر رہے ہو غور کرو کہا گر یہ سارا مال و متاع موجود ہی نہ ہو تو تم کا جیاد کرسکتے ہو ؟ نہایت افسوس کی بات ہے کہ تم اس کا دیا ہوا یہ سارا رزق حاصل کرر ہے ہو اور اسی ربِّ ذوالجلال والا کرام کا انکار کیے جاتے ہو اور اس کے ساتھ دوسری مخلوق کو شریک ٹھہراتے ہو حالانکہ تمہارے ان سارے شریکوں میں سے ایک بھی نہیں جو یہ کام کرسکے اور تم کو بھی اس بات کا اقرار ہے لیکن اس کے باوجود تم اس کو بھول بیٹھے ہو۔
Ayah 43:13

لِتَسْتَوٗا عَلٰى ظُهُوْرِهٖ ثُمَّ تَذْكُرُوْا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ اِذَا اسْتَوَیْتُمْ عَلَیْهِ وَ تَقُوْلُوْا سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَ مَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِیْنَۙ Open ayah 43:13 in the Quran reader

تاکہ تم ان کی پیٹھوں پر جم کر (اطمینان سے) بیٹھو پھر جب تم بیٹھ جایا کرو تو اپنے رب کے احسان کو یاد رکھو اور کہو کہ پاک ہے وہ ذات جس نے اس کو ہمارے زیر فرمان کردیا اور ہم تو اس کو قابو میں نہ لاسکتے تھے

تمہارا حق تھا کہ تم انعاماتِ الٰہی کا شکر ادا کرتے اور اس کی حمد کے گیت گاتے 13 ؎ کیا تم کو کوئی شخص ذرا سہولت فراہم کر دے جس کی تم کو ضرورت ہو تو کیا تم اس کا شکریہ ادا نہیں کرتے ؟ ہاں ! اپنی روزمرہ زندگی کا خیال کرو کہ تم کو ایک ہی دن میں کتنے لوگوں کا شکریہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ تمہارا وہ دانت جس کی وجہ سے تم بےچین تھے دانتوں کے ڈاکٹر (Dentist) کے پاس گئے اور اس کو اچھی خاصی فیس ادا کی اور اس نے اگر کوئی ایسی دوا استعمال کردی کہ تم کو آرام آگیا تو تم نے کیا کیا ؟ بلاشبہ اس کا شکریہ بھی ادا کیا اور بھاری فیس بھی ادا کی لیکن جس نے تم کو یہ دانت دیا اور برسوں تم نے اس سے فائدہ اٹھایا اور اب پھر تم اس سے فائدہ اٹھاؤ گے کیا کبھی اس دانت دینے والے کا خیال بھی آپ کے دل میں گزرا ؟ اگر نہیں تو تم خود ہی جواب دو کہ کیا تم ناشکرے نہیں ہو۔ تم جس سواری کے جانور کی پیٹھ پر سوار ہوئے اور بڑے آرام و سکون سے اپنی منزل کو رواں دواں ہوگئے یا کسی بھی ایجاد کی گئی سواری پر بیٹھے اور وہ سواری نہایت آرام و سکون کے ساتھ تم کو اٹھائے لیے جا رہی ہے کبھی تم نے اللہ تعالیٰ کے اس انعام کو سمجھنے کی کوشش کی ہے جس نے تمہاری خاطر یہ سب کچھ مسخر کردیا ہے کیا وہ تمہارا رب نہیں ہے ؟ کیا یہ اس کی ربوبیت ہی کا تقاضا نہ تھا ؟ کیوں نہیں بلاریب یہ اس کی ربوبیت ہی کا تقاضا ہے کہ اس نے یہ سب کچھ تمہارے لیے پیدا فرما دیا ہے پھر تم نے اس سواری کے جانور پر یا اس ایجاد کردہ سواری پر بیٹھتے وقت یہ کلمہ بھی زبان سے ادا کیا ہے کہ { سبحن الذی سخرلنا ہذا و ما کنا لہ مقرنین } ” کہ پاک ہے وہ ذات جس نے اس سواری کو ہمارے لیے مسخرکر دیا ہے حالانکہ ہم میں اس کو مسخر کرنے کی طاقت و قوت نہیں تھی۔ “ غور کرو کہ اسلام ہی وہ دین فطرت ہے کہ اس کی روشنی نے زندگی کے سارے گوشے منور کردیئے ہیں اور اس کے فیض سے ہماری زندگی کا ہر شعبہ بہرہ ور ہو رہا ہے اور اسلام اس کی معمولی معمولی باتوں میں راہنمائی کرتا چلا جا رہا ہے تاکہ وہ اپنے ربِّ کریم کو کہیں بھول نہ جائے اور ہر حال میں اس کو یاد رکھے۔ عزوۃ الوثقی ، جلد پنجم کی سورة النحل کی آیت 8 کے تحت تفصیل سے وضاحت کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مروجہ سواریوں کے ذکر کرنے کے بعد ایسی سواریوں کی نشاندہی فرما دی ہے جو اس وقت تک ابھی انسان نہیں جانتا تھا لیکن آج بحمد اللہ ان سواریوں کی نشاندہی فرما دی ہے جو اس وقت تک ابھی انسان نہیں جانتا تھا لیکن آج بحمد اللہ ان سواریوں میں بہت حد تک اضافہ ہوچکا ہے اور ابھی نہ معلوم کیا کیا سواریوں سے انسان کو واسطہ پڑنے والا ہے اور کیا کیا سواری کے لیے ایجاد ہوگا بلاشبہ یہ سب کا سب اللہ تعالیٰ کا انعام ہے۔ احادیث میں کسی بھی سواری پر بیٹھتے وقت اس آیت کے الفاظ سمجھ کر پڑھنے کا ذکر آیا ہے اور اس کے بعد تین بار الحمد اللہ اور تین بار اللہ اکبر کہنے کے بعد (لا الہ الا انت ظلمت نفسی فاغفرلی ذنوبی فانہ لا یغفر الذنوب الا انت) کے الفاظ پڑھنے کا ذکر بھی کیا گیا ہے اور بلاشبہ ان الفاظ میں بہت مضمون مخفی ہے اس لیے کبھی بھی سواری پر سوار ہوتے وقت اس آیت اور ان الفاظ کو سمجھ کر پڑھ لینا چاہئے۔ (ابو داؤد ، ترمذی ، نسائی)
Ayah 43:14

وَ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ Open ayah 43:14 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم کو اپنے رب کی طرف واپس جانا ہے

بلاشبہ ہم سب اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں 14 ؎ بات سے بات نکلتی ہے اور نکالی جاتی ہے اور خصوصاً نصیحت کی باتیں اسی طرح یاد کی اور کرائی جاتی ہیں۔ اس جگہ سواریوں کا ذکر تھا ، سواریاں محض سفر ہی کے لیے ہوتی ہیں اس لیے اس آیت کا اشارہ اس طرف کردیا کہ اس آخری سفر کو بھی مت بھولو جس پر تم کو جانا ہے اور یقینا جانا ہے اور کیا معلوم کہ جس سفر پر تم جا رہے ہو اس سفر سے تم کو واپس لوٹنا نصیب ہوگا یا وہیں سے تم کو دوبارہ کسی آخری سفر پر جانا پڑے گا۔ جس سفر کے بعد تم واپس لوٹ کر کبھی نہیں آؤ گے۔ اس لیے فرمایا جب بھی تم کو کوئی سفر درپیش آئے تو گھر والوں سے رخصت ہوتے وقت یا سواری پر بیٹھتے وقت اپنے ذہن و خیال میں اس بات کا خیال کرو کہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ دوبارہ گھر والوں سے ملاقات ہوگی یا نہیں ، واپس لوٹنا نصیب ہوگا یا نہیں ؟ جب تمہارے ذہن میں یہ بات سما گئی تو سمجھ لو کہ تمہارے نفس کی بہت سی اصلاح ہوگئی اب تمہارا سفر بھی ماشاء اللہ کسی کلب ، شراب خانہ ، قمار بازی ، سٹہ بازی ، میلے ٹھیلے اور اسی طرح کی کسی اودھم بازی کا سفر نہیں ہوگا اور جس شخص کی زندگی سے اس طرح کے سفر نکل گئے ماشاء اللہ اس کی اصلاح ہوگئی اور ایسی اصلاح ہوئی جو اس کو انشاء اللہ دنیا میں بھی کام آئے گی اور اس کی آخرت کو بھی چار چاند لگا دے گی۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ انسان کے دل و دماغ کی اصلاح کرنے ہی اس کے قول و فعل اور عمل کی اصلاح ممکن ہے جب تک دل کی اصلاح نہ ہو ، کسی چیز کی بھی اصلاح ممکن ہی نہیں۔
Ayah 43:15

وَ جَعَلُوْا لَهٗ مِنْ عِبَادِهٖ جُزْءًا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ مُّبِیْنٌؕ۠ Open ayah 43:15 in the Quran reader

اور اس کے لیے اس کے بندوں میں سے جزو (اولاد) ٹھہراتے ہیں بلاشبہ انسان بڑا ہی ناشکر گزار ہے

کتنا ناشکرا ہے انسان کہ اللہ کے ساتھ اس کے بندوں کو شریک ٹھہراتا ہے 15 ؎ یہود نے عزیر (علیہ السلام) کو ، نصاریٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دیا ، مکہ والے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے اور مسلمان کہلانے والوں میں سے کتنے ہیں جو احد کو احمد کہنے میں ذرا جھجھک محسوس نہیں کرتے حالانکہ سب کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ بیٹا یا اولاد بہرحال اپنے باپ کا جزء ہوتی ہے اور جو خاصیت باپ میں ہو وہی بیٹے میں ضروری قرار پاتی ہے اور یہ بھی کہ اولاد بہرحال ماں باپ سے مشابہ اور ان کے نطفہ سے قرار پاتی ہے۔ صرف باپ کہہ دینے سے یا بیٹا کہہ دینے سے نہ کوئی کسی کا باپ بن جاتا ہے اور نہ ہی اس طرح کہنے سے کوئی بیٹا ہوجاتا ہے اس لیے یہ بیماری شروع سے چلی آرہی ہے اور تقریباً ہر قوم میں موجود رہی ہے اور آج بھی موجود ہے حالانکہ بندہ خواہ کوئی ہو ، کون ہو اور کتنا ہی اچھا ہو بہرحال مخلوق ہے اور مخلوق خالق کا جزء نہیں ہو سکتی جس نے ایسا کہا ہے وہ صریح شرک کا مرتکب ہوا ہے خواہ وہ کوئی ہے اور کون ہے۔ بلاشبہ یہ نظریہ بہت ہی لغو اور بیہودہ ہے۔ غور کرو کہ انسان تو اولاد کا اس لیے خواہش مند ہے کہ بڑھاپے میں اولاد اس کے لیے عصائے پیری ثابت ہو ، وہ ہوگی یا نہیں یہ دوسری بات ہے بہرحال انسان کی تمنا ضروری ہے کہ اولاد ہوگی تو غربت اور پیری میں کام آئے گی اور مرنے کے بعد اس کی وارث قرار پائے گی اس طرح کی اور بھی بہت سی خواہشات انسان کے اندر موجود ہیں لیکن کیا اللہ کو بھی بڑھاپا آئے گا یا وہ کبھی بیمار ہوگا یا اس کو غربت آئے گی یا وہ مر جائے گا کہ اس کا کسی کو وارث قرار دینے کے لیی اس کی اولاد کی ضرورت ہو ؟ اگر نہیں اور فی الواقعہ نہیں تو پھر اس طرح کے خرافات آخر کیوں اور کیسے ؟ بدقسمتی سے آج قوم مسلم نے بھی اس طرح کے بکھیڑے بنا رکھے ہیں اور تقریباً ہر بستی ، دہ اور گاؤں سے لے کر بڑے بڑے شہروں تک سب میں یہ ضمنی خدا مقرر کیے گئے ہیں اور مرے ہوئے بزرگوں کی قبروں ، خانقاہوں اور آستانوں میں ہر قسم کا شرک آج بھی کیا جا رہا ہے لیکن اس شرک کو کوئی شرک کہنے اور سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہے بہرحال کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے جو شرک ہے وہ بہرحال شرک ہے کسی کے تسلیم نہ کرنے سے اس کا نام توحید تو نہیں ہو سکتا۔ اگر ذرا غور کرو گے تو تم کو معلوم ہوجائے گا کہ جو کچھ قریش مکہ کرتے تھے وہ کب اس کو شرک تسلیم کرتے تھے پھر جب پہلے مشرکوں نے شرک کو شرک تسلیم نہیں کیا تو یہ آج کے مشرک آخر اس شرک کو کیونکر شرک مان لیں گے اور جب ان کے شرک کو خود محمد رسول اللہ ﷺ تسلیم نہیں کروا سکے تو آپ اور میں کون ہیں کہ ان کو یہ شرک باور کرا لیں گے۔ بہرحال اس میں اور اس میں جو فرق ہے وہ صرف اور صرف یہ ہے کہ ان مشرکوں نے مرے ہوئے بزرگوں کی یاد کو تازہ رکھنے کے لیے ان کے بت تراشے اور ان مشرکوں نے مرے ہوئے بزرگوں کی قبریں ان کو تازہ رکھنے کے لیے پکی بنالیں اور ان پر قبے تعمیر کرلیے گویا انہوں نے اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کے لیے ہو بہو بت تراشے اور ان مشرکوں نے اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کے لیے یہ قبے تیار کیے اور قبروں کو ان گھڑے پتھروں کی طرح ایک ڈھیر کی شکل دے لی لیکن اس سے جو بات شرک تھی اس کے شرک ہونے میں کوئی فرق نہ پڑا اس کفر میں دونوں برابر کے شریک ہیں تسلیم کریں یا نہ کریں لیکن ظاہر ہے کہ جب پہلوں نے اس شرک کو شرک نہیں تسلیم کیا تو یہ کیونکر تسلیم کرلیں گے اور اس طرح غورو کرو گے تو معلوم ہوجائے گا کہ نظریہ وحدت الوجود بھی اسی شرک کی ایک منہ بولتی تصویر ہے اور ” ہمہ اوست “ ہر حال میں شرک ہے اگر کچھ کہنا ہی ہے تو ” ہمہ از اوست “ کہہ دینا چاہئے جو فی الحقیقت حقیقت ہے۔ اللہ ربِّ ذوالجلال والا کرام ہم مسلمانوں کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے بھائی اس شرک سے بیزار ہوجائیں اور اصل توحید الٰہی کی طرف لوٹ آئیں۔ اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے۔
Ayah 43:16

اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخْلُقُ بَنٰتٍ وَّ اَصْفٰىكُمْ بِالْبَنِیْنَ Open ayah 43:16 in the Quran reader

کیا اللہ نے جو کچھ پیدا فرمایا اس میں سے اپنے لیے بیٹیاں منتخب کرلیں اور تم کو بیٹوں کے لیے مخصوص کردیا ؟

کیا اللہ نے اپنے لیے بیٹیاں پسند کیں اور تمہارے لیے بیٹے 16 ؎ مشرکین مکہ سے استفسار کیا جارہا ہے کہ کائنات کی ہرچیز کا خالق اللہ ہے یہ بات تو تم کو بھی معلوم ہے کیونکہ تم ہرچیز کا خالق اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے ہو پھر کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں اپنے لیے بیٹیاں پسند کیں اور تم کو بیٹوں سے نوازتا ہے ؟ یہ بات اس لیے ارشادفرمائی کہ مکہ والے ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ ان سے پوچھا جا رہا ہے کہ اس کی تمہارے پاس کیا دلیل ہے کہ اللہ نے اپنے لیے تو بیٹیوں کو پسند کیا اور تمہارے لیے بیٹوں کو یا یہ کہ تم لوگ اللہ کے لیے بیٹیاں قرار دیتے ہو اور خود بیٹیوں سے نفرت کرتے ہوئے ہمیشہ بیٹوں ہی کے طلب گار ہوتے ہو ، کیا اللہ نے ایسا کہا ہے بہرحال اس کی جو دلیل تمہارے پاس ہے اس کو بیان کر دو ، لیکن ان کے پاس کوئی دلیل ہوتی تو بیان کرتے اور یہ بھی کہ آخران مفروضوں کی کوئی دلیل کسی کے پاس کبھی ہوتی بھی ہے ؟ زیادہ سے زیادہ یہی ہوتا ہے کہ ان وہمی مفروضوں کو لوگ اللہ کی قدرت ، اس کی مرضی اور اس کی رضا کہہ کر ٹال دیتے ہیں اور اگر کچھ اور کہیں گے تو اس کو معجزہ کہہ کر بات کو ختم کردیتے ہیں اور دلیل طلب کرنے والوں کو الٹا تضحیک کا نشانہ بناتے ہیں۔
Ayah 43:17

وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 43:17 in the Quran reader

اور جب ان میں کسی کو اس (لڑکی) کی خوشخبری ملتی ہے جس کو رحمن کی طرف منسوب کرتا ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے اور وہ کڑھتا رہتا ہے

لڑکی کی خبر پا کر جو ان کا حال ہوتا ہے اس کی تصویر کھینچی جارہی ہے 17 ؎ فرمایا تعجب ہے تم لوگوں پر کہ تم میں سے اگر کسی کو لڑکی کی خبر دی جائے کہ تیرے گھر نوزائیدہ بیٹی پیدا ہوئی ہے جیسا کہ تم لوگ رحمن کے لیے بیٹیاں گھڑ رہے ہو اور زور دے دے کر کہہ رہے ہو کہ یہ ملائکہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں تو تمہاری حالت بیٹی کا نام سنتے ہی غیر ہوجاتی ہے اور چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے اور تم غصہ سے دانت پسینے لگتے ہو اور ایسا معلوم ہونے لگتا ہے کہ گویا تم زندہ درگور ہوچکے ہو اور لوگوں سے چھپتے پھرتے ہو اور پھر بہادری کا سب سے بڑا مظاہرہ کرتے ہو تو اپنی بیٹیوں کو زندہ گاڑ دیتے ہو اور پھر اس کو بہادری کی علامت سمجھتے ہو لیکن تم نے کس منہ سے اللہ کے لیے لڑکیاں تسلیم کرلیں جب کہ اللہ تعالیٰ تو اولاد کے ہونے ہی سے پاک ہے اور پھر اس کے اولاد ہوگی تو کیونکر جب کہ تم خود بھی اس کے لیے کوئی بیوی قرار نہیں دیتے ہو کیا اولاد بغیر ماں کے یا بغیر باپ کے بھی ممکن ہے جب کہ اولاد کے لیے ضروری ہے کہ اگر ایک اس کا باپ ہے تو دوسری اس کی ماں۔ تعجب ہے تم پر کہ تم نے اللہ کی اولاد بھی قرار دی اور پھر اس کی بیوی کی بھی نشاندہی نہ کرسکے جب کہ اعلان الٰہی ہے کہ { انی یکون کہ ولدٌ و لم تکن لہ صاحبۃ } (الانعام :101) تف ہے تم پر کہ تم کیسی کیسی باتیں گھڑتے اور بیان کرتے ہو جس کا نہ سر ہوتا ہے نہ پیر اور جو تمہارے منہ میں آتا ہے وہی کہے چلے جا رہے ہو عقل کے ناخن لو اور جو بات کرو اس پر ذرا غور بھی کرلیا کرو۔ { کظیمٌ} صفت مشبہ ہے جس کا مطلب ہے کہ ایسا غمگین جو اپنے غم کو کھونٹ کر رکھے اور ظاہر نہ ہونے دے ایسا خاموش ہوجائے گویا اس کو سانپ سونگھ گیا ہے۔ ایک عورت اپنے خاوند کی بےرخی کی تصویر اس طرح کھینچتی ہے۔ ما لابی حمزۃ لا یاتینا یظل فی البیت الذی یلینا غضبان ان لا نلد البنینا وانما ناخذ ما اعطینا میرے خاوند ابوحمزہ کو کیا ہوگیا ہے کہ اب وہ ہمارے ہاں آتا ہی نہیں اور ساتھ والے مکان ہی میں رہ جاتا ہے۔ وہ اس لیے غضب ناک ہے کہ ہم بیٹے کیوں نہیں جنتیں۔ اس میں ہمارا کیا قصور ہے ؟ ہمیں جو ملتا ہے وہی ہم لیتی ہیں۔
Ayah 43:18

اَوَ مَنْ یُّنَشَّؤُا فِی الْحِلْیَةِ وَ هُوَ فِی الْخِصَامِ غَیْرُ مُبِیْنٍ Open ayah 43:18 in the Quran reader

کیا (اللہ) نے جو زیورات میں نشو ونما پائے اور جھگڑے کے وقت اپنی بات بھی واضح نہ کرسکے (اس کو اپنے لیے تجویز کیا ہے ؟ )

کیا اللہ کے حصے میں وہ اولاد آئی جو زیوروں سے پالی جاتی ہے 18 ؎ زیور صنف نازک کے لیے بطور زیبائش اور خوبصورتی شروع ہی سے استعمال ہوتے چلے آ رہے ہیں اور بلاشبہ یہ نرم و نازک اور ضعیف و کمزور ہونے کی علامت بھی ہے کہ کوئی ایسی کمزوری ضرور ہے جس کو دور کرے کے لیے صنف نازک کو زیوروں کے استعمال کی اجازت دی گئی ہے۔ ینشوا فی الحلیۃ وہ پرورش کی جانے والی اولاد جس کی پرورش زیوروں ہی کی جاتی ہو اور ظاہر ہے کہ وہ لڑکیاں ہی ہیں اور گزشتہ آیت میں لڑکیوں ہی کا ذکر بھی کیا گیا ہے بعض مفسرین نے اس سے بت بھی مراد لیے ہیں کہ وہ زیور سے بنائے جاتے ہیں اور یہ بھی کہ ان کی زیب وزینت بھی زیوروں سے کی جاتی رہی ہے تاہم یہ بات ینشوا فی الحلیۃ کے الفاظ پر صادق نہیں آتی اس لیے اس کی وضاحت کی طرف نہیں جا رہے۔ زیر نظر آیت میں دو باتیں بیان کی گئی ہیں ایک تو یہ کہ وہ زیور میں پرورش پائے اور دوسری یہ کہ وہ جھگڑے میں کھل کر بات نہ کرسکے ایک تو یہ کہ وہ اکثر بات کا بتنگڑ بنا لیتی ہیں اور کسی مجلس میں اپنا مدعا واضح طور پر بیان کرنے سے ہچکچاتی ہیں اور یہ بھی کہ ان میں برداشت کا مادہ بہت کم ہوتا ہے معمولی معمولی باتوں کو محسوس کرنے لگتی ہیں اور بلاشبہ یہ ساری چیزیں کمزوریوں پر دال ہیں اور مردوں کے مقابلہ میں صنف نازک کا کمزور ہونا ایک فطری امر ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا حالانکہ یہ کمزوری طاقت و قوت کے لحاظ سے کمزوری نہیں بلکہ فطرت اور ہیئت جسمانی کی کمزوری ہے جو ایک طبعی امر ہے اور اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے زیرنظر آیت سے عورتوں کے لیے زیور پہننے کا جواز اور مردوں کے لیے زیور کی ممانعت کا پہلو استدلاً نکالا جاسکتا ہے اور احادیث میں اس کی وضاحت آ چکی ہے کہ مردوں کے لیے سونا اور ریشم کے کپڑے پہنا حرام اور عورتوں کے لیے جائز اور درست ہے۔ (عن ابی موسیٰ قال قال رسول اللہ ﷺ لیس الحریر والذہب حرام علی ذکور امتی و و حلال لاناثھا ) (ابوداؤد)
Ayah 43:19

وَ جَعَلُوا الْمَلٰٓئِكَةَ الَّذِیْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا١ؕ اَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ١ؕ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَ یُسْئَلُوْنَ Open ayah 43:19 in the Quran reader

اور انہوں نے فرشتوں کو جو رحمن کے بندے ہیں عورتیں ٹھہرا لیا ہے ، کیا یہ لوگ ان کی تخلیق کے وقت موجود تھے ؟ اب ان کا یہ دعویٰ لکھ لیا جائے گا اور (یقینا) ان سے باز پرس ہو گی

کیا فرشتوں کو جو اللہ کے بندے ہیں یہ لوگ عورتیں سمجھتے ہیں تو ان کی دلیل کیا ہے ؟ 19 ؎ جیسا کہ پیچھے بھی بہت سے مقامات پر گزر چکا ہے اور گزشتہ آیتوں میں بھی اس کی وضاحت کی جا چکی ہے کہ کفار مکہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے اور اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ عربوں کے ہاں سفارش کی جتنی صورتیں ہیں ان میں سب سے واضح اور بڑی سفارش کو لڑکی کی سفارش سمجھا جاتا تھا اور اس مفروضہ کی بنا پر وہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے کہ جب یہ ان کی سفارش کریں گے تو اللہ تعالیٰ اس کے باعث کے وہ اس کی بیٹیاں ہیں ان کی سفارش کو ضرور قبول کرے گا اور کبھی مسترد نہیں کرے گا اس وجہ سے وہ اس طرح کی لاف زنیاں اور لن ترانیاں بکتے تھے جو حقیقت کے سرا سر خلاف ہیں حالانکہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں وہ طاقتیں اور قوتیں ہیں جو ہر وقت اس کے حکم کے تابع ہیں اور اس کے ذکر میں محو ہیں اور اس کے احکامات کی بےچون و چرا اطاعت کر رہے ہیں اور ان مشرکوں نے اپنے شرک کے باعث ان کو اللہ کی بیٹیاں کہنا شروع کردیا ہے جو سرا سر ناانصافی کی بات ہے۔ اس طرح کی نامعقول باتیں کرنا اور پھر ان پر ڈٹ جانا دراصل جہالت ہے اگر ان سے اس کی کوئی دلیل طلب کی جائے تو کیا وہ کوئی دلیل طلب کی جائے تو کیا وہ کوئی دلیل رکھتے ہیں ؟ ہرگز نہیں بہکی یہ تو ایک مفروضہ ہے جو انہوں نے یا ان کے بڑوں نے گھڑ لیا ہے کیا یہ اس وقت موجود تھے جب ان فرشتوں کو خالق نے مخلوق کیا اور انہوں نے دیکھ لیا ہے کہ وہ لڑکیاں ہیں اور ان کو ان کے ماں باپ کا معلوم نہ ہونے کے باعث اللہ کی لڑکیاں قرار دے لیا ہے آخر وجہ کیا ہے ؟ ان کے پاس نہ تو اس کا کوئی جواب موجود تھا اور نہ ہی انہوں نے کوئی جواب دیا اور نہ ہی کوئی جواب دے سکتے ہیں۔ اچھا ان کی یہ شہادت لکھ لی گئی ہے جو انہوں نے فرشتوں کے متعلق بیان کی ہے جب یہ لوگ ہمارے پاس آئیں گے تو اس کے متعلق ہم ان سے پوچھ لیں گے کہ بلاشبہ ان کے پاس نہ تو آج ہی اس کا کوئی جواب ہے اور نہ ہی اس روز وہ اس کا کوئی جواب پیش کرسکیں گے اور وہ اس طرح کی باتیں کر کے اپنا سراسر نقصان کر رہے ہیں۔