44. Surah Ad-Dukhaan

الدخانThe Smoke · 59 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 44:41

یَوْمَ لَا یُغْنِیْ مَوْلًى عَنْ مَّوْلًى شَیْئًا وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَۙ Open ayah 44:41 in the Quran reader

اس دن کوئی دوست کسی دوست کے کام نہیں آئے گا اور نہ ان لوگوں کو (کہیں سے) مدد پہنچے گی

وہ دن ایسا ہے کہ کوئی دوست کسی دوست کے کام نہیں آئے گا 14 ؎ (مولی) اسم مفرد ہے جمع اس کی موالی ہے اور اس کے معنی دوست ، کارساز اور حمایتی کے ہیں۔ وہ دن جو آخرت کا دن ہے اس کی پہنچان بتائی جارہی ہے کہ وہ کیسا دن ہوگا فرمایا وہ دن ایسا ہوگا کہ کوئی دوست ، یار ، عزیز و قریب کسی اپنے دوست یار ، عزیز و قریب کے کام نہیں آئے گا اور کسی طرح کا کوئی تعلق کسی سے قائم نہیں رہے گا اور سب کے سب ایک دوسرے سے منہ پھیر جائیں گے۔ اس کی وضاحت عزوہ الوثقی جلد اول سورة البقرہ کی آیت 561 تا 761 میں کردی گئی ہے اور اسی طرح جلد چہارم میں سورة یونس کی آیت 601 ، 701 جلد ششم سورة الحج کی آیت 37 تا 87 بھی ملاحظہ کی جاسکتی ہے اور زیر نظر آیت میں بھی فیصلہ کن بات کی گئی ہے کہ ” کسی طرف سے بھی ان کو کوئی مدد نہیں پہنچے گی “۔
Ayah 44:42

اِلَّا مَنْ رَّحِمَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 44:42 in the Quran reader

مگر جس پر اللہ رحم فرمائے بلاشبہ وہ (بڑا) زبردست بہت پیار کرنے والا ہے

اللہ کی ذات ہی کسی پر رحم کرے تو کرے کہ وہ زبردست اور رحیم ہے 24 ؎ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی جن اقسام کے لیے طے کردیا ہے کہ میری طرف سے ان کو کسی طرح چھوٹ نہیں ملے گی بلاریب ان کو تو یقینا چھوٹ نہیں ملے گی لیکن وہ بھی کتنے ہوں گے جن کے متعلق ایسا فیصلہ نہیں کیا گیا اور اگر اللہ چاہے تو وہ ان کو مکمل چھوٹ دے دے کسی کے متعلق اس کے کسی تعلق دار کی اجازت عطا کردے اور چاہے تو اسے عذاب دے کر عذاب سے نکلنے کا حکم دے دے بہرحال جب کسی طرف سے کسی طرح کی کوئی مدد نہ دئیے جانے کا اعلان فرمادیا تو اللہ تعالیٰ کی ذات کو اس میں سے مستثنیٰ بھی کردیا کہ وہ جس کے لیے چاہے اپنے کامل علم کی بنا پر کسی کے کام آئے تو آسکتا ہے گویا سارے سہارے ٹوٹنے کے بعد بلاریب اللہ تعالیٰ کی ذات ہی کا سہارا باقی رہ جاتا ہے کیا ہی اچھا ہو کہ ان سارے سہاروں اور تعلقات سے بےنیاز ہو کر صرف اور صرف اسی ذات اور الٰہ ہی کو اپنا پہلا اور آخری سہاراسمجھ لیا جائے کہ بلاشبہ وہ زبردست غالب آنے والا اور پیار کرنے والا ہے۔
Ayah 44:43

اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِۙ Open ayah 44:43 in the Quran reader

بلاشبہ زقوم کا درخت (ہی وہ درخت ہے)

زقوم کا درخت گنہگاروں کا وہاں کھانا ہوگا 34 ؎ اب اس فیصلے کے دن فیصلہ ہوجانے کے بعد ان کا ذکر کیا جارہا ہے جو اس فیصلہ میں ناکامی سے دوچار ہوں گے ، کیوں ؟ اس لیے کہ وہ دنیوی زندگی میں اس دن کی آمد کو تسلیم ہی نہیں کرتے تھے۔ انہوں نے اس سے بالکل بےنیاز ہو کر دنیوی زندگی گزاری تھی خواہ وہ کون ، کہاں اور کیسے تھے۔ اپنی ناکامی کے باعث جب وہ دوزخ کے مستحق ٹھہرے تو اب بتایاجارہا ہے کہ دوزخ میں ان کی کیا خاطر مدارت ہوگی۔ فرمایا ان کو زقوم کا درخت کھانے کے لیے پیش کیا جائے گا۔ زقوم کیا ہے ؟ اس دنیا میں ہم جس چیز کو تھوہر کے نام سے یاد کرتے ہیں اس کا عربی نام زقوم اور انگریزی نام (Cactus) ہے۔ رہا وہ درخت جو دوزخ میں دوزخیوں کو کھانے کے لیے پیش کیا جائے گا تو اس کی حقیقت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ احادیث میں ہے کہ نبی اعظم وآخر ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ سے ڈرتے رہو جس طرح اس سے ڈرنے کا حق ہے کیونکہ اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی دنیا کے سمندر میں ڈال دیا جائے تو زمین پر بسنے والوں کی زندگیاں خراب کرڈالے پھر جن کو یہ بطور غذا پیش کیا جائے گا ان کا تو پوچھنا ہی کیا ہے کہ ان کی حالت کیا ہوگی۔ (ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ اور ابن ابی حاتم عن ابن عباس ؓ) اس کی مزید وضاحت عزوۃ الوثقی سورة الصافات کی آیات 26 تا 66 تک ہوچکی ہے۔
Ayah 44:44

طَعَامُ الْاَثِیْمِ٤ۖۛۚ Open ayah 44:44 in the Quran reader

جو گنہگاروں کا کھانا ہوگا (معلوم ہے کیسا ؟ )

گنہگاروں کو اس کے کھانے پر مجبور کیا جائے گا اور ان کو کھانا ہی پڑے گا 44 ؎ جہاں نیک لوگوں کے لیے جنت میں وہ سب کچھ ان کو پیش کیا جائے گا جو ان کے طبائع طلب کریں گے اور جس چیز کی ان کو خواہش پیدا ہوگی اور دوزخیوں کو وہ کچھ پیش کیا جائے گا جس سے انسان طبعاً نفرت کرتا ہے اور اس کو دیکھتے ہی بیزار ہوجاتا ہے اس لیے کہ ان کو عذاب دیا جاتا ہے اور ایسی چیزوں پر ان کو مجبور کرنا جن کو دیکھتے ہی اور سنتے ہی نفرت آئے بلاشبہ اس عذاب کا ایک حصہ ہوگا جو ان کو دیا جانا ہے۔ اس لیے ان کے کھانے کی چیزوں میں جو چھ بھی ہوگا وہ اس طرح کی چیزیں ہوں گی جن سے انسان طبعی طور پر نفرت کرتا ہے اور ان کا نام خیال کرتے ہیں اس کو بیزاری شروع ہوجاتی ہے یہ تو ان کا کھانا ہے اور ان کے پینے کی چیز کا ذکر آگے آنے وا ال ہے اس پر بھی ذرا غور کرلو۔
Ayah 44:45

كَالْمُهْلِ١ۛۚ یَغْلِیْ فِی الْبُطُوْنِۙ Open ayah 44:45 in the Quran reader

جیسا پگھلا ہوا تانبا (ان کے) پیٹوں میں کھولے گا (معلوم ہے کیسے ؟ )

وہ کھانا پگھلے ہوئے تانبے کی مانند ہوگا جو ان کے پیٹوں میں کھولے گا 54 ؎ (المھل) کا لفظ تین بار قرآن کریم میں آیا ہے سورة الکھف کی آیت 92 ، دوسری بار اس جگہ اور تیسری بار سورة المعارج کی آیت 8 میں ۔ اس کے معنی پگھلے ہوئے تانبے کے کیے جاتے ہیں اور بعض نے تیل کی تلچھٹ کے معنی بھی کیے ہیں اور تلچھٹ تہ تشین سونے والے میل کچھیل کو کہتے ہیں۔ سورة الکھف میں فرمایا کہ ( یشوی الوجوہ) وہ ان کے مونہوں کو جلادے گا اور اس جگہ ارشاد فرمایا گیا کہ وہ ان کے پیٹوں میں جاکر کھولے گا خواہ تو وہ اپنے اثر کے باعث پیٹوں کے اندر یہ کیفیت پیدا کردے گا اور خواہ وہ اس طرح کی کوئی چیز ہوگی اور اس کو کھانے یا پینے پر دوزخیوں کو مجبور کردیا جائے گا اور وہ کھائیں گے تو ان کے منہ بھی جھلس جائیں گے اور پیٹوں کے اندر بھی اسی طرح کھولتا رہے گا جو گویا عذاب پر دوہرا عذاب اسی طرح سے ان کو دیا جائے گا (یغلی) کا اصل مادہ غ ل ی ہے اور (غلی) کے معنی ہیں۔ کسی چیز کا حد اعتدال سے آگے بڑھ جانا۔ پانی جب کھولتا ہے اور تانبا جب پگھلتا ہے تو وہ حد سے بہرحال تجاوز کرجاتا ہے۔
Ayah 44:46

كَغَلْیِ الْحَمِیْمِ Open ayah 44:46 in the Quran reader

جیسے پانی کھولتا ہے

وہ ان کے پیٹوں میں اس طرح کھولے گا جس طرح پانی آگ پر کھولتا ہے 64 ؎ (کغلی الحمیم) مانند کھولتے ہوئے پانی کے یا پگھلے ہوئے تانبے کی یا مانند تیل کی تلچھٹ کے۔ یہ ساری چیزیں ایسی ہیں جہ انسان کو اگر کھانے کے لیے دی جائیں تو ان کو کھایا ہی نہیں جاسکتا اور کھانے پر اگر مجبور کردیا جائے تو بلاریب یہ عذاب الٰہی اور اس لیے ان چیزوں کا اس جگہ ذکر کیا جارہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہوئے دعا کرنا چاہیے کہ اللہ رب العزت اس عذاب سے بچائے۔
Ayah 44:47

خُذُوْهُ فَاعْتِلُوْهُ اِلٰى سَوَآءِ الْجَحِیْمِۗۖ Open ayah 44:47 in the Quran reader

(حکم ہوگا) اس کو پکڑ لو اور گھسیٹتے ہوئے دوزخ کے بیچوں بیچ لے جاؤ

اس طرح کے کھانے کھلانے کے بعد دوزخیوں کو دوزخ میں کھینچنے کا عذاب بھی ہوگا 74 ؎ (خذوہ) یعنی اس دوزخی کو پکڑلو (فاعتلوہ) پس اس کو دھکیلتے ہوئے لے جائو۔ اس کا اصل مادہ ع ت ل ہے۔ اعتلو اعتل سے ہے جس کے معنی چار طرف سے پکڑ کر زبردستی کھینچنے اور دھکیلنے کے ہیں امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر اور ہ ضمیر واحد مذکر غائب۔ (سواء الجحیم ) جہنم کے بیچوں بیچ۔ یہ دوزخ کے بیچوں بیچ کھینچنے کا عذاب اس کو کیوں دیا جائے گا ؟ اس لیے کہ یہ خود (عتل) کا لفظ ایک ہی بار قرآن کریم میں آیا ہے جو سورة القلم کی آیت 31 میں ہے جس کے معنی سخت مزاج ، گردن کش ، اجڈ ، بسیار خور ، درشت ، ستمگار ، سخت گو اور سختی کے ساتھ کھینچنے والے کے ہیں (ھو الشدید الخلق الفاحش الخلق (فتح القدیر ج 5 ص 162) یعنی (عتل) وہ ہے جو جسم کا مضبوط اور اخلاق کا خراب ہو۔ ھوالشدید الخلق المصحح الاکول الشروب الواحد للطعام للناس الرحیب الجوف (فتح الباری ج 8 ص 805 مصر) ” عتل وہ ہے جو جسم کا مضبوط ہو ، صحت مند ہو ، بڑا کھانے پینے والا ہو ، جسے کھانے پینے کے لیے خوب ملتا ہو ، لوگوں پر بہت ظلم کرتا ہو اور اس کی توند بڑھی ہوئی ہو۔ “
Ayah 44:48

ثُمَّ صُبُّوْا فَوْقَ رَاْسِهٖ مِنْ عَذَابِ الْحَمِیْمِؕ Open ayah 44:48 in the Quran reader

پھر اس کے سر پر کھولتا ہوا پانی عذاب دینے کے لیے ڈالو

پھر کھولتا ہوا پانی بھی اس کے سر پر انڈیل دینے کا حکم دیا جائے گا 84 ؎ سارے دوزخیوں کے سامنے اس کھینچنے اور گھسیٹنے کا عذاب دئیے جانے کے بعد حکم ہوگا کہ اس کے سر پرکھولتے پانی کے چند لوٹے ڈال دو کہ یہی اس کا سر ہے جس میں اس کا وہ ناپاک دماغ پڑا ہے جس سے سیدھا سوچنے کی بجائے یہ الٹا ہی سوچتا رہا اور غریبوں پر رحم کھانے کے بجائے ان کو طرح طرح سے ستانے کی اسکیمیں تیار کرتا رہا اور ایمان لانے والوں کو اس نے ذرا چین اور آرام نہ آنے دیا چونکہ اس نے نئے نئے عذاب دئیے تھے اس لیے اس کو بھی ایک کے بعد دوسرا نیا ہی عذاب دیا جائے گا جو ایک سے ایک بڑھ کر ہوگا۔ (الحمیم) میں ایک خاص طرح کی رمز بھی موجود ہے کہ اس نے یہ ساری زیادتیاں اپنے دوستوں اور یاروں کی مدد کے سہارے کی تھیں اور یہی ان سب کا سرغنہ تھا اور ان سب کے سامنے اس کو اسی طرح ذلیل کرنے والے عذاب میں مبتلا کیا جائے گا تاکہ وہ اپنے ان دوستوں اور یاروں کو اپنی مدد کے لیے بلائے اور دیکھے کہ بھلا کوئی اس کو مدد کو پہنچتا ہے اور یہ بات یقینی ہے کہ اس وقت کسی کو بھی اس کی ہمت نہیں پڑے گی بلکہ سب ایک دوسرے کے ساتھ یہ سب کچھ ہوتا دیکھ کر خاموش رہیں گے۔
Ayah 44:49

ذُقْ١ۙۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْكَرِیْمُ Open ayah 44:49 in the Quran reader

مزہ چکھ ! تو بڑا عزت والا سردار (بنا بیٹھا) تھا

94 ؎ ایسا لگتا ہے کہ اس وقت تک جو طرح طرح سے اس کو عذاب دئیے گئے تھے وہ سب کے سب خاموشی کے ساتھ تھے گویا اس کے اعمال کا نقشہ اس کے سامنے پیش کیا جاتا رہا اور ساتھ ساتھ مختلف طریقوں سے عذاب دیا جاتا رہا ہے تاکہ عذاب جو اس کے عمل کا نتیجہ ہے اپنے عمل پر منطبق ہوتا وہ اپنی آنکھوں سے دیکھتا رہے اور آخری عذاب جو پہلے عذابوں سے بھی بڑا ہوگا وہ یہ ہوگا کہ اس سے کہا جائے گا کہ اب اس عذاب کا مزہ چکھ اور بلاشبہ (ذق) کا لفظ نہایت زور دار آواز سے بولا جائے گا گویا اس کی اس بڑھک کا بدل ہے جو وہ دنیا میں یکبارگی لگایا کرتا تھا اور یہ پورا نقشہ اس کے اعمال کا ہے جب اس کے کارندے غریب اور کمزور مسلمانوں کو چھیڑتے تھے تو یہ دیکھ کر ایک گرجدار آواز میں کہا کرتا تھا کہ پکڑلو ان کو انہوں نے یہ نیا دین کہاں سے نکال لیا ہے جس کو نہ ہمارے باپ جانتے تھے اور نہ دادے بیعنہ اسی طرح ان عذابوں سے دوچار کرتے ہوئے آخر میں اس کو للکار کر کہا جائے گا کہ چکھ ! کہ تو بڑا زبردست عزت دار آدمی بنا بیٹھا تھا اور کسی غریب آدمی کو تو انسان سمجھنے کے لیے تیار ہی نہ تھا تو صرف اور صرف ان لوگوں کو باپ دادا والے لوگ سمجھتا تھا جن کے پاس زمینوں کے مربعے تھے اور ان کے بڑے خاندان اور برداریاں تھیں اور دوسرے انسان تیری نگاہ میں انسان ہی نہ تھے۔
Ayah 44:50

اِنَّ هٰذَا مَا كُنْتُمْ بِهٖ تَمْتَرُوْنَ Open ayah 44:50 in the Quran reader

بلاشبہ یہ وہی (دن) ہے جس کے بارے میں تم شک میں پڑے تھے

یہ وہی عذاب آخرت ہے جس کو ماننے کے لیے تم تیارہی نہ تھے 05 ؎ عذاب الٰہی کی جو جور صورتیں بیان کی گئیں ہیں ایک سے ایک بڑھ کر ہے اور پھر آخری صورت عذاب نے جس میں اس صاحب اقتدار اور نہایت ہی اکھڑا اور ہیکڑ لوگوں کو جب مخاطب کرکے کہا جائے گا کہ چکھو اس عذاب کو تم لوگ تو دنیا میں بہت عزت و تکریم کے مالک بنے بیٹھے تھے اور اس کے بعد ان کو مخاطب کرکے کہا جائے گا کہ یہ عذاب وہی ہے اور اسی طرح یہ دن بھی وہی دن ہے جس کا تم نہایت سختی سے انکار کیا کرتے تھے اور جن کو انکار نہیں تھا شک وشبہ سے خالی وہ بھی نہیں تھے۔ اس لیے اب انکار کرنے والوں کا انکار اور شک کرنے والوں کا شک دور ہوا ہے یا ابھی نہیں ہوا ؟ اور ظاہر ہے کہ جن پر یہ سب کچھ گزر رہا ہوگا وہ اس کا انکار کیسے کرسکیں گے۔ اور اسی پر اہل نار کے عذاب کی داستان ختم کی جارہی ہے۔
Ayah 44:51

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ مَقَامٍ اَمِیْنٍۙ Open ayah 44:51 in the Quran reader

بلاشبہ پرہیزگار امن کی جگہ میں ہوں گے

بلاشبہ پرہیز گار لوگ امن کی جگہ میں ہوں گے 15 ؎ جنت کے جتنے درجات ہوں گے سب کے سب میں امن ہی امن ہوگا اور کہیں بھی بدامنی اور بےآرامی کا نام و نشان تک نہیں ہوگا اور نہ ہی کسی طرح کی کوئی فکر کسی کو لاحق ہوگی اور اس طرح نہ کسی کو کوئی غم اور پریشانی ہوگی اور نہ ہی کوئی خطرہ اور اندیشہ ہوگا ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں پھیلی ہوئی ہوں گی اور سلامتی کا دور دورہ ہوگا ، خوشی اور سلامتی کی جو چیزیں انسان کے تصور میں آسکتی ہیں یا اس وقت کے ماحول کے مطابق جو چیزیں اس کے لیے خوشی اور مسرت کی ہوں گی سب اس کو میسر ہوں گی اور اہل جنت میں سب کے سب جوان ہوں گے مرد ہوں یا عورتیں تقریباً ہم عمر اور بچے محض ان کی خدمت کے لیے مقرر کیے جائیں گے اور ہر ایک ماشاء اللہ صحت و تندرستی سے ہوگا نہ بیماری ہوگی اور نہ ہی بیماری سے بچنے کی کوئی تدبیر کرنے کی ضرورت ہوگی اور موت کو پہلے ہی موت دی جاچکی ہوگی اس لیے وہاں مرنے اور پیدا ہونے کا تو کوئی تصور ہی نہیں ہوگا پھر اس جگہ کو امن کی جگہ نہ کہا جائے تو اور کیا نام اس کو دیا جائے۔ صرف اس ایک فقرہ میں جنت کی ساری حقیقت سمو کر رکھ دی گئی ہے اگر کوئی سمجھنے والا بھی ہو۔
Ayah 44:52

فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۚۙ Open ayah 44:52 in the Quran reader

باغات میں اور چشموں میں (سیر کریں گے)

25 ؎ پانی بہنے کی جتنی صورتیں دنیا میں انسان کو میسر ہیں ان سب صورتوں میں بہتر ، خوبصورت اور دل کو بہت ہی لبھانے والی صورت اس چشمہ کے پانی کی ہے جس چشمہ میں ہمیشہ پانی بہتا رہے اور اس میں مزید خوبی یہ ہو کہ گرمیوں میں معمول کے مطابق ٹھنڈا اور میٹھا ہو اور سردیوں میں معمول کے مطابق گرم اور مزہ دار ہو اور پھر فراز سے جب نشیب کو چل رہا ہو تو اس سے کیا ہی انسان لطف اندوز ہوتا ہے اور کیا ہی اپنی ضروریات کو پورا کرتا ہے اور خوشی ومسرت اس کو حاصل ہوتی ہے اور پھر یہ تصور عربوں میں جہاں پانی کی اتنی قلت ہے کہ پینے کے لیے بھی فراوانی سے میسر نہیں آتا اور جو زمین سے نکلتا ہے وہ کڑوا اور کھاری ہوتا ہے۔ ان کے لیے ٹھنڈا اور میٹھا پانی دنیا کی وہ نعمت ہے کہ اس کے مقابلہ میں شاید ہی کوئی نعمت ہوگی اور اس وقت بھی جن جن علاقوں میں پانی کی قلت ہے ان کے لیے یہ تصور نہایت ہی خوش آئند ہے اور انسان کی خوشی کو برقرار رکھنے کے لیے ہی اس کا تذکرہ کیا گیا ہے اور بلاشبہ جنت اور خوشی دونوں آپس میں لازم وملزموم ہیں۔
Ayah 44:53

یَّلْبَسُوْنَ مِنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَقٰبِلِیْنَۚۙ Open ayah 44:53 in the Quran reader

وہ باریک ، دبیز رشمی لباس میں ملبوس ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوں گے

اہل جنت کے لیے وہ لباس جو مردوں کو دنیا میں ممنوع تھا سب جائز قرار دیا جائے گا 35 ؎ سندس اور استبرق ریشمی کپڑوں کے نام ہیں جو مردوں کو پہننے سے منع کیا گیا جس طرح مردوں کے لیے سونا پہننا حرام ہے خواہ انگوٹھی ہو اور خواہ کوئی اور زیور جیسے کانوں کی بالیاں اور ہاتھوں کے کنگن اور کھانے کے برتن لیکن جنت میں اہل جنت کے لیے یہ سب چیزیں استعمال کرنا جائز اور درست ہوگا اور ان چیزوں میں سے کسی چیز کی بھی ممانعت نہیں ہوگی۔ اس طرح گویا اہل جنت جو لباس چاہیں گے تیار ملے گا اور جو زیور ان کی خوبصورتی میں اضافہ کرے گا وہ بھی میسر آئے گا اور ہر ایک چیز کی ماشاء اللہ فراوانی ہوگی اور پھر سب سے بڑھ کر خوشی کی بات یہ ہوگی کہ دنیا میں جو کسی کے دل میں دوسرے کے لیے کسی طرح کی کوئی کدورت ہوگی وہ سب کی سب صاف کردی جائے گی اور جنتیوں کے دل بالکل صاف ہوں گے ، ہر کسی کے دل سے کینہ ، بغض اور بیماری سب ختم کردی جائے گی اور وہ ایک دوسرے کے روبرو اور آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے اور جس طرح دنیوی زندگی میں ایک دوسرے کے ساتھ اینٹ پھٹکا لگا رہتا ہے اور سخت سست سننے میں آتی رہتی ہے اس طرح کی کوئی بات کسی کے سننے میں نہیں آئے گی بلکہ ایک دور سے کے لیے سلامتی ہی سلامتی نظر آئے گی اور ایک دوسرے کے حق میں نیک خیال ہوں گے اور شوق سے ایک دوسرے کو پہچانتے اور گفتگو کرتے ہوں گے۔
Ayah 44:54

كَذٰلِكَ١۫ وَ زَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِیْنٍؕ Open ayah 44:54 in the Quran reader

اس طرح ، بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں ان کی ازواج بنائیں گے

بلاشبہ ساری باتیں اسی طرح ہوں گی اور ان کے نکاح میں خوبصورت عورتیں دی جائیں گی 45 ؎ (کذلک) ہاں ! اسی طرح ہوگا۔ یعنی اہل جنت کو وہ سب کچھ ملے گا جس کا گزشتہ آیات میں ذکر کیا گیا ہے اور جنتی مردوں کے نکاح میں ہم عمر ، خوبصورت ، خوب سیرت ، نہایت ستھری اور پاکیزہ ، سفید رنگ ، آہو چشم عورتیں دے دیں گے۔ عورت اور مرد دونوں اصناف ایک دوسرے کے بغیر بلاشبہ غیر مکمل ہوتے ہیں اور فطری محبت کے تقاضے کی تکمیل دونوں کے ملنے ہی سے ہوتی ہے اور ان دونوں کے ملنے ہی سے ایک کامل انسان بنتا ہے دونوں ہی ایک دوسرے کے لیے سکون کا باعث ہوتے ہیں اور دونوں ہی کو ایک دوسرے کی برابر طلب ہوتی ہے لیکن مرد کے لیے عورت کے ملنے کا ذکر ہی کیا جاتا ہے کیونکہ یہ صنف نازک کا احترام ہے اور ظاہر ہے کہ پھول ہی کے کسی کے ہاتھ میں جانے کا ذکر بھلا معلوم ہوتا ہے اور یہ بھی کہ مرد کی ساخت و بناوٹ اور فطرت کے مطابق اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ وہ ایک سے زائد عورتوں سے یعنی چار تک بیک وقت نکاح کرسکتا ہے اور عورت اپنی ساخت و بناوٹ اور فطرت کے مطابق اس بات کی متحمل نہیں ہے اس لیے اس لحاظ سے مرد کے نکاح میں عورتوں کے دئیے جانے ہی کا ذکر صحیح اور درست ہے اور یہی طریقہ اسلام نے اختیار کیا ہے (حور) کا لفظ اس جگہ پہلی دفعہ آیا ہے اور (حور) جمع ہے ” حوراء “ کی اور ” حوراء “ نہایت گوری عورت کو کہتے ہیں۔ حور وہ عورتیں ہیں جن کی سفیدی نکھری ہوئی ہو۔ (بغوی) ان کے گورے پن اور رنگ کی صفائی کے سبب ان پر نگاہ کام نہ کرسکے۔ (مجاہد) حوریں وہ ہیں جن کی آنکھ کی سفیدی نہایت سفید اور سیاہی نہایت گہری سیاہ ہو۔ (ابوعبداہ) ، (معالم التنزیل ج 7 ص 561 طبع مصر) ” حواریون “ جو حواری کی جمع ہے اس لفظ (حور) سے مشتق ہے اور اس کے معنی خالص سفیدی کے ہیں اور یہ بات معلوم ہے کہ یہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے اصحاب کا خطاب ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے منقول ہے کہ چونکہ ان کے کپڑے سفید تھے اس لیے ان کو حواری کہا گیا۔ (بخاری باب مناقب الزبیر بن عوام ؓ اور (عین) جمع ہے عیناء کی وہ عورت جس کی آنکھیں بڑی بڑی اور مناسب موٹی ہوں اور خوبصورت ہوں۔
Ayah 44:55

یَدْعُوْنَ فِیْهَا بِكُلِّ فَاكِهَةٍ اٰمِنِیْنَۙ Open ayah 44:55 in the Quran reader

(اور وہ) وہاں اطمینان کے ساتھ ہر قسم کے میوے منگوائیں گے

جنت میں وہ اطمینان سے ہر طرح کی لذیذ چیزیں طلب کریں گے 55 ؎ یہ انسانوں کے فرشتہ سیرت جوڑے جنت میں پوری آزادی سے رہیں گے اور جتنی بار پھل طلب کریں گے اور جتنی مقدار میں چاہیں گے ان کے سامنے پیش کردئیے جائیں گے اور کسی طرح کی روک ورکاوٹ ان کو نہیں ہوگی اور نہ ہی کسی طرح کا ان کو فکر وفاقہ ہوگا اور نہ ہی ان پھلوں اور کھانوں کو سنبھال سنبھال کر رکھنا پڑے گا۔ اس سے مقصود انسان کو بتایا ہے کہ جس چیز کی وہاں طلب ہوگی وہ تیار ملے گی کیونکہ کسی شخص کو وہاں ” بل “ کی ادائیگی نہیں کرنی ہوگی یہ سارے کے سارے ان کی دنیوی زندگی کی پاکیزگی کا صلہ ہوگا اور اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق زندگی گزارنے کا نتیجہ اس لیے ان ساری چیزوں کا ذکر کے انسانوں کو رغبت دلائی گئی ہے تاکہ وہ ان انعامات خداوندی کے حاصل کرنے کی جتنی زیادہ سے زیادہ کوشش کرسکتے ہیں کرلیں کیونکہ آج کی محنت کا آنے والے کل میں ان کو صلہ دیا جانا یقینی ہے اور جو آئندہ یقینا یابندہ ہوتا ہے۔
Ayah 44:56

لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا الْمَوْتَ اِلَّا الْمَوْتَةَ الْاُوْلٰى١ۚ وَ وَقٰىهُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِۙ Open ayah 44:56 in the Quran reader

وہاں موت کا مزہ (بھی) نہیں چکھیں گے سوائے اس موت کے جو پہلے آ چکی (اللہ) ان کو دوزخ کے عذاب سے بچا لے گا

وہاں موت کا بھی کسی کو کھٹکا نہیں ہوگا کہ موت وہی تھی جو ان کو آچکی 65 ؎ دنیوی زندگی جو انسان کو دی گئی ہے اس کے پیچھے موت لگادی گئی ہے اور اس دنیا میں کسی کو کتنی ہی آسانیاں میسر ہوں بہرحال ان ساری آسانیوں کو اس کی موت ختم کرکے رکھ دیتی ہے اور اس کے بعد وہی مٹی سب کو کھا جاتی ہے جس سے انسان کو پیدا کیا گیا ہے خواہ کوئی ہو ، کہاں ہو اور کیسا ہو لیکن قیامت کے روز قیامت بپا ہونے کے بعد اور انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنے کے بعد ان کی آنکھوں کے سامنے موت کو موت دے دی جائے گی اور اس دوبارہ زندگی کے بعد کسی کے لیے موت نہیں ہوگی نہ اہل جنت کے لیے اور نہ اہل دوزخ کے لیے لیکن دوزخیوں کے لیے ان کی وہ زندگی جس کا پیچھے ذکر کیا گیا ہے ایک تکلیف دہ بات ہے جس تکلیف سے نکلنے کی بھی کوئی صورت نہیں ہوگی اور ان کے مقابلہ میں اہل جنت کے لیے یہ زندگی نہایت خوش آئند ہوگی کیونکہ ان کو جو انعامات دئیے جائیں اور جو جو آسانیاں میسر آئیں گی وہ ان سے کبھی نہیں چھنیں گی اور جس طرح دنیوی زندگی میں انسان کے لیے اتار چڑھائو ہوتے رہتے ہیں اور ہر انسان کو فکر لاحق رہتی ہے خواہ وہ کوئی ہو ، کون ہو اور کہاں ہو وہاں اس طرح کا کسی کو کھٹکا نہیں ہوگا۔ اہل دنیا کے لیے خواہ کوئی کتنا اچھا اور نیک انسان کیوں نہ ہو اس کو دوزخ کا کھٹکا تو مستقل لگادیا گیا ہے اور ان قوی انسانوں کے سوا جن کو اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت سے فائزیاب کیا باقی کون جانتا ہے کہ اس کا قدم کس وقت پھسل جائے لیکن وہاں یہ کھٹکا بھی مستقل طور پر ختم ہوجائے گا کیونکہ اب ان کو دوزخ سے بچالیا گیا اور یہی کامیابی سب سے بڑی کامیابی ہے جو ان کے حصے میں آئی اور مبارک ہیں وہ دوزخ سے بچا کر جنت میں داخل کردئیے گئے جن میں اب ان کو ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہوگا۔
Ayah 44:57

فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 44:57 in the Quran reader

(یہی) آپ کے رب کا فضل ہے (اور) یہی وہ بڑی کامیابی ہے

اللہ تعالیٰ کے فضل نے ان کو دوزخ سے بچادیا یہ ان کے لیے اصل کامیابی ہے 75 ؎ اہل جنت ماشاء اللہ جنت میں پہنچ گئے اور بلاشبہ یہ سب رب ذوالجلال والاکرام کی بندہ نوازیاں اور ذرہ پروریاں ہیں کہ اس نے اپنے خاص فضل اور بےپایاں رحمت سے اپنے بندوں کو نوازا اور ان کو ایسی کامیابی سے ہمکنار کردیا جس سے بڑی کوئی اور کامیابی نہیں ہوسکتی کہ دنیا کی زندگی میں ان کو اپنے فضل و کرم سے نیک عمل کرنے کی توفیق بخشی اور آخرت میں ان کے اعمال کے ثمرات سے مستفید فرمادیا۔ دنیا میں اپنے بندوں کے قدم جمادئیے اور جہاں چپہ چپہ پر پھسلان موجود تھی ان کو ثابت قدم رکھ کر پھسلنے سے محفوظ رکھا اور آخرت میں اس بہانہ سے امن وسلامتی کی جگہ پر پہنچادیا۔ بلاشبہ دنیا کی زندگی اس آخرت کی زندگی کے مقابلہ میں ایک معمولی زندگی تھی اور پھر اس معمولی زندگی میں جو اتار چڑھائو آتے ہیں وہ آخرت کے مقابلہ میں ایک پلک جھپکنے سے زیادہ کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔ سکھ تو چونکہ پہلے ہی سکھ ہوتا ہے اس کے گزرتے تو کوئی دیر نہیں لگتی لیکن دکھ اور مصیبت کے دن بھی انجام کا رکٹ ہی جاتے ہیں اور خصوصاً جب دکھ کا وقت گزر کر آسانی مہیا ہوجاتی ہے تو دکھ کو بھولتے فطری طور پر کوئی دیر نہیں لگتی اور اگر انسان کو آخرت کی کامیابی نصیب ہوجائے تو اصل کامیابی یہی کامیابی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دنیا وآخرت کی بھلائی طلب کرتے ہی رہنا چاہیے اور دنیا کے مقابلہ میں آخرت کی بھلائی کے لیے زیادہ محنت درکار ہے اور لاریب اس محنت کا پھل بھی بہت میٹھا ہوگا اور اس کا حاصل ہوجانا ساری کامیابیوں سے بڑھ کر کامیابی ہے اللہ نصیب فرمائے اور اس کامیابی سے ہم کو ہمکنار کرے۔
Ayah 44:58

فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 44:58 in the Quran reader

پس ہم نے یہ قرآن آپ ﷺ کی زبان پر آسان کردیا ہے تاکہ (لوگ سن کر) نصیحت حاصل کریں

بلاشبہ ہم نے اس قرآن کو آپ ﷺ کی زبان پر سہل بنادیا ہے تاکہ ان کو نصیحت حاصل ہو 85 ؎ قرآن کریم درد زبان ہو تو اس سے بڑا کوئی اور وظیفہ نہیں اور اللہ تعالیٰ اس کی سمجھ دے دے اور پھر سمجھ کر اس کو درد زبان بنایا جائے تو بلاشبہ کوئی مشکل مشکل نہیں رہتی اور اگر کوئی مشکل پیش آبھی جائے تو حل المشکلات وہ خود رب ذوالجلال والاکرام ہے اس کو ان گرہوں کو کھولتے ذرا دیر نہیں لگتی جن کے کھلنے کی انسان کو امید ہی نہیں ہوتی اور یہی وہ آسانی ہے جو قرآن کریم کو درد زبان بنانے والے کو حاصل ہوتی ہے بلاشبہ اس کا تعلق ایمان کامل سے ہے جتنا ایمان پختہ ہوگا اتنا ہی قرآن کریم آسان ہوتا چلا جائے گا اور جوں جوں وقت گزرے گا منزل قریب آتی جائے گی۔ لاریب ذرا انسان قرآن کا مطلب ومفہوم سمجھتا ہو تو اس کی اثر انگیزی میں بجلی سے بھی بڑھ کر تیزی پیدا ہوجاتی ہے اور دل کے اندر اس کا اثر بہت ہی جلد نفوذ کرتا چلا جاتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم ابھی ابھی نازل ہوا چلا جارہا ہے۔ خیال رہے کہ قرآن کریم کا تعلق دل کی زمین کے ساتھ ہے جتنی یہ زمین زرخیز ہوگی ، دنیوی آلائشوں سے پاک وصاف ہوگی اتنا ہی اس بیج کو جلد بار آور کرے گی اور یہ بھی کہ اس کا اصل مقام بہرحال دل ہے کیونکہ اس کا نزول براہ راست اللہ کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کے دل پر ہوا ہے اور جب یہ دل کے راستے سے زبان پر جاری ہوتا ہے تو اس کا سماں اور اس کی کیفیت زبان وقلم سے بیان نہیں کی جاسکتی کیونکہ شنیدہ کے بود مانند دیدہ محاورہ عام ہے اور دل کی آنکھ سے دیکھنا ظاہری آنکھ کے دیکھنے سے ہزار ہار زائد وسعتیں اپنے اندر رکھتا ہے۔ بلاشبہ قرآن کریم کی نصیحتیں حاصل کرنے کے لیے دلوں کے دریچہ کو کھولنا ضروری ہے پھر زبان جو بولے گی سیدھا دل کے اندر نقش ہوتا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو صاف و شفاف بنائے اور اپنے آخری نبی ورسول محمد رسول اللہ ﷺ کی لائی ہوئی آخری ہدایت کو ہمارے دلوں پر نافذ فرمادے اور اس کی نصیحتوں کو ہم بگوش ہوش سنیں اور ہمارے اعمال ان کے مطابق ہوتے چلے جائیں۔
Ayah 44:59

فَارْتَقِبْ اِنَّهُمْ مُّرْتَقِبُوْنَ۠ Open ayah 44:59 in the Quran reader

آپ بھی انتظار کیجئے وہ (مخالفین) بھی انتظار میں ہیں

اے رسول ﷺ ! آپ ﷺ بھی انتظار کریں وہ بھی انتظار کرنے والے ہیں 95 ؎ آپ ﷺ اپنے پیغمبر اسلام ! دیکھتے رہیں کہ آپ ﷺ کے مخالفین اور معاندین کا انجام کیا ہوتا ہے اور وہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ ان کے دیکھتے ہی دیکھتے وہ گھڑی کس طرح تیزی سے ان کی طرف بڑھ رہی ہے جس کا وہ مسلسل انکار کیے جا رہے ہیں کہ کس طرح ان کے کرتوتوں کی ان کو سزا ملتی ہے۔ جب دونوں طرف اعمال جاری ہیں تو یقینا دونوں طرف ان کے نتائج بھی سامنے آجائیں گے جو عین اعمال کے مطابق ہوں گے اور جیسا کروگے ویسا ہی بھروگے کی مثل صادق آجائے گی۔ اسی مضمون پر ہم سورة الدخان کی تفسیر کو ختم کرتے ہیں۔ رب اغفروارحم وانت خیر الراحمین عبدالکریم اثروی 41 /جنوری 2991 ء ، مطابق 51/ رمضان المبارک 8141 ھ