Ayah 44:21اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے الگ ہوجائو
12 ؎ جیسا کہ اوپر ہم نے ذکر کیا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کی طاقت ودھم کی کا جواب اس سے بھی زیادہ طاقت وقوت سے دیا اور اس کی تصدیق زیر نظر آیت نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں کردی کہ اگر تم میری تعلیمات کو صحیح اور درست تسلیم نہیں کرتے تو میں بھی تمہاری ربوبیت اور الوہیت کا اقرار نہیں کرتا اور تم نے جو یہ کہا ہے کہ ” اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو معبود مانا تو تجھے ان لوگوں میں شامل کردوں گا جو قید میں پڑے ہیں۔ (62 : 92) یا یہ کہ ” ان لوگوں میں شامل کردوں گا جن کو ہم نے رجم کیا ہے “ میں نے اچھی طرح سن لیا ہے اور تب ہی تم پر واضح کیا ہے کہ اگر تم نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا تو وہ صرف مجھ ہی پر نہیں ہوگا بلکہ تمہارا مقابلہ اس کے ساتھ ہوگا جس نے مجھے رسول بناکر مبعوث کیا ہے اس لیے اے فرعون تیرے لیے اچھی بات یہی ہے کہ میری راہ چھوڑ دے اور اب تو اپنی قوم پر حکومت کرتا رہ اور میری قوم کو میرے سپرد کردے اور میرے راستے میں حائل ہونا چھوڑ دے۔ (فاعتز لونی) کے الفاظ میں کتنا زور ہے اس کو اہل زبان ہی سمجھ سکتے ہیں۔ جب کوئی شخص کسی سے اس طرح خطاب کرے کہ میرے راستے سے ہٹ جا ، مجھ سے دور ہوجا ، میری راہ چھوڑ دے تو ان الفاظ کا زور خود بخود یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ ورنہ اس مزاحمت کا خمیازہ بھگتنے کے لیے تیار ہوجا۔ بہت دیر ہم نے خاموشی اختیار کی کہ شاید تیری سمجھ درست ہوجائے۔ جب یہ الفاظ کہہ کر کوئی چپ ہوجاتا ہے تو اس کی چپ وہ سب کچھ بیان کردیتی ہے جو زبان سے بیان نہیں کیا جاسکتا اور لاریب یہی صورت حال اس جگہ ہوئی۔
Ayah 44:22موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب کو پکارا کہ یہ لوگ تو اب مجرم ہونے کو ہیں
22 ؎ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے سوال کا جواب بلاشبہ نہایت عزم وجزم کے ساتھ دیا لیکن دل میں کھٹکا تو موجود تھا کہ نہ معلوم فرعون اپنی طاقت وقوت کے نشہ میں کوئی سخت قدم اٹھا ہی نہ دے اس لیے جب فرعون سے علیحدگی ہوئی تو فوراً اپنے رب کریم کی طرف رجوع ہوئے اور عرض کی کہ اے میرے پروردگار ! یہ لوگ تو مجرم ہیں ہی اور ظاہر ہے کہ مجرم کا کام ہی کیا ہے کہ وہ جرم کا ارتکاب کرتا ہے تو شاید یہ لوگ اپنی حکومت کے نشہ میں اپنی کہی ہوئی بات پر عمل کرنے کی کوئی اسکیم کریں۔ اب حالات اس جگہ پہنچ گئے تھے جہاں پہنچ کر انبیاء کرام اور رسل عظام کو ہجرت کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ آپ کو دعا کرنا تھی کہ رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر سے نکل جانے کی خبر سنادی گئی۔
Ayah 44:23اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اے موسیٰ میرے بندوں کو لے کر رات کے وقت یہاں سے نکل جائو
32 ؎ موسیٰ علیہ اسلام کو مصرچھوڑ دینے کا حکم مل گیا کہ اگر فرعون اجازت نہیں دیتا اور بنی اسرائیل کو آپ کے ساتھ بھیجنے کے لیے وہ تیار نہیں ہے تو ہم آپ کو حکم دیتے ہیں کہ اب فرعون کی اجازت کی کوئی ضرورت نہیں آج ہی رات میرے بندوں کو اپنے ساتھ لے کر مصر سے ہجرت کرجائو۔ یاد رہے کہ ہجرت کرکے کہاں جانا ہے اور کیسے رہنا ہے ، کس راستے سے جانا ہے یہ سب باتیں پہلے ہی نبی ورسول کے ساتھ طے ہوتی تھیں اس لیے طے شدہ بات جانے والے اور لے جانے والے کو معلوم ہے اس میں ذہن نہ الجھے پھر ہجرت کرنے سے قبل حکم دینے کے ساتھ ہی یہ بھی واضح کردیا کہ اچھی طرح سمجھ لو فرعون اور اس کا لائو لشکر ضرور تمہارا پیچھا کریں گے ایسا نہ ہو کہ تم ان کو اپنے پیچھے آتا دیکھ کر گھبرا جائو اپنے لوگوں کو ضرورت کے وقت ساری باتیں خود سمجھا دینا یہ گویا موسیٰ (علیہ السلام) کو ہدایت فرمائی جارہی ہے۔ مزید وضاحت دیکھنا ہو تو عزوۃ الوثقی جلد پنجم میں سورة طٰہ کی آیت 77 ، جلد ششم سورة الشعراء کی آیت 36 کا مطالعہ کریں۔
Ayah 44:24آپ دریا کو تھما ہوا چھوڑیں گے اور مخالف لشکر کو ہم اس جگہ غرق کرنے والے ہیں
42 ؎ (رھوا) کا اصل مادہ رھو ہے ” رھا البحر یرھورھوا “ سکن فھوراہ ورھو “۔ رھا الثئی رھوا کے معنی ہیں وہ چیز حالت سکون میں ہوئی اور ساکن کیا ہے ؟ سب جانیت ہیں کہ یہ وہ حالت ہے جب حرکت نہ کرے اور دریا کا ساکن ہونا واضح ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو عین اس وقت گزر جانے کا حکم دیا گیا جب دریا پایاب تھا اور پانی زور سے نہیں چل رہا تھا اور بنی اسرائیل کے پارہوتے ہیں پیچھے سے جو پانی قدرت الٰہی بھیجنے والی تھی اس کو عین اس وقت اس جگہ پہنچنا تھا جب فرعون اور اس کا لشکر دریا میں اتر تا اور اللہ تعالیٰ کی یہی وہ خفیہ تدابیر ہوتی ہیں جن سے دنیا کے سارے انسان غافل ہوتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں اور رسولوں کو وہ ساری صورت حال سمجھا دیتا ہے یہی حالت اس جگہ بیان کی جارہی ہے لیکن سمندر یا دریا کے ساکن ہونے سے مراد مفسرین نے کبھی یہ کہ اس کا پانی پتھر بن گیا اور کبھی کوئی بات کہہ دی جس سے یہ معلوم اور واضح ہو کہ ضرور کوئی یہاں غیر فطری معاملہ بنایا جائے حالانکہ بات بالکل واضح تھی کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنی لاٹھی کے ساتھ نشان لگا کر اپنی قوم کو بتادیا کہ تم اس جگہ سے دریا کو پار کرو اور اس راستے سے سیدھے نکل جائو کیونکہ آپ پر ساری بات پہلے ہی واضح کردی گئی تھی کہ ابھی چند منٹ کے بعد کیا ہونے والا ہے اور جو کچھ ہونے والا تھا اس کو اس جگہ (انھم جند مغرقون) کے الفاظ سے صاف صاف واضح کردیا کہ مخالفین کا سارام لائو لشکر اس جگہ غرق کردیا جانے والا ہے۔ اس پر اسی حالت کے بیان کرنے کے لیے قرآن کرمیم میں جو استعارات اور اشارات کیے گئے ان سے ہمارے مفسرین کرام نے وہ وہ کہانیاں ترتیب دے لیں جن کی کوئی حقیقت نہیں تھی اور جس مقصد کے لیے یہ اشارازت واستعارات بیان کیے گئے اس کو بالکل بھلا دیا نہ تو خود پار کیا اور نہ قوم کو پار کرنے دیا حالانکہ مقصد کی بات صرف اور صرف یہ تھی کہ ” جو شخص اللہ کی رضا کے لیے کام کرتا ہے اللہ اس کا ہوجاتا ہے اور جس کا اللہ ہوجائے اس کے کام اس طرح بنتے اور سنورتے جاتے ہیں کہ دنیا والے ششدر رہ جاتے ہیں کہ یہ کیوں اور کیسے ؟ “ پھر اس کیوں اور کیسے کی ٹوہ میں لوگ کہیں سے کہیں نکل جاتے ہیں اور طرح طرح کی کہانیاں گھڑتے اور داستانیاں جوڑتے آئے ہیں ، جوڑ رہے ہیں اور جوڑتے رہیں گے اور جہاں بات ختم ہوتی ہے اس کو ختم نہیں ہونے دیں گے۔ ہم نے اس کی وضاحت پیچھے سورة طٰہ اور سورة الشعراء میں کردی ہے اور حوالہ بھی گزشتہ آیت کے حاشیہ میں گزرچکا ہے وہاں سے مزید وضاحت دیکھ لیں۔ (رھوا) کا لفظ قرآن کریم میں صرف اس ایک جگہ بیان ہوا ہے اس لیے اس کی مثال قرآن کریم سے نہی لغت ہی سے پیش کی جاسکتی تھی اور لغات کی کتابیں دیکھی جاسکتی ہیں اور پھر پورے جملہ پر ایک بار پھر غور کرو کہ قرآن کریم کے اس جملہ میں کیا حکمت پنہاں ہے فرمایا (واترک البحر رھوا) ” تو دریا کو ساکن چھوڑے گا “ یہ خطاب موسیٰ (علیہ السلام) سے ہے کہ تم کو جس جگہ سے گزرنے کا حکم دیا جارہا ہے اس جگہ اپنی لاٹھی سے نشان لگا دو اور قوم کو گزرنے کا حکم دو جب تک تو دریا سے بنی اسرائیل کو پار نہیں لے نکلے گا دریا ساکن ہی رہے گا اور بنی اسرائیل کے کسی آدمی کو کوئی نقصان نہیں ہوگا اور جب تو ساکن دریا سے بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر نکل جائے گا اور فرعون اور اس کا پورا لائو لشکر دریا میں اتر جائے گا تو دریا یقینا ساکن نہیں رہے گا بلکہ اس میں ایک ایسا مد ہوگا کہ فرعون اور اس کے سارے لشکر دریا میں اتر جائے گا تو دریا یقینا ساکن نہیں رہے گا بلکہ اس میں ایک ایسا مد ہوگا کہ فرعون اور اس کے سارے لشکر کو وہ بہا لے جائے گا (انھم جند مغرقون) (44 : 24) بلاریب اس طرح زیر نظر آیت میں اللہ تعالیٰ نے دریا کے ” مدوجزر “ کی پوری وضاحت ارشاد فرمادی کہ عین جزر کے موقعہ پر بنی اسرائیل کو دریا سے پار کرنا ہے اور عین مد کے وقت فرعون اور اس کے لشکر کو دریا میں اتارنا ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے اس سارے کرشمہ کو موسیٰ (علیہ السلام) پر واضح کردیا اور جو بطور وحی ارشاد فرمایا تھا عملاً بنی اسرائیل سے اس کو پورا کرکے دنیا والوں کو دکھادیا کہ اللہ کا کلمہ پورا ہوکرک رہتا ہے اس میں کسی طرح کا کوئی ردوبدل نہ اللہ تعالیٰ کرتا ہے اور نہ کسی کو کرنے دیتا ہے اس لیے اچھی طرح سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ کی بات پتھر پر لکیر ہے۔
Ayah 44:25فرعون اور اس کی قوم کس طرح اپنے باغات اور چشمے چھوڑ کر نکل گئے
52 ؎ یہی دنیا کی وہ چیزیں تھیں جن پر فرعون اور اس کے لائو لشکر ، اس کے اعوان وانصار کو بہت ناز تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت توحید و رسالت کے بدلے میں اس نے قوم کو مطمئن کرنے کے لیے کہا تھا کہ (یقوم الیس لی ملک مصرو ہذا الانھر تجری من تحتی افلا تبصرون ام انا خیر من ھذا الذی ھو مہین ولا یکاد یبین ) 34 ، 15 ، 25) ” اے میری قوم ! کیا مصر کی بادشاہت و حکومت میری نہیں ہے اور یہ نہریں ہیں جو میرے نیچے بہتی ہیں تو کیا تم یہ سب کچھ دیکھتے نہیں۔ کیا میں بہتر ہوں یا یہ شخص جو ذلیل خوار ہے اور اپنی بات بھی کھول کر بیان نہیں کرسکتا۔ “ اس طرح گویا اس نے ایک طرف اپنی حکومت وسطوت کا ذکر کیا ہے اور دوسری طرف موسیٰ (علیہ السلام) کی کمزوری کا کہ وہ محکوم قوم سے تعلق رکھتے تھے جن کو وہ اپنے غلام سمجھتا تھا کہ اس ملک میں ان کا کوئی حق نہیں ہے کیونکہ ملک ہمارے اور ہمارے آبائو اجداد کا ہے بنی اسرائیل کون ہوتے ہیں ہمارے ساتھ اس ملک میں برابری کا ساتھ دینے والے جب کہ یہ ہمارے زر خرید غلام کی اولاد ہیں۔ فرمایا ہم نے اس کو اس سرزمین اور ان باغوں اور چشموں سے اپنی حکمت کے ساتھ الگ کردیا اور یہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بنی اسرائیل کے تعاقب کے لیے نکل کھڑا ہوا۔
Ayah 44:26اسی طرح اس نے اپنی کھیتیاں اور عزت والے مقام بھی چھوڑ دئیے
62 ؎ جن زرخیز زمینوں میں اس سکو ناز تھا اور جن رہائش گاہوں اور سروسامان کو وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ کے لیے پش کرتا تھا وہ موسیٰ (علیہ السلام) کا پیچھے کرنے کی غرض سے ان سب کو چھوڑ کر مصر سے چل نکلا اور اس کو دوبارہ ان زمینوں ، کھیتوں ، باغوں اور کو ٹھیوں میں آباد ہونا نصیب نہ ہوا اور اس کی دنیا کے سارے سروسامان اسی جگہ دھرے کے دھرے رہ گئے اور رب اور الٰہ کہلانے والے کو اس کی موت کے وقت سب کچھ چھوڑ کر مصر سے نکل جانے پر مجبور کردیا اس کو کیا معلوم تھا کہ میں ان سارے سروسامان کو خود بنی اسرائیل کے لیے خالی چھوڑ کر چلا ہوں تاکہ اب وہ لوگ اپنے فائدہ کا حصہ ان چیزوں سے حاصل کریں۔
Ayah 44:27وہ ساری نعمتوں کو چھوڑ نکلا جن پر وہ نازاں رہا کرتا تھا
72 ؎ وہ ساری آسانیاں جو اس کو ملک مصر میں میسر تھیں اور وہ ساری نعمتیں جو اس کو عطا کی گئی تھیں اس نے ان کو اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے انعام واکرام سمجھنے کی بجائے اپنی ربوبیت اور الوہیت کا حق سمجھ لیا اور اپنی مرضی سے ان کو استعمال کرنے لگا اور اپنی ذات کو اس نے اتنا پائیدار سمجھ لیا کہ یہ سب کچھ اس کا حق ہے اور کسی کا عطا کردہ نہیں ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) یہی بات اس کو باور کرانے کے لیے آئے کہ فرعون یہ ساری اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے اور تو ان نعمتوں پر اس قدرنازاں نہ ہو جا کہ عطا کرنے والے ہی کو تو بھول گیا اور سارا کمال اپنی ذات کا سمجھنے لگا اور اس عارضی ملکیت کو تو نے مستقل ملکیت کو تو نے مستقل ملکیت سمجھ لیا اور تجھے اس بات کا خیال نہ آیا کہ ان ساری چیزوں کے کیھب دوسرے مالک تھے اور تیرا نام ونشان بھی نہیں تھا اور یہ کہ پھر وقت ایسا بھی آئے گا کہ ان ساری چیزوں کے دوسرے وارث بنادئیے جائیں گے اور تیرا نام ونشان تک مٹادیا جائے گا۔ اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کی ان باتوں کو جنون قراردیا اور آپ کا مذاق اڑایا اور آپ کو اور آپ کی قوم کو حقیر وناچیز سمجھا اور آپ کی معقول باتوں کو نامعقول سمجھا حالانکہ آپ نے اس کو باور کرانے کی پوری کوشش کی کہ جو کچھ میں تجھ کو کہہ رہا ہوں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا بلکہ اللہ رب کریم کا پیغام تجھ کو پہنچا رہا ہوں جو ان ساری چیزوں کا مالک حقیقی ہے اور جس نے تیرے جیسے انسان کی آزمائش کے لیے یہ سب کچھ دیا ہے لیکن اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کی ایک نہ سنی اور ہمیشہ اپنی باتوں کو وزنی سمجھا اور تعجب کیا کہ اس ملک میں رب اور الٰہ تو میں ہوں موسیٰ کتنا پاگل شخص ہے جو مصر کی ساری آبادی کے خلاف بات کرتا ہے اور اتنی بڑی جمعیت کے مقابلہ میں اکیلا اپنی ڈفلی بجارہا ہے۔
Ayah 44:28وہ اسی طرح سمجھتا رہا لیکن ہم نے ہرچیز کا وارث بنی اسرائیل کو بنادیا
جس ملک ، اقتدار ، باغوں ، کھیتوں ، محلوں کو وہ اپنی ملکیت اور حق سمجھتا تھا اور ان پر اتراتا تھا وہ سب کے سب دھرے کے دھرے رہ گئے اور اس مالک کو مصر سے اٹھا کر دور ایک دریا میں لے جاکر اس کے اندر دو گھونٹ پانی اس طرح ڈال دیا کہ وہ بےاختیار ہو کر پکار اٹھا (امنت انہ لا الہ الا الذی امنت بہ بنواسرائیل وانا من المسلمند) (01 : 19) کیا اب (تو ایمان لاتا ہے) اور پہلے تو نے نافرمانی کی اور تو فساد کرنے والوں میں سے تھا۔ “ کتنی سبق آموز تھی فرعون اور اس کے اعوان وانصار کی موت کو اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی نشانیوں میں سے ایک نشانی قرار دیا اور فرمایا (فالیوم ننجیک ببدنک لتکون لامن خلفک ایۃ) (01 : 29) ” پس آج ہم تیرے بدن کو بچادیں گے تاکہ ان کے لیے جو تیرے پیچھے ہیں ایک نشانی ٹھہرے۔ “ ( وان کثیراً من الناس عن ایتنا لغفلون (01 : 29) ” اور بلاشبہ بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے بیخبر ہیں “۔ زیر نظر آیت میں ارشاد فرمایا کہ (واورثنھا قوماً اخرین) ہم نے ان چیزوں کا دوسری قوم کے لوگوں کو وارث بنادیا “ اور دوسری قوم کونسی قوم ہے ؟ اس کی وضاحت آپ سورة الشعراء کی آیت 95 میں پڑھ چکے ہیں کہ یہ قوم بنی اسرائیل ہی کی قوم تھی جیسا کہ ارشاد فرمایا تھا کہ (کذلک واورثنھا بنی اسرائیل) (62 : 95) ” اس طرح ہم نے ان ساری چیزوں کا وارث بنی اسرائیل کو بنادیا “۔ اور یہ بات واضح ہے کہ یہ وراثت وہ شرعی وراثت نہیں ہے جو آبائو اجداد حقیقی سے اولاد در اولاد کو منتقل ہوتی ہے۔ اس کا اصل مادہ ورث ہے اور ارث کے اصل معنی ہے کہ بغیر بیع وشراء اور بلاہبہ وغیرہ کے کسی کی طرف سے کسی مالی ملکیت کا دوسرے کی جانب منتقل ہونا اور اسی مناسبت سے میت کے متروکہ مال کو جو میت کے بعد اس کے اقربا کے پاس منتقل ہو کر آتا ہے میراث کہا جاتا ہے اور یہی شرعی میراث ہے اگر وہ اسلام کے اصولوں کے مطابق ورثاء کو منتقل ہوجائے لیکن اس کے علاوہ دو معنی اور بھی ہیں جن کے لیے وراثت کے مختلف صیفے استعمال ہوتے ہیں۔ (1) بلاعوض اور بغیر مشقت کسی چیز کا مالک ہوجانا جس طرح مومنین صالحین جنت کے وارث ہوں گے اس صورت میں ایک کی ملکیت دوسرے کی طرف منتقل نہیں ہوتی بلکہ ابتداء بلا انتقال ملکیت حاصل ہوتی ہے۔ (2) علم یا کتاب کا وارث ہونا اس صورت میں مال کی ملکیت نہیں ہوتی نہ منقولہ اور نہ ابتدائی بلکہ ایک کا علم اس کے بعد دوسرے کو ملتا ہے یعنی جو علم یا دستور اسلاف کا تھا اخلاف اس کے حاصل ہوجاتے ہیں جیسے (اورثنا الکتب) ” ہم نے کتاب کا حاصل (آنے والی قوموں کو) بنادیا۔ اس طرح ایک جانے والی قوم کو بنادینا جیسا کہ اس جگہ مذکور ہے اور اس کی وضاحت ہم پیچھے کرچکے ہیں کہ جو بنی اسرائیل مصر سے ہجرت کرکے نکل چکے تھے وہ اگرچہ واپس مصر میں نہیں آئے لیکن اس کے باوجود ابھی کتنے ہی بنی اسرائیل تھے جو مصر میں آباد تھے اور ان ساری چیزوں کا انتظام وانصرام اب انہوں نے سنبھال لیا اور اس طرح بنی اسرائیل کی حکومت قائم ہوگئی اور فرعون کی حکومت کو قدرت الٰہی نے معزول کردیا اور دنیا والوں پر ثابت کردیا کہ اصل مالک ہرچیز کا آج بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے جو اپنے حکم اور قانون کے مطابق لوگوں کی وراثتوں کو بدلتا رہتا ہے۔
Ayah 44:29پھر ان لوگوں پر آسمان رویا نہ زمین اور نہ ہی ان کو مزید مہلت ملی
92 ؎ جب وہ اقتدار میں تھے اور مصر کے سیاہ وسفید کے مالک بنے اور جو ان کے جی میں آیا انہوں نے کیا اور بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے نکلنے نہ دیا اور نہ ہی اس کو تسلیم کیا کہ ان کی حیثیت بھی ہماری قوم کی طرح ہے بلکہ وہ اکیلی قوم اپنی مرضی کے قوانین بناکر اپنی مرضی کے فیصلے بنی اسرائیل پر ٹھونستے رہے اور انہوں نے جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا معاملہ اختیار کیا۔ لیکن جب اس کے ظلم کی رات ختم ہونے پر ائٓی تو کوئی زیادہ مدت نہ لگی اور ایک پل بھر میں ان غلاموں کے ہاتھ میں اقتدار دے دیا گیا جن کو قبطی اپنے غلام کہتے تھے کیونکہ یوسف (علیہ السلام) مصر کے بازار میں فروخت ہوچکے تھے اور ان کو خریدنے والا عزیز مصر قبطی قوم ہی کے حکمران افراد میں سے ایک فرد تھا اور زمین و آسمان کا رونا ایک محاورہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ظالموں کی اس موت کا کسی کو کوئی افسوس نہ ہوا بلکہ سب نے سکھ کا سانس لیا کہ ” خس کم جہاں پاک۔ “
بعض اہل تفسیر نے کہا ہے کہ نہ رونے سے حقیقی معنی مراد ہیں کیونکہ احادیث میں آیا ہے کہ جب مومن مرتا ہے تو آسمان و زمین روتے ہیں۔ بلاشبہ احادیث میں ہے لیکن کیا قرآن کریم میں جو بات محاورتاً تسلیم ہے وہ احادیث میں محاورتاً بیان نہیں کی جاسکتی ؟ جب قرآن کریم میں ظالموں کی موت پر آسمان و زمین کے نہ رونے کا ذکر موجود ہے تو احادیث میں ایک مومن و عادل کی موت پر آسمان و زمین کا رونا ثابت ہو تو وہ اس آیت کی صحیح تفسیر ہے جس سے وضاحت ہوجاتی ہے کہ ظالموں کی موت پر آسمان و زمین نہیں روتے تو مومن و عادل کے مرنے پر یقینا وہ روئیں گے مطلب تو صرف یہ ہے کہ اس رونے یا نہ رونے کا حقیقی مطلب کیا ہے ؟ تو ظاہر ہے کہ وہ یہی ہے کہ جس طرح ظالم اور فاسق حکمران کی موت سے کسی کو بھی افسوس نہیں ہوتا بلکہ سب لوگ سکھ کا سانس لیتے ہیں اسی طرح مومن و عادل حکمران کی موت پر بلاشبہ سب کو افسوس وافسردگی ہوتی ہے بالکل صحیح ہے اور ہم نے اس کو محاورہ محض اس لیے کہا ہے کہ دوسری طرف صحیح احادیث میں آیا ہے کہ اتفاق ایسا ہوا کہ جب نبی اعظم وآخر ﷺ کا بیٹا سیدنا ابراہیم کا انتقال ہوا تو اس روز سورج گرہن بھی ہوا تو لوگوں نے کہنا شروع کردیا کہ ابراہیم کی وفات سے سورج گرہن ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ سورج اور چاند تو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دونشانیاں ہیں ان میں نہ کسی کے مرنے سے گہن آتا ہے اور نہ کسی کے جینے سے چناچہ حدیث اس طرح ہخے (حدثنا زیادہ بن علاقۃ قال سمعت المغیرۃ بن شعبہ یعقول انکسفت الشمس یوم مات ابراہیم فقال الناس انکسفت الشمس لموت ابراہیم فقال رسول اللہ ﷺ ان الشمس والقمر ایتان من ایات اللہ لاینکسفان لموت احد ولا لحیاتہ فاذا رایتموہ فادعوا اللہ وصلوا حتی ینجلی) (صحیح بخاری پ 4 کتاب 1 لکسوف) اور انسان کا کسی عزیز و غریب یا عام آدمی کے لیے بھی رونا اور مغموم ہونا فطری امر ہے جس سے اسلام نے منع نہیں کیا جس چیز سے روکا وہ بین کرنا ، منہ اور سینہ پیٹنا اور بال نوچنا ہے جو جہالت کی چیز ہے آنسو بہانے اور غم واندوہ سے منع نہیں کیا گیا بلکہ اس مرگ پر رسول اللہ ﷺ کی حالت اور فرمان کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے کہ (انہ امر حق ووعد صدق وان اخرنا سیحق اولنا لحزنا علیک حزنا ھو اشد من ھذا وانا بک یا ابراھیم لمحزونون تیکح العین ویحزن القلب ولالقول مایسخط الرب) (بلاشبہ موت تو امر حق ہے اور وعدہ صدق ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ پیچھے رہ جانے والے بھی پہلے جانے والوں کے ساتھ جاملیں گے اگر ایسا نہ ہوتا ہم ابراہیم کا غم واندوہ اس سے بھی زیادہ کرتے۔ آنکھیں نم ہیں ، دل میں غم ہے مگر ہم کوئی بات ایسی نہیں کہیں گے جو رب کو ناپسند ہو۔ ‘ اور علاوہ ازیں کچھ فرمایا تو یہ فرمایا کہ (یا ابراہیم لا نغنی عنک من اللہ شیئا) ” اے ابراہیم ! حکم الٰہی کے سامنے ہم تیرے کس کام آسکتے ہیں “ ہمیں معلوم ہے کہ زیادہ مفسرین نی اس کو مجاز اور استعارہ ماننے سے انکار کیا ہے اور اس کو اچھا نہیں سمجھا تاہم ہم نے جس وجہ سے اس کو محاورہ واستعارہ قرار دیا ہے اس کی وجہ بھی بیان کردی ہے اگر یہ بات پسند نہ آئے تو جو پسند ہو اس کو اختیار کریں ہم اپنا موقف بیان کرسکتے ہیں وہ کردیا ہے اور اس سے زیادہ بحث و تکرار ہم نہیں کرسکتے اور نہ ہی زور دے کر کوئی بات کرنا مناسب ہے۔
Ayah 44:30اس طرح ہم نے بنی اسرائیل کو رسوا کرنے والے عذاب سے نجات دے دی
03 ؎ فرعون کیا تھا ؟ ایک رسوا کرنے والا عذاب ہی تھا کہ جب تک رہا ظلم و زیادتی کرتا رہا اور خصوصاً قوم بنی اسرائیل پر اس کا وجودفی الواقع عذاب ہی تھا اور بہت ذلت آمیز۔ اگر آپ ذرا نظر عمیق سے اس کو دیکھیں گے تو معلوم ہوجائے گا کہ قریش کو کیا کہا جارہا ہے اس لیے کہ وہ نبی اعظم وآخر ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ کے ساتھ وہی سلوک روا رکھے ہوئے ہیں جو فرعون موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کی قوم بنی اسرائیل سے رکھتا تھا حالانکہ فرعون اور بنی اسرائیل دونوں الگ الگ قومیت رکھتے تھے جب کہ قریش مکہ اور نبی کریم ﷺ ایک قوم اور خاندان کے افراد تھے گویا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خاندانی تعلق ہونے کے باوجود آپ ﷺ کو ویسے ہی مظالم کا نشانہ بنایا جیسا کہ فرعون نے موسیٰ اور بنی اسرائیل کو بنا رکھا تھا اس لیے قریش کا کردار بلاشبہ فرون سے بھی زیادہ برا اور زیادہ تکلیف دہ تھا اس لیے فرعون کے مظالم اور ان کا انجام دونوں کو ان کے سامنے رکھ دیا کہ جب تم وہی کردار ادا کر رہے ہو جو فرعون نے ادا کیا تو سن لو کہ تم اسی سزا کے مستحق ہو جو سزا فرعون کو دی گئی اور بلاشبہ ان کو اس سے بھی بری سزا دی گئی جو کسی سے پوشیدہ نہیں رہی۔
Ayah 44:31ال عذاب المھین کیا تھا ؟ وہ فرعون تھا جو زیادتی کرنے میں حد سے تجاوز کرگیا تھا
13 ؎ جس طرح نیک اور فرمانبردار بندوں کے مدارج ہوتے ہیں و فاسق اور فاجر لوگوں کے بھی مدارج ہوتے ہیں اور زیر نظر آیت میں بتایا گیا ہے کہ فرعون بہت اونچے درجے کے تجاوز کرنے والوں میں سے تھا لیکن موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور جو بات اس کے سامنے بیان کی وہ پورے زور دار الفاظ میں صاف اور سیدھی کہی اور اس کو مخاطب کرکے براہ راست کہی اس کے مقابلہ میں کی دوسرے کو مخاطب کرکے کچھ نہیں کہا اور یہی وہ بات تھی جو فرعون کو بہت ناگوار گزرتی تھی اور وہ کہتا تھا کہ موسیٰ ایک پاگل آدمی ہے۔ نہ بات کرنے کی خبر ہے اور نہ ہی اپنا مؤقف واضح الفاظ میں بیان کرسکتا ہے گویا جو بات آپ میں بدرجہ اتم موجود تھی وہ اس کی نفی کررہا تھا اور مخالفت کا یہ انداز نہایت خطرناک ہوتا ہے کہ جو با کسی میں پائی جائے اس کی نفی سے بات شروع کرنا مثلاً یہ کہ جو اخلاق میں بہت بلند مقام رکھتا ہے اس کو بداخلاق سمجھ کر بات شروع کرنا اور یہ الزام زبان سے بار بار دہراتے چلے جانا پھر جب مخاطب کی طرف سے کوئی بات کہی ہے تو اس کا وہی نتیجہ نکالنا کہ دیکھو جو بات میں نے کہی وہ کس طرح سچ ثابت ہوگئی۔ اس کو کہتے ہیں کہ چور بھی اور چتر بھی۔
Ayah 44:32بنی اسرائیل کو جانتے ہوئے اس وقت قبطیوں کے مقابلہ میں منتخب کرلیا
23 ؎ جو قوم کسی قوم کے پنجہ استبداد میں رہ کر ایک مدت تک زندگی اور موت کی کشمکش میں وقت گزارتی ہے اور اس کی کئی نسلیں ظلم برداشت کرچکی ہوں اس میں اگر کوئی خوبی رہ جاتی ہے تو وہ صرف اور صرف یہی خوبی ہوسکتی ہے کہ کوئی اس کا بیچاری قوم کہہ کر نام لے لے فی الواقع خوبی نام کی کوئی چیز اس میں باقی نہیں رہتی۔ ہاں ! اس میں کچھ حرکت پیدا ہوجائے اور ظالموں کے سامنے صرف اٹھ کر کھڑی ہوجائے تو اللہ تعالیٰ کی مدد اس کو پہنچ جاتی ہے اور ظالموں کو ان کے ظلم کی سزا دینے کے لیے یقینا کوئی صورت نکل آتی ہے۔ یہی حال قوم بنی اسرائیل کا تھا ۔ زیر نظر آیت میں ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ ان کی حالت زار کے پیش نظر اس وقت کی قوموں کے مقابلہ میں ان کو پسند کرلیا حالانکہ کمزوریوں اور خوبیوں کے متعلق اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا تھا اور کوئی بات ان کی پوشیدہ نہیں تھی اور جو کچھ اس انتخاب کے بعد انہوں نے کرنا تھا وہ بھی علم الٰہی میں موجود تھا لیکن ان کی گری پڑی قومیت کو سہارا دینے کے لیے جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کا انتخاب کرلیا تو آپ کی وجہ سے اس قوم کے اٹھانے کا وقت آچکا تھا تاکہ آنے والے کل میں ان کے لیے دوسری قوم کے سامنے اٹھ نہ سکنے کا اعتراض باقی رہے اور ظالم کو بھی ظلم کی سزا چکھا دی جائے اور یہی کچھ ہوا کہ ان کی آنکھوں کے سامنے ظالم قوم کو غرق کرکے اقتدار کی باگ ڈور ان کے ہاتھ میں دے دی گئی اور اس طرح گویا اب ان کی آزمائش کا وقت بھی آگیا۔ اس سے یہ بات اچی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ اقتدار اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش ہی کے طور پر ملتا ہے جس قوم کو ملتا ہے تاکہ اس کی آزمائش ہوجائے کہ وہ اپنی من مانیاں کرتی ہے یا اقتدار دینے والے کا انعام سمجھتے ہوئے اس کی شکر گزار اور قدر شناس ہو کر رہ جاتی ہے۔ اسی اصول کے تحت ہم نے قبل ازیں بہت سے مقامات پر عرض کیا ہے کہ آنے والے وقت میں حالات کا تقاضا ہے کہ مسلمان قوم کو ایک بار اٹھنے کا موقع دیا جائے کیونکہ ایک مدت گزرچکی ہے کہ مسلمان قوم بنی اسرائیل کی طرح ظلم وستم کا نشانہ بنی ہوئی ہے اور اس وقت تقریباً ساری وہ کمزوریاں ان میں آچکی ہیں جو اس وقت قوم بنی اسرائیل میں تھیں اور روز بروز اس حالت میں اضافہ ہی ہوتا چلا جارہا ہے۔ ظاہر ہے کہ اب اللہ تعالیٰ کی طرف سے تو کوئی نبی ورسول بناکر مبعوث نہیں کیا جائے گا لیکن یقیناً وہ وقت آئے گا کہ اس طرح کے مظالم سہنے کے باعث وہ اللہ تعالیٰ کے انعام کی مستحق ٹھہر جائے اور اللہ تعالیٰ اپنے قانون کے مطابق اس قوم میں کوئی ایسا لیڈر پیدا کردے جو اس کی گری ہوئی ساکھ کو سہارا دے سکے کیونکہ ظالموں نے اس قوم پر اب ظلم کی انتہا کردی ہے اور قوم میں اب اتنی طاقت نہیں رہی کہ ان کے مظالم کا مزید نشانہ بنی رہے۔ تاہم اصل حقیقت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ وہ بندہ کب پیدا ہوگا اور کہاں ہوگا اور اللہ تعالیٰ اس کے لیے حالات کو سازگار بنانے کے لیے کونسی مخفی تدبیر اختیارکرے گا ؟ تاہم یہ کہا جاسکتا ہے اور پورے عزم وجزم سے کہا جاسکتا ہے کہ سنت اللہ کے مطابق اس وقت کو یقینا آنا ہے اور دنیا کی ساری قوموں کو قوم مسلم کی مظلومیت کے باعث عذاب الٰہی میں گرفتار ہونا ہے اور اس کی کیا صورت ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کے علم میں یقینا موجود ہے۔
Ayah 44:33بنی اسرائیل کی آزمائش انعامات الٰہی کے ذریعہ سے کی جانے لگی
33 ؎ اس سے قبل بھی بنی اسرائیل آزمائش میں مبتلا تھے لیکن وہ آزمائش مصیبت کی آزمائش تھی اور اب جو آزمائش ان کی شروع ہوئی یہ انعامات الٰہی کی آزمائش تھی اور اس سلسلہ میں سنت الٰہی یہ ہے کہ جب تک کوئی قوم مصیبت کی آزمائش میں ہوتی ہے اس کے فرائض منصبی میں یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی مصیبت کو مصیبت سمجھے اور اس کو ہٹانے اور دور کرنے کے لیے ہاتھ پائوں ہلائے تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرتا ہے اور اس کو مصیبت کی آزمائش سے نکالتا ہے لیکن جب تک کوئی قوم اپنی قومی مصیبت کو مصیبت ہی نہ سمجھے اور نہ اس کو دور کرنے کے لیے ہاتھ پائوں ہلائے وہ اسی طرح مصیبت میں مبتلا رکھی جاتی ہے۔ بلاشبہ آج ہماری مسلمانوں کی شامت اعمال یہی ہے کہ ہم نے ابھی تک اس قومی مصیبت کو مصیبت نہیں سمجھا بلکہ آپس میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور مخالفین اپنی عیاریوں اور مکاریوں کے ذریعہ ہم کو آپس میں مصروف رکھنا چاہتے ہیں اور ابھی تک ہم کو ہوش نہیں آئی کہ من حیثت القوم کس خسارہ میں جا رہے ہیں اور ہم مسلمان آخر آپس ہی میں ایک دوسرے کے پے آزار کیوں ہیں ؟ اور ہمارے اندر یہ جذبہ کیوں مفقود ہو کر رہ گیا ہے ؟ اور جب تک ہم میں یہ احساس پیدا نہیں ہوتا اس وقت تک ہمارا اسی طرح مصیبت میں مبتلا رہنا عین سنت اللہ کے مطابق ہے اللہ تعالیٰ ہمارے اندر کوئی ایسا شخص پیدا فرمادے جس میں قومی درد موجود ہو اور وہ پوری قوم کو متحرک کرے اور قومی ساکھ کو زندہ کرنے کے لیے قوم متحرک ہو تاکہ اللہ تعالیٰ اپنی سنت کے مطابق غیبی مدد فرما کر ہمارا کھویا ہوا مقام ہم کو واپس دلادے۔ لاریب ایسا ہوگا اور جب ہوگا تو ہماری انعامات الٰہی کی آزمائش کا وقت آجائے گا اور ہماری یہ مصیبت کی آزمائش ختم ہوسکے گی۔ اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہم کو موجود حالت سے نجات دے اور انعامات کی آزمائش میں بھی پورا اترنے کی توفیق بخشے کہ اللہ تعالیٰ ہی کی توفیق اور مدد سے مشکلیں آسان ہوتی ہیں اور آزمائش سے کوئی فرد یا قوم کامیاب وکامران ہو کر نکل سکتی ہے اور اب مضمون کا رخ مکہ والوں کی طرف پھرتا ہوا صاف نظر آرہا ہے۔ مزید وضاحت کے لیے تفسیر عزوۃ الوثقی جلد اول سورة البقرہ کی آیت 94 ، جلد سوم سورة الاعراف کی آیت 141 ، جلد چہارم سورة الانفال آیت 71 ، سورة ابراہیم کی آیت 6 کی تفسیر کو غور سے دیکھ لیں۔
Ayah 44:34یہ لوگ بڑے عزم وجزم کے ساتھ اٹھتے ہیں
43 ؎ (ھولا) یہ لوگ اس سے مراد نبی اعظم وآخر ﷺ کے مخاطبین اول ہیں اور یہ امر معلوم ہے کہ مخاطبین اول مکہ کے لوگ ، قریش اور دوسرے سارے خاندان ہیں جو نبی کریم ﷺ کے معاصرین تھے اور جن کو مخاطب کرکے آپ ﷺ نے دعوت نبوت و رسالت پیش کی تھی۔ وہ کہتے ہیں اور جو کچھ کہتے ہیں وہ آنے والی آیت نے واضح کردیا ہے۔
Ayah 44:35ہماری پہلی موت ایسی موت ہے جس کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا کوئی تصور نہیں
53 ؎ آخرت کی دوبارہ زندگی سے انکار تو دوسری قوموں نے بھی کیا ہے لیکن جس عزم وجزم کے ساتھ مکہ والوں نے انکار کیا ہے شاید کسی دوسری قوم نے نہیں کیا۔ قرآن کریم میں جہاں بھی نبی اعظم وآخر ﷺ اور مکہ والوں کا ذکر کیا گیا تو ان کے اس اعتراض کو ضرور دہرایا گیا کو ن کہ وہ بار بار یہ اعتراض کرتے تھے اور پیرایہ بدل بدل کر کہتے کہ یہ دوبارہ اٹھائے جانے والی بات محض ایک ڈھکوسلا ہے ہم میں کوئی بھی دوبارہ نہیں اٹھایا جائے گا۔ بڑا زور دے کر اس لیے کہ جو دلیل طلب کرتے تھے وہ یہ تھی کہ اگر تم اس دعوی میں سچے ہو کہ ہم دوبارہ اٹھائے جانے والے ہیں تو پھر ہمارے باپ دادوں کو ایک بار زندہ کرکے لے آئو اگر وہ آگئے تو ہم مان لیں گے کہ ہم کو بھی دوبارہ زندہ ہونا ہے۔ ہاں ! اگر تم کو دوبارہ زندہ نہیں کرنا تو تمہارے اس اللہ نے تم کو نبی ورسول بناکر بھیجا ہے تو تم اپنے اللہ سے کہو کہ آخرت کی دلیل کے لیے قریش مکہ کا یہ مطالبہ ہے اگر اس کو پورا کردیا جائے تو وہ آخرت کو ماننے کا وعدہ کرتے ہیں اس لیے ان کے اطمینان کے لیے ان کے باپ دادوں کو ایک بار زندہ کرکے بھیج دے پھر یہ تسلیم کرلیں گے اور ہمارا جھگڑا خود بخود ختم ہوجائے گا۔ ان کی اس دلیل کو آگے آنے والی سورة الجاثیہ میں بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے اور مکہ والوں کی اس دلیل کو بالکل ایک لغو اور مہمل دلیل سمجھ کر جو سراسر جہالت تھی چھوڑ دیا ہے کہ جواب کسی معقول بات کا دیا جاتا ہے۔ کفار مکہ کی یہ دلیل سرار جہالت ہے ، کیسے ؟ اس لیے کہ دعوی میں یہ بات نہیں کہی گئی کہ ان کو پیدا کرکے اس دنیا میں بھیج دیا جائے ہرگز نہیں بلکہ اس کے متعلق تو کتاب وسنت میں اللہ تعالیٰ کے اس فیصلہ کا بار بار ذکر کیا گیا ہے کہ جس شخص کو ہم اس دنیا کی زندگی سے ایک بار اٹھالیتے ہیں اس کو کھی اس دنیا میں واپس نہیں بھیجتے یہ ہمارا قانون ہے اور قانون کی خلاف ورزی نہ ہم کرتے ہیں ، نہ ہی ہونے دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اسی اعلان کے مطابق ہم اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ جہاں بھی قرآن کریم نے مردوں کو زندہ کرنے کا ذکر کیا ہے اس سے مراد مردہ دلوں کو زندہ کرنا ہے نہ کہ مرے ہوئے اجسام کو کیونکہ مرے ہوئے اجسام کو دوبارہ زندہ کرکے اس دنیا میں واپس بھیجنے کی نفی کردی گئی ہے اور اللہ کے کلام میں تضاد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور جن لوگوں نے اجسام کا دوبارہ زندہ کرنا تسلیم کیا ہے ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے بلکہ انہوں نے اللہ کے کلام کو سمجھنے میں غلطی کی ہے اور اس کا مطلب یہ سمجھنا کہ کیا اللہ کو قدرت نہیں ہے کہ وہ ایسا کرے ؟ یہ بھی اسی طرح کی جہالت ہے جس طرح کی جہالت مکہ والوں نے کی کیونکہ یہاں بحث قدرت خداوندی کی نہیں بلکہ قانون خداوندی کی ہے اور قانون اور قدرت دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ قانون کی پابندی اس لیے نہیں کی جاتی کہ قانون کی خلاف ورزی ممکن نہیں ہوتی بلکہ اس لیے پابندی کی جاتی ہے کہ اس کی خلاف ورزی کرنا جرم ہے اور جو خلاف ورزی کرے وہ مجرم ہو کر سزا کا مستحق ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص قانون کی پابندی کرے تو اس پر یہ الزام لگانا کہ اس میں اس کی خلاف ورزی کی قدرت نہیں۔ جہالت نہیں تو اور کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے اپنے جس قانون کا اعلان کیا ہے اس کا خلاف وہ نہیں کرتا اس لیے کہ وہ پوری طاقت بھی رکھتا ہے کہ اس کا خلاف نہ کرے نہ وہ خلاف کرنے پر مجبور ہوتا ہے اور نہ مجبور کیا جاسکتا ہے اور وہ اس کی طاقت بھی رکھتا ہے کہ وہ اپنے قانون کے خلاف کسی دوسرے کو بھی نہ کرنے دے۔ اب تم خود ہی غور کرو کہ ایک طرف اللہ نے یہ اعلان کیا ہے کہ جس کو ہم دنیا میں ایک بار موت دے دیتے ہیں اس کو دو بار دنیا میں نہیں بھیجتے اور دوسرا اعلان یہ فرمایا گیا کہ ہم سارے انسانوں کو حشر کے روزدوبارہ زندہ کریں گے اور قیامت کے متعلق اعلان کیا کہ وہ جب آئے گی تو سارے نظام کو بدل دیا جائے گا نہ یہ آسمان رہیں گے اور نہ زمین بلکہ یہ سارا نظام درہم برہم کردیا جائے گا اور دوبارہ ایک نیا نظام قائم ہوگا اور اس نظام میں پہلا روز حشرو نشر ہی کا ہوگا اور سارے انسانوں کو زندہ کردیا جائے گا اور کچھ انہوں نے دنیوی زندگی میں کیا ہوگا اس کے نتیجہ سے ان کو دوچار کیا جائے گا اور اس نتیجہ سے دوچار کرنے کے لیے یہ زندگی مقرر کی گئی ہے۔ اب اگر کوئی شخص یہ ضد کرے کہ ہم کو اس دنیوی زندگی میں مرے ہوئوں کو زندہ کرکے دکھائو تب ہم تسلیم کریں گے کہ تم قیامت کے بعد بھی زندہ کرلو گے ورنہ ہم اس بات کو تسلیم ہی نہیں کرتے تو اس نے کیا کہا ؟ یہی کہ تم اپنے ایک قانون کی خلاف ورزی کرو تب ہم مانیں گے کہ تم قانون کی پابندی بھی کرسکتے ہو ، تو آخر اس کو منوانے کی ضرورت ہی کیا ہے ؟ وہ نہ مان کر بھی دیکھ لے کہ اس میں اس کو نفع ہوتا ہے یا نقصان ؟ پھر جو اپنا نقصان خود کرنے پر تل چکا ہے اور وہ کسی کہ کہنے سے بھی نہیں مانتا تو وہ نقصان کرکے دیکھ لے اس کو روکنے کی آخر ضرورت ؟ رہی یہ بات کہ اس کا اعلان اللہ نے کہاں کیا ہے کہ وہ مرنے کے بعد اس دنیا میں مرنے والوں کو نہیں بھیجے گا تو اس کی وضاحت سورة المومنون کی آیت 001 میں کردی گئی ہے جہاں ارشاد فرمایا (حتی داجاء احدھم الموت قال رب ارجعون ، لعلی اعمل صالحا فیما ترکت کلاء انھا کلمۃ ھوقائلھا ومن ورانھم برزخ الی یوم یبعثون) (32 ، 99 ، 001) ” جب ان میں سے کسی ایک کو موت آجائے گی تو کہنا شروع کرے گا کہ اے میرے رب مجھے ایک بار واپس بھیج دے جسے میں چھوڑ آیا ہوں اب میں ضرور ہی نیک عمل کروں گا۔ ” ہرگز ایسا نہیں ہوسکتا “۔ یہ تو بس ایک بات ہے جو وہ بک رہا ہے اب ان سب (مرنے والوں) کے پیچھے ایک برزخ حائل ہے دوسری زبان کے دن تک “ یہی وہ قانون ہے جس کا ذکر ہم نے کیا ہے اور اس کے متعلق قرآن کریم میں بار بار یہی بتایا گیا ، مزید وضاحت درکار ہو تو عزوۃ الوثقی ، جلد سوم میں سورة الانعام کی آیت 72 ، 82 ، سورة الاعراف آیت 35 ، جلد چہارم سورة ابراہیم کی آیت 44 ، 54 ، جلد ششتم سورة المومنون آیت 501 ، 601 ، سورة الشعراء کی آیت 201 ، جلد ہفتم سورة السجدہ کی آیت 21 ، 41 سورة فاطر کی آیت 73 ، سورة الزمر 85 ، 95 ، سورة ال مومن کی آیت 01 تا 21 جلد ہذا سورة الشوری آیت 44 کی تفسیر ملاحظہ کریں۔
احادیث میں اس کی وضاحت موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہادت پانے والا دوبارہ دنیا میں لوٹ کر آنے کی خواہش کرے گا تاکہ وہ دو بار ہ اللہ کی راہ میں شہید کیا جائے لیکن کسی کی یہ آرزو پوری نہیں کی گئی اور نہ ہی اس کا کوئی امکان ہے کیونکہ یہ قانون الٰہی کے خلاف ہے۔
(1) (عن انس عن النبی ﷺ انہ قال ما من عبد یموت لہ عند اللہ خیر یحب ان یرجع الی الدنیا وان لہ الدنیا وما فیھا الا الشھید لما یری من فضل الشھادۃ فانہ یحب ان یرجع الی الدنیا فیقتل مرۃ اخری) (ترمذی کتاب الجہاد)
(2) (عن عبادۃ بن الصامت حدثھم رسول اللہ ﷺ قال ما علی الارض من نفس تموت ولھا عند اللہ خیبر تحب ان ترجع الرکم ولھا الدھا الا لقتیل فانہ یحب ان یرجع فیقتل مرۃ اخری) (سنن نسائی ، کتاب الجہاد)
(3) (عن انس ؓ قال قال رسول اللہ ﷺ یوتی بالرجل من اھل الجنۃ فقیول اللہ عزوجل یا بن ادم کیف وجدت منزلک فیقول ای ( ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ ) منزل فیقول سل وتمن فیقول ، سالک ان تردنی الی الدنیا فقتل فی سبیلک ان تردنی الی الانبیا فافل فی سبیلک عشر مرات لمایری من فضل الشہادۃ) (سنن نسائی ، کتاب الجہاد)
(4) (عن مسروق قال سالنا عبداللہ ؓ ھذہ الا یۃ ” ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امراتابل احیاء عند ربھم یرزقون “ قال اما انا قد ساکنا عن ذالک فقال ارواحھم فی جوف طیر خضرلھا قنادیل معلقۃ بالعرش تسرح من الجنۃ حیث شاءت ثم تاوی الی تلک القنادیل فاطلع الیھم ربھم اطلاعۃ فقال ھل تشتھون شیاء قالوا ای شیء نشتھی ونحن نسرح من الجنۃ حیث شئنا لفعل ذلک بھم ثلاث مرات فلما راوانھم ان یترکوا من ان یسئلو قالو یارب تریدان تردار واحنا فی احساونا حتی نقتل فی سبیلک مرۃ اخری فلما رای ان لیس لھم حاجۃ ترکوا (صحیح مسلم ، کتاب الامارات ، باب بیان ان ارواح الشھدا فی الجنۃ ، الخ)
(5) حدثنا شعبۃ قال سمعت قتادۃ قال سمعت انس بن مالک ؓ عن النبی ﷺ قال ما احدید یدخل الجنۃ یحب ان یرجع الی الدنیا ولہ ما علی الارض من شئی الا الشہید یتمنیٰ ان یرجع الی الدنیا فیقتل عشر مرات لما یری من الکرامۃ) صحیح بخاری کتاب الجہاد والیسر باب تمنی المجاہد ان یرجع الی الدنیا)
مطلب ومفہوم سب کا ایک ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص بہشت میں جاتا ہے وہ پھر دنیا میں آنا پسند نہیں کرتا اگرچہ اس کے سامنے ساری زمین کی دولت پیش کی جائے مگر ہاں ! شہید دنیا میں آنے کی اور دس بار اللہ کی راہ میں قتل ہونے کی آرزو کرتا ہے کیونکہ وہ شہادت کی عزت اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب یہ بات ان پر واضح کردی کہ اب ان کو کوئی حاجت نہیں ہے جس کی وہ جنت میں طلب رکھتے ہوں تو مزید کوئی بات پوچھنا چھوڑ دے گا۔ اور ظاہر ہے کہ دنیا میں کوئی دوبارہ نہیں بھیجا گیا۔ بلاشبہ شہداء کی ارواح جہاں چاہیں جاسکتی ہیں لیکن اس جگہ جہاں کے الفاظ پر ایک بار پھر غور کرلو اور یہ الفاظ صحیح مسلم کی روایت میں آپ کو ملیں گے۔ بہرحال کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے دوبارہ پیدا کیے جانے کیے شہادت کے لیے معترفین کا وجود خود شہادت دے رہا ہے کہ جس نے پہلی بار پیدا کیا ہے وہ دوسری بار بھی پیدا کردے گا وہ اپنی موجودہ پیدائش کو مانتے اور تسلیم کرتے ہیں۔
Ayah 44:36اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو اٹھالائو
63 ؎ جیسا کہ گزشتہ آیت میں بتفصیل عرض کردیا گیا ہے کہ مکہ والوں کا یہ سوال بار بار اوپر دہرایا گیا اور اس سوال کو وہ اپنی طرف سے ایک بہت ہی اہم (Important) سوال تصور کرتے تھے حالانکہ یہ سوال جیسا کہ پیچھے ذکر کیا گیا نہایت ہی جہالت پر مبنی تھا کیونکہ اسلام نے ان کو بتایا تھا کہ تم اور تمہارے آبائو اجداد اور دنیا کے سارے انسانوں کے دنیوی موت کے بعد دوبارہ پیدا کیے جانے کے لیے ایک دن مقرر کردیا گیا ہے اور یہ دن اس پورے نظام کو ایک بار فناکر دینے کے بعد اور نیا نظام قائم کیے جانے کے بعد پہلا ہی دن ہوگا جس کو حشر ونشر وکا دن کہا جائے گا اور یہ کہ اس دن انسانوں کی دنیوی زندگی کے اعمال کے نتائج ان کے سامنے پیش کیے جائیں گے جو عین ان کے اعمال کے مطابق ہوں گے۔ اس دن کو تسلیم کرنے کے لیے مخاطبین کا اپنا وجود ہی دلیل تھا اگر وہ اس کو بطور دلیل مانتے اور تسلیم کرتے کو ن کہ جس طرح نہ وہ اپنی مرضی سے آئے تھے اور نہ ہی اپنی مرضی سے ان کو جانا تھا لانے والا ان کو لے آیا تھا اور اسی طرح ان کو لانے والا ہی ان کو لے جائے گا دو باتیں تو انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں اور لے جانے کے بعد دوبارہ لے آنے سے انکار کی آخر دلیل کیا تھی ؟ جس طرح وہ پہلی بار آئے اور پھر چلے گئے اس طرح دوبارہ آنا کیا مشکل تھا لیکن بجائے اس کے کہ وہ اس کو تسلیم کرتے انہوں نے انکار پر کمر باندھ لی اور الٹی سیدھی ہانکنے لگے۔ مزید وضاحت کے لیے سورة الانعام کی آیت 92 ، المومنون کی آیت 73 کا مطالعہ کریں تفصیل وہاں سے مل جائے گی۔
Ayah 44:37قریش مکہ مال و دولت میں زیادہ ہیں یا تبع کی قوم اور ان سے پہلے لوگ
73 ؎ زیر نظر آیت میں خالصتاً ایک تاریخی شخصیت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور اس اشارہ ہی سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ اہل مکہ اس قوم سے واقفیت رکھتے تھے اور اس کو ایک نہایت طاقتور قوم سمجھتے تھے اور تاریخی شہادتوں سے یہ ثابت ہے کہ تبع قبیلہ عمیر کے بادشاہوں کا لقب تھا اور قبیلہ عمیر قوم سبا کی ایک شاخ سے تعلق رکھتے تھے اور ان کا زمانہ 511 ء قبل مسیح سے شروع ہو کر 003 ء تک تسلیم کیا گیا ہے اور جو بھی ان کا بادشاہ مقرر ہوتا اس کو تبع کہا جاتا تھا جیسے مصر کے حکمرانوں کو فرعون ایرانیوں کے بادشاہوں کو کسریٰ اور علاقہ روم کے حکمرانوں کو قیصر کا لقب دیا جاتا تھا۔ تبع کی اقوام ایک لحاظ سے عربوں کی ہمسایہ قوم تھی اس لیے ان کے بارے میں زیادہ روایات عربوں میں پائی جاتی تھیں اور ان کا اصل وطن جنوبی یمن تھا اور ان کی نسل کے لوگ عرب میں بھی سکونت پذیر تھے کندہ ، حمیر ، ازد ، اشعریین ، مذحج ، انمار (جس کی دو شاخیں خثھم اور بجیلہ ہیں) عاملہ ، جذام ، لخم اور غسان تھے اور ان کا ذکر زبور 37 ، 51 ، یرمیاہ 6 : 02 ، حزقی ایل 72 ، 22 ، 38 ، ایوب 6 : 91 میں بھی موجود ہے۔ بہرحال یہ قوم چونکہ بہت طاقت ور قوم کے نام سے عربوں میں معروف تھی اس لیے قریش مکہ سے پوچھا جارہا ہے کہ وہ خود ہی بتادیں کہ کیا وہ زیادہ طاقتور ہیں یا تبع کی قوم اور جو لوگ ان سے بھی پہلے ان علاقوں میں آباد تھے اور ہم نے ان سب کو ہلاک کردیا ہے اور وہ بھی اسی طرح کے جرم کرتے تھے جس طرح کے تم لوگ کر رہے ہو۔ انہوں نے بھی اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے نبیوں اور رسولوں کی تکذیب کی تھی جس کی پاداش میں ان کو ہلاک کرکے رکھ دیا گیا تھا اور اگر تم نے بھی یہی روش اختیار رکھی تو تمہارا بھی یہی حال ہوگا جو قوم تبع کا ہوا تھا۔ گویا گزشتہ نبیوں اور رسولوں کا جو ذکر کیا گیا ہے وہ یہود ونصاریٰ اور مشرکین مکہ سب کے لیے یکساں تھا کیونکہ یہ سارے گروہ ان کی تاریخ سے آگاہ تھے اور قوم تبع غریب الوطنی کے باعث عربوں میں زیادہ معروف تھی اس لیے عربوں کو مخاطب کرکے ان کا ذکر کیا گیا اور اس طرح گویا ان کے اس سوال کا جواب ، جواب کی صورت میں نہیں ایک سوال کی صورت میں ان کو دے دیا گیا جو انہوں نے اٹھایا تھا کہ آج تم جس مال و دولت اور خاندانی شان و شوکت کے بل بوتے نبی اعظم وآخر ﷺ کو جھٹلاتے جا رہے ہو کیا تم سے پہلے بڑی بڑی شان و شوکت والی قومیں اس صفحہ ہستی سے حباب آب کی طرح نہیں مٹادی گئیں آخر وہ کیوں مٹ گئیں۔ اگر تم غور کرو گے تو سمجھ لو گے کہ محض اس لیے کہ وہ بھی بالکل تمہاری طرح آخرت کا انکار کرتی تھیں اور اتراتی تھیں اس لیے ان کو عبرت ناک سزادی گئی اور سزا ان کو صفحہ ہستی سے مٹاکر رکھ دیا گیا اور تبع قوم کی تباہی کی داستان بھی اسی طرح معروف تھی جس طرح ان کی شان و شوکت معروف تھی۔ مرنا تو سب ہی کو ہے اگر برے مرتے ہیں تو نیک بھی زندہ نہیں رہتے لیکن بعض لوگوں اور قوموں کی موت بلاریب عبرتناک ہوتی ہے جو ان کے برے اعمال کی پاداش میں ان کو دی جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس کی داستان محفوظ رکھتی جاتی ہے تاکہ بعد میں آنے والوں کے لیے وہ عبرت کا نشان بنی رہے جو ان کے اترانے اور تکبر کرنے کے نتیجہ میں دی جاتی ہے جیسے عاد ، ثمود اور قوم لوط وغیرہ اور پھر اس صورت حال سے قریش مکہ بھی دوچار ہوئے اگرچہ ان کی قومی موت گزشتہ قوموں سے بھی زیادہ عبرتناک ہوگئی جو ایک مدت تک جاری رہی جس کا دور بدر سے شروع ہوا اور فتح مکہ پر جاکر ختم ہوا اور جس کی تاریخ آنے والی قوموں کے لیے بلاریب باعث عبرت ہوئی لیکن افسوس کہ آج قوم مسلم نے اس دور کی تاریخ کی تاریخ یادوں کو محو کردیا اور آج جو کچھ تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہے اس کو بھی صرف آنکھیں بند کرکے پڑھا جاتا ہے اور عقل وفکر کے ناخن اتارنے کی کبھی کوشش نہیں کی جاتی اور واقعات کو اس طرح گڈمڈ کردیا گیا ہے کہ بعض اوقات کو پڑھ کر آدمی دل تھام کر رہ جاتا ہے کہ کیا یہ ہمارے ان آبائو کی تاریخ ہے جن کی شہادت قرآن کریم میں رب ذوالجلال والاکرام نے دی ہے اور ان کی زندگیوں کو بطور نمونہ پیش کیا ہے۔ رضی اللہ عنھم ورضواعنہ۔
آج بہت ضرورت ہے کہ ہم بھولے ہوئے سبق کو یاد کریں اور جس ہلاکت کی طرف ہم من حیث القوم رواں دواں ہیں ذرا ایک جگہ ٹک جائیں ، توقف کریں اور ان حالات کی طرف واپس آنے کی کوشش کریں اور ان راہوں کو تلاش کریں جن پر ہمارے آبائو اجداد چل کر دنیاو آخرت میں تھے تاکہ ہماری دنیا بھی سنورے اور آخرت کی زندگی بھی درست ہوجائے۔ اللہ سے ڈرا ہے کہ وہ ہم کو من حیث القوم اس انعام سے نوازے جس سے دور اول میں ہمارے آبائو و اجداد کو نوازا گیا تھا اور ہمیں ان کے نقش قدم کو معلوم کرنے اور ان پر چل پڑنے کی توفیق عنایت فرمائے۔
Ayah 44:38ہم نے آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی چیزیں بطور کھیل نہیں بنادیں
83 ؎ کھیل کے مفہوم میں یہ چیز موجود ہے کہ جو کام بغیر مقصد کے محض تفریح طبع کے لیے کیا جائے اس کو کھیل کہتے ہیں اور اس چزم کو عربی میں لھو ولعب سے موسوم کیا جاتا ہے اور شریعت میں اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ کام جو محض دنیا کی خاطر کیا جائے جس میں آخرت کا کوئی تصور موجود نہ ہو اس کو لھو ولعب سے تعبیر کیا جاتا ہے اور یہی مفہوم زیر نظر آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ فرمایا کہ ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان میں ہے یا ان کے درمیان ہے ان ساری چیزوں کو محض لھو ولعب کے طور پر نہیں بنادیا بلکہ ان کے پیدا کرنے کا ایک خاص مقصد ہے۔ رہی یہ بات کہ وہ مقصد کیا ہے ؟ فرمایا مقصود ان ساری چیزوں کا ان کے وجود ہی سے ثابت ہے کہ ان ساری چیزوں کو پیدا کرنے سے ان چیزوں میں سے کسی چیز کو کوئی فائدہ نہیں سوائے انسان کے کہ ایک چیز اسے فائدہ کے لیے بنائی گئی ہے آسمانوں اور زمین کو یا ان میں سے کسی ایک چیز کو انتخاب کرلو اور غور کرو کہ اس چیز کے ہونے سے اس چیز کا کیا فائدہ ہے تو تم یقینا اس نتیجہ پر خود بخود پہنچ جائو گے کہ اس دنیا کی کسی چیز کے ہونے سے اس چیز کافی الواقع کوئی فائدہ نہیں ہے اور جو فائدہ ہے سب کا سب انسان ہی کا فائدہ ہے اچھا پھر ان ساری چیزوں کے پیدا کرنے کا مقصود تو معلوم ہوگیا کہ انسان کی خاطر ہے تو پھر انسان جو خلاصہ کائنات ہے کیا اس کو محض بطور کھیل پیدا کردیا گیا ہے ؟ عقل ہم کو بول بول کر یہ کہتی ہے کہ ایسا ممکن نہیں ہو سکتا کہ جس کی خاطر اتنا بڑا نظام بنایا اور اس میں اتنی اتنی مہیب اور نایاب وکم یاب چیزیں پیدا کردیں اور پھر جس کے لیے یہ سب کچھ کیا گیا اس کو بغیر کسی مقصد کے پیدا کردیا گیا ہو اور پھر اسلام وحی الٰہی سے ہم کو بتاتا ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے محض اپنی اور صرف اپنی عبادت کی خاطر پیدا کیا ہے کہ وہ صاحب شعور ہے اپنے مشورے سے کام لیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی یاد کو تازہ رکھے اور اگر وہ جس مقصد کے لیے پیدا کاش گیا ہے اس کو پورا کردے تو انعام کا مستحق ٹھہرے اور اگر اس مقصد کو پورا نہ کرے تو اس کو سزا دی جائے اور ظاہر ہے کہ یہ صرف اور صرف دارالعمل میں ممکن ہی نہیں اس لیے کہ اس کے لیے دارالجزا لازم وضروری ہے کیونکہ جزا ہمیشہ عمل کے بعد ہوتی ہے اور عمل منقطع ہوتا ہے دنیوی زندگی کے خاتمہ سے اور دنیوی زندگی ختم ہونے کے بعد اس دنیا میں واپسی ممکن نہیں کیونکہ یہ پہلے طے ہوچکا ہے اور یہ بھی کہ جب وہ دارالعمل میں آئے گا تو اس کا عمل اس سے کیونکر منقطع ہوگا کیونکہ عمل کے منقطع ہونے کا تعلق دارالعمل میں موجود نہ ہونے سے اور دارالجزا میں ہونے سے ہے اس لیے ضروری ہے کہ وہ دارالعمل سے نکل کر دارالجزا میں موجود ہو تاکہ وہ اپنے اعمال کا نتیجہ حاصل کرسکے اور اس کو تسلیم کرانا مقصود ہے جس کے لیے کبھی آفاق وانفس سے ، کبھی تاریخی شہادتوں سے اور کبھی عقل وفکر سے دلائل دئیے جا رہے ہیں تاکہ اس خلاصہ کائنات یعنی انسان کا فائدہ ہو اور نقصان سے بچ جائے لیکن اگر کوئی بدقسمت اتنی ساری جدوجہد سے بھی کچھ سبق حاصل نہیں کرتا اور اپنا نقصان ہی کیے جاتا ہے تو بہرحال اس کو اختیار دیا گیا ہے جو اس دنیا سے واپس نہیں لیا جائے گا اور جو اس کو اختیار دئیے جانے کی سمجھ نہ رہی وہ عند اللہ مرفوع القلم ہے کیونکہ وہ باوجود جسمانی ڈھانچہ رکھنے کے انسانیت کی فہرست سے خارج ہے۔
Ayah 44:39بلاشبہ ہم نے ان آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے اگرچہ اکثریت نہیں سمجھتی
93 ؎ جیسا کہ گزشتہ آیت میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ یہ سمجھنے اور نہ سمجھنے کا معاملہ صرف اور صرف انسان سے متعلق ہے اور انسان کی دونوں اصناف اس میں شامل ہیں اور انسانوں کے متعلق خود قرآن کریم نے یہ فیصلہ دے دیا ہے کہ ان کی اکثریت (لایعلمون) ہے اور قرآن کریم نے اس میں ایک اصولی بات بتادی ہے کہ تم جتنا اس پر غور کرتے جائو گے یہ خود بخود واضح ہوتی چلی جائے گی۔ جب سے دنیا پیدا ہوئی اور انسان نے اس دنیا میں قدم رکھا اور اس کی نسل آگے بڑھی اور اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے نبیوں اور رسولوں کا سلسلہ جاری کیا اس وقت سے لے کر آج تک اکثریت انہیں لوگوں کی رہی جو (لایعلمون لایعقلون لایشکرون) تھے۔ جب کہ کسی نبی نے نبوت کا یا رسول نے رسالت کا دعویٰ کیا تو اس کی بات ماننے والے کم اور نہ ماننے والے زیادہ رہے تا آنکہ نبی اعظم وآخر ﷺ تشریف لائے اور صورت حال بدستور جاری رہی۔ آپ ﷺ نے ہجرت کی ، مدینہ منورہ میں آپ ﷺ کی باقاعدہ حکومت قائم ہوگئی لیکن چونکہ آپ ﷺ کی نبوت و رسالت تمام دنیا کے انسانوں کے لیے یکساں تھی اس لیے بلحاظ امت یہی حالت رہی اور آج بھی بدستور یہی حالت موجود ہے لیکن اس بات پر کسی نے کبھی غور نہیں کیا کہ جب اکثریت ایسی ہی ہوتی ہے تو پھر اکثریت کے بل بوتے پر اور اکثریت کی رائے کا لحاظ کرتے ہوئے جو بھی کام کیا جائے گا وہ صحیح کیسے ہوگا کیونکہ جو کچھ اکثریت ہے وہی کچھ اکثریت کی رائے بھی ہوگی۔ اس لیے زیر نظر آیت میں یہ بات واضح کردی کہ حق حق ہے کوئی اس کو مانتا ہے تو اس کا اپنا فائدہ ہے اور اگر کوئی نہیں مانتا تو اس کا اپنا نقصان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب انسان ہی کو خلاصہ کائنات بنایا اور جو کچھ پیدا کیا سب اس کی خاطر ، اس کے فائدے کے لیے پیدا کیا اور اس دارالعمل میں اس کو نیک وبد سمجھا کر ایک حد تک اختیار دے کر چھوڑ دیا کہ وہ اپنے اختیار سے چاہے نیک عمل کرے یا برے عمل کمائے ایک دن اس کے اعمال کے نتائج کا مقرر کردیا ہے اب اگر کوئی اس روز جزا کو مانتا اور نہ ہی اس کے لیے کوئی نیک عمل کرتا ہے اور نہ ہی اس کو کسی طرح کے نتیجہ کی کوئی امید ہے تو وہ اپنا نقصان خود کررہا ہے اور اس پر طرہ یہ کہ جو اس کو سمجھاتا ہے وہ اس کو جھٹلانے کے درپے ہے تو ایسے لوگوں کو ان کے حال پر ہی چھوڑ دیا مناسب ہے وہ عنقریب اپنی جہالت کا خمیازہ بھگتیں گے اور کوئی ان کا حامی وناصر نہیں ہوگا۔ اور اس کی مزید وضاحت چاہتے ہیں تو عزوۃ الوثقی جلد سوم سورة الانعام کی آیت 13 ، 23 ، جلد چہارم سورة یونس آیت 7 ، 8 ، جلد ششم سورة الانبیاء آیت 61 تا 02 ، سورة المومنون آیت 511 ، جلد ہفتم سورة الروم آیت 6 تا 9 کی تفسیر دیکھیں۔
Ayah 44:40ان سب کے اٹھائے جانے کے لیے طے شدہ وقت فیصلے کا دن ہے
04 ؎ فرمایا جارہا ہے کہ جو تم لوگوں نے ایک ہی رٹ لگارکھی ہے کہ اگر قیامت کے روز اٹھایا جانا حق ہے تو ابھی ہمارے آبائو اجداد کو ہمارے سامنے زندہ کرکے لے آئو تو تمہارا کیا خیال ہے کہ زندگی اور موت کوئی کھیل اور تماشا ہے کہ جب چاہا مرگئے اور جب چاہا زندہ ہوگئے اور جونہی کسی نے اس دوبارہ زندگی سے انکار کیا تو جھٹ اس کے سامنے دوچار مردے لاکرکھڑے کردئیے تم لوگ کیسی بچوں کی سی باتیں کرتے ہو اس دوبارہ زندگی کے لیے تو ایک دن مقرر کیا گیا ہے جس دن سب کے سب مرنے والوں کو اٹھا کردیا جائے گا اور کوئی نہیں جو اس فیصلہ شدہ دن کو دوبارہ اٹھنے سے انکار کرسکے کیونکہ جس طرح انسان کی پہلی زندگی جو دنیا کی زندگی ہے کسی انسان کے مشورے سے اس کو نہیں دی گئی بلکہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے اپنے قانون کے مطابق جس کو چاہا پیدا کردیا نہ کسی کی مرضی معلوم کرنے کی کوئی ضرورت تھی اور نہ ہی اس نے کسی کی مرضی کے مطابق اس کو پیدا کیا اس لیے یہی صورت حال دوبارہ پیدا کیے جانے کی ہے اور جو دن اس نے اس کے لیے مقرر کردیا ہے یعنی روز حشر اس دن وہ حکم دے گا اور سارے انسان ٹڈیوں کی طرح سامنے کھڑے ہوں گے اور اس طرح گویا ایک آن کی آن میں سب کی ملاقات ہوجائے گی اور سب کے سب اللہ رب کریم کی عدالت میں پیش کردئیے جائیں گے اور کوئی نہیں جو اس وقت اس مقام پر حاضر کیے جانے سے بچ سکے۔