44. Surah Ad-Dukhaan

الدخانThe Smoke · 59 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 44:1
Ayah 44:2

وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ Open ayah 44:2 in the Quran reader

قسم ہے کتاب مبین کی

Ayah 44:3

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِیْنَ Open ayah 44:3 in the Quran reader

بلاشبہ ہم نے اس کو مبارک رات میں نازل کیا ہے، بلاشبہ ہم ڈرانے والے ہیں،

قرآن مجید مبارک رات میں نازل کیا گیا، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ زندہ کرتا ہے اور موت دیتا ہے، اگلے پچھلے تمام لوگوں کا رب ہے اللہ تعالیٰ شانہٗ نے قرآن حکیم کی قسم کھا کر فرمایا کہ ہم نے اس قرآن کو مبارک رات میں نازل کیا مبارک رات سے کون سی رات مراد ہے اس بارے میں محققین نے فرمایا ہے کہ اس سے شب قدر مراد ہے کیونکہ سورة بقرہ میں فرمایا ہے ﴿ شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْۤ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ ﴾ اور سورة قدر میں فرمایا ﴿اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِۚۖ001﴾ اور حضرت عکرمہ (رح) نے فرمایا جو حضرت ابن عباس ؓ کے شاگرد ہیں کہ اس سے شعبان کی پندرھویں شب مراد ہے جسے لیلۃ البرأۃ کہا جاتا ہے چونکہ بعض روایت حدیث میں شب برات کے بارے میں یہ آیا ہے کہ اس میں آئندہ سال کے ارزاق و آجال لکھ دئیے جاتے ہیں حدیث مرفوع صحیح نہیں ہے اس لیے بعض حضرات نے لَيْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ کا مصداق شب برات یعنی شعبان کی پندرہ تاریخ کو بتادیا ہے لیکن کسی حدیث میں یہ وارد نہیں ہوا کہ قرآن مجید شب برات میں نازل کیا گیا اور شب برات میں ارزاق و آجال لکھے جانے کے بارے میں کوئی حدیث صحیح نہیں ہے۔ یہ جو سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن تو 23 سال میں نجمًا یعنی تھوڑا تھوڑا کرکے نازل ہوا پھر رمضان میں اور شب قدر میں نازل ہونے کا کیا معنی ؟ اس کا ایک جواب تو بعض علماء نے یہ دیا ہے کہ قرآن مجید نازل ہونے کی ابتداء شب قدر میں ہوئی اور اکثر حضرات نے یہ فرمایا ہے کہ پورا قرآن مجید شب قدر میں لوح محفوظ سے سماء دنیا یعنی قریب والے آسمان میں نازل کیا گیا اس کے بعد 23 سال میں وقتاً فوقتاً حسب احوال نازل ہوتا رہا کیونکہ شب قدر خیرات اور برکات والی رات ہوتی اس لیے اسے لیلۃ مبارکۃ سے تعبیر فرمایا ﴿ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِيْنَ 003﴾ بلاشبہ ہم ڈرانے والے ہیں یعنی رسول اور قرآن کے ذریعے اپنے بندوں کو اعمال صالحہ کی جزا اور برے اعمال کی سزا سے آگاہ کرنے والے ہیں تاکہ خیر کو اختیار کریں اور شر سے بچیں۔
Ayah 44:4

فِیْهَا یُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِیْمٍۙ Open ayah 44:4 in the Quran reader

اس رات میں ہر امر حکیم کا فیصلہ کیا جاتا ہے

﴿فِيْهَا يُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِيْمٍۙ004﴾ اس رات میں ہر امر حکیم کا فیصلہ کردیا جاتا ہے۔ صاحب معالم التنزیل نے حکیم کو محکم کے معنی میں لیا ہے اور حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ شب قدر میں ام الکتاب (لوح محفوظ) سے وہ چیزیں علیحدہ کرکے لکھ دی جاتی ہیں جو آئندہ پورے سال میں وجود میں آئیں گی۔ خیر اور شر اور ارزاق و آجال سب کچھ لکھ دئیے جاتے ہیں حتیٰ کہ یہ بھی لکھ دیا جاتا ہے کہ فلاں فلاں شخص حج کرے گا اور علیحدہ لکھ کر تکوین الٰہی کے مطابق کام کرنے والوں یعنی فرشتوں کے حوالہ کردیا جاتا ہے۔
Ayah 44:5

اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَۚ Open ayah 44:5 in the Quran reader

جو ہماری طرف سے بطور حکم کے صادر ہوتا ہے، بلاشبہ ہم بھیجنے والے ہیں

﴿اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَا 1ؕ﴾ (یہ فیصلہ ہماری طرف سے امر کے طور پر صادر کیا جاتا ہے۔ ) قال الفراء : علی معنی ﴿فِيْهَا يُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِيْمٍۙ004﴾ فرقًا وامرًا ای نامرا مرًا ببیان ذلک (معالم التنزیل ج 4: ص 149) ﴿اِنَّا كُنَّا مُرْسِلِيْنَۚ005﴾ بیشک ہم رسالت کے طور پر آپ کو اور دیگر انبیاء کرام بھیجنے والے تھے۔
Ayah 44:6

رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُۙ Open ayah 44:6 in the Quran reader

آپ کے رب کی طرف سے رحمت کے طور پر بلاشبہ وہ سننے والا ہے، جاننے والا ہے

﴿رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ 1ؕ﴾ یعنی اس قرآن کا نازل فرمانا آپ کے رب کی طرف سے رحمت فرمانے کی وجہ سے ہے اللہ تعالیٰ شانہٗ نے اپنی مخلوق پر رحم فرمایا ان کی ہدایت کے لیے اپنی کتاب نازل فرمائی، فی معالم التنزیل ناقلاً عن الزجاج انزلنہ فی لیلة مبٰركة للرحمة ﴿اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُۙ006﴾ (بلاشبہ وہ سننے والا، جاننے والا ہے)
Ayah 44:7

رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ۘ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ Open ayah 44:7 in the Quran reader

وہ آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان سب کا رب ہے اگر تم یقین کرنے والے ہو،

﴿ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَيْنَهُمَا 1ۘ﴾ (وہ آسمانوں کا اور زمین کا رب ہے اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان کا بھی رب ہے) ﴿ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِيْنَ 007﴾ اگر تم یقین کرنے والے ہو تو سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کو بھیجا اور کتابوں کو نازل فرمایا۔
Ayah 44:8

لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 44:8 in the Quran reader

اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ زندہ فرماتا ہے اور موت دیتا ہے وہ تمہارا اور تم سے پہلے جو تمہارے باپ دادے گزر گئے ان کا رب ہے

﴿لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ يُحْيٖ وَ يُمِيْتُ 1ؕ﴾ (اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ زندہ کرتا ہے اور موت دیتا ہے) ﴿ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآىِٕكُمُ الْاَوَّلِيْنَ 008﴾ وہ تمہارا رب ہے اور جو تم سے پہلے تمہارے باپ دادے گزرے ہیں ان کا بھی رب ہے۔
Ayah 44:9

بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ یَّلْعَبُوْنَ Open ayah 44:9 in the Quran reader

بلکہ وہ لوگ شک میں پڑے ہوئے کھیل رہے ہیں۔

﴿ بَلْ هُمْ فِيْ شَكٍّ يَّلْعَبُوْنَ 009﴾ بلکہ یہ لوگ شک میں پڑے ہوئے کھیل رہے ہیں نہ آخرت کے فکر مند ہیں نہ دلائل میں غور کرتے ہیں اور نہ اپنی جان کو نقصان اور ضرر سے بچانے کا دھیان ہے بچوں کی طرح کھیل کود میں مصروف ہیں۔ انجام کی فکر نہیں۔
Ayahs 44:10–16

فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَاْتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 44:10 in the Quran reader

سو آپ اس دن کا انتظار کیجیے جس دن آسمان کی طرف دیکھنے والے کو واضح طور پر دھواں نظر آئے گا،

یَّغْشَى النَّاسَ١ؕ هٰذَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 44:11 in the Quran reader

وہ لوگوں پر چھا جائے گا، یہ درد ناک عذاب ہے،

رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ اِنَّا مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 44:12 in the Quran reader

اے ہمارے رب ہم سے عذب کو دور کردیجیے، بلاشبہ ہم ایمان لے آئیں گے،

اَنّٰى لَهُمُ الذِّكْرٰى وَ قَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 44:13 in the Quran reader

کہاں ہے ان کو نصیحت حالانکہ ان کے پاس رسول مبین آگیا،

ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا مُعَلَّمٌ مَّجْنُوْنٌۘ Open ayah 44:14 in the Quran reader

پھر اس سے انہوں نے اعراض کیا اور کہنے لگے کہ یہ شخص سکھایا ہوا دیوانہ ہے،

اِنَّا كَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِیْلًا اِنَّكُمْ عَآئِدُوْنَۘ Open ayah 44:15 in the Quran reader

بلاشبہ ہم عذاب کو تھوڑے وقت کے لیے ہٹا دیں گے بیشک تم لوٹنے والا ہو،

یَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرٰى١ۚ اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ Open ayah 44:16 in the Quran reader

جس روز ہم بڑی پکڑ کریں گے، بلاشبہ ہم انتقام لینے والے ہیں۔

اس دن کا انتظار کیجیے جبکہ آسمان کی طرف سے لوگوں پر دھواں چھا جائے گا ہم بڑی پکڑ پکڑیں گے بیشک ہم انتقام لینے والے ہیں یہ سات آیات کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں فرمایا آپ اس دن کا انتظار کیجیے جس میں آسمان کی طرف ایک دھواں نظر آئے گا جو لوگوں پر چھا جائے گا۔ اسے دخان مبین کہتے ہیں۔ دخان سے کیا مراد ہے ؟ اس بارے میں ایک قول یہ ہے کہ یہ دھواں قیامت کی نشانیوں میں سے ہوگا جب ظاہر ہوگا تو زمین میں چالیس دن رہے گا اور آسمان اور زمین کے درمیان کو بھر دے گا۔ اس کی وجہ سے اہل ایمان کی کیفیت زکام جیسی ہوجائے گی اور کفار اور فجار کی ناکوں میں گھس جائے گا اور سانس لینے میں انہیں سخت تکلیف ہوگی۔ حضرت علی اور حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمر اور حضرت ابوہریرہ ؓ اور زید بن علی اور حسن اور ابن ابی ملیکہ رحمہم اللہ علیہم کا یہی فرمانا ہے کہ دھواں اب تک ظاہر نہیں ہوا قیامت کے قریب ہوگا۔ صحیح مسلم میں دس نشانیوں کے ذیل میں دھوئیں کا تذکرہ موجود ہے جس کے راوی حضرت حذیفہ بن اسید غفاری ؓ ہیں (صحیح مسلم ص 392: ج 2) جن حضرات نے فرمایا ہے کہ آیت مذکورہ بالا میں جس دھوئیں کا ذکر ہے وہ قیامت کے قریب ظاہر ہوگا ان حضرات کا استدلال اسی حدیث سے ہے۔ دوسرا قول حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے منقول ہے۔ جسے حضرت امام بخاری ؓ نے اپنی صحیح میں نقل کیا ہے جب حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی خدمت میں بعض حضرات کا یہ قول نقل کیا گیا کہ مذکورہ دخان سے قرب قیامت کا دھواں مراد ہے، تو حضرت ابن مسعود ؓ کو یہ سن کر ناگواری ہوئی اور فرمایا کہ جسے علم ہو وہ علم کی بات بتادے اور جسے علم نہ ہو وہ یوں کہہ دے کہ اللہ کو معلوم ہے کیونکہ نہ جاننے کا اقرار کرنا علم کی بات ہے اس کے بعد فرمایا جب قریش مکہ نے رسول کریم ﷺ کی نافرمانی کی تو آپ نے ان کو بددعا دے دی اللّٰھم اعنی علیھم بسبع کسبع یوسف (اے اللہ ان کے مقابلہ میں میری مدد فرما ان پر سات سال تک قحط بھیج دے جیسا کہ یوسف (علیہ السلام) کے زمانے میں قحط آیا تھا) اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمائی جب قحط پڑا اور قریش مصیبت میں مبتلا ہوئے تو ان کی ہر چیز ختم ہوگئی یہاں تک کہ وہ مردار اور ہڈیاں کھانے لگے بھوک کی مصیبت کی وجہ سے ان کا یہ حال ہوگیا کہ آسمان کی طرف دیکھتے تو دھواں نظر آتا تھا اسی کو اللہ تعالیٰ نے پہلے فرما دیا تھا ﴿فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَاْتِي السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِيْنٍۙ0010﴾ جب قریش مکہ عذاب میں مبتلا ہوئے تو انہوں نے دعا کی ﴿ رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ اِنَّا مُؤْمِنُوْنَ 0012﴾ اے ہمارے رب عذاب دور فرما دیجیے بلاشبہ ہم ایمان لے آئیں گے۔ حضرت عبد اللہ نے ﴿ اِنَّا كَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِيْلًا اِنَّكُمْ عَآىِٕدُوْنَۘ0015﴾ کی تلاوت کی پھر فرمایا کیا قیامت کے دن عذاب بھی دور کردیا جائے گا ؟ یعنی آیت کریمہ میں عذاب دور کرنے کا ذکر ہے اور قیامت کے دن کا عذاب دور نہیں کیا جائے گا لہٰذا معلوم ہوا کہ سورت الدخان میں دخان مبین سے قیامت کے دن کا عذاب مراد نہیں، اس کے آگے قصہ یہ ہے کہ جب قریش مکہ بہت زیادہ مصیبت میں مبتلا ہوئے تو انہوں نے آپ کی خدمت میں ابو سفیان کو بھیجا وہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے انہوں نے عرض کیا اے محمد ﷺ آپ صلہ رحمی کا حکم کرتے ہیں اور آپ کی قوم ہلاک ہو رہی ہے آپ اللہ سے دعا کردیجیے کہ اس عذاب کو ہٹا دے آپ نے دعا کردی اللہ تعالیٰ کی طرف سے بارش بھیج دی گئی وہ لوگ اچھی حالت میں ہوگئے لیکن کفر پر ہی باقی رہے جیسے ﴿ اِنَّكُمْ عَآىِٕدُوْنَۘ0015﴾ میں بیان فرمایا جب کفر پر ہی جمے رہے تو آیت کریمہ ﴿ يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرٰى 1ۚ اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ 0016﴾ نازل ہوئی جس دن ہم پکڑیں گے بڑی پكڑ، بیشک ہم بدلہ لینے والے ہیں بڑی پکڑ سے غزوہ بدر مراد ہے ان لوگوں نے وعدہ تو کیا تھا کہ ہم عذاب دور ہونے پر مومن ہوجائیں گے لیکن عذاب ٹل جانے کے باوجود ایمان نہ لائے اس لیے فرمایا ﴿ اَنّٰى لَهُمُ الذِّكْرٰى وَ قَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مُّبِيْنٌۙ0013 ﴾ کہاں ہے ان کو نصیحت اور حال یہ ہے کہ ان کے پاس رسول آچکا ہے جس کی دعوت و دلائل سب واضح ہیں ﴿ ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ ﴾ (الآیۃ) پھر انہوں نے اس کی طرف سے رو گردانی کی اور اعراض کیا۔ اور کہنے لگے کہ اس کو دوسروں نے سکھایا ہے اور یہ دیوانہ ہے یعنی رسول مبین کی واضح دعوت اور دلائل سے اعراض کرچکے ہیں اور اس کے بارے میں کہہ چکے ہیں کہ دوسروں کا پڑھایا ہوا ہے اور دیوانہ ہے ان سے یہ امید کرنا کہ عذاب چلے جانے پر ایمان لے آئیں گے بےجا امید ہے۔
Ayahs 44:17–24

وَ لَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ كَرِیْمٌۙ Open ayah 44:17 in the Quran reader

اور یہ بات واقعی ہے کہ ہم نے ان سے پہلے فرعون کی قوم کو آزمایا اور ان کے پاس رسول کریم آیا

اَنْ اَدُّوْۤا اِلَیَّ عِبَادَ اللّٰهِ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 44:18 in the Quran reader

تم اللہ کے بندوں کو میرے حوالہ کردو بلاشبہ میں تمہارے لیے رسول امین ہوں،

وَّ اَنْ لَّا تَعْلُوْا عَلَى اللّٰهِ١ۚ اِنِّیْۤ اٰتِیْكُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۚ Open ayah 44:19 in the Quran reader

اور یہ کہ تم اللہ کے مقابلے میں سرکشی نہ کرو بلاشبہ میں تمہارے پاس واضح دلیل لے کر آیا ہوں

وَ اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ اَنْ تَرْجُمُوْنِ٘ Open ayah 44:20 in the Quran reader

اور بلاشبہ میں اپنے رب سے اور تمہارے رب سے اس بات کی پناہ لیتا ہوں کہ تم مجھے سنگسار کردو،

وَ اِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا لِیْ فَاعْتَزِلُوْنِ Open ayah 44:21 in the Quran reader

اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے علیحدہ رہو،

فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُوْنَ Open ayah 44:22 in the Quran reader

پھر موسیٰ نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ لوگ مجرم قوم ہیں،

فَاَسْرِ بِعِبَادِیْ لَیْلًا اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَۙ Open ayah 44:23 in the Quran reader

سو تم میرے بندوں کو رات کو لے کر روانہ ہوجاؤ، بیشک تمہارا پیچھا کیا جائے گا۔

وَ اتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْوًا١ؕ اِنَّهُمْ جُنْدٌ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 44:24 in the Quran reader

اور سمندر کو سکون کی حالت میں چھوڑ دینا، بلاشبہ یہ لشکر غرق کردیا جانے والا ہے،

قوم فرعون کے پاس اللہ تعالیٰ کا رسول آنا، اور نافرمانی کی وجہ سے ان لوگوں کا غرق ہونا، بنی اسرائیل کا فرعون سے نجات پانا اور انعامات ربانیہ سے نوازا جانا ان آیات میں فرعون کی نافرمانی کا اور بطور سزا لشکروں سمیت سمندر میں ڈوب جانے کا تذکرہ فرمایا ہے۔ ارشاد فرمایا کہ ہم نے ان سے یعنی قریش مکہ سے پہلے قوم فرعون کو آزمایا ان کے پاس رسول کریم یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تشریف لائے۔ جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مکرم و معظم تھے انہوں نے فرعون سے اور اس کی جماعت سے کہا کہ بنی اسرائیل کو تم دکھ تکلیف دیتے ہو انہیں مصیبت میں مبتلا کر رکھا ہے ان اللہ کے بندوں کو تم میرے حوالے کردو اور میرے ساتھ بھیج دو میں جو کچھ کہہ رہا ہوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے میں اس کا رسول امین ہوں تم سے یہ بھی کہتا ہوں کہ سرکشی نہ کرو۔ اللہ کے مقابلے میں مت آؤ۔ اس کی اطاعت کرو میں تمہارے پاس واضح دلیل یعنی معجزات کثیرہ لے کر آیا ہوں۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے تبلیغ فرمائی اور حق بات پہنچائی تو فرعون اور اس کی جماعت نے ان کے قتل کے مشورے شروع کردئیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں اس سے اپنے رب کی پناہ لیتا ہوں کہ تم مجھے سنگسار کرو یعنی مجھے پتھروں سے مار کر ہلاک کرو۔ مزید فرمایا کہ اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو کم از کم یہ کرو کہ مجھ سے دور رہو مجھے کسی قسم کی تکلیف مت پہنچاؤ کیونکہ اس سے تمہارا جرم اور زیادہ شدید ہوجائے گا وہ لوگ ہدایت پر نہ آئے اور سرکشی کرتے رہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ لوگ مجرم ہیں ان کو سزا دی جائے اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر روانہ ہوجاؤ آبادی سے نکل جاؤ اور سمندر کی راہ لے لو جب تم روانہ ہوجاؤ گے تو تمہارا پیچھا کیا جائے گا یعنی فرعون اور اس کا لشکر تمہارے پیچھے آپہنچے گا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو لے کر رات کے وقت روانہ ہوگئے، فرعون کو پتہ چلا تو وہ بھی اپنے لشکروں کو لے کر ان کے پیچھے چل دیا اللہ تعالیٰ شانہٗ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو پہلے سے ہی ہدایت کردی تھی کہ جب سمندر پر پہنچو تو سمندر میں اپنی لاٹھی مار دینا اس کا معجزہ والا اثر یہ ہوگا کہ پانی رک جائے گا اور جگہ خشک ہوجائے گی اور اس میں راستے نکل آئیں گے تم اس سمندر کو اس کی حالت پر ٹھہرا چھوڑ کر پار ہوجانا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ایسا ہی کیا کہ ٹھاٹھیں مارتے سمندر میں راستے بن گیا جگہ خشک ہوگئی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کے ساتھ ان راستوں میں داخل ہوگئے اور سمندر اپنی ہیبت اور حالت پر سکون کے ساتھ ٹھہرا ہوا رہ گیا پیچھے سے فرعون اپنے لشکر کو لے کر آیا اور بنی اسرائیل کے پیچھے اپنی فوجیں ڈال دیں بنی اسرائیل پار ہوگئے اور فرعون اپنے لشکروں سمیت ڈوب گیا سمندر میں راستے بن جانے کی وجہ سے جو قرار و سکون ہوگیا تھا، اللہ تعالیٰ نے اسے دور فرما دیا پانی آپس میں مل گیا جیسا کہ پہلے ہی فرما دیا تھا جو راستے بن گئے تھے وہ ختم ہوگئے اور فرعون اپنے لشکر سمیت غرق ہوگیا اسی کو فرمایا ﴿ وَ اتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْوًا 1ؕ اِنَّهُمْ جُنْدٌ مُّغْرَقُوْنَ 0024﴾
Ayahs 44:25–27

كَمْ تَرَكُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 44:25 in the Quran reader

وہ بہت سے باغات اور چشمے چھوڑ گئے

وَّ زُرُوْعٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 44:26 in the Quran reader

کھیتیاں اور عمدہ مکانات

وَّ نَعْمَةٍ كَانُوْا فِیْهَا فٰكِهِیْنَۙ Open ayah 44:27 in the Quran reader

اور عیش کے سامان چھوڑ دئیے جن میں وہ خوشی کی حالت میں رہا کرتے تھے،

اہل دنیا کو اپنی دنیا اور حالت پر کھیتیوں پر باغوں پر مال و خزانوں پر بہت غرور اور گھمنڈ ہوتا ہے فرعونیوں کو بھی بڑا گھمنڈ تھا جب ڈوب گئے تو سب کچھ دھرا رہ گیا فرمایا ﴿ كَمْ تَرَكُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّ عُيُوْنٍۙ0025﴾ اور وہ لوگ کتنے ہی باغ کتنے ہی چشمے اور کتنی ہی کھیتیاں اور کتنے ہی عمدہ مکانات اور کتنے ہی آرام کے سامان چھوڑ گئے جن میں وہ خوش رہا کرتے تھے۔
Ayah 44:28

كَذٰلِكَ١۫ وَ اَوْرَثْنٰهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 44:28 in the Quran reader

اور ہم نے ان چیزوں کا دوسرے لوگوں کو وارث بنا دیا،

﴿ كَذٰلِكَ 1۫ ﴾ (یہ اسی طرح ہوا) ﴿وَ اَوْرَثْنٰهَا قَوْمًا اٰخَرِيْنَ 0028﴾ (اور ان چیزوں کا وارث دوسری قوموں کو بنا دیا، دوسری قوم سے بنی اسرائیل مراد ہے جیسا کہ سورة الشعراء میں ﴿ وَ اَوْرَثْنَا بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ ﴾ فرمایا ہے۔ اس کے بارے میں ضروری بحث سورة شعراء کی آیات بالا کی تفسیر میں دیکھ لی جائے۔
Ayahs 44:29–36

فَمَا بَكَتْ عَلَیْهِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ وَ مَا كَانُوْا مُنْظَرِیْنَ۠ Open ayah 44:29 in the Quran reader

سو ان پر آسمان رویا نہ زمین، اور ان کو مہلت نہیں دی گئی،

وَ لَقَدْ نَجَّیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُهِیْنِۙ Open ayah 44:30 in the Quran reader

اور یہ بات واقعی ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل کو ذلیل کرنے والے عذاب سے نجات دی

مِنْ فِرْعَوْنَ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَالِیًا مِّنَ الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 44:31 in the Quran reader

جو فرعون کی طرف سے تھا، بیشک وہ بڑا سرکش اور حد سے نکل جانے والوں میں سے تھا،

وَ لَقَدِ اخْتَرْنٰهُمْ عَلٰى عِلْمٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 44:32 in the Quran reader

اور یہ بات واقعی ہے کہ بنی اسرائیل کو اپنے علم کی رو سے جہاں والوں پر فوقیت دی

وَ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنَ الْاٰیٰتِ مَا فِیْهِ بَلٰٓؤٌا مُّبِیْنٌ Open ayah 44:33 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو ایسی نشانیاں دیں جن میں انعام تھا واضح طور پر۔

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَیَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 44:34 in the Quran reader

بلاشبہ یہ لوگ کہتے ہیں

اِنْ هِیَ اِلَّا مَوْتَتُنَا الْاُوْلٰى وَ مَا نَحْنُ بِمُنْشَرِیْنَ Open ayah 44:35 in the Quran reader

کہ بس یہی ہماری پہلی موت ہے اور ہم دوبارہ زندہ کیے جانے والے نہیں ہیں،

فَاْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 44:36 in the Quran reader

سو تم ہمارے باپ دادوں کو لے آؤ اگر تم سچے ہو،

پھر فرمایا ﴿فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ وَ مَا كَانُوْا مُنْظَرِيْنَ (رح) 0029﴾ (سو ان پر آسمان اور زمین کو رونا نہ آیا اور وہ مہلت دئیے جانے والے نہ تھے) یعنی اللہ تعالیٰ نے مبغوض اور مغضوب علہیم ہونے کی وجہ سے ہلاک فرما دیا اور یہ لوگ نہ صرف اللہ تعالیٰ کے مبغوض تھے بلکہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو بھی ان سے بغض تھا گو تکوینی طور پر بامر الٰہی ان پر بارش ہوتی تھی اور زمین بھی ان کا رزق اگاتی تھی، لیکن اللہ تعالیٰ اور اس کے عظیم آسمان و زمین ان سے راضی نہ تھے لہٰذا ان کے بیک وقت غرق ہونے پر انہیں ذرا بھی ترس نہ آیا اور ان کی ہلاکت کی وجہ سے وہ ذرا بھی نہ روئے۔ مومن کی موت پر آسمان و زمین کا رونا حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو بھی کوئی مومن بندہ ہے اس کے لیے آسمان میں دو دروازے ہیں ایک دروازے سے اس کا عمل اوپر جاتا ہے اور ایک دروازے سے اس کا رزق نازل ہوتا ہے۔ جب اس کی موت ہوجاتی ہے تو دونوں دروازے اس پر رونے لگتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اسی کو فرمایا ﴿فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ وَ مَا كَانُوْا مُنْظَرِيْنَ (رح) 0029﴾ (رواہ الترمذی فی تفسیر سورة الدخان) بنی اسرائیل پر انعام اور امتنان اس کے بعد بنی اسرائیل پر امتنان کا تذکرہ فرمایا اور فرمایا کہ ہم نے بنی اسرائیل کو ذلیل کرنے والے عذاب سے نجات دی یعنی فرعون سے اور یہ بھی فرمایا کہ ہم نے بنی اسرائیل کو اپنے علم کی رو سے دنیا جہان والوں پر فوقیت دی۔ یعنی ان کے زمانے میں جو لوگ تھے ان سب کے مقابلے میں انہیں برتری عطا فرمائی۔ فی معالم التنزیل علی عالمی زمانھم مزید فرمایا کہ ہم نے انہیں اپنی قدرت کی ایسی بڑی بڑی نشانیاں دیں جن میں صریح انعام تھا۔ یعنی وہ ایسی چیز تھی جو ان کے لیے نعمت تھیں، اور قدرت الٰہی کی بڑی نشانیاں تھیں۔ مثلاً انہیں فرعون کے چنگل سے نکالنا جو ان کے لڑکوں کو ذبح کردیتا تھا اور ان کے لیے سمندر کو پھاڑ دینا اور بادلوں کا سایہ کرنا اور من وسلویٰ نازل کرنا پھر انہیں زمین میں اقتدار بخشنا ان میں انبیاء اور ملوک پیدا فرمانا۔
Ayah 44:37

اَهُمْ خَیْرٌ اَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ١ۙ وَّ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ اَهْلَكْنٰهُمْ١٘ اِنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 44:37 in the Quran reader

کیا یہ لوگ بہتر ہیں یا تبع کی قوم اور وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے، ہم نے ان کو ہلاک کیا بلاشبہ وہ مجرم تھے

منکرین قیامت کی کٹ حجتی، یہ لوگ قوم تبع سے بہتر نہیں ہیں جو ہلاک کردئیے گئے ان آیات میں اول تو منکرین بعث کا قول نقل فرمایا ہے، پھر ان کی بات کی تردید فرمائی ہے منکرین نے یہ کہا کہ یہ جو تم کہتے ہو کہ مرنا ہے اور مر کر جی اٹھنا ہے اور حساب و کتاب ہے یہ ہم نہیں مانتے ہمارے نزدیک بس یہی بات طے شدہ ہے کہ ہم پہلی بار جو مریں گے تو بس مرگئے اس کے بعد دوبارہ زندہ ہونے والی بات نہیں مانتے، ان لوگوں نے مزید یوں بھی کہا کہ تم دوبارہ زندہ ہونے کی خبر دیتے ہو تو چلو ہمارے باپ دادوں کو لاکر دکھا دو اگر تم اپنی بات میں سچے ہو (کہ دوبارہ اٹھنا ہے اور قیامت قائم ہونی ہے) ان کی تردید میں فرمایا ﴿ اَهُمْ خَيْرٌ اَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ 1ۙ وَّ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ 1ؕ اَهْلَكْنٰهُمْٞ اِنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِيْنَ 0037﴾ کیا یہ لوگ بہتر ہے یا تبع کی قوم بہتر تھی اور جو لوگ ان سے پہلے تھے وہ بہتر تھے ہم نے انہیں ہلاک کردیا بلاشبہ وہ مجرم تھے یعنی یہ جو ایسی باتیں کر رہے ہیں کہ اللہ کے رسول کی رسالت اور دعوت کے منکر ہیں اپنے کو دنیاوی طور پر بڑی قوت والا سمجھ رہے ہیں اور اسی بنیاد پر منکر ہو رہے ہیں یہ سوچنا اور سمجھنا بالکل ہی غلط ہے ان کی کیا حیثیت ہے ان سے پہلے (یمن کے بادشاہ) تبع کی قوم گزر چکی ہے اور ان میں بھی بہت سی قومیں گزری ہیں جنہیں اپنی قوت اور شوکت پر بڑا گھمنڈ تھا رسولوں کی تکذیب کی وجہ سے جب ان پر عذاب آیا تو شوکت و قوت نے کچھ بھی کام نہ دیا سورة سبا میں فرمایا ﴿ وَ كَذَّبَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ 1ۙ وَ مَا بَلَغُوْا مِعْشَارَ مَاۤ اٰتَيْنٰهُمْ فَكَذَّبُوْا رُسُلِيْ 1۫ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيْرِ (رح) 0045﴾ (اور ان سے پہلے لوگوں نے جھٹلایا اور حال یہ ہے کہ یہ لوگ اس کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے جو ہم نے ان کو دیا تھا سو انہوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا سو کیسا تھا میرا عذاب۔ ) تُبَّع كون تھے ؟ یہ تبع کون تھا ؟ جس کی قوم کا تذکرہ فرمایا ہے، اس کے بارے میں مفسرین نے بہت کچھ لکھا ہے۔ صاحب معالم التنزیل ص 153 ج 4 نے اس پر لمبا مضمون سپرد قلم فرمایا ہے اتنی بات تو تقریباً سبھی نے لکھی ہے کہ تبع یمن کے بادشاہ کا لقب تھا جیسے قیصر و کسریٰ ، اور نجاشی اپنے اپنے علاقوں کے بادشاہوں کے القاب تھے اسی طرح یمن کے بادشاہ کو تبع کہا جاتا تھا یہ کون سا تبع تھا جس کا آیت بالا میں ذکر ہے ؟ اس کا نام اسعد بن ملیک اور کنیت ابو کرب لکھی ہے محمد بن اسحاق (صاحب السیرۃ) حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ یہ تبع مدینہ منورہ کے راستے سے گزر رہا تھا اس نے اہل مدینہ پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا جب اہل مدینہ کو اس کا پتہ چلا تو یہودیوں کے قبیلہ بنو قریظہ میں سے دو عالم کعب اور اسد نامی اس کے پاس گئے اور اس سے کہا کہ اے بادشاہ ! تو ایسا نہ کر اگر تو ہماری بات نہیں مانتا تو جان ہمیں ڈر ہے کہ تجھ پر جلد ہی عذاب نازل ہوجائے گا کیونکہ یہ ایک نبی کا دارالہجرۃ ہے وہ قریش سے ہوں گے نام محمد ہوگا ان کی پیدائش مکہ میں ہوگی یہ سن کر وہ اپنے ارادے سے باز آگیا پھر ان دونوں عالموں نے اسے اپنے دین کی دعوت دی اس نے ان کا دین قبول کرلیا یعنی یہودیت کو اپنا دین بنالیا اس کے بعد وہ مدینہ منورہ سے چلا گیا اس کے ساتھ کچھ یہودی جن میں وہ دونوں عالم بھی تھے (جنہوں نے اسے مدینہ منورہ پر حملہ کرنے سے روکا تھا) یمن جانے کے لیے روانہ ہوگئے راستے میں قبیلہ بنی ہذیل کے کچھ لوگ ملے انہوں نے تبع سے کہا کہ ہم تمہیں ایک ایسا گھر بتاتے ہیں جس میں موتی زمرد اور چاندی کا خزانہ ہے اس نے سوال کیا کہ وہ کون سا گھر ہے انہوں نے بتایا کہ وہ گھر مکہ معظمہ میں ہے بنی ہذیل کا مقصد اس کی خیر خواہی نہ تھی بلکہ اسے ہلاک کروانا مقصود تھا وہ جانتے تھے کہ اس بیت پر جس نے بھی حملہ کا ارادہ کیا وہ ضرور ہلاک ہوا۔ تبع نے لوگوں کی بات سن کر انہیں یہودی علماء سے مشورہ لیا جو اس کے ساتھ تھے ان لوگوں نے کہا تو اس پر حملہ آور مت ہو ہمارے علم میں صرف یہی ایک گھر ہے جس کی اللہ کی طرف نسبت کی جاتی ہے تو وہاں نماز بھی پڑھ، قربانی بھی کر، اور سر بھی مونڈ یہ لوگ تیری دشمنی کے لیے ایسا مشورہ دے رہے ہیں، علماء یہود نے جب اسے ایسا مشورہ دیا تو اس نے بنی ہذیل کے چند لوگوں کو پکڑا اور ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دئیے اور اندھا کرنے کے لیے ان کی آنکھوں میں گرم سلائی پھیر دی اور انہیں سولی پر چڑھا دیا۔ مکہ معظمہ پہنچ کر اس نے کعبہ شریف کو پردہ پہنایا اور وہاں جانور ذبح کیے وہاں چند دن قیام بھی کیا، طواف بھی کیا اور حلق بھی کیا جب تبع مکہ معظمہ سے جدا ہوا اور یمن کے قریب پہنچا تو قبیلہ بنی حمیر کے لوگ آڑے آگئے تبع اسی قبیلہ سے تھا اور کہنے لگے کہ تو ہمارے پاس ہرگز نہیں آسکتا کیونکہ تو ہمارے دین سے جدا ہوگیا، تبع نے انہیں اپنے دین کی دعوت دی اور ان سے کہا کہ میں نے جو دین اختیار کیا ہے تمہارے دین سے بہتر ہے پھر انہوں نے آگ کو حَكمْ یعنی فیصلہ کرنے والی چیز بنایا اس پر آگ نے اہل یمن کے بتوں کو اور جو کچھ انہوں نے بتوں پر چڑھاوے چڑھائے تھے ان سب کو جلا دیا اور یہودی علماء کو دیکھ کر آگ پیچھے ہٹ گئی یہاں سے یمن میں دین یہودیت پھیلنے کی ابتداء ہوئی تبع نے نبی اکرم ﷺ پر آپ کی بعثت سے سات سو سال پہلے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت سے تقریباً ایک سو سال پہلے ایمان لے آیا حضرت عائشہ ؓ فرماتی تھیں کہ تبع کو برا نہ کہو وہ نیک آدمی تھے۔ اس کے بعد صاحب معالم التنزیل نے حضرت سہل بن سعد ؓ سے یہ حدیث نقل کی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تبع کو برا نہ کہو کیونکہ وہ مسلمان ہوگیا تھا۔ یہ حدیث مسند احمد ص 340 جلد 5 میں مذکور ہے۔ پھر بحوالہ مصنف عبد الرزاق حدیث نقل کی ہے جو حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں نہیں جانتا کہ تبع نبی تھے یا غیر نبی۔ ان روایات سے یہ تو ثابت ہوا کہ تبع اچھے آدمی تھے لیکن ان کی قوم کب اور کیسے ہلاک ہوئی اس کا پتہ نہیں چلتا جب کہ سورة ق میں اور سورة دخان میں قوم تبع کے ہلاک کیے جانے کی تصریح ہے اگر معالم التنزیل کے بیان سے یہ سمجھ لیا جائے کہ باوجود یہ کہ آگ نے فیصلہ کردیا تھا پھر بھی تبع کی قوم ایمان نہ لائی اور کفر پر جمی رہی اور اس کی وجہ سے ہلاک ہوئی تو یہ قرین قیاس ہے یہاں تک لکھنے کے بعد تفسیر ابن کثیر میں دیکھا انہوں نے اس تبع کا نام اسعد بتایا ہے اور کنیت ابو کریب لکھی ہے اور باپ کا نام ملیکہ لکھا ہے اور یہ بھی لکھا کہ اس نے 326 سال تک حکومت کی اور یہ بھی لکھا ہے کہ اس کی قوم نے اس کی دعوت پر اسلام قبول کرلیا تھا۔ لیکن جب اس کی وفات ہوگئی تو وہ لوگ مرتد ہوگئے آگ اور بتوں کی پوجا کرنے لگے لہٰذا اللہ تعالیٰ نے انہیں عذاب میں مبتلا فرما دیا جیسا کہ سورة سبا میں مذکور ہے مفسر ابن کثیر کا فرمانا ہے کہ قوم تبع اور سبا ایک ہی قوم کا مصداق ہے۔ (ابن کثیر ص 143، 144: جلد 4 اللہ اعلم بحقیقة احوال)
Ayah 44:38

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا لٰعِبِیْنَ Open ayah 44:38 in the Quran reader

اور ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس طور پر پیدا نہیں کیا کہ ہم فعل عبث کرنے والے ہوں،

پھر فرمایا ﴿ وَ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَيْنَهُمَا لٰعِبِيْنَ 0038﴾ اور ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس طور پر پیدا نہیں کیا کہ ہم فعل عبث کرنے والے ہوں۔
Ayah 44:39

مَا خَلَقْنٰهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 44:39 in the Quran reader

ہم نے ان کو پیدا نہیں کیا مگر حق کے ساتھ، اور لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے،

﴿مَا خَلَقْنٰهُمَاۤ اِلَّا بالْحَقِّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ 0039﴾ (ہم نے ان دونوں کو حکمت ہی سے بنایا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے) ان کے بنانے میں جو حکمتیں ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ لوگ اس سے ان کے پیدا کرنے والے کی قدرت کاملہ پر استدلال کریں سورة یٰسین میں فرمایا ﴿ اَوَ لَيْسَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ يَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ 1 ﷺ ؕ بَلٰى 1ۗ وَ هُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِيْمُ 0081﴾ (کیا وہ ذات جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا اس پر قادر نہیں ہے کہ ان کے جسے پیدا فرما دے، ہاں وہ قادر ہے اور بہت پیدا کرنے والا بڑے علم والا ہے۔ )