Ayahs 44:1–51:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انا انزلنہ فی لیلۃ مبرکۃ “ (کہ ہم نے اس کو مبارک رات میں نازل کیا) یعنی قرآن لیلۃ القدر میں نازل کیا گیا پھر جبرائیل (علیہ السلام) رسول اللہ ﷺ پر لوگوں کی باتوں کے جواب میں آیت در آیت کی صورت میں نازل کرتے رہے۔
2:۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انا انزلنہ فی لیلۃ مبرکۃ “ سے مراد ہے لیلۃ القدر۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابو الجلد (رح) سے روایت کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا صحیفہ رمضان کی پہلی رات میں نازل ہوا اور انجیل رمضان کی اٹھارویں رات گزرنے پر نازل ہوا اور یہ فرقان (یعنی قرآن مجید) رمضان کی چوبیس رات گزرجانے کے بعد نازل ہوا۔
4:۔ سعید بن منصور (رح) نے ابراہیم نخعی (رح) سے (آیت ) ” انا انزلنہ فی لیلۃ مبرکۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ پورا قرآن جبرائیل پر نازل ہوا۔ اور جبرائیل (علیہ السلام) بعد میں نبی کریم ﷺ کی طرف لاتے تھے۔
5:۔ سعید بن منصور (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ اوپر والے آسمان سے قرآن مجید دنیا والے آسمان کی طرف اکھٹا لیلۃ القدر میں نازل ہوا پھر اس کے بعد ان سالوں میں تھوڑا تھوڑا کرکے نازل ہوا۔
6:۔ محمد بن نصر وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ فیھا یفرق کل امر حکیم “ (اس رات میں ہر حکمت یا محکم معاملات کا فیصلہ کیا جاتا ہے) یعنی ام الکتاب (لوح محفوظ) میں لیلۃ القدر میں لکھا جاتا ہے جو اس سال میں ہوتا ہے رزق میں سے یا موت یا زندگی یا بارش میں سے یہاں تک کہ حج کرنے والے کا لکھ دیا جاتا ہے کہ وہ حج کرے گا یعنی فلاں اور فلاں حج کرے گا۔
7:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ فیھا یفرق کل امر حکیم “ سے مراد ہے کہ ایک سال کا کام دوسرے سال تک (کا فیصلہ کیا جاتا ہے) مگر بدبختی اور نیک بختی (کا فیصلہ نہیں کیا جاتا) کیونکہ وہ اللہ کی کتاب میں ہے جس میں کوئی ردو بدل نہیں ہوگا۔
8:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عطا الخراسانی کے طریق سے عکرمہ ؓ سے (آیت ) ’ فیھا یفرق کل امر حکیم “ کے بارے میں روایت کیا کہ لیلۃ القدر میں ہر محکم کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔
9:۔ ابن ابی شیبہ (رح) ومحمد بن نصر وابن المنذر (رح) نے محمد بن سوقہ کے طریق سے عکرمہ ؓ نے فرمایا کہ بیت اللہ شریف کا حج کرنے والوں کا اعلان کیا جاتا ہے لیلۃ القدر میں ان کے نام اور ان کے آباؤاجداد کے نام لکھے جاتے ہیں اس رات میں کسی کو نہیں چھوڑا جاتا جو لکھے جانے والوں میں شامل کیا جاتا ہے۔ ؛ پھر یہ آیت پڑھی (آیت ) ’ فیھا یفرق کل امر حکیم “ نہ ان میں زیادتی ہوتی ہے اور نہ ان میں کمی ہوتی ہے۔
10:۔ سعید وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں پوچھا گیا (آیت ) ” حم ٓ (1) والکتب المبین (2) انا انزلنہ فی لیلۃ مبرکۃ انا کنا منذرین “ (قسم ہے کھول کر بیان کرنے والی کتاب یعنی قرآن کی ہم نے ہی برکت والی رات میں اس کو نازل کیا بلاشبہ ہم ڈرانے والے ہیں (آیت ) ’ فیھا یفرق کل امر حکیم “ (ہر محکم کام کا اس میں فیصلہ کیا جاتا ہے تو فرمایا لیلۃ میں ایک سال سے دوسرے سال تک کے معاملات کا فیصلہ کیا جاتا ہے مگر زندگی اور موت کا فیصلہ نہیں کیا جاتا اس میں زندگی کی آسائشوں اور مصائب کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔
لیلۃ القدر میں تقدیر کے فیصلے :
11:۔ عبد بن حمید (رح) ومحمد بن نصر وابن جریر (رح) نے ربیعہ بن کلثوم (رح) سے روایت کیا کہ میں جس کے پاس تھا ایک آدمی نے ان سے کہا اے ابوسعید لیلۃ القدر ہر رمضان میں ہوتی ہے۔ فرمایا اللہ کی قسم وہ ہر رمضان میں ہوتی ہے۔ اور وہ ایسی رات جس میں اللہ تعالیٰ موت عمل اور رزق جیسی چیزوں کا فیصلہ فرماتے ہیں۔
12:۔ ابن جریر (رح) نے عمر مولی غفرہ (رح) سے روایت کیا کہ ایک لیلۃ القدر سے اگلی لیلۃ القدر تک جن کو موت آنی ہوتی ہے ملک الموت ان کو لکھ لیتے ہیں اسی کو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت ) ” انا انزلنہ فی لیلۃ سے، فیھا یفرق کل امر حکیم “ تک آدمی عورتوں سے نکاح کو پاتا ہے (یعنی نکاح) کرتا ہے اور بچھونا بچھاتا ہے جبکہ اس کا نام مردوں میں لکھا ہوتا ہے۔
13:۔ ابن جریر نے ھلال بن سیاف (رح) سے روایت کیا کہ کہا جاتا تھا کہ رمضان شریف میں فیصلہ کا انتظار کرو۔
14:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انا انزلنہ فی لیلۃ مبرکۃ “ سے مراد ہے لیلۃ القدر۔
15:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والحاکم (رح) (وصححہ) اور بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ بلاشبہ تو دیکھے گا ایک آدمی کو کہ وہ بازاروں میں چلتا ہے حالانکہ اس کا نام مردوں میں لکھا ہوتا ہے پھر ان آیات کی تلاوت کی (آیت ) ” اناانزلنہ فی لیلۃ المبرکۃ انا کنا منذرین (3) (آیت ) ’ فیھا یفرق کل امر حکیم “ یعنی لیلۃ القدر میں فرمایا یہ وہ رات ہے جس میں اگلی لیلۃ القدر تک کے دنیاوی معاملات کا فیصلہ کیا جاتا ہے یعنی موت زندی اور ہر قسم کے دنیاوی کام کے بارے میں رات فیصلہ کئے جاتے ہیں آئندہ آنے والے سال تک۔
16:۔ عبد بن حمید (رح) ومحمد (رح) بن نصر (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) والبیہقی (رح) نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ فیھا یفرق کل امر حکیم “ سے مراد ہے کہ سال بھر کے کاموں کا آئندہ سال تک فیصلہ کردیا جاتا ہے۔
17:۔ عبد بن حمید (رح) ومحمد (رح) بن نصر (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) والبیہقی (رح) نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ فیھا یفرق کل امر حکیم “ سے مراد ہے کہ سال بھر کے کاموں کا آئندہ سال تک فیصلہ کردیا جاتا ہے لیلۃ القدر میں۔
18:۔ البیہقی (رح) نے ابوالجوزاء (رح) سے (آیت ) ’ فیھا یفرق کل امر حکیم “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس رات سے مراد لیلۃ القدر ہے بڑا رجسڑ لایا جاتا ہے ایک سال سے دوسرے سال تک کے معاملات کے لئے اللہ عزوجل جس کو چاہتے ہیں بخش دیتے ہیں کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” رحمۃ من ربک “ یعنی یہ رحمت ہے تیرے رب کی طرف سے۔
19:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن النصر (رح) وابن جریر (رح) والبیہقی (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ فیھا یفرق کل امر حکیم “ یعنی اس رات میں ایک سال سے لیکر دوسرے سال تک کہ کاموں کے فیصلے کئے جاتے ہیں اور دوسرے لفظ میں یوں فرمایا اس میں فیصلہ کیا جاتا ہے جو ایک سال سے دوسرے سال تک معاملات ہوں گے۔
20:۔ عبد بن حمید (رح) وابن نصر والبیہقی (رح) نے ابونصرہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ فیھا یفرق کل امر حکیم “ یعنی سال بھر کے کاموں کا فیصلہ کیا جاتا ہے ہر لیلۃ القدر میں اس کی خیر کا اس کی شرکا اس کی رزق کا اس کی موت کا اس کی مصیبت کا اور اس کی خوشحالی کا اور اس کے ذریعہ معاش کا اسی طرح دوسرے کاموں کا پورے سال میں سے۔
21:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے محمد بن سوقہ کے طریق سے عکرمہ ؓ سے (آیت ) ’ فیھا یفرق کل امر حکیم “ سے مراد ہے کہ نصف شعبان کی رات میں سال بھر کے کاموں کا فیصلہ کردیا جاتا ہے۔ اور زندوں کو مردوں میں لکھ دیا جاتا ہے اور حج کرنے والے کو لکھ دیا جاتا ہے نہ اس میں اضافہ کیا جاتا ہے اور نہ ان میں سے کمی کی جاتی ہے۔
22:۔ ابن زنجویہ والبیہقی (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ فیصلہ کردیا جاتا ہے ایک شعبان سے دوسرے شعبان تک یہاں کہ ایک آدمی نکاح کرتا ہے اس کی اولاد ہوتی ہے اور اس کا نام مردوں میں لکھا جا چکا ہوتا ہے۔
23:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے عطا بن یسار (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ شعبان میں اکثر روزے رکھتے تھے اور وجہ سے کہ سال بھر میں جن کو موت آنی ہوتی ہے تو ان کی موتیں اس رات لکھ دی جاتی ہیں۔
24:۔ ابن مردویہ (رح) وابن عساکر (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ اکثر شعبان میں روزے رکھتے تھے کیونکہ کہ اس میں زندوں کی روحوں کو مردوں میں لکھا جاتا ہے یہاں تک کہ ایک آدمی شادی کرتا ہے جبکہ اس کا نام ان لوگوں میں لکھا ہوتا ہے جنہوں نے مرنا ہوتا ہے اور ایک آدمی حج کرتا ہے جبکہ اس کا نام ان لوگوں میں لکھا ہوتا ہے جس کو مرنا ہوتا ہے۔
25:۔ ابویعلی نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ سارا شعبان روزے رکھتے تھے میں نے اس بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس رات سال بھر تمام مرنے والوں کے نام لکھتے ہیں۔ میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ جب میری موت آئے تو میں روزہ سے ہوں۔
26:۔ الدینوری نے المجانسہ میں راشدبن سعد ؓ سے روایت کیا کہ نصف شعبان کی رات کو اللہ تعالیٰ ملک الموت کی طرف وحی فرماتے ہیں فلاں نفس کو قبض کرنا جس کے قبض کرنے کا اللہ تعالیٰ سال بھر میں ارادہ فرماتے ہیں۔
27:۔ ابن جریر (رح) والبیہقی (رح) فی الشعب الایمان نے البغوی سے اور انہوں نے عثمان بن محمد بن مغیرہ بن اخنس (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ موتوں کا فیصلہ کیا جاتا ہے ایک شعبان سے دوسرے شعبان تک یہاں تک کہ ایک آدمی نکاح کرتا ہے اس کی اولاد ہوتی ہے حالانکہ اس کا نام مردوں میں لکھا جاچکا ہوتا ہے۔ زہری نے فرمایا کوئی دن ایسا نہیں جس میں سورج طلوع ہوتا ہو وہ دن کہتا یہ کہ مجھ جو خیر کا عمل کرسکے اس کو چاہئے کہ عمل کرے کیونکہ میں تم پر کبھی بھی دوبارہ دنیا میں نہیں آؤں گا۔ اور کوئی دن ایسا نہیں جس میں دو آواز دینے والے آسمان سے آواز دیتے ہیں ایک ان میں سے کہتا ہے اے خیر کے طلب کرنے والے آگے بڑھ اور دوسراکہتا ہے اے شر کے طلب کرنے والے رک جا اور ان میں سے ایک کہتا ہے اے اللہ مال کے خرچ کرنے والے کو اس کا بدلہ عطا فرما اور دوسرا کہتا ہے اے اللہ ! روکنے والے کے مال کو تلف کرو۔
28:۔ ابن ابی الدنیا نے عطا بن یسار (رح) سے روایت کیا کہ جب شعبان کی پندرھویں رات ہوتی ہے تو ملک الموت کو ایک صحیفہ دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس صحیفہ میں جو (درج) ہے اس کی روح کو قبض کو لو فرمایا ایک آدمی بچھونا بچھاتا ہے عورتوں سے نکاح کرتا ہے عمارت بناتا ہے حالانکہ اس کا نام مردوں میں لکھا جا چکا ہے۔
شعبان کی پندرھویں شب :
29:۔ الخطیب نے رواۃ مالک میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا اللہ تعالیٰ خیر کو چار راتوں میں کھول دیتے ہیں عید الضحی اور عید الفطر کی رات شعبان کی پندرھویں رات جس میں موت اور رزق لکھ دیئے جاتے ہیں اور اس میں حج کرنے والے کو بھی لکھ دیا جاتا ہے اور عرفہ کی رات میں بھی (لکھ دیا جاتا ہے) اذان تک۔
30:۔ الخطیب وابن النجار نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سارا شعبان روزے رکھتے تھے یہاں تک کہ ان کو رمضان (کے روزوں) سے ملادیتے تھے شعبان کے علاوہ کسی مہینے میں روزے نہیں رکھتے تھے میں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے کہ شعبان آپ کو دوسرے مہینوں کی نسبت زیادہ محبوب ہے کہ آپ اس کے روزے رکھتے ہیں آپ نے فرمایا ہاں اے عائشہ ؓ کوئی جان اس سال میں نہیں مرتی مگر اس کی موت شعبان میں لکھ دی جاتی ہے۔ تو میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ میری موت اس حال میں لکھ دی جائے کہ میں اپنے رب کی عبادت میں ایک نیک عمل میں (لگا ہوا) ہوں ابن نجار کے لفظ ہے اے عائشہ اس میں لکھا جاتا ہے کہ ملک الموت کن کی روحوں کو قبض کرے گا میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ میرا نام روزے کی حالت میں لکھا جائے۔
31:۔ ابن ماجہ والبیہقی (رح) نے شعب الایمان میں علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب شعبان کی پندرھوں رات ہوتی ہے تو اس رات میں قیام کرو اور دن کو روزہ رکھو بلا شبہ اللہ تعالیٰ اس میں سورج غروب ہونے سے کے ساتھ ہی آسمان دنیا پر تشریف لاتے ہیں اور فرماتے ہیں کیا ہے کوئی بخشش مانگنے والا کہ میں اس کی مغفرت کروں کیا ہے کوئی رزق مانگنے والا کہ میں اس کو رزق عطا کروں کیا ہے کوئی مصیبت میں مبتلا ہونے والا کہ میں اس کو عافیت دوں کیا ہے کوئی سوال کرنے والا کہ میں اس کو عطا کروں کیا ہے کوئی ایسا ہے کیا کوئی ایسا ہے یہاں تک کہ فجر طلوع ہوجاتی ہے۔
32:۔ ابن ابی شیبہ (رح) والترمذی وابن ماجہ والبیہقی (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے ایک رات رسول اللہ ﷺ کو گم پایا میں ان کو تلاش کرنے کے لئے گھر سے نکل پڑی۔ اچانک (میں نے دیکھا) کہ آپ بقیع میں ہیں آسمان کی طرف اپنا سر اٹھائے ہوئے ہیں (دیکھ کر) فرمایا اے عائشہ کیا تو ڈرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول تجھ پر ظلم کریں گے میں نے عرض کیا ایسا کوئی خوف مجھے نہیں لیکن میں نے خیال کیا تھا کہ آپ اپنی بعض بیویوں کے پاس تشریف لے گئے ہوں۔
آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ پندرھویں شعبان کی رات میں آسمان دنیا کی طرف تشریف لاتے ہیں اور کلب قبیلے کی بکریوں کے بالوں سے بھی زیادہ لوگوں کو بخش دیتے ہیں۔
33:۔ البیہقی نے قاسم بن محمد بن ابوبکر سے روایت کیا کہ وہ اپنے والد یا اپنے چچا یا اپنے دادا ابی بکر صدیق ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ نصف شعبان کی رات کو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف تشریف لاتے ہیں اور ہر کسی کو بخش دیتے ہیں مگر مشرک کو یا جس کے دل میں کینہ ہو (ان کی مغفرت نہیں فرماتے 9
34:۔ البیہقی نے ابوثعلبہ خشنی ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب نصف شعبان کی رات ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور ایمان والوں کو بخش دیتے ہیں اور کافروں کو مہلت دیتے ہیں اور کینہ رکھنے والوں کو ان کے کینے کی وجہ سے چھوڑ دیتے ہیں یہاں تک کہ کینے کو چھوڑ دیں۔
35:۔ البیہقی (رح) نے معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا نصف شعبان کی رات میں اللہ تعالیٰ مخلوق کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور ساری مخلوق کو بخش دیتے ہیں مگر مشرک اور کینہ رکھنے والے کو نہیں بخشتے۔
36:۔ امام بیہقی (رح) نے ابوموسی اشعری ؓ سے بھی ایسی ہی مرفوع روایت کی ہے۔
پندرہ شعبان کی رات کی فضیلت :
37:۔ البیہقی (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ رات کو نماز پڑھنے کھڑے ہوئے سجدوں کو لمبا کیا، یہاں تک کہ میں نے گمان کیا کہ آپ اس دنیا سے چلے گئے جب میں نے دیکھا تو میں کھڑی ہوئی یہاں تک کہ میں نے ان کے انگوٹھوں کو حرکت دی۔ آپ نے حرکت فرمائی اور میں (اپنی جگہ پر) لوٹ آئی آپ نے سجدہ سے سر اٹھایا اور اپنی نماز سے فارغ ہوئے فرمایا اے عائشہ ؓ یا فرمایا اے حمیرا ! تو نے گمان کیا کہ نبی کریم ﷺ تیرے ساتھ ظلم کرے گا ؟ میں نے عرض کیا نہیں اللہ کی قسم اے اللہ کے نبی ! لیکن میں نے گمان کیا کہ آپ کی روح قبض کرلی گئی کیونکہ آپ نے لمبا سجدہ کیا پھر فرمایا کیا تو جانتی ہے کہ یہ کونسی رات ہے میں نے کہا اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں پھر آپ نے فرمایا یہ نصف شعبان کی رات ہے۔ اللہ تعالیٰ استغفار کرنے والوں کو بخش دیتے ہیں اور رحمت طلب کرنے والوں پر رحم کرتے ہیں اور کینہ والوں کا معاملہ مؤخر کردیتے ہیں جیسے وہ ہوں۔
38:۔ البیہقی (رح) نے اس کو ضعیف کہا اور عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اپنے دونوں کپڑوں کو اتارنا چاہا ابھی مکمل نہ اتارے تھے کہ کھڑے ہوگئے اور ان کپڑوں کو دوبارہ پہن لیا مجھے شدید غیرت آئی اور میں نے خیال کیا کہ آپ کس زوجہ کے پاس تشریف لے جائیں گے میں آپ کے پیچھے گئی اور آپ کو بقیع عرفہ میں پایا کہ آپ مومن مردوں مومن عورتوں اور شھداء کے لئے استغفار فرما رہے ہیں میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ اپنے رب کی تلاش میں ہیں اور میں دنیا کی حاجت میں ہوں میں لوٹ آئی اور حجرہ میں داخل ہوگئی جبکہ میرا نفس پھولا ہوا تھا۔ (اتنے میں) نبی کریم ﷺ میرے پاس آگئے اور فرمایا اے عائشہ تیرا سانس کیوں پھولا ہوا ہے۔ میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ میرے پاس تشریف لائے ہیں آپ نے اپنے کپڑے اتارے تھے پھر آپ پوری طرح نہیں اتارے تھے کہ آپ کھڑے ہوگئے ان کپڑوں کو پہن لیا اور باہر تشریف لے گئے مجھے سخت غیرت آئی۔ میں نے خیال کیا کہ آپ کسی زوجہ کے پاس تشریف لے جائیں گے یہاں تک کہ میں نے آپ کو بقیع میں یہ کام کرتے ہوئے پایا (یعنی استغفار کرتے ہوئے پایا) فرمایا اے عائشہ ؓ کیا تو اس بات کا خوف کرتی ہے کہ اللہ اور اس کا رسول تجھ پر ظلم کریں گے بلکہ میرے پاس جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور فرمایا یہ نصف شعبان کی رات ہے اللہ تعالیٰ بنوبکر کی بکریوں کے بالوں کے برابر لوگوں کو جہنم سے آزاد فرماتے ہیں۔ (مگر) اللہ تعالیٰ اس میں نہیں دیکھتا ہے مشرک کی طرف نہ کینہ رکھنے والے کی طرف نہ قطع رحمی کرنے والے کی طرف اور نہ چادر کو نیچے لٹکانے والے کی طرف اور نہ اپنی اولاد کو عاق کرنے والے کی طرف اور نہ شراب کا عادی کی طرف، عائشہ ؓ نے فرمایا کہ پھر آپ نے اپنے (زائد کپڑے) اتار دیئے اور مجھ سے فرمایا اے عائشہ ! کیا تو مجھ کو قیام کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ اس رات میں، میں نے عرض کیا ہاں میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ کھڑے ہوگئے اور لمبا سجدہ کیا یہاں تک کہ میں نے خیال کیا آپ کی روح قبض کرلی گئی میں کھڑی ہوئی اور میں نے اپنے ہاتھ کو آپ کے پاؤں مبارک کے اندورنی حصہ پر رکھا تو آپ نے پاؤں کو حرکت دی اور میں نے آپ کو سجدہ میں یہ کہتے ہوئے سنا :
اعوذ بعفوک من عقوبتک واعوذ برضاک من سختک واعوذ بک منک جل وجھک لا احصی ثناء علیک انت کما اثنیت علی نفسک :
ترجمہ : میں پناہ مانگتا ہوں آپ کی سزا سے آپ کے درگزر کرنے کی اور میں پناہ مانگتا ہوں آپ کے غصے سے آپ کی رضا کے ساتھ اور میں آپ سے پناہ مانگتا ہوں آپ کی بلند مرتبہ ذات کے طفیل سے میں آپ کی تعریف نہیں کرسکتا جیسے آپ نے اپنی ذات کی خود تعریف فرمائی۔
جب صبح ہوئی تو میں آپ کے سامنے یہ کلمات ذکر کئے آپ نے فرمایا اے عائشہ ؓ کیا تو نے ان کو سیکھ لیا ہے ؟ میں نے عرض کیا ہاں آپ نے فرمایا تو ان کو سیکھو اور ان کو سکھاؤ کیونکہ جبرائیل (علیہ السلام) نے مجھے یہ سکھائے ہیں اور مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں ان کو سجدوں میں پڑھوں۔
39:۔ البیہقی (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ شعبان کی پندرھویں رات رسول اللہ ﷺ میرے پاس موجود تھے جب آدھی رات ہوئی میں نے آپ کی عورتوں کے حجروں میں آپ کو تلاش کیا میں نے آپ کو نہ پایا تو اپنے حجرے کی طرف آگئی تو میں آپ کے اوپر اس طرح آپڑی جیسے گرا ہوا پڑا ہو۔ (یعنی میں) نے اچانک دیکھا کہ آپ سجدے میں گرے ہوئے تھے) اور آپ اپنے سجدوں میں یہ فرما رہے تھے :
سجدلک خیالی و شوادی وامن بک فؤادی فھذہ یدی وما جنیت بھا علی نفسی یا عظیم یرجی لکل عظیم یا عظیم اغفرالدنب العظیم سجد وجھی للذی خلقہ وشق سمعہ وبصرہ :
ترجمہ : سجدہ کیا تیرے لئے میرے خیال نے اور میرے وجود نے اور امن پایا آپ کی مدد سے میرے دل نے پس یہ میرا ہاتھ ہے اور جو میں نے اس کے ذریعہ گناہ کیا اپنی جان پر اے عظمت والی ذات امید کی جاتی ہے آپ نے ہر عظیم کام کے لئے اے عظیم ذات میرے بڑے گناہ کو بخش دے میرے چہرے نے سجدہ کیا اس ذات کے لئے جس نے اس کو پیدا کردیا اور بنا چوہے اس کے کان اور اس کی آنکھ :
پھر آپ نے اپنا سرمبارک اٹھایا پھر دوبارہ سجدہ کیا اور یہ دعا فرمائی :
اعوذ برضاک من سخطک واعوذ بعفوک من عقابک واعوذبک منک انت کما اثنیت علی نفسک :
ترجمہ : میں پناہ مانگتا ہوں آپ کی رضا کے ساتھ آپ کے غصہ سے اور میں پناہ مانگتا ہوں آپ کے درگزر کے ساتھ آپ کی سزا سے اور میں پناہ مانگتا ہوں آپ کی بلند مرتبہ ذات کے طفیل سے (میں آپ کی تعریف نہیں کرسکتا) جیسے آپ نے اپنی تعریف فرمائی۔
میں س طرح کہتا ہوں جیسے میرے بھائی داؤد (علیہ السلام) نے کہا میں اپنے چہرے کو مٹی میں لت پت کرتا ہوں اپنے آقا کے لئے اور وہ اسی بات کا حقدار ہے کہ اسی کو سجدہ کیا جائے پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا :
اللہم ارزقنی قلباتقیا منا لشرنقیا لا جافیا ولا شقیا ‘
ترجمہ : اے اللہ مجھے ڈرنے والا اور شر سے پاک دل عطا فرما جو سخت نہ ہو اور بد بخت نہ ہو۔
پھر آپ دعا سے فارغ ہوئے اور میرے ساتھ چادر میں داخل ہوگئے جبکہ میری سانس پھولی ہوئی تھی آپ نے فرمایا اے حمیرا (یہ عائشہ کا لقب ہے) یہ سانس کیوں پھولی ہوئی ہے میں نے سارا واقعہ سنایا آپ نے اپنے ہاتھ کو میرے گھٹنوں پر پھیرنا شروع کیا اور فرما رہے تھے افسوس ہے ان دونوں گھٹنوں پر جو اس رات کو نہیں ملے یہ نصف شعبان کی رات ہے اس میں اللہ تعالیٰ دنیا کے آسمان پر نزول فرماتے ہیں اپنے بندوں کی مغفرت فرماتے ہیں سوائے مشرک اور کینہ والے کے۔
40:۔ البیہقی (رح) نے عثمان بن ابی العاص ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب نصف شعبان کی رات ہوتی ہے تو (اللہ تعالیٰ ) اس رات میں آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتے ہیں تو ایک آواز دینے والا آواز دیتا ہے کوئی بخشش مانگنے والا کہ میں اس کو بخشش دوں کیا ہے کوئی سوال کرنے والا کہ میں اس کو عطا کروں پس کوئی سوال نہیں کرتا مگر اس کو عطا کردیا جاتا ہے مگر زنا کرنے والی عورت اپنے فرج کے ساتھ (یعنی بدکارہ عورت) یا شرک کرنے والا (کہ ان کی بخشش نہیں ہوتی)
41:۔ البیہقی (رح) نے علی ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو نصف شعبان کی رات کو دیکھا کہ آپ کھڑے ہوئے چودہ رکعت نماز پڑھی پھر فارغ ہونے کے بعد بیٹھ گئے پھر آپ نے ام القرآن (یعنی سورة فاتحہ) کو چودہ مرتبہ پڑھا اور ” (آیت ) ” قل ھواللہ احد “ کو چودہ مرتبہ اور (آیت ) ” قل اعوذ برب الفلق “ چودہ مرتبہ اور (آیت ) ” قل اعوذ برب الناس “ چودہ مرتبہ اور آیۃ الکرسی ایک مرتبہ پڑھی (پھر) (آیت ) ” لقد جآء کم رسول من انفسکم “ (التوبہ آیت 128) (پوری آیت پڑھی جب اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے اس عمل کے بارے میں پوچھا جو میں نے آپ کے عمل کو دیکھا تھا پھر فرمایا جس شخص نے ایسا عمل کیا جیسے تو نے مجھے دیکھا تو اس کے لئے بیس حج کا ثواب ہوگا اور بیس سالوں کے مقبول روزوں کا جب وہ اس دن میں روزہ رکھتے ہوئے صبح کو کرتا ہے تو اس کے لئے دو سالوں کے روزوں کی طرح ہے ایک گزشتہ سال اور ایک آنے والا سال۔
Ayahs 44:6–91:۔ عبد بن حمید (رح) نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو اس طرح پڑھا (آیت ) ” انہ ھو السمیع العلیم (6) رب السموت والارض “ یا کہ زیر کے سایہ۔
Ayahs 44:10–15بطشۃ الکبری کا تذکرۃ :
1:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فارتقب “ سے مراد ہے انتظار کر۔
2:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابی عبیدہ (رح) کے طریق سے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ دخان والی نشانی گزر چکی ہے۔
3:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابی عبیدہ (رح) وابی الاحوص کے طریق سے عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ دھواں وہ بھوک تھی جو قریش کو پہنچی یہاں تک کہ ہر ایک ان میں بھوک کی وجہ سے آسمان کو نہ دیکھ سکتا تھا۔
4:۔ ابن مردویہ (رح) نے عتبہ بن عبیداللہ بن عتبہ بن مسعود ؓ کے طریق سے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ دھواں والی نشانی گزر چکی ہے کہ لوگوں کو سخت بھوک پہنچی تھی یہاں تک کہ وہ اپنے آسمان کے درمیان دھویں کو دیکھتے تھے ،
5:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابی وائل کے طریق سے عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فارتقب یوم تاتی السمآء بدخان مبین “ (سو آپ انتظار کیجئے اس دن کا جب آسمان کی طرف نظر آنے والا دھواں پیدا ہوگا) سے مراد ہے کہ بھوک (یعنی قحط) جو مکہ میں لوگوں کو پہنچا تھا۔
6:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ دخان اور بطشۃ الکبری والی نشانیاں بدر کے دن گزر چکی ہیں۔
7:۔ عبد بن حمید (رح) نے محمد بن سیرین سے روایت کیا کہ ابن مسعود ؓ سے فرمایا جو ہم سے اللہ اور اس کے رسو نے وعدہ فرمایا سوائے چار چیزوں کے اور ہم نے دیکھ لیا۔ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا دجال اور دابۃ الارض اور یاجوج ماجوج لیکن دھوان وہ گزر چکا۔ اور قحط سالی تھی جیسے یوسف (علیہ السلام) کے زمانے کی قحط سالی تھی لیکن چاند وہ رسول ﷺ کے زمانہ میں شق ہوچکا ہے اور بطشی کبری وہ بدر کے دن ہوا۔
8:۔ سعید بن منصور واحمد وعبد بن حمید والبخاری وابو نعیم والبیہقی معافی الدلائل مسروق (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی عبد اللہ کے پاس آیا اور کہا میں نے مسجد میں ایک آدمی کو چھوڑا ہے وہ اس آیت (آیت ) ” یوم تاتی السمآء بدخان مبین (10) یغشی الناس “ کے بارے میں کہتا ہے کہ قیامت کے دن ہوگا منافقین کے کانوں اور آنکھوں کو پکڑے گا اور مومن کو اس میں سے صرف تو کام کی طرح پکڑے گا۔ (یہ سن کر) عبداللہ غصہ ہوگئے۔ اور ٹیک لگائے ہوئے تھے (پھر) سیدھے بیٹھ گئے پھر فرمایا جو کوئی تم میں سے جانتا ہو اس کو چاہئے کہ اس کے مطابق بات کرے اور جو نہ جانتا ہو اس کو چاہئے کہ (یوں کہے) کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کیونکہ علم میں سے یہ ہے کہ جو نہ جانتا ہو وہ کہے کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور میں دھویں کے بارے میں تم کو بتاتا ہوں کہ قریش نے جب رسول اللہ ﷺ پر سختی کی اور اسلام قبول کرنے سے انکار کیا تو آپ نے یوں دعا فرمائی (اے اللہ) میری مدد فرما ان پر سات سال قحط کے ساتھ جیسے یوسف (علیہ السلام) (کی قوم پر سات سال) قحط رہا تو ان کو قحط پہنچ گیا اور مشقت میں پڑنے لگے یہاں تک کہ تم ہڈیا کھانے لگے ایک آدمی نے آسمان کی طرف دیکھا تو بھوک کی وجہ سے ان کے اور آسمان کے درمیان دھواں دکھائی دینے لگا اللہ تعالیٰ نہ یہ آیت نازل فرمائی (آیت ) ” فارتقب یوم تاتی السمآء بدخان مبین (10) یغشی الناس، ھذا عذاب الیم “ (سو آپ انتظار کیجئے اس دن جب آسمان کی طرف نظر آنے والا دھواں پیدا ہوگا سب لوگوں پر چھاجائے گا یہ درد ناک عذاب ہوگا۔ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور کہا یا رسول اللہ ﷺ مضر قبیلہ کے لئے آپ اللہ تعالیٰ سے بارش طلب کریں رسول اللہ ﷺ نے ان کے لئے بارش کی دعا فرمائی تو ان پر بارش ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت ) ” انا کاشفوا العذاب قلیلا انکم عآئدون “ (ہم چندے اس عذاب کو ہٹا دیں گے مگر تم پھر اس حالت پر لوٹ آؤ گے) کیا قیامت کے دن ان سے عذاب کو ہٹا دیا جائے گا جب ان کو خوشحالی پہنچی تو وہ اپنے حال پر لوٹ گئے پھر اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت ) ” اتاری ” یوم نبطش البطشۃ الکبری، انا منتقمون “ (جس دن ہم بڑی سخت پکڑ پکڑیں گے ہم پورا بدلہ لیں گے) تو اللہ تعالیٰ نے ان سے بدر کے دن انتقام لے لیا بطشہ اور دھواں اور روم والی نشانیاں گزر چکیں۔ ؛
9:۔ البیہقی (رح) نے الدلائل میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو (اللہ کے دین سے) پیٹھ پھیرتے ہوئے دیکھا تو (بددعا کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ ! ان کو سات سالہ قحط سے پکڑے جیسے یوسف (علیہ السلام) کی قوم پر سات سال قحط آیا تھا قحط سالی نے ان کو پکڑ لیا یہاں تک کہ انہوں نے مردار چمڑے اور ہڈیاں کھائیں۔ ابوسفیان اور مکہ والوں میں سے کچھ لوگ آپ کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے اے محمد ﷺ آپ یہ گمان کرتے ہیں کہ آپ رحمت بناکر بھیجے گئے ہیں جبکہ آپ کی ہلاک ہوچکی ہے ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے دعا فرمائی۔ تو ان کو بارش سے سیراب کیا گیا ان پر سات سال تک کثرت سے بارشیں ہوتی رہیں تو لوگوں نے زیادہ بارش ہونے کی شکایت کی تو آپ نے یوں دعا فرمائی ” اللہم حوالینا ولا علینا “ (اے اللہ ہمارے اردگرد بارش کردے اور ہمارے اوپر نہ کر) تو بادل آپ کے سر سے چھٹ گیا اور اردگرد کے لوگوں پر بارش ہوتی رہی پھر فرمایا دھویں کی نشانی گزر چکی اور وہ بھوک تھی جو ان کو پہنچی اور اسی کو فرمایا (آیت ) ” انا کاشفوا العذاب قلیلا انکم عآئدون “ (ہم چندے اس عذاب کو ہٹا دیں گے مگر تم پھر (اپنی اس حالت پر لوٹ آؤ گے) اور روم بطشہ الکبری اور چاند کا پھٹنا بھی گزر چکا اور ان سب سے مرادغزوہ بد رہے۔
10:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ کہ (آیت ) ” یوم تاتی السمآء بدخان مبین “ سے مراد ہے خشک سالی اور بارش کا رک جانا کفار قریش سے۔
11:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یغشی الناس، ھذا عذاب الیم “ (سب لوگوں پر جما جائے گا یہ درد ناک عذاب ہوگا) ” الیم “ سے مراد ہے دردناک (آیت ) ” ربنا اکشف عنا العذاب انا مؤمنون “ (اے ہمارے رب اگر ہم سے عذاب کو ہٹا دے تو ہم ایمان لے آئیں گے) یعنی دھویں کو ہٹا دے (آیت ) ” انکم عآئدون “ (تم پھر اپنی حالت پر لوٹ آؤ گے) یعنی اللہ کے عذاب کی طرف قیامت کے دن۔
12:۔ عبدبن حمید (رح) وابن جریر (رح) ابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انی لھم الذکری “ (انکو اس سے کہاں نصیحت ہوتی ہے) یعنی ان پر مصیبت نازل ہونے کے بعد (آیت ) ” ثم تولوا عنہ “ (پھر بھی یہ لوگ اس سے سرتابی کرتے رہے) یعنی محمد ﷺ سے (آیت ) ” وقالوا معلم مجنون “ (اور کہتے رہے کہ یہ کسی کا سیکھا ہوا دیوانہ ہے) پھر ان سے عذاب کو ہٹادیا گیا۔
13:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن الھیعۃ کے طریق سے عبدالرحمن اعرج (رح) سے (آیت ) ” یوم تاتی السمآء بدخان مبین “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد فتح مکہ کا دن ہے۔
14:۔ ابن سعد نے ابن مھیعہ کے طریق سے الاعرج سے روایت کیا کہ انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ فتح مکہ کے دن دھواں تھا اور اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” فارتقب یوم تاتی السمآء بدخان مبین “ سے یہی مراد ہے۔
15:۔ عبدالرزاق (رح) وعبدبن حمید (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے علی ؓ سے روایت کیا کہ دخان والی نشانی ابھی نہیں گزری وہ مومن کو زکام کی طرح پکڑے گی اور کافر کو پھونکے گی یہاں تک کہ وہ ہلاک ہوجائے۔
16:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) اور الحاکم (رح) نے صحیح سند کے ساتھ ابن ابی ملیکہ (رح) سے روایت کیا کہ میں ابن عباس ؓ کے پاس آیا تو انہوں نے کہا رات نہیں سوا میں نے کہا کیوں ؟ فرمایا دم دارستارہ طلوع ہوا میں ڈرا کہ وہ دھواں چھوڑے گا۔
17:۔ ابن جریر (رح) ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ دھواں نکلے گا اور مومن کو زکام کی طرح پکڑے گا اور منافق کے بدن کے کانوں میں داخل ہوجائے گا یہاں تک کہ وہ بھنے ہوئے سر کی طرح ہوگا۔ ؛
18:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب دھواں آئے گا تو کافر کا پھونکے گا یہاں تک کہ وہ اس کے کانوں میں سے ہر کان سے نکلے گا۔
19:۔ عبد بن حمید (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ دھواں باقی ہے اور وہ پہلی نشانیوں میں سے ہے۔
20:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے الحسن کے طریق سے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ لوگوں میں دھواں جوش مارے گا لیکن مومن کو زکام کی طرح پکڑے گا لیکن کافر کو پھونک دیگا یہاں تک کہ اس کے ہر کان سے نکلے گا۔
21:۔ ابن جریر (رح) نے حذیفہ بن یمان ؓ سے مرفوعا روایت کیا کہ پہلی نشانیاں (یہ ہوں گی) دجال (کا ظاہر ہونا) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کا آسمان سے اترنا اور آگ جو عدن کی تہہ میں سے نکلے گی کی جو لوگوں کو محشر کی طرف ہانکے گی اور ان کے ساتھ قیلولہ کرے گی جب وہ قیلولہ کریں گے اور دھواں ہوگا حذیفہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ دھواں کیا ہے ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (آیت ) ” فارتقب یوم تاتی السمآء بدخان مبین “ وہ مشرق اور مغرب کے درمیان بھردے گی وہ چالیس دن اور رات ٹھہرے گی مؤمن کو زکام کی طرح تکلیف پہنچے گی اور کافر کو بمنزلہ نشہ کے ہوگی (وہ دھواں اس کے ناک کے سوراخوں سے اس کے کانوں سے اور اس کے پیچھے کے راستہ سے نکلے گا ) ۔
22:۔ ابن جریر (رح) والفرایابی نے جید سند کے ساتھ ابومالک اشعری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہارے رب نے تم کو تین چیزوں سے ڈرایا ہے ایک دھویں سے وہ مومن کو زکام کی طرح پکڑے گا اور کافر کو پکڑے گا اور اسے پھونکے گا یہاں تک کہ اس کے بد ن کے ہر سوارخ سے نکلے گا اور دوسری نشانی دابۃ الارض اور تیسری نشانی دجال ہے۔
23:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگوں میں دھواں جوش مارے گا مومن کو زکام کی طرح پکڑے گا اور کافر کے اندر اس کو پھونک دے گا یہاں تک کہ اس کے ہر سوراخ سے نکلے گا۔
Ayah 44:1624:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن المردویہ (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یوم نبطش البطشۃ الکبری، انا منتقمون “ (جس روز ہم بڑی سخت پکڑ پکڑیں گے ہم پورا بدلہ لیں گے) یہ بدر کے دن ہوچکا۔
25:۔ ابن جریر (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے اسی طرح روایت کیا۔
26:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے ابی بن کعب حسن ابوالعالیہ سعید بن جبیر اور محمد بن سیرین اور قتادہ اور عطیہ رحمۃ اللہ علیہم سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
27:۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یوم نبطش البطشۃ الکبری “ سے مراد قیامت کا دن ہے۔
28:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم (آیت ) ” یوم نبطش البطشۃ الکبری، انا منتقمون “ کے بارے میں کہتے تھے کہ اس سے مراد بدر کا دن ہے اور دھواں کی نشانی گزر چکی۔
29:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے صحیح سند کے ساتھ عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ اور ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ (آیت ) ” البطشۃ الکبری “ بدر کا دن تھا اور میں کہتا ہوں کہ اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔
Ayahs 44:17–281:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے فرمایا کہ (آیت ) ” ولقد فتنا “ سے مراد ہے کہ ہم نے ان کو آزمایا۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد فتنا “ یعنی ہم نے اس کو آزمائش میں مبتلا کردیا (آیت ) ” قبلھم قوم فرعون وجاء ھم رسول کریم “ (ان سے پہلے فرعون کی قوم کو اور ان کے پاس ایک معزز پیغمبر آیا تھا فرمایا کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) تھے (آیت) ” ان ادوا الی عباد اللہ “ (اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کردو) یعنی بنی اسرائیل کو بھیج دو ۔ (آیت ) ” وان لا تعلوا علی اللہ “ اور تم خدا سے سرکشی مت کرو) یعنی اللہ تعالیٰ پر بڑائی کا اظہار نہ کرو (آیت ) ” انی اتیکم بسلطن مبین “ (میں تمہارے سامنے رب کی پناہ لیتا ہوں اس امر سے کہ تم مجھے قتل کرسکو) یعنی پتھروں کے ساتھ (تم مجھ کو قتل کردو) (آیت) ” وان لم تؤمنوا الی فاعتزلون “ (اور اگر تم ایمان نہیں لاتے مجھ سے تعلق نہ رکھو) یعنی میرا راستہ چھوڑ دو ۔
3:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان ادوا الی عباد اللہ “ یعنی تم میری اتباع کرو اس دین کی جس کی طرف میں تم کو حق کی طرف بلاتا ہوں (آیت ) ” وان لاتعلوا “ (اور تم خدا سے سرکشی مت کرو یعنی تم عمل میں سستی نہ کرو (آیت ) ” ان ترحمون “ یعنی تم مجھے برا بھلا کہو۔
4:۔ ابن جریر وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن عبد الحکیم (رح) نے فتوح مصر میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ رھوا “ سے مراد ہے راستہ۔
5:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واترک البحر رھوا “ (اور دریا کو سکون کی حالت میں چھوڑ دو ) یعنی اس کو اسی حالت پر چھوڑ دو اور اس سے گز جاؤ۔
6:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے کعب ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” واترک البحر رھوا “ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا رھوا سے مراد ہے راستہ۔
7:۔ ابن الانباری نے کتاب الاضداد میں حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واترک البحر رھوا “ سے مراد ہے کہ خشک راستہ۔
8:۔ ابن الانباری نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واترک البحر رھوا “ سے مراد ہے ساکن۔
9:۔ ابن جریر (رح) نے ربیع (رح) سے روایت کیا (آیت ) ” واترک البحر رھوا “ سے مراد ہے آسان۔
10:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واترک البحر رھوا “ سے مراد ہے کہ اس کو چھوڑ دو جیسے وہ تھا بلاشبہ وہ لوگ اس کے پیچھے ہرگز نجات نہیں پائیں گے۔
11:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واترک البحر رھوا “ سے مراد ہے نرم اور ریتلی زمین۔
12:۔ ابن جریر (رح) نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واترک البحر رھوا “ سے مراد ہے سخت زمین یا باریک ریت والی زمین۔
13:۔ عبدالرزاق والفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن جریر وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واترک البحر رھوا “ سے مراد ہے کہ سمندر خشک والے کی صورت میں چھوڑ دو اس حالت پر جس دن اس کو موسیٰ (علیہ السلام) نے لاٹھی ماری تھی پھر فرماتے ہوئے اس کو حکم نہ دو کہ وہ اصل حالت میں لوٹ آئیں۔ بلکہ اس کو چھوڑ دو یہاں تک کہ ان کا آخری آدمی بھی داخل ہوجائے۔
14:۔ ابن عبدالحکیم (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” رھوا “ سے مراد ہے نرم اور ریتلی زمین۔
15:۔ محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” رھوا “ سے مراد ہے کھلا راستہ۔
16:۔ عبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” رھوا “ سے مراد ہے کشادہ راستہ۔
17:۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے سمندر کو پار کرلیا تو لوٹے تاکہ دریا کو (دوبارہ) لاٹھی سے ماریں تاکہ وہ مل جائے۔ (یعنی اس کے راستے ختم ہوجائیں) اور وہ اس بات سے ڈر رہے تھے کہ فرعون اور اس کے لشکر پیچھے نہ آجائے تو ان سے کہا گیا (آیت ) ” واترک البحر رھوا “ کہ سمندر کو خشک راستے میں رہنے دو جس طرح وہ ہے (آیت ) ” انھم جند مغرقون “ (کیونکہ وہ سارا لشکر غرق ہونے والا ہے)
18:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ومقام کریم “ سے مراد ہے منبر۔
19:۔ ابن مردویہ (رح) نے جابر ؓ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
20:۔ عبدبن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ومقام کریم “ سے مراد ہے عمدہ مقام (آیت ) ” ونعمۃ کانوا فیھا فکھین “ (اور) آرام کے سامان جن میں وہ مزے اڑاتے تھے) یعنی وہ لطف اندوز ہوتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے باغوں سے ان کے چشموں سے اور ان کی کھیتی سے نکالا یہاں تک کہ ان کو سمندر میں چھپا دیا اسی طرح (آیت ) ” واورثنھا قوما اخرین “ (اور دوسری قوم کو ہم نے ان کا وارث بنادیا) یعنی بنی اسرائیل کو (واللہ اعلم ) ۔
Ayahs 44:29–31فرعونیوں کی بےکسی میں ہلاکت :
1:۔ الترمذی وابن ابی الدنیا فی ذکر الموت وابویعلی ابن ابی حاتم وابن مردویہ (رح) وابو نعیم فی الحلیہ والخطیب نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر بندے کے لئے آسمان دو دروازے ہیں ایک دروازہ وہ ہے جس سے اس کا عمل اوپر جاتا ہے اور دوسرا دروازہ جس سے اس کا رزق اترتا ہے جب وہ مرجاتا ہے تو دونوں دروازے اسے نہیں پاتے اور اس پر روتے ہیں اور یہ آیت تلاوت فرمائی (آیت ) ” فما بکت علیہم السمآء والارض “ (کہ ان پر آسمان و زمین نہیں روئی) اور (یہ بات بھی) بتائی گئی کہ وہ لوگ زمین پر نیک عمل نہیں کرتے تھے جو ان پر روتا آسمان کی طرف کوئی پاکیزہ کلمہ اوپر نہیں چڑھتا تھا جو ان کے منہ سے نکلا ہو، نہ پاکیزہ کلام اور نہ پاکیزہ عمل ہوتا ان کو گم پاتا تو ان پر روتے۔
2:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) وابن المنذر والبیہقی (رح) نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” فما بکت علیہم السمآء والارض “ کے بارے میں پوچھا کیا آسمان و زمین کس کی موت پر روتے ہیں ؟ فرمایا ہاں مخلوق میں سے کوئی ایسا نہیں ہے مگر اس کے لئے آسمان میں ایک دروازہ ہے جس میں سے پہلے اس کا رزق نازل ہوتا ہے اور اس کا عمل اوپر چڑھتا ہے جب مومن مرجاتا ہے تو آسمان میں اس کا دروازہ بند کردیا جاتا ہے دروازہ اسے نہیں پاتا تو اس پر روتا ہے اور جب اس کی نماز کی جگہ اس کو نہیں پاتی جس پر وہ نماز پڑھتا تھا اور اس میں اللہ کا ذکر کرتا تھا تو وہ جگہ اس پر روتی ہے۔ اور فرعون کی قوم کے زمین میں نیک آثار نہیں تھے اور نہ ان میں سے آسمان کی طرف کوئی خیر چڑھتی تھی اس لئے ان پر آسمان اور زمین نہیں روئی۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن مردویہ (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فما بکت علیہم السمآء والارض “ یعنی وہ لوگ اللہ کے ہاں وہ بہت ہلکے تھے کہا اور ہم یہ بیان کرتے تھے کہ مؤمن پر وہ جگہ روتی ہے کہ جہاں مؤمن نماز پڑھتا تھا اور جہاں سے اس کا عمل آسمان کی طرف بلند ہوتا تھا (وہ جگہ اس پر روتی ہے ) ۔
4:۔ عبد بن حمید (رح) وابوالشیخ (رح) نے العظمہ میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فما بکت علیہم السمآء والارض “ سے مراد ہے کہ مؤمن نہیں مرتا مگر اس پر آسمان و زمین چیخیں مار کر روتے ہیں اس سے کہا گیا آپ اس پر روتے ہیں جس پر تعجب ہوتا ہے اور زمین کیوں نہ روئے کسی بندے پر جو اس کو رکوع اور سجود سے آباد کرتا تھا اور آسمان کیوں نہ روئے کسی بندے پر کہ اس کی تسبیح اور اس کی تکبیر سے یوں آواز آتی ہے جیسے شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی ہوتی ہے۔
5:۔ عبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ جب عالم مرتا ہے تو آسمان و زمین اس پر چالیس دن تک روتے ہیں۔
6:۔ عبد بن حمید (رح) نے معاویہ بن قرۃ (رح) سے روایت کیا کہ زمین کا وہ ٹکڑا جس پر مؤمن نماز پڑھتا تھا اس پر روتا ہے جب وہ مؤمن مرجاتا ہے اس کے بالمقابل آسمان بھی روتا ہے پھر یہ (آیت) پڑھی ” فما بکت علیہم السمآء والارض “
7:۔ عبد بن حمید (رح) وھب (رح) سے روایت کیا کہ زمین البتہ غمگین رہتی ہے نیک بندے پر چالیس دن تک۔
8:۔ عبد بن حمید (رح) نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فما بکت علیہم السمآء والارض “ کے بارے میں روایت کیا کہ آسمان ان پر نہ رویا کیونکہ ان کا نیک عمل بلند نہ ہوتا تھا۔ اور ان پر زمین نہ روئی وہ زمین میں نیک عمل کرنے والے نہیں تھے۔
9:۔ ابن جریر (رح) وابو الشیخ (رح) نے العظمہ میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ کہا جاتا تھا کہ زمین مؤمن پر چالیس دن روتی ہے۔
10:۔ ابوالشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کہا جاتا تھا کہ زمین مؤمن پر چالیس دن روتی ہے۔
11:۔ ابن المبارک وابوالشیخ (رح) نے ثور بن یزید سے اور انہوں نے مولی ھذیل (رح) سے روایت کیا کہ جو بندہ اپنی پیشانی کو زمین کے کسی ٹکڑے میں اللہ کے لئے سجدہ کرتے ہوئے رکھتا ہے تو زمین اس کے لئے قیامت کے دن گواہی دے گی اور اس پر روتی ہے جس دن وہ مرتا ہے۔
مؤمن بےکس نہیں ہوتا :
12:۔ ابن ابی الدنیا وابن جریر (رح) نے شریح بن عبید حضرمی (رح) سے مرسلاروایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اسلام اجنبیت میں شروع ہوا اور عنقریب اجنبی ہوجائے گا خبردار اجنبیت مؤمن کے لئے نہیں ہے۔ جو آدمی مسافرت میں مرگیا جس جگہ اس پر رونے والے نہیں تو اس پر آسمان اور زمین روتے ہیں پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ (آیت) پڑھی ” فما بکت علیہم السمآء والارض “ پر فرمایا کہ وہ دونوں کافر پر نہیں روتے۔
13:۔ ابن ابی حاتم نے عبادبن عبداللہ (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے علی ؓ سے پوچھا کہ کیا آسمان اور زمین کس پر روتے ہیں ؟ فرمایا کوئی بندہ ایسا نہیں جس کیلئے زمین میں نماز پڑھنے کی جگہ نہ ہو اور اس کے عمل کے بلند ہونے کی جگہ نہ ہو آسمان میں اور فرعون والوں کے نیک عمل کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ زمین میں اور نہ ہی کوئی بلند ہونے کی جگہ ہے آسمان میں۔
14:۔ ابن المبارک وعبد بن حمید (رح) وابن ابی الدنیا وابن المنذر (رح) نے المسیب بن رافع کے طریق سے علی ؓ سے روایت کیا کہ مؤمن جب مرتا ہے تو زمین میں اس کی نماز پڑھنے کی جگہ روتی ہے اور آسمان میں اس کے عمل کے اوپر چڑھنے کی جگہ بھی روتی ہے پھر یہ (آیت) تلاوت فرمائی ” فما بکت علیہم السمآء والارض “
15:۔ ابن ابی شیبہ (رح) والبیہقی (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہا کہ جو آدمی بھی فوت ہوتا ہے تو اس پر زمین چالیس دنوں تک روتی ہے۔
16:۔ ابن المبارک وعبد بن حمید (رح) وابن ابی الدنیا والحاکم (وصححہ) والبیہقی (رح) نے شعب میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ زمین مؤمن بندے پر چالیس دنوں تک روتی ہے پھر یہ آیت پڑھی (آیت ) ” فما بکت علیہم السمآء والارض “
17:۔ ابن المبارک وابن ابی الدنیا نے عطا خراسانی (رح) سے روایت کیا کہ کوئی بندہ اللہ کے لئے سجدہ نہیں کرتازمین کے ٹکڑوں میں کسی ٹکڑے پر تو وہ ٹکڑا اس کے لئے قیامت کے دن گواہی دیگا اور وہ روتا ہے جس دن فوت ہوتا ہے۔
18:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عبید المکتب سے اور انہوں نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ آسمان نہیں رویا جب سے دنیا بنی مگر دو آدمیوں پر عبید سے پوچھا گیا کیا آسمان و زمین مؤمن پر روتے ہیں فرمایا وہ جگہ روتی ہے جہاں وہ رہتا تھا اور آسمان میں وہ جگہ جہاں سے اس کا عمل اوپر چڑھتا تھا پوچھا کیا تو جانتا ہے آسمان کا رونا کیا ہے ؟ کہا نہیں فرمایا وہ سرخ ہوجاتا ہے اور اس کا رنگ رنگے ہوئے جبڑے کی طرح سرخ ہوجاتا ہے یحی بن زکریا (علیہ السلام) کو جب قتل کیا گیا تو آسمان سرخ ہوگیا اور اس نے خون برسایا اور جب حسین بن علی ؓ کو جب شہید کیا گیا تو آسمان سرخ ہوگیا۔
19:۔ ابن ابی حاتم نے زید بن زیادہ (رح) سے روایت کیا کہ جب حسین ؓ کو شہید کیا گیا تو آسمان کے کنارے چار ماہ تک سرخ رہے۔
20:۔ ابن جریر وابن المنذر (رح) نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ آسمان کا رونا اس کے کناروں کا سرخ ہونا۔
21:۔ ابن ابی الدنیا (رح) نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ آسمان کا رونا سرخ ہوتا ہے۔
22:۔ ابن ابی الدنیا (رح) نے سفیان ثوری (رح) سے روایت کیا کہ کہا جاتا تھا یہ سرخی جو آسمان میں ہوتی ہے وہ آسامن کا رونا ہے مؤمن بندے پر۔
Ayahs 44:32–361:۔ الفریابی وابن جریر وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولقد اخترنہم علی علم علی العلمین “ (اور ہم نے اسرائیل اپنے علم کی رو سے تمام جہاں والو پر فوقیت دی) یعنی ہم نے ان کو فضیلت دی دوسرے لوگوں پر۔
2:۔ عبدبن حمید (رح) اور ابن جریر (رح) اور ابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے ان کو اس بھلائی سے چن لیا جو اللہ تعالیٰ نے ان کو تعلیم دی جہاں والوں پر (یعنی سارے جہاں والوں کو چھوڑ کر ان کو علم دیا) فرمایا علم جو ان میں تھے اور ہر زمانے کا عالم ہے (آیت ) ” واتینہم من الایت مافیہ بلٓؤا مبین “ یعنی (اور ہم نے ان کو نشانیاں دی جن میں صریح آزمائش تھی یعنی ان کو نجات دی ان کے دشمن سے اور ان کے لئے سمندر کو پھاڑ دیا (اور راستے بنادیئے) اور ان پر بادلوں کا سایہ کر کیا اور ترنجین اور بیڑے (من وسلوی) ان پر نازل کئے (آیت ) ” ان ھؤلآء لیقولون (34) انھی الا موتتنا الاولی “ (یہ لوگ بلاشبہ کہتے ہیں کہ ہماری موت تو بس یہ پہلی موت ہے) یہ عرب کے مشرکین نے کہا تھا (آیت ) ” وما نحن بنمشرین “ (ہم کو زندہ کرکے نہیں اٹھایا جائے گا) یعنی ہم نہیں اٹھیں گے۔