44. Surah Ad-Dukhaan

الدخانThe Smoke · 59 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 44:1
حٰمٓ۔
Ayah 44:2

وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ Open ayah 44:2 in the Quran reader

اس کتاب روشن کی قسم

والکتب المبین قسم ہے کھول کر بیان کرنے والی کتاب (یعنی قرآن) کی۔ الْمُبِیْنَ حرام و حلال کو ظاہر کرنے والی کتاب۔
Ayah 44:3

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِیْنَ Open ayah 44:3 in the Quran reader

کہ ہم نے اس کو مبارک رات میں نازل فرمایا ہم تو رستہ دکھانے والے ہیں

انا انزلنہ فی لیلۃ مبرکۃ ہم نے ہی برکت والی رات میں اس کو نازل کیا۔ برکت (خیر کثیر) رات میں اس وجہ سے پیدا ہوئی کہ اسی رات میں وہ قرآن نازل ہوا جو تمام دینی اور دنیوی منافع کا ضامن ہے ‘ اسی رات میں ملائکہ رحمت کا نزول ہوتا ہے اور دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ مبارک رات سے مراد ہے شب قدر۔ قتادہ اور ابن زید کا یہی قول ہے۔ دونوں بزرگوں کا بیان ہے کہ شب قدر میں قرآن مجید لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل ہوا ‘ پھر بیس سال میں حضرت جبرئیل کی وساطت سے تھوڑا تھوڑا رسول اللہ ﷺ پر اتارا گیا۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ نصف شعبان کی رات مراد ہے ‘ مگر یہ خیال غلط ہے۔ اللہ نے خود فرمایا ہے : شَھْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ ۔ اور دوسری آیت میں آیا ہے : اِنَّا اَنْزَلْنٰہ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ (اس سے معلوم ہوا کہ شب قدر رمضان میں ہے) ۔ قاسم بن محمد نے بوساطت اب عن جد بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نصف شعبان کی رات کو اللہ آسمان دنیا پر نزول اجلال فرماتا ہے اور ہر شخص کو بخش دیتا ہے ‘ سوائے اس شخص کے جس کے دل میں کینہ ہو یا وہ مشرک ہو ‘ رواہ البغوی۔ اس حدیث سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ قرآن کا نزول نصف شعبان کی رات میں ہوا۔ انا کنا منذرین بیشک (قرآن میں) ہم (عذاب سے) ڈرانے والے ہیں۔
Ayah 44:4

فِیْهَا یُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِیْمٍۙ Open ayah 44:4 in the Quran reader

اسی رات میں تمام حکمت کے کام فیصل کئے جاتے ہیں

فیھا یفرق کل امر حکیم اس رات میں ہر پر حکمت یا محکم معاملے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ آیت بتارہی ہے کہ قرآن شب قدر کی برکات میں بہت بڑی برکت ہے اور شب قدر میں پر حکمت محکم امور کا فیصلہ ہوتا ہے ‘ اسلئے قرآن کا نزول بھی اسی رات میں ہوا۔ حضڑت ابن عباس کا بیان ہے کہ شب قدر میں آئندہ سال میں ہونے والے تمام واقعات لوح محفوظ سے نقل کر لئے جاتے ہیں۔ خیر و شر ‘ رزق اور میعاد زندگی یعنی موت ‘ یہاں تک کہ یہ بھی لکھ لیا جاتا ہے کہ فلاں شخص اس سال حج کرے گا۔ حسن ‘ مجاہد اور قتادہ نے کہا : ماہ رمضان کے اندر شب قدر میں ہر (ایک کی) موت ‘ عمل پیدائش ‘ رزق اور آئندہ سال کے اندر ہونے والے واقعات کا قطعی فیصلہ کردیا جاتا ہے۔ عکرمہ نے کہا : نصف شعبان کی رات میں سال بھر کے سارے امور کا فیصلہ قطعی کردیا جاتا ہے۔ زندوں کو مردوں سے الگ لکھ دیا جاتا ہے ‘ پھر زندوں مردوں میں کمی بیشی نہیں کی جاتی۔ بغوی نے لکھا ہے کہ محمد بن میسرہ اخفش نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : شعبان تک کی ساری موتوں کا قطعی فیصلہ کردیا جاتا ہے ‘ یہاں تک کہ بعض لوگ نکاح کرتے ہیں ‘ انکے بچے بھی پیدا ہوتے ہیں ‘ حالانکہ ان کے نام (زندوں کی فہرست) سے نکل چکے ہوتے ہیں (یعنی سال کے ختم ہونے تک وہ مرجاتے ہیں) ۔ ابو الضحیٰ نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ نصف شعبان کی رات میں اللہ سب فیصلے کردیتا ہے اور شب قدر میں وہ فیصلے ان کے کارندوں کے سپرد کردیتا ہے۔
Ayah 44:5

اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَۚ Open ayah 44:5 in the Quran reader

(یعنی) ہمارے ہاں سے حکم ہو کر۔ بےشک ہم ہی (پیغمبر کو) بھیجتے ہیں

امرا من عندنا حکم ہو کر ہمارے پاس سے۔ اس امر سے مراد ہے وہ امر جو ہماری حکمت کے مطابق ہماری طرف سے پیدا ہوتا ہے ‘ یا امر سے مراد ہے حکم۔ اس صورت میں یُفْرَقُ کا یا فعل محذوف کا مفعول مطلق ہوگا۔ انا کنا مرسلین ہم ہی (پیغمبروں کو) بھیجنے والے ہیں۔ یعنی ہمارا ضابطہ ہی یہ ہے کہ ہم بندوں کو عذاب سے ڈراتے ہیں اور پیغمبروں کو کتابیں دے کر بھیجتے ہیں ‘ اسی لئے ہم نے قرآن نازل کیا۔
Ayah 44:6

رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُۙ Open ayah 44:6 in the Quran reader

(یہ) تمہارے پروردگار کی رحمت ہے۔ وہ تو سننے والا جاننے والا ہے

رحمۃ من ربک آپ کے رب کی رحمت کے سبب سے۔ اس جگہ لفظ رب بتارہا ہے کہ پیغمبروں کو بھیجنا اللہ کی ربوبیت کا تقاضا ہے (بندوں کا اللہ پر حق لازم نہیں ہے) ۔ حضرت ابن عباس نے تشریحی مطلب اس طرح بیان کیا : ہم پیغمبروں کو بھیجنے والے ہیں ‘ اپنی مخلوق پر مہربانی کے زیر اثر اور کافروں پر عذاب نازل کرنے کیلئے۔ انہ ھو السمیع العلیم بلاشبہ وہی سننے والا (اور) جاننے والا ہے۔ یعنی بندوں کے اقوال کو سنتا اور ان کے احوال کو جانتا ہے۔ یہ جملہ ربوبیت کو ثابت کر رہا ہے۔ رب ہونے کا استحقاق اسی کو ہے جس کے اندر یہ اوصاف ہوں۔
Ayah 44:7

رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ۘ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ Open ayah 44:7 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب کا مالک۔ بشرطیکہ تم لوگ یقین کرنے والے ہو

رب السموات والارض وما بینھما جو آسمانوں اور زمین کا اور دونوں کی درمیانی کائنات کا رب ہے۔ رَبِّ السَّمٰوٰتِ الخ۔ رَبِّکَ سے بدل ہے۔ ان کنتم موقنین اگر تم یقین کرنے والے ہو۔ جزاء محذوف ہے ‘ یعنی اگر تم اہل یقین ہو تو یقین کرو۔ یا یہ مطلب ہے کہ جب تم اللہ کو زمین و آسمان کا خالق کہتے ہو تو دل سے اس کو مانو اور یقین کرو کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔
Ayah 44:8

لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 44:8 in the Quran reader

اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ (وہی) جِلاتا ہے اور (وہی) مارتا ہے۔ وہی تمہارا اور تمہارے باپ دادا کا پروردگار ہے

لا الہ الا ھو یحییٰ ویمیت ربکم ورب ابائکم الاولین اس کے سوا کوئی معبود ہونے کا مستحق نہیں ہے (کیونکہ اسکے سوا کوئی خالق نہیں) وہی زندگی دیتا ہے اور وہی زندگی لیتا ہے۔ وہی تمہارا اور تمہارے باپ دادا کا رب ہے (جیسا کہ تم مشاہدہ کر رہے ہو) ۔
Ayah 44:9

بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ یَّلْعَبُوْنَ Open ayah 44:9 in the Quran reader

لیکن یہ لوگ شک میں کھیل رہے ہیں

بل ھم فی شک یلعبون (ان کو یقین نہیں) بلکہ وہ شک میں پڑے کھیل رہے ہیں۔ یعنی یہ یقین نہیں کرتے بلکہ قیامت کے آنے یا قرآن کی صداقت میں ان کو شک ہے ‘ قرآن کا مذاق بناتے اور آپ سے استہزاء کرتے ہیں۔
Ayah 44:10

فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَاْتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 44:10 in the Quran reader

تو اس دن کا انتظار کرو کہ آسمان سے صریح دھواں نکلے گا

فارتقب یوم تاتی السماء بدخان مبین۔ اس دن کا جب آسمان کی طرف نظر آنے والا دھواں پیدا ہوگا ‘
Ayah 44:11

یَّغْشَى النَّاسَ١ؕ هٰذَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 44:11 in the Quran reader

جو لوگوں پر چھا جائے گا۔ یہ درد دینے والا عذاب ہے

یغشی الناس ھذا عذاب الیم سو آپ انتظار کیجئے ‘ سب لوگوں پر چھا جائے گا۔ یہ دردناک عذاب ہوگا۔ فَارْتَقِبْ رسول اللہ ﷺ کو خطاب ہے۔ دُخان سے کونسا دخان مراد ہے ‘ اس سلسلے میں علماء کے اقوال مختلف ہیں : حضرت ابن عباس ‘ حضرت ابن عمر اور حسن کا قول ہے کہ یہ دھواں قیامت کی علامات میں سے ایک علامت ہوگی۔ ابن جریر ‘ ثعلبی اور بغوی نے حضرت حذیفہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سب سے اول (قیامت کی) نشانی دھوں اور عیسیٰ ابن مریم کا نزول اور ایک آگ ہوگی ‘ جو عدن کے کسی غار سے نکلے گی اور لوگوں کو میدان حشر کی طرف ہنکا کرلے جائے گی۔ دوپہر کو لوگ جہاں ٹھہریں گے ‘ آگ بھی ٹھہر جائے گی۔ حضرت حذیفہ کا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! دھواں کیسا ہوگا ؟ حضور ﷺ نے آیت یَوْمَ تَأتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍ تلاوت فرمائی ‘ پھر فرمایا : مشرق سے مغرب تک فضا کو وہ دھواں بھر دے گا اور چالیس شب و روز قائم رہے گا۔ مؤمن پر اس کا اثر صرف اتنا ہوگا جیسے زکام کا ہوتا ہے اور کافر اس کے اثر سے ایسا ہوجائے گا جیسے نشہ سے مدہوش ہوتا ہے۔ دھواں اس کی ناک کے دونوں نتھنوں ‘ کانوں کے سوراخوں اور مبرز سے نکلے گا۔ طبرانی نے عمدہ سند کے ساتھ حضرت ابو مالک اشعری کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمہارے رب نے تم کو تین چیزوں سے ڈرایا ہے : ایک دخان جو مؤمن کو اتنا متاثر کرے گا جیسے زکام اور کافر پر ایسا اثر انداز ہوگا کہ وہ پھول جائے گا اور دھواں اس کے کانوں سے نکلے گا ‘ دوسرے دابۃ الارض ‘ تیسرے دجال۔
Ayah 44:12

رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ اِنَّا مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 44:12 in the Quran reader

اے پروردگار ہم سے اس عذاب کو دور کر ہم ایمان لاتے ہیں

ربنا اکشف عنا العذاب انا مؤمنون (کافر کہیں گے :) اے ہمارے رب ! اس عذاب کو ہماری طرف سے دفع کر دے ‘ ہم ایمان لانے والے ہیں۔ ایمان لانے کو دفع عذاب سے مشروط کریں گے اور دفع عذاب کے ساتھ ایمان کے وعدہ کو وابستہ کریں گے۔
Ayah 44:13

اَنّٰى لَهُمُ الذِّكْرٰى وَ قَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 44:13 in the Quran reader

(اس وقت) ان کو نصیحت کہاں مفید ہوگی جب کہ ان کے پاس پیغمبر آچکے جو کھول کھول کر بیان کر دیتے ہیں

انی لھم الذکری وقد جاء ھم رسول مبین۔ انکو اس سے کہاں نصیحت ہوتی ہے ‘ حالانکہ اس سے پہلے ان کے پاس کھول کر بیان کرنے والا پیغمبر آیا ‘
Ayah 44:14

ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا مُعَلَّمٌ مَّجْنُوْنٌۘ Open ayah 44:14 in the Quran reader

پھر انہوں نے ان سے منہ پھیر لیا اور کہنے لگے (یہ تو) پڑھایا ہوا (اور) دیوانہ ہے

ثم تولوا عنہ وقالوا معلم مجنون پھر بھی یہ لوگ اس سے سرتابی کرتے رہے اور کہتے رہے : یہ (کسی کا) سکھایا ہوا ہے ‘ دیوانہ ہے۔ اِنّٰی لَھُمُ الذِّکْرٰی یعنی نصیحت پذیری کا موقع اس روز نہیں رہے گا۔ استفہام انکاری ہے ‘ اِنّٰی بمعنی مِنْ اَیْنَ کے ہے (ان کو کہاں سے ملے گا) ۔ وَقَدْ جَآءَھُمْ یعنی ان جیسے کافروں کے پاس عظیم الشان رسول واضح دلائل کے ساتھ آ چکے تھے ‘ جنہوں نے کھول کر ایسے معجزات اور آیات کو پیش کردیا تھا جن سے نصیحت اندوزی لازمی طور پر ہونی چاہئے تھی ‘ لیکن انہوں نے رسول عظیم ﷺ کی طرف سے منہ پھیرلیا (یعنی اس کی نصیحت کو نہیں مانا) ۔ وَقَالُوْا مُعَلَّمٌ مَّجْنُوْنٌ یعنی بعض نے کہا کہ اس رسول ﷺ کو بنی ثقیف کا ایک عجمی غلام سکھا جاتا ہے۔ بعض نے کہا : یہ دیوانہ ہے۔
Ayah 44:15

اِنَّا كَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِیْلًا اِنَّكُمْ عَآئِدُوْنَۘ Open ayah 44:15 in the Quran reader

ہم تو تھوڑے دنوں عذاب ٹال دیتے ہیں (مگر) تم پھر کفر کرنے لگتے ہو

انا کاشفوا العذاب قلیلا انکم عائدون ہم چندے اس عذاب کو ہٹا دیں گے (مگر) تم پھر (اپنی اسی حالت پر) لوٹ آؤ گے۔ قَلِیْلاً یعنی کسی قدر یا کچھ وقت کیلئے۔ کچھ وقت سے مراد ہے : ان کی عمر کا باقی حصہ ‘ یا دنیا کی عمر کا باقی حصہ۔ اِنَّکُمْ عَآءِدُوْنَ یعنی کفر کی طرف تم ضرور لوٹو گے۔ یہ وقت کشف کی قلت کی علت ہے۔
Ayah 44:16

یَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرٰى١ۚ اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ Open ayah 44:16 in the Quran reader

جس دن ہم بڑی سخت پکڑ پکڑیں گے تو بےشک انتقام لے کر چھوڑیں گے

یوم نبطش البطشہ الکبری انا منتقمون جس روز ہم بڑی سخت پکڑ پکڑیں گے ‘ ہم پورا بدلہ لیں گے۔ سخت پکڑنے کے دن سے مراد ہے قیامت کا دن۔ لیکن حضرت ابن مسعود نے اس تفسیر کا انکار کیا اور فرمایا : اس سے بدر کا دن مراد ہے۔ بغوی نے ابو الضحیٰ کی روایت سے لکھا ہے کہ مسروق نے کہا : ایک شخص بنی کندہ (کے محلہ) میں بیٹھا ہوا کہہ رہا تھا کہ قیامت کے دن ایک دھواں آئے گا جو منافقوں کی آنکھوں اور کانوں (ان کے) میں گھس کر ان اعضاء کو بیکار کر دے گا ‘ اور مؤمنوں پر اس کا اثر اتنا پڑے گا جیسے (معمولی) زکام کا ہوتا ہے۔ یہ بات سن کر ہم (سب) خوف زدہ ہوگئے۔ اور میں نے حضرت ابن مسعود کی خدمت میں حاضر ہو کر دریافت کیا۔ آپ اس وقت تکیہ لگائے ہوئے تھے ‘ سنتے ہی غضبناک ہو کر اٹھ بیٹھے اور فرمایا : (کسی بات کا) آدمی کو علم ہو تو کہے ‘ علم نہ ہو تو کہہ دے : اللہ جانے۔ عدم علم کی صورت میں اللہ اعلم کہنا ہی علم کی علامت ہے۔ اللہ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا ہے : قُلْ مَآ اَسْءَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ وَمَآ اَنَا مِنَ الْمُتَکَلِّفِیْنَ ۔ بات یہ تھی کہ قریش نے مسلمان ہونے میں ایک (طویل) مدت تک تاخیر کی ‘ حضور ﷺ نے (ناامید ہو کر) ان کیلئے بددعا کی اور کہا : اے اللہ ! یوسف کے زمانہ کے ہفت سالہ قحط کی طرح ان پر ہفت سالہ قحط کو مسلط کر دے۔ بددعا کا نتیجہ یہ ہوا کہ قریش سخت کال میں مبتلا ہوگئے ‘ مردار اور ہڈیاں تک کھا گئے (بھوک کی وجہ سے نگاہ اتنی کمزور ہوگئی کہ) آدمی کو آسمان و زمین کے درمیان ایک دھواں سا دکھائی دیتا تھا۔ مجبور ہو کر ابو سفیان ‘ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : محمد ﷺ تم قرابت داروں سے اچھا سلوک کرنے کا حکم دیتے ہو لیکن (تمہاری بددعا سے) تمہاری قوم مری جا رہی ہے ‘ تم ان کیلئے دعا کرو۔ اس پر حضور ﷺ نے آیت فارْتَقِبْ یَوْمَ تَأتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍ ... قَلِیْلاً تک پڑھی ‘ پھر بارش کی دعا کی لیکن کافر پھر کفر کی طرف لوٹ پڑے۔ جیسے اللہ نے فرمایا ہے : اِنَّکُمْ عَآءِدُوْنَ- یَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَۃَ الْکُبْرٰی یعنی بدر کے دن ہم ان کی بڑی پکڑ کریں گے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : پانچ چیزیں گذر چکیں : لزام (بدر کے دن) روم کی پکڑ ‘ چاند (کا شق ہونا) اور (بھوک کی وجہ سے) دھواں (دکھائی دینا) ۔ بخاری نے صحیح میں حضرت ابن مسعود کا بیان نقل کیا ہے کہ جب قریش نے رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی (حد سے زیادہ) کی تو حضور ﷺ نے حضرت یوسف کے زمانہ کے ہفت سالہ قحط کی طرح قریش کے قحط میں مبتلا ہوجانے کی دعا کی۔ نتیجہ میں ایسا کال پڑا کہ لوگ ہڈیاں کھانے لگے اور فاقوں کی وجہ سے ایک دھواں سے آسمان و زمین کے درمیان لوگوں کو دکھائی دینے لگا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت فارْتَقِبْ یَوْمَ تَأتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍ نازل فرمائی۔ لوگوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! (قبائل) مُضَرْ (یعنی قریش) کیلئے بارش کی دعا کیجئے ‘ لوگ مرے جا رہے ہیں۔ حضور ﷺ نے بارش کی دعا کی اور خوب بارش ہوگئی۔ اس پر آیت اِنَّا کَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِیْلاً اِنَّکُمْ عَآءِدُوْنَ نازل ہوئی۔ چناچہ جب لوگوں کو سکھ ملا تو پھر اسی کفر کی طرف لوٹ پڑے جس پر پہلے تھے ‘ اس وقت آیت یَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَۃَ الْکُبْرٰی اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ نازل ہوئی۔ یوم نبطش سے جنگ بدر کا دن مراد ہے۔
Ayah 44:17

وَ لَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ كَرِیْمٌۙ Open ayah 44:17 in the Quran reader

اور ان سے پہلے ہم نے قوم فرعون کی آزمائش کی اور ان کے پاس ایک عالی قدر پیغمبر آئے

ولقد فتنا قبلھم قوم فرعون وجاءھم رسول کریم۔ اور ہم نے ان سے پہلے قوم فرعون کو آزمایا تھا اور انکے پاس ایک معزز پیغمبر آیا تھا
Ayah 44:18

اَنْ اَدُّوْۤا اِلَیَّ عِبَادَ اللّٰهِ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 44:18 in the Quran reader

(جنہوں نے) یہ (کہا) کہ خدا کے بندوں (یعنی بنی اسرائیل) کو میرے حوالے کردو میں تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں

ان ادوا الی عباد اللہ انی لکم رسول امین (اور اس نے کہا تھا) کہ اللہ کے بندوں کو (یعنی بنی اسرائیل کو) میرے حوالے کر دو ۔ میں تمہارے لئے امانت دار پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ فَتَنَّا ہم نے امتحان لیا ‘ ہم نے جانچ کی۔ قَبْلَھُمْ کفار مکہ سے پہلے۔ قَوْمَ فِرْعَوْنَ یعنی قوم فرعون کی جانچ کی مع فرعون کے۔ رَسُوْلٌ عظیم الشان رسول (رسولٌ میں تنوین تعظیم کیلئے ہے ‘ مترجم) ۔ کَرِیْمٌ عزت والا۔ اللہ کے نزدیک ‘ یا مؤمنوں کے نزدیک ‘ یا نسب و حسب کے لحاظ سے فی نفسہٖ معزز۔ اس سے مراد حضرت موسیٰ ہیں۔ اَنْ اَدُّوْٓا اِلَیَّ یعنی حضرت موسیٰ نے کہا : بنی اسرائیل کو میرے سپرد کر دو ‘ میرے ساتھ جانے کی اجازت دے دو ‘ ان کو آزاد کر دو ‘ تکلیفیں نہ دو ۔ یا عِبَادَ اللہ سے مراد ہے فرعون اور اس کی قوم اور حرف نداء محذوف ہے ‘ یعنی اے اللہ کے بندو ! میری دعوت قبول کرلو اور اللہ کا حق (یعنی ایمان) ادا کرو۔ اِنِّیْ لَکُمْ رَسُوْلٌ یعنی اللہ کی طرف سے میں تمہارے پاس بھیجا گیا ہوں۔ اَمِیْنٌ اللہ کی وحی کا امین ہوں۔ معجزات میری سچائی پر دلالت کر رہے ہیں ‘ جھوٹا ہونے کی تہمت مجھ پر نہیں لگائی جاسکتی۔
Ayah 44:19

وَّ اَنْ لَّا تَعْلُوْا عَلَى اللّٰهِ١ۚ اِنِّیْۤ اٰتِیْكُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۚ Open ayah 44:19 in the Quran reader

اور خدا کے سامنے سرکشی نہ کرو۔ میں تمہارے پاس کھلی دلیل لے کر آیا ہوں

وان لا تعلوا علی اللہ انی اتیکم بسلطن مبین۔ اور تم اللہ سے سرکشی مت کرو۔ میں تمہارے سامنے ایک واضح دلیل (اپنی نبوت کی) پیش کرتا ہوں
Ayah 44:20

وَ اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ اَنْ تَرْجُمُوْنِ٘ Open ayah 44:20 in the Quran reader

اور اس (بات) سے کہ تم مجھے سنگسار کرو اپنے اور تمہارے پروردگار کی پناہ مانگتا ہوں

وانی عذت بربی وربکم ان ترجمون۔ اور میں اپنے اور تمہارے رب کی پناہ لیتا ہوں ‘ اس امر سے کہ تم مجھے قتل کرسکو
Ayah 44:21

وَ اِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا لِیْ فَاعْتَزِلُوْنِ Open ayah 44:21 in the Quran reader

اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے الگ ہو جاؤ

وان لم تؤمنوا لی فاعترلون اور اگر تم میری بات کا یقین نہیں کرتے تو مجھ سے تعلق نہ رکھو۔ وَاَنْ لاَّ تَعْلُوْا یعنی مجھے حقیر سمجھ کر میری اطاعت ترک نہ کرو۔ (حضرت موسیٰ کو حقیر سمجھنا اور ان سے اپنے کو برتر جاننا حقیقت میں اللہ کے مقابلے میں غرور تھا ‘ اسلئے اللہ سے اونچا اٹھنے سے مراد ہے حضرت موسیٰ کو حقیر سمجھنا اور آپ کی اطاعت نہ کرنا ‘ مترجم) ۔ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنِ کھلی ہوئی دلیل ‘ جو صداقت پر دلالت کر رہی ہے۔ اداء کے ساتھ امانت اور سلطان کے ساتھ تعلّی کی ایک خاص مناسبت ہے ‘ اسی لئے اَدّوا کے بعد رسولٌ اَمِیْنٌ اور لاَ تَعْلُوْا کے ساتھ بِسُلْطَانٍ مُّبِیْنِ فرمایا۔ حضرت موسیٰ نے جب فرعون اور اس کے ساتھیوں سے مندرجۂ بالا درخواست کی تو وہ دھمکیاں دینے لگے اور پتھر مار مار کر ہلاک کردینے کا انہوں نے خوف دلایا۔ اس پر حضرت موسیٰ نے فرمایا : وَانِّیْ عُذْتُ الخ۔ اَنْ تَرْجُمُوْنَ قتادہ نے کہا : رجم سے مراد ہے پتھر مار مار کر ہلاک کردینا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : گالیاں دینی اور جادوگر کہنا مراد ہے۔ اول تفسیر زیادہ مناسب ہے ‘ کیونکہ حضرت موسیٰ نے کافروں کی گالیوں سے محفوظ رہنے سے اللہ کی پناہ مانگی ہوتی تو پھر کافر آپ کو گالیاں نہ دیتے اور جادوگر نہ کہتے ‘ حالانکہ انہوں نے ھٰذَا سٰحِرٌ مُّبِیْن کہا تھا۔ وَاِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا یعنی اگر تم مجھے سچا نہیں جانتے تو مجھ سے کنارہ کش ہوجاؤ ‘ میرے آزار کے درپے نہ ہو ‘ میرا تم سے تعلق نہیں اور تمہارا مجھ سے کوئی سروکار نہیں۔ جب کفار ‘ حضرت موسیٰ کو دیکھ پہنچانے سے باز نہ آئے اور برابر تکذیب کرتے رہے تو حضرت موسیٰ نے اپنے رب سے دعا کی۔
Ayah 44:22

فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُوْنَ Open ayah 44:22 in the Quran reader

تب موسیٰ نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ یہ نافرمان لوگ ہیں

فدعا ربہ ان ھولا قوم مجرمون۔ تب موسیٰ نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ بڑے سخت مجرم لوگ ہیں
Ayah 44:23

فَاَسْرِ بِعِبَادِیْ لَیْلًا اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَۙ Open ayah 44:23 in the Quran reader

(خدا نے فرمایا کہ) میرے بندوں کو راتوں رات لے کر چلے جاؤ اور (فرعونی) ضرور تمہارا تعاقب کریں گے

فاسر بعبادی لیلا انکم متبعون۔ تو (ا اللہ نے فرمایا :) میرے بندوں کو رات ہی رات میں تم لے کر چلے جاؤ ‘ تمہارا پیچھا یہ لوگ ضرور کریں گے ‘
Ayah 44:24

وَ اتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْوًا١ؕ اِنَّهُمْ جُنْدٌ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 44:24 in the Quran reader

اور دریا سے (کہ) خشک (ہو رہا ہوگا) پار ہو جاؤ (تمہارے بعد) ان کا تمام لشکر ڈبو دیا جائے گا

واترک البحر رھوا انھم جند مغرقون اور تم اس دریا کو سکون کی حالت میں چھوڑ دینا۔ ان کا سارا لشکر ڈبو دیا جائے گا۔ مُجْرِمُوْنَ یعنی مشرک ہیں۔ درپردہ یہ بددعا ہے جس کی علت اور وجہ بھی بیان کردی گئی ہے (یعنی یہ لوگ چونکہ مشرک ہیں ‘ اسلئے بددعا کے لائق ہیں) ۔ فَاَسْرِ یعنی اللہ نے حضرت موسیٰ کی درخواست قبول کرلی اور فرمایا : جب یہ بات ہے تو میرے مؤمن بندوں یعنی بنی اسرائیل کو یہاں سے راتوں رات نکال کرلے جاؤ۔ اِنَّکُمْ مُّتَّبَعُوْنَ یعنی فرعون اور اس کی قوم کو جب تمہارے نکل جانے کی اطلاع ملے گی تو وہ تم لوگوں کا تعاقب کریں گے۔ وَاتْرُکِ الْبَحْرِ رَھْوًا یعنی جب تم اور تمہارے ساتھی دریا پار کرلیں تو دریا کو یونہی رہنے دیں کہ اس میں کشادہ راستے کھلے رہیں ‘ یا رھوًا کا معنی ہے ساکن ‘ یعنی سمندر کو یونہی اس کی موجودہ ہیئت پر ساکن رہنے دیں۔ مطلب یہ کہ لاٹھی مار کر اس کے پانی کو ہموار اور ایک سانہ کر دو ۔ قتادہ نے کہا : جب حضرت موسیٰ دریا پار پہنچ گئے تو آپ کو اندیشہ ہوا کہ فرعون اور اس کے ساتھی بھی انہی راستوں سے جو اللہ نے دریا میں حضرت موسیٰ کی لاٹھی کی ضرب سے بنا دئیے تھے ‘ پار نکل آئیں گے (اور بنی اسرائیل پر حملہ کردیں گے) اسلئے آپ نے چاہا کہ پانی میں لاٹھی مار کر دریا میں بنے ہوئے راستوں کو ہموار کردیں اور پانی کو ایک جیسا کردیں ‘ اس پر حکم ہوا کہ دریا کو یونہی چھوڑ دو ۔
Ayah 44:25

كَمْ تَرَكُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 44:25 in the Quran reader

وہ لوگ بہت سے باغ اور چشمے چھوڑ گئے

کم ترکوا من جنت وعیون۔ وہ لوگ کتنے ہی گھنے باغ اور چشے (یعنی نہریں)
Ayah 44:26

وَّ زُرُوْعٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 44:26 in the Quran reader

اور کھیتیاں اور نفیس مکان

وزروع ومقام کریم۔ اور کھیتیاں اور عمدہ مکانات
Ayah 44:27

وَّ نَعْمَةٍ كَانُوْا فِیْهَا فٰكِهِیْنَۙ Open ayah 44:27 in the Quran reader

اور آرام کی چیزیں جن میں عیش کیا کرتے تھے

ونعمۃ کانوا فیھا فکھین۔ اور آرام کے سامان جن میں وہ مزے اڑاتے تھے ‘ چھوڑ گئے ‘
Ayah 44:28

كَذٰلِكَ١۫ وَ اَوْرَثْنٰهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 44:28 in the Quran reader

اسی طرح (ہوا) اور ہم نے دوسرے لوگوں کو ان چیزوں کا مالک بنا دیا

کذلک واورثناھا قوم اخرین اسی طرح ہوا اور دوسری قوم کو ہم نے ان کا وارث بنا دیا۔ کَمْ تَرَکُوْا یعنی بکثرت وہ باغ ‘ چشمے ‘ کھیتیاں چھوڑ گئے۔ مَقَامٍ کَرِیْمٍ یعنی آراستہ محفلیں ‘ خوبصورت مکان۔ فٰکِھِیْنَ وہ مزے میں تھے ‘ سکھ میں تھے۔ کَذٰلِکَ کلبی نے کہا : اس کا مطلب یہ ہے کہ جو میری نافرمانی کرتا ہے ‘ میں اسکے ساتھ ایسا ہی کرتا ہوں۔ بعض لوگوں نے کذٰلک کا ترجمہ کیا : واقعہ یونہی ہوا ‘ بات یہی ہے۔ وَاَوْرَثْنَاھَا یعنی ان سے یہ ساری چیزیں چھین کر ہم نے دوسروں کو ان کا وارث بنا دیا۔ قَوْمًا اٰخَرِیْنَ یعنی بنی اسرائیل کو۔
Ayah 44:29

فَمَا بَكَتْ عَلَیْهِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ وَ مَا كَانُوْا مُنْظَرِیْنَ۠ Open ayah 44:29 in the Quran reader

پھر ان پر نہ تو آسمان کو اور زمین کو رونا آیا اور نہ ان کو مہلت ہی دی گئی

فما بکت علیھم السماء والارض وما کانوا منظرین پس ان پر نہ تو آسمان و زمین کو رونا آیا اور نہ ان کو مہلت دی گئی۔ فَمَا بَکَتْ یعنی کافروں کو ہلاک کردیا ‘ پھر ان پر نہ آسمان رویا اور نہ زمین۔ آسمان و زمین کے نہ رونے سے مجازاً یہ مراد ہے کہ نہ ان کی زندگی کوئی اہمیت رکھتی تھی ‘ نہ ان کے مرنے کی کسی کو پروا تھی۔ کوئی فائدہ رساں اہم شخص مرجاتا ہے تو کہتے ہیں : اس پر آسمان رو پڑا اور سورج گرہن ہوگیا۔ پس آیت میں فرعون اور فرعونیوں کی موت و زندگی کا غیر اہم ہونا بیان کیا گیا ہے۔ بعض اہل تفسیر نے کہا کہ نہ رونے سے مراد حقیقی معنی ہے ‘ کیونکہ حدیث مبارک میں آیا ہے کہ جب مؤمن مرتا ہے تو اس پر آسمان و زمین روتے ہیں۔ ترمذی نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہر بندے کیلئے آسمان میں دو دروازے ہیں ‘ ایک دروازے سے اس کے اعمال چڑھتے ہیں اور دوسرے دروازے سے اس کا رزق اترتا ہے۔ جب آدمی مرجاتا ہے تو دونوں دروازے اس پر روتے ہیں (اس حدیث میں بندے سے مراد ہے مؤمن بندہ۔ مترجم) بیہقی نے شعب الایمان میں ‘ نیز ابن جریر نے بیان کیا ہے کہ حضرت ابن عباس سے آیت فَمَا بَکَتْ عَلَیْھِمُ السَّمَآءُ وَالْاَرْضُ کا مطلب دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا : ہر شخص کیلئے آسمان میں ایک دروازہ ہے جس سے اس کا رزق اترتا ہے اور اعمال اوپر چڑھتے ہیں۔ پھر جب مؤمن مرجاتا ہے تو وہ آسمانی دروازہ بند کردیا جاتا ہے اور وہ دروازہ اس پر روتا ہے اور جس مقام پر وہ نماز پڑھتا اور اللہ کا ذکر کرتا تھا ‘ جب زمین اس مقام پر اس کو نہیں پاتی تو روتی ہے۔ بغوی ‘ ابو یعلیٰ اور ابن ابی حاتم نے حضرت انس کی روایت سے بھی ایسی ہی مرفوع حدیث بیان کی ہے۔ اور حضرت ابن عباس کی حدیث ترمذی نے نقل کی ہے جس کے آخر میں ہے کہ پھر حضرت ابن عباس نے آیت فَمَا بَکَتْ عَلَیْھِمُ السَّمَآءُ وَالْاَرْضُ پڑھی۔ ابن جریر نے حضرت شریح بن عیینہ حضرمی کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو مؤمن سفر کی حالت میں مرجاتا ہے کہ اس کے متعلقین اس کے پاس نہیں ہوتے ‘ تو آسمان و زمین اس پر نوحہ کرتے ہیں۔ پھر حضور ﷺ نے آیت فَمَا بَکَتْ عَلَیْھِمُ السَّمَآءُ وَالْاَرْضُ تلاوت فرمائی اور ارشاد فرمایا : کافر پر آسمان و زمین نہیں روتے۔ مُنْظَرِیْنَ مہلت یافتہ ‘ یعنی ان کو کسی دوسرے وقت تک مہلت نہیں دی گئی۔
Ayah 44:30

وَ لَقَدْ نَجَّیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُهِیْنِۙ Open ayah 44:30 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت کے عذاب سے نجات دی

ولقد لجینا بنی اسرائیل من العذاب المھین۔ اور ہم نے بنی اسرائیل کو سخت ذلت کے عذاب سے نجات دی۔
Ayah 44:31

مِنْ فِرْعَوْنَ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَالِیًا مِّنَ الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 44:31 in the Quran reader

(یعنی) فرعون سے۔ بےشک وہ سرکش (اور) حد سے نکلا ہوا تھا

من فرعون انہ کان عالیا من المسرفین یعنی فرعون (کے ظلم و ستم) واقعی وہ بڑا سرکش اور حد (عبدیت) سے نکل جانے والوں میں سے تھا۔ الْعَذَابِ الْمُھِیْنَ ذلیل کرنے والا عذاب۔ اس سے مراد ہے لڑکوں کو قتل کردینا ‘ لڑکیوں کو باقی رکھنا ‘ مردوں کو غلام بنانا اور ان سے سخت محنت و مشقت کے کام لینا۔ کَانَ عَالِیًا مغرور ‘ متکبر تھا ‘ یا اونچے طبقہ والا تھا۔ الْمُسْرِفِیْنَ سرکشی اور شرارت میں حد سے بڑھا ہوا تھا۔
Ayah 44:32

وَ لَقَدِ اخْتَرْنٰهُمْ عَلٰى عِلْمٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 44:32 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو اہل عالم سے دانستہ منتخب کیا تھا

ولقد اخترنھم علی علم علی العلمین۔ اور (اسکے علاوہ) ہم نے بنی اسرائیل کو اپنے علم کی رو سے (بعض امور میں) تمام دنیا جہان والوں پر فوقیت دی (ترجمہ از مولانا تھانوی)
Ayah 44:33

وَ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنَ الْاٰیٰتِ مَا فِیْهِ بَلٰٓؤٌا مُّبِیْنٌ Open ayah 44:33 in the Quran reader

اور ان کو ایسی نشانیاں دی تھیں جن میں صریح آزمائش تھی

واتینھم من الایت ما فیہ بلؤ مبین اور ہم نے ان کو ایسی نشانیاں دیں جن میں صریح انعام تھا۔ اِخْتَرْنٰھُمْ یعنی موسیٰ اور بنی اسرائیل کو ہم نے برتری دی۔ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ ان کے زمانہ کے لوگوں پر۔ عَلٰی عِلْمٍ یعنی ہم کو علم تھا کہ وہ اسکے مستحق ہیں ‘ یا ہم جانتے تھے کہ بعض احوال میں وہ کجرو ہوجائیں گے۔ وَاٰتَیْنٰھُمْ مِّنَ الْاٰیٰتِ (المعجزات) جیسے دریا کے پانی کو ان کیلئے پھاڑ دیا (اور اس میں الگ الگ بارہ راستے بنا دئیے) اور (میدان تیہ میں) ان پر ابر کا سایہ کردیا اور مَنّ و سلوٰی نازل کیا وغیرہ۔ بَلٰٓؤٌ مُّبِیْنٌ کھلی ہوئی نعمت (قتادہ) ابن زید نے کہا : راحت و مصیبت دے کر جانچ کرنا مقصود ہے۔ یہ کہنے کے بعد ابن زید نے آیت وَنَبْلُوْکُمْ بالشَّرِّ وَالْخَیْرِ فِتْنَۃً تلاوت کی۔
Ayah 44:34

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَیَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 44:34 in the Quran reader

یہ لوگ یہ کہتے ہیں

ان ھولاء لیقولون۔ یہ لوگ بلاشبہ کہتے ہیں
Ayah 44:35

اِنْ هِیَ اِلَّا مَوْتَتُنَا الْاُوْلٰى وَ مَا نَحْنُ بِمُنْشَرِیْنَ Open ayah 44:35 in the Quran reader

کہ ہمیں صرف پہلی دفعہ (یعنی ایک بار) مرنا ہے اور (پھر) اُٹھنا نہیں

انھی الا موتتنا الاولی وما نحن بمنشرین کہ ہماری موت تو بس یہی پہلی موت ہے (آگے کبھی) ہم کو زندہ کر کے نہیں اٹھایا جائے گا۔ ھآؤُلَآء یعنی کفار قریش۔ سلسلۂ کلام کا تعلق کفار قریش سے ہی ہے ‘ فرعون اور فرعونیوں کا تذکرہ تو صرف یہ بتانے کیلئے کیا گیا ہے کہ کفار قریش کی حالت بھی فرعون اور اسکی قوم کی طرح ہے ‘ دونوں گمراہی پر قائم ہیں۔ ان پر بھی عذاب نازل کیا گیا ہے ‘ ان کو بھی اسی جیسے عذاب سے ڈرایا جا رہا ہے۔ اِلاَّ مَوْتَتُنَا الْاَوْلٰی یعنی روز آخرت کوئی نہیں ہوگا ‘ بسی اسی موت پر زندگی کا خاتمہ ہے۔ اس جملہ کا یہ مطلب نہیں کہ بس ایک ہی مرتبہ موت آئے گی اور دوبارہ جب ہم زندہ کئے جائیں گے تو پھر کبھی دوبارہ موت نہیں آئے گی۔ جیسے محاورہ میں کہتے ہیں : زید نے پہلا حج کیا اور مرگیا۔ بعض علماء نے تشریح مطلب اس طرح کی کہ جب کفار قریش سے کہا گیا کہ تم مرجاؤ گے اور پھر دوسری زندگی دی جائے گی ‘ جیسے پیدائش سے پہلے مردہ تھے یعنی بےجان تھے ‘ پھر یہ موجودہ زندگی عطا کی گئی ‘ تو انہوں نے جواب دیا کہ جس موت کے بعد زندگی ملی وہ تو پہلی موت تھی ‘ دوسری موت کے بعد زندگی نہیں ملے گی۔ بِمُنْشَرِیْنَ یعنی مرنے کے بعد ہم کو زندہ کر کے نہیں اٹھایا جائے گا۔
Ayah 44:36

فَاْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 44:36 in the Quran reader

پس اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو (زندہ کر) لاؤ

فاتوا بابائنا ان کنتم صدقین اگر تم سچے ہو (کہ دوبارہ زندگی ہوگی) تو ہمارے باپ دادا کو زندہ کر کے لے آؤ۔ یہ خطاب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کو ہے۔
Ayah 44:37

اَهُمْ خَیْرٌ اَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ١ۙ وَّ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ اَهْلَكْنٰهُمْ١٘ اِنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 44:37 in the Quran reader

بھلا یہ اچھے ہیں یا تُبّع کی قوم اور وہ لوگ جو تم سے پہلے ہوچکے ہیں۔ ہم نے ان (سب) کو ہلاک کردیا۔ بےشک وہ گنہگار تھے

اھم خیر ام قوم تبع والذین من قبلھم اھلکنھم انھم کانوا مجرمین کیا یہ لوگ (قوت و شوکت میں) زیادہ بڑھے ہوئے ہیں یا تُبّع کی قوم (ساکنان یمن) اور وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے ‘ ہم نے ان کو بھی تباہ کر ڈالا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ نافرمان تھے۔ اَھُمْ خَیْرٌ یعنی قوت ‘ شوکت اور کثرت میں یہ لوگ تُبّع کی قوم سے بہتر ہیں یا قوم تُبّع ان سے بہتر تھی ؟ استفہام انکاری تقریری ہے ‘ یعنی یہ لوگ قوم تُبّع سے بہتر نہیں ہیں ‘ قوم تُبّع ان سے بہتر تھی۔ تُبّع ایک شخص کا نام تھا۔ اس کا اتباع کرنے والے بہت لوگ تھے ‘ اسلئے اس کا نام تبع ہوگیا۔ بعض اہل تاریخ کا خیال ہے کہ تبع نام کے بہت لوگ تھے۔ چونکہ ایک کے بعد ایک (حکومت و سیادت پر) آتا رہا (بیچ میں خلا نہیں ہوا) اسلئے ان کو تَتَابِعّہ کہا جاتا ہے۔ محمد بن اسحاق وغیرہ نے حضرت ابن عباس اور بعض دوسرے اہل علم کی طرف نسبت کرتے ہوئے بیان کیا کہ آخری تبع اسعد ابوکریب بن ملیک کرب تھا۔ بغوی نے اس کا تذکرہ اسی آیت کی تشریح کے ذیل میں کیا ہے اور میں نے سورة قاف میں اس کا قصہ بیان کیا ہے۔ تبع مسلم تھا۔ اللہ نے اس کی مذمت نہیں کی ‘ بلکہ اس کی قوم کی مذمت کی ‘ جس نے تبع کی تکذیب کی تھی۔ محمد بن اسحاق نے المبتداء میں اور ابن ہشام نے التیجان میں لکھا ہے کہ مدینہ میں تشریف فرما ہونے کے وقت حضرت ابوایوب کے جس مکان میں رسول اللہ ﷺ نے نزول اجلال فرمایا تھا ‘ وہ تبع اول کا بنایا ہوا تھا۔ تبع اول کا نام تبان بن سعد تھا ‘ اس کا تذکرہ میں نے سورة جمعہ میں کیا ہے۔ وَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ اور وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے ‘ جیسے عاد وثمود وغیرہ۔ اِنَّھُمْ کَانُوْا مُجْرِمِیْنَ بلاشبہ وہ مشرک تھے۔ یہ ہلاک کرنے کے سبب کا اظہار ہے اور اس علت کا بیان ہے جو تباہ کرنے کی مقتضی تھی۔
Ayah 44:38

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا لٰعِبِیْنَ Open ayah 44:38 in the Quran reader

اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان میں ہے ان کو کھیلتے ہوئے نہیں بنایا

وما خلقنا السموت والارض وما بینھما لعبین اور ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور دونوں کی درمیانی چیزوں کو عبث کھیل کے طور پر
Ayah 44:39

مَا خَلَقْنٰهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 44:39 in the Quran reader

ان کو ہم نے تدبیر سے پیدا کیا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

ما خلقنھما الا بالحق ولکن اکثرھم لا یعلمون نہیں پیدا کیا۔ ہم نے ان دونوں کو کسی حکمت سے ہی بنایا ہے ‘ لیکن یہ لوگ نہیں سمجھتے۔ لٰعِبِیْنَ کھیل کرتے ہوئے ‘ محض بیکار ‘ عبث۔ اوپر کے جملہ میں ضمناً انکار ‘ قیامت کا انکار تھا۔ یہ جملہ پہلے جملہ کے مضمون کی حالت بیان کر رہا ہے۔ تشریحی مطلب اس طرح ہے کہ یہ لوگ قیامت (یعنی آخرت کی جزا و سزا) کا انکار کرتے ہیں ‘ حالانکہ ہم نے زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی چیزیں بیکار ‘ محض کھیل کے طور پر نہیں پیدا کیں ‘ بلکہ ان کی تخلیق کا مقصد یہ ہے کہ ان کے وجود سے ہماری ذات وصفات پر استدلال کیا جائے اور لوگوں کے اعمال کی جانچ کی جائے۔ اِلاَّ بالْحَقِّ حق کے اظہار کیلئے یعنی توحید کو ثابت کرنے اور اطاعت کو واجب کرنے کیلئے تاکہ فرمانبردار کو ثواب اور نافرمان کو عذاب دیا جائے۔ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَھُمْ یعنی اکثر لوگ چونکہ طلب دنیا میں غرق ہیں اور غور نہیں کرتے ‘ اسلئے ان کو معلوم نہیں کہ اس آسمان و زمین اور درمیانی کائنات کی تخلیق اللہ کی ہستی اور توحید کو ثابت کرنے اور انسان کی جانچ کرنے کیلئے کی گئی ہے۔
Ayah 44:40

اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ مِیْقَاتُهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 44:40 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ فیصلے کا دن ان سب (کے اُٹھنے) کا وقت ہے

ان یوم الفصل میقاتھم اجمعین۔ بیشک فیصلے کا دن ان سب کا وقت مقرر ہے ‘