44. Surah Ad-Dukhaan

الدخانThe Smoke · 59 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayahs 44:1–3

وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ Open ayah 44:2 in the Quran reader

قسم ہے اس کتاب واضح کی

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِیْنَ Open ayah 44:3 in the Quran reader

ہم نے اس کو اتارا ایک برکت کی رات میں1 ہم ہیں کہہ سنانے والے2

1 " برکت کی رات " شب قدر ہے کما قال تعالیٰ ۔ (اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ) 97 ۔ القدر :1) اور جو رمضان میں واقع ہے لقولہ تعالٰی۔ (شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقَانِ ) 2 ۔ البقرۃ :185) اس رات میں قرآن کریم لوح محفوظ سے سمائے دنیا پر اتار گیا۔ پھر بتدریج تئیس سال میں پیغمبر پر اترا۔ نیز اسی شب میں پیغمبر پر اس کے نزول کی ابتداء ہوئی۔ 2 یعنی کہہ سنایا ہمیشہ ہمارا دستور رہا ہے۔ اسی کے موافق پر قرآن اتارا۔
Ayahs 44:4–5

فِیْهَا یُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِیْمٍۙ Open ayah 44:4 in the Quran reader

اسی میں جدا ہوتا ہے ہر کام جانچا ہوا

اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَۚ Open ayah 44:5 in the Quran reader

حکم ہو کر ہمارے پاس سے3 ہم ہیں بھیجنے والے4

3 یعنی سال بھر کے متعلق قضاء و قدر کے حکیمانہ اور اٹل فیصلے اسی عظیم الشان رات میں " لوح محفوظ " سے نقل کر کے ان فرشتوں کے حوالہ کیے جاتے ہیں جو شعبہ ہائے تکوینیات میں کام کرنے والے ہیں۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شعبان کی پندرھویں رات ہے جسے شب برات کہتے ہیں۔ ممکن ہے وہاں سے اس کام کی ابتداء اور شب قدر پر انتہاء ہوئی ہو۔ واللہ اعلم۔4 یعنی فرشتوں کو ہر کام پر جو ان کے مناسب ہو۔ چناچہ جبرائیل کو قرآن دے کر محمد رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجا۔
Ayah 44:6

رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُۙ Open ayah 44:6 in the Quran reader

رحمت سے تیرے رب کی وہی ہے سننے جاننے والاف 5

5 یعنی تمام عالم کے حالات سے باخبر ہے اور ان کی پکار سنتا ہے۔ اسی لیے عین ضرورت کے وقت خاتم النبیین ﷺ کو قرآن دے کر اور عالم کے لیے رحمت کبریٰ بنا کر بھیج دیا۔
Ayah 44:7

رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ۘ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ Open ayah 44:7 in the Quran reader

رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے بیچ ہے اگر تم کو یقین ہے6

6 یعنی اگر تم میں کسی چیز پر یقین رکھنے کی صلاحیت ہے تو سب سے پہلی چیز یقین رکھنے کے قابل اللہ کی ربوبیت عامہ ہے جس کے آثار ذرہ ذرہ میں روز روشن سے زیادہ ہوا ہیں۔
Ayah 44:8

لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 44:8 in the Quran reader

کسی کی بندگی نہیں سوائے اس کے جلاتا ہے اور مارتا ہے رب تمہارا اور رب تمہارے اگلے باپ دادوں کا7

7 یعنی جس کے قبضہ میں مارنا جلانا اور وجود و عدم کی باگ ہو۔ اور سب اولین و آخرین جس کے زیر تربیت ہوں۔ کیا اس کے سوا دوسرے کلی بندگی جائز ہوسکتی ہے ؟ یہ ایک ایسی صاف حقیقت ہے جس میں شک و شبہ کی قعطاً گنجائش نہیں۔
Ayah 44:9

بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ یَّلْعَبُوْنَ Open ayah 44:9 in the Quran reader

کوئی نہیں وہ دھوکے میں ہیں کھیلتے8

8 یعنی ان واضح نشانات اور دلائل کا اقتضاء تو یہ تھا کہ یہ لوگ مان لیتے، مگر پھر بھی نہیں مانتے، بلکہ وہ توحید وغیرہ عقائد حقہ کی طرف سے شک میں پڑے ہیں اور دنیا کے کھیل کود میں مصروف ہیں۔ آخرت کی فکر نہیں جو حق کو طلب کریں اور اس میں غورو فکر سے کام لیں۔ یہ اس دھوکے میں ہیں کہ ہمیشہ یوں ہی رہنا ہے۔ خدا کے سامنے کبھی پیشی نہیں ہوگی۔ اس لیے نصیحت کی باتوں کو ہنسی کھیل میں اڑا دیتے ہیں۔
Ayahs 44:10–11

فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَاْتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 44:10 in the Quran reader

سو تو انتظار کر اس دن کا کہ لائے آسمان دھواں صریح

یَّغْشَى النَّاسَ١ؕ هٰذَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 44:11 in the Quran reader

جو گھیر لیوے لوگوں کو یہ ہے عذاب دردناک9

9 " دھویں " سے یہاں کیا مراد ہے ؟ اس میں سلف کے دو قول ہیں۔ ابن عباس وغیرہ کہتے ہیں کہ قیامت کے قریب ایک دھواں اٹھے گا جو تمام لوگوں کو گھیر لے گا۔ نیک آدمی کو اس کا اثر خفیف پہنچے گا، جس سے زکام سا ہوجائے گا۔ اور کافر و منافق کے دماغ میں گھس کر بیہوش کر دے گا۔ وہ یہاں مراد ہے۔ شاید یہ دھواں وہ ہی سماوات کا مادہ ہو جس کا ذکر " تم استویٰ الٰی السماء وہی دخان " میں ہوا ہے گویا آسمان تجلی تحلیل ہو کر اپنی پہلی حالت کی طرف عود کرنے لگیں گے اور یہ اس کی ابتدا ہوگی۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ اور ابن مسعود زور و شور کے ساتھ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس آیت سے مراد وہ دھواں نہیں جو علامات قیامت میں سے ہے بلکہ قریش کے تمردو طغیان سے تنگ آکر نبی کریم ﷺ نے دعا فرمائی تھی کہ ان پر بھی سات سال کا قحط مسلط کر دے جیسے یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ میں مصریوں پر مسلط ہوا تھا۔ چناچہ قحط پڑا جس میں مکہ والوں کو مردار اور چمڑے ہڈیاں کھانے کی نوبت آگئی غالباً اسی دوران میں " یمامہ " کے رئیس ثمامہ ابن آثال ؓ مشرف با سلام ہوئے اور وہاں سے غلہ کی جو بھرتی مکہ کو جاتی تھی بند کردی۔ غرض اہل مکہ بھوکوں مرنے لگے اور قاعدہ ہے کہ شدت کی بھوک اور مسلسل خشک سالی کے زمانہ میں جو یعنی زمین و آسمان کے درمیان دھواں سا آنکھوں کے سامنے نظر آیا کرتا ہے اور ویسے بھی مدت دراز تک بارش بند رہنے سے گردوغبار وغیرہ چڑھ کر آسمان پر دھواں سا معلوم ہونے لگتا ہے۔ اس کو یہاں دخان سے تعبیر فرمایا۔ اس تقدیر پر " یغشی الناس " میں لوگوں سے مکہ والے ہوں گے۔ گویا یہ ایک پیشین گوئی تھی (کما یدل علیہ قول " فارتقب " ) جو پوری ہوئی۔
Ayah 44:12

رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ اِنَّا مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 44:12 in the Quran reader

اے رب کھول دے ہم پر سے یہ آفت ہم یقین لاتے ہیں10

10 یعنی اس عذاب میں مبتلا ہو کر یوں کہیں گے کہ اب تو اس آفت سے نجات دیجئے آگے کو ہماری توبہ ! ہم کو اب یقین آگیا۔ پھر شرارت نہ کریں گے۔ پکے مسلمان بن کر رہیں گے۔ آگے اس کا جواب دیا ہے۔
Ayahs 44:13–14

اَنّٰى لَهُمُ الذِّكْرٰى وَ قَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 44:13 in the Quran reader

کہاں ملے ان کو سمجھنا اور آچکا ان کے پاس رسول کھول کر سنانے والا،

ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا مُعَلَّمٌ مَّجْنُوْنٌۘ Open ayah 44:14 in the Quran reader

پھر اس سے پیٹھ پھیری اور کہنے لگے سکھایا ہوا ہے باؤلا11

11 یعنی اب موقع سمجھنے اور نصیحت سے فائدہ اٹھانے کا کہاں رہا۔ اس وقت تو مانا نہیں جب ہمارا پیغمبر کھلے کھلے نشان اور کھلی کھلی ہدایات لے کر آیا تھا۔ اس وقت کہتے تھے کہ یہ باؤلا ہے۔ کبھی کہتے کہ کسی دوسرے سے سیکھ کر اس نے یہ کتاب تیار کرلی ہے (ابن عباس کی تفسیر پر یہ مطلب ہوا) اور ابن مسعود کی تفسیر کے موافق یہ معنی ہوں گے کہ اہل مکہ نے قحط وغیرہ سے تنگ آکر درخواست کی کہ یہ آفت ہم سے دور کیجیے۔ بعض روایات میں ہے کہ ابو سفیان وغیرہ نے حضور ﷺ کی خدمت میں فریاد کی کہ آپ تو کہتے ہیں کہ میں رحمت ہوں اور یہ آپ کی قوم قحط و خشک سالی سے تباہ ہو رہی ہے۔ ہم آپ ﷺ کو رحم اور قرابت کا واسطہ دیتے ہیں کہ اس مصیبت کے دور ہونے کی دعا کیجیے۔ اگر ایسا ہوگیا تو ہم ایمان لے آئیں گے۔ چناچہ آپ کی دعا سے بارش ہوئی اور ثمامہ نے جو غلہ روک دیا تھا وہ بھی آپ ﷺ نے کھلوا دیا پھر بھی وہ ایمان نہ لائے۔ اسی کو فرماتے ہیں " انی لہم الذکریٰ " یعنی یہ لوگ ان باتوں سے ماننے والے کہاں ہیں، اس قسم کی چیزوں میں تو ہزار تاویلیں گھڑ لیں جو چیز بالکل کھلی ہوئی آفتاب اور زیادہ روشن تھی یعنی آپ کی پیغمبری۔ اسی کو نہ مانا۔ کوئی مجنون بتلانے لگا، کسی نے کہا کہ صاحب ! فلاں رومی غلام سے کچھ مضامین سیکھ آئے ہیں ان کو اپنی عبادت میں ادا کردیتے ہیں۔ ایسے متعصب معاندین سے سمجھنے کی کیا توقع ہوسکتی ہے۔
Ayah 44:15

اِنَّا كَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِیْلًا اِنَّكُمْ عَآئِدُوْنَۘ Open ayah 44:15 in the Quran reader

ہم کھولے دیتے ہیں یہ عذاب تھوڑی مدت تک تم پھر وہی کرو گے1

1 یعنی اگر ہم تھوڑی دیر کے لیے عذاب ہٹا لیں، پھر وہ ہی حرکتیں کریں گے جو پہلے کرتے تھے۔ اور ابن مسعود کی تفسیر پر یہ مطلب ہوگا کہ لو ! اچھا ہم تھوڑی مدت کے لیے یہ عذاب ہٹا لیتے ہیں۔ پھر دیکھ لینا، وہ ہی کریں گے جو پہلے کرتے تھے۔
Ayah 44:16

یَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرٰى١ۚ اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ Open ayah 44:16 in the Quran reader

جس دن پکڑیں گے ہم بڑی پکڑ تحقیق ہم بدلہ لینے والے ہیں2

2 ابن عباس کے نزدیک بڑی پکڑ قیامت ہوگی۔ غرض یہ ہے کہ آخرت کا عذاب نہیں ٹلتا۔ اور ابن مسعود کے نزدیک " بڑی پکڑ " سے معرکہ " بدر " کا واقعہ مراد ہے۔ " بدر " میں ان لوگوں سے بدلہ لے لیا گیا۔
Ayah 44:17

وَ لَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ كَرِیْمٌۙ Open ayah 44:17 in the Quran reader

اور جانچ چکے ہیں ہم ان سے پہلے فرعون کی قوم کو اور آیا ان کے پاس رسول عزت والاف 3

3 یعنی حضرت موسیٰ کے ذریعہ سے ان کا امتحان کیا گیا کہ اللہ کے پیغام کو قبول کرتے ہیں یا نہیں۔
Ayah 44:18

اَنْ اَدُّوْۤا اِلَیَّ عِبَادَ اللّٰهِ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 44:18 in the Quran reader

کہ حوالے کرو میرے بندے خدا کے4 میں تمہارے پاس آیا ہوں بھیجا ہوا معتبر

4 یعنی خدا کے بندوں کو اپنا بندہ مت بناؤ۔ بنی اسرائیل کو غلامی سے آزادی دو اور میرے حوالہ کرو۔ میں جہاں چاہوں لے جاؤں۔
Ayah 44:19

وَّ اَنْ لَّا تَعْلُوْا عَلَى اللّٰهِ١ۚ اِنِّیْۤ اٰتِیْكُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۚ Open ayah 44:19 in the Quran reader

اور یہ کہ چڑھے نہ جاؤ اللہ کے مقابل میں لاتا ہوں تمہارے پاس سند کھلی ہوئی5

5 " کھلی سند " وہ معجزات تھے جو حضرت موسیٰ نے دکھائے۔ " عصا " اور " یدبیضا " وغیرہ۔
Ayah 44:20

وَ اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ اَنْ تَرْجُمُوْنِ٘ Open ayah 44:20 in the Quran reader

اور میں پناہ لے چکا ہوں اپنے رب اور تمہارے رب کی اس بات سے کہ تم مجھ کو سنگسار کرو6

6 یہ ان کی دھمکیوں کا جواب دیا۔ یعنی میں تمہارے ظلم و ایذاء سے خدا کی پناہ حاصل کرچکا ہوں وہ میری حمایت پر ہے اور اسی کی حفاظت پر مجھے بھروسہ ہے۔
Ayah 44:21

وَ اِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا لِیْ فَاعْتَزِلُوْنِ Open ayah 44:21 in the Quran reader

اور اگر تم نہیں یقین کرتے مجھ پر تو مجھ سے پرے ہوجاؤ7

7 یعنی اگر میری بات نہیں مانتے تو کم ازکم مجھے ایذاء دے کر اپنے جرم کو سنگین مت کرو۔ " مرا بخیر تو امید نیست بدمرساں " اور حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی اپنی قوم کو لے جاؤں تم راہ نہ روکو۔ "
Ayahs 44:22–23

فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُوْنَ Open ayah 44:22 in the Quran reader

پھر دعا کی اپنے رب سے کہ یہ لوگ گناہگار ہیں

فَاَسْرِ بِعِبَادِیْ لَیْلًا اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَۙ Open ayah 44:23 in the Quran reader

پھر لے نکل رات سے میرے بندوں کو البتہ تمہارا پیچھا کریں گے8

8 یعنی آخر مجبور ہو کر اللہ سے فریاد کی کہ یہ لوگ اپنے جرائم سے باز آنے والے نہیں اب آپ میرے اور ان کے درمیان فیصلہ کردیجیے وہاں کیا دیر تھی۔ حضرت موسیٰ کو حکم ہوا کہ فرعونیوں کو اطلاع کیے بدون بنی اسرائیل کو لے کر راتوں رات مصر سے چلے جاؤ۔ کیونکہ دن ہونے پر جب انہیں اطلاع ہوگی اس وقت تمہارا پیچھا کریں گے۔ لیکن یاد رہے راستہ میں سمندر پڑے گا۔ اس پر عصا مارنے سے پانی ادھر ادھر ہٹ جائے گا اور درمیان میں خشکی و صاف راستہ نکل آئے گا۔ اسی راستہ سے اپنی قوم کو لے کر گزر جاؤ۔
Ayah 44:24

وَ اتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْوًا١ؕ اِنَّهُمْ جُنْدٌ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 44:24 in the Quran reader

اور چھوڑ جا دریا کو تھما ہوا البتہ وہ لشکر ڈوبنے والے ہیں9

9 یعنی اس کی فکر مت کرو کہ دریا میں خدا کی قدرت سے جو راستہ بن گیا وہ باقی نہ رہے۔ اس کو اسی حالت میں چھوڑ دے۔ یہ راستہ دیکھ کر تو فرعون کے لشکر اس میں گھسنے کی ہمت کریں گے۔ چناچہ وہ سب خشک راستہ دیکھ کر اندر گھسے، اس کے بعد خدا کے حکم سے سمندر کا پانی چاروں طرف سے آکر مل گیا۔ سارا لشکر اس طرح غرقاب ہوا۔
Ayahs 44:25–28

كَمْ تَرَكُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 44:25 in the Quran reader

بہت سے چھوڑ گئے باغ اور چشمے

وَّ زُرُوْعٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 44:26 in the Quran reader

اور کھیتاں اور گھر خاصے

وَّ نَعْمَةٍ كَانُوْا فِیْهَا فٰكِهِیْنَۙ Open ayah 44:27 in the Quran reader

اور آرام کا سامان جس میں باتیں بنایا کرتے تھے

كَذٰلِكَ١۫ وَ اَوْرَثْنٰهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 44:28 in the Quran reader

یونہی ہوا اور وہ سب ہاتھ لگا دیا ہم نے ایک دوسری قوم کے10

10 یعنی بنی اسرائیل کے ہاتھوں میں دے دیا۔ جیسا کہ سورة شعراء میں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ فرعون کے غرق ہوئے بعد مصر میں نبی اسرائیل کا دخل ہوا۔ اور اگر یہ ثابت نہ ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ جس قسم کے سامان فرعونیوں نے چھوڑے تھے اسی طرح کے ہم نے بنی اسرائیل کو دیے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 44:29

فَمَا بَكَتْ عَلَیْهِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ وَ مَا كَانُوْا مُنْظَرِیْنَ۠ Open ayah 44:29 in the Quran reader

پھر نہ رویا ان پر آسمان اور زمین11 اور نہ ملی ان کو ڈھیل

11 روایات میں ہے کہ مومن کے مرنے پر آسمان کا وہ دروازہ روتا ہے جس سے اس کی روزی اترتی تھی یا جس سے اس کا عمل صالح اوپر چڑھتا تھا۔ اور زمین روتی ہے جہاں وہ نماز پڑھتا تھا یعنی افسوس وہ سعادت ہم سے چھن گئی۔ کافر کے پاس عمل صالح کا بیج ہی نہیں، پھر اس پر آسمان یا زمین کیوں روئے۔ بلکہ شاید خوش ہوتے ہوں گے کہ چلو پاپ کٹا۔ " خس کم جہاں پاک "
Ayahs 44:30–31

وَ لَقَدْ نَجَّیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُهِیْنِۙ Open ayah 44:30 in the Quran reader

اور ہم نے بچا نکالا بنی اسرائیل کو ذلت کی مصیبت سے

مِنْ فِرْعَوْنَ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَالِیًا مِّنَ الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 44:31 in the Quran reader

جو فرعون کی طرف سے تھی12 بیشک وہ تھا چڑھ رہا حد سے بڑھ جانے والاف 13

12 بلکہ فرعون کا وجود ایک مجسم مصیبت تھا۔ 13 یعنی بڑا متکبر اور سرکش تھا۔
Ayah 44:32

وَ لَقَدِ اخْتَرْنٰهُمْ عَلٰى عِلْمٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 44:32 in the Quran reader

اور ان کو ہم نے پسند کیا جان بوجھ کر جہان کے لوگوں سے1

1 یعنی اگرچہ بنی اسرائیل کی کمزوریاں بھی ہم کو معلوم تھیں۔ تاہم ان کو ہم نے اس زمانہ کے تمام لوگوں سے فضیلت دی۔ اور بعض فضائل جزئیہ تو وہ ہیں جو آج تک کسی قوم کو میسر نہیں ہوئے مثلاً اتنے بیشمار انبیاء کا ان میں اٹھایا جانا۔
Ayah 44:33

وَ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنَ الْاٰیٰتِ مَا فِیْهِ بَلٰٓؤٌا مُّبِیْنٌ Open ayah 44:33 in the Quran reader

اور دیں ہم نے ان کو نشانیاں جن میں تھی مدد صریح2

2 یعنی حضرت موسیٰ کے ذریعہ سے مثلاً " من وسلویٰ " کا اتارنا، بادل کا سایہ کرنا وغیرہ ذلک۔
Ayahs 44:34–35

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَیَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 44:34 in the Quran reader

یہ لوگ کہتے ہیں

اِنْ هِیَ اِلَّا مَوْتَتُنَا الْاُوْلٰى وَ مَا نَحْنُ بِمُنْشَرِیْنَ Open ayah 44:35 in the Quran reader

اور کچھ نہیں ہمارا یہی مرنا ہے پہلا اور ہم کو پھر اٹھنا نہیں3

3 درمیان میں حضرت موسیٰ کی قوم کا ذکر استطرادًا آگیا تھا۔ یہاں سے پھر حضور ﷺ کی قوم کا تذکرہ ہوتا ہے۔ یعنی یہ کہتے ہیں کہ ہماری آخری حالت بس یہ ہی ہے کہ موت آجائے۔ موت کے بعد سب قصہ ختم۔ موجودہ زندگی کے سوا دوسری زندگی کوئی نہیں۔ کہاں کا حشر، اور کیسا حساب کتاب۔
Ayah 44:36

فَاْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 44:36 in the Quran reader

بھلا لے تو آؤ ہمارے باپ دادوں کو اگر تم سچے ہو4

4 یعنی پیغمبر اور مومنین سے کہتے ہیں کہ اگر تم اپنے عقیدہ میں سچے ہو کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جائیں گے تو اچھا ہمارے مرے ہوئے باپ دادوں کو ذرا زندہ کر کے دکھا دو ۔ تب ہم جانیں۔
Ayah 44:37

اَهُمْ خَیْرٌ اَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ١ۙ وَّ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ اَهْلَكْنٰهُمْ١٘ اِنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 44:37 in the Quran reader

بھلا یہ بہتر ہیں یا تبع کی قوم5 اور جو ان سے پہلے تھی ہم نے ان کو غارت کردیا بیشک وہ تھے گناہ گار6

5 ' تبع " لقب تھا یمن کے بادشاہ کا جس کی حکومت سبا اور حضرموت وغیرہ سب پر تھی۔ " تبع " بہت گزرے ہیں۔ اللہ جانے یہاں کون سا مراد ہے۔ بہرحال اتنا ظاہر ہوا کہ اس کی قوم بہت قوت و جبروت والی تھی جو اپنی سرکشی کی بدولت تباہ کی گئی۔ ابن کثیر نے اس سے قوم سبا مراد لی ہے جس کا ذکر سورة سبا میں گزر چکا۔ واللہ اعلم۔ 6 مثلاً عاد وثمود وغیرہ۔ ان سب کو اللہ نے ان کے گناہوں کی پاداش میں ہلاک کر کے چھوڑا۔ کیا تم ان سے بہتریا ان سے زیادہ طاقتور ہو کہ تم کو ہلاک نہ کرے گا یا نہ کرسکے گا ؟
Ayahs 44:38–39

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا لٰعِبِیْنَ Open ayah 44:38 in the Quran reader

اور ہم نے جو بنایا آسمان اور زمین اور جو ان کے بیچ ہے کھیل نہیں بنایا

مَا خَلَقْنٰهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 44:39 in the Quran reader

ان کو تو بنایا ہم نے ٹھیک کام پر بہت لوگ نہیں سمجھتے7

7 یعنی اتنا بڑا کارخانہ کوئی کھیل تماشا نہیں۔ بلکہ بڑی حکمت سے بنایا گیا ہے۔ جس کا نتیجہ ایک دن نکل کر رہے گا۔ وہ ہی نتیجہ آخرت ہے۔
Ayah 44:40

اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ مِیْقَاتُهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 44:40 in the Quran reader

تحقیق فیصلہ کا دن وعدہ ہے ان سب کا8

8 یعنی اس دن سب کا حساب بیک وقت ہوجائے گا۔