Ad-Dukhaan 44:58

Ad-Dukhaan · from ayah 58

44:58

فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ ۟فَاِنَّمَا يَسَّرۡنٰهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّرُوۡنَ

ہم نے اس (قرآن) کو تمہاری زبان میں آسان کردیا ہے تاکہ یہ لوگ نصیحت پکڑیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And indeed, We have eased the Qur'an in your tongue that they might be reminded.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 3 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Ad-Dukhaan

All translations of 44:58

اے نبیؐ، ہم نے اِس کتاب کو تمہاری زبان میں سہل بنا دیا ہے تاکہ یہ لوگ نصیحت حاصل کریں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہم نے اس (قرآن) کو تمہاری زبان میں آسان کردیا ہے تاکہ یہ لوگ نصیحت پکڑیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم نے اس (قرآن) کو تیری زبان میں آسان کردیا تاکہ وه نصیحت حاصل کریں

— مولانا محمد جوناگڑہی

غرض (اے پیغمبر) ہم نے اس (قرآن) کو تمہاری زبان میں آسان بنادیا ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو ہم نے اس قرآن کو تمہاری زبان میں آسان کیا کہ وہ سمجھیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بس ہم نے آپ ہی کی زبان میں اس (قرآن) کو آسان کر دیا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

سو حقیقت یہی ہے کہ ہم نے اسے تیری زبان میں آسان کردیا، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم نے اس قرآن کو آپ کی زبان میں آسان بنادیا ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس ہم نے اس قرآن کو تمہاری زبان میں نہایت خوبی سے آراستہ کیا تاکہ وہ یاد دہانی حاصل کریں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سو ہم نے آسان کردیا اس (کتاب حکیم) کو آپ کی زبان میں تاکہ یہ لوگ نصیحت حاصل کریں

— مولانا اسحاق مدنی

سو ہم نے اس (قرآن) کو آپ کی زبان میں آسان کردیا ہے تاکہ یہ لوگ نصیحت حاصل کریں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو (اے نبی ﷺ !) ہم نے اس قرآن کو آسان کردیا ہے آپ کی زبان پر تاکہ یہ لوگ نصیحت حاصل کریں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ہم نے اس قرآن کو تمہاری زبان مـیں آسان کردیا ہے تاکہ یہ لوگ نصیحت پکڑیں

— محترمہ رفعت اعجاز

(O Prophet), We have made this Book easy in your tongue so that they may take heed.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, We had made it (the Qur‘an) easy in your tongue, so that they may take lesson.

— Muhammad Taqi Usmani

So, We had made it (the Qur‘an) easy in your tongue, so that they may take lesson.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Certainly, We have made this easy in your tongue, in order that they may remember.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And We have made (this Scripture) easy in thy language only that they may heed.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And indeed, We have eased the Qur'an in your tongue that they might be reminded.

— Saheeh International

We have made the Quran easy for you to recite so that perhaps they may take heed.

— Muhammad Sarwar

So have We made it easy in your tongue that they may be mindful.

— Muhammad Habib Shakir

And We have made it easy in thy language; they might haply be admonished.

— Abdul Majid Daryabadi

Verily, We have made this (Qur'an) easy, in thy tongue, in order that they may give heed.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 44:58

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 51–59

جب موت کو ذبح کرایا جائے گا بدبختوں کا ذکر کر کے اب نیک بختوں کا حال بیان ہو رہا ہے۔ اسی لئے قرآن کریم کو مثانی کہا گیا ہے اس دنیا میں جو اللہ تعالیٰ مالک و خالق و قادر سے ڈرتے دبتے رہے وہ قیامت کے دن جنت میں نہایت امن وامان سے ہوں گے۔ موت سے وہاں سے نکلنے کے، غم و رنج، گھبراہٹ، مشکلوں، دکھ درد، تکلیف، مشقت، شیطان اور اس کے مکر سے رب کی ناراضگی سے غرض تمام آفتوں اور مصیبتوں سے نڈر بےفکر مطمئن اور بےاندیشہ ہوں گے۔ جہنمیوں کو تو زقوم کا درخت اور آگ جیسا گرم پانی ملے گا اور انہیں جنتیں اور نہریں ملیں گی مختلف قسم کے ریشمی پارچہ جات انہیں پہننے کو ملیں گے جن میں نرم باریک بھی ہوگا اور دبیز چمکیلا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 57–59

سورة الدُّخَان 45 یعنی اب اگر یہ لوگ نصیحت قبول نہیں کرتے تو دیکھتے رہو کہ ان کی کس طرح شامت آتی ہے، اور یہ بھی منتظر ہیں کہ دیکھیں تمہاری اس دعوت کا کیا انجام ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 56–59

(آیت) لَا يَذُوْقُوْنَ فِيْهَا الْمَوْتَ اِلَّا الْمَوْتَةَ الْاُوْلٰى مطلب یہ ہے کہ جو موت ایک مرتبہ آ چکی بس وہ آ چکی اس کے بعد کوئی موت ان پر نہیں آئے گی اور یہ بات اگرچہ اہل جہنم کو بھی حاصل ہوگی، لیکن ظاہر ہے کہ وہ ان کے لئے اور زیادہ تکلیف کا سبب ہوگی اور اہل جنت کے لئے سرور و کیف میں اضافے کا باعث۔ کیونکہ نعمت خواہ کتنی بڑی ہو اس کے زوال کا تصور لازماً کدورت کا سبب ہوتا ہے اور اہل جنت جب یہ تصور کریں گے کہ یہ نعمتیں کبھی ہم سے نہیں چھنیں گی تو اس سے ان کی مسرتوں میں اضافہ ہوگا۔ الحمد اللہ کہ آج بتاریخ 6 رجب 1392 ھ بروز پنجشنبہ بوقت نماز عشاء سورة دخان کی تفسیر مکمل ہوئی واللہ الحمد…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

-6 خاتمہ سورة …آیات 59-58 یاد ہوگا اس سورة کا آغاز قرآن کی عظمت کے بیان سے ہوا تھا کہ بڑی ہی عظیم نعمت ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اہل عرب کو نوازا ہے۔ اگر وہ اس کی قدر کریں گے تو دنیا اور آخرت دونوں میں فوز عظیم کے وارث ہوں گے اور اگر کھمنڈ میں مبتلا ہو کر اس کی ناقدری کریں گے تو یاد رکھیں کہ یہ جتنی بڑی نعمت ہے اتنی ہی بڑی نقمت بھی بن جائے گا اور وہ دنیا و آخرت دونوں میں اپنی بربادی کا سامان کریں گے۔ اس تمہیدی مضمون کے بعد قرآن کے دعا دی کی صداقت کے دلائل مذکور ہوئے۔ اب آخر میں ایک نئے پہلو سے پھر اسی مضمون کی یاد دہانی فرما دی گئی جس سے سورة کا آغاز ہوا تھا۔ گویا سورة اسی مضمون پو ختم ہوئی جس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 58–59

59۔ 1 تو عذاب الٰہی کا انتظار کر، اگر یہ ایمان نہ لائے۔ یہ منتظر ہیں اس بات کے کہ اسلام کے غلبہ و نفوذ سے قبل ہی شاید آپ موت سے ہمکنار ہوجائیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 54–59

14: یہ لوگ تو جھٹلانے کے انداز میں قیامت کا انتظار کر رہے ہیں، اور آنحضرت ﷺ کو تصدیق کے ساتھ اس کے انتظار کا حکم دیا گیا ہے کہ اس وقت ساری حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی، اور ان کافروں کو سخت سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 58–59

آیت نمبر 58 تا 59 یہ اس سورت کا خاتمہ ہے ، اس میں اس پوری سورت کی فضا اور اس کے موضوع بحث کا خلاصہ پیش کردیا گیا ہے۔ یہ خاتمہ اس کے آغاز اور اس میں بحث کی جو لائن اختیار کی گئی ہے اس کے مطابق ہے۔ آغاز ذکر کتاب ، نزول کتاب اور غرض نزول یعنی ڈرانے اور نصیحت کرنے سے ہوا تھا۔ اور اس کے سیاق میں اس عذاب کی تصریح کی گئی تھی۔ جو ان مکذبین کے انتظار میں ہے۔ یوم نبطش البطشۃ الکبری انا منتقمون (44 : 16) ” جس دن یہ بڑی ضرب لگائیں گے ، وہ دن ہوگا جب ہم تم سے انتقام لیں گے “۔ اب یہ خاتمہ یوں ہے کہ ان کو یاد دلایا جاتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کی زبانی قرآن مجید تمہارے لیے آسان کردیا گیا ہے جو عربی زبان میں ایک…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 58 { فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰــہُ بِلِسَانِکَ لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ } ”تو اے نبی ﷺ ! ہم نے اس قرآن کو آسان کردیا ہے آپ کی زبان پر ‘ تاکہ یہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔“ قرآن کی زبان بہت فصیح وبلیغ ہونے کے باوجود بڑی سادہ اور آسان ہے۔ بعض مصنفین دقیق اور ثقیل الفاظ استعمال کر کے قارئین پر اپنی علمیت کی دھاک بٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ عربی کی کتاب ”مقاماتِ حریری“ پڑھیں تو اس میں آپ کو بھاری بھر کم اور نامانوس الفاظ کی کثرت سے محسوس ہوگا کہ شاید کتاب لکھنے سے مصنف کا مقصود صرف اپنے ذخیرہ الفاظ کا مظاہرہ کرنا ہی ہے۔ بہر حال قرآن اللہ کا کلام ہے اور اس کا مقصد بنی نوع انسان کو ہدایت دینا ہے۔ اللہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

39 کیا قرآن آسان ہے یا مشکل ترین ؟ اللہ نے تو واقعی قرآن کو آسان ہی بنایا تھا لیکن ہمارے فرقہ باز علماء نے اسے مشکل ترین کتاب بنادیا ہے اور یہی کچھ عوام کو ذہن نشین کرایا جاتا ہے کہ اس کی دلیل درس نظامی کا وہ نصاب ہے جو دینی مدارس میں چھ، سات، آٹھ حتیٰ کہ نو سال میں پڑھایا جاتا ہے۔ اس نصاب میں قرآن کے ترجمہ اور تفسیر کی باری عموماً آخری سال میں آتی ہے۔ پہلے چند سال تو صرف و نحو میں صرف کئے جاتے ہیں۔ ان علوم کو خادم قرآن علوم کہا جاتا ہے۔ ان علوم کی افادیت مسلم لیکن جس طالب علم کو فرصت ہی دو چار سال کے لیے ملے اسے کیا قرآن سے بےبہرہ ہی رکھنا چاہئے ؟ پھر اس کے بعد فقہ پڑھائی جاتی ہے۔ تاکہ قرآن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 58–59

29۔ یعنی آپ تبلیغ کے علاوہ اور کسی فکر وتردد میں نہ پڑئیے اور ان پر نزول ضرر کے منتظر رہیے۔ جس طرح یہ اپنی حماقت سے آپ پر نزول ضرر کے منتظر ہیں (آیت) ” لعلھم یتذکرون “۔ یعنی آپ ﷺ کی زبان میں قرآن کے نازل ہونے کی ایک مصلحت یہ ہے کہ آپ ﷺ کے یہ مخاطبین اسے داعی اول ﷺ ہی کی زبان سے خوب سمجھ کر اس سے نفع حاصل کریں :۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 43–59

آیت نمبر 43 تا 59 ترجمہ : بیشک زقوم (تھوہڑ) کا درخت جو کڑوا اور خبیث ترین ہے تہامہ میں پیدا ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو دوزخ میں پیدا فرمائے گا، مجرموں کا کھانا ہے یعنی ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کا جو بڑا گنہگار ہیں، اور وہ سیاہ تیل (تارکول) کی تلچھٹ کے مانند ہے (کالمھل) ثانی خبر ہے، وہ تیز گرم پانی کے مانند پیٹ میں کھولتا رہتا ہے (تغلی) تاء فوقانیہ کے ساتھ تیسری خبر ہے اور یاء تحتانیہ کے ساتھ المھل سے حال ہے جہنم پر مقرر فرشتوں کو حکم دیا جائے گا کہ مجرم کو پکڑ لو پھر گھسیٹتے ہوئے بیچ جہنم تک پہنچا دو (فاعتلوہ) کسرۂ اور ضمہ تاء کے ساتھ یعنی اس کو سختی اور شدت کے ساتھ کھینچو، پھر اس کے سر پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فانما یسرنہ بلسانک لعلھم یتذکرون۔ سو ہم نے اس (قرآن) کو آپ کی زبان (عربی) میں آسان کردیا تاکہ یہ لوگ نصیحت قبول کریں

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 58–59

(58۔ 59) سو ہم نے اس قرآن کریم کی قرات کو آسان کردیا تاکہ یہ لوگ قرآن کریم سے نصیحت قبول کریں سو آپ بدر کے دن ان کی ہلاکت کے منتظر رہیے یہ بھی آپ کے نقصان کے منتظر ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے ان سب بدبختوں کو بدر کے دن ہلاک کردیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فانما یسرنہ بلسانک لعلھم یتذکرون : سورت کی ابتدا قرآن کریم کی عظمت و اہمیت کے بیان سے ہوئی تھی، آخر میں پھر اسی کی طرف توجہ دلائی کہ ہم نے یہ قرآن آپ کی زبان عربی میں آسان کردیا ہے، تاکہ عرب لوگ اسے اپنی زبان میں ہونے کی وجہ سے آسانی کے ساتھ سمجھ لیں اور غیر عرب لوگوں کو سمجھائیں۔ مزید دیکھیے سورة مریم کی آیت (97) کی تفسیر۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 58–59

یعنی قرآن ہم نے اسے آپ کی زبان پر نازل کر کے آپ پر اور جو بھی اسے پڑھے اس پر آسان کردیا ہے ممکن ہے وہ نصیحت حاصل کریں اور اپنے برے اعمال سے رک جائیں اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (القمر) اس سورت کا اختتام قرآن کی اتباع پر برانگختیہ کرنے پر کیا ہے اگرچہ اس کا پہلے ذکر نہیں ہوا جس طرح سورت کے آغاز میں ہوا (القدر) جس طرح پہلے گزر چکا۔ میں نے آپ سے ان کے خلاف جو وعدہ کیا ہے اس کا انتظار کیجئے جس طرح وہ آپ کی موت کا انتظار کررہے ہیں نقاش نے اسے بیان کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اپنے رب کی جانب سے فتح کا انتظار کیجئے جس طرح وہ اپنے گمان کے مطابق تجھ پر غلبہ پانے کا انتظار کر رہے ہیں۔ ایک…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 51–59

18:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان المتقین فی مقام امین “ (بلاشبہ متقی لوگ امن کی جگہ ہوں گے یعنی موت اور عذاب سے امن میں ہوں گے۔ 19:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے ضحاک (رح) سے (آیت ) ” فی مقام امین “ کے بارے میں روایت کیا کہ (جنت) میں موت سے امن میں ہوں گے اور بوڑھا ہونے سے بھی امن میں ہوں گے۔ اور نہ وہ بھوکے ہوں گے اور نہ وہ ننگے ہوں گے۔ 20:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان المتقین فی مقام امین “ یعنی وہ امن میں ہوں گے شیطان سے اور بیماریوں سے اور غموں سے (آیت ) ” زوجنا ھم بحور عین “ (اور ہم ان کا گوری گوری فراخ آنکھوں والیوں سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَاِنَّمَا [ تو کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] يَسَّرْنٰهُ [ ہم نے آسان کیا اس (قرآن ) کو ] بِلِسَانِكَ [آ پکی زبان میں ] لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ [ شاید یہ لوگ نصیحت پکڑیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 58–59

ہم نے قرآن کو آپ کی زبان پر آسان کردیا ہے، آپ انتظار کریں، یہ لوگ بھی منتظر ہیں یہ سورة الدخان کی آخری دو آیتیں ہیں یہ سورت قرآن کریم کی قسم کھانے اور مبارک رات میں نازل فرمانے کے ذکر سے شروع ہوئی تھی آخر سورت میں پھر قرآن کا تذکرہ فرمایا کہ ہم نے اس کو آپ کی زبان پر آسان کردیا ہے آپ کی زبان عربی ہے یہ بھی عربی ہے آپ اسے پڑھیں اور ان کے سامنے بیان کریں تاکہ یہ لوگ نصیحت حاصل کریں نیز یہ فرمایا کہ آپ انتظار فرمائیں یہ لوگ بھی انتظار کر رہے ہیں یعنی اگر یہ لوگ نصیحت قبول نہیں کرتے اور اس انتظار میں ہیں کہ آپ کو تکلیف پہنچ جائے تو آپ سمجھ لیں ان کے انتظار اور آرزو سے کچھ ہونے والا نہیں۔ اللہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 40–59

تہدید وتنبیہ از روز قیامت وبیان نجات و کامیابی مومنین ومتقین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان یوم الفصل ...... الی ........ فارتقب انھم مرتقبون “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں مجرمین کی سزاؤں اور ان کے عبرت ناک انجام کا بیان تھا جس کے بعد ان کے بالمقابل مطیعین کے انعام واکرام کا ذکر فرمایا گیا تو اب اختتام مضمون پر مزید یوم آخرت کی عظمت ومصیبت کا بیان فرماتے ہوئے اہل ایمان وتقوی پر حق تعالیٰ کے جو انعامات ہوں گے ان کا ذکر کیا گیا ، اور کافر ونافرمان کیسی شدت و تکلیف اور مصیبتوں میں مبتلا ہوں گے اس کو بھی واضح کرتے ہوئے فیصلہ فرمایا گیا کہ اصل کامیابی اور کامرانی حق تعالیٰ پر ایمان لانے اور آنحضرت ﷺ کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 56–58

28:۔ ” فانمایسرناہ “ یہ ساری سورت سے متعلق ہے گویا ساری سورت کا خلاصہ ہے۔ ہم نے اس (کتاب مبین) قرآن کو یا اس حکمنامے کو آپ کی زبان پر نہایت آسان زبان و اسلوب میں بیان کردیا ہے تاکہ لوگ اس آسانی سے سمجھ لیں اور اس کی تعلیمات پر عمل کریں۔ وھذا فذلکۃ و اجمال لما فی السورۃ بعد تفصیل تذکیرا لما سلف مشروحا فیہا فالمنعی ذکرہم بالکتاب المبین فنما یسرنہ بلسانک کی یفہموہ ویتذکروا بہ ویعملوا بموجبہ (روح ج 5 ص 137) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 42–59

ربط آیات پہلے قرآن کی حقانیت اور صداقت بیان کی۔ پھر توحید کا مسئلہ سمجھایا ، مشرکین کی قباحت ، شرک کا رد اور پھر اس کا انجام بھی بیان ہوا۔ حق کی مخالفت کرنے والوں میں فرعون اور اس کے حواریوں کا تذکرہ ہوا اور پھر ان کی غرقابی کا ذکر بھی ہوا اللہ نے بنی اسرائیل کو فرعن کی غلامی سے نجات دلائی اور ان کو اپنے زمانے میں ہاں بھر میں فضیلت عطا کی ، پھر قریش مکہ اور مشرکین عرب کو تنبیہ کی گئی کہ تم سے پہلے قوم تبع جیسے بڑے بڑے ساز و سامان اور دولت والے لوگ گزر چکے ہیں ، ان کے حالات سے عبرت پکڑو تم کس بنا پر قیامت کا انکار کر رہے ہو ، فرمایا ہم نے ارض و سما اور ان کے درمیان کی اشیاء کو محض لہو و لہب کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاِنَّمَا يَسَّرْنٰہُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّہُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ۝ 58 سار السَّيْرُ : المضيّ في الأرض، ورجل سَائِرٌ ، وسَيَّارٌ ، والسَّيَّارَةُ : الجماعة، قال تعالی: وَجاءَتْ سَيَّارَةٌ [يوسف/ 19] ، يقال : سِرْتُ ، وسِرْتُ بفلان، وسِرْتُهُ أيضا، وسَيَّرْتُهُ علی التّكثير، فمن الأوّل قوله : أَفَلَمْ يَسِيرُوا[ الحج/ 46] ، قُلْ سِيرُوا[ الأنعام/ 11] ، سِيرُوا فِيها لَيالِيَ [ سبأ/ 18] ، ومن الثاني قوله : سارَ بِأَهْلِهِ [ القصص/ 29] ، ولم يجئ في القرآن القسم الثالث، وهو سِرْتُهُ. والرابع قوله : وَسُيِّرَتِ الْجِبالُ [ النبأ/ 20] ، هُوَ الَّذِي يُسَيِّرُكُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ [يونس/ 22] ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 56–59

لایذوقون فیہا الموت الالموتۃ الاولی یعنی جنت میں کبھی موت کا مزہ نہ چکھیں گے بجز اس کے کہ جو پہلے دنیا میں چکھ چکے ہیں استثناء منقطع ہے۔ اے لکن الموتۃ کذاقال الزجاج والفراء۔ ابتدائِ سورة میں قرآن مجید کے چند اوصاف بیان فرمائے تھے منجملہ ان کے ایک یہ کہ وہ مبین ہے یعنی اس میں ہر چیز کا بیان وضاحت کے ساتھ ہے اب یہاں اس کی اور بھی تشریح کرتا ہے کہ یسرناہ بلسانک کہ اے محمد ﷺ تیری زبان میں سمجھنے کے لیے اس کو آسان کیا تاکہ لوگ سمجھیں مگر بدبخت نہیں سمجھتے اور تجھ پر موت یا ہلاکت آنے کے منتظر رہتے ہیں سو تو بھی اے محمد ﷺ ان پر بلا آنے کا انتظار کر۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 58–59

فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰـہُ بِلِسَانِکَ لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ ۔ فَارْتَقِبْ اِنَّہُمْ مُّرْتَقِبُوْنَ ۔ (الدخان : 58، 59) (پس ہم نے اس کتاب کو آپ کی زبان میں سہل بنادیا ہے تاکہ یہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ تو آپ بھی انتظار کریں، یہ بھی منتظر ہیں۔ ) قرآن کریم کا عربی زبان میں نزول اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے قرآن کریم کا عام طور پر اسلوب یہ ہے کہ وہ جس مضمون سے سورة کا آغاز کرتا ہے، سورة کے اختتام پر اسی مضمون کو Sum off کرتا ہے۔ یہاں بھی ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس سورة کا آغاز قرآن کریم کی اہمیت و افادیت سے ہوا تھا۔ اور یہ بات واضح کی گئی تھی کہ انسانوں کی دنیوی اور اخروی کامیابی کا دارومدار اس قرآن کریم…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 58–59

فہم القرآن ربط کلام : الدّخان کی ابتداء قرآن مجید کے تعارف سے ہوئی اور اس کا اختتام بھی قرآن مجید کے بیان پر ہورہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی آخرالزمان ﷺ پر قرآن مجید اس لیے نازل فرمایا تاکہ آپ لوگوں کو اس کے ساتھ نصیحت فرمائیں۔ اس لیے قرآن مجید کو ” مَوْعِظَۃً “ اور ذکر کہا ہے۔ ذکر کا معنٰی ہے ایسی نصیحت جسے بار بار پیش کیا جائے اور اسے یاد رکھا جائے۔ ” مَوْعِظَۃً “ ایسی نصیحت کو کہتے ہیں جو سننے والے کے دل پر اثر کرے۔ ظاہر بات ہے کہ نصیحت وہی مؤثر اور بہتر ہوتی ہے جس کا انداز اور الفاظ آسان تر ہوں۔ اس لیے قرآن مجید کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم نے اس کو آسان کردیا ہے کیا کوئی اسے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 58 : فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰہُ (پس ہم نے اس قرآن کو آپ کی زبان پر آسان کردیا ہے) ہٗ سے مراد کتاب ہے۔ اور اس کا تذکرہ ابتدائے سورت میں ہوا ہے۔ بِلِسَانِکَ لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ (تاکہ یہ نصیحت قبول کریں) یتذکرون۔ نصیحت قبول کرنے کے معنی میں ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 58–59

58۔ 59۔ سورة ابراہیم میں گزر چکا ہے کہ ہر ایک نبی کو اللہ تعالیٰ نے جس قوم کی ہدایت کے لئے بھیجا ہے اس نبی کو وحی بھی اسی زبان میں بھیجی ہے جو زبان اس قوم کی بول چال میں جاری تھی تاکہ وحی کے ذریعہ سے جو احکام اللہ تعالیٰ کے نازل ہوں وہ ہر وقت کے نبی اپنی قوم کو جلدی سے سمجھا دیں اور پھر ترجمہ اور تفسیر کے ذریعہ سے احکام غیر قوم کے لوگوں کو بھی پہنچ جائیں۔ آنحضرت ﷺ کی نبوت اگرچہ جن و انسان تمام مخلوقات کے ہدایت کے لئے ہے لیکن اور انبیاء کے دستور کے موافق قریش کی زبان میں قرآن کی نصیحت سے جلدی واقف ہوجائیں اور پھر ان کے ذریعہ سے قرآن کی نصیحت غیر قوم کے لوگوں کو بھی پہنچ جائے اسی حکمت کی صراحت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 51–59

آیت 51 یہ تقویٰ شعار لوگوں کی جزا ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے ڈر کر گناہوں کو ترک کیا اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔ جب ان سے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب کی نفی ہوگئی تو ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی رضا ثابت ہوگئی، نیز ثواب عظیم کے طور پر انہیں بیشمار درختوں کے گھنے سائے، پھل اور چشمے عطا ہوں گے، ان درختوں کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی جن کو اہل ایمان نعمتوں بھری جنت میں اپنے لئے نکال لیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کی اضافت نعمتوں کی طرف کی ہے کیونکہ وہ جنت جن چیزوں پر مشتمل ہے وہ سب نعمتیں ہیں جو ہر لحاظ سے کامل ہیں اور کسی طرح بھی ان میں کوئی رکاوٹ اور کسی قسم کا کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

56 قرآن حکیم کی تیسیر کی عنایت اور اس کا مفہوم و مطلب ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمات حصر و تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " یقینا ہم نے آسان کردیا اس قرآن کو آپ کی زبان میں "۔ یعنی عربی زبان میں جو کہ آپ ﷺ کی اور آپ ﷺ کی قوم کی زبان ہے۔ اور جو سب سے جامع زبان ہے تاکہ اس طرح یہ لوگ قرآن پاک کے معانی و مضامین کو سمجھ کر خود بھی اپنی زندگیاں اس کی تعلیمات مقدسہ کے مطابق ڈھال سکیں اور دوسروں کو بھی اس کی دعوت دے سکیں۔ سو اس قرآن کو ہم نے تعلیم و تذکیر کے مقصد کیلئے نہایت آسان کردیا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ہے ۔ { وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْآن للذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 43–59

گنہگاروں کا حال اور نیکو کاروں کا حال تشریح : قیامت، حساب کا دن اور پھر بدلے کا دن۔ یہ سب بڑی وضاحت سے بیان کئے جا چکے ہیں۔ ایک بار پھر ہم اس پر غور کرتے ہیں بیشک انسانی تاریخ میں حق شناسی کی چنگاریاں بھی ملتی ہیں۔ مگر اس کا بڑا حصہ حق تلفی کی رو داد سے بھرا پڑا ہے۔ مورخ کو بڑی مایوسی ہوتی ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ انسان کا ضمیر جو کچھ چاہتا ہے دنیا کے واقعی حالات اس کے خلاف ہیں یہاں ہم چند اقوال نقل کرتے ہیں۔ والٹر : ” انسانی تاریخ محض جرائم اور مصائب کی تصویر ہے “۔ ہربرٹ اسن پر : ” تاریخ محض بےفائدہ گپ ہے “۔ نپولین : ” تاریخ تمام کی تمام لایعنی قصے کا نام ہے “۔ کیا انسانیت کا یہ عظیم الشان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 43–59

آیات 43 تا 59۔ اسرار ومعارف۔ کفار کا یہ حال ہوگا کہ کھانے کو انہیں زقوم (تھوہر کیکٹس) ملے گا اور بدکاروں کا کھاناایسا ہی ہوناچاہیے پھر وہ زقوم دوزخ کا ہوگا جبکہ دنیا کا بھی بہت کڑوا کسیلا اور بدشکل کانٹوں سے بھرپور ہوتا ہے وہ تو پیٹ میں ایسے کھولے گا جیسے پگھلا ہواتانبا ہو یا جی سے پانی کھولتا ہے اور حکم ہوگا کہ انہیں پکڑ لو اور گھسیٹتے ہوئے دوزخ کے درمیان لے جاؤ اور ان پر دوزخ کے جلتے پانی کا عذاب چھوڑ دو اور انہیں کہو اب اپنی کرتوتوں کا مزہ چکھو کہ تم تو بہت بڑے آدمی بنتے تھے اور تمہیں اللہ کی اطاعت اور نبی کی اتباع کرنے میں عار آتی تھی یہ وہی دوزخ ہے جس کا تمہین یقین نہ آتا تھا اور وہی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 58–59

ف 7 یعنی یہ نصیحت قبول نہیں کر رہے تو آپ دیکھتے رہیں کہ ان کی تباہی کیونکہ آتی ہے اور یہ بھی انتظار کر رہے ہیں کہ آپ جس دعوت کو لے کر اٹھے ہیں اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(44:58) یسرنہ : یسرنا ماضی جمع متکلم تیسیر (تفعیل) مصدر۔ ہم نے آسان کردیا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع القران ہے۔ بلسانک : تیری زبان میں۔ عربی زبان میں۔ لعلہم تاکہ یہ لوگ۔ یتذکرون۔ مضارع جمع مذکر غائب تذکر (تفعل) مصدر۔ نصیحت پکڑتے ہیں۔ تاکہ یہ لوگ نصیحت پکڑیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 43–59

لغات القرآن آیت نمبر 43 تا 59 : شجرت الزقوم ( زقوم ( جہنمیوں کی غذا) کا درخت) الاثیم ( گناہ گار) المھل (پگھلا ہوا تانبہ) یغلی (ابل رہا ہے ، کھول رہا ہے) البطون ( بطن) ( پیٹ) الحمیم (کھولتا پانی) اعتلوا ( گھسیٹتے لے جائو) صبوا (انڈیل دو ) ذق (چکھ) مقام امین ( امن و سکون کی جگہ) سندس ( باریک ریشم) استبرق (دبیر ریشم) تشریح : آیت نمبر 43 تا 59 : اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو نصیحت و عبرت کے لئے نہایت آسان اور سہل بنا کر بھیجا ہے جس میں اس حقیقت کو نہایت وضاحت سے بیان کردیا ہے کہ برے اور اچھے اعمال کا نتیجہ کیا ہے۔ جو لوگ دنیا میں زندگی بھر وقتی لذتوں ، خواہشوں ، تمناؤں اور جھوٹی عزت کے پیچھے دوڑتے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 58–59

(ف 1) اے محبوب ﷺ ہم نے یہ قرآن تم پر اتارا اور اس کا پڑھنا سنانا تم پر آسان کیا تاکہ یہ لوگ سمجھیں اور مانیں اے محبوب ﷺ اگر یہ لوگ نہ سمجھیں تو تم ان کے ہلاک ہونے کا قریب انتظار کرو اور ان کا بد انجام سامنے آجائے گا یہ تو منتظر ہیں کہ تم پر کوئی افتاد پڑے لیکن تم دیکھتے جاؤ کہ ان کا کیا حال بنتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 44–59

[13] یعنی یہ لوگ اگر نہ سمجھیں تو تم چندے انتظار کرو۔ ان کا انجام بد سامنے آجائے گا۔ یہ تو منتظر ہیں کہ تم پر کوئی افتاد پڑے

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 58–59

قرآن کیونکر سہل اور آسان ہے 1: اس آیت میں ایک نہایت ہی لطیف انداز میں یہ بتایا ہے ۔ کہ قرآن حکیم کو جو ہم نے سہل اور آسان قرار دیا ہے ۔ تو تیری تشریحات کے ساتھ اور تیری بیان کردہ تفصیلات کی وجہ سے ، یعنی اگر درمیان میں تیرا وجود نہ رہے ۔ رموز و اسرار کی عقدہ کشائی کے لئے تیری زبان فیض ترجمان نہ موجود ہو ۔ تو پھر محض عربی ادب کے بھروسہ پر اس کو سمجھنا اور اس کے معارف ونکات تک رسائی حاصل کرلینا سخت دشوار ہے ۔ اس کی تعلیمات سے صحیح معنوں میں تذکیر اور عبرت پذیری اسی وقت ممکن ہے ۔ جب مشکوٰۃ نبوت کی روشنی سے دل ودیدہ منور ہوں ۔ اور جب کہ یہ دیکھا جائے ۔ کہ اللہ کے پیغمبر اور کلام الٰہی کے اولین…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(58) سو اے پیغمبر ہم نے اس قرآن کو آپ کی زبان یعنی عربی زبان میں آسان کردیا ہے تاکہ یہ لوگ اس کو سمجھ کر نصیحت قبول کریں اور غور و فکر سے کام لیں۔ آپ کی زبان یعنی عربی میں آسان کیا تاکہ اہل عرب اس کو سمجھیں خود نصیحت قبول کریں اور دوسروں کو سمجھائیں آگے نبی کریم ﷺ کو تسلی دی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 50–59

ف 2۔ یعنی آپ تبلیغ سے زیادہ فکر میں نہ پڑیئے نہ مخالفت پر رنج کیجئے، ان کا معاملہ خدا تعالیٰ کے سپرد کیجئے وہ خود سمجھ لے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلاشبہ ہم نے اس قرآن کو آپ ﷺ کی زبان پر سہل بنادیا ہے تاکہ ان کو نصیحت حاصل ہو 85 ؎ قرآن کریم درد زبان ہو تو اس سے بڑا کوئی اور وظیفہ نہیں اور اللہ تعالیٰ اس کی سمجھ دے دے اور پھر سمجھ کر اس کو درد زبان بنایا جائے تو بلاشبہ کوئی مشکل مشکل نہیں رہتی اور اگر کوئی مشکل پیش آبھی جائے تو حل المشکلات وہ خود رب ذوالجلال والاکرام ہے اس کو ان گرہوں کو کھولتے ذرا دیر نہیں لگتی جن کے کھلنے کی انسان کو امید ہی نہیں ہوتی اور یہی وہ آسانی ہے جو قرآن کریم کو درد زبان بنانے والے کو حاصل ہوتی ہے بلاشبہ اس کا تعلق ایمان کامل سے ہے جتنا ایمان پختہ ہوگا اتنا ہی قرآن کریم آسان ہوتا چلا جائے گا اور جوں جوں وقت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 56–59

لَا يَذُوقُونَ فِيهَا الْمَوْتَ إِلَّا الْمَوْتَةَ الْأُولَىٰ (They will not taste death therein, except for the first death (they faced in the world) - 44:56). In other words, they shall suffer no death other than the first death which they had encountered at the end of their lives in this world. The dwellers of Hell as well will suffer only one death at the end of their lives in this world. The latter, however, will suffer a greater degree of torture when they will know that they will remain alive in this miserable state of punishment, whereas for the former the thought that Allah has saved…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 57–59

45 That is, "If they do not accept the admonition even now, you should wait to see how they arc visited by their doom; and they also arc waiting to see what becomes of the message that you are giving them.

Read the full tafseer →