44. Surah Ad-Dukhaan

الدخانThe Smoke · 59 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayahs 44:1–2

وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ Open ayah 44:2 in the Quran reader

قسم ہے اس کتاب کی جو کھول کر بیان کرنے والی ہے

1 قرآن حکیم اپنی صداقت و حقانیت کی دلیل آپ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " قسم ہے اس کتاب کی جو کہ کھول کر بیان کرنے والی ہے "۔ حق و باطل کو، حلال و حرام کو، جائز و ناجائز کو، صحیح و غلط کو، اسباب فوز و فلاح کو اور ہر اس چیز کو جسکی انسان کو راہ ِحق و ہدایت کے سلسلہ میں ضرورت پیش آسکتی ہے۔ پس اس قدر جامع اور اتنی عظیم کتاب کا ایک ایسے نبی امّی کے ذریعے پیش کیا جانا جس نے دنیا میں کبھی کسی انسان سے کوئی کلمہ و حرف تک نہ سیکھا ہو اس کتاب حکیم کی اور اس کے لانے والے رسول کی صداقت و حقانیت کی ایک زبردست اور کھلی دلیل ہے۔ سو یہ کتاب حکیم اپنے دعوے پر خود ایک قطعی حجت ہے۔ پس یہ کتاب حکیم جس انجام بد سے دنیا کو خبردار کر رہی ہے وہ قطعی طور پر حق اور سچ ہے۔ اور جو ہستی اس کو پیش کر رہی ہے وہ بھی قطعی طور پر ایک رسول مبین ہے۔ اور اس کی دعوت تمام کی تمام حق اور حکمت پر مبنی ہے۔ پس اسکا قبول کرنا باعث رحمت اور اس سے اعراض کرنا اور منہ موڑنا باعث نقمت ہے۔ سو ان باتوں کی صداقت کیلئے دلیل ڈھونڈنے کیلئے قرآن سے کہیں باہر جانے کی ضرورت نہیں بلکہ ان میں سے ہر دعوے کی تصدیق اور اس کو مبرہن کرنے کیلئے یہ کتاب حکیم خود ہی کافی و وافی دلیل ہے۔ پس جو لوگ اس کو جھٹلاتے ہیں وہ خود اپنی شامت ہی کو دعوت دیتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین
Ayah 44:3

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِیْنَ Open ayah 44:3 in the Quran reader

بلاشبہ ہم نے ہی اتارا ہے اس (کتاب حکیم) کو ایک بڑی ہی بابرکت رات میں کہ ہمیں بہرحال خبردار کرنا ہے1

2 عظیم الشان کتاب کا نزول عظیم الشان رات میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ اس کو ہم ہی نے اتارا ایک بڑی ہی بابرکت رات میں "۔ یعنی لیلۃ القدر میں جو کہ رمضان المبارک میں ہوتی ہے۔ کیونکہ دوسری جگہ اس کی تصریح فرما دی گئی ہے کہ یہ قرآن لیلۃ القدر میں اتارا گیا۔ اور اس کی بھی کہ اسے رمضان المبارک کے مہینے میں اتارا گیا۔ لہذا جن لوگوں نے اس سے شعبان کی پندرہویں رات مراد لی ہے انہوں نے حقیقت سے دور کی بات کہی ہے۔ اور اس بارے جو بعض آثار وارد ہیں وہ موثوق بہا نہیں ہیں۔ اور محققین نے انہیں قابل اعتماد اور لائقِ استناد نہیں قرار دیا۔ سو اس لیلہ مبارکہ سے مراد لیلۃ القدر ہی ہے۔ جیسا کہ ثقہ مفسرین کرام اور جمہور علماء کا کہنا ہے۔ (ابن جریر، ابن کثیر، روح، قرطبی، محاسن، خازن وغیرہ) ۔ اہل بدعت کے بعض بڑوں نے تو شب معراج کو بھی اس میں داخل کردیا ہے۔ یعنی وہ بات کہی جو اس سے پہلے کسی بھی معتبر مفسر نے نہیں کہی۔ اور جو نصوص قرآن کے اقتضاء کے صریحاً خلاف ہے۔ اور اس رات کو مبارک اس لئے فرمایا گیا کہ اس میں قران کریم جیسی وہ عظیم الشان اور بےمثال کتاب نازل فرمائی گئی جس کی برکتوں کی نہ کوئی حد ہے نہ انتہا۔ کہ یہ اس اللہ وحدہ لا شریک کا کلام حق ترجمان ہے جسکی کسی بھی صفت کی نہ کوئی حد ہے نہ انتہائ۔ اور یہ کتاب حکیم ایسی بےمثل اور بےنظیر نعمت ہے کہ اس کے نزول کے بعد قیامت تک اس کے سوا کلام الٰہی کا دوسرا ایسا کوئی نمونہ موجود نہیں جو اپنی اصل شکل و صورت میں موجود ہو۔ اور جو ہر طرح کے شوائب اور غل وغش سے خالی اور محفوظ ہو۔ سو جو لوگ اس کتاب حکیم اور اس پر ایمان و یقین کے نور سے محروم ہیں وہ یقینی طور پر حق و ہدایت کے نور سے محروم ہیں اگرچہ وہ کتنے ہی بلندو بانگ دعوے کیوں نہ کرتے ہوں اور دنیاوی اور مادی ترقی کے اعتبار سے وہ کتنے ہی اونچے مراتب و درجات پر فائز و براجمان کیوں نہ ہوں کہ وہ نور حق اور دولت ایمان و یقین سے محروم اور گھٹا ٹوپ اندھیروں میں پڑے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔ 3 اِنزال قرآن کا اصل مقصد انذار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے بہرحال خبردار کرنا تھا "۔ یعنی خبردار کرنا تھا لوگوں کو انکو مآل و انجام سے۔ تاکہ وہ راہ راست پر آجائیں۔ سو اسی لیے ہم نے اس کتاب حکیم کو اتارا اپنی رحمت بےپایاں کے تقاضوں کے مطابق۔ تاکہ لوگ ابدی ہلاکت و شقاوت سے بچ سکیں۔ اور جو نہ مانیں ان پر حجت قائم ہو سکے۔ اور کل قیامت کے روز ایسے لوگ یہ نہ کہہ سکیں اور یہ عذر نہ پیش کرسکیں کہ انکو انذار کے بغیر ہی پکڑا گیا۔ اور خاص کر ان لوگوں کے انذار کیلئے جن کے آباء و اجداد کو خبردار نہیں کیا گیا تھا۔ جس کے باعث وہ غفلت میں پڑے حیوانوں کی زندگی گزار رہے تھے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّا اُنْذِرَ آبَائُ ہُمْ فَہُمْ غَافِلُوْنَ } ۔ یعنی " تاکہ آپ اس کتاب حکیم کی ذریعے ان لوگوں کو خبردار کریں لیکن جن کے باپ دادوں کو خبردار نہیں کیا گیا جس سے وہ غفلت میں پڑے ہیں " (یس :6) ۔ سو انذار نزول قرآن کا بنیادی اور اہم مقصد ہے تاکہ لوگ باز آجائیں غفلت و لاپرواہی اور بےراہ روی سے اور اس کے نتیجے یہ بچ جائیں اپنے ہولناک انجام اور ابدی خسارے سے۔ سو یہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی رحمت و عنایت کا ایک عظیم الشان مظہر و نمونہ ہے ۔ فللہ الحمد ولہ الشکر۔
Ayah 44:4

فِیْهَا یُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِیْمٍۙ Open ayah 44:4 in the Quran reader

جس میں فیصلہ کیا جاتا ہے ہر حکمت والے کام کا

4 نزول قرآن کی رات فیصلے کی رات : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس میں فیصلہ کیا جاتا ہے ہر حکمت والے کام کا "۔ یعنی اگلے سال تک کے لئے بندوں کی روزی اور زندگی و موت وغیرہ کے تمام اہم معاملات لوح محفوظ سے اتار کر متعلقہ فرشتوں کے حوالے کر دئے جاتے ہیں۔ تاکہ وہ اس کے مطابق ان کی تنفیذ کی خدمت انجام دیے سکیں۔ (خازن، مدارک، جامع البیان وغیرہ) ۔ اس آیت کریمہ اور سورة قدر کو ملا کر دیکھنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اس رات میں اللہ تعالیٰ اپنے ملائکہ و مقربین کو زمین سے متعلق تمام امور کلیہ سے آگاہ فرما دیتا ہے۔ اور وہ ان سے زمین میں مامور ملائکہ کو آگاہ کرنے میں اللہ تعالیٰ کے مقرر کیے ہوئے نقشے کے مطابق اس کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔ سو نزول قرآن کی یہ رات بڑی ہی عظیم الشان اور برکتوں والی رات ہے جس میں ہر اہم معاملے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ اور وہ فیصلے سراسر علم وحکمت پر مبنی ہوتے ہیں۔ ان میں کسی غلطی یا خامی اور نقص و قصور کا کوئی احتمال و امکان نہیں ہوسکتا۔ اور اس خالق حکیم کا ہر فیصلہ ایسا ٹھوس اور پختہ ہوتا ہے کہ اس کو بدلنے یا اس میں رکاوٹ بننے کا یارا کسی کو بھی نہیں ہوسکتا۔ سو وہ رات بڑی ہی عظیم الشان رات ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کی قدر پہچاننے کی توفیق بخشے ۔ آمین۔
Ayah 44:5

اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَۚ Open ayah 44:5 in the Quran reader

ہمارے حکم کی بناء پر بیشک ہمیں رسول بھیجنا تھا

5 سب کچھ امر الٰہی ہی سے ہوتا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہمارے حکم کی بنا پر "۔ یعنی یہ سب کچھ ہمارے ہی حکم وارشاد سے اور ہماری ہی طرف سے ہوتا ہے۔ { اَمْرًا } کی تنکیر و تنوین اور پھر { مِنْ عِنْدِنَا } کی نسبت سے اس کی تفخیم و تعظیم کی طرف اشارہ نکلتا ہے۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ سب کچھ خاص امر الہٰی سے ہوتا ہے " اس میں کسی اور کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ اس لیے بندوں پر واجب ہے کہ وہ اس کو اس کائنات کے بادشاہ حقیقی کے خاص فرمان کی حیثیت سے قبول کریں اور سچے جذبہ اطاعت کے ساتھ اس کے آگے سر تسلیم خم ہوجائیں۔ اور اس کے ہر حکم کی صدق دل سے اطاعت کریں۔ اور اگر اس کو انہوں نے رد کیا، اس کا مذاق اڑایا اور اس کی تکذیب کی تو یہ یاد رکھیں کہ یہ اس کائنات کے بادشاہ حقیقی سے بغاوت ہوگی ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور کائنات کے بادشاہ حقیقی سے بغاوت کا جرم نہایت ہی سنگین جرم ہے۔ اور اس کی سزا بڑی ہی سخت اور ہولناک ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر گامزن رکھے ۔ آمین۔ 6 دستور ہدایت کا تقاضا رسول حق کو بھیجنا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ ہم نے رسول بھیجنا تھا "۔ یہ جملہ ۔ { اِنَّا کُنّا مُنْذِریْنِ } ۔ سے بدل ہے۔ یعنی چونکہ ہمیں اپنی سنت اور اپنے دستور کے مطابق لوگوں کے سمجھانے اور انہیں خبردار کرنے کے لئے رسول بھیجنا تھا اس لئے ہم نے خاتم الانبیاء کو مبعوث کرکے ان پر یہ قرآن کریم نازل فرمایا۔ تاکہ لوگوں کے لئے راہ حق و صواب واضح ہو سکے اور وہ دارین کی سعادت و سرخروئی اور حقیقی فوز و فلاح سے ہمکنار و سرفراز ہو سکیں۔ اس لئے کہ اپنے بندوں کی ہدایت اور راہنمائی کو ہم نے اپنے ذمے لے رکھا ہے ۔ { اِنَّ عَلَیْنَا لَلْہُدٰی وَاِنَّ لَنَا الاٰخِرَۃَ وَالاُوْلٰی } ۔ (اللیل : 13-12) ۔ نیز فرمایا گیا ۔ { وَعَلَی اللَّہِ قصْدُ السَّبِیْلِ وَمِنْہا جائرَ } ۔ (النحل : 9) اور یہ اس لئے کہ ہماری ہدایت و راہنمائی کے بغیر بندوں کی ہدایت ممکن ہی نہیں۔ سو رسول کی بعثت اسی سکیم کے تحت ہوئی ہے۔ اور اس کیلئے وحی کا آغاز بھی ٹھیک اسی رات ہوا جو اس طرح کے اہم امور کے ظہور کیلئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
Ayahs 44:6–7

رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُۙ Open ayah 44:6 in the Quran reader

تیرے رب کی عظیم الشان رحمت کی بناء پر بلاشبہ وہی ہے جو (ہر کسی کی) سنتا (سب کچھ) جانتا ہے

رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ۘ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ Open ayah 44:7 in the Quran reader

جو کہ رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور اس (ساری کائنات) کا جو کہ ان دونوں کے درمیان ہے اگر تم یقین کرنے والے ہو2

8 بعثت رسول رب کی شان ربوبیت کا تقاضا : سو ارشاد فرمایا گیا " جو کہ رب ہے آسمان و زمین کی اس ساری کائنات کا "۔ سو اس کی اس عظیم الشان ربوبیت کا جو کہ اس عالم میں ہر طرف پھیلی ہوئی ہے کا تقاضا یہ ہے کہ جس طرح اس نے تمہاری جسمانی اور مادی ضرورتوں کی تکمیل و تحصیل کے لئے اس طرح عظیم الشان اور حکمتوں بھرا انتظام فرمایا اسی طرح بلکہ اس سے بھی کہیں بڑھ کر وہ تمہاری روحانی ضرورتوں کی تکمیل کا سامان کرے۔ کیونکہ اس مادی جسم اور اس کے تقاضوں کے مقابلے میں اصل چیز روح اور اس کے تقاضے ہی ہیں۔ اس لئے اس نے مختلف انبیائے کرام مبعوث فرمائے۔ ان پر اپنی کتابیں اتاریں۔ اور اب حضرت خاتم الانبیاء ۔ ﷺ ۔ کی بعثت اور ان پر خاتم الکتب کے انزال سے اس سلسلے کی تکمیل فرما دی ۔ فَلَہٗ الْحَمْدُ وَلَہ الشُّکْرُ ۔ نیز جب آسمان و زمین اور ان دونوں کے درمیان کی اس عظیم الشان اور بےمثل کائنات کی تخلیق اور اس کے چلانے میں کوئی اس کا شریک وسہیم نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک وسہیم کس طرح ہوسکتا ہے ؟ پس معبود برحق وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اور عبادت کی ہر قسم اور ہر شکل اسی کے ساتھ خاص اور اسی کا حق ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ نیز اس میں منکرین و مخالفین کے لیے بڑی وعید اور سخت تنبیہ بھی ہے کہ یہ کلام حکیم کوئی معمولی کلام نہیں بلکہ یہ اس ذات اقدس و اعلیٰ کا کلام واجب الاذعان ہے جو آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی اس ساری کائنات کا خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصرف ہے۔ پس اس سے اعراض و روگردانی بغاوت اور بڑا ہی سنگین اور انتہائی ہولناک جرم ہے جس کا نتیجہ وانجام بڑا ہی ہولناک اور انتہائی خطرناک ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 9 نور ہدایت سے سرفرازی کی اساس و بنیاد طلب صادق : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر تم لوگ واقعی یقین کرنے والے ہو " یعنی اگر تم لوگ ایمان و یقین سے سرفراز ہونا چاہتے ہو تو اس حقیقت کو صدق دل سے مان لو کہ حق اور حقیقت یہی اور صرف یہی ہے۔ اور یہ حقیقت نہایت بدیہی اور واضح ہے۔ جس نے یقین کرنا ہو اس کے لیے اس کے بعد کسی اور دلیل کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ لیکن اگر کسی نے ماننا ہی نہ ہو تو اس کیلئے دلائل کے دفتر بھی بیکار ہیں۔ ایسا شخص بدیہی سے بدیہی حقیقت کا بھی انکار کردیتا ہے۔ اور کوئی بڑے سے بڑا منطقی اور فلسفی بھی اس کو قائل نہیں کرسکتا کہ ضد اور ہٹ دھرمی کا بہرحال کوئی علاج نہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو نور حق و ہدایت سے سرفرازی کے لیے اساس و بنیاد طلب صادق ہے۔ وہ اگر نہ ہو تو پھر انسان کے لیے محرومی ہی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر گامزن رکھے ۔ آمین۔
Ayah 44:8

لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 44:8 in the Quran reader

اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی زندگی بخشتا ہے اور اسی کا کام ہے موت دینا وہی رب ہے تمہارا بھی اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا بھی

10 معبود برحق اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر اور ادوات حصر و قصر کے ساتھ فرمایا گیا کہ " کوئی بھی عبادت کے لائق نہیں سوائے اس وحدہ لاشریک کے "۔ پس اس وحدہ لاشریک کے سوا جس کسی کی بھی بندگی و پوجا کسی نے کی اس نے بڑے بھاری ظلم کا ارتکاب کیا۔ اور جس کا بھگتان اس کو بہرحال بھگتنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہ اوپر والے مضمون کی تاکید مزید ہے کہ اس وحدہ لاشریک کے سوا دوسرا کوئی بھی ایسا معبود نہیں جسکی سفارش تمہارے کچھ کام آسکے۔ زندگی اور موت کے سب اختیارات اسی وحدہ لاشریک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہیں۔ وہی ہے جو زندگی بخشتا ہے اور موت سے ہمکنار کرتا ہے۔ اور یہ شان اس وحدہ لا شریک کے سوا اور کسی کی نہ ہوئی ہے نہ ہوسکتی ہے۔ اس لیے معبود بھی اس کی سوا کوئی نہیں ہوسکتا۔ پس ہر قسم کی عبادت و بندگی اسی کا حق اور اسی کے ساتھ مختص ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ - 11 رب سب کا اللہ تعالیٰ ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہی رب ہے تمہارا بھی اور تمہاے آباء و اجداد کا بھی "۔ اور جب اس کی ان اور ان صفات میں اس کا کوئی شریک وسہیم نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک وسہیم کیسے ہوسکتا ہے ؟ پس عبادت کی ہر قسم اور ہر شکل اسی کا حق اور اسی کے ساتھ مختص ہے۔ سجدہ و رکوع بھی اسی کے لئے اور قیام و طواف بھی اسی کے لئے۔ نذر و نیاز بھی اسی کے لئے اور حاجت روائی ومشکل کشائی کیلئے غائبانہ پکارنا بھی اسی کے ساتھ خاص اور اسی کا حق ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کہ حاجت روا و مشکل کشا بھی وہی اور صرف وہی ہے ۔ جل و علا شانہ ۔ وہی رب ہے تمہارا بھی اور تمہارے اگلے آباء و اجداد کا بھی۔ اگر تمہارے آباء و اجداد نے اس کے سوا کسی اور کی پوجا کی تو یہ ان کی سفاہت و جہالت تھی۔ پس تم ان کی تقلید کو اپنے لیے دلیل نہ بناؤ۔ پرانے شگون پر اپنی ناک مت کٹواؤ اور جہاں کسی نے مکھی ماری تھی تم بھی وہیں مکھی مارنے کی روش کو مت اپناؤ کہ یہ روش حماقت اور جہالت کی روش ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 44:9

بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ یَّلْعَبُوْنَ Open ayah 44:9 in the Quran reader

(مگر ان کو یقین پھر بھی نہیں) بلکہ وہ شک میں پڑے کھیل رہے ہیں

12 بےفکری اور لاپرواہی باعث محرومی ۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا " مگر یہ لوگ شک میں پڑے کھیل رہے ہیں "۔ اور حق اور راہ حق کے لئے یہ لوگ سنجیدگی سے غور و فکر کرتے ہی نہیں۔ ان کی تمام تر تگ و دو دنیا اور اس کے متاع فانی و حطامِ زائل ہی کے لئے ہے۔ اسی محور کے گرد یہ لوگ گھومتے ہیں اور مادئہ و معدہ کی فکر ہی ان پر چھائی ہوئی ہے۔ تو پھر ان کو حق و ہدایت کی روشنی اور ایمان و یقین کی لذت اور ٹھنڈک نصیب ہو تو کیسے ؟ کہ اس کا مدارو انحصار تو طلب صادق اور جستجو و جدوجہد ہی پر ہے۔ اور اس بارے اس وحدہ لاشریک کا صاف اور واضح اعلان ہے ۔ { وَالَّذِیْنَ جَاہَدُوْا فِیْنَا لَنَہْدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَا وَاِنَّ اللہ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ } ۔ (العنکبوت : 69) ۔ اور اس سے یہ لوگ محروم ہیں ۔ والعیاذ باللہ جل و علا ۔ سو یہ انذار وتبشیر ہے تو ایک ایسا امر واقعہ جس میں کسی ذی ہوش کیلئے شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں، لیکن یہ لوگ اپنی خواہشوں کے ایسے غلام ہیں کہ جب تک اس چیز کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں جس سے انکو خبردار کیا جا رہا ہے اس وقت تک یہ ماننے والے نہیں ہیں۔ اس وجہ سے یہ لاپرواہی میں مبتلا اور شک و ارتیاب کی دلدل میں پھنسے پڑے ہیں۔ اور کھیل تماشے میں مشغول اور حق اور اہل حق کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ پس انکو چھوڑ دو انکے حال پر۔ یہاں تک کہ یہ اپنے انجام کو پہنچ جائیں اور اپنے اس ہولناک دن کو خود دیکھ لیں جس سے انکو خبردار کیا جارہا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے ارشاد فرمایا گیا ۔ { فَذَرْہُمْ یَخُوْضُوْا وَیَلْعَبُوْا حَتّٰی یُلٰقُوا یَوْمَہُمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ } ۔ (المعارج : 42) سو اس دن ان کیلئے بڑی ہی ہلاکت اور ہولناک خرابی ہوگی۔ جیسا کہ فرمایا گیا ۔ { فَوَیْلُ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ یَّوْمِہِمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ } ۔ (الذاریات : 60) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو بےفکری و لاپرواہی باعث محرومی اور موجب ہلاکت و تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 44:10

فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَاْتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 44:10 in the Quran reader

پس آپ انتظار کیجئے اس دن کا جب کہ آسمان ایک ایسا ظاہر دھواں لئے ہوئے آئے گا

13 دخان مبین سے مقصود و مراد ؟ : اس دھوئیں سے مراد کون سا دھواں ہے ؟ دنیا کا یا قرب قیامت والا وہ دھواں جو قیامت کی آخری نشانیوں میں سے ہوگا ؟ اس بارے حضرات صحابہ کرام ۔ رضوان اللہ علیھم اجمعین ۔ سے دونوں قول مروی و منقول ہیں۔ اسی لئے جمہور مفسرین کرام کے یہاں اس مقام پر یہ دونوں قول پائے جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ اس عذاب الیم سے مراد قحط کا وہ عذاب ہے جو مشرکین مکہ پر آنحضرت ﷺ کی بد دعا کے نتیجے میں مسلط ہوا تھا۔ جس کی بنا پر وہ لوگ ہڈیاں چمڑے اور مردار تک کھا گئے اور بھوک کی شدت کی بنا پر ان کو اپنی آنکھوں کے سامنے دھواں ہی دھواں نظر آتا تھا۔ آخر کار ابو سفیان نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ آپ تو صلہ رحمی کی دعوت دیتے اور تبلیغ کرتے ہیں۔ اور آپ کی قوم بھوکوں مر رہی ہے۔ اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ اس مصیبت کو دور کر دے۔ اور اسی موقع پر کفار نے کہا تھا کہ خدایا ہم پر سے اس عذاب کو دور کر دے ہم ایمان لے آئیں گے۔ اسی واقعہ کا ذکر ان آیات کریمہ میں فرمایا گیا ہے۔ یہ قول ابن مسعود ؓ کا ہے اور اس بارے جو روایت آپ ؓ کے شاگرد حضرت مسروق سے منقول ہے اس کو امام احمد، بخاری، ترمذی اور نسائی وغیرہ نے متعدد سندوں کے ساتھ نقل کیا ہے۔ اور مسروق کے علاوہ ابراہیم، نخعی، قتادہ اور عاصم کی روایتوں میں بھی حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے اس آیت کریمہ کی یہی تفسیر منقول ہے۔ اور تابعین میں سے مجاہد، قتادہ، مقاتل، ابوالعالیہ، ابرہیم، نخعی اور ضحاک وغیرہ نے بھی اسی قول سے اتفاق کیا ہے۔ ابن جریر اور علامہ آلوسی وغیرہ حضرات نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔ اور بیان القرآن میں حضرت تھانوی نے بھی اسی پر اعتماد کیا ہے۔ اور ہمارے نزدیک بھی اس موقع پر راحج قول یہی ہے جبکہ دوسرا قول اس بارے حضرت علی ؓ ، ابن عمر ؓ ، ابن عباس ؓ ، ابو سعید خدری ؓ اور حضرت حسن بصری وغیرہ جیسے اکابر سے مروی ہے کہ اس عذاب اور دھوئیں سے مراد وہ دھواں ہے جو قیامت کے قریب کے زمانے میں ظاہر ہوگا۔ اور جو سب زمین پر چھا جائے گا۔ جیسا کہ اس بارے صحیح روایات میں وارد ہے۔ ابن کثیر نے اسی کو اختیار کیا ہے ۔ والعلم عند اللّٰہ تعالیٰ و مزید التفصیل والنقاش فی التَّفسیر المفصَّل ان شائَ اللّٰہ ۔ سو اس میں اس عذاب کا ذکر ہے جس کا منکرین مطالبہ کر رہے تھے اور اس کو ایک خالی خولی دھمکی سمجھ کر اسکا مذاق اڑا رہے تھے۔ اور جس کو دیکھے بغیر وہ نبی کے انذار کی تصدیق کیلئے تیار نہیں تھے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 44:11

یَّغْشَى النَّاسَ١ؕ هٰذَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 44:11 in the Quran reader

جو کہ چھا جائے گا ان سب لوگوں پر یہ ایک بڑا دردناک عذاب ہوگا

14 دخان مبین کی ہولناکی کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ ہولناک دھواں جو چھا رہا ہوگا سب لوگوں پر "۔ ابن مسعود ؓ کے قول کے مطابق اس سے مراد وہی قحط کے دور کا دھواں ہوگا جو کہ سب اہل مکہ پر چھا گیا تھا۔ جبکہ حضرت ابن عباس ؓ کے قول کے مطابق اس سے مراد قرب قیامت والا وہ دھواں ہے جو کہ سب کفار پر بری طرح چھا رہا ہوگا۔ اور یہ ان کے ناک کے نتھنوں، کانوں کے سوراخوں اور ان کے ادبار سے نکل رہا ہوگا جبکہ اہل ایمان پر اس کا اثر ایسے ہوگا جیسا کہ زکام کا اثر ہوتا ہے۔ (ابن جریر، ابن کثیر، روح، خازن، مدارک، محاسن، جامع البیان، صفوۃ البیان اور معارف القرآن وغیرہ) ۔ سو یہ اس دھویں کی شدت کی تعبیر ہے کہ وہ لوگوں پر اس طرح چھا رہا ہوگا کہ کسی کیلئے بھی اس سے گریز و فرار کی کوئی راہ ممکن نہیں ہوگی۔ اور۔ { ھٰذَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ } ۔ " یہ بڑا دردناک عذاب ہے " زبان حال یا صورتحال کی تعبیر ہے۔ کہ اس وقت ہر ایک پر یہ بات واضح ہوجائے گی کہ یہ کوئی وقتی جھونکا نہیں جو آیا اور گزر گیا بلکہ یہ قہر الٰہی ہے جو سب کی کمر توڑ کر رکھ دے گا۔ سو ہر شخص کہہ رہا ہوگا کہ یہ بڑا ہی دردناک عذاب ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر عذاب سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 44:12

رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ اِنَّا مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 44:12 in the Quran reader

(اس دن یہ کہیں گے) اے ہمارے رب دور فرما دے ہم سے اس عذاب کو ہم یقینا ایمان لانے والے ہیں

15 منکرین و مکذبین کی دعاء کا ذکر : یعنی اس وقت منکرین اللہ کے حضور اس عذاب کے ٹالنے کی دعا و درخواست کریں گے کہ اے ہمارے رب ہم سے اس عذاب کو ٹال دے۔ ہم ضرور ایمان لے آئیں گے۔ جیسا کہ ابو سفیان اور دوسرے کفار نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا تھا۔ اور اس طرح یہ پیشینگوئی جلد ہی پوری ہوگئی۔ اور ابن عباس کے قول پر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اے ہمارے رب ہم سے یہ عذاب ہٹا دے کہ اب ہم ایمان لے آئے مگر وہ ایمان معتبر نہیں ہوگا کہ وہ ایمان بالشہود والمشاہدہ ہوگا جو کہ وہ لوگ عالم آخرت میں کشف حقائق کے بعد لائیں گے۔ جب کہ اصل مقصود اور مطلوب وہ ایمان ہے جو کہ بالغیب اور بن دیکھے ہو اور جس کا موقع و مقام آخرت سے پہلے اسی دنیاوی زندگی میں ہے۔ سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ آج تو یہ لوگ بہت اکڑ رہے ہیں اور بڑے طنطنے سے اس عذاب کے لانے کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن جب وہ انکے سروں پر سایہ فگن ہوجائے گا اور ان سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا تو اس وقت یہ لوگ اس طرح فریاد کریں گے کہ " اے ہمارے رب ہم سے اس عذاب کو ٹال دے ہم ضرور ایمان لے آئیں گے " مگر اس وقت اسکا کوئی موقع کہاں اور کیسے ؟ کہ آچکنے کے بعد وہ ان سے کبھی ٹلے گا نہیں۔ اس لیے اس کے آنے سے پہلے اس سے بچنے کی فکر کرنی چاہیے۔
Ayah 44:13

اَنّٰى لَهُمُ الذِّكْرٰى وَ قَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 44:13 in the Quran reader

(مگر) کہاں (اور کیسے) کام آئے ان کو نصیحت حالانکہ (اس سے پہلے) ان کے پاس آچکے (حق اور حقیقت کو) کھول کر بیان کرنے والے ایک عظیم الشان رسول

16 بےوقت کے ماننے کا کوئی فائدہ نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس وقت ان کے لیے نصیحت کا کوئی موقع کہاں باقی رہا جبکہ اس سے پہلے آچکے انکے پاس کھول کر بیان کرنے والے ایک عظیم الشان رسول "۔ ایسے عظیم الشان رسول جن کی صداقت و حقانیت روز روشن کی طرح واضح تھی۔ اور واضح ہے۔ مگر پھر بھی یہ لوگ ایمان نہیں لائے تو اس کے بعد اب کیسے اور کیا ایمان لائیں گے ؟ سو اس وقت ان کی تذلیل و تخجیل کیلئے اللہ کی طرف سے انکو یہ جواب دیا جائے گا۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اعلانِ حق کے پہنچ جانے اور اس کے دیکھ لینے کے بعد ایمان لانے اور نصیحت قبول کرنے کا موقع کہاں باقی رہے گا۔ بالخصوص جبکہ انکے پاس اتمام حجت کیلئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسا عظیم الشان رسول بھی پہنچ گیا جس نے انکے سامنے حق کو پوری طرح واضح کرکے اور نکھار کر بیان کردیا تھا۔ لیکن انہوں نے اس کی بات کو مان کر نہ دیا اور اپنے کبر و غرور کے گھمنڈ میں ان سے منہ موڑا اور اعراض برتا۔ سو ایمان لانے کا وہ موقع جب گزر گیا تو اب بےوقت کے اس ایمان سے ان کو کوئی فائدہ آخر کیسے اور کیونکر پہنچ سکتا ہے ؟ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَاَنّٰی لَہُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّکَانٍ بَّعِیْدٍ } ۔ (سبا : 52) اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 44:14

ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا مُعَلَّمٌ مَّجْنُوْنٌۘ Open ayah 44:14 in the Quran reader

پھر بھی یہ لوگ پھرے ہی رہے (راہ حق و ہدایت سے) اور کہا کہ یہ تو ایک سکھایا پڑھایا دیوانہ ہے

17 منکرین کے اعراض و روگردانی اور ان کی مت ماری کا ایک نمونہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان لوگوں کے پاس ایک رسول مبین آگیا تھا مگر انہوں نے اس سے منہ موڑ لیا اور کہا کہ یہ تو ایک دیوانہ ہے سکھایا پڑھایا "۔ یعنی کسی اور کے سکھانے پڑھانے سے یہ ایسی دیوانگی کی باتیں کرتا ہے جو عقل میں آنے کی نہیں۔ مگر حقیقت میں یہ ان لوگوں کی خود اپنی ہی دیوانگی اور حواس باختگی کا ایک کھلا مظہر تھا جو ایسی ذات کو دیوانہ کہتے تھے جو سب فرزانوں سے بڑھ کر فرزانہ تھی ۔ صلوات اللّٰہ وسلامُہٗ علیہ وعلی من تبعہ باحسان الٰی یَوْمِ الَعْرَضِ عَلَی اللّٰہ العزیز الرحمان ۔ سو یہ ان لوگوں کی مت ماری کا ایک نمونہ و مظہر ہے کہ انہوں نے پیغمبر کے بارے میں کہا کہ یہ ایک دیوانہ ہے سکھایا پڑھایا۔ بھلا یہ کیسے اور کیونکر ہوسکتا ہے کہ ایک شخص مجنوں اور دیوانہ بھی ہو اور سکھایا پڑھایا بھی ہو ؟ ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس سے منکرین کے اعراض و روگردانی اور ان کی مت ماری و بدبختی کا ایک نمونہ سامنے آتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 44:15

اِنَّا كَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِیْلًا اِنَّكُمْ عَآئِدُوْنَۘ Open ayah 44:15 in the Quran reader

بیشک ہم (اتمام حجت کے لئے) ہٹائے دیتے ہیں اس عذاب کو تھوڑے عرصے کے لئے مگر تم لوگ یقینا پھر وہی کرو گے جو پہلے کرتے تھے

18 بندگان ہوا و ہوس کی توبہ بھی عارضی اور وقتی : سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ " اگر ہم ان سے عذاب ٹال دیں تو بھی انہوں نے وہی کچھ کرنا ہے جو اس سے پہلے کرتے رہے تھے "۔ چناچہ ایسے ہی ہوا کہ جب آنحضرت ﷺ کی دعا کی برکت سے ان سے وہ عذاب تو اٹھا لیا گیا مگر وہ لوگ اسی طرح اپنے کفر و انکار پر اڑے رہے۔ اور اگر ابن عباس کے قول کے مطابق اس کا تعلق آخرت کے عذاب سے قرار دیا جائے تو اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اگر بالفرض ہم ان سے یہ عذاب اٹھا بھی دیں تو انہوں نے پھر بھی وہی کچھ کرنا ہے جو یہ اس سے پہلے کرتے تھے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوْا لِمَا نُہُوْا عَنْہُ وَاِنَّہُمْ لَکَاذِبُوْنَ } ۔ (الانعام : 28) اور عذاب کی گرفت میں آجانے کے بعد منکرین کیلئے اس طرح کے جواب کا ذکر قرآن حکیم میں جگہ جگہ فرمایا گیا ہے۔ جیسے سورة یونس آیت نمبر 91 اور ابراہیم 44 وغیرہ وغیرہ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اگر ہم تمہاری درخواست پر اس عذاب کو کچھ وقت کے لیے ہٹا بھی دیں تو پھر بھی تم نے اسی راہ پر چلنا ہے جس پر تم لوگ پہلے چلتے رہے تھے۔ سو خواہشات نفس کے پجاریوں اور ہوی و ہوس کے بندوں کا حال یہی ہوتا ہے کہ ان کو جب کوئی آزمائش پیش آجاتی ہے تو ناک رگڑ رگڑ کر توبہ کرتے ہیں لیکن جب آزمائش گزر جاتی ہے تو وہ پھر ویسے ہی اکڑ کر اور تن کر چلتے ہیں کہ گویا کوئی بات پیش آئی ہی نہیں تھی۔ اور انہوں نے کوئی عہد و پیمان اور قول وقرار کیا ہی نہیں تھا۔ اور نہ ہی ان کو آئندہ کوئی ایسی بات پیش آئے گی۔ سو ایسوں کی توبہ بھی وقتی اور عارضی ہوتی ہے۔ قرآن حکیم میں ایسے تنگ ظرف لوگوں کی اس نفسیات کو کئی جگہ بیان فرمایا گیا ہے۔
Ayahs 44:16–17

یَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرٰى١ۚ اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ Open ayah 44:16 in the Quran reader

(اور یاد کرو اس دن کو کہ) جب ہم پکڑیں گے اس بڑی سخت پکڑ میں کہ یقینا ہم نے (بدلہ و) انتقام لینا ہے (مجرموں سے)

وَ لَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ كَرِیْمٌۙ Open ayah 44:17 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم ان سے پہلے آزمائش میں ڈال چکے ہیں فرعون کی قوم کو بھی اور ان کے پاس بھی ایک رسول آیا بڑا عزت والا

20 منکروں کو قوم فرعون کے انجام کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سے پہلے ہم قوم فرعون کو بھی آزمائش میں ڈال چکے ہیں اور ان کے پاس بھی ایک بڑا معزز رسول آیا تھا "۔ یعنی حضرت موسیٰ کلیم اللہ ۔ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والتسلیم ۔ کہ وہ بڑے ہی معزز اور اولو العزم رسول تھے۔ سو جس طرح کے امتحان میں ہم نے آج قوم قریش کو انکے اندر اپنا رسول مبعوث کرکے ڈالا ہے اسی طرح کے امتحان میں اس سے پہلے ہم قوم فرعون کو بھی ڈال چکے ہیں جبکہ انکے اندر بھی ایک بڑے عظیم الشان اور اولو العزم رسول کو مبعوث فرمایا گیا۔ سو جو انجام کل کے ان منکروں کا انکار حق کی پاداش میں ہوا وہی آج کے ان منکروں کا بھی ہوسکتا ہے۔ اگر یہ انکار حق کے جرم پر اسی طرح اڑے رہے کہ اللہ تعالیٰ کا قانون سب کیلئے ایک اور یکساں و بےلاگ ہے ۔ { سُنَّۃَ اللّٰہِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیْلاً } ۔ (الاحزاب : 62) ۔ سو اس ارشاد سے دور حاضر کے منکرین کو قوم فرعون کے انجام کی تذکیر و یاددہانی فرمائی گئی ہے تاکہ وہ درس عبرت لیں اور اپنی روش کی اصلاح کرلیں قبل اس سے کہ وہ اسی انجام سے دوچار ہو کر رہیں جس سے قوم فرعون اور اس قماش کی دوسری قومیں دوچار ہوچکی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا قانون و دستور سب کے لیے ایک اور یکساں ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 44:18

اَنْ اَدُّوْۤا اِلَیَّ عِبَادَ اللّٰهِ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 44:18 in the Quran reader

(اس پیغام کے ساتھ) کہ میرے حوالے کردو تم لوگ اللہ کے بندوں کو بیشک میں رسول ہوں (اس کا) تمہاری طرف امانت دار1

21 حضرت موسیٰ کا فرعون سے اللہ کے بندوں کو آزاد کرنے کا مطالبہ : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ حضرت موسیٰ کو قوم فرعون کی طرف اس پیغام کے ساتھ بھیجا گیا تھا کہ تم لوگ میرے حوالے کردو اللہ کے بندوں کو۔ اس صورت میں " عباد اللہ " فعل امر " ادوا " کا مفعول بہ ہوگا۔ جبکہ دوسرا احتمال اس میں یہ بھی ہے کہ " عِبَاد اللّٰہ " مفعول بہٖ نہیں بلکہ منادیٰ مضاف ہو۔ اور فعل امر " ادوا " کا مفعول بہ مخدوف ہو۔ یعنی " مَا اسْتَحقَّہٗ " یا اس جیسا کوئی اور مقدر۔ سو اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اللہ کے بندو اللہ کا رسول ہونے کے اعتبار سے جو میرا حقِّ اطاعت و اتباع تم پر واجب ہوتا ہے اس کو میرے لئے ادا کرو کہ یہ میرا حقِّ واجب ہے۔ اور اسی میں خود تم لوگوں کا بھلا ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور اگر ذرا غور سے دیکھا جائے تو ان دونوں احتمالوں کا نتیجہ و مآل ایک ہی نکلتا ہے۔ چونکہ پیغمبر کا حق اطاعت و اتباع ہی ہوتا ہے اور حضرت موسیٰ کا حکم و ارشاد اور آپ (علیہ السلام) کا مطالبہ یہی تھا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دو اور انکو عذاب مت دو ۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { فَاَرْسِلْ مَعِیَ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ وَلاَتُعَذِّبْہُمْ } ۔ (طٰہٓ: 47) ۔ البتہ یہاں پر حضرت موسیٰ نے اپنے مطالبہ کے حق میں ایک اہم اور ٹھوس دلیل بھی دے دی کہ یہ اللہ کے بندے ہیں۔ لہذا کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ انکو اپنا بندہ بنانے کی کوشش کرے۔ پس تم لوگ اللہ کے بندوں کو اپنی غلامی کی جکڑبندیوں سے آزاد کر کے ہمارے ساتھ روانہ کردو کہ تم کو ان کے غلام بنائے رکھنے کا کوئی حق نہیں۔ 22 حضرت موسیٰ کا اپنی شان امانت و دیانت کا اعلان و اظہار : سو حضرت موسیٰ نے ان لوگوں سے کہا اور اسلوب تاکید میں کہا کہ " یقینا میں تم لوگوں کے لیے ایک امانتدار رسول ہوں "۔ پس میں چونکہ رسول ہوں اس لئے میں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا۔ بلکہ اپنے رب کا پیغام تمہیں سناتا ہوں اور بس۔ اور چونکہ میں امانت دار ہوں اس لئے اپنے رب کا پیغام بدوں کسی کم وکاست کے پوری امانت داری کے ساتھ تمہیں پہنچا رہا ہوں۔ پس تم پر میری اطاعت لازم ہے۔ اسی میں تمہارا بھلا اور بہتری ہے۔ اور اس کے برعکس اگر تم لوگوں نے مجھے مفتری قرار دے کر میری تکذیب کی تو اس کے نتائج نہایت مہلک اور خطرناک ہوں گے۔ اور جس ذات نے مجھے رسول بناکر بھیجا ہے وہ تم سے ضرور انتقام لے گی ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا ۔ سو پیغمبر ہر اچھائی اور خوبی میں اعلی اور عمدہ نمونہ ہوتا ہے ۔ علیہم الصلاۃ والسلام -
Ayahs 44:19–20

وَّ اَنْ لَّا تَعْلُوْا عَلَى اللّٰهِ١ۚ اِنِّیْۤ اٰتِیْكُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۚ Open ayah 44:19 in the Quran reader

اور سرکشی مت کرو تم اللہ کے مقابلے میں بیشک میں آیا ہوں تمہارے پاس ایک کھلی سند کے ساتھ

وَ اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ اَنْ تَرْجُمُوْنِ٘ Open ayah 44:20 in the Quran reader

اور بیشک میں نے پناہ لے رکھی ہے اس کی جو کہ رب ہے میرا بھی اور تمہارا بھی اس بات سے کہ تم مجھے سنگسار کرو

25 حضرات انبیاء و رسل بھی رب ہی کی پناہ کے محتاج ہوتے ہیں : سو حضرت موسیٰ نے ان لوگوں سے کہا کہ " بیشک میں نے اپنے آپ کو اس ذات کی پناہ میں دے دیا جو کہ رب ہے میرا بھی اور وہ رب ہے تمہارا بھی "۔ اس بات سے کہ تم لوگ مجھے سنگسار کردو۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ حضرت موسیٰ جیسے اولو العزم رسول بھی حاجت روا و مشکل کشا تو کجا خود اپنی حاجت روائی کے لئے بھی اسی ذات اقدس و اعلیٰ کی پناہ کے محتاج اور سوالی تھے جو کہ سب کی خالق ومالک ذات ہے۔ تو پھر اور کسی انسان کو حاجت روائی و مشکل کشائی کا کوئی منصب کس طرح اور کیونکر مل سکتا ہے ؟ سو حاجت اور مشکل کشا سب کا اللہ وحدہ لا شریک ہی ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ بہرکیف جب حضرت موسیٰ کے اعلانِ حق سے قبطیوں کے اندر کھلبلی مچ گئی، ہر طرف آپ کیخلاف چہ میگوئیاں ہونے لگیں، آپ کو قتل کی دھمکیاں ملنے لگیں اور خوفناک اندیشے پھیلنا شروع ہوگئے تو اس موقع پر آپ (علیہ السلام) نے ان لوگوں کو خطاب کرکے فرمایا کہ میں نے اپنے آپ کو اس ذات کی پناہ میں دے دیا جو کہ رب ہے میرا بھی اور تمہارا بھی۔ سو تم لوگ خواہ مانو یا نہ مانو حق اور حقیقت بہرحال یہی اور صرف یہی ہے کہ رب سب کا ایک ہی ہے۔ یعنی اللہ وحدہ لا شریک۔ وہی میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی۔ اور میں نے اپنے آپ کو اسی کی پناہ میں دے دیا ہے اور میرا معاملہ اسی وحدہ لا شریک کے حوالے ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 44:21

وَ اِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا لِیْ فَاعْتَزِلُوْنِ Open ayah 44:21 in the Quran reader

اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے الگ ہوجاؤ2

26 حضرت موسیٰ کی طرف سے مخالفین کے دلوں پر ایک دستک : سو آپ نے ان کے ضمیروں کو جھنجوڑتے ہوئے ان سے فرمایا کہ " اگر تم لوگ مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے الگ ہوجاؤ "۔ یعنی اگر بھلائی نہیں کرسکتے تو تم کم از کم برائی تو نہ کرو ۔ مرا از تو خیر امید نیست بدمرساں ۔ یعنی چاہئیے تو یہ تھا کہ تم لوگ میری بات باور کرکے مجھ پر ایمان لاتے اور اس طرح دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ ور و سرفراز ہوتے۔ لیکن تم لوگوں کو اگر یہ بات منظور نہیں تو کم از کم تم میری راہ میں مزاحم ہونے کی کوشش نہ کرو۔ اور اس طرح اللہ کے عذاب کو دعوت نہ دو ۔ کہ میں خداوند قدوس کا سفیر اور اسکا نمائندہ و رسول ہوں۔ اور کسی بھی حکومت کے سفیر کو قتل کرنا اپنے آپ کو اس حکومت کی سزا کیلئے پیش کرنا ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس کم سے کم بات یہ ہے کہ تم لوگ مجھے قتل اور سنگسار کرنے کے جرم کا ارتکاب نہ کرو کہ اسکا انجام بہت ہی ہولناک ہوگا۔ پس میری راہ کو چھوڑ دو اور بنی اسرائیل کو میرے ساتھ جانے دو اور ان کو اپنی غلامی سے آزاد کردو کہ یہ ان کا حق ہے۔
Ayah 44:22

فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُوْنَ Open ayah 44:22 in the Quran reader

آخرکار موسیٰ نے اپنے رب کو پکار کر عرض کیا کہ (مالک ! ) یہ لوگ تو پکے مجرم ہیں

27 مجرم قوم کے مقابلے میں حضرت موسیٰ کا اپنے رب کو پکارنے کا ذکر : سو آخرکار اس مجرم قوم کے مقابلے میں حضرت موسیٰ نے بڑے درد بھرے انداز میں اپنے رب کو پکارا کہ یہ مجرم لوگ سننے ماننے والے نہیں۔ پس اب تو ہی ان کو سنبھال۔ سو حضرات انبیاء و رسل بھی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لئے اللہ پاک ہی کو بلاتے پکارتے تھے کہ حاجت روا و مشکل کشا سب کا یہاں تک کہ انبیاء و رسل اور اولو العزم رسولوں کا حاجت روا و مشکل کشا بھی وہی وحدہ لاشریک ہے۔ مگر افسوس کہ دور حاضر کے کلمہ گو مشرک کو یہ بات سمجھنے کی توفیق نصیب نہیں ہوتی۔ اور اس نے اپنے طور پر طرح طرح کے حاجت روا و مشکل کشا گھڑ رکھے ہیں۔ اور وہ نہ صرف یہ کہ اپنی حاجت روائی و مشکل کشائی کے لئے اللہ وحدہ لاشریک کو چھوڑ کر اپنے انہی خود ساختہ مشکل کشاؤں اور من گھڑت ہستیوں اور سرکاروں کو بلاتا پکارتا ہے بلکہ وہ اس کے لئے طرح طرح کے مشرکانہ فلسفے گھڑتا، قصے جوڑتا، افسانے تراشتا اور قرآن و سنت کی نصوص کریمہ تک میں طرح طرح کی تحریفات وتلبیسات سے کام لیتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ جب حضرت موسیٰ کی اس اپیل اور تنبیہہ کا قبطیوں پر کوئی اثر نہ ہوا اور وہ لوگ بدستور اپنی سازشوں اور سرگرمیوں میں لگے رہے تو حضرت موسیٰ نے نہایت درد بھرے انداز میں اپنے رب کو پکارا۔ اور اسی کے حضور اپنی یہ دعا و درخواست پیش کی کہ اب تو ہی ان سرکشوں اور بدبختوں کو سنبھال اور ان کو ان کے اس ٹھکانے پر پہنچا دے جس کا مستحق انہوں نے اپنے آپ کو خود بنادیا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 28 حضرت موسیٰ کی قبطیوں سے مایوسی کا ذکر : سو حضرت موسیٰ نے قبطی قوم سے اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے رب کے حضور عرض کیا کہ مالک یہ لوگ تو پکے مجرم ہیں۔ اس لئے ان کے ایمان لانے کی اب کوئی توقع نہیں۔ پس ان کو ملیا میٹ فرما دے۔ تاکہ تیری یہ دھرتی ان کے اس گندے اور ناروا بوجھ سے پاک و صاف ہوجائے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر حضرت موسیٰ کی اسی دعا کے ضمن میں ارشاد فرمایا گیا ۔ { رَبَّنَا اَطْمِسْ عَلٰٓی اَمْوَالِہِمْ وَاشْدُدْ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ فَلا یُؤْمِنُوْا حَتّٰی یَرَوُا الْعَذَاب الاَلِیْمَ } ۔ (یونس :88) یعنی " اے ہمارے رب مٹا دے ان کے مالوں کو اور سخت کر دے ان کے دلوں کو تاکہ یہ ایمان نہ لاسکیں۔ یہاں تک کہ یہ دیکھ لیں اس دردناک عذاب کو جس کا حق دار و مستحق انہوں نے خود اپنے آپ کو بنا لیا ہے " ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہ ہے انجام کفر و انکار اور جحود و استکبار کا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس ارشاد ربانی سے ایک بڑا اہم اور بنیادی درس یہ ملا کہ حاجت روا و مشکل کشا سب کا اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ سب اسی کے محتاج ہیں یہاں تک کہ حضرات انبیاء و رسل بھی اسی کے محتاج اور اسی کے در کے سوالی ہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور جب حضرات انبیاء و رسل بھی اسی کے محتاج اور اسی کے در کے سوالی ہیں تو پھر اور کون ہوسکتا ہے جسکو حاجت روا و مشکل کشا مانا جاس کے۔ اور دوسرا اہم درس یہاں سے یہ ملا کہ مجرم کو جتنی بھی مہلت ملے اسکا انجام بہرحال بہت برا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ صراط مستقیم پر قائم رکھے اور ہر قسم کے انحراف سے محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 44:23

فَاَسْرِ بِعِبَادِیْ لَیْلًا اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَۙ Open ayah 44:23 in the Quran reader

(جواب ملا کہ) اچھا تو پھر تم راتوں رات نکل جاؤ (یہاں سے) میرے بندوں کو اپنے ساتھ لے کر تمہارا پیچھا بہرحال کیا جائے گا

29 حضرت موسیٰ کی فریاد رسی اور آپ کو حکم رحیل : سو حضرت موسیٰ کی فریاد کی فوری شنوائی ہوئی اور حق تعالیٰ کی طرف سے آپ کو حکم ہوا کہ راتوں رات میرے بندوں کو لیکر نکل جاؤ۔ یقینا تمہارا پیچھا کیا جائے گا فرعون اور اس کی قوم کی طرف سے۔ تمہیں پکڑنے کی غرض سے۔ اور اس طرح رات کے اندھیرے میں نکل جانے کے سبب تم ان کی گرفت و پکڑ سے بچ نکلو گے۔ چناچہ حضرت موسیٰ نے ایسے ہی کیا۔ آپ (علیہ السلام) راتوں رات چپکے سے اپنی قوم کو لے کر وہاں سے نکل پڑے۔ اور اس سے نہ صرف یہ کہ آپ (علیہ السلام) فرعون کی گرفت وپکڑ سے بچ گئے بلکہ قدرت کی طرف سے دی گئی یہی ہدایت حضرت موسیٰ اور بنی اسرائیل کے لئے نجات کا ذریعہ بن گئی۔ اور فرعون اور اس کے لشکر کے لئے غرقابی اور آخری انجام کا سبب بھی۔ سو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے احکام و ارشادات کی پیروی میں سراسر خیر و برکت اور نجات ہے ۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ۔ بہرکیف حضرت موسیٰ کی اس دعا و درخواست کو فوری طور پر شرف قبولیت سے نوازا گیا۔ اور آپ کو ہدایت فرمائی گئی کہ آپ اللہ کے بندوں کو لیکر راتوں رات مصر سے نکل جائیں تاکہ آپ اور آپ کی قوم محفوظ رہیں اور فرعون اور اس کی قوم اپنے آخری انجام کو پہنچ جائے۔
Ayahs 44:24–28

وَ اتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْوًا١ؕ اِنَّهُمْ جُنْدٌ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 44:24 in the Quran reader

اور (اسی طرح) چھوڑ دینا سمندر کو تھما ہوا کیونکہ (دشمن کے) اس سارے لشکر نے (وہیں) غرق ہونا ہے

كَمْ تَرَكُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 44:25 in the Quran reader

سو ان لوگوں نے چھوڑ دیے کتنے ہی باغ اور چشمے

وَّ زُرُوْعٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 44:26 in the Quran reader

کھیتیاں اور عمدہ مکانات

وَّ نَعْمَةٍ كَانُوْا فِیْهَا فٰكِهِیْنَۙ Open ayah 44:27 in the Quran reader

اور نعمت کے وہ سازوسامان جن میں یہ لوگ مزے کیا کرتے تھے

كَذٰلِكَ١۫ وَ اَوْرَثْنٰهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 44:28 in the Quran reader

اسی طرح ہوا اور ہم نے وارث بنادیا (اپنی قدرت و عنایت سے) ان چیزوں کا ایک دوسری قوم کو

31 فرعونیوں کی دولت دوسروں کی میراث : سو اس عظیم الشان درس عبرت و بصیرت پر تنبیہ کرتے ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے ان چیزوں کا وارث بنادیا دوسروں کو "۔ یعنی فرعونیوں کے خاتمہ وزوال کے بعد ہم دوسری قوموں کو یکے بعد دیگرے اس ملک کا وارث بناتے چلے گئے۔ چناچہ کچھ عرصہ آشوریوں اور بابلیوں نے اس پر قبضہ جمایا۔ پھر حبشی قابض ہوگئے۔ ان کے بعد اہل فارس اور پھر یونانی اور رومی بھی۔ پھر ان کے بعد عرب، طولونی، اخشدی، فاطمی، ممالیک اور ترک بھی اپنی اپنی حکومتیں کر گئے۔ اور آخر میں فرانسیسی اور انگریزی سامراج نے اس پر پنجے گاڑے۔ اور بالآخر اب اس پر اہل وطن یعنی عرب مسلمانوں کی حکومت ہے۔ اور۔ { اَنَا رَبُّکُمُ الاَعْلٰی } ۔ کا نعرہ لگانے والے فرعون اور اس کی قوم کا کوئی وجود تک نہیں رہا اور۔ { ہٰذِہ الاَنْہَارُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْ } ۔ کا فخر جتلانے والا وہ طاغیہ ہمیشہ ہمیش کے لئے فی النَّار والسَّقر ہوگیا۔ ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا ۔ یقینا اس سب میں بڑا بھاری سامان عبرت و بصیرت ہے ۔ { اِنَّ فِیْ ذالک لَعِبْرۃ } ۔ لیکن ان لوگوں کے لئے جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں ۔ فَسُبْحانَ مَنْ یُغَیِّرُ وَلَا یَتَغَیَّرُ ۔ بِیَدہٖ مَلکَوت کُلُّ شَیٔ وھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیئٍ قَدیْر۔ یُؤتی الْملکَ مَنْ یَّشَائُ وَیَنزعہُ مِمَّنْ یَّشاء وُیَوْرتْ الَّارْضَ مَنْ یَّشاء وَیَنزعُہا عَمَّنْ یَّشائُ ۔ باقی خود اپنی اسرائیل کا اگر تاریخی طور پر مصر واپس جانا ثابت ہوجائے تو وہ بھی اسی میں داخل ہوں گے۔ مگر ان کا تاریخی طور پر مصر کو واپس لوٹنا ثابت نہیں۔ بلکہ وہ اس کے بعد ایک عرصے تک میدان تیہ میں حیراں و سرگرداں رہے۔ جیسا کہ سورة مائدہ میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ اور اس کے بعد وہ ارض مقدس یعنی ارض فلسطین میں پہنچ کر وہاں پر ایسی ہی نعمتوں کے وارث بن گئے۔ اور قرآن حکیم میں ارض مقدسہ اور ارض مبارکہ سے ارض فلسطین ہی کو تعبیر فرمایا جاتا ہے۔ جیسا کہ اس سے پہلے سورة شعراء کی آیت ۔ { وَاَوْرَثْنَاہا بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ } ۔ (الشعرائ : 59) کے تحت بھی گزرا ہے ۔ والعلم عند اللّٰہِ سُبحَانَہٗ و تعالیٰ ۔ بہرکیف فرعون اور اس کی قوم ان نعمتوں سے محروم ہو کر ہمیشہ کے لیے فی النار والسقرہو گئی اور جس ملک وغیرہ کا ان کو بڑا ناز تھا اور جس کی بنا پر وہ اس قدر تکبر میں مبتلا ہوئے تھے وہ سب کچھ دوسروں کا ہوگیا۔
Ayah 44:29

فَمَا بَكَتْ عَلَیْهِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ وَ مَا كَانُوْا مُنْظَرِیْنَ۠ Open ayah 44:29 in the Quran reader

پھر نہ تو ان پر آسمان رویا نہ زمین اور نہ ہی ان کو کوئی مہلت ہی ملنے والی تھی

32 ظالموں پر نہ آسمان رویا نہ زمین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر ان پر آسمان رویا اور نہ زمین "۔ عربوں کا کہنا تھا کہ جو کوئی بڑا آدمی مرجاتا ہے تو اس پر زمین و آسمان روتے ہیں۔ (الطبری، القرطبی، المراغی اور المحاسن وغیرہ) ۔ اور فرعونیوں کو اپنی بڑائی پر جو ناز تھا وہ مشہور و معروف ہے۔ مگر اس کے باوجود ان کے اس انجام پر نہ کوئی رویا اور نہ کسی نے کوئی سوگ منایا۔ جیسا کہ خود ہمارے ملک ۔ پاکستان ۔ کے دور حاضر کے حکمرانوں میں سے ایک کا کہنا تھا کہ اگر مجھ پر ہاتھ ڈالا گیا، مجھے جیل بھیجا گیا اور مجھے کوئی تکلیف پہنچائی گئی تو ہمالیہ روئے گا۔ ملک خون میں نہا جائے گا اور اندھیرے میں ڈوب جائے گا وغیرہ وغیرہ۔ مگر دنیا نے دیکھا کہ صاحب موصوف پر ہاتھ ڈالا گیا، انہیں جیل بھیجا گیا، ڈیڑھ دو سال کا عرصہ ان کو جیل کی کال کوٹھڑیوں میں گزارنا پڑا اور آخر کار ان کو تختہ دار پر بھی لٹکا دیا گیا۔ مگر نہ کہیں ہمالیہ رویا نہ کوئی خون کی ندی چلی اور نہ ہی کہیں کوئی اندھیرا رونما ہوا۔ اور اس عبرت انگیز و سبق آموز واقعہ جو کہ ملک کی تاریخ بلکہ پورے برصغیر کی تاریخ میں بلکہ شاید دنیا کی سیاسی تاریخ میں اپنی نوعیت کا ایک منفرد واقعہ ہو کو گزرے ہوئے ابھی تھوڑا ہی عرصہ ہوا ہے ۔ { اِنَّ فِیْ ذَالِکَ لَعِبْرَۃٌ } ۔ نیز روایات میں وارد ہے کہ ہر انسان کے لئے آسمان میں ایک خاص دروازہ ہوتا ہے۔ جس سے اس کے نیک اعمال اوپر چڑھتے ہیں اور اس کا رزق اوپر سے نازل ہوتا ہے۔ اور زمین کی وہ جگہیں جہاں وہ اللہ پاک کی عبادت و بندگی کرتا رہتا ہے اس کے مرنے پر وہ سب رونے لگتے ہیں۔ (ابن کثیر، روح، قرطبی وغیرہ) ۔ اور فرعون اور آل فرعون کے پاس چونکہ ایسے کوئی نیک اعمال سرے سے تھے ہی نہیں بلکہ وہاں تو ظلم ہی ظلم اور کفر ہی کفر تھا تو پھر ان پر زمین و آسمان روتے تو کیوں روتے ؟ ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ظلم اور ظالموں کا انجام بہرحال بہت برا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 33 وقت آنے پر ظالموں کے لیے کوئی مہلت نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا " اور نہ ہی انکو کوئی مہلت ملنے والی تھی "۔ کہ یہ توبہ اور تلافی مافات کرسکیں کہ اس کا وقت اب گزر چکا تھا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ان لوگوں کو اپنے بارے میں بہت کچھ ظن و گمان تھا۔ اور جب وہ کرسی اقتدار پر فائز تھے تو ان کی عظمت کے ڈنکے بجتے تھے۔ ان کی تعریف و توصیف کے ترانوں سے دنیا گونج رہی تھی۔ خوشامدیوں، موقع پرستوں اور کاسہ لیسوں کے جمگھٹے لگے رہتے تھے۔ اور ایسے عناصر نے مل کر اس طرح کا ایک سماں باندھ رکھا تھا کہ گویا ایک عالم انکا گرویدہ ہے۔ مگر یہ سب کچھ اس وقت تک ہی تھا جب تک کہ قدرت کی طرف سے انکو مہلت اور ڈھیل ملی ہوئی تھی۔ سو جب وہ پوری ہوگئی تو انکو دھر لیا گیا اور یہ اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کر رہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ وقت آنے کے بعد کسی طرح ٹل نہیں سکتا ۔ { اِنَّ اَجَلَ اللّٰہَ اِذَا جَائَ لاَ یُوَخَّرُ لَوْکُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ } ۔ (نوح :4) ۔ یعنی یہ ایک قطعی حقیقت ہے کہ اللہ کا مقرر کیا ہو وقت جب آجاتا ہے تو اس کو پیچھے نہیں کیا جاسکتا۔ اور اس کے ٹلنے کی پھر کوئی صورت ممکن نہیں رہتی۔ مگر مشکل بلکہ مشکلوں کی مشکل یہی ہے کہ امہال اور مہلت کی اس فرصت محدود کے دوران ظالموں اور باغیوں کو یہ بات سمجھ نہیں آتی۔ یہاں تک کہ ان کو ان کے آخری انحام میں دھر لیا جاتا ہے۔ اس وقت ایسے لوگ بڑے چیخ چیخ اور چلا چلا کر اپنے ایمان کے دعوے کرتے ہیں مگر اس وقت ان کو اس کا کوئی فائدہ بہرحال نہیں ہوتا۔ اور ان کو کوئی مہلت بھی نہیں مل سکتی ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 44:30

وَ لَقَدْ نَجَّیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُهِیْنِۙ Open ayah 44:30 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم ہی نے نجات دی بنی اسرائیل (جیسی گھسی پٹی قوم) کو اس رسوا کن عذاب سے

34 نجات دہندہ سب کا اللہ تعالیٰ ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ ہم ہی نے نجات دی تھی بنی اسرائیل کو اس رسوا کن عذاب سے "۔ جس میں وہ ایک زمانہ دراز سے مبتلا تھے اور { نَجَّیْنَا } فرمایا۔ یعنی " یہ نجات انکو ہم ہی نے دی تھی " کہ نجات دہندہ اور حاجت روا و مشکل کشا سب کے ہم ہی ہیں۔ اور سب ہمارے ہی محتاج ہیں۔ کاش کہ یہ بات آج کے کلمہ گو مشرک کے دل میں بھی اتر جائے اور وہ اپنے شرکیہ عقائد سے باز آجائے اور اس ذلت و رسوائی سے بچ جائے جس کا سامان وہ خود طرح طرح کے خودساختہ مشکل کشاؤں اور فرضی و بناوٹی حاجت رواؤں کے آگے جھک کر اپنے لیے کرتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ آیت کریمہ میں { من فرعون } بدل ہے { العذاب المہین } سے۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ فرعون بذات خود ایک عذاب مہین یعنی رسوا کن عذاب تھا۔ سو وہ بدبخت تو اپنی مت ماری کی بنا پر حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کو ذلیل سمجھ رہا تھا لیکن حقیقت اور امر واقعہ کے اعتبار سے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ خود نہ صرف ذلیل و خوار بلکہ عذاب ذلت و رسوائی کا مجسمہ تھا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 44:31

مِنْ فِرْعَوْنَ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَالِیًا مِّنَ الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 44:31 in the Quran reader

یعنی فرعون سے واقعی وہ بڑا سرکش اور حد سے بڑھنے والوں میں سے تھا

35 فرعون بذات خود عذاب مہین تھا : فرعون یہاں پر جیسا کہ ابھی اوپر گزرا { اَلْعَذَاب الْمُہِیْن } سے بدل واقع ہوا ہے۔ یعنی فرعون کا وجود بجائے خود وہ رسوا کن عذاب تھا جس میں یہ لوگ مبتلا تھے۔ یعنی اس عذاب مہین کی توضیح و تفسیر فرعون کے نام سے کی گئی ہے۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ فرعون کی شخصیت کس قدر خبیث اور کتنی ملعون و پلید شخصیت تھی۔ کیونکہ اس بدبخت نے نہ صرف یہ کہ اپنے خالق ومالک کی عبادت و بندگی سے منہ موڑ لیا تھا بلکہ خود اپنی جھوٹی خدائی کا اعلان کردیا تھا۔ اور { اَنَا رَبُّکُمُ الاَعْلٰی } کا نعرہ لگا دیا تھا۔ سو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی توحید و وحدانیت کا اقرار و یقین اور اس کے حضور اپنی عبدیت و عبودیت کا اظہار و اقرار ہی انسانی عروج و کمال کی اصل اور اساس ہے۔ اور اس سے انحراف و بغاوت اس کی ذلت و رسوائی کا باعث و پیش خیمہ ہے ۔ وَالْعیاذ باللّٰہِ الْعَظِیْم فزِدْنَا لَکَ خُشُوْعًا وَخُضُوْعًا وَعُبُوْدِیۃً ورُجُوْعًا یا مَنْ رَحْمَتُہٗ سَبَقَتْ غَضَبَہٗ و یا مَنْ بِیَدِہٖ مَلَکُوْتُ کُلَّ شیئِ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ " یقینا ہم نے نجات دی تھی بنی اسرائیل کو عذاب مہین ۔ یعنی فرعون سے ۔ " اللہ تعالیٰ ہر قسم کے عذاب سے ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 36 فرعون کی سرکشی اور اس کے حدود سے بڑھنے کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ وہ بڑا سرکش انسان اور حد سے بڑھنے والے لوگوں میں سے تھا "۔ یہاں تک کہ وہ خدائی دعویٰ کر بیٹھا تھا۔ بلکہ اپنے آپ کو سب سے بڑا رب کہتا تھا۔ اس کا کہنا تھا { اَنَا رَبُّکُمُ الاَعْلٰی } سو اس سے بڑھ کر بغاوت و سرکشی اور کیا ہوسکتی ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہ وجہ بیان فرمائی گئی اس بات کی کہ اس کو عذاب مہین ۔ رسوا کن عذاب۔ سے کیوں تعبیر فرمایا گیا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس لیے کہ وہ نہایت سرکش اور اللہ تعالیٰ کی مقرر فرمودہ حدود سے تجاوز کرنے والوں میں سے تھا۔ سو بندے کی اصل عظمت شان اسی میں ہے کہ وہ حدود بندگی سے تجاوز نہ کرے۔ بلکہ انکے اندر رہے۔ اور بندہ بن کر ہی رہے۔ پس جو لوگ حدود بندگی سے تجاوز کرتے اور سرکشی اختیار کرتے ہیں وہ اپنے آپ کو خواہ کچھ بھی سمجھیں اور انکے چیلے چانٹے انکو کچھ بھی کہیں لیکن حقیقت اور امر واقعہ کے اعتبار سے ایسے لوگ مظلوموں اور اپنے ماتحتوں کیلئے نرا عذاب اور اللہ تعالیٰ کے یہاں رسوا اور ذلیل و خوار ہوتے ہیں۔ اور آخرکار ان کو اپنے کیے کرائے کا انجام بہرحال بھگتنا پڑتا ہے اور بڑے ہولناک انداز میں بھگتنا پڑتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 44:32

وَ لَقَدِ اخْتَرْنٰهُمْ عَلٰى عِلْمٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 44:32 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے ان کو چن لیا تھا علم کی بناء پر (ان کے اپنے دور کے) سب جہانوں پر

37 دین و شریعت کی دولت ذریعہ عزت و عظمت : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ ہم نے ان ۔ بنی اسرائیل ۔ کو چن لیا تھا علم کی بنا پر "۔ یعنی اپنے اس علم کی بنا پر کہ وہ اس شرف و منصب کے اہل و مستحق تھے۔ نیز اس بنا پر کہ وہ علم والے تھے۔ کیونکہ وہ اہل کتاب اور صاحب دین تھے اور اپنے دور میں کتاب اور شریعت کی روشنی انہی کے پاس تھی۔ اس طرح { علی علم } کے دو مفہوم نکلتے ہیں۔ اور دونوں ہی صحیح اور برمحل ہیں۔ اور حضرات مفسرین کرام نے دونوں کا ذکر کیا ہے۔ (جامع البیان، صفوۃ التفاسیر، محاسن التاویل اور المراغی وغیرہ) ۔ سو اپنی خدائی کا دعویٰ کرنے والے فرعون اور اس کی قوم کو تو ہم نے غرق کردیا لیکن بنی اسرائیل جیسی گھسی پٹی اور غلامی کی بیڑیوں میں جکڑی بندھی قوم کو ہم نے اپنے دور کی تمام قوموں کی امامت و پیشوائی کے منصب و شرف سے سرفراز کردیا۔ سو دین و شریعت کی دولت عزت و عظمت اور حقیقی عزت و عظمت سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ لیکن دنیا کی اکثریت اس اہم اور بنیادی حقیقت سے غافل و نا آشنا ہے۔ پہلے بھی یہی تھا اور اب بھی یہی ہے ۔ الا ما شاء اللہ ۔ اللہ ہمیشہ حق کو حق سمجھنے اور اس کو اپنانے کی توفیق بخشے ۔ آمین۔ 38 بنی اسرائیل کی عظمت و برتری اپنے دور کے سب جہانوں پر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے ان کو چن لیا تھا علم کی بنا پر سب جہانوں پر "۔ یعنی انکے اپنے دور میں سب جہانوں پر۔ چناچہ حضرات علماء و مفسرین کہتے ہیں ۔ " ای عالمی زمانہم " ۔ (جامع البیان، المراغی اور صفوۃ وغیرہ) ۔ سو ان لوگوں کی یہ فضیلت و برتری صرف ان کے اپنے دور کے اعتبار سے تھی ورنہ مطلق فضیلت اور سب زمانے کے لوگوں کے مقابلے میں بڑائی تو صرف امت محمدیہ ہی کو حاصل ہے ۔ { کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اخرجت للناس } ۔ اور یہ اس لیے کہ ان کے اس دور میں دین و شریعت کے علم کی روشنی ان ہی لوگوں کے پاس تھی۔ اور یہ ایک اہم اور بنیادی حقیقت ہے کہ جو قوم خداوند قدوس کی شریعت کی حامل ہوتی ہے طبعی اور فطری طور پر وہی اس کی اہل اور حق دار ہوتی ہے کہ خلق خدا کی راہنمائی کرے۔ اور ان کا یہ منصب اس شرط کے ساتھ مشروط ہوتا ہے کہ وہ اپنے فرائضِ منصبی پوری دیانتداری کے ساتھ ادا کرے۔ سو وہ اگر اپنے فرائضِ منصبی کو صحیح طور پر ادا نہیں کرے گی تو اس کو اس کے اس منصب سے معزول کردیا جائے گا۔ اور اس کی جگہ دوسری قوم کو اس کے مقام پر فائز کردیا جائے ـگا جو اس منصب کی ذمہ داریوں کو صحیح طریقے سے نبھائے گی۔ سو بنی اسرائیل کے ساتھ بھی یہی ہوا کہ ایک خاص دور میں ان کو لوگوں کی امامت و پیشوائی کے اس اہم منصب پر فائز کیا گیا۔ لیکن جب انہوں نے اس کی ذمہ داریوں سے تغافل برتا اور وہ اس کے اہل نہ رہے تو ان کو اس سے معزول کردیا گیا۔ اور اس کے بعد خلق خدا کی ہدایت و راہنمائی کے اس منصب جلیل پر امت مسلمہ کو فائز کیا گیا۔ سو اللہ تعالیٰ کے یہاں سے سرفرازی نسلی یا موروثی بنیادوں پر نہیں ہوتی۔ بلکہ اپنے عمل و کردار اور اہلیت کی بنا پر ہوتی ہے۔ اور اب ان کی لیے سلامتی کی راہ یہی ہے کہ وہ اس دین حق اسلام کو صدق دل سے اپنالیں اور اس کی تعلیمات مقدسہ پر خود بھی عمل پیرا ہوں اور دوسروں کو بھی اس کی دعوت دیں۔ اس طرح وہ اپنے کھوئے ہوئے مقام کو پھر پالیں گے ورنہ ان کے لیے ہمیشہ کی ذلت و خواری ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 44:33

وَ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنَ الْاٰیٰتِ مَا فِیْهِ بَلٰٓؤٌا مُّبِیْنٌ Open ayah 44:33 in the Quran reader

اور ان کو ایسی (عظیم الشان اور امتیازی) نشانیوں سے نوازا تھا جن میں کھلی آزمائش تھی

39 بنی اسرائیل کا امتحان نعمتوں کے ذریعے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے انکو طرح طرح کی ایسی نشانیوں سے نوازا جن میں کھلی آزمائش کا سامان تھا "۔ مثلا یہ کہ ان کو فرعون کی غلامی سے نجات دی۔ ان کے لئے چلتے سمندر کو پھاڑ کر راستے بنا دئیے۔ بادلوں سے ان کے لئے سائے کا انتظام کیا اور ان پر من وسلویٰ کی نعمتیں اتاریں وغیرہ وغیرہ۔ سو یہ سب کچھ ان کے سوا اور کسی قوم کو نصیب نہیں ہوا۔ اور یہ چیزیں جہاں ایک طرف نعمتیں تھیں وہاں دوسری طرف ان کے لئے ابتلا و آزمائش کا سامان بھی تھیں کہ وہ ان کا حق کیا اور کس طرح ادا کرتے ہیں ؟ اسی لئے لفظ " بلاء " استعمال فرمایا گیا ہے۔ جس کے معنیٰ نعمت کے بھی آتے ہیں اور آزمائش کے بھی ۔ { فَیَنْطُرُ کَیْفَ تَعْمَلُوْنَ } ۔ یعنی تاکہ وہ دیکھے کہ ان اور ان نعمتوں سے مستفید و بہرہ ور ہو کر تم لوگ کس عمل کا مظاہرہ کرتے ہو۔ سو " بلاء " کے اصل معنیٰ آزمائش کے ہوتے ہیں۔ اور آزمائش چونکہ نعمت کے ذریعے بھی ہوتی ہے اور مصیبت کے ذریعے بھی اس لیے اس کو یہاں پر " بلاء " کے لفظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ نعمت کا امتحان شکر کی جانچ کیلئے ہوتا ہے اور مصیبت کا امتحان صبر و رضا کی جانچ کیلئے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -