44. Surah Ad-Dukhaan

الدخانThe Smoke · 59 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayahs 44:1–3

حٰمٓۚۛ Open ayah 44:1 in the Quran reader

حا۔ میم قسم ہے ،

وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ Open ayah 44:2 in the Quran reader

) اس) کتاب واضح کی ،

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِیْنَ Open ayah 44:3 in the Quran reader

ہم نے اس کو ایک برکت والی رات میں اتارا ہے،1۔ (کیونکہ) ہم (بندوں کو) خبردار کردینے والے تھے،2۔

1۔ (لوح محفوظ سے آسمان دنیاپر) (آیت) ” لیلۃ مبرکۃ “۔ مراد شب قدر ہے جو حدیث نبوی ﷺ کے مطابق ماہ رمضان کے آخری عشرہ کی کسی طاق رات میں واقع ہوتی ہے۔ ھی لیلۃ القدر علی ماروی عن ابن عباس وقتادۃ وابن جبیر و مجاھد وابن زید والحسن وعلیہ اکثر المفسرین (روح) ایک قول یہ بھی مروی ہے کہ اس سے مراد نصف شعبان کی رات ہے۔ لیکن محدثانہ رنگ کے مفسر ابن کثیر نے اس کی تردید زور سے کی ہے۔ وقد ذکرنا الاحادیث الواردۃ فی ذلک فی سورة البقرۃ بما اغنی من اعادۃ ومن قال انما لیلۃ النصف من شعبان کما روی عن عکرمۃ فقد ابعد التحیۃ (ابن کثیر) ملاحظہ ہوضمیہ ” رحمت والی رات “ صفحہ نمبر 989 پر۔ (آیت) ” حم والکتب “۔ ان پر حاشیے پیشتر گذر چکے۔ (آیت) ” انزلنہ “ ضمیرہ (آیت) ” الکتب “۔ کی جانب ہے۔ 2۔ (اپنی غایت شفقت وکرم سے) یہ انذار ہمیشہ بندوں ہی کی مصلحت سے، انہیں کو عواقب امور سے مطلع ومتنبہ کرنے کے لئے ہوتا ہے۔
Ayah 44:4

فِیْهَا یُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِیْمٍۙ Open ayah 44:4 in the Quran reader

اس رات میں ہر حکمت والا معاملہ ہماری پیشی سے حکم ہو کر طے کیا جاتا ہے،3۔

3۔ یعنی مشیت تکوینی جس طر پر جس کام کی انجام وہی منظور ہوتی ہے وہ اسی متعین طور پر ملائکہ متعلقہ کے سپرد کردیا جاتا ہے۔ بشری حساب وتخمینہ کے حساب سے ایک سال کی مدت کے لئے۔ وھکذا روی عن ابن عمر و مجاھد وابن مالک والضحاک وغیر واحد من السلف (ابن کثیر) (آیت) ” حکیم “۔ کے معنی پر حکمت کے ہیں۔ یجوز ان یکون المعنی کل امر متلبس بالحکمۃ (روح) (آیت) ” کل امر حکیم “۔ ہر حکمت والے معاملے سے یہ مراد نہیں کہ کچھ معاملے حکمت والے نہیں ہوتے، ہاحکمت تو سب ہی معاملات ہوتے ہیں۔ حکیم کی قید، قید واقعی ہے۔ (آیت) ” حکیم “۔ کے دوسرے معنی محکم ومضبوط کے ہیں۔ ووضع حکیم موضع محکم (ابن جریر) الامور الحکمۃ (بیضاوی) والحکیم بمعنی المحکم لانہ لایبدل ولا یغیر بعد ابرازہ للملائکۃ (علیہ السلام) (روح) حکیم اے محکم لایبدل ولا یغیر (ابن کثیر) یعنی اللہ کے اٹل قوانین سالانہ کے اجرا کا وقت یہی ہوتا ہے۔ (آیت) ” امرا من عندنا “۔ امرا کے صیغہ کا نکرہ ہونا اظہار عظمت وشان کے لئے ہے۔ وتنکیرہ للتفخیم (روح) امر کے ساتھ حکیم کا اضافہ خود ہی اظہار عظمت و جلالت کے لئے تھا۔ پھر اس پر (آیت) ” امرا من عندنا “۔ کے مزید اضافہ نے اس عظمت و جلالت کو اور کئی گنا بڑھا دیا۔
Ayahs 44:5–6

اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَۚ Open ayah 44:5 in the Quran reader

ہم (آپ کو پیغمبر بنا کر) بھیجنے والے تھے ،

رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُۙ Open ayah 44:6 in the Quran reader

بسبب اس رحمت کے جو آپ کے پروردگار کی طرف سے ہے،4۔ بیشک وہ بڑا سننے والا ہے بڑا جاننے والا ہے،5۔

4۔ (کہ آپ ﷺ کے ذریعہ سے بندوں کو حق و باطل، خیروشر کی راہوں سے پوری طرح آگاہ کردیں) (آیت) ” رحمۃ من ربک “۔ رحمۃ للعالمین “۔ اس معنی میں کہ آپ ﷺ ہی کے ذریعہ سے کل بندوں کو بلاامتیاز وتفریق نیکی وبدی کے راستوں سے آگاہ کردیا گیا۔ (آیت) ” وبال مومنین رء وف رحیم “۔ مومنین کے حق میں آپ ﷺ رؤف و رحیم اس معنی میں کہ انہیں نے آپ ﷺ کے پیام کو قبول کیا اور آپ ﷺ کی ہدایت سے پوری طرح مستفید ہوئے اور رحمت خاص خود آپ ﷺ کے حق میں، اس معنی میں کہ آپ ﷺ ہی کو ذریعہ وواسطہ اس رحمت عالم کا بنایا۔ 5۔ (تو اس سے بڑھ کر بندوں کی ضرورتوں کو جاننے والا اور ان کی مصلحتوں کی رعایت کرنے والا اور کون ہوسکتا ہے ؟ )
Ayah 44:7

رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ۘ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ Open ayah 44:7 in the Quran reader

پروردگار آسمانوں اور زمین کا اور ان دونوں کے درمیان کا ہے، اگر تم یقین لانا چاہو،6۔

6۔ یعنی اگر تم میں طلب صادق ہے، حق کی جستجو و تلاش ہے۔ (آیت) ” رب ..... بینھما “۔ ساری کائنات کے اسی خدائے واحد کی ملک ومملوک ہونے کا ایک بار پھر اثبات۔ کسی گوشہ ہستی میں کسی جہت و اعتبار سے بھی کوئی دوسرا مالک و متصرف نہیں۔
Ayah 44:8

لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 44:8 in the Quran reader

کوئی خدا اس کے سوا نہیں وہی جلاتا ہے اور وہی مارتا ہے، پروردگار تمہارا بھی ہے اور پروردگار تمہارے اگلے باپ دادوں کا بھی ہے،7۔

7۔ آیت ماقبل کی طرح اس میں بھی توحید ہی کے مختلف پہلوؤں کی تاکید اور شرک کے مختلف مظاہر کی تریدد ہے۔ (آیت) ” لاالہ الا ھو۔ اس کی صفت الوہیت میں کوئی بھی اس کا شریک نہیں۔ (آیت) ” یحی ویمیت “۔ جان ڈالنے اور جان لینے کی قوتیں بھی صرف اسی کے ہاتھ میں ہیں ..... زندگی کے کوئی الگ دیوتا اور موت کے کوئی الگ دیوتا نہیں۔ (آیت) ” ربکم ..... الاولین “۔ وہ کوئی نوپیدا معبود نہیں۔ دنیا جب سے قائم ہے اس کا وہی ایک اور اکیلا پروردگار رہا ہے .... بعض جاہلی قوموں نے اپنے اسلاف قدیم کو معبود مانا اور ان کی پرستش کی ہے۔ آیت میں اس اسلاف پرستی کی بھی تردید آگئی۔
Ayah 44:9

بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ یَّلْعَبُوْنَ Open ayah 44:9 in the Quran reader

لیکن یہ لوگ تو شک میں پڑے کھیل میں لگے ہوئے ہیں،8۔

8۔ (اور اس لیے حق کے واضح دلائل وصریح شواہد کی طرف توجہ والتفات ہی نہیں کرتے) (آیت) ” فی شک “۔ شک کی تنوین تعظیم کے لیے ہے۔ یعنی بڑے شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ توحید وآخرت کی طرف سے عجیب بےیقینی کی حالت میں مبتلا ہیں۔ (آیت) ” یلعبون “۔ یعنی سنجیدگی سے کبھی حقائق پسندی کی طرف آتے ہی نہیں۔ ان اہم ترین حقائق ومسائل کو بس ایک کھیل تماشہ سمجھ رکھا ہے۔ ” رحمت والی رات “۔ (متعلقہ حاشیہ نمبر 1 سورة الدخان) جان جب جسم کے پردہ میں ظاہر ہونے لگتی ہے، بےصورتی جب صورت پکڑنے لگتی ہے، اطلاق جب تعین قبول کرنے لگتا ہے، تو لازمی ہے کہ وہ اپنے لیے بھی وہ تمام قیود و خواص اختیار کرلے، جو جسم، صورت، اور تعین مادی کے لئے ضروری ہیں۔ عالم جسم وکائنات مادہ میں داخلہ کے دو بڑے دروازے زمان ومکان ہیں۔ لطیف سی لطیف نورانیت بھی جب سطح زمین پر نازل ہوگی، تو انہی دروازوں میں ہو کر داخل ہوگی، برکت و رحمت جیسی لطافتیں بھی (جو بار الفاظ کا تحمل نہیں کرسکتیں) کرۂ خاکی کو جب اور جہاں بھی سرفراز کریں گی، وقت اور جگہ، زمان ومکان کی قید اور پابندی کے ساتھ ہی کریں گی، قدرت نے وقت کی تقسیم جو مختلف حصوں میں کر رکھی ہے، یہ بےمعنی نہیں، ہر موسم، ہر فصل، ہر گھڑی، اپنے اپنے اعتبارات دوسروں سے الگ رکھتی ہے۔ صرف اپنی بیرونی اور ظاہری تاثیرات ہی کی حیثیت سے نہیں، بلکہ اپنی اندرونی اور روحانی کیفیتوں، صلاحتیوں، اور مناسبتوں کے لحاظ سے بھی، مہینے سال میں بارہ ہوتے ہیں، لیکن حج صرف ایک ہی مہینے میں ادا ہوسکتا ہے۔ دن ہفتہ میں سات ہوتے ہیں۔ لیکن جمعہ صرف ایک ہی ہوتا ہے۔ گھنٹے دن میں چوبیس ہوتے ہیں، لیکن ہر نماز ہر وقت ادا نہیں کی جاسکتی، وقت کا کوئی ٹکڑا جب آتا ہے تو اپنے ساتھ اپنی ساری مناسبتوں کو بھی لاتا ہے، اور اپنی ساری کیفیتوں کو پھیلا دینا چاہتا ہے۔ رات کا سناٹا جب چھانے لگتا ہے تو چرند پرند اور انسان سب اپنے اپنے کاموں کو روک کر آرام کرنا چاہتے ہیں۔ آفتاب کی سرگرمیاں جب شروع ہوتی ہیں، تو حیوان اور انسان سب کو اپنے اپنے کام یاد پڑجاتے ہیں۔ برسات میں جب آب زندگی آسمان سے اترنے لگتا ہے تو زمین کی بھی ساری سوئی ہوئی زندگیاں نئے سرے سے بیدار ہوجاتی ہیں۔ بہارکا موسم آتا ہے، تو کلیوں کے کھلنے اور گلوں کے پھوٹنے کے ساتھ ہی انسانی دلوں کی کلیاں بھی کھلنے لگتی ہیں، اور طرح طرح کی امنگیں پیدا ہوجاتی ہیں۔ اسی قسم کی مناسبتوں کو روح کی بولی میں دنوں کی فضیلتیں اور کرامتیں اور راتوں کی بزرگیاں اور برکتیں کہتے ہیں۔ پھر یہ بھی فطرت کا ایک دستور ہے کہ جو واقعہ، روحانیت کے عالم میں جس درجہ کا پیش آتا ہے اسی کی اہمیت کی مناسبت سے اس کی یادگار بھی اسی زمانہ کو قرار دے دیا جاتا ہے۔ اللہ کے خلیل نے ایک خاص موسم میں اپنے لخت جگر کو قربانی کے لئے پیش کیا، عین اسی زمانہ کو فریضہ حج وقربانی کے واسطے سارے فرماں بردار بندوں کے لئے مخصوص کردیا گیا۔ عاشورۂ محرم کو روایات کے مطابق، متعدد انبیائے کرام کو اہم واقعات ومعاملات پیش آئے، اس روز کے روزہ کی فضیلتیں بیان کردی گئیں۔ دو شنبہ کے روز دنیا کو رحمت کا پیام عام سنانے والا آیا، اس یوم مبارک کو یاد دل سے کیونکر مٹ سکتی ہے۔ اللہ کی اتاری ہوئی ہر نعمت بڑی ہی نعمت ہے۔ لیکن اس کی ساری بڑی نعمتوں میں اگر کوئی نعمت سب سے بڑی قرار دی جاسکتی ہے، تو یہ ہے کہ اس نے ہر تاریکی کو روشن کرنے، ہر کجی کو درست کرنے، ہر پستی کو بلند کرنے، ہر مرض کو شفا دینے، ہر دکھ کو مٹا دینے کے لئے ہر موسم اور ہر زمانہ، ہر خطہ اور اور ہر ملک، ہر قوم اور ہر امت، ہر فرد اور ہر جماعت، ہر مرد اور ہر عورت، ہر بوڑھے اور ہر جوان کے ہاتھ میں ایک کامل ومکمل ہدایت نامہ، اور ایک جامع ومفصل دستورالعمل دیدیا ہے، جس کے بعد کسی انسان کو کسی علم وفن، کسی حکمت وصنعت کسی استاد ومرشد، کسی مدرسہ اور مکتب کی قطعا کوئی حاجت ہی نہیں باقی رہ جاتی، جس گھڑی اس آفتاب ہدایت کا طلوع ہوا ہے، وہ وقت رات کا تھا۔ اس مبارک رات کی بزرگیوں اور سعادتوں کا کوئی انسانی دماغ احاطہ کرسکتا ہے ؟ جس شب مبارک کو خود خالق لیل ونہار ” شب مبارک “ ارشاد فرمائے، کس بشر کے قلم میں یہ قوت ہے کہ اس کی کرامتوں اور فضیلتوں کی شرح کرسکے ؟ کوئی لفظ، کوئی عبارت، کوئی عنوان تحریر، ایسا ممکن ہے جو اس پاک رات کی پاکیزگیوں اور ستھرائیوں، رحمتوں اور برکتوں، نعمتوں اور دولتوں کی تفسیر کیلئے کافی ہوسکے ؟ پھول بہار ہی میں کھلتے ہیں، اور کلے بہار ہی میں پھوٹتے ہیں۔ گلستان دہر اور چمن حیات کے اس سب سے زیادہ خوش رنگ، شاداب اور دلکش پھول کے لئے کیوں کر ممکن تھا کہ بجز موسم گل وفصل بہا رکے کسی اور وقت کھلتا، چناچہ خود صدق مطلق کی لسان حق کا بیان ہے کہ عین اسی موسم میں، جو ازل سے نعمتوں اور برکتوں کی بارش کے لئے مخصوص ہوچکا تھا، گلشن کائنات کے اس سدابہار پھول نے اپنی عطر بیزیوں سے اہل ذوق کے مشام جان کو معطر کیا۔ (آیت) ” شھر رمضان الذی انزل فیہ القران “۔ ” یہ رمضان کا وہی مہینہ ہے، جس میں قرآن اتارا گیا۔ ” اسی مبارک ماہ کی ایک شب تھی جب اس شاہد رعنا نے اپنے چہرہ سے نقاب الٹا ہے، ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے اسے ایک شب مبارک میں اتارا ہے۔ (آیت) ” انآ انزلنہ فی لیلۃ مبرکۃ اناکنا منذرین۔ فیھا یفرق کل امر حکیم۔ امرا من عندنا اناکنا مرسلین، رحمۃ من ربک، انہ ھو السمیع العلیم، رب السموت والارض وما بینھما، ان کنتم موقنین لاالہ الا ھو یحی ویمیت ربکم ورب ابآئکم الاولین (دخان۔ ع 1) ” ہم ہمیشہ اسی طرح ڈراتے رہے ہیں، اسی شب میں ہر حکمت والی بات کا فیصلہ ہوتا رہتا ہے۔ چناچہ یہ حکم بھی ہماری ہی طرف سے ہے، اور ہم ہمیشہ بھیجتے ہی رہتے ہیں۔ یہ تیرے رب کی طرف سے رحمت ہی ہے، جو سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے۔ آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ انکے درمیان ہے، ان سب کا وہی پروردگار ہے، اگر تم یقین رکھتے ہو، وہی معبود جس کے سوا کوئی نہیں، زندگی اور موت سب اسی کے ہاتھ میں ہے، اور وہی رب ہے تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا “۔ اہل تفسیر میں اس کی بڑی بحث چلی آتی ہے کہ ” امر حکیم “ (حکمت والی بات) کے فیصلہ سے کیا مراد ہے، حالانکہ سیاق عبارت پر اگر نظر رہے، اور (آیت) ” رحمۃ من ربک “۔ ” ھوالسمیع العلیم “۔ ” رب السموت والارض “۔ اور ” ھو یحی ویمیت “۔” ربکم ورب ابآئکم الاولین “۔ کے لطیف اشارات کی روشنی سے کام لیاجائے تو یہ حقیقت بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ ” سب کے حالات سے واقف “ ، سب کے پرورش کرنے والے “ اور ” سب کی زندگی اور موت پر حاکم “ کے ہاں سے جس ” رحمت کا نزول “ ہوگا، وہ یہی ہوسکتی ہے کہ سب کو ربوبیت کے قانون سے آگاہ کردیا جائاے، اور سب کو زندگی اور موت (زندگی کا لفظ شخصی وقومی ہر زندگی پر حاوی ہے) کے اصول بتائے ہیں، قرآن حکیم کا اصلی کام یہی ہے، اور اس کی تعلیم ربوبیت کے قانون کو توضیح کرتی ہے، اور افراد واقوام کو زندگی بخشتی ہے، نزول قرآن، اسی معنی میں دنیا کے لئے سب سے بڑی رحمت اور نعمت ہے، یہی سب سے بڑی رحمت اس شب مبارک کو نازل ہوئی تھی، اور اسی کی یادگار میں، اسی کے ماتحت ہر سال اسی شب کو جزئیات وتفصیلات سے متعلق ہر ” امر حکیم “ ہر حکمت والی بات کا نزول وتصفیہ ہوتا رہتا ہے۔ قرآن حکیم ہی کی ابتدائی نزول کی گھڑی کو، جسے ایک جگہ شب مبارک (لیلۃ مبارکۃ) سے موسوم کیا گیا ہے، دوسری جگہ شب قدر “ (لیلۃ القدر) کے خطاب گرامی سے یاد فرمایا ہے۔” (آیت) ” انآ انزلنہ فی لیلۃ القدر، وما ادرک ما لیلۃ القدر لیلۃ القدر خیر من الف شھر “۔ ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں اتارا ہے، اور تم سمجھے کہ شب قد ر ہے کیا چیز ؟ شب قدر وہ برتر اور گرامی شب ہے، جو ہزار مہینوں سے بھی بہتر ہے ، ! بعض اہل شرح کی طرح یہاں اس الجھاؤ میں پڑنے کی مطلق حاجت نہیں کہ ” قدر “ یہاں اپنے کسی لغوی معنی میں آیا ہے، آیابمعنی حکم وقضا اور یا بمعنی شرف وتعظیم ! بہر صورت جو بھی پہلو اختیار کیا جائے، اس شب مبارک کی بےحد و حساب وبزرگی، خود آیۃ کریمہ (آیت) ” خیر من الف شھر “۔ بیان کر رہی ہے۔ یعنی وہ ایک رات جو ہزار مہینوں، ہزار ہا ہزار مہینوں، بلکہ ہر محدود اور شمار کی ہوئی مدت سے بڑھ چڑھ کر ہے ! جس مبارک رات کو قرآن جیسی بےنظیر نعمت دنیا کو ملی ہو، آسمانوں اور زمینوں کے فرمانروانے خاک کے پتلے کو اپنے محفوظ کلام کے شرف سے سرفراز کیا ہو، اس کی رحمتوں اور برکتوں کا احاطہ کرنا، انسانی دماغ کے تراشے ہوئے علم الحساب کے اعداد سے بھلا کس طرح ممکن ہے۔ (2) ؟ یہ شب مبارک آتی کب ہے ؟ روح وجان کے عالم میں بہار کے موسم کا نام، ماہ رمضان ہے، اس ماہ مبارک کا سب سے زیادہ مبارک زمانہ اس کا آخری عشرہ ہوتا ہے، پھول کوئی بھی کھلتا ہے، چمن مہکنے لگتا ہے، لیکن گلاب کی کلی جب کھلتی ہے تو اس وقت چمن کی مہک ہی کچھ اور ہوجاتی ہے۔ رمضان کا آخری عشرہ چمن میں گلاب کے کھلنے کا زمانہ ہوتا ہے۔ پاکوں اور پاکبازوں کا سردار، اس عشرہ بھر، ذکر و عبادت الہی کیلئے وقف رہتا تھا۔ (3) (گو وہ کون سازمانہ ہوتا تھا جب وہ عبادت الہی کیلئے وقف نہ ہوتا تھا ؟ ) اسی عشرہ کی کسی مقدس رات میں وہ مقدس گھڑی آجاتی ہے، جس کی فضیلتوں اور برکتوں کی شرح و تفصیل کے لئے لفظ وعبارت کا دفتر ناکافی ہے۔ اسی دولت بےبہا کی تلاش میں اگر انسان اپنی راتوں کی نیند بھی نہ قربان کرسکے، تو یقیناً اس کے دل کو اس قدر والی رات کی ذرا بھی قدر نہیں ! اس کے تعین سے اسی لئے قصدا ومصلحتا بےالتفاتی برتی گئی ہے، اور وہ رات جو (آیت) ” سلم، ھی حتی مطلع الفجر “۔ ” شام سے صبح تک سرتا سر رحمت ہی رحمت ہے “۔ اس کی بابت دنیا کا سب سے بڑا حکیم اپنی امت سے یہ ارشاد فرما گیا ہے کہ ” اس کو تلاش کرو آخر عشرہ رمضان کی طاق راتوں میں (4) “ جن جاگے ہوئے دلوں کی آنکھیں ” آج “ ان راتوں کو کسی کی یاد میں جاگ جاگ کر کاٹیں گی ،” کل “ وہ خود محسوس کریں گے کہ ان کی آنکھیں نہیں، ان کا نصیبہ جاگ رہا تھا ! (منقول از سچ، لکھنو۔ 9 اپریل 1926 ء۔ ) (1) ایک قلیل گروہ اس جانب گیا ہے کہ اس شب مبارک سے مراد شعبان کی پندرھویں ہے، لیکن محققین کا اتفاق ہے کہ اس مراد لیلۃ القدر ہی ہے۔ اور لیلۃ القدر، بلااختلاف، رمضان مبارک ہی کی کوئی آخری شب ہے۔ عن قتادۃ فی قولہ لیلۃ مبارکۃ قالھی لیلۃ القدر (ابن جریر) قال ابن زید فی قولہ تعالیٰ اناانزلنہ فی لیلۃ مبارکۃ قال تلک اللیلۃ لیلۃ القدر (ایضا) (2) التحدید بالالف لامفھوم لابل الغرض منہ التکثیر (مفتی محمد عبدہ مصری (رح) بیضاوی، بحرالمحیط، روح المعافی سب میں یہ قول نقل ہوا ہے کہ ہزار راتوں سے مراد کوئی متعین عدد نہیں، بلکہ محض تکثیر مراد ہے۔ (3) عن عائشۃ ؓ قالت کان رسول اللہ ﷺ یجتھد فی العشر الاواخر مالا یجتھد فی غیرہ (مسلم) (4) عن عائشۃ ؓ ان رسول اللہ ﷺ قال تحروا لیلۃ القدر فی الوتر من العشر الاواخر من رمضان (بخاری)
Ayahs 44:10–11

فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَاْتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 44:10 in the Quran reader

تو آپ انتظار کیجئے اس روز کا جب آسمان کی طرف ایک نظر آنے والا دھواں پیدا ہو،

یَّغْشَى النَّاسَ١ؕ هٰذَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 44:11 in the Quran reader

جو (ان سب) لوگوں پر چھاجائے، یہ ایک عذاب دردناک ہوگا،9۔

9۔ روایات متفق ہیں کہ اس مصیبت سے مراد وہ شدید قحط ہے جو اہل مکہ پر پڑنے والا تھا اور کچھ روز بعد پڑا، ہوا کہ جب ہجرت کے بعد بھی اہل مکہ کا عناد کم نہ ہوا بلکہ بڑھتا گیا تو عاجز آکر رسول اللہ ﷺ انکے حق میں بددعاء کی، اثر کا ظہور یوں ہوا کہ ادھر بارش رکی اور ادھر یمامہ (علاقہ یمن) کے رئیس ثمامہ نے جواب مسلمان ہوچکے تھے غلہ بھیجنا بند کردیا، مکہ کی غلہ کی منڈی یمامہ ہی سے تھی، اب قحط پورا ہوگیا۔ ذلک حین دعا رسول اللہ ﷺ علی قریش ربہ تبارک وتعالیٰ ان یاخذھم بسنین کسنی یوسف فاخذوا بالمجاعۃ (ابن جریر) حضرت عبداللہ بن مسعود صحابی ؓ نے بڑے زور وتاکید کے ساتھ آیت کے یہ معنی بیان کئے ہیں۔ قحط اتنا سخت تھا کہ لوگوں نے مردار کا گوشت، کھال ہڈیاں سب کھانا شروع کردیں تھیں۔ وفی روایۃ اخری صحیحۃ ..... حتی اکلوا المیتۃ والجلد والعظام (روح) (آیت) ” دخان مبین “۔ بھوک کی شدت اور دماغ کی خشکی میں، فضائے آسمانی میں دھواں سانظر آنے لگتا ہے، اسی کو یہاں آسمانی دھوئیں سے تعبیر کیا ہے۔ یقال ان الجائع کان یری بینہ وبین السماء دخانا من شدۃ الجوع (تاج) عنی بالدخان ماکان یصیبھم حینئذ فی ابصارھم من شدۃ الجوع من الظللۃ کھیءۃ الدخان (ابن جریر) دخان کا اطلاق عربی میں مطلق مؤذی پر بھی مجازا واستعارۃ ہوتا ہے۔ وتصور منہ التاذی بہ فقیل ھو دخن الخلق (راغب) (آیت) ” دخان “۔ کے معنی خشکی کے اور بھوک سے فضا کی دخان منظری کے بھی آئے ہیں، بلکہ خود شدت بھوک کے معنی بھی۔ والدخان الجدب والجوع (تاج) وقیل بل قیل اللجوع دخان (تاج) فالدخان یحتمل ان یراد بہ الشدۃ والشر مجازاوان یراد بہ حقیقۃ (روح)
Ayah 44:12

رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ اِنَّا مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 44:12 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ہم سے اس عذاب کو دور کردیجئے ہم ضرور ایمان لے آئیں گے،10۔

10۔ یہ پیش گوئی اس طرح پوری ہوئی کہ قریش کے سردار ابو سفیان وغیرہ نے آپ ﷺ کو لکھا بھی اور آپ کے پاس آئے بھی کہ آپ سے دعاء کرائیں۔ لما اشتد القحط بقریش مشی ابوسفیان الی رسول اللہ ﷺ وناشدہ الرحم وواعدہ ان دعالھم وزال مابھم امنوا (روح)
Ayahs 44:13–14

اَنّٰى لَهُمُ الذِّكْرٰى وَ قَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 44:13 in the Quran reader

ان کو کب (اس سے) نصیحت ہوتی ہے حالانکہ ان کے پاس پیغمبر کھلے ہوئے (دلائل کے ساتھ) آچکا ہے،

ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا مُعَلَّمٌ مَّجْنُوْنٌۘ Open ayah 44:14 in the Quran reader

پھر بھی یہ لوگ اس سے سرتابی کرتے رہے اور یہی کہتے رہے کہ یہ سکھایا ہوا ہے دیوانہ ہے،11۔

11۔ بیسویں صدی کے بڑے بڑے فرنگی ” علماء ومحققین “ آخر اس منزل سے آگے نہ بڑھ سکے جو معاند کفار ومشرکین قریش کی تھی ! وہ لوگ بھی قرآن کے لفظی ومعنوی اعجاز کی طرف سے آنکھیں بندکئے یہی رٹ لگائے ہوئے تھے کہ یہ کلام کسی اور کا سکھایا پڑھایا ہوا ہے۔ اور آج یورپ وامری کہ کے بڑے بڑے مشتشرقین کا بھی ” منتہائے تحقیق “ بس اسی قدر ہے کہ یہ کتاب محمد عربی ﷺ نے کچھ ادھر ادھر سے سن سنا کر تیار کردی ہے ! (آیت) ” رسول مبین “۔ یعنی ایسے پیغمبر جن کی صداقت وحقانیت دلائل ومعجزات کی کثرت سے بالکل واضح وظاہر ہے۔ اے رسول عظیم الشان ظاھر امر رسالتہ بالایات والمعجزات (روح) وھو ماظھر علی رسول اللہ ﷺ من الایات والبینات من الکتاب المعجزوغیرہ من المعجزات (کشاف)
Ayah 44:15

اِنَّا كَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِیْلًا اِنَّكُمْ عَآئِدُوْنَۘ Open ayah 44:15 in the Quran reader

بیشک ہم چندے اس عذاب کو ہٹا لیں گے اور تم بھی (اپنی پہلی حالت پر) لوٹ آؤ گے،12۔

12۔ یعنی اتمام حجت کے لئے ہم اس بھوک کے عذاب کو دور بھی کردیں گے لیکن اس سے حاصل کیا ہوگا ایمان لانا تو الگ رہا۔ یہ جو نرمی اور شکستگی پیدا ہورہی ہے، یہ بھی جاتی رہے گی اور بدستور عناد و استکبار پر آجاؤ گے۔ یہ سب بطور پیش گوئی کے تھا، اور واقع میں ظہور اس کا یوں ہوا کہ آپ ﷺ نے دعا فرمائی اور ثمامہ نے بھی آپ ﷺ کا سفارش نامہ پاکر غلہ کی بندش دور کردی، لیکن اس فارغ البالی کے نصیب ہوجانے پر مشرکین کی مخالفت کا زور شور لوٹ آیا۔
Ayah 44:16

یَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرٰى١ۚ اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ Open ayah 44:16 in the Quran reader

جس روز ہم بڑی سخت پکڑ پکڑیں گے (اس روز) ہم پورا بدلہ لے لیں گے،13۔

13۔ یعنی پوری سزا آخرت میں ملے گی۔
Ayahs 44:17–20

وَ لَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ كَرِیْمٌۙ Open ayah 44:17 in the Quran reader

اور ہم نے ان سے پہلے قوم فرعون کی آزمائش کی تھی اور ان کے پاس ایک معزز پیغمبر آئے تھے ،

اَنْ اَدُّوْۤا اِلَیَّ عِبَادَ اللّٰهِ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 44:18 in the Quran reader

) یہ پیام لے کر) کہ اللہ کے ان بندوں کو میرے حوالہ کردو میں تمہارا معتبر پیغمبر ہوں ،

وَّ اَنْ لَّا تَعْلُوْا عَلَى اللّٰهِ١ۚ اِنِّیْۤ اٰتِیْكُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۚ Open ayah 44:19 in the Quran reader

اور یہ کہ تم اللہ سے سرکشی نہ کرو میں تمہارے سامنے واضح دلیل پیش کرتا ہوں ،

وَ اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ اَنْ تَرْجُمُوْنِ٘ Open ayah 44:20 in the Quran reader

اور میں پناہ چاہتا ہوں اپنے پروردگار اور تمہارے پروردگار کی اس سے کہ تم مجھے سنگسار کرو،14۔

14۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اہل فرعون کے پاس آنے اور حق تعالیٰ کا پیام پہنچانے کا ذکر ایک نئے عنوان سے ہے۔ قبلھم۔ ضمیر ھم معاصر مشرکین مکہ کی جانب ہے۔ اے قبل ھؤلآء المشرکین (مدارک) (آیت) ’ ’ رسول کریم “۔ کھلی ہوئی مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ہے۔ (آیت) ” ان ادوا “۔ ان۔ یہاں تفسیر ہے۔ (آیت) ” ان .... اللہ “۔ عباد اللہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں، کہ انہیں میرے سپرد کردو۔ میں انہیں لے کر مسلک توحید پر چلانے کیلئے اپنے پرانے وطن شام کی طرف چلا جاؤں گا۔ (آیت) ” سلطن مبین “۔ اس کے تحت میں دلائل وخوارق سب آگئے۔ (آیت) ” انی ..... ترجمون “۔ صاف اشارہ اس طرف ہے کہ فرعونیوں یا مصریوں نے آپ ﷺ پر سنگبازی کی ٹھان لی تھی، توریت میں بھی اشارے موجود ہیں :۔ ” اگر ہم مصریوں کی آنکھوں کے آگے وہ قربانی کریں، جس سے وہ بیزار ہیں، تو کیا ہمیں وہ پتھراؤ نہ کریں گے۔ “ (خروج۔ 8: 26) مرشد تھانوی (رح) نے اسی آیت کے تحت میں یہ نکتہ ارشاد فرمایا ہے کہ حق تعالیٰ کے سامنے التجا کرتے رہنا اور اپنی قوت کا دعوی نہ کرنا عین اظہار عبدیت ہے۔
Ayah 44:21

وَ اِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا لِیْ فَاعْتَزِلُوْنِ Open ayah 44:21 in the Quran reader

اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھ سے الگ ہی رہو،15۔

15۔ یعنی کم از کم اتنا ہی کرو اور میری ایذاء کے درپے ہو کر اپنے جرم کو اور شدید تر تو نہ بناؤ۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں ایسے شخص سے قطع تعلق پر دلالت ہے جس کی اصلاح کہ امید نہ ہو۔
Ayah 44:22

فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُوْنَ Open ayah 44:22 in the Quran reader

تب (موسی (علیہ السلام) نے) اپنے پروردگار سے دعا کی کہ یہ (بڑے سخت) مجرم لوگ ہیں،16۔

16۔ (معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایمان نہ لائیں گے اور وقت ان کی گرفت ہی کا آپہنچا ہے)
Ayahs 44:23–24

فَاَسْرِ بِعِبَادِیْ لَیْلًا اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَۙ Open ayah 44:23 in the Quran reader

تو اب میرے بندوں کو بھی تم رات ہی میں لے کر چلے جاؤ ،

وَ اتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْوًا١ؕ اِنَّهُمْ جُنْدٌ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 44:24 in the Quran reader

تمہارا تعاقب ہوگا، اور تم اس دریاکو سکون کی حالت میں چھوڑنا، ان لوگوں کا لشکر غرق ہو کر رہے گا،17۔

17۔ یعنی آپ (علیہ السلام) کے لئے تو سمندر میں راستہ کردیا جائے گا اور سمندر کا کچھ حصہ آپ (علیہ السلام) کیلئے خشک کردیا جائے گا، آپ (علیہ السلام) اسے اسی سکون کے حال میں چھوڑ کر چلے جائیے گا۔ اور اسی فکر واندیشہ میں نہ پڑئیے گا کہ فرعون بھی تو اسی راستہ سے آجائے گا۔ چناچہ آپ (علیہ السلام) اس ارشاد باری کی تعمیل میں بنی اسرائیل کو لے کر راتی راتا ہی نکل گئے اور صبح کو آپ (علیہ السلام) کا تعاقب بھی ہوا۔
Ayahs 44:25–28

كَمْ تَرَكُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 44:25 in the Quran reader

وہ لوگ کتنے ہی باغ اور چشمے ،

وَّ زُرُوْعٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 44:26 in the Quran reader

اور کھیتاں اور عمدہ مکانات ،

وَّ نَعْمَةٍ كَانُوْا فِیْهَا فٰكِهِیْنَۙ Open ayah 44:27 in the Quran reader

اور آرام کے سامان جن میں رہا کرتے تھے چھوڑگئے،

كَذٰلِكَ١۫ وَ اَوْرَثْنٰهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 44:28 in the Quran reader

) یہ قصہ) اسی طرح واقع ہوا اور ہم نے ان (چیزوں) کا مالک ایک دوسری قوم کو بنا دیا،18۔

18۔ یعنی اسی نسل کی بعد ایک دوسری نسل مصر اور اس کے سارے تعیشات پر حکاکم و متصرف ہوگئی اور ان لذتوں اور راحتوں کے سامان پر فرعونیوں کو دوام نہ ہوسکا۔ (آیت) ” کم ترکوا “۔ کم اظہار کثرت کیلئے ہے۔ کم عبارۃ عن الکثرۃ (مدارک) (آیت) ” قوما اخرین “۔ اس سے اشارہ اگر بنی اسرائیل ہی کی طرف سمجھا جائے جیسا کہ بعض مفسرین نے سمجھا ہے تو (آیت) ” اور ثنھا “۔ سے مراد یہ نہ رہے گی کہ انہیں بعینہ فرعونیوں ہی کی چھوڑی ہوئی نعمتیں عطا کیں، بلکہ مراد نفس وہ نعمتیں (سرسبز کھیتیاں، شاداب باغ بہتے ہوئے چشمے وغیرہ) ہوں گی، جو بنی اسرائیل کو شام و فلسطین یا کہیں بھی عطا ہوئی ہوں۔
Ayah 44:29

فَمَا بَكَتْ عَلَیْهِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ وَ مَا كَانُوْا مُنْظَرِیْنَ۠ Open ayah 44:29 in the Quran reader

تو ان پر نہ تو آسمان اور زمین روئے، اور نہ انہیں مہلت ہی ملی،19۔

19۔ پہلے یہ حقیقت ذہن نشین کرلی جائے، کہ کائنات کی کوئی سی بھی شے ہو، بڑی سے بڑی یا چھوٹی سے چھوٹی۔ احساس و شعور کسی نہ کسی درجہ میں ضرور رکھتی ہے۔ اس کے بعد یہ سمجھئے کہ آسمان اور زمین میں بھی ان کے مرتبہ کے لائق شعور موجود ہے۔ اسی سے وہ مومن کے مرتبہ کا ادراک کرکے اس کی وفات پر غمگین ہوتے ہیں۔ حکیم کائنات ودانائے فطرت محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے :۔ مامن عبد الاولہ فی السماء بابان باب یخرج منہ رزقہ وباب یدخل منہ عملہ وکلامہ فاذا مات فقداہ وب کیا علیہ (جامع ترمذی) مومن جب مرجاتا ہے تو آسمان کا وہ دروازہ جس سے اس کے عمل کا صعود ہوتا تھا اور وہ دروازہ جس سے اس کے رزق کا نزول ہوتا تھا اس پر روتے ہیں۔ اور آپ ﷺ کے رفیق وتلمیذ خاص حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ :۔ واخرج ابن المنذر وغیرہ عن علی ؓ انہ قال ان ال مومن اذا مات بکی علیہ مصلاہ من الارض ویصعد عملہ من السماء (روح) ” جب مومن مرتا ہے تو زمین میں اس کے نماز پڑھنے کی جگہ اور آسمان میں اس کے عمل کے صعود کرنے کی جگہ یہ دونوں اس پر روتی ہیں۔ “ (آیت) ” علیھم ..... کانوا “۔ ضمیر جمع غائب سے دونوں جگہ وہی قوم فرعون ہے جس کا ذکر اوپر سے چلا آرہا ہے۔ (آیت) ” فما ..... الارض “۔ یہ اثر تھا ان لوگوں کی کمال مبغوضیت کا۔ زمین، آسمان کسی کو بھی ان پر رونا نہ آیا، اور کسی کو بھی ان سے ہمدردی پیدا نہ ہوئی۔ (آیت) “ وما کانوا منظرین “۔ یہ اثر تھا ان کے کما مغضوبیت کا کہ ذرا بھی مہلت نہ پائی۔ اگر ابھی مہلت زندگی پاجاتے تو عذاب الی سے چندے اور بچے رہتے۔
Ayahs 44:30–32

وَ لَقَدْ نَجَّیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُهِیْنِۙ Open ayah 44:30 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے بنی اسرائیل کو فرعون کے سخت ذلت والے عذاب سے نجات دی ،

مِنْ فِرْعَوْنَ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَالِیًا مِّنَ الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 44:31 in the Quran reader

واقعہ وہ بڑا سرکش حد سے نکل جانے والوں میں تھا ،

وَ لَقَدِ اخْتَرْنٰهُمْ عَلٰى عِلْمٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 44:32 in the Quran reader

ہم نے بنی اسرائیل کو دنیا جہاں پر فضلیت (اپنے) علم کے ماتحت ہی دی تھی،20۔

20۔ بنی اسرائیل کی فضیلت و فوقیت کا بیان کئی بار آچکا ہے۔ اور اس کی توضیح سورة البقرۃ (پ 1) کے حاشیوں میں آچکی ہے۔ یہاں یہ بتایا ہے کہ یہ افضلیت واشرفیت یوں ہی اٹکل پچو بلاوجہ نہ تھی، خاص مصالح تکوینی کے ماتحت تھی۔ (آیت) ” بنی اسرآء یل۔ العذاب المھین۔ فرعون “۔ فرعون، بنی اسرائیل اور ان پر سختیاں، ان سب پر حاشیے سورة البقرۃ (پ 1) میں گزر چکے۔
Ayah 44:33

وَ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنَ الْاٰیٰتِ مَا فِیْهِ بَلٰٓؤٌا مُّبِیْنٌ Open ayah 44:33 in the Quran reader

اور ہم نے انہیں ایسی نشانیاں دی تھیں جس میں کھلا ہوا انعام تھا،21۔

21۔ مثلا دولت توحید، نعمت رسالت، اور پھر دنیوی حکومت وعزاز۔ (آیت) ” بلاء “۔ یہاں مصیبت کے معنی میں نہیں، انعام کے معنی میں ہے۔ اے نعمۃ ظاھرۃ (کشاف، روح) بلاء کے عام متداول معنی یہی لئے جاسکتے ہیں، یعنی ان نشانات کے ذریعہ سے خوب آزمائش اور تجربہ ہوگیا۔ اے اختبارظاھر جلی لمن اھتدی بہ (ابن کثیر) اختبار ظاھر لننظر کیف یعملون (روح)
Ayahs 44:34–36

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَیَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 44:34 in the Quran reader

یہ لوگ تو یہی کہتے ہیں ،

اِنْ هِیَ اِلَّا مَوْتَتُنَا الْاُوْلٰى وَ مَا نَحْنُ بِمُنْشَرِیْنَ Open ayah 44:35 in the Quran reader

کہ بس یہی موت ہی (ہمارا آخری انجام) ہے اور ہم دوبارہ زندہ نہ ہوں گے سو لاؤ ،

فَاْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 44:36 in the Quran reader

) اے مسلمانو) ہمارے باپ دادوں کو اگر تم سچے ہو۔22۔

22۔ یہ کہنے والے عصر قدیم کے ” روشن خیال “ مادیین اور عرب کے فطرت پرست دہریین تھے، حشر ونشر وعالم آخرت کے قطعی منکر، یہ مسلمانوں کو چیلنج دیکر اور اپنی ” روشن خیالی “۔ کے پر فخر مظاہرہ کے ساتھ کہتے تھے کہ ہم مذہب ووذھب کے ڈھکوسلوں کے سرے سے قائل ہی نہیں۔ ہم تو صرف حواس ظاہری ومشاہدہ کو مانتے ہیں، تو اگر واقعی کسی مردہ کو زندہ کرکے دکھا دو تو بیشک ہم قائل ہوجائیں، مغیبات مجردات میں آج بھی مشاہدہ و تجربہ کا مطالبہ اس قدیم ذہنیت کی صدائے باز گشت ہے۔
Ayah 44:37

اَهُمْ خَیْرٌ اَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ١ۙ وَّ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ اَهْلَكْنٰهُمْ١٘ اِنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 44:37 in the Quran reader

تو کیا یہ لوگ بڑھ چڑھ کر ہیں یا قوم تبع والے اور جو لوگ ان سے بھی پیشتر ہوئے ہیں، ہم نے ان تک کو ہلاک کرڈالا اس لئے کہ وہ نافرمان تھے،23۔

23۔ یعنی نافرمانی و قانون شکنی تو ایسی چیز ہے جس کی سزا ان مجرموں سے کہیں زائد قوت ومقدرت والوں کو مل کر رہی ہے۔ تو یہ بیچارے کس شمار وقطار میں ہیں۔ (آیت) ” خیر “۔ خیر کا مفہوم ہمیشہ اخلاقی وروحانی ہی پہلو نہیں رکھتا، مادی، مالی، جسمانی فوقیت کا اظہار بھی اسی لفظ سے ہوتا رہتا ہے۔ یہاں اسی دنیوی جاہ وحشم مادی قوت و سامان میں اظہار فوقیت کیلئے ہے۔ (آیت) ” قوم تبع “۔ جس طرح ملوک مصر کالقب فرعون تھا۔ اسی طرح جنوب عرب کی سلطنت یمن کے بادشاہوں کے ایک خاندان کا لقب تبع تھا۔ یہ اپنے وقت کے بڑے عظیم الشان وجلیل القدر فرمانروا تھے۔ اور ان کے حدود سلطنت علاوہ حمیر، حضرموت اور سارے علاقہ سبا کے شمال میں شمالی عرب تک اور مغرب میں افریقہ تک وسیع تھے۔ اور یہ خاندان کوئی ڈھائی سو سال فرماں روارہا۔ اور ان کے زمانہ کا تخمینہ ظہور اسلام سے ساتھ آٹھ صدیوں قبل کا کیا گیا ہے۔ اہل لغت کا بیان ہے کہ تبع ان بادشاہوں کو ان کی کثرت اتباع کی بنا پر کہتے ہیں۔ ابن ہشام میں ابن اسحاق کے حوالہ سے ہے کہ : قال ابن اسحاق وکان قد جعل طریقۃ حین اقبل من الشرق علی المدینہ وکان قدمربھا فی بدء تہ۔” اس نے مدینہ سے (یمن تک) سڑک بنوادی تھی، جب مشرق سے مدینہ کو آیا تھا اور اسی سڑک سے اپنے وطن کو آتا جاتا تھا۔ “ بہرحال اہل عرب تبع کی عظمت وشان سے خوب اچھی طرح واقف تھے۔ بلکہ ان کے ہاں تبع کی عظمت و جلالت بطور ضرب المثل کے مشہور زبان زد تھی، (آیت) ” ھم “۔ ضمیر عرب معاصرین کی جانب ہے جن کا ذکر ابھی آیات ماقبل میں آیا ہے۔
Ayahs 44:38–39

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا لٰعِبِیْنَ Open ayah 44:38 in the Quran reader

اور آسمان اور زمین اور جو ان کے درمیان ہے، یہ سب ہم نے یونہی خواہ مخواہ نہیں بنا ڈالا،

مَا خَلَقْنٰهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 44:39 in the Quran reader

ہم نے ان کو کسی حکمت ہی سے بنایا ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے،24۔

24۔ اس میں رد آگیا اس ان ساری جاہلی قوموں کا، جو یہ سمجھتی ہیں کہ یہ ساری کائنات محض ایک تماشہ گاہ ہے۔ اور خالق کائنات کو (نعوذ باللہ) محض ایک میلہ رچانا (تماشہ کرنا) مقصود تھا۔ قرآن مجید اس کی بار بار تردید کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ اس کارخانہ آفرینش سے بڑے بڑے اہم مقصود ہیں ..... اکبر الہی آبادی (رح) کے الفاظ ہیں۔ ع : اکبر اس فطرت خاموش کو بےحس نہ سمجھ، ہاں بصیرت سے تہی دیدۂ نرگس نہ سمجھ۔ (آیت) ” ماخلقنھما الابالحق “۔ یعنی ان کی آفرنیش میں بڑی بڑی غایتیں اور مصلحتیں پنہاں ہیں۔ اور ان میں سے ایک بڑی حکمت قانون مجازات ومکافات کا اجراء ونفاذ ہے۔ (آیت) ” ولکن اکثرھم لایعلمون “۔ کثرت سے لوگ عقیدہ حشر ہی کے منکر ہیں اور جو مانتے ہیں ان میں بھی بہت سے عملا اس کو اہمیت کو بھلائے ہوئے ہیں۔