44. Surah Ad-Dukhaan

الدخانThe Smoke · 59 ayahsبیان القرآن

Ayahs 44:1–3

وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ Open ayah 44:2 in the Quran reader

قسم ہے اس کتاب واضح کی۔

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِیْنَ Open ayah 44:3 in the Quran reader

کہ ہم نے اس کو (لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر) ایک برکت والی رات (یعنی شب قدر) میں اتارا ہے ہم آ گاہ کرنے والے تھے۔ (ف 2)

ف 2۔ یعنی ہم کو منظور ہوا کہ ان مضرتوں سے بچا لینے کے لئے خیر و شر کی اطلاع کردیں، یہ علت ہو تو تنزیل قرآن کی۔
Ayahs 44:4–5

فِیْهَا یُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِیْمٍۙ Open ayah 44:4 in the Quran reader

اس رات میں ہر حکمت والا معاملہ ہماری پیشی سے․

اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَۚ Open ayah 44:5 in the Quran reader

حکم ہو کر طے کیا جاتا ہے۔ (ف 3) ہم بوجہ نعمت کے جو آپ کے رب کی طرف سے ہوتی آپ کو پیغمبر بنانے والے تھے۔

ف 3۔ یعنی سال بھر کے معاملات ہیں کہ سب ہی باحکمت ہیں جس طور پر اللہ تعالیٰ کو کرنا منظور ہے، اس طور کو متعین کر کے اور ان کی اطلاع کا رکن ملائکہ کو کر کے ان کے سپرد کردیئے جاتے ہیں، چونکہ وہ رات ایسی ہے اور قرآن سب سے زیادہ امر حکیم تھا اس لئے اس کا نزول بھی اسی شب میں ہوا۔
Ayahs 44:6–9

رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُۙ Open ayah 44:6 in the Quran reader

بیشک وہ بڑا سننے والا بڑا جاننے والا ہے۔

رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ۘ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ Open ayah 44:7 in the Quran reader

جو کہ مالک ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو (مخلوق) ان دونوں کے درمیان میں ہے اس کا بھی اگر تم یقین لانا چاہو۔

لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 44:8 in the Quran reader

اسکے سوا کوئی لائق عبادت کے نہیں وہی جان ڈالتا ہے اور وہی جان نکالتاہے․ وہ تمہارا بھی پروردگار ہے اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا بھی پروردگار ہے۔

بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ یَّلْعَبُوْنَ Open ayah 44:9 in the Quran reader

بلکہ وہ شک میں ہیں کھیل میں مصروف ہیں۔ (ف 4)

ف 4۔ آخرت کی فکر نہیں جو حق کو طلب کریں اس میں غور سے کام لیں۔
Ayahs 44:10–11

فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَاْتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 44:10 in the Quran reader

سو آپ (ان کے لیے) اس روز کا انتظار کیجئے کہ آسمان کی طرف ایک نظرآنے والا دھؤاں پیدا ہو۔

یَّغْشَى النَّاسَ١ؕ هٰذَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 44:11 in the Quran reader

جو ان سب لوگوں پر عام ہوجاوے یہ (بھی) ایک دردناک سزا ہے۔ (ف 5)

ف 5۔ مراد اس سے غلہ کا قحط ہے جس میں اہل مکہ مبتلا ہوئے تھے، جس کا حقیقی سبب بد دعا تھی رسول اللہ ﷺ کی، جب یہ لوگ عناد میں زیادہ بڑھ گئے تھے اور یہ بد دعا ایک بار مکہ میں ہوئی تھی اور ایک بار مدینہ میں۔
Ayahs 44:12–17

رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ اِنَّا مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 44:12 in the Quran reader

اے ہمارے رب ہم سے اس مصیبت کو دور کردیجئے ہم ضرور ایمان لے آوینگے۔

اَنّٰى لَهُمُ الذِّكْرٰى وَ قَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 44:13 in the Quran reader

ان کو (اس سے) کب نصیحت ہوتی ہے حالآنکہ (اس کے) قبل انکے پاس ظاہر شان کا پیغمبر آیا۔

ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا مُعَلَّمٌ مَّجْنُوْنٌۘ Open ayah 44:14 in the Quran reader

پھر بھی یہ لوگ اس سے سرتابی کرتے رہے اور یہی کہتے رہے کہ (کسی دوسرے بشرکا) سکھلایا ہوا ہے دیوانہ ہے۔

اِنَّا كَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِیْلًا اِنَّكُمْ عَآئِدُوْنَۘ Open ayah 44:15 in the Quran reader

ہم چندے اس عذاب کو ہٹادینگے۔ تم پھر اپنی اس حالت پر آجاؤگے۔

یَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرٰى١ۚ اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ Open ayah 44:16 in the Quran reader

جس روز ہم بڑی سخت پکڑ․ پکڑیں گے (اس روز) ہم (پورا) بدلہ لینگے۔

وَ لَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ كَرِیْمٌۙ Open ayah 44:17 in the Quran reader

اور ہم نے ان سے پہلے قوم فرعون کو آزمایا تھا اور ( وہ آزمایش یہ تھی کہ) ان کے پاس ایک معزز پیغمبر آئے تھے۔ (ف 6)

ف 6۔ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) ۔ (فائدہ) پیغمبر کے آنے سے آزمائش یہ ہوتی ہے کہ کون ایمان لاتا ہے اور کون نہیں لاتا۔
Ayah 44:18

اَنْ اَدُّوْۤا اِلَیَّ عِبَادَ اللّٰهِ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 44:18 in the Quran reader

کہ ان اللہ کے بندوں (یعنی بنی اسرائیل) کو میرے (ف 7) حوالہ کردو میں تمہاری طرف (خدا کا) فرستادہ (ہوکرآیا) ہوں دیانت دار ہوں۔

ف 7۔ اور ان سے دست بردار ہوجاو کہ میں جہاں اور جس طرح مناسب ہو ان کو آزاد کر کے رکھوں۔
Ayah 44:19

وَّ اَنْ لَّا تَعْلُوْا عَلَى اللّٰهِ١ۚ اِنِّیْۤ اٰتِیْكُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۚ Open ayah 44:19 in the Quran reader

اور یہ (بھی فرمایا) کہ تم خدا سے سرکشی مت کرو میں تمہارے سامنے ایک واضح دلیل (اپنی نبوت کی) پیش کرتا ہوں۔ (ف 1)

ف 1۔ مراد اس سے عصا اور ید بیضا ہے۔
Ayahs 44:20–28

وَ اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ اَنْ تَرْجُمُوْنِ٘ Open ayah 44:20 in the Quran reader

اور میں اپنے پروردگار اور تمہارے پروردگار کی پناہ لیتا ہوں اس سے کہ تم لوگ مجھ کو پتھر و یا غیر پتھر سے قتل کرو۔

وَ اِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا لِیْ فَاعْتَزِلُوْنِ Open ayah 44:21 in the Quran reader

اور اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو تم مجھ سے الگ ہی رہو۔

فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُوْنَ Open ayah 44:22 in the Quran reader

تب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ بڑے سخت مجرم لوگ ہیں۔

فَاَسْرِ بِعِبَادِیْ لَیْلًا اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَۙ Open ayah 44:23 in the Quran reader

تو اب میرے بندوں کو تم رات ہی رات میں لے کر چلے جاؤ تم لوگوں کا تعاقب ہوگا۔

وَ اتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْوًا١ؕ اِنَّهُمْ جُنْدٌ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 44:24 in the Quran reader

اور تم اس دریا کو سکون کی حالت میں چھوڑ دینا ان کا سارا لشکر ڈبویا جاوے گا۔

كَمْ تَرَكُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 44:25 in the Quran reader

وہ لوگ کتنے ہی باغ اور چشمے (یعنی نہریں ) ۔

وَّ زُرُوْعٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 44:26 in the Quran reader

اور کھیتیاں اور عمدہ مکانات اور آرام کے سامان۔

وَّ نَعْمَةٍ كَانُوْا فِیْهَا فٰكِهِیْنَۙ Open ayah 44:27 in the Quran reader

جس میں وہ خوش رہا کرتے تھے چھوڑ گئے۔

كَذٰلِكَ١۫ وَ اَوْرَثْنٰهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 44:28 in the Quran reader

(یہ قصہ) اسی طرح ہوا اور ہم نے ایک دوسری (ف 2) قوم کو ان کا وارث بنادیا۔

ف 2۔ مراد بنی اسرائیل ہیں۔
Ayah 44:29

فَمَا بَكَتْ عَلَیْهِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ وَ مَا كَانُوْا مُنْظَرِیْنَ۠ Open ayah 44:29 in the Quran reader

نہ تو ان پر آسمان و زمین کو رونا آیا (ف 3)․ اور نہ انکو مہلت دی گئی۔ (ف 4)

ف 3۔ اور یہ اثر ہے مغبوضیت کا۔ 4۔ یعنی اگر چندے جیتے تو عذاب نار سے اور بچے رہتے اور یہ مہلت نہ ملنا اثر ہے مبغوضیت کا۔
Ayahs 44:30–33

وَ لَقَدْ نَجَّیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُهِیْنِۙ Open ayah 44:30 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو سخت ذلت کے عذاب یعنی فرعون (کے ظلم وستم) سے نجات دی۔

مِنْ فِرْعَوْنَ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَالِیًا مِّنَ الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 44:31 in the Quran reader

واقعی وہ بڑا سرکش (اور) حد (عبودیت) سے نکل جانے والوں میں سے تھا۔

وَ لَقَدِ اخْتَرْنٰهُمْ عَلٰى عِلْمٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 44:32 in the Quran reader

اور (اس کے علاوہ) ہم نے بنی اسرائیل کو اپنے علم کی رو سے (بعض امور میں تمام) دنیا جہاں والوں پر فوقیت دی۔

وَ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنَ الْاٰیٰتِ مَا فِیْهِ بَلٰٓؤٌا مُّبِیْنٌ Open ayah 44:33 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو ایسی نشانیاں دیں جن میں صریح انعام تھا۔ (ف 5)

ف 5۔ یعنی وہ امور جامع تھے درمیان دونوں وصف کے، نعمت ہونا اور دلیل قدرت ہونا، پھر بعض ان میں حسی نعمت تھی اور بعض ان میں معنوی نعمتیں تھیں۔
Ayahs 44:34–35

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَیَقُوْلُوْنَۙ Open ayah 44:34 in the Quran reader

یہ لوگ کہتے ہیں کہ اخیر حالت۔

اِنْ هِیَ اِلَّا مَوْتَتُنَا الْاُوْلٰى وَ مَا نَحْنُ بِمُنْشَرِیْنَ Open ayah 44:35 in the Quran reader

بس یہی ہمارا دنیا کا مرنا ہے اور ہم دوبارہ زندہ نہ ہونگے۔ (ف 6)

ف 6۔ مطلب یہ کہ اخیر حالت وہ حیات اخرویہ نہیں بلکہ یہ موت دنیوی ہی اخیر حالت ہے۔
Ayahs 44:36–37

فَاْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 44:36 in the Quran reader

سو اے مسلمانو اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادوں کو (زندہ کرا کے) لاموجود کرو۔

اَهُمْ خَیْرٌ اَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ١ۙ وَّ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ اَهْلَكْنٰهُمْ١٘ اِنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 44:37 in the Quran reader

یہ لوگ (قوت و شوکت میں) زیادہ بڑھے ہوئے ہیں یا تُبّع (شاہ یمن) کی قوم اور جو قومیں ان سے پہلے ہوگزری ہیں ہم نے انکو (بھی) ہلاک کرڈالا وہ نافرمان تھے۔ (ف 7)

ف 7۔ مطلب یہ کہ وہ لوگ ان سے شدید اور مدید تھے مگر ہم نے ان کو بھی ہلاک کر ڈالا سو یہ لوگ اگر باز نہ آئیں گے تو یہ کیونکر اپنے کو بچا لیں گے۔