43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsبیان القرآن

Ayahs 43:1–4

حٰمٓۚۛ Open ayah 43:1 in the Quran reader

حم (علیہ السلام)

وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ Open ayah 43:2 in the Quran reader

قسم اس کتاب واضح کی۔

اِنَّا جَعَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَۚ Open ayah 43:3 in the Quran reader

کہ ہم نے اس کو عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تاکہ (اے عرب) تم (آسانی) سے سمجھ لو۔

وَ اِنَّهٗ فِیْۤ اُمِّ الْكِتٰبِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَكِیْمٌؕ Open ayah 43:4 in the Quran reader

اور وہ ہمارے پاس لوح محفوظ میں بڑے رتبے کی اور حکمت بھری کتاب ہے۔ (ف 4)

ف 4۔ پس جب یہ سمجھنے میں آسان ہے اور خاص ہماری زیر حفاظت اور بوجہ اعجاز کے عظیم المرتبہ اور اپنی حقیقت پر دال۔ پھر منافع و مصالح پر مشتمل تو ایسی کتاب کو ضرور ماننا چاہئے، لیکن اگر تم نہ بھی مانو تب بھی ہم بوجہ اقتضائے حکمت کے اس کا بھیجنا اور تم کو اس کا مخاطب بنانا نہ چھوڑیں گے۔
Ayah 43:5

اَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا اَنْ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِیْنَ Open ayah 43:5 in the Quran reader

کیا ہم تم سے اس نصیحت (نامہ) کو اسبات پر ہٹا لیں گے کہ تم حد (اطاعت) سے گزرنے والے ہو۔ (ف 5)

ف 5۔ یعنی خواہ تم مانو یا نہ مانو، مگر نصیحت تو برابر کی جائے گی، اور یہ فیض کامل ہو کر رہے گا۔
Ayahs 43:6–8

وَ كَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِیٍّ فِی الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:6 in the Quran reader

اور ہم پہلے لوگوں میں بہت سے نبی بھیجتے رہے ہیں۔

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 43:7 in the Quran reader

اور ان لوگوں کے پاس کوئی ایسا نبی نہیں آیا جس کے ساتھ انہوں نے استہزاء کیا ہو۔

فَاَهْلَكْنَاۤ اَشَدَّ مِنْهُمْ بَطْشًا وَّ مَضٰى مَثَلُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 43:8 in the Quran reader

پھر ہم نے ان لوگوں کو جو کہ ان سے زیادہ زور آور تھے غارت کر ڈالا اور پہلے لوگوں کی یہ حالت (ہلاک و غارت کی) ہوچکی ہے۔ ) (ف 6)

ف 6۔ پس نہ آپ گم کریں کہ ان کا بھی ایسا ہی حال ہونا ہے، چناچہ بدر وغیرہ میں ہوا اور نہ یہ بےفکر ہوں کہ نمونہ موجود ہے۔
Ayah 43:9

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ خَلَقَهُنَّ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙ Open ayah 43:9 in the Quran reader

اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمان و زمین کس نے پیدا کیا ہے تو وہ ضرور یہ کہیں گے کہ ان کو زبردست جاننے والے (خدا) نے پیدا کیا ہے۔ (ف 7)

ف 7۔ اور انفراد فی الخلق مستلزم ہے انفراد فی الالوہیت کو پس توحید ان کے اعتراف سے ثابت ہوگئی۔
Ayahs 43:10–13

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۚ Open ayah 43:10 in the Quran reader

جس نے تمہارے (آرام کے) لیے زمین کو (مثل) فرش (کے) بنایا (اس پر آرام کرتے رہو) اور اس میں اس نے تمہارے لیے رستے بنائے تاکہ تم منزل مقصود تک پہنچ سکو۔

وَ الَّذِیْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ١ۚ فَاَنْشَرْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ۚ كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ Open ayah 43:11 in the Quran reader

اور جس نے آسمان سے پانی ایک انداز سے برسایا پھر ہم نے اس سے خشک زمین کو (اس کے مناسب) زندہ کیا اسی طرح تم (بھی اپنی قبروں سے) نکالے جاؤ گے۔

وَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا وَ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَ الْاَنْعَامِ مَا تَرْكَبُوْنَۙ Open ayah 43:12 in the Quran reader

اور جس نے تمام اقسام بنائیں اور تمہاری وہ کشتیاں اور چوپائے بنائے جن پر تم سوار ہوتے ہو۔

لِتَسْتَوٗا عَلٰى ظُهُوْرِهٖ ثُمَّ تَذْكُرُوْا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ اِذَا اسْتَوَیْتُمْ عَلَیْهِ وَ تَقُوْلُوْا سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَ مَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِیْنَۙ Open ayah 43:13 in the Quran reader

تاکہ تم ان کی پیٹھ پر جم کے بیٹھو پھر جب اس پر بیٹھ چکو تو اپنے رب کی نعمت کو دل سے ياد اور (زبان سے استحباباً ) یوں کہو کہ اس کی ذات پاک ہے جس نے ان چیزوں کو ہمارے بس میں کردیا ہے اور ہم ایسے نہ تھے جو ان کو قابو کرلیتے۔ (ف 1)

ف 1۔ کیونکہ جانور سے زیادہ زور نہیں، اور بےالہام حق کشتی چلانے کی تدبیر سے واقف نہیں، دونوں کے متعلق حق تعالیٰ نے تدبیر تعلیم فرمادی۔
Ayahs 43:14–15

وَ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ Open ayah 43:14 in the Quran reader

اور ہم کو اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

وَ جَعَلُوْا لَهٗ مِنْ عِبَادِهٖ جُزْءًا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ مُّبِیْنٌؕ۠ Open ayah 43:15 in the Quran reader

اور لوگوں نے خدا کے بندوں میں سے (جو مخلوق ہوتے ہیں) (خدا کا) جزو ٹھیرایا واقعی انسان صریح ناشکر ہے۔ (ف 2)

ف 2۔ اس لئے کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ اتنا بڑا کفر کرتا ہے کہ اس کو صاحب جزو قرار دیتا ہے جو مستلزم حدوث کو ہے۔
Ayahs 43:16–18

اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخْلُقُ بَنٰتٍ وَّ اَصْفٰىكُمْ بِالْبَنِیْنَ Open ayah 43:16 in the Quran reader

کیا خدا نے اپنی مخلوقات میں بیٹیاں پسند کیں اور تم کو بیٹوں کے ساتھ مخصوص کیا۔

وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 43:17 in the Quran reader

حالانکہ جب ان میں سے کسی کو اس چیز کے ہونے کی خبر دی جاتی ہے جس کو خدا رحمٰن کا نمونہ (یعنی اولاد) بنا رکھا ہے (مراد بیٹی ہے) تو (اس قدر ناراض ہو کہ (سارا دن) اس کا چہرہ بےرونق رہے اور وہ دل ہی دل میں گھٹتا رہے۔

اَوَ مَنْ یُّنَشَّؤُا فِی الْحِلْیَةِ وَ هُوَ فِی الْخِصَامِ غَیْرُ مُبِیْنٍ Open ayah 43:18 in the Quran reader

کیا جو کہ (عادةً ) آرائش میں نشونما پائے اور مباحثہ میں قوت بیانیہ (بھی) نہ رکھے۔ (ف 3)

ف 3۔ مشرکین مکہ کی یہ حالت تھی کہ اپنے گھر لڑکی کا پیدا ہونا تو برا سمجھتے تھے لیکن رب العالمین کے لئے بیٹیاں تجویز کرتے تھے، فرمایا کہ لڑکی کی ذات جو گہنے پاتے میں پلے اور بوقت ضرورت جس کے منہ سے پوری بات بھی نہ نکل سکے اس کو اللہ کی طرف منسوب کرتے ہو۔
Ayahs 43:19–20

وَ جَعَلُوا الْمَلٰٓئِكَةَ الَّذِیْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا١ؕ اَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ١ؕ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَ یُسْئَلُوْنَ Open ayah 43:19 in the Quran reader

اور انہوں نے فرشتوں کو جو کہ خدا کے بندے ہیں عورت قرار دے رکھا ہے کیا یہ ان کی پیدائش کے وقت موجود تھے انکا یہ دعویٰ لکھ لیا جاتا ہے اور (قیامت میں) ان سے باز پرس ہوگی۔

وَ قَالُوْا لَوْ شَآءَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنٰهُمْ١ؕ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۗ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَؕ Open ayah 43:20 in the Quran reader

اور وہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ہم ان کی عبادت نہ کرتے ان کو اس کی کچھ تحقیق نہیں محض بےتحقیق بات کر رہے ہیں۔ (ف 4)

ف 4۔ کیونکہ قادر کردینا دلیل رضا کی نہیں۔
Ayah 43:21

اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا مِّنْ قَبْلِهٖ فَهُمْ بِهٖ مُسْتَمْسِكُوْنَ Open ayah 43:21 in the Quran reader

کیا ہم نے ان کو اس قرآن سے پہلے کوئی کتاب دے رکھی ہے کہ یہ اس سے استدلال کرتے ہیں۔ (ف 5)

ف 5۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دلیل عقلی ہے نہ دلیل نقلی۔
Ayahs 43:22–25

بَلْ قَالُوْۤا اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 43:22 in the Quran reader

بلکہ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ داداؤں کو ایک طریقہ پر پایا ہے اور ہم بھی ان کے پیچھے پیچھے رستہ پر چل رہے ہیں۔

وَ كَذٰلِكَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَاۤ١ۙ اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّقْتَدُوْنَ Open ayah 43:23 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے آنے سے پہلے کسی بستی میں کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر وہاں کے خوشحال لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ داداؤں کو ایک طریقہ پر پایا ہے اور ہم بھی ان ہی کے پیچھے چلے جا رہے ہیں۔

قٰلَ اَوَ لَوْ جِئْتُكُمْ بِاَهْدٰى مِمَّا وَجَدْتُّمْ عَلَیْهِ اٰبَآءَكُمْ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 43:24 in the Quran reader

(اس پر ان کے پیغمبر نے) کہا کہ کیا (رسم آبائی ہی کی اتباع کیے جاؤ گے) اگرچہ میں اس سے اچھا مقصود پر پہنچا دینے والا (طریقہ) تمہارے پاس لایا ہوں کہ جس پر تم نے اپنے باپ داداؤں کو پایا ہے (براہ عناد وہ کہنے لگے ہم تو اس دین کو مانتے نہیں جس کو دے کر تم کو بھیجا گیا ہے۔

فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ۠ Open ayah 43:25 in the Quran reader

ہم نے ان سے انتقام لیا سو دیکھیئے تکذیب کرنے والوں کا کیسا برا انجام ہوا۔ (ف 1)

ف 1۔ اوپر توحید کا مضمون تھا آگے اس کی تاکید و تائید کے لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے جو کہ مسلم ومعظم عند العرب تھے اس کا منقول ہونا اور ان کے بعد پھر ان کی اولاد میں اس کا منقول چلا آنا اور اب آخر میں پیغمبر آخر الزمان کی معرفت اس کی تجدید فرمانا اور اس کے ساتھ پیغمبر زمان ﷺ کی نبوت کے متعلق ان لوگوں کے ایک اعتراض کا جواب مذکور ہے۔
Ayahs 43:26–27

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖۤ اِنَّنِیْ بَرَآءٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 43:26 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی قابل ذکر ہے) جب کہ ابراہیم (علیہ السلام) اپنے باپ دادا سے اور اپنی قوم سے فرمایا کہ میں ان چیزوں (کی عبادت) سے بیزار ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو۔

اِلَّا الَّذِیْ فَطَرَنِیْ فَاِنَّهٗ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 43:27 in the Quran reader

مگر ہاں جس نے مجھ کو پیدا کیا پھر وہی مجھ کو رہنمائی کرتا ہے۔ (ف 2)

ف 2۔ مطلب یہ کہ ان لوگوں کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا حال یاد رکھنا چاہئے کہ وہ خود بھی توحید کے معتقد تھے۔
Ayah 43:28

وَ جَعَلَهَا كَلِمَةًۢ بَاقِیَةً فِیْ عَقِبِهٖ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 43:28 in the Quran reader

اور وہ اس ( عقیدہ) کو اپنی اولاد میں (بھی) ایک قائم رہنے والی بات کر گئے تاکہ (ہر زمانہ میں مشرک) لوگ (شرک سے) باز آتے رہیں۔ (ف 3)

ف 3۔ یعنی اپنی اولاد کو بھی وصیت کی جس کا اثر کچھ کچھ رسول اللہ ﷺ کی بعثت تک بھی برابر رہا، یہاں تک کہ زمانہ جاہلیت میں بھی عرب میں بعضے لوگ شرک سے نفور تھے۔
Ayahs 43:29–31

بَلْ مَتَّعْتُ هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى جَآءَهُمُ الْحَقُّ وَ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 43:29 in the Quran reader

بلکہ میں نے ان کو اور ان کے باپ داداؤں کو (دنیا کا) خوب سامان دیا ہے یہاں تک کہ ان کے پاس سچا قرآن اور صاف صاف بتانے والا رسول (علیہ السلام) آیا۔

وَ لَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ وَّ اِنَّا بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 43:30 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس یہ سچا قرآن پہنچا تو کہنے لگے کہ یہ جادو ہے اور ہم اس کو نہیں مانتے۔

وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ Open ayah 43:31 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ یہ قرآن (اگر کلام الہیٰ سے تو) ان دونوں بستیوں (مکہ اور طائف کے رہنے والوں) میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہیں کیا گیا۔ (ف 4)

ف 4۔ یعنی رسول کے لئے عظیم الشان ہونا ضروری ہے، اور پیغمبر ﷺ مال اور ریاست نہیں رکھتے، تو یہ پیغمبر نہیں ہوسکتے مقصود انکار تھا پیغمبری کا۔
Ayah 43:32

اَهُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ١ؕ نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَهُمْ مَّعِیْشَتَهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ رَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا١ؕ وَ رَحْمَتُ رَبِّكَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 43:32 in the Quran reader

کیا یہ لوگ آپ کے رب کی رحمت (خاصہ یعنی نبوت) کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں دنیوی زندگی میں (تو) ان کو روزی ہم (ہی) نے تقسیم کر رکھی ہے اور ہم نے ایک کو دوسرے پر رفعت دے رکھی ہے تاکہ ایک دوسرے سے کام لیتا رہے (اور عالم کا انتظام قائم رہے) اور آپ کے رب کی رحمت بدرجہا اس (دنیوی مال و متاع) سے بہتر ہے جس کو یہ لوگ سمیٹتے پھرتے ہیں۔ (ف 5)

ف 5۔ پس جب دنیوی معیشت کی کہ ادنی درجہ کی چیز ہے تقسیم ان کی رائے پر نہیں رکھی تو نبوت جو خود بھی اعلی درجہ کی چیز ہے، اور اس کے مصالح بھی اعظم درجہ کے ہیں وہ کیونکر ان کی رائے پر تقسیم کی جاتی۔
Ayahs 43:33–35

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ یَّكُوْنَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ یَّكْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُیُوْتِهِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّةٍ وَّ مَعَارِجَ عَلَیْهَا یَظْهَرُوْنَۙ Open ayah 43:33 in the Quran reader

اور اگر یہ بات (متوقع) نہ ہوتی کہ تمام آدمی ایک ہی طریقہ کے ہوجاویں گے تو جو لوگ خدا کے ساتھ کفر کرتے ہیں ان کے لیے ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی کردیتے اور (نیز) زینے بھی جن پر سے چڑہا (اترا) کرتے۔

وَ لِبُیُوْتِهِمْ اَبْوَابًا وَّ سُرُرًا عَلَیْهَا یَتَّكِئُوْنَۙ Open ayah 43:34 in the Quran reader

اور ان کے گھروں کے کواڑ بھی اور تخت بھی جن پر تکیہ لگا کر بیٹھے ہیں۔

وَ زُخْرُفًا١ؕ وَ اِنْ كُلُّ ذٰلِكَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 43:35 in the Quran reader

اور یہی (چیزیں) سونے کی بھی (ف 6) اور یہ سب (سازوسامان) کچھ بھی نہیں صرف دنیوی زندگی کی چند روزہ کامرانی ہے (پھر فنا آخر فنا) اور آخرت آپ کے رب کے ہاں خدا ترسوں کے لیے ہے۔ (ف 7)

ف 6۔ اس سے معلوم ہوا کہ دنیا واقع میں امر عظیم نہیں ہے، پس وہ منصب عظیم یعنی نبوت کی صلاحیت کی بنا پر بھی نہ ہوگی، بلکہ بناء اس کی صلاحیت کی ملکات فاضلہ موہوبہ من اللہ ہیں جو محمد ﷺ میں بدرجہ اکمل مجتمع ہیں، پس نبوت ان ہی کے لئے زیبا تھی نہ کہ مکہ و طائف کے رئیسوں کے لئے۔ 7۔ پس جو چیز فانی ہو نہ وہ قابل قدر ہے نہ قابل طلب، البتہ آخرت جو کہ باقی ہے وہ اور اس کے تحصیل کے ذرائع کہ اعمال و طاعات ہیں وہ بیشک قابل اعتبار ہیں۔
Ayahs 43:36–40

وَ مَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَهٗ شَیْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِیْنٌ Open ayah 43:36 in the Quran reader

اور جو شخص اللہ کی نصیحت (یعنی قرآن) سے اندھا بن جاوے ہم اس پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں سو وہ ( ہر وقت) اس کے ساتھ رہتا ہے۔

وَ اِنَّهُمْ لَیَصُدُّوْنَهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 43:37 in the Quran reader

اور وہ ان کو راہ حق سے روکتے رہتے ہیں اور یہ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ راہ (راست) پر ہیں۔

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَنَا قَالَ یٰلَیْتَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَیْنِ فَبِئْسَ الْقَرِیْنُ Open ayah 43:38 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ایسا شخص ہمارے پاس آوے گا تو (اس شیطان سے) کہے گا کہ کاش میرے اور تیرے درمیان میں (دنیا میں) مشرق و مغرب کی برابر کا فاصلہ ہوتا کہ (تو تو) برا ساتھی تھا۔

وَ لَنْ یَّنْفَعَكُمُ الْیَوْمَ اِذْ ظَّلَمْتُمْ اَنَّكُمْ فِی الْعَذَابِ مُشْتَرِكُوْنَ Open ayah 43:39 in the Quran reader

اور (ان سے کہا جاوے گا کہ) جب کہ تم (دنیا میں) کفر کرچکے تھے تو آج یہ بات تمہارے کام نہ آوے گی کہ تم (اور شیاطین) سب عذاب میں شریک ہو۔

اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ اَوْ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ مَنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 43:40 in the Quran reader

سو کیا آپ (ایسے) بہروں کو سنا سکتے ہیں یا (ایسے) اندھوں کو اور ان لوگوں کو جو کہ صریح گمراہی میں ہیں راہ پر لا سکتے ہیں۔ (ف 1)

ف 1۔ یعنی ان کی ہدایت آپ کے اختیار سے خارج ہے، آپ درپے نہ ہوں۔