42. Surah Ash-Shura

الشورىConsultation · 53 ayahsبیان القرآن

Ayah 42:1

حٰمٓۚ Open ayah 42:1 in the Quran reader

حم (علیہ السلام)

Ayah 42:2
Ayah 42:3

كَذٰلِكَ یُوْحِیْۤ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۙ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 42:3 in the Quran reader

اسی طرح آپ پر جو (پیغمبر) آپ سے پہلے ہوچکے ہیں ان پر اللہ تعالیٰ جو زبردست حکمت والا ہے (دوسری سورتوں اور کتابوں کی) وحی بھیجتا رہا ہے۔

Ayah 42:4

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ Open ayah 42:4 in the Quran reader

اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور وہی سب سے برتر اور عظیم الشان ہے۔

Ayah 42:5

تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَ لِمَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 42:5 in the Quran reader

کچھ بعید نہیں کہ آسمان اپنے اوپر سے (کہ ادھر ہی سے بوجھ پڑتا ہے) پھٹ پڑے اور (وہ) فرشتے اپنے رب کی تسبیح وتحمید کرتے ہیں اور اہل زمین کے لیے معافی مانگتے ہیں خوب سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ ہی معاف کرنے والا رحمت کرنے والا ہے۔

Ayah 42:6

وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ اللّٰهُ حَفِیْظٌ عَلَیْهِمْ١ۖ٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ Open ayah 42:6 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے خدا کے سوا دوسرے کارساز قرار دے رکھے ہیں اللہ ان کو دیکھ رہا ہے اور آپ کو ان پر کوئی اختیار نہیں دیا گیا۔

Ayah 42:7

وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا وَ تُنْذِرَ یَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ فَرِیْقٌ فِی الْجَنَّةِ وَ فَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ Open ayah 42:7 in the Quran reader

اور ہم نے اسی طرح آپ پر (یہ) قرآن عربی وحی کے ذریعہ سے نازل کیا ہے تاکہ آپ (سب سے پہلے) مکہ کے رہنے والوں کو اور جو لوگ اس کے آس پاس ہیں ان کو ڈرائیں اور جمع ہونے کے دن سے ڈرائیں (ف 1) جس (کے آنے) میں ذرا شک نہیں ایک گروہ جنت میں (داخل ہوگا) اور ایک دوزخ میں ہوگا۔ (ف 2)

ف 1۔ مراد اس سے قیامت کا دن ہے کہ اس میں اولین و آخرین سب جمع ہوجائیں گے۔ 2۔ پس آپ کا کام محض ایسے دن سے ڈرا دینا ہے اور باقی ان کے ایمان و عدم ایمان سے آپ کو کیا بحث، وہ مشیت الہی پر ہے۔
Ayah 42:8

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَهُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمُوْنَ مَا لَهُمْ مِّنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 42:8 in the Quran reader

اور اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو سب کو ایک ہی طریقہ کا بنا دیتا (ف 3) لیکن وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے اور (ان) ظالموں کا (قیامت کے روز) کوئی حامی مددگار نہیں۔

ف 3۔ یعنی سب کو ایمان نصیب کردیتا۔
Ayah 42:9

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۚ فَاللّٰهُ هُوَ الْوَلِیُّ وَ هُوَ یُحْیِ الْمَوْتٰى١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 42:9 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے خدا کے سوا دوسرے کارساز قرار دے رکھے ہیں سو اللہ ہی کارساز ہے اور وہی مردوں کو زندہ کرے گا اور وہی ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ (ف 4)

ف 4۔ تو کارساز بنانے کے لائق وہی ہوا جس کی قدرت ہر چیز پر عموما اور احیاء موتی پر خصوصا ثابت ہے، اس قدرت کا خاصہ اس لئے بیان کیا کہ اس وقت اوروں کی قدرت جواب برائے نام ہے، وہ بھی بےنام ونشان ہوجاوے گی تو ظہور قدرت کا اتم ہوگا۔
Ayah 42:10

وَ مَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْهِ مِنْ شَیْءٍ فَحُكْمُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبِّیْ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۖۗ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ Open ayah 42:10 in the Quran reader

اور جس جس بات میں تم (اہل حق سے) اختلاف کرتے ہو اس کا فیصلہ اللہ ہی کے سپرد ہے یہ اللہ میرا رب ہے میں اسی پر توکل رکھتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ (ف 5)

ف 5۔ پس نہ ان مضرتوں سے ڈرتا ہوں اور نہ توحید میں جس کو کہ اس نے حق کہہ دیا ہے کوئی شبہہ کرتا ہوں۔
Ayah 42:11

فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ مِنَ الْاَنْعَامِ اَزْوَاجًا١ۚ یَذْرَؤُكُمْ فِیْهِ١ؕ لَیْسَ كَمِثْلِهٖ شَیْءٌ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 42:11 in the Quran reader

وہ آسمان اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے (ف 6) اس نے تمہارے لیے تمہاری جنس کے جوڑے بنائے اور (اسی طرح) چارپایوں کے جوڑے بنائے (اور) اس کے (جوڑے ملانے کے) ذریعہ سے تمہاری نسل چلاتا رہتا ہے کوئی چیز اس کی مثل نہیں اور وہی ہر بات کا سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔

ف 6۔ اور وہ تمہارا بھی پید کرنے والا ہے۔
Ayah 42:12

لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 42:12 in the Quran reader

اسی کے اختیار میں ہیں کنجیاں آسمان اور زمین کی (ف 7) جس کو چاہے زیادہ روزی دیتا ہے اور جس کو (چاہے) کم دیتا ہے بیشک وہ ہر چیز کا پورا جاننے والا ہے۔ (ف 8)

ف 7۔ یعنی متصرف وہی ہے۔ 8۔ یعنی وہ جاننے والا ہے کہ کس کے لئے کیا مصلحت ہے۔
Ayahs 42:13–15

شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَّ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ مَا وَصَّیْنَا بِهٖۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰۤى اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْهِ١ؕ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِیْنَ مَا تَدْعُوْهُمْ اِلَیْهِ١ؕ اَللّٰهُ یَجْتَبِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یُّنِیْبُ Open ayah 42:13 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کے واسطے وہی دین مقرر کیا جس کا اس نے نوح (علیہ السلام) کو حکم دیا تھا اور جس کو ہم نے آپ کے پاس وحی کے ذریعہ سے بھیجا ہے اور جس کا ہم نے ابرھیم (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) (مع ان سب کے اتباع کے) حکم دیا تھا (اور ان کی امم کو یہ کہا تھا کہ) اسی دین کو قائم رکھنا اور اس میں تفرقہ نہ ڈالنا (ف 9) مشرکین کو وہ بات بڑی گراں گزرتی ہے جس کی طرف آپ ان کو بلا رہے ہیں اللہ اپنی ہی طرف جس کو چاہے کھینچ لیتا ہے (ف 1) اور جو شخص (خدا کی طرف) رجوع کرے اس کو اپنے تک رسائی دے دیتا ہے۔ (ف 2)

وَ مَا تَفَرَّقُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى لَّقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 42:14 in the Quran reader

اور وہ لوگ بعد اس کے کہ انکے پاس حکم پہنچ چکا تھا محض آپس کی ضدا ضدی سے باہم متفرق ہوگئے اور اگر آپ کے پروردگار کی طرف سے ایک وقت معین تک (کے لیے مہلت دینے کی) ایک بات پہلے قرار نہ پا چکتی تو (دنیا ہی میں) ان کا فیصلہ ہوچکا ہوتا اور جن لوگوں کو ان کے بعد کتاب دی گئی ہے (مراد اس سے مشرکین عہد نبوی کے ہیں) وہ اس طرف سے ایسے (قوی) شک میں پڑے ہیں جس نے (ان کو) تردد میں ڈال رکھا ہے۔

فَلِذٰلِكَ فَادْعُ١ۚ وَ اسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ١ۚ وَ قُلْ اٰمَنْتُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنْ كِتٰبٍ١ۚ وَ اُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ١ؕ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ؕ لَا حُجَّةَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ یَجْمَعُ بَیْنَنَا١ۚ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُؕ Open ayah 42:15 in the Quran reader

سو آپ اسی طرف (ان کو برابر) بلائے جائیے جس طرح آپ کو حکم ہوا ہے (اس پر) مستقیم رہیئے اور ان کی (فاسد) خواہشوں پر نہ چلیئے اور آپ کہہ دیجیئے کہ اللہ نے جتنی کتابیں نازل فرمائی ہیں میں سب پر ایمان لاتا ہوں اور مجھ کو یہ (بھی) حکم ہوا ہے کہ (اپنے اور) تمہارے درمیان میں عدل رکھوں اللہ ہمارا بھی مالک ہے اور تمہارا بھی مالک ہے ہمارے اعمال ہمارے لیے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے ہماری تمہاری کوئی بحث نہیں اللہ ہم سب کو جمع کرے گا اور (اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ) اسی کے پاس جانا ہے۔

ف 9۔ مراد اس دین سے اصول دین ہیں جو مشترک ہیں تمام شرائع میں مثل توحید و رسالت و بعث وغیرہ۔ (فائدہ) قائم رکھنا یہ کہ اس کو تبدیل مت کرنا، اس کو ترک مت کرنا، اور تفرق یہ کہ کسی پر ایمان نہ لاویں، یا کوئی ایمان لاوے کوئی نہ لاوے، حاصل یہ کہ توحید وغیرہ دین قدیم ہی کے اول سے اس وقت تک تمام شرائع اس میں متفق رہی ہیں اور اس کے ضمن میں نبوت کی بھی تائید ہوگئی، پس چاہئے تھا کہ اس کو قبول کرنے میں لوگوں کو ذرا پس و پیش نہ ہوتا۔ 1۔ یعنی دین حق کو قبول کرنے کی توفیق دے دیتا ہے۔ 2۔ مشیت کے بعد اجتباء ہوتا ہے اور اجتباء یعنی توفیق ایمان کے بعد اگر انابت و اطاعت ہو تو اس پر قرب الہی وثواب غیر متناہی مرتب ہوتا ہے، خلاصہ یہ کہ مشرکین متصف بالآباء ہیں اور مومنین متصف بالاجتباء والاہتداء ہیں۔
Ayahs 42:16–18

وَ الَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَهٗ حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ عَلَیْهِمْ غَضَبٌ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ Open ayah 42:16 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ تعالیٰ (کے دین کے) بارے میں (مسلمانوں سے) جھگڑے نکالتے ہیں بعد اس کے کہ وہ مان لیا گیا (ف 3) ان لوگوں کی حجت ان کے رب کے نزدیک باطل ہے اور ان پر غضب (واقع ہونے والا) ہے اور ان کے لیے (قیامت کو) سخت عذاب (ہونے والا) ہے۔ (ف 4)

اَللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ وَ الْمِیْزَانَ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِیْبٌ Open ayah 42:17 in the Quran reader

اللہ ہی ہے جس نے (اس) کتاب (یعنی قرآن) کو اور انصاف نازل فرمایا اور آپ کو (اس کی) کیا خبر عجب نہیں کہ قیامت قریب ہو۔

یَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهَا١ۚ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا١ۙ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُوْنَ فِی السَّاعَةِ لَفِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 42:18 in the Quran reader

(مگر) جو لوگ اسکا یقین نہیں رکھتے اس کا تقاضا کرتے ہیں اور جو لوگ یقین رکھنے والے ہیں وہ اس سے ڈرتے ہیں اور اعتقاد رکھتے ہیں کہ وہ برحق ہے یاد رکھو کہ جو لوگ قیامت کے بارے میں جھگڑتے ہیں بڑی دو رکی گمراہی میں (مبتلا) ہیں۔

ف 3۔ یعنی بعد اس کے کہ بہت سے آدمی عقیل و فہیم مسلمان ہو کر اس کو مان چکے جس سے حجت اور زیادہ ظاہر ہوگئی۔ 4۔ اور اس سے بچنے کا طریقہ یہی ہے کہ اللہ کو اس کے دین کو مانو، اور اس کا ماننا یہ ہے کہ کتاب اللہ کو جو کہ جامع و مشتمل ہے حقوق اللہ و حقوق العباد کو سچ اور واجب العمل جانو۔
Ayah 42:19

اَللّٰهُ لَطِیْفٌۢ بِعِبَادِهٖ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ۠ Open ayah 42:19 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ (دنیا میں) اپنے بندوں پر مہربان ہے جس کو (جس قدر) چاہتا ہے روزی دیتا ہے (ف 5) اور وہ قوت والا اور زبر دست ہے۔

ف 5۔ اس لطف فی الدنیا سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان کا مسلک حق ہو، اور آخرت میں بھی ان پر لطف ہو، اور عذاب نہ ہو، بلکہ وہاں بوجہ تمکس بالباطل کے معذب ہوں گے۔
Ayah 42:20

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ Open ayah 42:20 in the Quran reader

جو شخص آخرت کی کھیتی کا طالب ہو (ف 6) ہم اس کو اس کی کھیتی میں ترقی دیں گے (ف 7) اور جو دنیا کی کھیتی کا طالب ہو (ف 8) تو ہم اس کو کچھ دینا (اگر چاہیں) دے دیں گے اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں۔

ف 6۔ یعنی ثواب آخرت کا طالب ہو۔ 7۔ یعنی اعمال پر اس کو ثواب دیں گے اور اس ثواب کو مضاعف کریں گے۔ 8۔ یعنی تدبر و سعی سے غرض اس کی متاع دنیا ہو، اور آخرت کے لئے کچھ سعی نہ کرے حتی کہ ایمان بھی نہ لاوے۔
Ayah 42:21

اَمْ لَهُمْ شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 42:21 in the Quran reader

کیا ان کے کچھ شریک (خدائی) ہیں جنہوں نے ان کے لیے ایسا دین مقرر کیا ہے جس کی خدا نے اجازت نہیں دی (ف 1) اور اگر (خدا کی طرف سے) ایک قول فیصل (ٹھیرا ہوا) نہ ہوتا تو (دنیا ہی میں) ان کا فیصلہ ہوچکا ہوتا اور (آخرت میں) ان ظالموں کو (ضرور) دردناک عذاب ہوگا۔

ف 1۔ مقصود استفہام انکار سے یہ ہے کہ کوئی اس قابل نہیں کہ خدا کے خلاف اس کا مقرر کیا ہوا دین معتبر ہوسکے۔
Ayah 42:22

تَرَى الظّٰلِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا كَسَبُوْا وَ هُوَ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ١ۚ لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُ Open ayah 42:22 in the Quran reader

(اس روز) آپ ان ظالموں کو دیکھیں گے کہ اپنے اعمال (کے وبال سے) ڈر رہے ہوں گے اور وہ (وبال) ان پر (ضرور) پڑ کر رہے گا اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے وہ بہشتوں کے باغوں میں (داخل) ہوں گے وہ جس چیز کو چاہیں ان کے رب کے پاس ان کو ملے گی یہی بڑا انعام ہے۔ (ف 2)

ف 2۔ نہ وہ جو دنیا میں عیش و عشرت موجود ہے۔
Ayahs 42:23–24

ذٰلِكَ الَّذِیْ یُبَشِّرُ اللّٰهُ عِبَادَهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰى١ؕ وَ مَنْ یَّقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِیْهَا حُسْنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ Open ayah 42:23 in the Quran reader

یہی ہے جس کی بشارت اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دے رہا ہے جو ایمان لائے اور اچھے عمل کیے آپ (ان سے) یوں کہیے کہ میں تم سے کچھ مطلب نہیں چاہتا بجز رشتہ داری کی محبت کے (ف 3) اور جو شخص کوئی نیکی کرے گا ہم اس میں اور خوبی زیادہ کردیں گے بیشک اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا بڑا قدردان ہے۔

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ۚ فَاِنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یَخْتِمْ عَلٰى قَلْبِكَ١ؕ وَ یَمْحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ وَ یُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 42:24 in the Quran reader

کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ انہوں نے خدا پر جھوٹ بہتان باندھ رکھا ہے سو اگر خدا چاہے تو آپ کے دل پر بند لگا دے اور اللہ تعالیٰ باطل کو مٹایا کرتا ہے اور حق کو اپنے احکام سے ثابت کیا کرتا ہے وہ دلوں کی باتیں جانتا ہے۔

ف 3۔ یعنی اتنا چاہتا ہوں کہ میرے تمہارے جو تعلقات رشتہ داری کے ہیں جو کہ تمام قریش میں بلکہ تمام عرب میں پھیلے ہوئے تھے ان کے حقوق کا تو خیال رکھو۔
Ayahs 42:25–26

وَ هُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَۙ Open ayah 42:25 in the Quran reader

اور وہ ایسا رحیم ہے کہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے (ف 4) اور وہ تمام گناہ (گزشتہ) معاف فرما دیتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو وہ اس (سب) کو جانتا ہے۔ (ف 5)

وَ یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ Open ayah 42:26 in the Quran reader

اور ان لوگوں کی عبادت قبول کرتا ہے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے اور ان کو اپنے فضل سے اور زیادہ (ثواب) دیتا ہے اور جو لوگ کفر کر رہے ہیں انکے لیے سخت عذاب ہے۔

ف 4۔ پس اگر کوئی کافر کفر سے توبہ کرلے اور اسلام لے آوے تو ہم اس کا ایمان قبول کرلیں گے۔ 5۔ پس اس کو یہ بھی خبر ہے کہ توبہ خالص کی ہے یا غیر خالص کی ہے، تو تم کو توبہ خالص کی کرنی چاہئے۔
Ayah 42:27

وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 42:27 in the Quran reader

اور اگر اللہ تعالیٰ نے اپنے سب بندوں کے لیے روزی فراخ کردیتاتو وہ دنیا میں شرارت کرنے لگتے (ف 6) لیکن جتنا رزق چاہتا ہے انداز (مناسب) سے (ہر ایک کے لیے) اتارتا ہے۔ وہ اپنے بندوں (کے مصالح) کو جاننے والا (اور ان کا حال) دیکھنے والا ہے۔ (ف 7)

ف 6۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی صفت حکمت کے آثار میں سے یہ ہے کہ اس نے سب آدمیوں کو زیادہ مال نہیں دیا، اور ظاہر ہے کہ اگر غنا عام ہوجائے تو مال کی احتیاج تو کسی کو کسی سے باقی نہ رہے اور کام کسی کا کوئی کرے نہیں، تو جانبین سے احتیاج جاتی رہے، پھر کون کسی سے دبے۔ 7۔ اس کے علاوہ حکیم ہونے کے خبیر وبصیر دو صفتیں اور ثابت ہوئیں۔
Ayah 42:28

وَ هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَ یَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ١ؕ وَ هُوَ الْوَلِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 42:28 in the Quran reader

اور وہ ایسا ہے جو لوگوں کے ناامید ہوجانے کے بعد مینہ برساتا ہے اور اپنی رحمت پھیلاتا ہے (ف 1) اور وہ (سب کا) کارساز قابل حمد ہے۔ (ف 2)

ف 1۔ مراد آثار سے نباتات اور ثمرات ہیں۔ 2۔ پس اوپر کی تین صفتوں کے ساتھ تین صفتیں اور ثابت ہوئیں، رحیم، ولی، حمید۔
Ayah 42:29

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَثَّ فِیْهِمَا مِنْ دَآبَّةٍ١ؕ وَ هُوَ عَلٰى جَمْعِهِمْ اِذَا یَشَآءُ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 42:29 in the Quran reader

اور منجملہ اس (کی قدرت) کی نشانیوں کے پیدا کرنا ہے آسمانوں اور زمین کا اور ان جانداروں کا جو اس نے آسمان اور زمین میں پھیلا رکھے ہیں (ف 3) اور وہاں (خلائق) کے جمع کرلینے پر بھی جب وہ (جمع کرنا) چاہے قادر ہے۔

ف 3۔ اس سے اوپر کی چھ صفات کے ساتھ خالق ہونا بھی ثابت ہوا۔
Ayahs 42:30–35

وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ Open ayah 42:30 in the Quran reader

اور تم کو (اے گناہگاروں) جو کچھ مصیبت پہنچتی ہے تو وہ تمہارے ہی ہاتھوں کیے ہوئے کاموں سے (پہنچتی ہے) اور بہت سی تو درگزر ہی کردیتا ہے۔ (ف 4)

وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۖۚ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 42:31 in the Quran reader

تم زمین میں (پناہ لے کر اس کو) ہرا نہیں سکتے اور خدا کے سوا تمہارا کوئی بھی حامی و مددگار نہیں۔

وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الْجَوَارِ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِؕ Open ayah 42:32 in the Quran reader

اور منجملہ اس کی نشانیوں کے جہاز ہیں سمندر میں (ایسے اونچے) جیسے پہاڑ۔

اِنْ یَّشَاْ یُسْكِنِ الرِّیْحَ فَیَظْلَلْنَ رَوَاكِدَ عَلٰى ظَهْرِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍۙ Open ayah 42:33 in the Quran reader

اگر وہ چاہے ہوا کو ٹھیرا دے تو وہ ( بحری جہاز) سمند کی سطح پر کھڑے کھڑے رہ جاویں بیشک اس میں نشانیاں ہیں ہر صابر شاکر (یعنی مومن) کے لیے۔

اَوْ یُوْبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوْا وَ یَعْفُ عَنْ كَثِیْرٍ٘ Open ayah 42:34 in the Quran reader

یا ان جہازوں کو ان کے اعمال (بدکفر وغیرہ) کے سبب تباہ کر دے اور (ان میں) بہت سے آدمیوں سے درگزر کر جاوے۔

وَّ یَعْلَمَ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا١ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 42:35 in the Quran reader

اور اس تباہی کے وقت ان لوگوں کو جو کہ ہماری آیتوں میں جھگڑے نکالتے ہیں معلوم ہوجاوے کہ (اب) ان کے لیے کہیں بچاؤ نہیں۔

ف 4۔ خواہ دونوں جہان میں یا صرف دنیا میں۔
Ayahs 42:36–37

فَمَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚ Open ayah 42:36 in the Quran reader

سو جو کچھ تم کو دیا دلایا گیا ہے وہ محض (چند روزہ) دنیوی زندگی کے برتنے کے لیے ہے (ف 5) اور (اجر وثواب آخرت میں) جو اللہ کے یہاں ہے وہ بدجہا اس سے بہتر ہے اور زیادہ پائدار (ف 6) وہ ان لوگوں کے لیے ہے جو ایمان لے آئے اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔

وَ الَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ وَ اِذَا مَا غَضِبُوْا هُمْ یَغْفِرُوْنَۚ Open ayah 42:37 in the Quran reader

اور جو کہ کبیرہ گناہوں سے اور (ان میں) بےحیائی کی باتوں سے بچتے ہیں اور جب غصہ آتا ہے تو معاف کردیتے ہیں۔

ف 5۔ اور خاتمہ عمر کے ساتھ اس کا بھی خاتمہ ہوجاوے گا۔ 6۔ پس دنیا کی طلب چھوڑ کر آخرت کی طلب کرو۔
Ayah 42:38

وَ الَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١۪ وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَیْنَهُمْ١۪ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۚ Open ayah 42:38 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اپنے رب کا حکم مانا اور وہ نماز کے پابند ہیں اور ان کا ہر کام (جس میں بالتعیین نص نہ ہو) آپس کے مشورے سے ہوتا ہے (ف 7) اور ہم نے جو کچھ دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔

ف 7۔ ہر کام سے مراد ہر مہتم بالشان کام ہے، اس لئے کہ معمولی کاموں میں مشورہ منقول نہیں، جیسے دو وقت کا کھانا کھانا وغیرہ۔ اور نص نہ ہونے کی قید اس لئے کہ منصوصات متعینہ میں بھی مشورہ نہیں، جیسے یہ مشورہ کہ پانچ وقت کی نماز پڑھا کرو یا نہ پڑھا کرو۔
Ayah 42:39

وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الْبَغْیُ هُمْ یَنْتَصِرُوْنَ Open ayah 42:39 in the Quran reader

اور جو ایسے ہیں کہ جب ان پر ظلم واقع ہوتا ہے تو وہ برابر کا بدلہ لیتے ہیں۔ (ف 8)

ف 8۔ یعنی زیادتی نہیں کرتے اور یہ مطلب نہیں کہ معاف نہیں کرتے۔