44. Surah Ad-Dukhaan

الدخانThe Smoke · 59 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة الدخان ۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ٭سب سے پہلے اس قرآن حکیم کی قسم کھائی ہے جسے ایک برکت والی رات میں نازل کیا گیا ہے۔ اس رات کی عظمت یہ ہے کہ اس میں ہر حکمت والے کام جو آئندہ سال میں ہونے والے ہیں ان کو فرشتوں ( جبرائیل ، اسرافیل ، میکائل اور عزرائیل) کے حوالے کردیا جاتا ہے۔ ٭اللہ کی شان اور وحدانیت کے متعلق بتایا گیا ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ وہی زندگی دیتا ہے وہی موت دیتا ہے ۔ وہی سب کا پالنے والا ہے۔ اس کی ذات پر اور اس کی قدرت پر ایمان لانا سعادت اور نیکی ہے لیکن منکرین اللہ کی ذات وصفات پر ایمان نہیں لاتے۔ ایسے منکرین کو ایسے دن کا انتظار کرنا چاہیے جب کہ آسمان پر ایک دھواں پیدا ہو کر ہر چیز پر چھا جائے گا ۔ وہ دن ایسے لوگوں کے لئے بڑا سخت اور کٹھن دن ہوگا ۔ منکرین گھبرا کر کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار اگر آپ نے اس کو ہم سے ہٹا لیا ، دور کردیا تو ہم ایمان لے آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ تمہارے نصیب میں ایمان لانا کہاں ہے ؟ اگر تمہیں ایمان لانا ہوتا تو ان عظیم پیغمبروں کی توہین کرتے ہوئے انہیں کسی کا سکھایا ، پڑھایا دیوانہ قرار نہ دیتے۔ جب انہوں نے اس وقت اپنے نبی کی بات کو نہیں مانا تو اب وہ کہاں ایمان لانے والے ہیں ۔ فرمایا کہ اگر آج ہم ان سے اس عذاب کو ہٹا لیں تو یہ پھر وہی حرکتیں کریں گے جو اس سے پہلے کرتے آئے ہیں ۔ ان جیسے لوگوں کو اللہ سخت گرفت میں لے کر ان سے ان کی نافرمانیوں کا بدلہ ضرور لے گا ۔ (اس قرآن مجید کو اس مبارک رات میں نازل کیا گیا ہے جس میں ہر اہم اور حکمت والے کاموں کا فیصلہ کردیا جاتا ہے اور اس سے متعلق احکامات کو فرشتوں کے حوالے کردیا جاتا ہے۔ ) ( کفار و مشرکین کو قیامت کے دن زقوم کا درخت کھلایا جائے گا جو ان کے پیٹ میں اس طرح کھولتا ہوگا جس طرح پانی گرم کرتے وقت کھولتا ہے۔ ان کو جہنم کے بالکل درمیان میں دھکیل کر ان پر کھولتا پانی اوپر سے ڈالا جائے گا اور کہا جائے گا کہ کھائو تم بڑے عزت والے بنے پھرتے تھے۔ ) فرمایا ان سے پہلے قوم فرعون کا بھی یہی حال تھا کہ جب ان پر عذاب آتاتو وہ اس کے دور کرنے کی درخواست کرتے اور جب وہ ٹل جاتا تو پھر پہلے جیسی حرکتیں کرنے لگتے حالانکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور اس کی قوم کو ہر طرح سمجھایا مگر وہ برابر کو جھٹلاتے رہے بلکہ انہوں نے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل تک کرلینے کا پروگرام بنا لیا تھا مگر اللہ نے ان کو بچا لیا اور قوم فرعون کو پانی میں غرق کردیا اور قوم فرعون نے جو حسین باغات، بہتے چشمے ، کھیتیاں اور اونچے اونچے محل چھوڑے تھے ، بنی اسرائیل کو ان سب کا وارث بنا دیا ۔ (لیکن وہ لوگ جو اللہ سے ڈرتے اور اللہ کے پیغمبروں کی تعلیم پر چلنے والے اور اس کو ماننے والے ہیں ان کو جنت کی راحتیں عطاء کی جائیں گی وہ مانگیں گے ان کو دیا جائے گا ۔ ان کو خوبصورت باغات ، بہتے چشمے اور ریشمی لباس عطاء کیا جائے گا اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ ) فرعون کی تباہی پر نہ تو زمین روئی اور نہ آسمان رویا اور نہ اس کو کسی طرح کی مہلت دی گئی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے کی وجہ سے اللہ نے بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے نجات عطاء فرمائی اور وہ جس شدید آزمائش میں مبتلا تھے اس سے ان کو چھٹکارا عطاء کیا پھر بنی اسرائیل کو توریت جیسی کتاب دی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کو ان کی ضد اور ہٹ دھرمی پر ایک مرتبہ پھر خبردار کیا ہے کہ وہ اللہ کے آخری نبی اور رسول حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آئیں اسی میں ان کی نجات ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے کہ وہ ذرا اس بات پر غور کرلیں کہ مکہ والے بڑی شان اور قوت والے ہیں یا تبع اور اس کی قوم ۔ فرمایا کہ جب قوم فرعون ، عاد وثمود جیسی ترقی یافتہ قومیں بھی اللہ کی نافرمانیاں کرنے کی وجہ سے اللہ کے عذاب سے نہ بچ سکیں تو تمہاری کیا حیثیت اور طاقت ہے۔ فرمایا کہ وہ نظام کائنات پر غور کریں کہ اس نے زمین و آسمان اور اس کے درمیان کی تمام چیزوں کو کھیل تماشہ نہیں بنایا ہے بلکہ ان کے پیدا کرنے اور بنانے میں اللہ کی بڑی بڑی حکمتیں پوشیدہ ہیں ۔ یہ نظام کائنات ایک قوت تک چلتا رہے گا پھر اس عالم پر موت طاری ہوگی اور وہ قیامت کا دن ان مجرمین پر بہت سخت اور بھیانک ہوگا سوائے اس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم و کرم فرما دے۔ فرمایا کہ اس دن کفار و مشرکین کے کھانے کے لئے زقوم کا درخت ہوگا جو ان کے پیٹ میں اس طرح جوش مارے گا جیسے تیز کھولتا ہوا پانی جوش مارتا ہے۔ اللہ کے فرشتے ان کو پکڑ کر جہنم کے بیچ میں دھکیل دیں گے اور ان پر تیز گرم پانی ڈالیں گے اور کہیں گے کہ تم بڑی عزت والے بنے پھرتے تھے آج اس عذاب کا مزہ چکھو ۔ یہ وہی عذاب ہے جس سے تمہیں ڈرایا گیا تھا مگر تم اس کو نہیں سمجھتے تھے آج اس کو بھگتو ۔ ان کے بر خلاف وہ لوگ جو اللہ سے ڈرنے والے ، نیک اور صالح ہوں گے وہ امن و سکون ، چین اور آرام کی جنتوں میں ہوں گے جہاں خوبصورت باغات ، پانی کے بہتے چشمے اور نہریں ہوں گی ۔ باریک اور موٹے ریشمی لباس پہنے مسہریوں اور تخت پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے ۔ فرمایا کہ ہم بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں ان کی زوجیت میں دے دیں گے۔ وہ ہر طرح خوش و خرم اور طرح طرح کے پھلوں سے اپنا دل بہلائیں گے۔ جو موت ان کو آ چکی ہے اب دوبارہ ان کو نہ آئے گی ۔ سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ اللہ نے ان کو جہنم کے عذاب سے بچالیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ آپ کے پروردگار کا فضل و کرم اور ان کی زبردست کامیابی ہوگی ۔ فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کے رب نے قرآن کریم کو آسان عربی زبان میں نازل کیا ہے تا کہ اس پر غور و فکر کرنا آسان ہو اگر اس کے باوجود بھی یہ لوگ قرآن کی عظمت کو نہیں مانتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے انجام کا انتظار کیجئے یہ خود بھی اس کے انتظار میں ہیں۔

Ayahs 44:1–16

حٰمٓۚۛ Open ayah 44:1 in the Quran reader

حا ۔ میم ۔ حروف مقطعات ( جن کے معنی اور مراد کا علم اللہ کو ہے)

وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ Open ayah 44:2 in the Quran reader

اس واضح کتاب کی قسم

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِیْنَ Open ayah 44:3 in the Quran reader

اس کو ہم نے ایک برکت والی رات میں نازل کیا ہے۔ بیشک ہم ( اس کے ذریعہ) لوگوں کو آگاہ اور خبر دار کرنے والے ہیں

فِیْهَا یُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِیْمٍۙ Open ayah 44:4 in the Quran reader

اس رات میں ہر حکمت بھرے معاملہ کا فیصلہ کردیا جاتا ہے۔

اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَۚ Open ayah 44:5 in the Quran reader

حکم جو ہماری طرف سے ہے اسے ہم ہی بھیجنے والے ہیں۔

رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُۙ Open ayah 44:6 in the Quran reader

یہ آپ کے رب کی رحمت ہے بیشک وہی سننے والا اور جاننے والا ہے

رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ۘ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ Open ayah 44:7 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین میں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے وہ سب کا پروردگار ہے ۔ اگر تم یقین کرنے والے ہو ۔

لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 44:8 in the Quran reader

اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔ وہ تمہارا رب ہے اور تم سے پہلے تمہارے باپ داداکا بھی پروردگار ہے۔

بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ یَّلْعَبُوْنَ Open ayah 44:9 in the Quran reader

بلکہ کفار شک و شبہ میں مبتلا ہیں اور کھیل کود میں مشغول ہیں

فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَاْتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 44:10 in the Quran reader

( اے نبی ﷺ آپ ان کے لئے ایک ایسے دن کا انتظار کیجئے جس دن آسمان سے صاف و شفاف دھواں ظاہر ہوگا ۔

یَّغْشَى النَّاسَ١ؕ هٰذَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 44:11 in the Quran reader

جو لوگوں کو گھیر لے گا ۔ وہ ایک درد ناک عذاب ہو گا

رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ اِنَّا مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 44:12 in the Quran reader

( وہ کہیں گے کہ) اے ہمارے پروردگار ہم سے اس عذاب کو دور کر دیجئے تو ہم ایمان لے آئیں گے۔

اَنّٰى لَهُمُ الذِّكْرٰى وَ قَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 44:13 in the Quran reader

( فرمایا جائے گا کہ) انہیں کہاں نصیحت حاصل ہوگی جب کہ انکے پاس ایک ایسا رسول بھی آچکا ہے جس کی شان ( رسالت و عظمت) روشن ومنور ہے

ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا مُعَلَّمٌ مَّجْنُوْنٌۘ Open ayah 44:14 in the Quran reader

پھر انہوں نے اس رسول سے منہ پھیرکر کہا کہ یہ تو سکھایا ہوا دیوانہ ہے۔

اِنَّا كَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِیْلًا اِنَّكُمْ عَآئِدُوْنَۘ Open ayah 44:15 in the Quran reader

بیشک اگر ہم کچھ ( دنوں کے لئے) اس عذاب کو ہٹا لیں تو پھر تم اسی کو طرف لوٹ جائو گے۔

یَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرٰى١ۚ اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ Open ayah 44:16 in the Quran reader

جس دن ہم ( ان کی ) سخت گرفت کریں گے تو بیشک ہم ( ان ظالموں سے) زبردست انتقام لیں گے۔

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 16 : لیلۃ مبارکۃ (برکت والی رات) یفرق (وہ جدا کردیتا ہے، الگ کردیتا ہے) امر حکیم ( حکمت بھرا فیصلہ) ارتقب (تو انتظارکر ، راہ دیکھ) دخان ( دھواں) یغشی (وہ ڈھانپ لے گا) معلم ( پڑھایا گیا) عائدون ( وہ لوٹنے والے ہیں) البطشۃ (سخت پکڑ) تشریح : آیت نمبر 1 تا 16 : قرآن کریم میں سات سورتیں وہ ہیں جن کی ابتداء ” حم ‘ ‘ سے کی گئی ہے۔ احادیث میں ان سات سورتوں کے بہت سے فضائل بیان کئے گئے ہیں ۔ ان ہی میں سے یہ پانچویں سورت ہے۔ ” حا۔ میم “ حروف مقطعات میں سے ہیں جن کی تفصیل اس سے پہلی سورتوں میں بیان کردی گئی ہے۔ علماء مفسرین نے بیان کیا ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد کا علم اللہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ یہ وہ واضح اور صاف صاف احکامات بیان کرنے والی کتاب ہے جس کو ایک برکتوں والی رات ( شب قدر) میں نازل کیا گیا ہے جس رات میں آئندہ سال ہونے والے واقعات اور احکامات کے بارے میں ہر حکمت بھرے معاملہ کا فیصلہ کر کے اس سے فرشتوں کو آگاہ اور مطلع کردیا جاتا ہے۔ قرآن کریم ساری انسانیت کے لئے قیامت تک سراسر رحمت اور کرم ہی کرم ہے۔ اس کتاب کو اس پروردگار نے نازل کیا ہے جو آسمانوں ، زمین اور ان کے درمیان کی ہر چیز کا خالق ومالک ہے جو پوری قدرت اور کامل اختیار رکھنے والے ہے۔ وہی سب کی پرورش کرتا اور پالتا ہے۔ زندگی اور موت اسی کے قبضہ قدرت میں ہے ، وہی سب کے باپ دادا کا پیدا کرنے والا ہے۔ کفار و مشرکین اور دین اسلام کے دشمن جو دنیا کو ایک کھیل کود اور تماشے سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ وہ وقت دور نہیں ہے جب آسمان پر ہر طرف دھواں ہی دھواں ہوگا اور لوگ سخت اذیت اور تکلیف میں مبتلا ہوں گے ۔ جب کفار و مشرکین اللہ کے عذاب کو اپنے سامنے دیکھیں گے تو گھبرا کر کہہ اٹھیں گے الٰہی ! اس عذاب کو ہم سے دور کر دیجئے ہم ایمان لے آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ میں اچھی طرح معلوم ہے کہ اگر ان کو مہلت دے دی جائے تب بھی یہ ایمان لانے والے نہیں ہیں ۔ کیونکہ جب ان کے پاس ہمارے پیغمبر سچائی کا پیغام لے کر آئے تھے تو انہوں نے ان کو نہ صرف جھٹلایا بلکہ ان کو بد نام کرنے کے لئے طرح طرح کی باتیں بنائیں اور ہمارے رسول پر یہاں تک الزام لگا دیا کہ یہ رسول جو کچھ کہتے ہیں وہ اللہ کا کلام نہیں ہے بلکہ کوئی آ کر ان کو سکھا یا جاتا ہے اور وہی باتیں یہ لوگوں کو آ کر بتا دیتے ہیں ۔ وہ کہتے کہ یہ تو سکھائے پڑھائے دیوانے ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ ان منکرین کو قیامت کے ہولناک دن اور اس میں دی جانے والی سزاؤں کا اندازہ نہیں ہے ورنہ وہ اس طرح کی حرکتیں نہ کرتے۔ فرمایا کہ جب ہم ایسے لوگوں کو عذاب میں پکڑیں گے تو کوئی ان کی مدد کے لئے نہ آئے گا اور ہم سے چھڑانے والا کوئی نہ ہوگا ۔ زیر مطالعہ آیات میں کچھ مخصوص الفاظ ارشاد فرمائے گئے ہیں جن کی تشریح ضروری ہے تا کہ ان آیات کا مفہوم پوری طرح ذہن نشین ہوجائے۔ (1) الکتاب المبین واضح اور کھلی ہوئی کتاب ۔ یعنی اپنے معنی اور مفہوم میں اس قدر واضح اور کھلی ہوئی کتاب ہے جو حق و باطل اور حرام و حلال کو نہایت وضاحت سے بیان کردیتی ہے۔ اللہ نے اس کتاب کی قسم کھا کر ارشاد فرمایا ہے یہ قرآن تو ایک واضح کتاب ہے جس کو نہ تو سمجھنامشکل ہے اور نہ اس پر عمل کرنے میں کوئی دشواری ہے۔ اس کو ایک ایسی روشن اور مبارک رات میں اتارا گیا ہے جو ایک ہزار راتوں سے بھی زیادہ افضل و بہتر ہے۔ (2) ” لیلۃ مبارکۃ “ برکت والی رات ۔ اس رات سے مرادرمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے کوئی ایک رات ہے جس کو اردو میں ” شب قدر “ کہا جاتا ہے ۔ اس مبارک رات میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر خاص نظر کرم فرماتے ہیں اور رات بھر ندائیں دی جاتی ہیں کہ ہے کوئی اللہ کی رحمتوں کو سمیٹنے والا کہ اس کو وہ سب کچھ عطاء کردیا جائے جو وہ مانگ سکتا ہے۔ اس رات میں بندوں کی دعائیں قبول کی جاتی ہیں ۔ آسمان سے فرشتے اور جبرئیل امین اترتے ہیں اور اس رات میں ہر حکمت والے معاملے کا فیصلہ کردیا جاتا ہے۔ علماء مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ اس مبارک رات سے مراد شب قدر ہی ہے جو رمضان کے آخری عشرے کی کسی طاق رات میں ہوتی ہے۔ کچھ حضرات نے بعض روایات سے سورة دخان میں ” لیلۃ مبارکہ “ سے مراد شعبان کی پندرہویں رات (شب برأت) مراد لی ہے لیکن علماء و مفسرین کی اکثریت نے اس سے مراد شب قدر ہی کو لیا ہے۔ ممکن ہے اللہ نے شب برأت میں قرآن کریم کو لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر مکمل قرآن کی شکل میں نازل کیا ہو اور رمضان کی شب قدر میں موقع کی مناسبت سے تھوڑا تھوڑا قرآن نازل کرنا شروع کیا ہو ۔ بہر حال اس کی صحیح کیفیت کا علم اللہ کو ہے۔ (3) ” امر حکیم “ حکمت سے بھر پور احکامات ۔ یعنی اس مبارک رات میں اہم اور حکم بھرے معاملات کا ” فیصلہ “ کر کے فرشتوں کے حوالے کردیا جاتا ہے جو آنے والے سال میں پیش آنے والے ہیں دوسرے الفاظ میں یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ فرشتوں میں ان کی ذمہ داریوں کو تقسیم کردیا جاتا ہے۔ (4) ” دخان مبین “ واضح اور چھا جانے والا دھواں ۔ قیامت سے قریب زمانہ میں ایک دھواں پورے آسمان پر چھا جائے گا جو اس بات کی علامت ہوگا کہ اب قیامت بہت قریب ہے۔ چناچہ احادیث میں اس دھویں کا ذکر تفصیل سے کیا گیا ہے۔ حضرت ابو مالک اشعری ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں تمہیں تین چیزوں سے آگاہ اور خبر دار کرتا ہوں ۔ (1) ایک تو دھواں جو مومن کے لئے زکام کی طرح ہوگا لیکن کافروں کی ایک ایک نس میں اس طرح بھر جائے گا کہ ان کے کانوں اور جسم کے ہر حصے سے دھواں نکلتا ( محسوس) ہوگا ۔ (2) دوسرے دابہ ، یہ عجیب و غریب جانور ہوگا جو قیامت کے قریب ظاہر ہوگا۔ (3) تیسرے دجال کا آنا ( ابن کثیر) اسی طرح قیامت کی علامتیں بیان کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تک دس علامتیں ظاہر نہ ہوجائیں اس وقت تک قیامت قائم نہ ہوگی۔ (1) سورج کا مغرب سے طلوع ہونا یعنی وہ جس طرف سے روزانہ نکلتا ہے وہ وہاں سے نکلنے کے بجائے مخالف سمت سے نکلے گا ۔ (2) دھواں ( جو پورے آسمان پر چھا جائے گا) ۔ (3) دابہ (عجیب و غریب جانور) (4) یاجوج ماجوج کا خروج۔ (5) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نزول ( یعنی دنیا میں دوبارہ آنا) (6) زمین کا دھنسنا۔ (7) مشرق میں زمین کا دھنسنا۔ (8) مغرب میں زمین کا دھنسنا۔ (9) جزیرۃ العرب میں زمین کا دھنسنا۔ (10) اور عدن سے ایک زبردست آگ کا نکلنا جو سب لوگوں کو ہانکتی لے جائے گی (مسلم) (5) ” رسول مبین “ وہ رسول جو اعلیٰ ترین اور قابل تعریف صفات کے مالک ہیں اور جن کی سیرت اور ان کا اسوہ حسنہ سورج کی کرنوں سے زیادہ روشن اور واضح ہے۔ (6) ” معلم مجنون “ سکھایا پڑھایا دیوانہ ، کفار و مشرکین جب ہر طرح کی سازشوں اور پروپیگنڈے کے باوجود اپنی ہر کوشش میں نا کام ہوگئے اور انہوں نے دیکھا کہ اتنے شدید پروپیگنڈے کے باوجود عرب کے نوجوان ، بوڑھے ، عورتیں اور بچے حضور اکرم ﷺ کی سیرت و کردار اور آپ کے لائے ہوئے پیغام سے متاثر ہوتے چلے جا رہے ہیں تو انہوں نے نبی کریم ﷺ کو شاعر ، مجنوں ، جادوگر اور کاہن کہنا شروع کیا ۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگانا شروع کردیا کہ جس کو یہ اللہ کا کلام کہتے ہیں وہ ان کو کوئی شخص آ کر سکھا جاتا ہے وہ اسی کو بیان کر کے اللہ کی طرف منسوب کردیتے ہیں ( نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کے تمام الزامات کے جوابات عنایت کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اللہ ہی نے اس واضح اور روشن کتاب کو ایک برکت والی رات میں اپنے رسول پر نازل کیا ہے تا کہ لوگوں کی آخرت سدھر جائے لیکن بعض لوگ اس آگاہی کے باوجود اپنی روش زندگی چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں ۔ فرمایا کہ ایسے لوگوں کو قیامت کے اس ہولناک دن کا خیال ضرور رکھنا چاہیے جس دن ہر انسان کو اللہ کے سامنے حاضر ہو کر اپنی زندگی کے ہر لمحے کا حساب دینا ہوگا اس دن صرف وہی لوگ کامیاب و با مراد ہوں گے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرماں برداری کی ہوگی۔
Ayahs 44:17–33

وَ لَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ كَرِیْمٌۙ Open ayah 44:17 in the Quran reader

اور یقینا ہم نے ان سے پہلے قوم فرعون کو آزمایا تھا جب ان کے پاس ایک معزز پیغمبر ( حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو) بھیجا گیا تھا

اَنْ اَدُّوْۤا اِلَیَّ عِبَادَ اللّٰهِ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 44:18 in the Quran reader

( اور اس نے کہا تھا کہ) تم اللہ کے بندوں ( بنی اسرائیل) کو میرے حوالے کر دو ۔ میں تمہارے لئے ایک دیانت دار رسول ہوں

وَّ اَنْ لَّا تَعْلُوْا عَلَى اللّٰهِ١ۚ اِنِّیْۤ اٰتِیْكُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۚ Open ayah 44:19 in the Quran reader

اور تم اللہ کے مقابلے میں سر کشی ( اختیار ) نہ کرو۔

وَ اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ اَنْ تَرْجُمُوْنِ٘ Open ayah 44:20 in the Quran reader

بیشک میں تمہارے پاس کھلی دلیل لے کر آیا ہوں اور بیشک میں اپنے اور تمہارے پروردگار کی پناہ لے چکا ہوں اس سے کہ تم مجھے سنگسار کر دو

وَ اِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا لِیْ فَاعْتَزِلُوْنِ Open ayah 44:21 in the Quran reader

پھر اگر تم میرا یقین نہیں کرتے تو مجھ سے الگ ہو جائو۔

فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُوْنَ Open ayah 44:22 in the Quran reader

پھر اس نے ( حضرت موسیٰ نے) اپنے رب کو پکارا کہ بیشک یہ سب مجرم ( گناہ گار) ہیں

فَاَسْرِ بِعِبَادِیْ لَیْلًا اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَۙ Open ayah 44:23 in the Quran reader

(اللہ نے فرمایا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) تم میرے بندوں کو راتوں رات لے کر نکل جائو اور بلا شبہ تمہارا پیچھا کیا جائے گا

وَ اتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْوًا١ؕ اِنَّهُمْ جُنْدٌ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 44:24 in the Quran reader

اور سمندر کو اسی حالت پر ( تھما ہوا) چھوڑ دینا کیونکہ بیشک ( فرعون کا) لشکر غرق ہونے والا ہے۔

كَمْ تَرَكُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 44:25 in the Quran reader

ان لوگوں نے کتنے ہی باغ اور چشمے چھوڑے

وَّ زُرُوْعٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 44:26 in the Quran reader

اور کتنی ہی کھیتیاں اور بہترین مکانات چھوڑے

وَّ نَعْمَةٍ كَانُوْا فِیْهَا فٰكِهِیْنَۙ Open ayah 44:27 in the Quran reader

اور وہ نعمتیں جنہیں وہ مزے لے کر کھاتے تھے ( سب چھوڑنے پر مجبور کردیئے گئے)

كَذٰلِكَ١۫ وَ اَوْرَثْنٰهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 44:28 in the Quran reader

اور اس طرح ہم نے ان سب چیزوں کا مالک دوسری قوم ( بنی اسرائیل) کو بنا دیا ۔

فَمَا بَكَتْ عَلَیْهِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ وَ مَا كَانُوْا مُنْظَرِیْنَ۠ Open ayah 44:29 in the Quran reader

پھر ان ( فرعونیوں پر) نہ تو آسمان رویا اور نہ زمین اور نہ ان کو مہلت دی گئی۔

وَ لَقَدْ نَجَّیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُهِیْنِۙ Open ayah 44:30 in the Quran reader

اور یقینا ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت کے عذاب سے نجات عطاء کردی تھی

مِنْ فِرْعَوْنَ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَالِیًا مِّنَ الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 44:31 in the Quran reader

( یعنی) فرعون سے جو کہ انتہائی مغرور و متکبر اور حد سے بڑھ جانے والا بن چکا تھا

وَ لَقَدِ اخْتَرْنٰهُمْ عَلٰى عِلْمٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 44:32 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے جان بوجھ کر بنی اسرائیل کو اہل عالم پر فضلیت دی تھی

وَ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنَ الْاٰیٰتِ مَا فِیْهِ بَلٰٓؤٌا مُّبِیْنٌ Open ayah 44:33 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو ایسی نشانیاں دکھائیں جن میں کھلی آزمائش تھی۔

لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 33 : فتنا ( ہم نے آزمایا) لا تعلوا (تم نہ چڑھو) اعتزلون ( تم مجھ سے دور ہٹ جائو) اسر (تو راتوں رات چل) رھوا ( ٹھہرا ہوا) جند ( لشکر) مابکت (نہ روئی ، نہ رویا) منظرین (مہلت دیئے گئے) اخترانا ( ہم نے پسند کیا) تشریح : آیت نمبر 17 تا 33 : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حق و صداقت کی سر بلندی اور ہدایت و تبلیغ میں ساری زندگی جدوجہد فرمائی فرعون اور آل فرعون نے جس طرح ان کی نافرمانی کی اس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی مختلف سورتوں میں عبرت و نصیحت کے لئے مختصر یا تفصیل سے بیان کیا ہے۔ یہاں ایک مرتبہ پھر حضرت موسیٰ کی زندگی کے ایک اور پہلو کو بیان کرکے کفار قریش کو آگاہ کیا گیا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرعون جیسے نافرمان اور عظیم سلطنت کے مالک فرعونیوں کو غرق کردیا تھا اور بےسرو سرمانی کے باوجود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ماننے والوں کو کامیاب کر کے نجات عطاء کردی تھی اسی طرح نبی کریم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اور ان کے ماننے والے صحابہ کرام ؓ بہت جلد کامیاب ہوجائیں گے اور دین اسلام کے منکرین اور مشرکین زبردست طریقے پر ناکام ونا مراد ہوں گے۔ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جب ایک طویل مدت تک حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت و تبلیغ کی بھر پور کوششوں اور ہر طرح کے معجزات دیکھنے کے باوجود فرعون نے اپنے آپ کو سخت گناہ گار اور مجرم ثابت کردیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی تک کر ڈالی تب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پہلے تو پوری قوم کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے اللہ کے بندو ! تم اللہ کے مقابلے میں سر کشی اور نافرمانی اختیار نہ کرو ، میری بات مانو ، میرا حق ادا کرو ، مجھ پر ایمان لائو ، میری ہدایت کی پیروی کرو یہ اللہ کی طرف سے تم پر میرا حق ہے۔ تم مجھ پر زیادتی نہ کرو ، حملہ نہ کرو اگر تم نے مجھ پر حملہ کیا یا سنگسار ( پتھر مار کر ہلاک) کرنے کی کوشش کی تو یاد رکھو میں پہلے ہی اللہ رب العالمین کی پناہ مانگ چکا ہوں ۔ وہ میری حفاظت کرے گا اور تم ہزار کوششوں کے باوجود میرا کچھ نہ بگاڑ سکو گے ۔ البتہ نا فرمانیوں سے تم بد ترین انجام سے دو چار ضرور ہو جائو گے۔ پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون سے کہا کہ تم اللہ کے بندوں ( بنی اسرائیل) کو میرے حوالے کر دو کیونکہ میں اللہ کی طرف سے بھیجا گیا ہوں ، دیانت دار رسول بھی ہوں اور اللہ کی نشانیاں (معجزات) بھی دکھا چکا ہوں ۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس بات کو جان لیا کہ فرعون اور آل فرعون پر ان کی نصیحتوں کا کوئی اثر نہیں ہو رہا تب انہوں نے بارگاہ الٰہی میں عرض کردیا کہ اے میرے اللہ میں نے اس قوم کو ہر طرح سمجھایا مگر وہ اپنے جرم و گناہ میں اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ میری کسی بات کو سننے اور میری اطاعت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ الٰہی ! آپ ان کے اور میرے درمیان فیصلہ فرما دیجئے ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! آپ میرے اطاعت گزار بندوں کو رات کی تنہائیوں میں لے کر نکل جائیے۔ جب صبح فرعون کو اطلاع ہوگی تو وہ تمہارا پیچھا کرتے ہوئے اپنے لشکر کے ساتھ تمہاری طرف آئے گا اس وقت تم اپنے عصا کو پانی پر مارنا تمہارے لئے سمندر میں راستے بن جائیں گے اور بنی اسرائیل کو لے کر فلسطین کی طرف نکل جائیے گا اور دوبارہ عصا کو پانی پر نہ مار یئے گا اس سمندر کے راستوں کو اسی حالت پر چھوڑ دیجئے گا کیونکہ ہم نے فرعون اور اس کے ماننے والوں کو غرق کردینے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ چناچہ اللہ کے حکم کے مطابق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عمل کیا ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والے اہل ایمان سمندر پار آگئے۔ جب فرعون نے ان سمندری راستوں میں اپنے لشکر کو اترنے کا حکم دیا اور وہ اس کے درمیان میں پہنچ گیا تو اللہ نے پانی کو پھر سے مل جانے کا حکم دیا جس سے فرعون اور اس کی پوری قوم پانی میں ڈوب کر ختم ہوگئی۔ اللہ نے فرمایا کہ فرعون اور آل فرعون کے سر سبز و شاداب باغات ، بہتے ہوئے خوبصورت چشمے ، ہری بھری کھیتیاں ، عیش و آرام کے لئے بنائے گئے بڑے بڑے محل اور مکانات اور آبادیاں ان کے کسی کام نہ آسکے اور پھر ہم نے ان کے راحت و آرام اور حکومت و سلطنت کے اسباب کا وارث بنی اسرائیل کو بنا دیا ۔ فرعون اور اس کی قوم کی اتنی بڑی تباہی اور بربادی پر نہ تو آسمان رویا اور نہ زمین روئی اور نہ وہ نافرمان لوگ اللہ کے سخت ترین عذاب سے بچ سکے ۔ اللہ نے ان آیات میں اس بات کو کھول کر بیان کردیا ہے کہ قوموں کا ابھرنا اور تباہ و برباد ہوجانا یہ سب کچھ اللہ کے فیصلے کے مطابق ہوتا ہے۔ اس موقع پر یہ نکتہ بھی بہت دلچسپ ہے کہ زمین و آسمان کا رونا محض ایک محاورہ ہی نہیں ہے بلکہ صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ اللہ کے نیک اور برگزیدہ بندوں کے اس دنیا سے اٹھ جانے پر زمین و آسمان روتے ہیں چناچہ حضرت انس ؓ نے نبی کریم ﷺ سے نقل کیا ہے آپ نے فرمایا کہ آسمان میں ہر بندے کے لئے دو دروازے ہیں ایک سے رزق اتارا جاتا ہے اور دوسرے دروازے سے اس کے اعمال ( کلام ، گفتگو عمل) اللہ کی بارگاہ میں پہنچائے جاتے ہیں جب اللہ کے کسی نیک بندے کا انتقال ہوتا ہے تو یہ دونوں دروازے اسے یاد کر کے روتے ہیں ۔ نبی کریم ﷺ نے اس موقع پر مذکورہ آیت کی تلاوت بھی فرمائی۔ اسی طرح حضرت شریح ابن عبد حضرمی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو مومن غریب الوطنی کی حالت میں ا انتقال کرتا ہے جس پر کوئی رونے والا نہیں ہوتا تو اس پر زمین و آسمان روتے ہیں ۔ اس موقع پر بھی آپ نے اسی مذکورہ آیت کی تلاوت فرمائی ( ابن کثیر) اب رہا یہ سوال کہ زمین و آسمان کس طرح روتے ہیں تو بات بالکل واضح ہے کہ ان کارونا ہماری طرح کا رونا نہیں ہے بلکہ اس کی صحیح کیفیت کا علم صرف اللہ ہی کو ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ وہ لوگ جو زندگی بھر اپنے مال و دولت ، حکومت و اقتدار اور خوبصورت بلڈنگوں پر بےجا فخر و غرور کرتے ہیں اور اللہ کی نا فرمانیوں سے باز نہیں آتے ان پر زمین و آسمان بھی نہیں روتے لیکن اللہ کے نیک ، برگزیدہ اور پاکیزگی کے ساتھ زندگی گزارنے والے جب اس دنیا سے رخصت ہوتے ہیں تو زمین و آسمان ہی نہیں بلکہ کائنات کا ذرہ ذرہ ان کی جدائی پر روتا ہے۔