44. Surah Ad-Dukhaan
الدخانThe Smoke · 59 ayahsبصیرتِ قرآن
تعارف
تعارف
تعارف سورة الدخان ۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ٭سب سے پہلے اس قرآن حکیم کی قسم کھائی ہے جسے ایک برکت والی رات میں نازل کیا گیا ہے۔ اس رات کی عظمت یہ ہے کہ اس میں ہر حکمت والے کام جو آئندہ سال میں ہونے والے ہیں ان کو فرشتوں ( جبرائیل ، اسرافیل ، میکائل اور عزرائیل) کے حوالے کردیا جاتا ہے۔ ٭اللہ کی شان اور وحدانیت کے متعلق بتایا گیا ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ وہی زندگی دیتا ہے وہی موت دیتا ہے ۔ وہی سب کا پالنے والا ہے۔ اس کی ذات پر اور اس کی قدرت پر ایمان لانا سعادت اور نیکی ہے لیکن منکرین اللہ کی ذات وصفات پر ایمان نہیں لاتے۔ ایسے منکرین کو ایسے دن کا انتظار کرنا چاہیے جب کہ آسمان پر ایک دھواں پیدا ہو کر ہر چیز پر چھا جائے گا ۔ وہ دن ایسے لوگوں کے لئے بڑا سخت اور کٹھن دن ہوگا ۔ منکرین گھبرا کر کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار اگر آپ نے اس کو ہم سے ہٹا لیا ، دور کردیا تو ہم ایمان لے آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ تمہارے نصیب میں ایمان لانا کہاں ہے ؟ اگر تمہیں ایمان لانا ہوتا تو ان عظیم پیغمبروں کی توہین کرتے ہوئے انہیں کسی کا سکھایا ، پڑھایا دیوانہ قرار نہ دیتے۔ جب انہوں نے اس وقت اپنے نبی کی بات کو نہیں مانا تو اب وہ کہاں ایمان لانے والے ہیں ۔ فرمایا کہ اگر آج ہم ان سے اس عذاب کو ہٹا لیں تو یہ پھر وہی حرکتیں کریں گے جو اس سے پہلے کرتے آئے ہیں ۔ ان جیسے لوگوں کو اللہ سخت گرفت میں لے کر ان سے ان کی نافرمانیوں کا بدلہ ضرور لے گا ۔ (اس قرآن مجید کو اس مبارک رات میں نازل کیا گیا ہے جس میں ہر اہم اور حکمت والے کاموں کا فیصلہ کردیا جاتا ہے اور اس سے متعلق احکامات کو فرشتوں کے حوالے کردیا جاتا ہے۔ ) ( کفار و مشرکین کو قیامت کے دن زقوم کا درخت کھلایا جائے گا جو ان کے پیٹ میں اس طرح کھولتا ہوگا جس طرح پانی گرم کرتے وقت کھولتا ہے۔ ان کو جہنم کے بالکل درمیان میں دھکیل کر ان پر کھولتا پانی اوپر سے ڈالا جائے گا اور کہا جائے گا کہ کھائو تم بڑے عزت والے بنے پھرتے تھے۔ ) فرمایا ان سے پہلے قوم فرعون کا بھی یہی حال تھا کہ جب ان پر عذاب آتاتو وہ اس کے دور کرنے کی درخواست کرتے اور جب وہ ٹل جاتا تو پھر پہلے جیسی حرکتیں کرنے لگتے حالانکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور اس کی قوم کو ہر طرح سمجھایا مگر وہ برابر کو جھٹلاتے رہے بلکہ انہوں نے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل تک کرلینے کا پروگرام بنا لیا تھا مگر اللہ نے ان کو بچا لیا اور قوم فرعون کو پانی میں غرق کردیا اور قوم فرعون نے جو حسین باغات، بہتے چشمے ، کھیتیاں اور اونچے اونچے محل چھوڑے تھے ، بنی اسرائیل کو ان سب کا وارث بنا دیا ۔ (لیکن وہ لوگ جو اللہ سے ڈرتے اور اللہ کے پیغمبروں کی تعلیم پر چلنے والے اور اس کو ماننے والے ہیں ان کو جنت کی راحتیں عطاء کی جائیں گی وہ مانگیں گے ان کو دیا جائے گا ۔ ان کو خوبصورت باغات ، بہتے چشمے اور ریشمی لباس عطاء کیا جائے گا اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ ) فرعون کی تباہی پر نہ تو زمین روئی اور نہ آسمان رویا اور نہ اس کو کسی طرح کی مہلت دی گئی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے کی وجہ سے اللہ نے بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے نجات عطاء فرمائی اور وہ جس شدید آزمائش میں مبتلا تھے اس سے ان کو چھٹکارا عطاء کیا پھر بنی اسرائیل کو توریت جیسی کتاب دی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کو ان کی ضد اور ہٹ دھرمی پر ایک مرتبہ پھر خبردار کیا ہے کہ وہ اللہ کے آخری نبی اور رسول حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آئیں اسی میں ان کی نجات ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے کہ وہ ذرا اس بات پر غور کرلیں کہ مکہ والے بڑی شان اور قوت والے ہیں یا تبع اور اس کی قوم ۔ فرمایا کہ جب قوم فرعون ، عاد وثمود جیسی ترقی یافتہ قومیں بھی اللہ کی نافرمانیاں کرنے کی وجہ سے اللہ کے عذاب سے نہ بچ سکیں تو تمہاری کیا حیثیت اور طاقت ہے۔ فرمایا کہ وہ نظام کائنات پر غور کریں کہ اس نے زمین و آسمان اور اس کے درمیان کی تمام چیزوں کو کھیل تماشہ نہیں بنایا ہے بلکہ ان کے پیدا کرنے اور بنانے میں اللہ کی بڑی بڑی حکمتیں پوشیدہ ہیں ۔ یہ نظام کائنات ایک قوت تک چلتا رہے گا پھر اس عالم پر موت طاری ہوگی اور وہ قیامت کا دن ان مجرمین پر بہت سخت اور بھیانک ہوگا سوائے اس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم و کرم فرما دے۔ فرمایا کہ اس دن کفار و مشرکین کے کھانے کے لئے زقوم کا درخت ہوگا جو ان کے پیٹ میں اس طرح جوش مارے گا جیسے تیز کھولتا ہوا پانی جوش مارتا ہے۔ اللہ کے فرشتے ان کو پکڑ کر جہنم کے بیچ میں دھکیل دیں گے اور ان پر تیز گرم پانی ڈالیں گے اور کہیں گے کہ تم بڑی عزت والے بنے پھرتے تھے آج اس عذاب کا مزہ چکھو ۔ یہ وہی عذاب ہے جس سے تمہیں ڈرایا گیا تھا مگر تم اس کو نہیں سمجھتے تھے آج اس کو بھگتو ۔ ان کے بر خلاف وہ لوگ جو اللہ سے ڈرنے والے ، نیک اور صالح ہوں گے وہ امن و سکون ، چین اور آرام کی جنتوں میں ہوں گے جہاں خوبصورت باغات ، پانی کے بہتے چشمے اور نہریں ہوں گی ۔ باریک اور موٹے ریشمی لباس پہنے مسہریوں اور تخت پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے ۔ فرمایا کہ ہم بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں ان کی زوجیت میں دے دیں گے۔ وہ ہر طرح خوش و خرم اور طرح طرح کے پھلوں سے اپنا دل بہلائیں گے۔ جو موت ان کو آ چکی ہے اب دوبارہ ان کو نہ آئے گی ۔ سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ اللہ نے ان کو جہنم کے عذاب سے بچالیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ آپ کے پروردگار کا فضل و کرم اور ان کی زبردست کامیابی ہوگی ۔ فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کے رب نے قرآن کریم کو آسان عربی زبان میں نازل کیا ہے تا کہ اس پر غور و فکر کرنا آسان ہو اگر اس کے باوجود بھی یہ لوگ قرآن کی عظمت کو نہیں مانتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے انجام کا انتظار کیجئے یہ خود بھی اس کے انتظار میں ہیں۔
حٰمٓۚۛ Open ayah 44:1 in the Quran reader
حا ۔ میم ۔ حروف مقطعات ( جن کے معنی اور مراد کا علم اللہ کو ہے)
وَ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِۙۛ Open ayah 44:2 in the Quran reader
اس واضح کتاب کی قسم
اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِیْنَ Open ayah 44:3 in the Quran reader
اس کو ہم نے ایک برکت والی رات میں نازل کیا ہے۔ بیشک ہم ( اس کے ذریعہ) لوگوں کو آگاہ اور خبر دار کرنے والے ہیں
فِیْهَا یُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِیْمٍۙ Open ayah 44:4 in the Quran reader
اس رات میں ہر حکمت بھرے معاملہ کا فیصلہ کردیا جاتا ہے۔
اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَا١ؕ اِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَۚ Open ayah 44:5 in the Quran reader
حکم جو ہماری طرف سے ہے اسے ہم ہی بھیجنے والے ہیں۔
رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُۙ Open ayah 44:6 in the Quran reader
یہ آپ کے رب کی رحمت ہے بیشک وہی سننے والا اور جاننے والا ہے
رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ۘ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ Open ayah 44:7 in the Quran reader
آسمانوں اور زمین میں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے وہ سب کا پروردگار ہے ۔ اگر تم یقین کرنے والے ہو ۔
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 44:8 in the Quran reader
اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔ وہ تمہارا رب ہے اور تم سے پہلے تمہارے باپ داداکا بھی پروردگار ہے۔
بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ یَّلْعَبُوْنَ Open ayah 44:9 in the Quran reader
بلکہ کفار شک و شبہ میں مبتلا ہیں اور کھیل کود میں مشغول ہیں
فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَاْتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 44:10 in the Quran reader
( اے نبی ﷺ آپ ان کے لئے ایک ایسے دن کا انتظار کیجئے جس دن آسمان سے صاف و شفاف دھواں ظاہر ہوگا ۔
یَّغْشَى النَّاسَ١ؕ هٰذَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 44:11 in the Quran reader
جو لوگوں کو گھیر لے گا ۔ وہ ایک درد ناک عذاب ہو گا
رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ اِنَّا مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 44:12 in the Quran reader
( وہ کہیں گے کہ) اے ہمارے پروردگار ہم سے اس عذاب کو دور کر دیجئے تو ہم ایمان لے آئیں گے۔
اَنّٰى لَهُمُ الذِّكْرٰى وَ قَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 44:13 in the Quran reader
( فرمایا جائے گا کہ) انہیں کہاں نصیحت حاصل ہوگی جب کہ انکے پاس ایک ایسا رسول بھی آچکا ہے جس کی شان ( رسالت و عظمت) روشن ومنور ہے
ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا مُعَلَّمٌ مَّجْنُوْنٌۘ Open ayah 44:14 in the Quran reader
پھر انہوں نے اس رسول سے منہ پھیرکر کہا کہ یہ تو سکھایا ہوا دیوانہ ہے۔
اِنَّا كَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِیْلًا اِنَّكُمْ عَآئِدُوْنَۘ Open ayah 44:15 in the Quran reader
بیشک اگر ہم کچھ ( دنوں کے لئے) اس عذاب کو ہٹا لیں تو پھر تم اسی کو طرف لوٹ جائو گے۔
یَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرٰى١ۚ اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ Open ayah 44:16 in the Quran reader
جس دن ہم ( ان کی ) سخت گرفت کریں گے تو بیشک ہم ( ان ظالموں سے) زبردست انتقام لیں گے۔
وَ لَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ كَرِیْمٌۙ Open ayah 44:17 in the Quran reader
اور یقینا ہم نے ان سے پہلے قوم فرعون کو آزمایا تھا جب ان کے پاس ایک معزز پیغمبر ( حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو) بھیجا گیا تھا
اَنْ اَدُّوْۤا اِلَیَّ عِبَادَ اللّٰهِ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ Open ayah 44:18 in the Quran reader
( اور اس نے کہا تھا کہ) تم اللہ کے بندوں ( بنی اسرائیل) کو میرے حوالے کر دو ۔ میں تمہارے لئے ایک دیانت دار رسول ہوں
وَّ اَنْ لَّا تَعْلُوْا عَلَى اللّٰهِ١ۚ اِنِّیْۤ اٰتِیْكُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۚ Open ayah 44:19 in the Quran reader
اور تم اللہ کے مقابلے میں سر کشی ( اختیار ) نہ کرو۔
وَ اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ اَنْ تَرْجُمُوْنِ٘ Open ayah 44:20 in the Quran reader
بیشک میں تمہارے پاس کھلی دلیل لے کر آیا ہوں اور بیشک میں اپنے اور تمہارے پروردگار کی پناہ لے چکا ہوں اس سے کہ تم مجھے سنگسار کر دو
وَ اِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا لِیْ فَاعْتَزِلُوْنِ Open ayah 44:21 in the Quran reader
پھر اگر تم میرا یقین نہیں کرتے تو مجھ سے الگ ہو جائو۔
فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُوْنَ Open ayah 44:22 in the Quran reader
پھر اس نے ( حضرت موسیٰ نے) اپنے رب کو پکارا کہ بیشک یہ سب مجرم ( گناہ گار) ہیں
فَاَسْرِ بِعِبَادِیْ لَیْلًا اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَۙ Open ayah 44:23 in the Quran reader
(اللہ نے فرمایا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) تم میرے بندوں کو راتوں رات لے کر نکل جائو اور بلا شبہ تمہارا پیچھا کیا جائے گا
وَ اتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْوًا١ؕ اِنَّهُمْ جُنْدٌ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 44:24 in the Quran reader
اور سمندر کو اسی حالت پر ( تھما ہوا) چھوڑ دینا کیونکہ بیشک ( فرعون کا) لشکر غرق ہونے والا ہے۔
كَمْ تَرَكُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 44:25 in the Quran reader
ان لوگوں نے کتنے ہی باغ اور چشمے چھوڑے
وَّ زُرُوْعٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 44:26 in the Quran reader
اور کتنی ہی کھیتیاں اور بہترین مکانات چھوڑے
وَّ نَعْمَةٍ كَانُوْا فِیْهَا فٰكِهِیْنَۙ Open ayah 44:27 in the Quran reader
اور وہ نعمتیں جنہیں وہ مزے لے کر کھاتے تھے ( سب چھوڑنے پر مجبور کردیئے گئے)
كَذٰلِكَ١۫ وَ اَوْرَثْنٰهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 44:28 in the Quran reader
اور اس طرح ہم نے ان سب چیزوں کا مالک دوسری قوم ( بنی اسرائیل) کو بنا دیا ۔
فَمَا بَكَتْ عَلَیْهِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ وَ مَا كَانُوْا مُنْظَرِیْنَ۠ Open ayah 44:29 in the Quran reader
پھر ان ( فرعونیوں پر) نہ تو آسمان رویا اور نہ زمین اور نہ ان کو مہلت دی گئی۔
وَ لَقَدْ نَجَّیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُهِیْنِۙ Open ayah 44:30 in the Quran reader
اور یقینا ہم نے بنی اسرائیل کو ذلت کے عذاب سے نجات عطاء کردی تھی
مِنْ فِرْعَوْنَ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَالِیًا مِّنَ الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 44:31 in the Quran reader
( یعنی) فرعون سے جو کہ انتہائی مغرور و متکبر اور حد سے بڑھ جانے والا بن چکا تھا
وَ لَقَدِ اخْتَرْنٰهُمْ عَلٰى عِلْمٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 44:32 in the Quran reader
اور بیشک ہم نے جان بوجھ کر بنی اسرائیل کو اہل عالم پر فضلیت دی تھی
وَ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنَ الْاٰیٰتِ مَا فِیْهِ بَلٰٓؤٌا مُّبِیْنٌ Open ayah 44:33 in the Quran reader
اور ہم نے ان کو ایسی نشانیاں دکھائیں جن میں کھلی آزمائش تھی۔