Ayah 44:1(44:1) حم : حروف مقطعات ہیں۔
Ayah 44:2(44:2) والکتب المبین : واؤقسمیہ ہے الکتب موصوف المبین صفت۔ اسم فاعل واحد مذکر ابانہ (افعال) مصدر۔ کھلا ہوا۔ ظاہر کرنے والا۔ موصوف و صفت مل کر المقسم بہ الکتب ای القران۔
Ayah 44:3(44:3) انا انزلنہ فی لیلۃ مبارکۃ۔ یہ جواب قسم ہے یا یہ المقسم بہ کی صفت ہے اور جو اب قسم انا کنا منذرین ہے۔
انا : ان اور ضمیر جمع متکلم نا سے مرکب ہے۔ ان (تحقیق، بیشک، یقینا) حروف مشبہ بالفعل میں سے ہے۔ خبر کی تحقیق و تاکید مزید کے لئے آتا ہے۔ انا انزلنہ بیشک اس (کتاب) کو ہم نے ہی نازل کیا ہے نہ یہ انسانوں اور جنوں میں سے کسی فرد واحد کی تصنیف ہے اور نہ دانشوروں کے کسی بورڈ نے باہمی مشوروں سے اس کا مسودہ تیار کیا ہے۔
فی لیلۃ مبارکۃ یہ اس کی دوسری صفت ہے اول یہ کہ یہ کتاب یعنی قرآن حکیم ہماری طرف سے نازل شدہ ہے کسی اور کا اس میں نہ عمل و دخل ہے۔ دوم یہ کہ یہ قرآن مجید ایک برکت والی رات میں نازل کیا گیا ہے۔
یہ برکت والی رات کونسی ہے ۔ جمہور مفسرین کا قول یہ ہے کہ اس سے لیلۃ القدر مراد ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :۔ انا انزلنہ فی لیلۃ القدر (97:1) تحقیق ہم نے اس کو (یعنی قرآن مجید کو) شب قدر میں نازل کیا اس رات کی برکتیں کچھ تو آگے اس سورة میں بیان کی گئی ہیں مثلا سورة القدر ساری کی ساری اس کی برکات پر مشتمل ہے اور کئی دیگر برکات اور جگہ قرآن مجید میں مذکور ہیں۔
انا کنا منذرین۔ جملہ مستانفہ ہے (نیا مضمون شروع ہوتا ہے) اس میں یہ حکمت بیان کی گئی ہے کہ ہم نے قرآن مجید کو کیوں نازل فرمایا۔ فرمایا ہماری شان یہ ہے کہ ہم ہر وقت خبردار کردیا کرتے ہیں (ترجمہ ضیاء القرآن) یعنی ہماری شان یہ ہے کہ ہم آنے والے مصائب و آلام سے ہر وقت آگاہ کردیا کرتے ہیں تاکہ جو ان سے بچنا چاہے وہ اپنا بچاؤ کرلے۔
وانذلنہ لان من شاننا الانذار والتحذیر من العقاب (الکشاف المدارک) ۔
منذرین جمع مذکر اسم فاعل حالت نصب بوجہ خبر کنا۔ انذار افعال۔ مصدر ڈرانے والے۔ خبردار کرنے والے۔ متنبہ کرنے والے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے انا انذرنکم عذابا قریبا (78:40) ہم نے تم کو عذاب سے جو عنقریب آنے والا ہے خبردار کردیا ہے۔ (اللہ تعالیٰ کا یہ انداز اس کی غائب شفقت و کرم سے ہمیشہ بندوں کی ہی مصلحت کے لئے ان کو عواقب امور سے مطلع اور متنبہ کرنے کے لئے ہوتا ہے) ۔
Ayah 44:4(44:4) فیہا یفرق کل امر حکیم : یہ اس رات کی دوسری خصوصیت اور برکت ہے کہ ہر اہم کام کا اس رات فیصلہ کیا جاتا ہے۔
فیہا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب لیلۃ مبارکۃ کی طرف راجع ہے۔ یفرق مضارع مجہول واحد مذکر غائب ۔ فوق باب نصر۔ مصدر۔ وہ فیصلہ کیا جاتا ہے۔ اس کی تفصیل الگ الگ بیان کردی جاتی ہے۔
کل امر حکیم : کل مضاف امر حکیم : موصوف و صفت مل کر مضاف الیہ مضاف مضاف الیہ مل کر یفرق کا مفعول مالم یسم فاعلہ۔ فیہا یفرق کل امر حکیم اس رات ہر امر حکیم فیصل کیا جاتا ہے۔
فرق مادہ سے جملہ مشتقات میں الگ الگ ہونے یا الگ الگ کرنے کے معنی پائے جاتے ہیں۔ مثلا آیت ہذا میں ہر امر حکیم کے فیصل ہونے سے مراد یہ ہے کہ اس رات ہر حکمت کی بات جو اگلے سال کے دوران وقوع پذیر ہونے والی ہوتی ہے بیان کی اور ظاہر کی جاتی ہے۔ یعنی جو حوادث دنیا میں ظاہر ہونے والے ہوتے ہیں (جیسا کہ کسی کا مرنا۔ کسی کا امیر ہونا۔ کسی کا بیمار ہونا۔ تندرست ہونا۔ قحط وارزانی کا ہونا۔ سلطنت و حکومت کا تغیر و تبدل ہونا وغیرہ بمعہ ہر ایک جملہ تفاصیل کے) بارگاہ قدس سے ملائکہ مدبران عالم پر ظاہر اور واضح کئے جاتے ہیں۔
فرق باب ضرب و نصر سے۔ جدا کرنا۔ تمیز کرنا۔ واضح کرنا۔ صاف بیان کرنا۔ سمندر کو پھاڑنا۔ جیسا کہ واذ فرقنا بکم البحر (2:50) اور جب ہم نے تمہارے لئے دریا کو پھاڑ دیا۔ تفرق باب تفعل سے جماعت کا بکھر جانا۔ تفریق باب تفعیل سے جدا جدا کرنا۔ وغیرہ۔ قرآن کو الفرقان کہا گیا ہے کہ حق و باطل میں تمیز کرنے والا ہے۔ اور الفاروق حق و باطل میں امتیاز قائم کردینے والا۔ حضرت عمر ؓ کا خطاب ہے۔
حکیم بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ پر از حکمت، لان کل ما یفعلہ اللّٰہ مشتمل علی انواع الحکم الباھرۃ۔ اللہ تعالیٰ جو کام کرتے ہیں وہ روشن حکمتوں پر مبنی ہوتا ہے۔ بعض کے نزدیک حکیم سے مراد محکم ، تغیر و تبدل سے بالاتر ہے ای محکم لا تغییر فیہ ولا تبدیل۔
Ayah 44:5(44:5) امرا من عندنا۔ ہر حکم ہماری جانب سے جاری ہوتا ہے (ترجمہ ضیاء القرآن) یعنی یہ فیصلے میری بارگاہ جلالت و اقدس سے صادر ہوتے ہیں اور جو فیصلہ ہماری بارگاہ جلالت سے صادر ہوگا یقینا وہ خیر و برکت کا حامل ہوگا۔ عدل اور احسان کا آئینہ دار ہوگا۔ اس رات مبارک میں جو فیصلے کئے جاتے ہیں ان کی عظمت شان کے اظہار کے لئے امرا من عندنا کے الفاظ ذکر کئے گئے ہیں۔
امام رازی (رح) امرا کے منصوب ہونے کی دو وجہیں ذکر فرمائی ہیں۔ ان نصب علی الاختصاص کہ مخصوص ہونے کی وجہ سے منصوب ہوا۔ یا یہ حال ہے ذوالحال انزلنہ کی ضمیر فاعل ہوگی یا مفعول۔
فائدہ : لیلۃ مبارکۃ کو فیصل ہونے والے امور کو پہلے امر حکیم فرمایا کہ وہ پراز حکمت اور محکم اور تغیر و تبدل سے بالاتر ہیں پھر ان امور کی اہمیت و عظمت کو چند در چند زیادہ بتانے کے لئے فرمایا کہ وہ امور ہماری طرف سے صادر کئے جاتے ہیں۔ ہمارے علم اور تدبر کے مطابق ہوتے ہیں۔
انا کنا مرسلین : یہ بدل ہے جملہ انا کنا منذرین سے۔ انا کنا مرسلین بیشک ہم ہی محمد ﷺ اور ان سے قبل جملہ رسولوں کو بھیجنے والے ہیں۔ مرسلین اسم فاعل جمع مذکر ارسال (افعال) مصدر ۔ بھیجنے والے۔
Ayah 44:6(44:6) رحمۃ من ربک : مفعول لہ۔ (تیرے پروردگار کی طرف سے) بطور رحمت کے ۔ مطلب یہ کہ اے محمد ﷺ تیرے پروردگار نے تجھے اور تیرے سے قبل جملہ پیغمبروں کو بقضائے رحمت بمعہ کتب الٰہیہ کے اپنے بندوں کی طرف بھیجا کہ تیرے اور تجھ سے قبل پیغمبروں کے ذریعہ اپنے بندوں کو عواقب امور سے مطلع اور متنبہ کر دے۔
السمیع : بروزن فعیل صفت مشبہ کا سیغہ اسماء حسنی میں سے ہے۔ جب یہ حق تعالیٰ کی صفت واقع ہو۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ : ایسی ذات جس کی سماعت ہر شے پر حاوی ہو ۔
العلیم : بروزن فعیل مبالغہ کا صیغہ ہے علم سے اسماء حسنی میں سے ہے۔ قرآن مجید میں اس کا استعمال بیشتر اللہ تعالیٰ ہی کی صفت ہی میں ہوا ہے۔
Ayah 44:7(44:7) رب السموت والارض وما بینھما : بدل ہے ربک (آیۃ 6 متذکرۃ الصدر) سے ما موصولہ بینھما مضاف مضاف الیہ ان دونوں کے درمیان ھما تثنیہ غائب ہے اس کا مرجع سموت والارض ہے۔
ان کنتم موقنین۔ ان شرطیہ ہے۔ موقنین اسم فاعل جمع مذکر بحالت نصب بوجہ خبر کان۔ ایقان (افعال) مصدر ایمان لانے والے۔ یقین رکھنے والے۔ یہ جملہ شرط ہے جواب شرط محذوف ہے۔ یا اس کی ایسی توضیح کی جاسکتی ہے۔
مشرکین اپنے منہ سے کہتے تھے کہ اللہ زمین ومافیہا کا مالک ہے (23:84-85) وہ ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا رب ہے (23:86-87) ہر چیز کی بادشاہت اس کے ہاتھ میں ہے (23:88-89) فرمایا اگر تمہیں یقین اور ایمان ہے تو حقیقت یہی ہے کہ وہ رب السموت والارض وما بنیہما ہے) ۔
Ayah 44:8(44:8) لا الہ الا ھو : جملہ مستانفہ ہے ماقبل پر مبنی۔ یعنی جب یہ بات واضح ہوگئی کہ زمین و آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے اس کا مالک اور پروردگار وہی ہے اس کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں ہے وہ سمیع وعلیم ہے اس کا ہر فیصلہ اس کی رحمت کا مظہر ہے تو اب یہ بات ثابت ہوگئی کہ وہی اور صرف وہی عبادت کا سزاوار ہے اور زندہ کرنا اور مارنا اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔
ربکم ورب ابائکم الاولین : ای وھو ربکم ۔۔ الخ اور وہی تمہارا رب ہے اور تمہارے پہلے باپ داروں کا رب مضاف۔ اباء موصوف الاولین صفت، موصوف و صفت مل کر مضاف۔ کم ضمیر جمع ذکر حاضر مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر رب (مضاف) کا مضاف الیہ۔
Ayah 44:9(44:9) بل ہم فی شک یلعبون : بل اضراب کا ہے یعنی یہ لوگ محض زبانی کلامی اللہ رب العزت کو رب اور خالق ومالک مانتے ہیں حقیقت اس کے الٹ ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ یہ شکوک و شبہات کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ زندگی کو لہو ولعب سمجھ رکھا ہے خدا کو ماننا نہ ماننا ان کے نزدیک چنداں اہمیر نہیں رکھتا۔
یلعبون۔ مضارع معروف جمع مذکر غائب لعب باب سمع مصدر وہ استہزاء کرتے ہیں۔
Ayah 44:10(44:10) فارتقب امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ ارتقاب (افتعال) مصدر۔ انتظار کرنا۔ راہ دیکھنا۔ تو انتظار کر۔ خطاب نبی کریم ﷺ سے ہے۔ یوم : روز، دن ۔ منصوب بوجہ مفعول فیہ۔
یاتی۔ مضارع واحد مؤنث غائب، اتیان (باب ضرب) وہ آئے گی۔ ب تعدیہ کے صلہ کے ساتھ تاتی ب ۔ وہ لائے گی۔ مؤنث کا صیغہ سماء کے لئے استعمال ہوا ہے۔
دخان مبین : موصوف و صفت، صاف و ظاہر دھواں۔ صریح دھواں۔ آسمان صاف و ظاہر دھواں لائے گا۔ یعنی آسمان پر صاف نظر آنے والا دھواں ظاہر ہوگا ۔ (یہ دھواں قیامت کی علامات میں سے ایک علامت ہے) ۔
Ayah 44:11(44:11) یغشی مضارع واحد مذکر غائب غشی وغشیان (باب سمع) مصدر وہ چھا جائے گا۔ وہ ڈھانک لے گا۔ غشاوۃ ڈھکنا۔ پردہ۔ جیسے وعلی ابصارہم غشاوۃ (2:7) اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے اور جگہ قرآن مجید میں ہے واستغشوا ثیابھم (71:7) اور انہوں نے اپنے اوپر کپڑے لپیٹ لئے۔ یغشی الناس وہ (دھواں) لوگوں کو لپیٹ میں لے لیگا۔
ھذا عذاب الیم : ھذا۔ یعنی آسمانی دھوئیں کا لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لینا ایک دردناک عذاب ہوگا۔ یا جملہ سے قبل فقالوا کا لفظ محذوف ہے اور معنی ہے کہ وہ کہہ اٹھیں گے یہ ایک دردناک عذاب ہے۔
Ayah 44:12(44:12) ربنا اکشف عنا العذاب انا موقنون : ای یقولون ربنا ۔۔ الخ وہ کہہ اٹھیں گے۔
اکشف امر کا صیغہ واحد حاضر۔ کشف (باب ضرب) مصدر کھولنا۔ اٹھا دینا۔ دور کرنا (اے ہمارے رب یہ عذاب ہم سے دور کر دے۔ العذاب : وہ عذاب جس کا ذکر ہو رہا ہے۔ انا مؤمنون ہم ایمان لاتے ہیں اس کی دونوں صورتیں ہوسکتی ہیں۔ یہ کہ ہم سے عذاب کو ہٹالے ہم ایمان لے آتے ہیں۔ یا ہم ایمان لے آئے ہم سے عذاب کو دور کر دے۔
Ayah 44:13(44:13) انی لہم الذکری : انی اسم ظرف ہے زمان و مکان دونوں کے لئے آتا ہے ظرف زمان ہو تو بمعنی متی (جب ، جس وقت) ظرف مکان ہو تو بمعنی این (جہاں، کہاں) اور استفہامیہ ہو تو بمعنی کیف (کیسے، کیونکر) آتا ہے۔
الذکری نصیحت کرنا۔ ذکر کرنا۔ یاد۔ پند۔ موعظت۔ یہ ذکر یذکر (باب نصر) کا مصدر ہے۔ کثرت ذکر کے لئے ذکری بولا جاتا ہے یہ ذکر سے زیادہ بلیغ ہے۔ یہاں مراد ایمان ہے۔ ایمان کا ذکری سے تعبیر کیا گیا ہے جس کے نتیجہ میں ایمان پیدا ہوتا ہے اس علم بیان میں تسمیۃ الشیء باسم سببہ کہتے ہیں
ان لہم الذکر ان کے لئے ایمان کیونکر ۔ یہ استفہام انکاری ہے مطلب یہ کہ ان کے لئے ایمان نہیں ہے (اس چھوٹی سی بات پر ایمان ان کے نصیب میں کہاں یہ اس سے بڑھ کر نشانیاں دیکھ چکے ہیں اور ایمان نہیں لائے)
وقد جاء ہم رسول مبین۔ جملہ حالیہ ہے : حالانکہ اس سے پہلے ان کے پاس کھول کر بیان کرنے والا پیغمبر رسول کریم ﷺ آیا۔ (لیکن انہوں نے اس کی نصیحت کو نہ مانا اور نہ ایمان لائے)
Ayah 44:14(44:14) ثم تولوا عنہ : ثم تراضی وقت کے لئے ہے (پھر) اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر جاء ہم پر ہے۔ تولوا۔ ماضی جمع مذکر غائب تولی (تفعل) مصدر۔ انہوں نے پشت پھیری۔ انہوں نے منہ موڑا۔
تولی کا تعدیہ جب بلاواسطہ ہوتا ہے تو اس کے معنی کسی سے دوستی رکھنے کسی کام کا اٹھانے اور والیو حاکم ہونے کے ہوتے ہیں۔ مثلا ومن یتولہم منکم فانہ منھم (5:51) اور جو کوئی تم میں سے ان سے دوستی کرے وہ انہی میں سے ہے اور والذی تولی کبرہ منہم لہ عذاب عظیم (24:11) اور جس نے ان میں سے اس بہتان کا بڑا بوجھ اٹھایا ہے اس کو بڑا عذاب ہوگا۔
اور فہل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض (47:22) (اے منافقواً تم سے عجب نہیں کہ اگر تم حاکم ہوجاؤ تو ملک میں خرابی کرنے لگو۔ اور جب عن کے ساتھ متعدی ہوتا ہے تو خواہ عن لفظوں میں مذکور ہو یا پوشیدہ ہو تو منہ پھیر نے اور نزدیکی چھوڑنے کے معنی میں آتا ہے جیسا کہ آیت زیر نظر میں ہے۔
وقالوا معکم مجنون : اس کے مندرجہ ذیل دو معنی ہوسکتے ہیں :۔
(1) وقالوا تارۃ معکم وتارۃ مجنون : کبھی معلم کہتے ہیں کہ اس کو رومی غلام تعلیم دیتا ہے یا بتاتا ہے اور کبھی مجنون کہتے ہیں۔ معلم اسم مفعول واحد مذکر تعلیم (تفعیل) مصدر سکھایا ہوا۔
(2) وقالوا بعضھم معلم وبعضھم مجنون : بعض اسے معلم کہتے ہیں کہ اسے کوئی دوسرا بتاتا ہے اور بعض اسے مجنون کہتے ہیں
Ayah 44:15(44:15) کاشفوا العذاب : کاشفون جمع مذکر قیاسی ہے کاشف سے کاشفوا اصل میں کاشفون تھا ۔ اضافت کی وجہ سے نون اعرابی گرگیا۔ کاشفوا مضاف العذاب مضاف الیہ۔ عذاب کو دور کرنے والے۔ باب ضرب سے کشف کے معنی کھولنا۔ ظاہر کرنا۔ برہنہ کرنا۔ ضرر کو دفع کرنا کے ہیں۔ باب ضرب سے یہ متعدی مستعمل ہے لیکن باب سمع سے لازم آتا ہے بمعنی شکست کھانا۔
قلیلا ای زمانا قلیلا تھوڑی سی مدت کے لئے۔
انکم عائدون : تم (پھر کفر کی طرف) لوٹ جانے والے ہو۔ یعنی لوٹ جاؤ گے۔ عائدون : اسم فاعل جمع مذکر۔ عود (باب نصر) مصدر۔ لوٹ کر آنے والے۔ پھر کر آنے والے۔ پلٹنے والے۔ یعنی ہم اس عذاب کو کچھ عرصہ کیلئے کم کردیں گے۔ لیکن تم ایمان لانا تو کجا تم تو پھر لوٹ کر اسی کفر و شرک کی طرف آجاؤ گے۔
آیت 13 میں مشرکین (مکہ کے مشرکین ، قریش و دیگر مشرکین) نے دعا کی تھی ربنا اکشف عنا العذاب انا مؤمنون ۔ اے ہمارے رب ہم سے یہ عذاب دور کر دے ہم ابھی ایمان لاتے ہیں ۔ ارشاد ہوتا ہے اول تو ایمان تمہارے نصیب ہی میں کہاں ہے کیونکہ اس سے بڑھ کر نشانیاں تمہارے پاس آچکیں مثلا نبی ﷺ کا مبعوث من اللہ ہوکر تم کو دعوت الی الحق دینا۔ لیکن تم ایمان نہ لائے۔ بلکہ اس کو معلم و مجنون کہا۔ پھر بھی ہم اس عذاب کو کچھ عرصہ کے لئے کم کردیں گے لیکن تم اپنی فطرت سے مجبور ہو تم پھر کفر و شرک کی طرف ہی لوٹنے والے ہو۔
فائدہ : ابتداء سورة سے مختلف اسالیب سے خداوند تعالیٰ نے اپنا رب السموت والارض ہونا۔ موجودہ اور گزشتہ نسلوں کا پروردگار ہونا۔ اپنا سمیع وعلیم ہونا۔ اپنا خالق ومالک ہونا اور اپنے بندوں پر رحیم و کریم ہونا۔ زندگی اور موت پر قادر ہونا۔ بیان کرکے مشرکین مکہ کو متنبہ کیا ہے کہ باوجود اس کی لاتعداد کرم فرمائیوں کے تم صرف زبانی و کلامی اس کی وحدانیت ، الوہیت اور ربوبیت کا دعوی کرتے رہتے ہو جو درحقیقت تم نے ان تمام باتوں کو کھیل سمجھ رکھا ہے اب تم غور سے سن لو۔ کہ ہم تم کو ایک ایسے عذاب سے دوچار کریں گے جو آسمانی دھوئیں کی شکل میں ہوگا تم میں سے ہر ایک کو اپنی لپیٹ میں لے لیگا اور اس شدت سے تم چلا اٹھو گے ربنا اکشف عنا العذاب انا مؤمنون۔ ایمان تو خیر تمہارے نصیب میں کیا ہوگا ہم ازراہ تلطف اس عذاب کو کچھ مدت کے لئے کم کردیں گے لیکن تم پھر کفر و شرک کی طرف لوٹنے والے ہو۔
صاحب تفسیر ضیاء القرآن رقمطراز ہیں :۔
حضور نبی کریم ﷺ نے مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ میں نزول اجلال فرمایا۔ تو اہل مکہ اور گرد و نواح میں بسنے والوں کو قحط نے آلیا۔ نوبت بایں جار سید کو مردار اور کتے کھا کھا کر گزارہ کرنے لگے۔ اپنے چھوٹے بڑے بتوں کے سامنے بڑی درد مندانہ التجائیں کیں لیکن سب بےسود۔ آخر ابو سفیان بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا۔ اور عرض کی کہ آپ خیال فرماتے ہیں کہ آپ کو رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے آپ کی قوم بھوک سے ہلاک ہوگئی ہے آپ دعا فرما دیں کہ اللہ تعالیٰ اس مصیبت سے نجات بخشے۔
فدعا رسول اللّٰہ ﷺ فسقوا الغیث۔ چناچہ حضور نبی کریم ﷺ نے دعا فرمائی اور بارش برسنے لگی۔
یہ آیات مکہ مکرمہ میں نازل ہوئیں ان میں قحط شدید کی آمد کی اطلاع دی گئی پھر اس قحط سے مجبور ہو کر مشرکین کے رویہ میں جو تبدیلی آنے والی تھی اس کا ذکر کیا گیا۔ انی لہم سے بتادیا گیا کہ ان کا یہ کہنا (انا مؤمنون) محض وقتی مجبوری کے باعث تھا ورنہ جب انہوں نے حضور نبی اکرم ﷺ کی روشن تعلیمات اور روشن معجزات کے باوجود ایمان قبول نہیں کیا تو اب اتنی سی بات سے وہ ہدایت کیسے قبول کرسکتے ہیں ؟
انا کاشفوا العذاب ۔۔ الخ سے بتادیا کہ ان سے وہ عذاب ایک عرصہ کے لئے ٹال دیا جائے گا لیکن وہ اپنی کرتوتوں سے باز نہیں آئیں گے۔
آیات کی یہ تفسیر جو بخاری سے منقول ہے اس کو ان احادیث سے متعارض کہنا جن میں دخان علامت قیامت کے ضمن میں مذکور ہے قطعا درست نہیں۔ بیشک قیامت سے پہلے بھی دھواں ظاہر ہوگا۔ جیسے حدیث میں مذکور ہے وہ دھواں علامات قیامت میں سے ہوگا اور یہ الگ واقعہ ہے جس کا ذکر ان آیات میں ہے۔ اس لئے قطعا کوئی تعارض نہیں ہے جیسے بعض حضرات کو غلط فہمی ہوئی ہے۔
Ayah 44:16(44:16) یوم نبطش البطشۃ الکبری : یوم مفعول فعل مقدر کا۔ ای ذکر یوم : نبطش مضارع جمع متکلم بطش (باب ضرب) مصدر۔ ہم سختی سے پکڑیں گے۔ بطش، سختی اور قوت کے ساتھ پکڑنے کو کہتے ہیں ۔ البطشہ الکبری موصوف و صفت سخت پکڑ۔ مضبوط گرفت۔ موصوف و صفت مل کر مفعول فعل نبطش کا ۔ وہ دن یاد کرو جب ہم پوری شدت سے پکڑیں گے۔
یا جملہ یوم نبطش البطشۃ الکبری بدل ہے جملہ یوم تاتی السماء بدخان مبین کا۔ سخت پکڑ کے دن سے مراد قیامت کا دن۔ بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد یوم بدر ہے۔ اول الذکر زیادہ صحیح ہے۔
انا منتقمون (اس دن) ہم بدلہ لینے والے ہوں گے ۔ یعنی اس روز ہم پورا پورا بدلہ لیں گے۔ منتقمون : اسم فاعل جمع مذکر۔ انتقام (افتعال) مصدر۔ بدلہ لینے والے۔ انتقام لینے والے۔
Ayah 44:17(44:17) ولقد فتنا۔ واؤ عاطفہ لام تاکید کا۔ قد کے دو فائدے ہیں :۔
(1) ماضی پر داخل ہوکر تحقیق کے معنی دیتا ہے۔
(2) ماضٰ کو زمانہی حال کے قریب کردیتا ہے۔ فتنا ماضی جمع متکلم فتنۃ باب ضرب مصدر۔ آزمانا۔ آزمائش میں ڈالنا۔ اور تحقیق ان سے قبل ہم نے ماضی قریب میں قوم فرعون کو آزمایا تھا۔
فتن کے اصل معنی سونے کو آگ میں گلانے کے ہیں تاکہ اس کا کھرا کھوٹا ہونا معلوم ہوجائے اس لئے کسی کو آگ میں ڈالنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ مثلا قرآن مجید میں ہے یوم ہم علی النار یفتنون (51:13) جس سن ان کو آگ میں (ڈال کر) عذاب دیا جائے گا۔ نفس عذاب پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے مثلا ذوقوا فتنتکم (51:14) اپنے عذاب کا مزہ چکھو۔
قرآن مجید میں فتنہ اور اس کے مشتقات کو مختلف معانی کے لئے استعمال کیا گیا ۔
قبلہم۔ میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب مشرکین مکہ کی طرف راجع ہے جن کا ذکر اوپر ہو رہا ہے۔
رسول کریم : عظیم الشان رسول (رسول کی تنوین تعظیم کے لئے ہے) کریم کرم سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ بزرگ۔ بڑا۔ عزت والا۔ شان والا۔ یہاں مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ جن کو خدا تعالیٰ نے فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا تھا۔
Ayah 44:18(44:18) ان ادوا الی عباد اللّٰہ : ان مفسرہ ہے کیونکہ حضرت موسیٰ کا فرعون اور اس کی قوم کے پاس آنا قول کے معنی کو بھی متضمن ہے یعنی وہ ان کے پاس آیا اور فرعون سے کہا کہ اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کر دو ۔
ادوا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تادیۃ (تفعیل) مصدر۔ جس کے معنی ادا کرنے یا حوالہ کرنے کے ہیں۔ ادی یا ادو مادہ۔
الاداء کے معنی یکبارگی اور پورا پورا حق دینا۔ چناچہ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے فلیؤد الذی ائتمن امانتہ (2:283) پس امانت دار کو چاہیے کہ صاحب امانت کی امانت کو ادا کر دے۔ یا ان اللّٰہ یأمرکم ان تودوا الامانات الی اہلہا (4:58) خدا تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل کے حوالہ کردیا کرو۔
عباد اللّٰہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول فعل ادوا کا۔ اللہ کے بندے۔ مراد یہاں بنی اسرائیل ہیں جو فرعون کے تحت ملک مصر میں غلامی کی زندگی بسر کر رہے تھے۔
امین : امن اور امانۃ سے اسم فاعل کا صیغہ بھی ہوسکتا ہے اور اسم مفعول کا بھی۔ کیونکہ فعیل کا وزن دونوں میں مشرک ہے۔ امانت دار۔ معتبر۔ امانت والا۔
Ayah 44:19(44:19) ان لاتعلوا علی اللّٰہ۔ واؤ عاطفہ، ان مفسرہ، لاتعلوا فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ علو (باب نصر) مصدر بمعنی بلند ہونا۔ غالب آنا۔ بلند کرنا۔ متکبر ہونا۔ سرکشی کرنا۔ (اور یہ بھی کہا کہ) کہ تم اللہ کے مقابلہ میں سرکشی نہ کرو۔
اتیکم : اتی ب مضارع واحد متکلم۔ اتیان (افعال) مصدر۔ میں لایا ہوں۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ میں تمہارے پاس لایا ہوں۔ اتی اسی مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر حاضر بھی آتا ہے۔ آنے والا اور جب اس کا تعدیہ باء کے ساتھ ہو تو معنی لانے والا
سلطن مبین : موصوف وصفت سلطان بمعنی برہان ، سند، دلیل، قوت، زور۔ قرآن مجید میں اکثر بمعنی حجت و دلیل آیا ہے ۔ مبین ظاہر۔ کھلا۔ روشن۔ مطلب یہ کہ میں اپنے ساتھ تمہارے پاس اپنی رسالت کی روشن دلیل لایا ہوں۔
Ayah 44:20(44:20) عذت۔ ماضی واحد متکلم عذت اصل میں عوذت تھا۔ عوذ باب نصر مصدر سے َ واؤ متحرک ماقبل مفتوح واؤ کو الف سے بدلا گیا۔ الف اجتماع ساکنین کی وجہ سے گرگیا ، پھر واؤ کی رعایت سے عین کو ضمہ دیا۔ میں نے پناہ لی۔ میں نے پناہ پکڑی میں نے پناہ مانگی۔
وربکم ای وبربکم (میں نے پناہ لے لی) اپنے رب کی اور تمہارے رب کی۔
ان ترجمون : ان مصدریہ۔ ترجمون اصل میں ترجموننی تھا۔ ترجمون مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ رجم (باب نصر) مصدر۔ سنگسار کرنا۔ نون وقایہ اور ی ضمیر واحد متکلم۔ محذوف ہے۔ کہ تم مجھے سنگسار کر، ترجمون سے مراد پتھر مارنا بھی ہے اور بدکلامی کرنا بھی۔ رجم باب نصرپتھر برسانا۔ الرجام پتھر کو کہتے ہیں ۔ لیکن استعارہ کے طور پر رجم کا لفظ جھوٹے گمان۔ تو ہم۔ سب وشتم، اور کسی کو دھتکارنا کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ مثلا اور جگہ قرآن مجید میں ہے رجما بالغیب (18:22) یہ سب غیب کی باتوں میں اٹکل کے تکے چلاتے ہیں۔ یا فاخرج منھا فانک رجیم (38:77) تو بہشت سے نکل جا کہ تو راندہ درگاہ ہے۔
Ayah 44:21(44:21) ان لم تؤمنوا الی : ان شرطیہ۔ لم یؤمنوا مضارع نفی جحد بلم صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے ہو۔ جملہ شرط
فاعتزلون۔ جملہ جواب شرطجواب شرط کے لئے۔
اعتزلوا فعل امر جمع مذکر حاضر۔ اعتزال (افتعال) مصدر نون وقایہ ی ضمیر واحد متکلم محذوف تم مجھ سے الگ ہوجاؤ۔ یعنی اگر تمہارا مجھ پر ایمان نہیں ہے تو تم دور ہٹ جاؤ۔ میرا راہ نہ روکو۔ تاکہ میں اپنی قوم کو لے جاؤں۔
Ayah 44:22(44:22) ان حرف مشبہ بالفعل ۔ خبر کی تاکید اور تحقیق مزید کے لئے آتا ہے اپنے اسم کو نصب اور خبر کو رفع دیتا ہے۔ ھولائ۔ اسم ان۔ قوم مجرمون موصوف و صفت مل کر خبر۔ تحقیق یہ مجرم لوگ ہیں۔
مجرمون : اسم فاعل جمع مذکر۔ مجرم واحد۔ اجرام (افعال) مصدر سے۔ گنہگار۔ مجرم۔
Ayah 44:23(44:23) فاسر بعبادی لیلا : ای فقال اللّٰہ ان کان الامر کذلک فاسر بعبادی لیلا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اگر یہ بات ہے تو میرے بندوں کو لے کر راتوں رات چل نکلو۔
اس میں ان کان الامر کذلک جملہ شرط محذوف ہے۔ فاسر میںجواب شرط ہے۔ اور اسر فعل امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ اسراء (افعال) مصدر سے جس کے معنی رات کو سفر کرنے کے ہیں ب کے تعدیہ کے ساتھ بمعنی کسی کو لے کر رات کے وقت چلنا۔ یا کسی کو رات کے وقت لیجانا۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔
سبحن الذی اسری بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الاقصی (17:1) بعبادی ب تعدیہ کے لئے ہے۔ عبادی مضاف مضاف الیہ۔ میرے بندے۔ لیلا رات کو۔ مفعول فیہ۔ پاک ہے وہ ذات جو ایک رات میں اپنے بندے کو مسجد حرام (خانہ کعبہ) سے مسجد اقصی تک لے گئی۔
انکم متبعون : تمہارا ضرور تعاقب کیا جائے گا : ای یتبعکم فرعون و جنودہ اذا علموا بخروجکم یہ علت ہے اسر بعبادی کی۔ یعنی جب وہ تمہارے نکل جانے کی خبر پائیں گے تو فرعون اور اس کی فوج ضرور تمہارا تعاقب کرے گی۔
متبعون اسم مفعول جمع مذکر متبع واحد اتباع (افتعال) مصدر۔ متبع وہ شخص جس کا پیچھا کیا جائے۔ یا جس کی پیروی کی جائے۔ اس جگہ اول الذکر مراد ہے۔
Ayah 44:24(44:24) واترک البحر رھوا واؤ عاطفہ۔ اترک فعل امر واحد مذکر حاضر۔ ترک (باب نصر) مصدر ۔ تو چھوڑ۔ البحر دریا۔ دریائے قلزم مراد ہے جسے حضرت موسیٰ اور اس کی قوم نے پار کیا تھا۔ رھوا یہ رھایرھوا (باب نصر) سے مصدر ہے جس کے معنی دریا کے تھمنے کے آتے ہیں۔ یعنی پار ہو کر دریا کو اسی ہیئت میں ساکن رہنے دیجئے۔ دریا پھٹ کر کھلے کشادہ رستے بن گئے تھے اور راستوں کے دونوں طرف دریا کے آرپار پانی پہاڑ کی طرح تھم کر کھڑا ہوگیا تھا۔ خدا کا حکم ہوا کہ اسے اسی طرح راستوں میں بٹا ہوا اور ساکن رہنے دیجئے اپنے عصا سے یا کسی اور طریقے سے یہ پاٹ پر کرنے کی کوشش نہ کرنا۔ اس ڈر سے کہ مبادا فرعون اور اس کی قوم تمہیں آنہ لے۔ بلکہ راستے کھلے رہنے دیں تاکہ فرعون اور اس کی قوم تمہارے تعاقب میں ان راستوں پر دریا میں داخل ہوجائے اور جب وہ سارے دریا کی رد میں آجائیں تو خدا تعالیٰ پانی کو چالو کردے۔ رستے ختم ہوجائیں اور فرعون و جنودہ اس میں غرق ہوجائیں۔
انھم جند مغرقون : جند لشکر، فوج۔ جنود جمع ۔ مغرقون اسم مفعول جمع مذکر۔ اغراق (افعال) مصدر۔ غرق کئے ہوئے
تحقیق وہ لوگ ایک ایسی فوج ہیں جو غرق کی جانے والی ہے۔
Ayah 44:25(44:25) کم ترکوا من جنت وعیون : کم دوطرح استعمال ہوتا ہے۔
(1) سوالیہ : استفہام کے لئے آتا ہے۔ کتنی مقدار۔ کتنی تعدار ، کتنی دیر۔ اس صورت میں اس کی تمیز مفرد منصوب ہوتی ہے۔ یہ تمیز کبھی مذکور ہوتی ہے ۔ مثلا کم درھما عندک۔ تیرے پاس کتنے درہم ہیں۔ اور کبھی محذوف ہوتی ہے جیسے کم لبثت ای کم زمانا لبثت۔ تو کتنی مدت ٹھہرا۔
(2) کم خبریہ۔ جو مقدار کی بیشی اور تعداد کی کثرت کو ظاہر کرتا ہے اس کی تمیز ہمیشہ مجرور ہوتی ہے مثلا کم اہلکناھا۔ ہم نے بہت سی بستیوں کو ہلاک کردیا۔ اور کبھی تمیز سے پہلے من آتا ہے جیسے کم من قریۃ اہلکناھا (7:4) کتنی ہی بستیاں ہوں گے کہ ہم نے ان کو تباہ کردیا۔
ترکوا۔ جمع مذکر گا ئب فعل ماضی معروف، ترک (باب نصر) مصدر۔ انہوں نے چھوڑا۔ ضمیر فاعل فرعون اور اس کی قوم یا لشکر جو قلزم میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے تعاقب میں غرق ہوگئے تھے ان کی طرف راجع ہے۔
کم ترکوا من جنت وعیون : کتنے ہی باغات اور چشمے وہ (غرق ہونے کے بعد) چھوڑ گئے۔ عیون، عین کی جمع، چشمے،
Ayah 44:26(44:26) وزروع ومقام کریم : ای وکم من زروع ومقام کریم ترکوا۔ کتنے ہی کھیت اور عمدہ مکانات وہ پیچھے چھوڑ گئے۔ زروع زرع کی جمع ۔ کھیت کھتان۔ زرع (باب فتح) مصدر۔ کھیتی اگانا۔
مقام کریم موصوف و صفت کریم۔ صفت مشبہ کا صیغہ واحد مذکر ۔ کرم (باب کرم) مصدر سے۔ معظم۔ شاندار۔ باعزت
Ayah 44:27(44:27) ونعمۃ کانوا فیہا فکھین : ای وکم من نعمۃ ترکوا اور کتنی ہی نعمتیں (آرام کے سامان) انہوں نے چھوڑے جن میں وہ مزے اڑایا کرتے تھے۔ فکھین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ فاکھۃ واحد۔ فکاہۃ اسم مصدر ، بمعنی ہنسی مذاق خوش طبعی۔ فکھین۔ ہنسی مذاق کی باتیں کرنے والے۔ مزے اڑانے والے۔
Ayah 44:28(44:28) کذلک : ای الامر کذلک۔ یہ قصہ ایسے ہی واقع ہوا۔ (حضرت موسیٰ اور ان کے ساتھی دریائے قلزم کے پار گزر گئے۔ اور فرعون اور اس کا لشکر اسی دریا میں غرق ہوگئے۔
اور ثتھا : ادرثنا ماضی جمع متکلم ایراث (افعال) مصدر۔ بمعنی وارث بنانا۔ میراث میں دینا۔ ھا ضمیر واحد مؤنث مفعول اول۔ کا مرجع وہ نعمتیں اور چیزیں ہیں جو فرعون اور اس کا لشکر پیچھے چھوڑ کر غرق ہوگئے تھے۔
قوم اخرین : موصوف و صفت مل کر مفعول ثانی۔ اور ہم نے وہ نعمتیں اور سامان عشرت دوسرے لوگوں کو میراث میں دے دیا۔ قوم اخرین کے متعلق مفسرین کے مختلف اقوال ہیں :۔
(1) اس سے مراد بنی اسرائیل ہیں۔
(2) اس سے مراد وہ قبطی لوگ ہیں جو غرق ہونے والے لوگوں کے بعد ان چیزوں کے وارث بنے۔
Ayah 44:29(44:29) مابکت علیہم : ماضی منفی واحد مؤنث غائب بکاء مصدر باب ضرب۔ نہ روئی۔ بمعنی نہ روئے ان پر۔
علیہم۔ میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع فرعون اور وہ لوگ ہیں جو اس کے ہمراہ غرق ہوگئے تھے۔
منظرین۔ اسم مفعول جمع مذکر منصوب بوجہ خبر کانوا۔ منظر واحد۔ مہلت دئیے گئے۔ مہلت یافتہ۔ اور نہ انہیں (مزید) مہلت دی گئی۔
Ayah 44:30(44:30) نجینا۔ ماضی جمع متکلم۔ تنجیۃ (تفعیل) مصدر۔ ن ج و مادہ۔ ہم نے نجات دی۔ ہم نے بچایا۔
العذاب المھین موصوف و صفت۔ ذلیل و خوار کرنے والا عذاب۔ مھین اسم فاعل ۔ واحد مذکر اھانۃ (افعال) مصدر۔ مھین ذلیل و خوار، حقیر ماء مھین حقیر پانی۔ ناپاک پانی۔ یعنی نطفہ۔
یہاں العذاب المھین سے مراد فرعون کا غلم و استبداد ہے۔ بنی اسرائیل کے لڑکوں کا قتل کرنا اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دینا۔ بنی اسرائیل کو غلام بنا کر ان سے حقارت آمیز کام لینا۔ ان کو محنت و مشقت میں ان کی استعداد سے بڑھ کر دبائے رکھنا۔ وغیرہ۔
Ayah 44:31(44:31) من فرعون : العذاب سے بدل ہے بحذف مضاف ان من عذاب فرعون۔
عالیا۔ سرکش ، متکبر۔ جبر کرنے والا۔ اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ منصوب بوجہ خبرکان علو باب نصر مصدر۔ علو مادہ۔
من المسرفین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ اسراف (افعال) مصدر ۔ حد اعتدال سے آگے بڑھنے والے۔ بیہودہ صرف کرنے والے۔ حد حلال سے حرام کی طرف بڑھنے والے۔ شر اور فساد میں آگے بڑھنے والے۔ یہ یا تو کان کی خبرثانی ہے ای کان متکبرا مغرقا فی الاسراف۔ یا ۔ عالیا میں ضمیر مستتر سے حال ہے۔ ای کان متکبرا فی حال اغراقہ فی الاسراف۔
Ayah 44:32(44:32) قد اخترنھم : قد بمعنی تحقیق اخترنا ماضی جمع متکلم اختیار (افتعال) مصدر ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ تحقیق ہم نے پسند کیا ان کو۔ ہم نے ان کو برتری دی۔ (بعض امور میں)
علی علم : علم کی بناء پر۔ علم کی رو سے۔ یعنی ہم کو علم تھا کہ وہ اس کے مستحق ہیں۔ یا ہم جانتے تھے کہ بعض احوال میں وہ کج رو ہوجائیں گے دانستہ طور پر۔
علی العلمین : اہل عالم پر۔ مطلب یہ کہ۔ ان کے زمانہ کے لوگوں ہر۔ یا علی تعلیل کے لئے ہے۔ اور آیت کا مطلب یہ ہے ہم نے ان کو (بنی اسرائیل کو) ان کے علم کی وجہ سے لوگوں پر فضیلت دی۔
Ayah 44:33(44:33) اتینھم : اتینا۔ ماضی جمع متکلم۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ہم نے ان کو دیا۔ ہم نے ان کو بخشا۔ ایتاء (افعال) مصدر۔
الایت۔ نشانیاں ۔ ایۃ کی جمع۔ یہ لفظ مادہ ای ی سے تای (تفعل) مصدر سے مشتق ہے جس کے معنی کسی چیز پر ٹھہرنے اور تثبت حاصل کرنے کے ہیں۔ اور ایۃ کا لفظ بلند عمارت پر بھی بولا جاتا ہے۔ جیسے فرمایا۔ اتبنون بکل ریع ایۃ تعبثون (26:128) کہ تم پر فضا مقام پر بےکار نشان تعمیر کرتے ہو۔ اور قرآن کے ہر اس حصہ کو جو کسی حکم پر دال ہو ایۃ کہا جاتا ہے۔ عام اس سے کہ وہ سورة ہو یا اس کی ایک فصل یا کئی فصلیں۔
اور ہر اس کلام کو جو لفظی اعتبار سے دوسرے سے الگ ہو ایۃ ۔ کہہ دیا جاتا ہے اسی کے اعتبار سے سورتوں کی آیات کو آیات کہا جاتا ہے جن کے ذریعہ سورة شمار کی جاتی ہے۔ آیات سے فکری دلائل بھی مراد لئے جاتے ہیں کہ لوگ اپنے مراتب علمیہ کے اعتبار سے ان کی معرفت میں مختلف درجات رکھتے ہیں۔ اسی معنی میں فرمایا :۔
بل ھو ایت بینت فی صدور الذین اوتوا العلم وما یجحد بایتنا الا الظلمون (29:49) بلکہ یہ اہل علم کے نزدیک واضح دلائل ہیں اور ہمارے ان دلائل سے وہی لوگ انکار کرتے ہیں جو بےانصاف ہیں۔
(ایۃ کی مزید وضاحت کے لئے ملاحظہ ہو المفردات للراغب اصفہانی (رح))
آیت ہذا میں آیات سے مراد وہ معجزات اور نشانیاں ہیں جو وقتا فوقتا بنی اسرائیل کو عطا ہوئیں۔ مثلا دریا کے پانی کو ان کے گذرنے کے لئے پھاڑ دینا اور الگ الگ بارہ راستے بنادینا۔ میدان تیہ میں ان پر ابر کا سایہ کردینا۔ من وسلوی کا نازل فرمانا ۔ وغیرہ وغیرہ۔
مافیہ : ما موصولہ ہے ہ ضمیر واحد مذکر ما موصولہ کی طرف راجع ہے ۔ جس میں ۔ جن میں۔
بلؤ مبین۔ موصوف و صفت۔ صریح آزمائش۔ اختیار ظاھر کھلی آزمائش (بیضاوی) تفسیر الماجدی میں ہے۔ بلاء کے عام متداول معنی یہی لئے جاسکتے ہیں کہ ان نشانات کے ذریعہ سے خوب آزمائش اور تجربہ ہوگیا۔ ایشکرون ام یکفرون۔ کہ وہ ان نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہیں یا ناشکری کرتے ہیں۔
بلؤ: آزمائش نعمتوں کے ذریعے سے بھی کی جاسکتی ہے اور تکالیف کے ذریعے بھی نعمتوں کے ذریعہ جیسا کہ آیت ہذا میں ہے اور تکالیف کے ذریعہ بھی۔ جیسا کہ اور جگہ قرآن مجید میں ہے واذا نجینکم من ال فرعون یسومونکم سوء العذاب یذبحون ابناء کم ویستحیون نساء کم وفی ذلکم بلاء من ربکم عظیم (2:49) (اور ہمارے ان احسانات کو یاد کرو) جب ہم نے تم کو قوم فرعون سے نجات دی۔ (وہ لوگ) تم کو بڑا دکھ دیتے تھے۔ تمہارے بیٹوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے۔ اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی سخت آزمائش تھی۔
Ayah 44:34(44:34) ان ھولائ : ان حرف مشبہ بفعل ہے بمعنی تحقیق ۔ بےشک۔ یقینا : ھولاء اسم اشارہ جمع مذکر مؤنث، یہ لوگ، مراد مشرکین مکہ ہیں۔ گفتگو ان کی ہو رہی تھی ۔ ان کو کفر سے باز آنے کی تلقین کے جا رہی تھی۔ بیچ میں فرعون اور اس کی قوم کا ذکر صیحۃ آگیا کہ وہ بھی دنیاوی جاہ و جلال اور دنیاوی نعمتوں میں مستغرق ہوکر بکمال تعصب وہٹ دھرمی قبول حو سے انکاری کرتے رہے۔ پھر ان کا کیا انجام ہوا۔ مشرکین مکہ کو اس انجام بد سے باخبر کرکے سبق سیکھنے کے لئے اس کا ذکر ہوا۔
اس ضمنی بحث کے بعد پھر ان سے خطاب ہے ان ھؤلاء لیقولون بیشک یہ لوگ (کفار مک) یہ کہتے ہیں۔
Ayah 44:35(44:35) ان ہی الا موتتنا الاولی : ان نافیہ۔ ہی ای العاقبۃ اونھایۃ الامر عاقبت یا کسی امر کا انجام۔ اختتام۔ موتتنا مضاف مضاف الیہ۔ مل کر موصوف الاولی صفت پہلی موت۔ ہماری پہلی موت۔
صاحب ضیاء القرآن لکھتے ہیں :۔ الموتہ الولی سے مراد پہلی صورت۔ پہلی موت کے لئے ضروری نہیں ہے کہ کوئی دوسری موت بھی ہو۔ قال الاسنوی فی التمھد الاول فی اللغۃ ابتداء الشیء ثم قد یکون لہ ثان وقد لایکون : اسنوی اپنی کتاب التمہید میں لکھتے ہیں کہ لغت میں ” اول “ شے کی ابتداء کو کہتے ہیں کبھی اس کے بعد دوسرا ہوتا ہے اور کبھی نہیں ہوتا۔
مطلب یہ کہ وہ کہتے ہیں کہ آپ ہمیں قیامت اور عذاب جہنم سے ڈراتے رہتے ہیں۔ پہلی دفعہ جب موت کا پیالہ پئیں گے تو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زندگی کا سلسلہ منقطع ہوجائے گا۔ اور اس کے بعد نہ کوئی زندگی ہوگی نہ کوئی حشر نشر۔
یا موتہ الاولی سے مراد موت کی وہ کیفیت ہے جو اس دنیاوی حیات سے قبل تھی جس کی طرف اشارہ ہے وکنتم امواتا فاحیاکم ثم یمیتکم ثم یحیکم (2:28) درآنحالیکہ تم بےجان تھے تو اس نے تم کو زندہ کیا۔ پھر تم کو مارے گا۔ پھر وہی تم کو زندہ کرے گا۔ اور مطلب ان کے کہنے کا یہ ہے کہ اس دنیاوی زندگی کے خاتمہ پر وہی پہلی موت کی سی کیفیت ہوجائے گی۔ یعنی یہ ساری مخلوق معدوم ہوجائے گی۔ اور کوئی حشر و نشر کا سوال ہی پیدا نہ ہوگا۔ لیکن اول الذکر تاویل زیادہ صحیح ہے۔ قرآن مجید میں اسی سورة میں ہے لایذوقون فیہا الموت الا الموتۃ الاولی (44:56) (جنت میں متقین) پہلی دفعہ مرنے کے سوا موت کا مزہ نہیں چکھیں گے (موت کا ذائقہ بعد از حیات ہی ہوسکتا ہے نہ کہ قبل از موت) ۔
منشرین : اسم مفعول جمع مذکر منصوب منشر واحد انشار (افعال) مصدر ۔ اٹھائے گئے۔ زندہ کئے گئے۔ یعنی دوبارہ زندہ کرکے قبروں سے اٹھائے جانے والے۔ یعنی مرنے کے بعد ہم کو زندہ کرکے دوبارہ نہیں اٹھایا جائے گا۔
Ayah 44:36(44:36) فاتوا بابائنا۔ جملہ جواب شرط ہے اور آئندہ جملہ شرطیہ ہے ای ان کنتم صدقین۔ پس اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو زندہ کرکے لے آؤ۔ اتواب۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ایتاء (افعال) مصدر ۔ ب تعدیہ ہے۔
Ayah 44:37(44:37) اہم خیر ام قوم تبع۔ یعنی قوت و شوکت اور کثرت میں یہ لوگ قوم تبع سے بہتر ہیں یا قوم تبع ان سے بہتر ہے یہ استفہام انکاری تقریری ہے یعنی یہ لوگ قوم تبع سے بہتر نہیں بلکہ قوم تبع ان سے بہتر تھی۔ تبع یمن کے بادشاہوں کا لقب تھا۔ جیسے مصر کے بادشاہوں کا لقب فرعون تھا۔ اور روم کے بادشاہ کا قیصر، فارس کے بادشاہ کسری کہلاتے تھے۔ بعض کے نزدیک آخر ی تبع کا نام تبع اسعد ابوکریب بن میلک کرب تھا۔
والذین من قبلہم۔ اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے اور وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے جیسے عاد وثمود وغیرہ۔
انھم کانوا مجرمین۔ بیشک وہ گنہگار تھے۔ یہ اس علت کا بیان ہے جو تباہ کرنے کی مقتضی تھی۔ ھو تعلیل لاھلاکہم (روح البیان) ۔ مجرمین بمعنی کاملین فی الاجرام والاثام۔ لفظ مجرم اسم فاعل ہے لیکن صفت مشبہ کے معنوں میں استعمال کیا گیا ہے ۔
Ayah 44:38(44:38) وما خلقنا میں ما نافیہ ہے اور وما بینھما میں ما موصولہ ہے۔
لعبین۔ اسم فاعل جمع مذکر لعب ولعب (باب سمع) مصدر۔ کھیلنے والے۔ بےفائدہ کام کرنے والے۔ ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے اسے فضول کھیل کے طور پر نہیں بنایا۔ محض بیکار و عبت پیدا نہیں کیا۔
Ayah 44:39(44:39) ما خلقنھما : ما نافیہ۔ ای ما خلقنا السموت والارض وما بینھما۔ یعنی یہ آسمان و زمین اور ان کے درمیان جملہ مخلوق کو کسی مصلحت اور حکمت کی بنیاد پر پیدا کیا ہے۔
الا بالحق : استثناء مفرغ (جس کا مستثنیٰ منہ مذکور نہ ہو) ۔ حق کے اظہار کے لئے۔ یعنی توحید کو ثابت کرنے اور اطاعت کو واجب کرنے کے لئے تاکہ فرماں بردار کو ثواب اور نافرمان کو عذاب دیا جائے۔
Ayah 44:40(44:40) یوم الفصل : یوم منصوب بوجہ عمل ان، یوم مضاف الفصل مضاف الیہ فیصلے کا دن۔ قیامت کا دن۔ حق کو باطل سے جدا کرنے کا دن۔ الفصل (باب ضرب) مصدر۔ ایک چیز کو دوسری چیز سے علیحدہ کرنا۔ ممیز کرنا۔ فاصلہ کرنا۔
یہاں بمعنی فصل الحق عن الباطل والمحق عن الباطل بالجزاء او فصل الشخص عن احبابہ وذوی قرابتہ۔ یعنی جس دن حق اور باطل میں تمیز کی جائے گی سچوں اور جھوٹوں کو الگ کیا جائے گا۔ یا لوگوں کو اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے جدا کیا جائے گا۔
میثاقھم۔ مضاف مضاف الیہ۔ میقات اسم ظرف زمان۔ مقرر وقت۔ ان کا مقرر وقت۔
اجمعین۔ سب کے سب۔ ہم کی تاکید کے لئے آیا ہے۔ وہ سب کے سب ، ان سب کا۔