بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ یَّلْعَبُوْنَ ۟بَلۡ هُمۡ فِىۡ شَكٍّ يَّلۡعَبُوۡنَ
لیکن یہ لوگ شک میں کھیل رہے ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
But they are in doubt, amusing themselves.
— Saheeh International
Juz 25 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz
بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ یَّلْعَبُوْنَ ۟بَلۡ هُمۡ فِىۡ شَكٍّ يَّلۡعَبُوۡنَ
لیکن یہ لوگ شک میں کھیل رہے ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
But they are in doubt, amusing themselves.
— Saheeh International
Juz 25 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz
Read the whole surah · Surah Ad-Dukhaan
(مگر فی الواقع اِن لوگوں کو یقین نہیں ہے) بلکہ یہ اپنے شک میں پڑے کھیل رہے ہیں
لیکن یہ لوگ شک میں کھیل رہے ہیں
بلکہ وه شک میں پڑے کھیل رہے ہیں
(پھر بھی کافر ایمان نہیں لاتے) بلکہ وہ شک میں پڑے ہوئے کھیل کر رہے ہیں۔
بلکہ وہ شک میں پڑے کھیل رہے ہیں
بلکہ وہ شک میں پڑے کھیل رہے ہیں،
بلکہ وہ ایک شک میں کھیل رہے ہیں۔
مگر وہ اس معاملہ میں شک میں پڑے کھیل رہے ہیں
بلکہ وہ شک میں پڑے ہوئے کھیل رہے ہیں۔
(مگر ان کو یقین پھر بھی نہیں) بلکہ وہ شک میں پڑے کھیل رہے ہیں
لیکن یہ لوگ تو شک میں پڑے کھیل میں لگے ہوئے ہیں۔
لیکن یہ لوگ شک میں پڑے ہوئے کھیل رہے ہیں
مگر یہ لوگ شک میں کھیل رہے ہیں
(But the fact is, they lack certainty) and frolic about in doubt.
But they, being in doubt, are playing around.
But they, being in doubt, are playing around.
Nay! They play about in doubt.
Nay, but they play in doubt.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
But they are in doubt, amusing themselves.
In fact, the unbelievers have doubts because of excessive involvement in worldly affairs.
Nay, they are in doubt, they sport.
Aye! they're in doubt sporting.
Yet they play about in doubt.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 9–16
دھواں ہی دھواں اور کفار فرماتا ہے کہ حق آچکا اور یہ شک شبہ میں اور لہو لعب میں مشغول و مصروف ہیں انہیں اس دن سے آگاہ کر دے جس دن آسمان سے سخت دھواں آئے گا حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ کوفے کی مسجد میں گئے جو کندہ کے دروازوں کے پاس ہے تو دیکھا کہ ایک حضرت اپنے ساتھیوں میں قصہ گوئی کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس آیت میں جس دھوئیں کا ذکر ہے اس سے مراد وہ دھواں ہے جو قیامت کے دن منافقوں کے کانوں اور آنکھوں میں بھر جائے گا اور مومنوں کو مثل زکام کے ہوجائے گا۔ ہم وہاں سے جب واپس لوٹے اور حضرت ابن مسعود سے اس کا ذکر کیا تو آپ لیٹے لیٹے بےتابی کے ساتھ بیٹھ گئے اور فرمانے لگے اللہ عزوجل نے اپنے…
Read the full tafseer →سورة الدُّخَان 10 اس مختصر سے فقرے میں ایک بڑی اہم حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ دہریے ہوں یا مشرکین، ان سب پر وقتاً فوقتاً ایسی ساعتیں آتی رہتی ہیں جب ان کا دل اندر سے کہتا ہے کہ جو کچھ تم سمجھے بیٹھے ہو اس میں کہیں نہ کہیں جھول موجود ہے۔ دہریہ اپنے انکار خدا میں بظاہر خواہ کتنا ہی سخت ہو، کسی نہ کسی وقت اس کا دل یہ شہادت دے گزرتا ہے کہ خاک کے ایک ذرے سے لے کر کہکشانوں تک اور گھاس کی ایک پتی سے لے کر انسان کی تخلیق تک یہ حیرت انگیز، حکمت سے لبریز نظام کسی صانع حکیم کے بغیر وجود میں نہیں آسکتا۔ اسی طرح ایک مشرک اپنے شرک میں خواہ کتنا ہی گہرا ڈوبا ہوا ہو، کبھی نہ کبھی اس کا دل بھی یہ پکار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–9
(آیت) لَيْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ سے مراد جمہور مفسرین کے نزدیک شب قدر ہے جو رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں ہوتی ہے۔ اس رات کو مبارک فرمانا اس لئے ہے کہ اس رات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر بیشمار خیرات و برکات نازل ہوتی ہیں اور قرآن کریم کا شب قدر میں نازل ہونا قرآن کی سورة قدر میں تصریح کے ساتھ آیا ہے۔ (آیت) انا انزلنہ فی لیلة القدر، اس سے ظاہر ہوا کہ یہاں بھی لیلة مبارکہ سے مراد شب قدر ہی ہے۔ اور ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ سے یہ بھی منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جتنی کتابیں ابتداء دنیا سے آخر تک اپنے انبیاء (علیہم السلام) پر نازل فرمائی ہیں وہ سب کی سب ماہ رمضان المبارک ہی کی مختلف تاریخوں…
Read the full tafseer →بل ھم فی شک یلعبون (9) انکار کی اصل علت یعنی یہ انذار وتبشیر ہے تو ایک امر واقعہ جس میں کسی ذی ہوش کے لئے شک و شبہ نہیں ہے لیکن یہ لوگ اپنی خواہشوں کے ایسے غلام ہیں کہ جب تک اس چیز کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں جس سے ان کو آگاہ کیا جا رہا ہے اس وقت تک ماننے والے نہیں ہیں، اس وجہ سے شک میں پڑے ہوئے کھیل رہے اور اس کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ یہ نبی ﷺ کے لئے تسلی ہے کہ زندگی کے معاملات میں جن لوگوں کی روش لا ابالیانہ ہے ان کو قائل کرنا تمہارا کام نہیں۔ یہ لوگ اس وقت قائل ہوں گے جب عذاب کا تازیانہ دیکھ لیں گے تو ان کو ان کے حال پر چھوڑو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
9۔ 1 یعنی حق اور اس کے دلائل کے سامنے آگئے۔ لیکن وہ اس پر ایمان لانے کے بجائے شک میں مبتلا ہیں اور اس شک کے ساتھ استہزاء اور کھیل کود میں پڑے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–11
3: اس آیت کی تفسیر حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے یہ مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو متنبہ کرنے کے لیے انہیں ایک سخت قحط میں مبتلا فرما دیا تھا، اس وقت لوگ بھوک کی شدت کے عالم میں جب آسمان کی طرف دیکھتے تو انہیں آسمان پر دھواں ہی دھواں چھایا ہوا معلوم ہوتا تھا۔ اس آیت میں اس قحط سالی کی پیشین گوئی کی گئی ہے، اور فرمایا گیا ہے کہ کافروں کو سزا کے طور پر ایسے قحط میں مبتلا کیا جائے گا کہ انہیں بھوک کی وجہ سے آسمان پر دھواں ہی دھواں نظر آئے گا، اور اس وقت یہ لوگ وعدہ کریں گے کہ اگر یہ قحط ہم سے دور ہوگیا تو ہم ایمان لے آئیں گے، لیکن جب قحط دور ہوگا تو اپنے وعدے سے پھر کر دوبارہ شرک کی طرف لوٹ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–16
اس حد تک قرآن کے مخاطبین کو متاثر کرنے اور جوش دلانے اور حق کو قبول کرنے پر آمادہ کرنے کے بعد اب روئے سخن اچانک پھرتا ہے۔ اور تصویر کا دوسرا رخ پیش کیا جاتا کہ اس عظیم کتاب کی اس سعی کے بعد ان لوگوں کی حالت کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں ان لوگوں کی جو تصویر کی گئی ہے اسے ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ لیکن یہ لوگ اس قدر سنگ دل ہیں کہ اس قدر سنجیدہ کوششوں کے باوجود وہ ابھی تک اس تحریک کو مذاق ہی سمجھتے ہیں۔ آیت نمبر 9 تا 16 فرماتے ہیں کہ یہ تو اس قدر حکیمانہ اور عظیم الشان نظریہ اور نظام کے مقابلے میں غیر سنجیدہ رویہ اختیار کرتے ہیں اور ان نشانیوں میں شک کرتے ہیں جو ثابت شدہ ہیں لہٰذا ان کا صحیح علاج یہی…
Read the full tafseer →8 یعنی ان واضح نشانات اور دلائل کا اقتضاء تو یہ تھا کہ یہ لوگ مان لیتے، مگر پھر بھی نہیں مانتے، بلکہ وہ توحید وغیرہ عقائد حقہ کی طرف سے شک میں پڑے ہیں اور دنیا کے کھیل کود میں مصروف ہیں۔ آخرت کی فکر نہیں جو حق کو طلب کریں اور اس میں غورو فکر سے کام لیں۔ یہ اس دھوکے میں ہیں کہ ہمیشہ یوں ہی رہنا ہے۔ خدا کے سامنے کبھی پیشی نہیں ہوگی۔ اس لیے نصیحت کی باتوں کو ہنسی کھیل میں اڑا دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 9 { بَلْ ہُمْ فِیْ شَکٍّ یَّلْعَبُوْنَ } ”لیکن یہ لوگ شک میں پڑے ہوئے کھیل رہے ہیں۔“ رسول اللہ ﷺ جب اہل ِمکہ ّکے سامنے قرآن پیش کرتے تھے تو ان میں سے اکثر لوگ اسے کلام اللہ ماننے کے بجائے اس کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کرتے تھے۔ پھر اسی بنا پر وہ حضور ﷺ کا مذاق بھی اڑاتے تھے کہ دیکھیں جی ! یہ کہتے ہیں کہ ان کے پاس آسمان سے وحی آتی ہے۔
Read the full tafseer →7 اس شک کے بھی دو پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اس معاملہ کے مقدمہ میں بھی شک میں مبتلا ہیں۔ محض باپ دادا کی تقلید میں یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ نے ہی بنائے ہیں۔ انہیں اس بات کا بھی پورا یقین نہیں ہے۔ لہذا اس مقدمہ کا نتیجہ بھی ان کے نزدیک مشکوک ہوگیا ہے اور وہ ان سب باتوں کو محض کھیل تماشا ہی سمجھتے ہیں۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ خواہ وہ بڑے زور شور سے اس بات کے مدعی ہیں کہ قیامت اور آخرت وغیرہ کوئی چیز نہیں اور نہ ہی ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا ہے۔ مگر ان کے دلوں کے اندر یہ شک موجود رہتا ہے کہ اگر قیامت کا عقیدہ درست ہوا تو ہماری شامت آجائے گی۔ لہذا وہ دونوں طرف سے شک و…
Read the full tafseer →8۔ (اور اس لیے حق کے واضح دلائل وصریح شواہد کی طرف توجہ والتفات ہی نہیں کرتے) (آیت) ” فی شک “۔ شک کی تنوین تعظیم کے لیے ہے۔ یعنی بڑے شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ توحید وآخرت کی طرف سے عجیب بےیقینی کی حالت میں مبتلا ہیں۔ (آیت) ” یلعبون “۔ یعنی سنجیدگی سے کبھی حقائق پسندی کی طرف آتے ہی نہیں۔ ان اہم ترین حقائق ومسائل کو بس ایک کھیل تماشہ سمجھ رکھا ہے۔ ” رحمت والی رات “۔ (متعلقہ حاشیہ نمبر 1 سورة الدخان) جان جب جسم کے پردہ میں ظاہر ہونے لگتی ہے، بےصورتی جب صورت پکڑنے لگتی ہے، اطلاق جب تعین قبول کرنے لگتا ہے، تو لازمی ہے کہ وہ اپنے لیے بھی وہ تمام قیود و خواص اختیار کرلے، جو جسم، صورت، اور تعین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
آیت نمبر 1 تا 29 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس سے اللہ کی کیا مراد ہے ؟ وہی بہتر جانتا ہے قسم ہے واضح کتاب قرآن کی جو حلال کو حرام سے ممتاز کرنے والی ہے، یقیناً ہم نے اس کو بابرکت رات میں نازل کیا ہے اور وہ شب قدر یا شب نصف شعبان ہے، اسی رات میں قرآن کو ساتویں آسمان پر موجود لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل کیا گیا، بیشک ہم اس کے ذریعہ ڈرانے والے ہیں، اسی رات یعنی شب قدر یا شب نصف شعبان میں ہر محکم کام کا مثلاً روزی، موت وغیرہ جو اس سال اسی جیسی (آئندہ) رات تک ہونے والے ہوتے ہیں فیصلہ کیا جاتا ہے، ہمارے پاس سے حکم صادر ہو کر ہم ہی ہیں رسول بنا کر…
Read the full tafseer →بل ھم فی شک یلعبون (ان کو یقین نہیں) بلکہ وہ شک میں پڑے کھیل رہے ہیں۔ یعنی یہ یقین نہیں کرتے بلکہ قیامت کے آنے یا قرآن کی صداقت میں ان کو شک ہے ‘ قرآن کا مذاق بناتے اور آپ سے استہزاء کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →مگر یہ کفار مکہ قیامت کے قیام کے بارے میں شک میں ہیں اور اس کے استہزاء میں مصروف ہیں۔
Read the full tafseer →بل ھو فی شک یلعبون : اس مختصر سے فقرے میں ایک بڑی حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ دہریے ہوں یا مشرکین ، ان سب پر وقتاً فوقتاً ایسی ساعتیں آتی رہتی ہیں جب ان کا دل اندر سے کہتا ہے کہ جو کچھ تم سمجھے بیٹھے ہو اس میں کہیں نہ کہیں جھول موجود ہے۔ دہریہ اپنے انکار خدا میں بظاہر کتنا ہی سخت ہو، کسی نہ کسی وقت اس کا دل یہ شہادت دے گزرتا ہے کہ خاک کے ایک ذرے سے لے کر کہکشاؤں تک اور گھسا کی ایک پتی سے لے کر انسان کی تخلیق تک ، یہ حیرت انگیز اور حکمت سے لبریز نظام کسی صانع حکیم کے بغیر وجود میں نہیں آسکتا۔ اسی طرح ایک مشرک انسان اپنے شرک میں خواہ کتنا ہی گہرا ڈوبا ہوا ہو، کبھی نہ کبھی اس کا دل بھی پکار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
وہ عالم کا خالق ہے اس لئے جائز نہیں کہ اس کے ساتھ کسی اور کو شریک کیا جائے جو کسی چیز کے پیدا کرنے پر قادر نہیں وہ مردوں کو زندہ کرتا ہے اور زندروں کو مارتا ہے۔ یعنی تمہارا مالک ہے اور تم سے پہلوں کا مالک ہے حضرت محمد ﷺ کو جھٹلانے سے بچو تاکہ تم پر عذاب نازل نہ ہو۔ یعنی جس ایمان اور اقرار کا اظہار کرتے ہیں اس میں یقین پر نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کا خالق ہے وہ یہ بات علم کے بغیر اپنے آباء کی تقلید میں کہتے ہیں پس وہ شک میں مبتلا ہیں اگر وہ یہ وہم کرتے ہیں کہ وہ مومن ہیں تو وہ اپنے دین میں اس چیز کے ساتھ کھیلتے ہیں جو ان کے لئے بغیر حجت کے ظاہر ہوگا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یلعبون کا معنی ہے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
1:۔ عبد بن حمید (رح) نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو اس طرح پڑھا (آیت ) ” انہ ھو السمیع العلیم (6) رب السموت والارض “ یا کہ زیر کے سایہ۔
Read the full tafseer →بَلْ هُمْ فِيْ شَكٍّ [ بلکہ وہ لوگ کسی شک میں ] [يَّلْعَبُوْنَ : کھیلتے ہیں ]
Read the full tafseer →﴿ بَلْ هُمْ فِيْ شَكٍّ يَّلْعَبُوْنَ 009﴾ بلکہ یہ لوگ شک میں پڑے ہوئے کھیل رہے ہیں نہ آخرت کے فکر مند ہیں نہ دلائل میں غور کرتے ہیں اور نہ اپنی جان کو نقصان اور ضرر سے بچانے کا دھیان ہے بچوں کی طرح کھیل کود میں مصروف ہیں۔ انجام کی فکر نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
بیان عظمت کتاب اللہ وبرکات زمانہ نزول قرآن مع دعوت ایمان وبدنصیبی محرومین واشقیاء از سعادت خداوندی : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” حم والکتب المبین ...... الی ....... انا منتقمون “۔ (ربط) گزشتہ سورتک مضمون توحید و رسالت کا اثبات تھا اور اس سے اختلاف واعراض کرنے والے مجرمین کی بدنصیبی کا ذکر کرتے ہوئے ان کے افسوس ناک عبرت ناک انجام کا بیان تھا اور اسی موضوع پر سورت کا مضمون ختم فرما دیا گیا تھا کہ اگر ان واقعات کو سن کر بھی قریش کے لوگ آنحضرت ﷺ پر ایمان نہیں لاتے تو ان کو سوچ لینا چاہئے کہ ایسا ہی عبرت ناک انجام ان کا بھی ہوگا، ساتھ ہی آپ ﷺ کو تسلی دینا بھی مقصود تھا کہ قریش مکہ کی مخالفت ودشمنی…
Read the full tafseer →10:۔ ” بل ھم فی شک یلعبون “ یہ مقدر سے استدراک ہے۔ ای مابقی موضع شبہۃ۔ یعنی ان کو چاہئے تھا کہ مان لیتے کیونکہ مسئلہ اس قدر واضح ہوچکا ہے کہ شک و شبہہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی لیکن وہ پھر بھی نہیں مانتے، بلکہ شک و تردد میں لعب و استہزاء کر رہے ہیں یعنی اس طرح استہزاء کر ہے ہیں گویا انہیں مسئلہ میں ابھی شک ہے۔ ای داخلین فی صورۃ الشک قالہ الشیخ (رح) تعالی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–16
ربط آیات سورۃ کے آغاز میں قرآن پاک کے لیلتہ القدر میں نزول کا بیان تھا۔ اللہ نے نزول قرآن کی غرض وغایت بھی بیان فرمائی ہے اور یہ بھی کہ اس ایک رات میں مستحکم فیصلے کئے جاتے ہیں۔ پھر اللہ نے انذار کا ذکر فرمایا کہ وہ اپنے رسولوں کے ذریعے لوگوں کو ان کے بر انجام سے ڈراتا ہے فرمایا نزول قرآن اس کی خاص مہربانی کا نتیجہ ہے۔ پھر اللہ نے اپنی توحید کا تذکرہ فرمایا کہ وہی سننے والا اور جاننے والا ہے آسمانوں ، زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا وہی پروردگار ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، زندگی اور موت اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ وہ موجودہ لوگوں کا بھی پروردگار ہے اور ان کے پہلے آبائو اجداد…
Read the full tafseer →بَلْ ہُمْ فِيْ شَكٍّ يَّلْعَبُوْنَ 9 شكك الشَّكُّ : اعتدال النّقيضين عند الإنسان وتساويهما، والشَّكُّ : ضرب من الجهل، وهو أخصّ منه، لأنّ الجهل قد يكون عدم العلم بالنّقيضين رأسا، فكلّ شَكٍّ جهل، ولیس کلّ جهل شكّا، قال اللہ تعالی: وَإِنَّهُمْ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مُرِيبٍ [هود/ 110] ( ش ک ک ) الشک کے معنی دونقیضوں کے ذہن میں برابر اور مساوی ہونے کے ہیں ۔ الشک : شک جہالت ہی کی ایک قسم ہے لیکن اس سے اخص ہے کیونکہ جہل میں کبھی سرے سے نقیضیں کا علم ہی نہیں ہوتا ۔ پس ہر شک جھل ہے مگر ہر جہل شک نہیں ہے ۔ قرآن میں ہے : وَإِنَّهُمْ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مُرِيبٍ [هود/ 110] وہ تو اس سے قوی شبہ میں پڑے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–16
فیہا یفرق کل امرا حکیم امرامن عندنا کہ اس رات میں ہر حکمت کی بات بیان اور ظاہر کی جاتی ہے۔ یعنی جو حوادث دنیا میں ظاہر ہونے والے ہوتے ہیں (جیسا کہ کسی کا مرنا ‘ کسی کا امیر ہونا ‘ کسی کا فقیر ہونا ‘ بیمار و تندرست ہونا ‘ قحط و ارزانی کا ہونا ‘ سلطنت و حکومت کا تبدل و تغیر وغیرہ) ان کو بارگاہ قدس سے ملائکہ مدبران عالم پر ظاہر کیا جاتا ہے گو لوح محفوظ میں روز اول لکھے گئے تھے مگر اس رات میں انتظام عالم کے لیے ایک سال کے حوادث ان کے مدبر اور کارکن ملائکہ پر ظاہر کئے جاتے ہیں تاکہ اس کی تعمیل کریں۔ یہ اس رات کی بڑی عظمت و عزت ہے اس کے یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ عالم ناسوت میں جو معاملات ظہور کرنے…
Read the full tafseer →بَلْ ھُمْ فِیْ شَکٍّ یَّلْعَبُوْنَ ۔ (الدخان : 9) (بلکہ وہ شک میں پڑے ہوئے کھیل رہے ہیں۔ ) ایمان نہ لانے کا اصل سبب اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ قریش اور دیگر اہل مکہ کو آنحضرت ﷺ کی دعوت کی مخالفت کے باوجود اپنے طرزعمل کے برحق ہونے کا کامل یقین نہیں۔ کیونکہ وہ بار بار ایسے نازک لمحات سے دوچار ہوتے ہیں۔ جب وہ توحید سے انکار کے باوجود صرف ایک اللہ کو پکارتے ہیں۔ جب بحری سفر میں ان کی کشتیاں بھنور میں پھنس جاتی ہیں تو پھر ان کے دل سے آواز اٹھتی ہے کہ اس صورتحال سے بچانے والا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں، لیکن جیسے ہی کنارے پر پہنچتے ہیں ان کے پرانے خیالات ان پر حملہ آور ہوجاتے ہیں اور وہ ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
فہم القرآن ربط کلام : جس رب نے مبارک رات میں قرآن مجید نازل کیا ہے وہی زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان کو پیدا کرنے والا اور مالک ہے۔ قرآن مجید کا پہلا اور مرکزی پیغام ” اللہ “ کی ذات اور اس کی صفات کی پہچان کروانا ہے۔” اللہ “ ہی سب کا رب ہے اور اسی نے زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کو پیدا کیا ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور وہی کائنات کی موت اور زندگی پر اختیار رکھنے والا ہے۔ وہ تمہارا اور تمہارے آباؤ اجداد کا رب ہے۔ اگر واقعی تم اس پر یقین کرنے والے ہو۔ لیکن اکثر لوگ اپنے رب کی ذات اور اس کی صفات میں شک کرتے ہیں۔ اہل علم کی تقسیم کے مطابق یہ توحید کی…
Read the full tafseer →آیت 9 : بَلْ ہُمْ فِیْ شَکٍّ یَّلْعَبُوْنَ (بلکہ وہ شک میں پڑے کھیل رہے ہیں) ان کا اقرار علم و یقین کی بنیاد نہیں رکھتا بلکہ کھیل اور استہزاء کا ملغوبہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
(7) رب السموات والارض ومابینھا، اہل کوفہ نے ، رب ، پر زیرپڑھی ہے اس کو باری تعالیٰ کے قول، من ربک، پر لوٹاتے ہوئے اور دیگر حضرات نے اس کو پیش دی ہے باری تعالیٰ کے قول ، ھوالسمیع العلیم، پر لوٹا تے ہوئے اور کہا گیا ہے کہ ابتداء کی وجہ سے۔ ، ان کنتم موقنین، کہ اللہ آسمانوں وزمینون کا رب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
1۔ 16۔ حم و الکتب المبین کی تفسیر سورة الزحزف کے شروع میں گزر چکی ہے جس برکت والی رات کا ذکر ان آیتوں میں ہے اگرچہ بعض فسروں نے لکھا ہے کہ یہ برکت والی رات شعبان کی پندرھویں رات ہے لیکن یہ قول شھر رمضان الذی انزل فیہ القران کے مخالف ہے صحیح وہی حضرت عبد اللہ بن عباس کا قول ہے جس کو نسائی 1 ؎ اور حاکم وغیرہ نے معتبر سند سے روایت کیا ہے کہ شب قدر میں ایک دفعہ سارا قرآن لوح محفوظ سے اول آسمان پر نازل ہوا پھر ہر ایک موقع پر ہر ایک آیت حضرت جبرئیل آنحضرت ﷺ کے پاس تشریف لائے۔ صحیح بخاری 2 ؎ میں حضرت عائشہ اور حضرت عبد اللہ بن عباس سے جو روایتیں ہیں۔ ان میں اللہ کے رسول ﷺ نے یہ صاف جتلا دیا ہے کہ شب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
آیت 1 یہ قرآن پر قرآن ہی کی قسم ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کتاب مبین کی قسم کھائی جو ہر اس چیز کے لئے ہے جس کے بیان کی حاجت ہے۔ بیشک وہ اتاری گئی ہے (فی لیلۃ مبرکۃ) یعنی خیر کثیر اور بکت والی رات میں، اس سے مراد لیلۃ القدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ یقیناً اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہترین کلام کو سب راتوں اور دنوں سے افضل رات میں مخلوق میں سے افضل ہستی پر معززین اہل عرب کی زبان میں نازل فرمایا ات کہ اس کے ذریعے سے ان لوگوں کو ڈرائے جنہیں جہالت نے اندھا کر رکھا ہے اور بدبختی ان پر غالب آچکی ہے۔ پس وہ اس کے نور سے روشنی حاصل کریں، اس کی ہدایت کو اختیار کریں اور اس کے پیچھے چلیں، اس طرح انہیں…
Read the full tafseer →12 بےفکری اور لاپرواہی باعث محرومی ۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا " مگر یہ لوگ شک میں پڑے کھیل رہے ہیں "۔ اور حق اور راہ حق کے لئے یہ لوگ سنجیدگی سے غور و فکر کرتے ہی نہیں۔ ان کی تمام تر تگ و دو دنیا اور اس کے متاع فانی و حطامِ زائل ہی کے لئے ہے۔ اسی محور کے گرد یہ لوگ گھومتے ہیں اور مادئہ و معدہ کی فکر ہی ان پر چھائی ہوئی ہے۔ تو پھر ان کو حق و ہدایت کی روشنی اور ایمان و یقین کی لذت اور ٹھنڈک نصیب ہو تو کیسے ؟ کہ اس کا مدارو انحصار تو طلب صادق اور جستجو و جدوجہد ہی پر ہے۔ اور اس بارے اس وحدہ لاشریک کا صاف اور واضح اعلان ہے ۔ { وَالَّذِیْنَ جَاہَدُوْا فِیْنَا لَنَہْدِیَنَّہُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–37
قرآن سچ ہے اور اس کے علاہ سب غلط ہے تشریح : ان تمام آیات میں اللہ کی ان تدابیر کا ذکر کیا گیا ہے جو اس نے کائنات کے لیے مرتب کر رکھی ہیں۔ مثلاً میجر جنرل غلام محمد ملک صاحب اس کی بڑے خوبصورت انداز میں یوں وضاحت کرتے ہیں : فلسفہ تاریخ جس طرح سیاسی واقعات کی تکرار اور حوادث کے بار بار اعادہ سے اصول اور نتائج تک پہنچ کر ایک عام تاریخی قانون بنا لیتا ہے اسی طرح انبیاء علیھم السلام کے سوانح اور تاریخیں بھی اپنے واقعات کے بار بار اعادہ سے خصائصِ نبوت کا اصول قانون ہمارے لیے مرتب کرتی ہے۔ پیغمبرانہ تاریخ کے انہی اصول و قوانین میں سے ایک یہ ہے کہ نبی جب اپنے کمال انسانیت کو پہنچ کر فیضان نبوت کے قبول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
آیات 1 تا 29۔ اسرار ومعارف۔ حم۔ اس کتاب واضح کی قسم ہے یعنی یہ دلائل سے حق کو واضح کردینے والی کتاب اس پر گواہ ہے جسے ہم نے ایک بہت بابرکت شب کو لوح محفوظ سے سماء دنیا پر نازل فرمایا کہ اس کے نزول سے مراد مخلوق کو صحیح راہ عمل دکھانا اور اعمال بد کے بد انجام سے بروقت خبر دینا ہے کہ وہ اپنی راہ متعین کرسکیں لیلہ مبارکہ : لیلہ مبارکہ سے مراد مفسرین کرام سے لیلۃ القدر ہے کہ قرآن کریم کی دوسری آیات سے اس کی تعیین ہوجاتی ہے نیز نزول قران رمضان المبارک ہی میں ہوا اور جو بات نصف شعبان کی شب کے بارے مشہور ہے ، اس کی سندیں ضعیف ہیں اس لیے اکثر علماء نے اسے قبول نہیں کیا ، اور بعض نے اس کی فضیلت اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
ف 1 یعنی یہ جو زبان سے خدا کے خالق ومالک ہونے کا اقرار کرتے ہیں۔ یہ محض کھیل کود کے طور پر ایسا کرتے ہیں۔ انہیں دل سے توحید اور قیامت کا یقین نہیں ہے۔
Read the full tafseer →(44:9) بل ہم فی شک یلعبون : بل اضراب کا ہے یعنی یہ لوگ محض زبانی کلامی اللہ رب العزت کو رب اور خالق ومالک مانتے ہیں حقیقت اس کے الٹ ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ یہ شکوک و شبہات کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ زندگی کو لہو ولعب سمجھ رکھا ہے خدا کو ماننا نہ ماننا ان کے نزدیک چنداں اہمیر نہیں رکھتا۔ یلعبون۔ مضارع معروف جمع مذکر غائب لعب باب سمع مصدر وہ استہزاء کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 16 : لیلۃ مبارکۃ (برکت والی رات) یفرق (وہ جدا کردیتا ہے، الگ کردیتا ہے) امر حکیم ( حکمت بھرا فیصلہ) ارتقب (تو انتظارکر ، راہ دیکھ) دخان ( دھواں) یغشی (وہ ڈھانپ لے گا) معلم ( پڑھایا گیا) عائدون ( وہ لوٹنے والے ہیں) البطشۃ (سخت پکڑ) تشریح : آیت نمبر 1 تا 16 : قرآن کریم میں سات سورتیں وہ ہیں جن کی ابتداء ” حم ‘ ‘ سے کی گئی ہے۔ احادیث میں ان سات سورتوں کے بہت سے فضائل بیان کئے گئے ہیں ۔ ان ہی میں سے یہ پانچویں سورت ہے۔ ” حا۔ میم “ حروف مقطعات میں سے ہیں جن کی تفصیل اس سے پہلی سورتوں میں بیان کردی گئی ہے۔ علماء مفسرین نے بیان کیا ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد کا علم اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–16
علامات قیامت۔ (ف 1) اللہ آسمانوں اور زمین کا مالک اور پروردگار ہے اور جو ان میں اور ان کے درمیان میں عجائب غرائب ہیں مشرکین اگر تم سمجھو اور مانو تو آیات قدرت بہت واضح ہیں، اس کے سوا کوئی لائق معبود نہیں جہان کا کوئی خالق نہیں وہ تو جلاتا ہے اور وہی مارتا ہے دنیا میں مارے گا قیامت کو جلائے گا تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا سب کا پروردگار خالق ہے، اے محبوب ﷺ یہ کفار نہیں مانتے بلکہ یہ توحید ورسول وقیامت وغیرہ کی طرف سے شک میں پڑے ہیں اور دنیا کے کھیل کود میں مصروف ہیں آخرت کی فکر نہیں جو حق کو طلب کریں اور اس میں غوروفکر سے کام لیں، یہ اس دھوکہ میں ہیں ہمیشہ یوں ہی رہنا خدا کے سامنے کبھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
[5] یعنی قیامت کے قریب ایک دھواں اٹھے گا جو تمام لوگوں کو گھیر لے گا۔ نیک شخص پر اس کا اثر خفیف سا ہوگا لیکن کافر کو وہ بیہوش کر دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
ف 1: قرآن کا استدالال توحید کے متعلق یوں ہے کہ وہ خدا جو احیاواماتت پر قادر ہے ۔ جو زندگی کو موت سے بدل سکتا ہے ، اور موت کو زندگی کا لباس پہنا دیتا ہے ۔ وہی عبادت اور پرستش کے لائق ہے اور اسی کو تمہارے آباء علم پوجتے تھے ۔ آج تم کو جو اس کی ذات کے متعلق شکوک و شبہات ہیں ۔ تو وہ محض جہالت پر مبنی ہیں ۔ ورنہ یہ ایک ایسی حقیقت ہے (جس کا) انکار ممکن ہی نہیں ۔ مادہ پرستوں کے پاس اس عقدہ کا جواب کوئی نہ تھا ۔ کہ عام میں زندگی کہاں سے آئی کیونکہ فی نفسہٖ اس چیز میں حیات کے کہیں عناصر نہیں ہیں ۔ یہ اپنے ہر مظہر میں اور اپنی ہر شکل میں بےجان ہے ۔ قرآن حکیم کہتا ہے ۔ کہ اگر اس مشکل کو حل کرنا چاہتے…
Read the full tafseer →(9) اصل بات یہ ہے کہ یہ دین کے منکر شک میں مبتلا ہیں کھیل میں مشغول ہیں۔ یعنی یہ کسی بات کے قائل نہیں جو کچھ کہتے ہیں استہزاء کہتے ہیں خود شک میں مبتلا ہیں اور آپ سے مذاق کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
ف 4۔ آخرت کی فکر نہیں جو حق کو طلب کریں اس میں غور سے کام لیں۔
Read the full tafseer →یہ لوگ تو اپنے شک میں مبتلا ہیں اور اسی میں کھیل رہے ہیں 9 ؎ جو بات فی نفسہ حق ہے اگر اس کو ساری دنیا جھوٹ کہہ دے تو وہ جھوٹ نہیں ہوجائے گی اور اسی طرح ایک بات جھوٹ ہے تو ساری دنیا کے سچ کہہ دینے سے سچ نہیں ہوسکتی۔ انکار کی اصل وجہ کیا ہے ؟ محض شک ہے کہ حق کو شک کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے اور اس طرح بھلا حق کا بھی کچھ نقصان ہے ؟ ہرگز نہیں کیونکہ جو کچھ حق ہے وہ کسی کے شک کرنے سے شک نہیں ہوسکتا اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کوئی معبود نہیں یہ ہے اور اگر ساری دنیا غیر اللہ کی پرستش شروع کردے تو اس سے اللہ میاں کا کیا نقصان ہوگا ؟ اور اگر ساری دنیا نیک ہو کر راہ راست پر آجائے تو اس ذات والا صفات کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–10
لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ 'blessed night', in verse 2 according to majority of the Commentators, refers to 'laylatul Qadr' or the 'Night of Power' which occurs in the last ten nights of the month of Ramadan. During this night Allah sends down countless blessings for his slaves/servants. It has been explicitly mentioned in Surah Al-Qadr, thus: إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ "We sent it (the Qur'an) down in the Night of Qadr". (97:1) This clearly indicates that the phrase 'laylah mubarakah' (blessed night) occurring in the verse refers to the 'Night of Power'. It is narrated in a…
Read the full tafseer →10 In this brief sentence an allusion has been made to an important truth. Even atheists or polytheists do come across occasions when their bean from within says; There is somewhere some weakness in the creed that you have adopted. The atheist may apparently be very firm in his denial of God, his heart at one or the other time does bear the testimony that this wonderful and wise system which extends from the particle of dust to the galaxies and from a blade of grass to the creation of man, could not come into existence without an All-Wise Designer. Likewise, a polytheist may be deeply…
Read the full tafseer →