Ad-Dukhaan 44:10

Ad-Dukhaan · from ayah 10

44:10

فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَاْتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍ ۟ۙفَارۡتَقِبۡ يَوۡمَ تَاۡتِى السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِيۡنٍۙ

تو اس دن کا انتظار کرو کہ آسمان سے صریح دھواں نکلے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then watch for the Day when the sky will bring a visible smoke.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Ad-Dukhaan

All translations of 44:10

اچھا انتظار کرو اُس دن کا جب آسمان صریح دھواں لیے ہوئے آئے گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو اس دن کا انتظار کرو کہ آسمان سے صریح دھواں نکلے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ اس دن کے منتظر رہیں جب کہ آسمان ﻇاہر دھواں ﻻئے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

لہذا اس دن کا انتظار کرو جب آسمان ایک واضح دھواں لے کر نمودار ہوگا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو تم اس دن کے منتظر رہو جب آسمان ایک ظاہر دھواں لائے گا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سو آپ اُس دن کا انتظار کریں جب آسمان واضح دھواں ظاہر کر دے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

سو انتظار کر جس دن آسمان ظاہر دھواں لائے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

سو آپ اس دن کا انتظار کیجئے جب آسمان سے صریح دھواں ظاہر ہوگا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس انتظار کرو اس دن کا جس دن آسمان ایک کھلے ہوئے دھوئیں کے ساتھ نمودار ہوگا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس آپ انتظار کیجئے اس دن کا جب کہ آسمان ایک ایسا ظاہر دھواں لئے ہوئے آئے گا

— مولانا اسحاق مدنی

تو آپ انتظار کیجئے اس روز کا جب آسمان کی طرف ایک نظر آنے والا دھواں پیدا ہو

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو آپ انتظار کیجیے اس دن کا جس دن آسمان لائے گا واضح دھواں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اس دن کا انتظار کرو کہ آسمان سے صاف طور سے دھواں نکلے گا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

So watch for the Day when the sky will come down with a pall of smoke,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, wait for a day when the sky will come up with a visible smoke

— Muhammad Taqi Usmani

So, wait for a day when the sky will come up with a visible smoke

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then wait you for the Day when the sky will bring forth a visible smoke,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

But watch thou (O Muhammad) for the day when the sky will produce visible smoke

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then watch for the Day when the sky will bring a visible smoke.

— Saheeh International

Wait for the day (which will come before the Day of Judgment) when the sky will give out dense smoke

— Muhammad Sarwar

Therefore keep waiting for the day when the heaven shall bring an evident smoke,

— Muhammad Habib Shakir

So wait thou day whereon the heaven will bring forth a manifest smoke:

— Abdul Majid Daryabadi

Then watch thou for the Day that the sky will bring forth a kind of smoke (or mist) plainly visible,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 44:10

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 9–16

دھواں ہی دھواں اور کفار فرماتا ہے کہ حق آچکا اور یہ شک شبہ میں اور لہو لعب میں مشغول و مصروف ہیں انہیں اس دن سے آگاہ کر دے جس دن آسمان سے سخت دھواں آئے گا حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ کوفے کی مسجد میں گئے جو کندہ کے دروازوں کے پاس ہے تو دیکھا کہ ایک حضرت اپنے ساتھیوں میں قصہ گوئی کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس آیت میں جس دھوئیں کا ذکر ہے اس سے مراد وہ دھواں ہے جو قیامت کے دن منافقوں کے کانوں اور آنکھوں میں بھر جائے گا اور مومنوں کو مثل زکام کے ہوجائے گا۔ ہم وہاں سے جب واپس لوٹے اور حضرت ابن مسعود سے اس کا ذکر کیا تو آپ لیٹے لیٹے بےتابی کے ساتھ بیٹھ گئے اور فرمانے لگے اللہ عزوجل نے اپنے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 10–13

سورة الدُّخَان 11 رسول مبین کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ اس کا رسول ہونا اس کی سیرت، اس کے اخلاق و کردار اور اس کے کارناموں سے بالکل عیاں ہے۔ دوسرے یہ کہ اس نے حقیقت کو کھول، کھول کر بیان کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر (اور جب یہ لوگ حق کے واضح ہونے کے باوجود نہیں مانتے) سو آپ (ان کے لئے) اس روز کا انتظار کیجئے کہ آسمان کی طرف سے ایک نظر آنے والا دھواں پیدا ہو جو ان سب لوگوں پر عام ہوجاوے یہ (بھی) ایک درد ناک سزا ہے (جو ان کو ہوگی، اس سے مراد غلہ کا قحط ہے جس میں اہل مکہ رسول اللہ ﷺ کی بددعا سے مبتلا ہوگئے تھے۔ اور یہ بددعا ایک مرتبہ مکہ میں ہوئی تھی اور ایک بار مدینہ میں، اور قاعدہ ہے کہ بھوک کی شدت اور خشکی میں آسمان و زمین کے درمیان آنکھوں کے سامنے دھواں سا نظر آیا کرتا ہے۔ غرض اہل مکہ اپنی جانوں سے تنگ آگئے اور لگے عاجزی کرنے، چناچہ پیشین گوئی کے طور پر فرماتے ہیں کہ اس وقت جناب باری میں عرض…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فادتقب یوم تاتی السمآء بدخان مبین، یغشی الناس ھذا عذاب الیم (11-10) ان کے لئے اسی دن کا اتنظار کرو جس دن آسمان ہر ایک کو نظر آنے والے دھوئیں کے ساتھ نمودار ہوگا جو سب پر چھا جائے گا اور وہ زبان حال سے اعلان کرے گا کہ یہ ایک درد ناک عذاب ہے یہ اس عذاب کی دھمکی ہے جس کا لوگ مطالبہ کر رہے تھے اور جس کو دیکھے بغیر نبی کے انذار کی تصدیق کے لئے تیار نہیں تھے۔ دخان مبین سے کیا مراد ہے یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دخان مبین سے کیا مراد ہے ؟ ذخان کے معنی دھوئیں کے ہیں اور اس کے ساتھ مبین کی فت کا واضح مطلب یہی معلوم ہوتا ہے کہ دھواں ایسا ہوگا کہ ہر کہ دمہ اور ہر چھوٹے بڑے کو بالکل نمایاں نظر آئے گا۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

10۔ 1 یہ کافروں کے لئے تہدید ہے کہ اچھا آپ اس دن کا انتظار فرمائیں جب آسمان پر دھوئیں کا ظہور ہوگا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 5–11

3: اس آیت کی تفسیر حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے یہ مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو متنبہ کرنے کے لیے انہیں ایک سخت قحط میں مبتلا فرما دیا تھا، اس وقت لوگ بھوک کی شدت کے عالم میں جب آسمان کی طرف دیکھتے تو انہیں آسمان پر دھواں ہی دھواں چھایا ہوا معلوم ہوتا تھا۔ اس آیت میں اس قحط سالی کی پیشین گوئی کی گئی ہے، اور فرمایا گیا ہے کہ کافروں کو سزا کے طور پر ایسے قحط میں مبتلا کیا جائے گا کہ انہیں بھوک کی وجہ سے آسمان پر دھواں ہی دھواں نظر آئے گا، اور اس وقت یہ لوگ وعدہ کریں گے کہ اگر یہ قحط ہم سے دور ہوگیا تو ہم ایمان لے آئیں گے، لیکن جب قحط دور ہوگا تو اپنے وعدے سے پھر کر دوبارہ شرک کی طرف لوٹ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 9–16

اس حد تک قرآن کے مخاطبین کو متاثر کرنے اور جوش دلانے اور حق کو قبول کرنے پر آمادہ کرنے کے بعد اب روئے سخن اچانک پھرتا ہے۔ اور تصویر کا دوسرا رخ پیش کیا جاتا کہ اس عظیم کتاب کی اس سعی کے بعد ان لوگوں کی حالت کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں ان لوگوں کی جو تصویر کی گئی ہے اسے ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ لیکن یہ لوگ اس قدر سنگ دل ہیں کہ اس قدر سنجیدہ کوششوں کے باوجود وہ ابھی تک اس تحریک کو مذاق ہی سمجھتے ہیں۔ آیت نمبر 9 تا 16 فرماتے ہیں کہ یہ تو اس قدر حکیمانہ اور عظیم الشان نظریہ اور نظام کے مقابلے میں غیر سنجیدہ رویہ اختیار کرتے ہیں اور ان نشانیوں میں شک کرتے ہیں جو ثابت شدہ ہیں لہٰذا ان کا صحیح علاج یہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 10–11

9 " دھویں " سے یہاں کیا مراد ہے ؟ اس میں سلف کے دو قول ہیں۔ ابن عباس وغیرہ کہتے ہیں کہ قیامت کے قریب ایک دھواں اٹھے گا جو تمام لوگوں کو گھیر لے گا۔ نیک آدمی کو اس کا اثر خفیف پہنچے گا، جس سے زکام سا ہوجائے گا۔ اور کافر و منافق کے دماغ میں گھس کر بیہوش کر دے گا۔ وہ یہاں مراد ہے۔ شاید یہ دھواں وہ ہی سماوات کا مادہ ہو جس کا ذکر " تم استویٰ الٰی السماء وہی دخان " میں ہوا ہے گویا آسمان تجلی تحلیل ہو کر اپنی پہلی حالت کی طرف عود کرنے لگیں گے اور یہ اس کی ابتدا ہوگی۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ اور ابن مسعود زور و شور کے ساتھ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس آیت سے مراد وہ دھواں نہیں جو علامات قیامت میں سے ہے بلکہ قریش…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 10 { فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَاْتِی السَّمَآئُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍ } ”تو آپ انتظار کیجیے اس دن کا جس دن آسمان لائے گا واضح دھواں۔“ اس آیت کے مفہوم کے بارے میں مفسرین ّکے درمیان شدید اختلاف ہے اور یہ اختلاف صحابہ کرام رض کے زمانے میں بھی پایا جاتا تھا۔ حضرت علی ‘ ابن عمر ‘ ابن عباس اور ابوسعید خدری علیہ السلام اور حسن بصری رح جیسے اکابر کی رائے ہے کہ اس سے وہ دھواں مراد ہے جو قیامت سے پہلے نمودار ہوگا۔ ایک حدیث میں حضور ﷺ نے قیامت سے فوراً پہلے نمودار ہونے والی جن دس نشانیوں کا ذکر فرمایا ہے ان میں دھویں دخان کا ذکر بھی ہے۔ اس کے برعکس حضرت عبداللہ بن مسعود رض کی بڑی شدت کے ساتھ یہ رائے ہے کہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

8 قریش پر قحط کا عذاب :۔ آیت نمبر 10 سے نمبر 16 تک تفسیر میں مفسرین میں اختلاف ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ بڑے زور شور اور یقین کے ساتھ ان آیات کی تفسیر درج ذیل الفاظ میں پیش کرتے ہیں : عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ قریش نے رسول اللہ کی بات نہ مانی اور شرارتوں پر کمر باندھی تو آپ نے یوں بددعا فرمائی اے اللہ ! ان پر سیدنا یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ کی طرح سات سال کا قحط بھیج کر میری مدد فرما۔ آخر ان پر ایسا سخت قحط نازل ہوا کہ وہ ہڈیاں اور مردار تک کھانے لگے اور نوبت بانیجا رسید کہ ان میں سے اگر کوئی شخص بھوک کی شدت میں آسمان کی طرف دیکھتا تو ایک دھواں سا دکھائی دیتا۔ اس وقت ابو سفیان آپ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 10–11

9۔ روایات متفق ہیں کہ اس مصیبت سے مراد وہ شدید قحط ہے جو اہل مکہ پر پڑنے والا تھا اور کچھ روز بعد پڑا، ہوا کہ جب ہجرت کے بعد بھی اہل مکہ کا عناد کم نہ ہوا بلکہ بڑھتا گیا تو عاجز آکر رسول اللہ ﷺ انکے حق میں بددعاء کی، اثر کا ظہور یوں ہوا کہ ادھر بارش رکی اور ادھر یمامہ (علاقہ یمن) کے رئیس ثمامہ نے جواب مسلمان ہوچکے تھے غلہ بھیجنا بند کردیا، مکہ کی غلہ کی منڈی یمامہ ہی سے تھی، اب قحط پورا ہوگیا۔ ذلک حین دعا رسول اللہ ﷺ علی قریش ربہ تبارک وتعالیٰ ان یاخذھم بسنین کسنی یوسف فاخذوا بالمجاعۃ (ابن جریر) حضرت عبداللہ بن مسعود صحابی ؓ نے بڑے زور وتاکید کے ساتھ آیت کے یہ معنی بیان کئے ہیں۔ قحط اتنا سخت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–29

آیت نمبر 1 تا 29 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس سے اللہ کی کیا مراد ہے ؟ وہی بہتر جانتا ہے قسم ہے واضح کتاب قرآن کی جو حلال کو حرام سے ممتاز کرنے والی ہے، یقیناً ہم نے اس کو بابرکت رات میں نازل کیا ہے اور وہ شب قدر یا شب نصف شعبان ہے، اسی رات میں قرآن کو ساتویں آسمان پر موجود لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل کیا گیا، بیشک ہم اس کے ذریعہ ڈرانے والے ہیں، اسی رات یعنی شب قدر یا شب نصف شعبان میں ہر محکم کام کا مثلاً روزی، موت وغیرہ جو اس سال اسی جیسی (آئندہ) رات تک ہونے والے ہوتے ہیں فیصلہ کیا جاتا ہے، ہمارے پاس سے حکم صادر ہو کر ہم ہی ہیں رسول بنا کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فارتقب یوم تاتی السماء بدخان مبین۔ اس دن کا جب آسمان کی طرف نظر آنے والا دھواں پیدا ہوگا ‘

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اب آپ اے نبی کریم ان کے لیے اس دن کے عذاب کا انتظار کیجیے کہ آسمان و زمین کے درمیان ایک دھواں پیدا ہو۔ شان نزول : فَارْتَـقِبْ يَوْمَ تَاْتِي السَّمَاۗءُ (الخ) امام بخاری نے حضرت ابن مسعود سے روایت کیا ہے کہ جب قریش رسول اکرم پر زیادتیاں کیں تو آپ نے ان کے لیے قحط سالی کی بددعا کی جیسا کہ یوسف ؑ کے زمانہ میں قحط سالی ہوئی تھی۔ چناچہ ان پر ایسا قحط آیا کہ انہوں نے ہڈیاں تک کھالیں اور آدمی جب اس حالت میں آسمان کی طرف دیکھتا تھا تو اسے اپنے اور آسمان کے درمیان بھوک کی شدت کی وجہ سے دھواں سا نظر آتا تھا اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی یہ آیات نازل فرمائی۔ چناچہ اس کے بعد یہ لوگ رسول اکرم کی خدمت…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 10–11

فازتقب یوم تاتی السمآء بدخان مبین…: اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دلائی ہے کہ اگر یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو آپ پریشان نہ ہوں، بلکہ اس دن کا انتظار کریں جس میں آسمان کی جانب سے ایک واضح دھواں ان لوگوں کو ڈھانپ لے گا جو نہایت تکلیف دہ عذاب ہوگا۔ واضح ہونے اور ڈھانپ لینے کا مطلب یہ ہے کہ وہ خییالی دھواں نہیں ہوگا بلکہ حقیقی ہوگا اور سب لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ ”یوم“ سے مراد وہ وقت ہے جس میں دھواں رہا، کیونکہ وہ دھواں ایک دن تو نہیں رہا، بلکہ کئی دن اور مہینے رہا۔ اس دھوئیں سے کیا مراد ہے ؟ ظاہر ہے اس سے قیامت کے دن کا دھواں مراد نہیں ہوسکتا، کیونکہ ان آیات میں کفار کو اسے دور کرنے کی دعا کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ارتقب کا معنی ہے اے محمد ﷺ آپ ان کفار کے ساتھ انتظار کریں جس آسمان پر واضح دھواں ہوگا، یہ قتادہ کا قول ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے ان کی بات یاد ررکھیے تاکہ جس روز آسمان پر واضح دھواں ہوگا اس روز آپ ان پر گواہی دیں اسی وجہ سے نگہبان کو رقیب کہتے ہیں دخان کے بارے میں تین اقوال ہیں۔ 1 ۔ یہ قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ابھی ظاہر نہیں ہوا یہ زمین میں چالیس روز تک رہے گا جو زمین و آسمان کے درمیانی حصہ کو بھر دے گا جہاں تک مومن کا تعلق ہے تو اسے اس قدر تکلیف ہوگی جس قدر زکام ہوتا ہے جہاں تک کافر اور فاجر کا تعلق ہے تو وہ دھواں ان کے ناکوں میں داخل ہوگا اور ان کے کانوں میں سوراخ کر دے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 10–15

بطشۃ الکبری کا تذکرۃ : 1:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فارتقب “ سے مراد ہے انتظار کر۔ 2:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابی عبیدہ (رح) کے طریق سے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ دخان والی نشانی گزر چکی ہے۔ 3:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابی عبیدہ (رح) وابی الاحوص کے طریق سے عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ دھواں وہ بھوک تھی جو قریش کو پہنچی یہاں تک کہ ہر ایک ان میں بھوک کی وجہ سے آسمان کو نہ دیکھ سکتا تھا۔ 4:۔ ابن مردویہ (رح) نے عتبہ بن عبیداللہ بن عتبہ بن مسعود ؓ کے طریق سے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ دھواں والی نشانی گزر چکی ہے کہ لوگوں کو سخت بھوک پہنچی تھی یہاں تک کہ وہ اپنے آسمان کے درمیان…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَارْتَـقِبْ [پس تو انتظار کر ] يَوْمَ [ اس دن کا (کہ ) ] تَاْتِي السَّمَاۗءُ [ لائے گا آسمان ] بِدُخَانٍ مُّبِيْنٍ [ ایک واضح دھواں ] نوٹ۔ 2 آیات ۔ 10 تا 16 کی تفسیر میں اختلاف ہے ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی رائے ہے کہ جب قریش کے لوگ اسلام قبول کرنے سے انکار اور رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کرتے ہی چلے گئے تو مکہ میں شدید قحط پڑا کہ لوگ ہڈیاں اور چمڑا تک کھا گئے ، اس زمانے میں حالت یہ تھی کہ جو شخص آسمان کی طرف دیکھتا تھا تو اسے بھوک کی شدت میں بس دھواں ہی دھواں نظر آتا تھا ۔ آخر کار ابوسفیان نے حضور ﷺ سے دعا کی درخواست کی کہ اللہ اس مصیبت کو دور کردے ۔ یہی زمانہ تھا جب قریش کے لوگ کہنے لگے تھے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 10–16

اس دن کا انتظار کیجیے جبکہ آسمان کی طرف سے لوگوں پر دھواں چھا جائے گا ہم بڑی پکڑ پکڑیں گے بیشک ہم انتقام لینے والے ہیں یہ سات آیات کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں فرمایا آپ اس دن کا انتظار کیجیے جس میں آسمان کی طرف ایک دھواں نظر آئے گا جو لوگوں پر چھا جائے گا۔ اسے دخان مبین کہتے ہیں۔ دخان سے کیا مراد ہے ؟ اس بارے میں ایک قول یہ ہے کہ یہ دھواں قیامت کی نشانیوں میں سے ہوگا جب ظاہر ہوگا تو زمین میں چالیس دن رہے گا اور آسمان اور زمین کے درمیان کو بھر دے گا۔ اس کی وجہ سے اہل ایمان کی کیفیت زکام جیسی ہوجائے گی اور کفار اور فجار کی ناکوں میں گھس جائے گا اور سانس لینے میں انہیں سخت تکلیف ہوگی۔ حضرت علی اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–29

بیان عظمت کتاب اللہ وبرکات زمانہ نزول قرآن مع دعوت ایمان وبدنصیبی محرومین واشقیاء از سعادت خداوندی : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” حم والکتب المبین ...... الی ....... انا منتقمون “۔ (ربط) گزشتہ سورتک مضمون توحید و رسالت کا اثبات تھا اور اس سے اختلاف واعراض کرنے والے مجرمین کی بدنصیبی کا ذکر کرتے ہوئے ان کے افسوس ناک عبرت ناک انجام کا بیان تھا اور اسی موضوع پر سورت کا مضمون ختم فرما دیا گیا تھا کہ اگر ان واقعات کو سن کر بھی قریش کے لوگ آنحضرت ﷺ پر ایمان نہیں لاتے تو ان کو سوچ لینا چاہئے کہ ایسا ہی عبرت ناک انجام ان کا بھی ہوگا، ساتھ ہی آپ ﷺ کو تسلی دینا بھی مقصود تھا کہ قریش مکہ کی مخالفت ودشمنی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

11:۔ ” فارتقب “ یہ تخویف دنیوی ہے۔ دخان سے قحط مراد ہے کیونکہ بھوکے آدمی کو شدت جوع سے فضا میں بادل اور آنکھوں کے سامنے ہوائیاں اڑتی نظر آتی ہیں۔ جب مشرکین قریش عناد و تمرد میں حد سے بڑھ گئے تو نبی اکرم ﷺ نے ان پر بد دعا کی کہ اے اللہ ! ان پر یوسف (علیہ السلام) کے زمانے کے قحط کی طرح قحط مسلط فما دے تو ان پر ایسا شدید قحط ڈالا گیا کہ وہ مردار تک کھانے پر مجبور ہوگئے۔ یعنی اگر وہ نہیں مانتے تو آپ اس وقت کا انتظار فرمائی جب ان پر سخت قحط مسلط کردیا جائے گا۔ قال عبداللہ انما کان ھذا لان قریشا لما استعصت علی النبی ﷺ دعا علیہم بسنین کسنی یوسف، فاصابہم قحط وجھد حتی اکلوا العظام، فجعل الرجل ینظر الی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 9–16

ربط آیات سورۃ کے آغاز میں قرآن پاک کے لیلتہ القدر میں نزول کا بیان تھا۔ اللہ نے نزول قرآن کی غرض وغایت بھی بیان فرمائی ہے اور یہ بھی کہ اس ایک رات میں مستحکم فیصلے کئے جاتے ہیں۔ پھر اللہ نے انذار کا ذکر فرمایا کہ وہ اپنے رسولوں کے ذریعے لوگوں کو ان کے بر انجام سے ڈراتا ہے فرمایا نزول قرآن اس کی خاص مہربانی کا نتیجہ ہے۔ پھر اللہ نے اپنی توحید کا تذکرہ فرمایا کہ وہی سننے والا اور جاننے والا ہے آسمانوں ، زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا وہی پروردگار ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، زندگی اور موت اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ وہ موجودہ لوگوں کا بھی پروردگار ہے اور ان کے پہلے آبائو اجداد…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَارْتَـقِبْ يَوْمَ تَاْتِي السَّمَاۗءُ بِدُخَانٍ مُّبِيْنٍ۝ 10 ۙ رقیب والرَّقِيبُ : الحافظ، وذلک إمّا لمراعاته رقبة المحفوظ، وإما لرفعه رقبته، قال تعالی: وَارْتَقِبُوا إِنِّي مَعَكُمْ رَقِيبٌ [هود/ 93] ( ر ق ب ) الرقبۃ اسی سے نگران کو رقیب کہا جاتا ہے یا تو اس لئے کہ وہ شخص کی گردن پر نظر رکھتا ہے جس کی نگرانی منظو رہوتی ہے اور یا اس لئے ک وہ نگرانی کے لئے بار بار اپنی گردن اٹھا کر دیکھتا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَارْتَقِبُوا إِنِّي مَعَكُمْ رَقِيبٌ [هود/ 93] تم بھی منتظر رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں ۔ أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه : أَتِيّ وأَتَاوِيّ «5» ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 4–16

فیہا یفرق کل امرا حکیم امرامن عندنا کہ اس رات میں ہر حکمت کی بات بیان اور ظاہر کی جاتی ہے۔ یعنی جو حوادث دنیا میں ظاہر ہونے والے ہوتے ہیں (جیسا کہ کسی کا مرنا ‘ کسی کا امیر ہونا ‘ کسی کا فقیر ہونا ‘ بیمار و تندرست ہونا ‘ قحط و ارزانی کا ہونا ‘ سلطنت و حکومت کا تبدل و تغیر وغیرہ) ان کو بارگاہ قدس سے ملائکہ مدبران عالم پر ظاہر کیا جاتا ہے گو لوح محفوظ میں روز اول لکھے گئے تھے مگر اس رات میں انتظام عالم کے لیے ایک سال کے حوادث ان کے مدبر اور کارکن ملائکہ پر ظاہر کئے جاتے ہیں تاکہ اس کی تعمیل کریں۔ یہ اس رات کی بڑی عظمت و عزت ہے اس کے یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ عالم ناسوت میں جو معاملات ظہور کرنے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 10–11

فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَاْتِی السَّمَآئُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍ ۔ یَّغْشَی النَّاسَ ط ھٰذَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ (الدخان : 10، 11) (پس انتظار کرو اس دن کا جس دن آسمان صریح دھواں لیے ہوئے آئے گا۔ اور وہ لوگوں پر چھا جائے گا، یہ ایک دردناک عذاب ہے۔ ) مخالفین کو تہدید انسانوں کی ہدایت کے لیے نبی کریم ﷺ جیسے عظیم رسول کی تشریف آوری اور قرآن کریم جیسی بلند مرتبت کتاب کا نزول اور وہ بھی ایک ایسی رات میں جس میں تمام ایسے امور کا فیصلہ ہوتا ہے جو کائنات کی قسمت بنانے اور بگاڑنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں جس سے انسانوں کی قسمتیں بنتی اور بگڑتی ہیں، جس میں وہ امور طے پاتے ہیں جس سے قوموں کا عروج وزوال وابستہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 10–16

فہم القرآن ربط کلام : رب تعالیٰ کی ذات اور صفات میں شک کرنے والے لوگ قرآن مجید کو شغل کے طور پر لیتے ہیں اس پر ان لوگوں کو انتباہ کیا جاتا ہے۔ جو لوگ اپنے رب کو رب ماننے کے لیے تیار نہیں اور قرآن مجید کی دعوت کو کھیل کود سمجھتے ہیں انہیں ایک بار پھر انتباہ کیا جاتا ہے کہ وہ اس وقت کا انتظار کریں جب آسمان دھویں سے بھر جائے گا اور لوگوں کو بری طرح ڈھانپ لے گا۔ اس دن شک کرنے والوں کو اذیت ناک عذاب ہوگا۔ مجرم اپنے رب کے حضور فریاد پہ فریاد کریں گے کہ اے ہمارے رب ! اس عذاب کو ہم سے دور کردے یقیناً ہم تجھ پر ایمان لائیں گے۔ لیکن اس وقت نصیحت حاصل کرنے کا موقع گزرچکا ہوگا۔ کیونکہ اس سے پہلے رسول نے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قیامت کے قریب والا دھواں : آیت 10 : فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَاْتِی السَّمَآئُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍ (پس آپ اس دن کا انتظار کریں کہ آسمان کی طرف نظر آنے والا دھواں پیدا ہو) فارتقب کا معنی پس آپ انتظار کریں۔ : فارتقب کا مفعول یوم تأتی ہے۔ قیامت سے پہلے آسمان کی طرف سے ایک دھواں چھا جائے گا۔ وہ کفار کے کانوں میں گھس کر اس طرح کر دے گا کہ ہر ایک کا سر بکری کے بھونے ہوئے سر کی طرح ہوگا۔ مومن کو اس سے صرف زکام پیش آئے گا اور پوری زمین پر یہ حال ہوگا۔ جیسا کہ وہ ایک گھر ہے جس میں آگ جلائی گئی ہے اور دھواں اٹھ رہا ہے گھر کی دیواروں میں کوئی روشن دان دھواں خارج کرنے والا نہیں۔ ایک قول یہ ہے : جب قریش نے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–16

1۔ 16۔ حم و الکتب المبین کی تفسیر سورة الزحزف کے شروع میں گزر چکی ہے جس برکت والی رات کا ذکر ان آیتوں میں ہے اگرچہ بعض فسروں نے لکھا ہے کہ یہ برکت والی رات شعبان کی پندرھویں رات ہے لیکن یہ قول شھر رمضان الذی انزل فیہ القران کے مخالف ہے صحیح وہی حضرت عبد اللہ بن عباس کا قول ہے جس کو نسائی 1 ؎ اور حاکم وغیرہ نے معتبر سند سے روایت کیا ہے کہ شب قدر میں ایک دفعہ سارا قرآن لوح محفوظ سے اول آسمان پر نازل ہوا پھر ہر ایک موقع پر ہر ایک آیت حضرت جبرئیل آنحضرت ﷺ کے پاس تشریف لائے۔ صحیح بخاری 2 ؎ میں حضرت عائشہ اور حضرت عبد اللہ بن عباس سے جو روایتیں ہیں۔ ان میں اللہ کے رسول ﷺ نے یہ صاف جتلا دیا ہے کہ شب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–16

آیت 1 یہ قرآن پر قرآن ہی کی قسم ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کتاب مبین کی قسم کھائی جو ہر اس چیز کے لئے ہے جس کے بیان کی حاجت ہے۔ بیشک وہ اتاری گئی ہے (فی لیلۃ مبرکۃ) یعنی خیر کثیر اور بکت والی رات میں، اس سے مراد لیلۃ القدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ یقیناً اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہترین کلام کو سب راتوں اور دنوں سے افضل رات میں مخلوق میں سے افضل ہستی پر معززین اہل عرب کی زبان میں نازل فرمایا ات کہ اس کے ذریعے سے ان لوگوں کو ڈرائے جنہیں جہالت نے اندھا کر رکھا ہے اور بدبختی ان پر غالب آچکی ہے۔ پس وہ اس کے نور سے روشنی حاصل کریں، اس کی ہدایت کو اختیار کریں اور اس کے پیچھے چلیں، اس طرح انہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

13 دخان مبین سے مقصود و مراد ؟ : اس دھوئیں سے مراد کون سا دھواں ہے ؟ دنیا کا یا قرب قیامت والا وہ دھواں جو قیامت کی آخری نشانیوں میں سے ہوگا ؟ اس بارے حضرات صحابہ کرام ۔ رضوان اللہ علیھم اجمعین ۔ سے دونوں قول مروی و منقول ہیں۔ اسی لئے جمہور مفسرین کرام کے یہاں اس مقام پر یہ دونوں قول پائے جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ اس عذاب الیم سے مراد قحط کا وہ عذاب ہے جو مشرکین مکہ پر آنحضرت ﷺ کی بد دعا کے نتیجے میں مسلط ہوا تھا۔ جس کی بنا پر وہ لوگ ہڈیاں چمڑے اور مردار تک کھا گئے اور بھوک کی شدت کی بنا پر ان کو اپنی آنکھوں کے سامنے دھواں ہی دھواں نظر آتا تھا۔ آخر کار ابو سفیان نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–37

قرآن سچ ہے اور اس کے علاہ سب غلط ہے تشریح : ان تمام آیات میں اللہ کی ان تدابیر کا ذکر کیا گیا ہے جو اس نے کائنات کے لیے مرتب کر رکھی ہیں۔ مثلاً میجر جنرل غلام محمد ملک صاحب اس کی بڑے خوبصورت انداز میں یوں وضاحت کرتے ہیں : فلسفہ تاریخ جس طرح سیاسی واقعات کی تکرار اور حوادث کے بار بار اعادہ سے اصول اور نتائج تک پہنچ کر ایک عام تاریخی قانون بنا لیتا ہے اسی طرح انبیاء علیھم السلام کے سوانح اور تاریخیں بھی اپنے واقعات کے بار بار اعادہ سے خصائصِ نبوت کا اصول قانون ہمارے لیے مرتب کرتی ہے۔ پیغمبرانہ تاریخ کے انہی اصول و قوانین میں سے ایک یہ ہے کہ نبی جب اپنے کمال انسانیت کو پہنچ کر فیضان نبوت کے قبول…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–29

آیات 1 تا 29۔ اسرار ومعارف۔ حم۔ اس کتاب واضح کی قسم ہے یعنی یہ دلائل سے حق کو واضح کردینے والی کتاب اس پر گواہ ہے جسے ہم نے ایک بہت بابرکت شب کو لوح محفوظ سے سماء دنیا پر نازل فرمایا کہ اس کے نزول سے مراد مخلوق کو صحیح راہ عمل دکھانا اور اعمال بد کے بد انجام سے بروقت خبر دینا ہے کہ وہ اپنی راہ متعین کرسکیں لیلہ مبارکہ : لیلہ مبارکہ سے مراد مفسرین کرام سے لیلۃ القدر ہے کہ قرآن کریم کی دوسری آیات سے اس کی تعیین ہوجاتی ہے نیز نزول قران رمضان المبارک ہی میں ہوا اور جو بات نصف شعبان کی شب کے بارے مشہور ہے ، اس کی سندیں ضعیف ہیں اس لیے اکثر علماء نے اسے قبول نہیں کیا ، اور بعض نے اس کی فضیلت اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 10–11

ف 2 حضرت حذیفہ ؓ کی روایت میں قیامت کی دس نشانیوں میں سے ایک نشانی دھواں بتائی گئی ہے اور حضرت ابن عباس ؓ نے یہی دھواں مراد لیا ہے جو قیامت کے قریب ظاہر ہوگا بہت سے صحابہ ؓ وتابعین کا بھی یہی قول ہے اور حافظ ابن کثیر ؓ نے اسی کو راجح قرار دیا ہے۔ ( ایضا جامع) لیکن صحیح یہ ہے کہ اس سے مراد اس قحط کا دھواں ہے جو آنحضرت ﷺ کی بد دعا سے قریش پر آیا تھا کیونکہ وہی اس آیت کی شان نزول ہے جیسا کہ صحیحین میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ جب قریش کی سرکشی حد سے بڑھ گئی تو آنحضرت ﷺ نے دعا فرمائی :” اے اللہ ! ان کے مقابلہ میں میری مدد فرما اور ان پر سات برس کا قحط نازل کر جیسا کہ قحط تو نے یوسف…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(44:10) فارتقب امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ ارتقاب (افتعال) مصدر۔ انتظار کرنا۔ راہ دیکھنا۔ تو انتظار کر۔ خطاب نبی کریم ﷺ سے ہے۔ یوم : روز، دن ۔ منصوب بوجہ مفعول فیہ۔ یاتی۔ مضارع واحد مؤنث غائب، اتیان (باب ضرب) وہ آئے گی۔ ب تعدیہ کے صلہ کے ساتھ تاتی ب ۔ وہ لائے گی۔ مؤنث کا صیغہ سماء کے لئے استعمال ہوا ہے۔ دخان مبین : موصوف و صفت، صاف و ظاہر دھواں۔ صریح دھواں۔ آسمان صاف و ظاہر دھواں لائے گا۔ یعنی آسمان پر صاف نظر آنے والا دھواں ظاہر ہوگا ۔ (یہ دھواں قیامت کی علامات میں سے ایک علامت ہے) ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–16

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 16 : لیلۃ مبارکۃ (برکت والی رات) یفرق (وہ جدا کردیتا ہے، الگ کردیتا ہے) امر حکیم ( حکمت بھرا فیصلہ) ارتقب (تو انتظارکر ، راہ دیکھ) دخان ( دھواں) یغشی (وہ ڈھانپ لے گا) معلم ( پڑھایا گیا) عائدون ( وہ لوٹنے والے ہیں) البطشۃ (سخت پکڑ) تشریح : آیت نمبر 1 تا 16 : قرآن کریم میں سات سورتیں وہ ہیں جن کی ابتداء ” حم ‘ ‘ سے کی گئی ہے۔ احادیث میں ان سات سورتوں کے بہت سے فضائل بیان کئے گئے ہیں ۔ ان ہی میں سے یہ پانچویں سورت ہے۔ ” حا۔ میم “ حروف مقطعات میں سے ہیں جن کی تفصیل اس سے پہلی سورتوں میں بیان کردی گئی ہے۔ علماء مفسرین نے بیان کیا ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد کا علم اللہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 7–16

علامات قیامت۔ (ف 1) اللہ آسمانوں اور زمین کا مالک اور پروردگار ہے اور جو ان میں اور ان کے درمیان میں عجائب غرائب ہیں مشرکین اگر تم سمجھو اور مانو تو آیات قدرت بہت واضح ہیں، اس کے سوا کوئی لائق معبود نہیں جہان کا کوئی خالق نہیں وہ تو جلاتا ہے اور وہی مارتا ہے دنیا میں مارے گا قیامت کو جلائے گا تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا سب کا پروردگار خالق ہے، اے محبوب ﷺ یہ کفار نہیں مانتے بلکہ یہ توحید ورسول وقیامت وغیرہ کی طرف سے شک میں پڑے ہیں اور دنیا کے کھیل کود میں مصروف ہیں آخرت کی فکر نہیں جو حق کو طلب کریں اور اس میں غوروفکر سے کام لیں، یہ اس دھوکہ میں ہیں ہمیشہ یوں ہی رہنا خدا کے سامنے کبھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 7–11

[5] یعنی قیامت کے قریب ایک دھواں اٹھے گا جو تمام لوگوں کو گھیر لے گا۔ نیک شخص پر اس کا اثر خفیف سا ہوگا لیکن کافر کو وہ بیہوش کر دے گا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 8–10

ف 1: قرآن کا استدالال توحید کے متعلق یوں ہے کہ وہ خدا جو احیاواماتت پر قادر ہے ۔ جو زندگی کو موت سے بدل سکتا ہے ، اور موت کو زندگی کا لباس پہنا دیتا ہے ۔ وہی عبادت اور پرستش کے لائق ہے اور اسی کو تمہارے آباء علم پوجتے تھے ۔ آج تم کو جو اس کی ذات کے متعلق شکوک و شبہات ہیں ۔ تو وہ محض جہالت پر مبنی ہیں ۔ ورنہ یہ ایک ایسی حقیقت ہے (جس کا) انکار ممکن ہی نہیں ۔ مادہ پرستوں کے پاس اس عقدہ کا جواب کوئی نہ تھا ۔ کہ عام میں زندگی کہاں سے آئی کیونکہ فی نفسہٖ اس چیز میں حیات کے کہیں عناصر نہیں ہیں ۔ یہ اپنے ہر مظہر میں اور اپنی ہر شکل میں بےجان ہے ۔ قرآن حکیم کہتا ہے ۔ کہ اگر اس مشکل کو حل کرنا چاہتے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(10) سواے پیغمبر آپ ان کے لئے ایک ایسے دن کا انتظار کیجئے جس دن آسمان ایک صاف اور ظاہر دھواں لے آئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 10–11

ف 5۔ مراد اس سے غلہ کا قحط ہے جس میں اہل مکہ مبتلا ہوئے تھے، جس کا حقیقی سبب بد دعا تھی رسول اللہ ﷺ کی، جب یہ لوگ عناد میں زیادہ بڑھ گئے تھے اور یہ بد دعا ایک بار مکہ میں ہوئی تھی اور ایک بار مدینہ میں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس دن کا انتظار کرو جب آسمان کو ایک دھوئیں کی شکل میں تبدیل کردیا جائے گا 01 ؎ نبی اعظم وآخر ﷺ سے پیش تر جتنے نبی ورسول آئے وہ کسی ایک بستی ، علاقہ اور قوم کی طرف آئے اس کی شہادت کتاب وسنت میں واضح اور اظہر من الشمس ہے اس کی وضاحت کی زیادہ ضرورت نہیں اگر کسی صاحب کو تسلی کرنا ہے تو وہ سورة الاعراف ، سورة ہود ، سورة الشعراء کا مطالعہ کرکے دیکھ لے جہاں گزشتہ انبیاء ورسل کا ذکر کیا گیا ہے۔ بہرحال ان کی قوم نے جب ان کی تعلیمات کو جھٹلادیا اور پھر جھٹلاتے ہی چلے گئے تو انجام کار اس نبی کو اللہ نے حکم دیا کہ اس قوم کو خبردار کردو کہ جو ڈھیل تم کو دی گئی اس کی مدت ختم ہونے والی ہے اور اتنی مدت کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 3–10

لَيْلَةٍ مُّبَارَ‌كَةٍ 'blessed night', in verse 2 according to majority of the Commentators, refers to 'laylatul Qadr' or the 'Night of Power' which occurs in the last ten nights of the month of Ramadan. During this night Allah sends down countless blessings for his slaves/servants. It has been explicitly mentioned in Surah Al-Qadr, thus: إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ‌ "We sent it (the Qur'an) down in the Night of Qadr". (97:1) This clearly indicates that the phrase 'laylah mubarakah' (blessed night) occurring in the verse refers to the 'Night of Power'. It is narrated in a…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 10–13

11 Rasul-i-mubin has two meanings: (1) His being a Messenger is quite evident from his character, his morals and his works; and (2) he has made every effort to make the truth plain and clear.

Read the full tafseer →