Explained with ayahs 9–16
دھواں ہی دھواں اور کفار
فرماتا ہے کہ حق آچکا اور یہ شک شبہ میں اور لہو لعب میں مشغول و مصروف ہیں انہیں اس دن سے آگاہ کر دے جس دن آسمان سے سخت دھواں آئے گا حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ کوفے کی مسجد میں گئے جو کندہ کے دروازوں کے پاس ہے تو دیکھا کہ ایک حضرت اپنے ساتھیوں میں قصہ گوئی کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس آیت میں جس دھوئیں کا ذکر ہے اس سے مراد وہ دھواں ہے جو قیامت کے دن منافقوں کے کانوں اور آنکھوں میں بھر جائے گا اور مومنوں کو مثل زکام کے ہوجائے گا۔ ہم وہاں سے جب واپس لوٹے اور حضرت ابن مسعود سے اس کا ذکر کیا تو آپ لیٹے لیٹے بےتابی کے ساتھ بیٹھ گئے اور فرمانے لگے اللہ عزوجل نے اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
سورة الدُّخَان 11
رسول مبین کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ اس کا رسول ہونا اس کی سیرت، اس کے اخلاق و کردار اور اس کے کارناموں سے بالکل عیاں ہے۔ دوسرے یہ کہ اس نے حقیقت کو کھول، کھول کر بیان کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
معارف و مسائل
آیت مذکورہ میں جس دخان مبین کا ذکر بطور پیشین گوئی کے آیا ہے کہا آپ انتظار کریں اس واضح دھوئیں کا جو آسمان پر ہوگا اور لوگوں پر چھا جائے گا، اس کے متعلق حضرات صحابہ وتابعین سے تین قول منقول ہیں۔ اول یہ کہ یہ علامات قیامت میں سے ایک علامت ہے جو قیامت کے بالکل قریب واقع ہوگی۔ یہ قول حضرت علی مرتضیٰ اور ابن عباس، ابن عمر، ابوہریرہ اور زید بن علی اور حسن بصری، ابن ابی ملیکہ وغیرہ کا ہے اور حضرت ابوسعید خدری اور حذیفہ بن اسید غفاری سے یہ قول مرفوعاً بھی روایت کیا گیا ہے جس کی تفصیل آگے آتی ہے دوسرا قول یہ ہے کہ پیش گوئی واقع ہوچکی ہے اور اس کا مصداق مکہ مکرمہ کا قحط ہے جو رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →یغشی الناس ھذا عذاب الیم (11)
یہ اس عذاب کی شدت کی تعبیر ہے کہ وہ لوگوں کو اس طرح چھالے گا کہ کسی کے لئے بھی اس سے فرار کی کوئی راہ باقی نہیں رہے گی۔ ھذا عذاب الیم یہ زبان حال یا صورت حال کی تعبیر ہے کہ ہر شخص پر یہ بات واضح ہوجائے گی کہ یہ کوئی قتی جھونکا نہیں ہے جو آیا اور گزر گیا بلکہ قہر الٰہی ہے جو سب کی کمر توڑ کے رکھ دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
12۔ 1 پہلی تفسیر کی رو سے یہ کفار مکہ نے کہا اور دوسری تفسیر کی رو سے قیامت کے قریب کافر کہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–11
3: اس آیت کی تفسیر حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے یہ مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو متنبہ کرنے کے لیے انہیں ایک سخت قحط میں مبتلا فرما دیا تھا، اس وقت لوگ بھوک کی شدت کے عالم میں جب آسمان کی طرف دیکھتے تو انہیں آسمان پر دھواں ہی دھواں چھایا ہوا معلوم ہوتا تھا۔ اس آیت میں اس قحط سالی کی پیشین گوئی کی گئی ہے، اور فرمایا گیا ہے کہ کافروں کو سزا کے طور پر ایسے قحط میں مبتلا کیا جائے گا کہ انہیں بھوک کی وجہ سے آسمان پر دھواں ہی دھواں نظر آئے گا، اور اس وقت یہ لوگ وعدہ کریں گے کہ اگر یہ قحط ہم سے دور ہوگیا تو ہم ایمان لے آئیں گے، لیکن جب قحط دور ہوگا تو اپنے وعدے سے پھر کر دوبارہ شرک کی طرف لوٹ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–16
اس حد تک قرآن کے مخاطبین کو متاثر کرنے اور جوش دلانے اور حق کو قبول کرنے پر آمادہ کرنے کے بعد اب روئے سخن اچانک پھرتا ہے۔ اور تصویر کا دوسرا رخ پیش کیا جاتا کہ اس عظیم کتاب کی اس سعی کے بعد ان لوگوں کی حالت کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں ان لوگوں کی جو تصویر کی گئی ہے اسے ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ لیکن یہ لوگ اس قدر سنگ دل ہیں کہ اس قدر سنجیدہ کوششوں کے باوجود وہ ابھی تک اس تحریک کو مذاق ہی سمجھتے ہیں۔
آیت نمبر 9 تا 16
فرماتے ہیں کہ یہ تو اس قدر حکیمانہ اور عظیم الشان نظریہ اور نظام کے مقابلے میں غیر سنجیدہ رویہ اختیار کرتے ہیں اور ان نشانیوں میں شک کرتے ہیں جو ثابت شدہ ہیں لہٰذا ان کا صحیح علاج یہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
9 " دھویں " سے یہاں کیا مراد ہے ؟ اس میں سلف کے دو قول ہیں۔ ابن عباس وغیرہ کہتے ہیں کہ قیامت کے قریب ایک دھواں اٹھے گا جو تمام لوگوں کو گھیر لے گا۔ نیک آدمی کو اس کا اثر خفیف پہنچے گا، جس سے زکام سا ہوجائے گا۔ اور کافر و منافق کے دماغ میں گھس کر بیہوش کر دے گا۔ وہ یہاں مراد ہے۔ شاید یہ دھواں وہ ہی سماوات کا مادہ ہو جس کا ذکر " تم استویٰ الٰی السماء وہی دخان " میں ہوا ہے گویا آسمان تجلی تحلیل ہو کر اپنی پہلی حالت کی طرف عود کرنے لگیں گے اور یہ اس کی ابتدا ہوگی۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ اور ابن مسعود زور و شور کے ساتھ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس آیت سے مراد وہ دھواں نہیں جو علامات قیامت میں سے ہے بلکہ قریش…
Read the full tafseer →آیت 11 { یَّغْشَی النَّاسَط ہٰذَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ} ”وہ ڈھانپ لے گا لوگوں کو۔ یہ ایک درد ناک عذاب ہوگا۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
9 یعنی کبھی تو کہتے تھے کہ کوئی عجمی اسے قرآن سکھا جاتا ہے پھر وہ سے اپنی طرف سے ہم پر پیش کرکے کہتا ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے جو مجھ پر نازل ہوا ہے۔ اور جب آپ یہ دعویٰ کرتے تھے کہ اگر تم لوگ اللہ کی دعوت پر ایمان لے آؤ تو تم عرب و عجم کے مالک بن جاؤ گے۔ تو آپ کو دیوانہ کہنے لگتے تھے۔ گویا یہ دونوں الگ الگ مواقع پر کافروں کے الزامات ہیں۔ جو یہاں اکٹھے کردیئے گئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
9۔ روایات متفق ہیں کہ اس مصیبت سے مراد وہ شدید قحط ہے جو اہل مکہ پر پڑنے والا تھا اور کچھ روز بعد پڑا، ہوا کہ جب ہجرت کے بعد بھی اہل مکہ کا عناد کم نہ ہوا بلکہ بڑھتا گیا تو عاجز آکر رسول اللہ ﷺ انکے حق میں بددعاء کی، اثر کا ظہور یوں ہوا کہ ادھر بارش رکی اور ادھر یمامہ (علاقہ یمن) کے رئیس ثمامہ نے جواب مسلمان ہوچکے تھے غلہ بھیجنا بند کردیا، مکہ کی غلہ کی منڈی یمامہ ہی سے تھی، اب قحط پورا ہوگیا۔ ذلک حین دعا رسول اللہ ﷺ علی قریش ربہ تبارک وتعالیٰ ان یاخذھم بسنین کسنی یوسف فاخذوا بالمجاعۃ (ابن جریر) حضرت عبداللہ بن مسعود صحابی ؓ نے بڑے زور وتاکید کے ساتھ آیت کے یہ معنی بیان کئے ہیں۔ قحط اتنا سخت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
آیت نمبر 1 تا 29
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس سے اللہ کی کیا مراد ہے ؟ وہی بہتر جانتا ہے قسم ہے واضح کتاب قرآن کی جو حلال کو حرام سے ممتاز کرنے والی ہے، یقیناً ہم نے اس کو بابرکت رات میں نازل کیا ہے اور وہ شب قدر یا شب نصف شعبان ہے، اسی رات میں قرآن کو ساتویں آسمان پر موجود لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل کیا گیا، بیشک ہم اس کے ذریعہ ڈرانے والے ہیں، اسی رات یعنی شب قدر یا شب نصف شعبان میں ہر محکم کام کا مثلاً روزی، موت وغیرہ جو اس سال اسی جیسی (آئندہ) رات تک ہونے والے ہوتے ہیں فیصلہ کیا جاتا ہے، ہمارے پاس سے حکم صادر ہو کر ہم ہی ہیں رسول بنا کر…
Read the full tafseer →یغشی الناس ھذا عذاب الیم سو آپ انتظار کیجئے ‘ سب لوگوں پر چھا جائے گا۔ یہ دردناک عذاب ہوگا۔ فَارْتَقِبْ رسول اللہ ﷺ کو خطاب ہے۔ دُخان سے کونسا دخان مراد ہے ‘ اس سلسلے میں علماء کے اقوال مختلف ہیں :
حضرت ابن عباس ‘ حضرت ابن عمر اور حسن کا قول ہے کہ یہ دھواں قیامت کی علامات میں سے ایک علامت ہوگی۔
ابن جریر ‘ ثعلبی اور بغوی نے حضرت حذیفہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سب سے اول (قیامت کی) نشانی دھوں اور عیسیٰ ابن مریم کا نزول اور ایک آگ ہوگی ‘ جو عدن کے کسی غار سے نکلے گی اور لوگوں کو میدان حشر کی طرف ہنکا کرلے جائے گی۔ دوپہر کو لوگ جہاں ٹھہریں گے ‘ آگ بھی ٹھہر جائے گی۔
حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
(11۔ 12) جو ان سب پر عام ہوجائے یہ دھواں بھی ایک دردناک سزا ہے جو ان کو بھول کی حالت میں پیش آئے گی پھر یہ عرض کریں گے اے ہمارے رب ہم سے اس بھوک کی مصیبت کو دور کردیجیے ہم آپ پر اور آپ کی کتاب اور آپ کے رسول پر ایمان لے آئیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
فازتقب یوم تاتی السمآء بدخان مبین…: اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دلائی ہے کہ اگر یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو آپ پریشان نہ ہوں، بلکہ اس دن کا انتظار کریں جس میں آسمان کی جانب سے ایک واضح دھواں ان لوگوں کو ڈھانپ لے گا جو نہایت تکلیف دہ عذاب ہوگا۔ واضح ہونے اور ڈھانپ لینے کا مطلب یہ ہے کہ وہ خییالی دھواں نہیں ہوگا بلکہ حقیقی ہوگا اور سب لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ ”یوم“ سے مراد وہ وقت ہے جس میں دھواں رہا، کیونکہ وہ دھواں ایک دن تو نہیں رہا، بلکہ کئی دن اور مہینے رہا۔ اس دھوئیں سے کیا مراد ہے ؟ ظاہر ہے اس سے قیامت کے دن کا دھواں مراد نہیں ہوسکتا، کیونکہ ان آیات میں کفار کو اسے دور کرنے کی دعا کے…
Read the full tafseer →یہ دخان کی صفت ہے۔ اگر مراد وہ ہے جو ابھی گزرا ہے جس طرح حضرت ابن مسعود ؓ نے کہا تو یہ اہل مکہ کے مشرکوں کے ساتھ خاص ہے۔ اگر یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے تو یہ عام ہے جس طرح پہلے گزرا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ انہیں یہ ارشاد فرمائے گا جس نے کہا : دخان (دھواں) گزر چکا ہے تو حال ماضیہ کی حکایت ہے جس نے اسے آنے والے واقعات میں شمار کیا ہے تو وہ آنے والے حالات کی حکایت ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ہذا یہ ذلک کے معنی میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : لوگ اس دھویں کے بارے میں کہیں گے : یہ درد ناک عذاب ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ امر کے قریب آنے کی خبر ہے جس طرح تو کہتا ہے : موسم سرما ہے اس کے لئے تیاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–15
بطشۃ الکبری کا تذکرۃ :
1:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فارتقب “ سے مراد ہے انتظار کر۔
2:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابی عبیدہ (رح) کے طریق سے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ دخان والی نشانی گزر چکی ہے۔
3:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابی عبیدہ (رح) وابی الاحوص کے طریق سے عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ دھواں وہ بھوک تھی جو قریش کو پہنچی یہاں تک کہ ہر ایک ان میں بھوک کی وجہ سے آسمان کو نہ دیکھ سکتا تھا۔
4:۔ ابن مردویہ (رح) نے عتبہ بن عبیداللہ بن عتبہ بن مسعود ؓ کے طریق سے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ دھواں والی نشانی گزر چکی ہے کہ لوگوں کو سخت بھوک پہنچی تھی یہاں تک کہ وہ اپنے آسمان کے درمیان…
Read the full tafseer →يَّغْشَى النَّاسَ ۭ [ وہ چھائے گا لوگوں پر ] ھٰذَا عَذَابٌ اَلِيْمٌ [ یہ ایک درد ناک عذاب ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
اس دن کا انتظار کیجیے جبکہ آسمان کی طرف سے لوگوں پر دھواں چھا جائے گا ہم بڑی پکڑ پکڑیں گے بیشک ہم انتقام لینے والے ہیں
یہ سات آیات کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں فرمایا آپ اس دن کا انتظار کیجیے جس میں آسمان کی طرف ایک دھواں نظر آئے گا جو لوگوں پر چھا جائے گا۔ اسے دخان مبین کہتے ہیں۔
دخان سے کیا مراد ہے ؟
اس بارے میں ایک قول یہ ہے کہ یہ دھواں قیامت کی نشانیوں میں سے ہوگا جب ظاہر ہوگا تو زمین میں چالیس دن رہے گا اور آسمان اور زمین کے درمیان کو بھر دے گا۔ اس کی وجہ سے اہل ایمان کی کیفیت زکام جیسی ہوجائے گی اور کفار اور فجار کی ناکوں میں گھس جائے گا اور سانس لینے میں انہیں سخت تکلیف ہوگی۔ حضرت علی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
بیان عظمت کتاب اللہ وبرکات زمانہ نزول قرآن مع دعوت ایمان وبدنصیبی محرومین واشقیاء از سعادت خداوندی :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” حم والکتب المبین ...... الی ....... انا منتقمون “۔
(ربط) گزشتہ سورتک مضمون توحید و رسالت کا اثبات تھا اور اس سے اختلاف واعراض کرنے والے مجرمین کی بدنصیبی کا ذکر کرتے ہوئے ان کے افسوس ناک عبرت ناک انجام کا بیان تھا اور اسی موضوع پر سورت کا مضمون ختم فرما دیا گیا تھا کہ اگر ان واقعات کو سن کر بھی قریش کے لوگ آنحضرت ﷺ پر ایمان نہیں لاتے تو ان کو سوچ لینا چاہئے کہ ایسا ہی عبرت ناک انجام ان کا بھی ہوگا، ساتھ ہی آپ ﷺ کو تسلی دینا بھی مقصود تھا کہ قریش مکہ کی مخالفت ودشمنی…
Read the full tafseer →12:۔ ” یغشی الناس “ یعنی وہ قحط تمام مشرکین کو اپنی لپیٹ میں لے لیگا اور وہ کہیں گے یہ تو بڑا ہی دردناک عذاب ہے یا ادخال الٰہی ہے اللہ کا ارشاد ہے کہ یہ ان کے لیے ایک دردناک عذاب ہے۔ ای یقولون ھذا الخ او یقال لہم ھذا (روح) ۔ جب مشرکین مارے بھوک کے مردار اور ہڈیاں کھانے لگے تو ابو سفیان نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر صلہ رحمی کا واسطہ دیا اور عہد کیا کہ آگر یہ عذاب اٹھا لیا جائے تو ہم سب ایمان لے آئیں گے۔ ” ربنا اکشف عنا العذاب الخ “ ای یقولون۔ لما اشتد لقحط بقریش مشی ابو سفیان الی رسول اللہ ﷺ و ناشدہ الرحم وواعدہ ان دعا لہم وزوال مالہم امنوا (روح ج 25 ص 119) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–16
ربط آیات
سورۃ کے آغاز میں قرآن پاک کے لیلتہ القدر میں نزول کا بیان تھا۔ اللہ نے نزول قرآن کی غرض وغایت بھی بیان فرمائی ہے اور یہ بھی کہ اس ایک رات میں مستحکم فیصلے کئے جاتے ہیں۔ پھر اللہ نے انذار کا ذکر فرمایا کہ وہ اپنے رسولوں کے ذریعے لوگوں کو ان کے بر انجام سے ڈراتا ہے فرمایا نزول قرآن اس کی خاص مہربانی کا نتیجہ ہے۔ پھر اللہ نے اپنی توحید کا تذکرہ فرمایا کہ وہی سننے والا اور جاننے والا ہے آسمانوں ، زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا وہی پروردگار ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، زندگی اور موت اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ وہ موجودہ لوگوں کا بھی پروردگار ہے اور ان کے پہلے آبائو اجداد…
Read the full tafseer →يَّغْشَى النَّاسَ 0 ۭ ھٰذَا عَذَابٌ اَلِيْمٌ 11
غشي
غَشِيَهُ غِشَاوَةً وغِشَاءً : أتاه إتيان ما قد غَشِيَهُ ، أي : ستره . والْغِشَاوَةُ : ما يغطّى به الشیء، قال : وَجَعَلَ عَلى بَصَرِهِ غِشاوَةً [ الجاثية/ 23]
( غ ش و ) غشیۃ غشاوۃ وغشاء
اس کے پاس اس چیز کی طرح آیا جو اسے چھپائے غشاوۃ ( اسم ) پر دہ جس سے کوئی چیز ڈھانپ دی جائے قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلَ عَلى بَصَرِهِ غِشاوَةً [ الجاثية/ 23] اور اس کی آنکھوں پر پر دہ ڈال دیا ۔
نوس
النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب،
قال تعالی:…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–16
فیہا یفرق کل امرا حکیم امرامن عندنا کہ اس رات میں ہر حکمت کی بات بیان اور ظاہر کی جاتی ہے۔ یعنی جو حوادث دنیا میں ظاہر ہونے والے ہوتے ہیں (جیسا کہ کسی کا مرنا ‘ کسی کا امیر ہونا ‘ کسی کا فقیر ہونا ‘ بیمار و تندرست ہونا ‘ قحط و ارزانی کا ہونا ‘ سلطنت و حکومت کا تبدل و تغیر وغیرہ) ان کو بارگاہ قدس سے ملائکہ مدبران عالم پر ظاہر کیا جاتا ہے گو لوح محفوظ میں روز اول لکھے گئے تھے مگر اس رات میں انتظام عالم کے لیے ایک سال کے حوادث ان کے مدبر اور کارکن ملائکہ پر ظاہر کئے جاتے ہیں تاکہ اس کی تعمیل کریں۔ یہ اس رات کی بڑی عظمت و عزت ہے اس کے یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ عالم ناسوت میں جو معاملات ظہور کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَاْتِی السَّمَآئُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍ ۔ یَّغْشَی النَّاسَ ط ھٰذَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ (الدخان : 10، 11)
(پس انتظار کرو اس دن کا جس دن آسمان صریح دھواں لیے ہوئے آئے گا۔ اور وہ لوگوں پر چھا جائے گا، یہ ایک دردناک عذاب ہے۔ )
مخالفین کو تہدید
انسانوں کی ہدایت کے لیے نبی کریم ﷺ جیسے عظیم رسول کی تشریف آوری اور قرآن کریم جیسی بلند مرتبت کتاب کا نزول اور وہ بھی ایک ایسی رات میں جس میں تمام ایسے امور کا فیصلہ ہوتا ہے جو کائنات کی قسمت بنانے اور بگاڑنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں جس سے انسانوں کی قسمتیں بنتی اور بگڑتی ہیں، جس میں وہ امور طے پاتے ہیں جس سے قوموں کا عروج وزوال وابستہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
فہم القرآن
ربط کلام : رب تعالیٰ کی ذات اور صفات میں شک کرنے والے لوگ قرآن مجید کو شغل کے طور پر لیتے ہیں اس پر ان لوگوں کو انتباہ کیا جاتا ہے۔
جو لوگ اپنے رب کو رب ماننے کے لیے تیار نہیں اور قرآن مجید کی دعوت کو کھیل کود سمجھتے ہیں انہیں ایک بار پھر انتباہ کیا جاتا ہے کہ وہ اس وقت کا انتظار کریں جب آسمان دھویں سے بھر جائے گا اور لوگوں کو بری طرح ڈھانپ لے گا۔ اس دن شک کرنے والوں کو اذیت ناک عذاب ہوگا۔ مجرم اپنے رب کے حضور فریاد پہ فریاد کریں گے کہ اے ہمارے رب ! اس عذاب کو ہم سے دور کردے یقیناً ہم تجھ پر ایمان لائیں گے۔ لیکن اس وقت نصیحت حاصل کرنے کا موقع گزرچکا ہوگا۔ کیونکہ اس سے پہلے رسول نے…
Read the full tafseer →آیت 11 : یَغْشَی النَّاسَ (وہ لوگوں کو ڈھانپ لے گا) ان کو ہر طرف سے آ گھیرے گا۔ اور لباس کی طرح ڈھانپ لے گا۔ یہ محلاً مجرور ہے اور دخان کی صفت ہے۔ ہٰذَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ (یہ درد ناک عذاب ہے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
اس کی اصل عبارت ، ھو عذاب الھی، ہے۔ یعنی یہ خدا کا عذاب ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ ان کے کلام کی حکایت ہو جو اس کے بعد ہے یعنی، یقول لون ھذا عذاب الیم،
دخان سے کیا مرادہے
اس دھویں میں مفسرین رحمہم اللہ کا اختلاف ہے مسروق (رح) سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص کندہ میں یہ حدیث بیان کررہا تھا کہ قیامت کے دن ایک دھواں آئے گا جو منافقوں کے کانوں اور آنکھوں کو پکڑلے گا اور مؤ منوں کی زکام کی حالت کی طرح حالت ہوگی تو ہم گھبراگئے تو میں ابن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں آیا، آپ ٹیک لگاکربیٹھے تھے سیدھے ہوکربیٹھ گئے۔ پھر فرمایا کہ جو شخص جانتا ہے وہک ہے اور جو نہیں جانتا وہ کہے اللہ اعلم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
1۔ 16۔ حم و الکتب المبین کی تفسیر سورة الزحزف کے شروع میں گزر چکی ہے جس برکت والی رات کا ذکر ان آیتوں میں ہے اگرچہ بعض فسروں نے لکھا ہے کہ یہ برکت والی رات شعبان کی پندرھویں رات ہے لیکن یہ قول شھر رمضان الذی انزل فیہ القران کے مخالف ہے صحیح وہی حضرت عبد اللہ بن عباس کا قول ہے جس کو نسائی 1 ؎ اور حاکم وغیرہ نے معتبر سند سے روایت کیا ہے کہ شب قدر میں ایک دفعہ سارا قرآن لوح محفوظ سے اول آسمان پر نازل ہوا پھر ہر ایک موقع پر ہر ایک آیت حضرت جبرئیل آنحضرت ﷺ کے پاس تشریف لائے۔ صحیح بخاری 2 ؎ میں حضرت عائشہ اور حضرت عبد اللہ بن عباس سے جو روایتیں ہیں۔ ان میں اللہ کے رسول ﷺ نے یہ صاف جتلا دیا ہے کہ شب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
آیت 1
یہ قرآن پر قرآن ہی کی قسم ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کتاب مبین کی قسم کھائی جو ہر اس چیز کے لئے ہے جس کے بیان کی حاجت ہے۔ بیشک وہ اتاری گئی ہے (فی لیلۃ مبرکۃ) یعنی خیر کثیر اور بکت والی رات میں، اس سے مراد لیلۃ القدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ یقیناً اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہترین کلام کو سب راتوں اور دنوں سے افضل رات میں مخلوق میں سے افضل ہستی پر معززین اہل عرب کی زبان میں نازل فرمایا ات کہ اس کے ذریعے سے ان لوگوں کو ڈرائے جنہیں جہالت نے اندھا کر رکھا ہے اور بدبختی ان پر غالب آچکی ہے۔ پس وہ اس کے نور سے روشنی حاصل کریں، اس کی ہدایت کو اختیار کریں اور اس کے پیچھے چلیں، اس طرح انہیں…
Read the full tafseer →14 دخان مبین کی ہولناکی کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ ہولناک دھواں جو چھا رہا ہوگا سب لوگوں پر "۔ ابن مسعود ؓ کے قول کے مطابق اس سے مراد وہی قحط کے دور کا دھواں ہوگا جو کہ سب اہل مکہ پر چھا گیا تھا۔ جبکہ حضرت ابن عباس ؓ کے قول کے مطابق اس سے مراد قرب قیامت والا وہ دھواں ہے جو کہ سب کفار پر بری طرح چھا رہا ہوگا۔ اور یہ ان کے ناک کے نتھنوں، کانوں کے سوراخوں اور ان کے ادبار سے نکل رہا ہوگا جبکہ اہل ایمان پر اس کا اثر ایسے ہوگا جیسا کہ زکام کا اثر ہوتا ہے۔ (ابن جریر، ابن کثیر، روح، خازن، مدارک، محاسن، جامع البیان، صفوۃ البیان اور معارف القرآن وغیرہ) ۔ سو یہ اس دھویں کی شدت کی تعبیر ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–37
قرآن سچ ہے اور اس کے علاہ سب غلط ہے
تشریح : ان تمام آیات میں اللہ کی ان تدابیر کا ذکر کیا گیا ہے جو اس نے کائنات کے لیے مرتب کر رکھی ہیں۔ مثلاً میجر جنرل غلام محمد ملک صاحب اس کی بڑے خوبصورت انداز میں یوں وضاحت کرتے ہیں : فلسفہ تاریخ جس طرح سیاسی واقعات کی تکرار اور حوادث کے بار بار اعادہ سے اصول اور نتائج تک پہنچ کر ایک عام تاریخی قانون بنا لیتا ہے اسی طرح انبیاء علیھم السلام کے سوانح اور تاریخیں بھی اپنے واقعات کے بار بار اعادہ سے خصائصِ نبوت کا اصول قانون ہمارے لیے مرتب کرتی ہے۔ پیغمبرانہ تاریخ کے انہی اصول و قوانین میں سے ایک یہ ہے کہ نبی جب اپنے کمال انسانیت کو پہنچ کر فیضان نبوت کے قبول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
آیات 1 تا 29۔
اسرار ومعارف۔
حم۔ اس کتاب واضح کی قسم ہے یعنی یہ دلائل سے حق کو واضح کردینے والی کتاب اس پر گواہ ہے جسے ہم نے ایک بہت بابرکت شب کو لوح محفوظ سے سماء دنیا پر نازل فرمایا کہ اس کے نزول سے مراد مخلوق کو صحیح راہ عمل دکھانا اور اعمال بد کے بد انجام سے بروقت خبر دینا ہے کہ وہ اپنی راہ متعین کرسکیں
لیلہ مبارکہ :
لیلہ مبارکہ سے مراد مفسرین کرام سے لیلۃ القدر ہے کہ قرآن کریم کی دوسری آیات سے اس کی تعیین ہوجاتی ہے نیز نزول قران رمضان المبارک ہی میں ہوا اور جو بات نصف شعبان کی شب کے بارے مشہور ہے ، اس کی سندیں ضعیف ہیں اس لیے اکثر علماء نے اسے قبول نہیں کیا ، اور بعض نے اس کی فضیلت اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
ف 2 حضرت حذیفہ ؓ کی روایت میں قیامت کی دس نشانیوں میں سے ایک نشانی دھواں بتائی گئی ہے اور حضرت ابن عباس ؓ نے یہی دھواں مراد لیا ہے جو قیامت کے قریب ظاہر ہوگا بہت سے صحابہ ؓ وتابعین کا بھی یہی قول ہے اور حافظ ابن کثیر ؓ نے اسی کو راجح قرار دیا ہے۔ ( ایضا جامع) لیکن صحیح یہ ہے کہ اس سے مراد اس قحط کا دھواں ہے جو آنحضرت ﷺ کی بد دعا سے قریش پر آیا تھا کیونکہ وہی اس آیت کی شان نزول ہے جیسا کہ صحیحین میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ جب قریش کی سرکشی حد سے بڑھ گئی تو آنحضرت ﷺ نے دعا فرمائی :” اے اللہ ! ان کے مقابلہ میں میری مدد فرما اور ان پر سات برس کا قحط نازل کر جیسا کہ قحط تو نے یوسف…
Read the full tafseer →(44:11) یغشی مضارع واحد مذکر غائب غشی وغشیان (باب سمع) مصدر وہ چھا جائے گا۔ وہ ڈھانک لے گا۔ غشاوۃ ڈھکنا۔ پردہ۔ جیسے وعلی ابصارہم غشاوۃ (2:7) اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے اور جگہ قرآن مجید میں ہے واستغشوا ثیابھم (71:7) اور انہوں نے اپنے اوپر کپڑے لپیٹ لئے۔ یغشی الناس وہ (دھواں) لوگوں کو لپیٹ میں لے لیگا۔
ھذا عذاب الیم : ھذا۔ یعنی آسمانی دھوئیں کا لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لینا ایک دردناک عذاب ہوگا۔ یا جملہ سے قبل فقالوا کا لفظ محذوف ہے اور معنی ہے کہ وہ کہہ اٹھیں گے یہ ایک دردناک عذاب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 16 : لیلۃ مبارکۃ (برکت والی رات) یفرق (وہ جدا کردیتا ہے، الگ کردیتا ہے) امر حکیم ( حکمت بھرا فیصلہ) ارتقب (تو انتظارکر ، راہ دیکھ) دخان ( دھواں) یغشی (وہ ڈھانپ لے گا) معلم ( پڑھایا گیا) عائدون ( وہ لوٹنے والے ہیں) البطشۃ (سخت پکڑ)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 16 : قرآن کریم میں سات سورتیں وہ ہیں جن کی ابتداء ” حم ‘ ‘ سے کی گئی ہے۔ احادیث میں ان سات سورتوں کے بہت سے فضائل بیان کئے گئے ہیں ۔ ان ہی میں سے یہ پانچویں سورت ہے۔
” حا۔ میم “ حروف مقطعات میں سے ہیں جن کی تفصیل اس سے پہلی سورتوں میں بیان کردی گئی ہے۔ علماء مفسرین نے بیان کیا ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد کا علم اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–16
علامات قیامت۔
(ف 1) اللہ آسمانوں اور زمین کا مالک اور پروردگار ہے اور جو ان میں اور ان کے درمیان میں عجائب غرائب ہیں مشرکین اگر تم سمجھو اور مانو تو آیات قدرت بہت واضح ہیں، اس کے سوا کوئی لائق معبود نہیں جہان کا کوئی خالق نہیں وہ تو جلاتا ہے اور وہی مارتا ہے دنیا میں مارے گا قیامت کو جلائے گا تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا سب کا پروردگار خالق ہے، اے محبوب ﷺ یہ کفار نہیں مانتے بلکہ یہ توحید ورسول وقیامت وغیرہ کی طرف سے شک میں پڑے ہیں اور دنیا کے کھیل کود میں مصروف ہیں آخرت کی فکر نہیں جو حق کو طلب کریں اور اس میں غوروفکر سے کام لیں، یہ اس دھوکہ میں ہیں ہمیشہ یوں ہی رہنا خدا کے سامنے کبھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
[5] یعنی قیامت کے قریب ایک دھواں اٹھے گا جو تمام لوگوں کو گھیر لے گا۔ نیک شخص پر اس کا اثر خفیف سا ہوگا لیکن کافر کو وہ بیہوش کر دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–32
دھوئیں کا عذاب
1: مکہ والوں نے جب حضور ﷺ کے پیغام توحید کو ٹھکرایا اور انتہائی تحقیر وتذلیل کے ساتھ آپ کا خیرمقدم کیا ۔ تو اس وقت آپ کی زبان الہام ترجمان سے یہ کلمات بےاختیار نکل گئے ۔ کہ اے اللہ ان لوگوں پر اس قحط کا عذاب نازل کر جو تونے یوسف کے زمانہ میں نازل کیا تھا ۔ بس ان الفاظ کا حضور ﷺ کے منہ سے نکلنا تھا ۔ کہ اجابت نے ہاتھوں ہاتھ لیا ۔ آسمان نے رحمت کے دراوزوں کو ان پر بند کرلیا ۔ زمین میں خشک ہوگئی ۔ اور قحط وجوع نے قریش کو آزمائش میں ڈال دیا ۔ اس قدر فاقے ہونے لگے ۔ کہ بھوک کے مارے ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے دھواں سا معلوم ہونے لگا ۔ زندگی کے لئے یہ لوگ مجبور ہوگئے ۔ کہ مردار…
Read the full tafseer →(11) جو ان سب لوگوں کو گھیر لے گا اور ان سب کے لئے عام ہوگا یہ دھواں ایک دردناک عذاب ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ جب کفار قریش نے دل آزاری اور کفر نوازی اور اسلام دشمنی کے مختلف طریقے اختیار کئے تو نبی (علیہ السلام) نے ان پر قحط کی بددعا کی اور فرمایا جیسا یوسف (علیہ السلام) کے زمانے میں قحط ہوا تھا ایسا ہی ان پر قحط بھیج۔
چنانچہ خشک سالی شروع ہوئی ادھر ثماثہ جو یمامہ کے رئیس تھے جب وہ مسلمان ہوئے تو کفار قریش نے ان پر ملامت کی اور انہوں نے یمامہ کا غلہ روک لیا چناچہ قریش سخت قحط میں مبتلا ہوگئے اور یہاں تک نوبت پہنچی کہ مردوں کی قبر سے ہڈیاں نکال کر اور ان کو پیس کر کھانے لگے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
ف 5۔ مراد اس سے غلہ کا قحط ہے جس میں اہل مکہ مبتلا ہوئے تھے، جس کا حقیقی سبب بد دعا تھی رسول اللہ ﷺ کی، جب یہ لوگ عناد میں زیادہ بڑھ گئے تھے اور یہ بد دعا ایک بار مکہ میں ہوئی تھی اور ایک بار مدینہ میں۔
Read the full tafseer →یہ دھواں سب لوگوں پر چھاجائے گا جو ایک درد ناک عذاب ہوگا
11 ؎ وہ چھا جانے والا دھواں کیا ہے ایک درد ناک عذاب ہے کہ ” پائے رفتن نہ جائے ماندن “ کوئی بھاگے تو کیسے اور یہ بھی کہ بھاگ کر جائے تو کہاں ؟ گویا فرار کوئی راہ نہیں ملے گی اور کوئی ایسا نظر بھی نہیں آئے گا جس کو اس درد ناک عذاب سے بچانے کی اپیل ہی کرے اس لیے کہ اس عذاب میں سب کے سب برابر کے شریک ہوں گے اور بلاشبہ ہر ایک آدمی زد میں ہوگا اور یہ بھی جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ یہ کوئی وقتی چیز نہیں ہوگی بلکہ مسلسل جس سے ہر ایک چیز گھبرا جائے گی اور وہ سب کی کمر توڑ کر رکھ دے گا اور ہر طرف سے الامان ، الامان کی صدائیں بلند ہوں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–19
Commentary
دُخَانٍ مُّبِينٍ...visible smoke" in verse (10) embodies a prophecy and the Prophet ﷺ was asked to watch for the Day when the sky will bring forth a manifest smoke covering the people. There are three opinions recorded about this from the Companions and their pupils.
The first view is that the smoke is one of the portents of the Day of Judgment which will occur very close to the Day of Judgment. This view is held by Sayyidna al-Murtada, Ibn ` Abbas, Ibn ` Umar, Abu Hurairah, Zaid Ibn ` Ali ؓ ، Hasan al-Basri Ibn Abi Mulaikah and others رحمۃ اللہ علیہم . This view is recorded…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
11 Rasul-i-mubin has two meanings: (1) His being a Messenger is quite evident from his character, his morals and his works; and (2) he has made every effort to make the truth plain and clear.
Read the full tafseer →