Ad-Dukhaan 44:12

Ad-Dukhaan · from ayah 12

44:12

رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ اِنَّا مُؤْمِنُوْنَ ۟رَبَّنَا اكۡشِفۡ عَنَّا الۡعَذَابَ اِنَّا مُؤۡمِنُوۡنَ

اے پروردگار ہم سے اس عذاب کو دور کر ہم ایمان لاتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

[They will say], "Our Lord, remove from us the torment; indeed, we are believers."

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Ad-Dukhaan

All translations of 44:12

(اب کہتے ہیں کہ) " پروردگار، ہم پر سے یہ عذاب ٹال دے، ہم ایمان لاتے ہیں"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اے پروردگار ہم سے اس عذاب کو دور کر ہم ایمان لاتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہیں گے کہ اے ہمارے رب! یہ آفت ہم سے دور کر ہم ایمان قبول کرتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اس وقت یہ لوگ کہیں گے کہ) اے ہمارے پروردگار ہم سے یہ عذاب دور کر دیجئے، ہم ضرور ایمان لے آئیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اس دن کہیں گے، اے ہمارے رب! ہم پر سے عذاب کھول دے ہم ایمان لاتے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اس وقت کہیں گے:) اے ہمارے رب! تو ہم سے (اس) عذاب کو دور کر دے، بیشک ہم ایمان لاتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے ہمارے رب ! ہم سے یہ عذاب دور کر دے، بیشک ہم ایمان لانے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(اس وقت لوگ واویلا کریں گے) اے ہمارے پروردگار ! ہم سے اس عذاب کو دور کردے ہم ایمان لاتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے ہمارے رب ! ہم سے عذاب دور کر دے، ہم ایمان لانے والے بنے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(اس دن یہ کہیں گے) اے ہمارے رب دور فرما دے ہم سے اس عذاب کو ہم یقینا ایمان لانے والے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اے ہمارے پروردگار ہم سے اس عذاب کو دور کردیجئے ہم ضرور ایمان لے آئیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اُس وقت لوگ کہیں گے :) اے ہمارے رب ! اس عذاب کو ہم سے دور کر دے ہم ایمان لانے والے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے ہمارے رب ہم سے اس عذاب کو دور کر ہم ایمان لاتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(People will then say): “Our Lord, remove this scourge from us; we shall believe.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(Then they will say,) :O our Lord, remove from us the punishment; we will truly believe.

— Muhammad Taqi Usmani

(Then they will say,) :O our Lord, remove from us the punishment; we will truly believe.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

(They will say): "Our Lord! Remove the torment from us, really we shall become believers!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

(Then they will say): Our Lord relieve us of the torment. Lo! we are believers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[They will say], "Our Lord, remove from us the torment; indeed, we are believers."

— Saheeh International

Lord, remove this torment from us for we are believers".

— Muhammad Sarwar

Our Lord! remove from us the punishment; surely we are believers.

— Muhammad Habib Shakir

Our Lord! remove from us the torment, verily we shall become believers.

— Abdul Majid Daryabadi

(They will say:) "Our Lord! remove the Penalty from us, for we do really believe!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 44:12

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 9–16

دھواں ہی دھواں اور کفار فرماتا ہے کہ حق آچکا اور یہ شک شبہ میں اور لہو لعب میں مشغول و مصروف ہیں انہیں اس دن سے آگاہ کر دے جس دن آسمان سے سخت دھواں آئے گا حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ کوفے کی مسجد میں گئے جو کندہ کے دروازوں کے پاس ہے تو دیکھا کہ ایک حضرت اپنے ساتھیوں میں قصہ گوئی کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس آیت میں جس دھوئیں کا ذکر ہے اس سے مراد وہ دھواں ہے جو قیامت کے دن منافقوں کے کانوں اور آنکھوں میں بھر جائے گا اور مومنوں کو مثل زکام کے ہوجائے گا۔ ہم وہاں سے جب واپس لوٹے اور حضرت ابن مسعود سے اس کا ذکر کیا تو آپ لیٹے لیٹے بےتابی کے ساتھ بیٹھ گئے اور فرمانے لگے اللہ عزوجل نے اپنے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 10–13

سورة الدُّخَان 11 رسول مبین کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ اس کا رسول ہونا اس کی سیرت، اس کے اخلاق و کردار اور اس کے کارناموں سے بالکل عیاں ہے۔ دوسرے یہ کہ اس نے حقیقت کو کھول، کھول کر بیان کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–16

معارف و مسائل آیت مذکورہ میں جس دخان مبین کا ذکر بطور پیشین گوئی کے آیا ہے کہا آپ انتظار کریں اس واضح دھوئیں کا جو آسمان پر ہوگا اور لوگوں پر چھا جائے گا، اس کے متعلق حضرات صحابہ وتابعین سے تین قول منقول ہیں۔ اول یہ کہ یہ علامات قیامت میں سے ایک علامت ہے جو قیامت کے بالکل قریب واقع ہوگی۔ یہ قول حضرت علی مرتضیٰ اور ابن عباس، ابن عمر، ابوہریرہ اور زید بن علی اور حسن بصری، ابن ابی ملیکہ وغیرہ کا ہے اور حضرت ابوسعید خدری اور حذیفہ بن اسید غفاری سے یہ قول مرفوعاً بھی روایت کیا گیا ہے جس کی تفصیل آگے آتی ہے دوسرا قول یہ ہے کہ پیش گوئی واقع ہوچکی ہے اور اس کا مصداق مکہ مکرمہ کا قحط ہے جو رسول اللہ ﷺ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ربنا اکشف عذا العذاب انا مئومنون (12) مشاہدہ عذاب کے بعد مغروروں کا حال ینی اس وقت تو یہ بہت اکڑ رہے اور بڑے طنطنہ سے عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن جب اس کی لپیٹ میں آجائیں گے تو فریاد کریں گے اے رب ! اس عذاب سے نجات دے۔ اب ہم ایمان لائے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 11–12

12۔ 1 پہلی تفسیر کی رو سے یہ کفار مکہ نے کہا اور دوسری تفسیر کی رو سے قیامت کے قریب کافر کہیں گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 12–16

4: یعنی اس وقت تو یہ عذاب ان سے دور کردیا جائے گا، لیکن جب قیامت میں ان کی پکڑ ہوگی، اس وقت انہیں پورے عذاب کا سامنا کرنا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 9–16

اس حد تک قرآن کے مخاطبین کو متاثر کرنے اور جوش دلانے اور حق کو قبول کرنے پر آمادہ کرنے کے بعد اب روئے سخن اچانک پھرتا ہے۔ اور تصویر کا دوسرا رخ پیش کیا جاتا کہ اس عظیم کتاب کی اس سعی کے بعد ان لوگوں کی حالت کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں ان لوگوں کی جو تصویر کی گئی ہے اسے ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ لیکن یہ لوگ اس قدر سنگ دل ہیں کہ اس قدر سنجیدہ کوششوں کے باوجود وہ ابھی تک اس تحریک کو مذاق ہی سمجھتے ہیں۔ آیت نمبر 9 تا 16 فرماتے ہیں کہ یہ تو اس قدر حکیمانہ اور عظیم الشان نظریہ اور نظام کے مقابلے میں غیر سنجیدہ رویہ اختیار کرتے ہیں اور ان نشانیوں میں شک کرتے ہیں جو ثابت شدہ ہیں لہٰذا ان کا صحیح علاج یہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی اس عذاب میں مبتلا ہو کر یوں کہیں گے کہ اب تو اس آفت سے نجات دیجئے آگے کو ہماری توبہ ! ہم کو اب یقین آگیا۔ پھر شرارت نہ کریں گے۔ پکے مسلمان بن کر رہیں گے۔ آگے اس کا جواب دیا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 12 { رَبَّنَا اکْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ اِنَّا مُؤْمِنُوْنَ } ”اُس وقت لوگ کہیں گے : اے ہمارے رب ! اس عذاب کو ہم سے دور کر دے ‘ ہم ایمان لانے والے ہیں۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 11–14

9 یعنی کبھی تو کہتے تھے کہ کوئی عجمی اسے قرآن سکھا جاتا ہے پھر وہ سے اپنی طرف سے ہم پر پیش کرکے کہتا ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے جو مجھ پر نازل ہوا ہے۔ اور جب آپ یہ دعویٰ کرتے تھے کہ اگر تم لوگ اللہ کی دعوت پر ایمان لے آؤ تو تم عرب و عجم کے مالک بن جاؤ گے۔ تو آپ کو دیوانہ کہنے لگتے تھے۔ گویا یہ دونوں الگ الگ مواقع پر کافروں کے الزامات ہیں۔ جو یہاں اکٹھے کردیئے گئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

10۔ یہ پیش گوئی اس طرح پوری ہوئی کہ قریش کے سردار ابو سفیان وغیرہ نے آپ ﷺ کو لکھا بھی اور آپ کے پاس آئے بھی کہ آپ سے دعاء کرائیں۔ لما اشتد القحط بقریش مشی ابوسفیان الی رسول اللہ ﷺ وناشدہ الرحم وواعدہ ان دعالھم وزال مابھم امنوا (روح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–29

آیت نمبر 1 تا 29 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس سے اللہ کی کیا مراد ہے ؟ وہی بہتر جانتا ہے قسم ہے واضح کتاب قرآن کی جو حلال کو حرام سے ممتاز کرنے والی ہے، یقیناً ہم نے اس کو بابرکت رات میں نازل کیا ہے اور وہ شب قدر یا شب نصف شعبان ہے، اسی رات میں قرآن کو ساتویں آسمان پر موجود لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل کیا گیا، بیشک ہم اس کے ذریعہ ڈرانے والے ہیں، اسی رات یعنی شب قدر یا شب نصف شعبان میں ہر محکم کام کا مثلاً روزی، موت وغیرہ جو اس سال اسی جیسی (آئندہ) رات تک ہونے والے ہوتے ہیں فیصلہ کیا جاتا ہے، ہمارے پاس سے حکم صادر ہو کر ہم ہی ہیں رسول بنا کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ربنا اکشف عنا العذاب انا مؤمنون (کافر کہیں گے :) اے ہمارے رب ! اس عذاب کو ہماری طرف سے دفع کر دے ‘ ہم ایمان لانے والے ہیں۔ ایمان لانے کو دفع عذاب سے مشروط کریں گے اور دفع عذاب کے ساتھ ایمان کے وعدہ کو وابستہ کریں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 11–12

(11۔ 12) جو ان سب پر عام ہوجائے یہ دھواں بھی ایک دردناک سزا ہے جو ان کو بھول کی حالت میں پیش آئے گی پھر یہ عرض کریں گے اے ہمارے رب ہم سے اس بھوک کی مصیبت کو دور کردیجیے ہم آپ پر اور آپ کی کتاب اور آپ کے رسول پر ایمان لے آئیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ربنا اکشف عنا العذاب انا مومنون : یعنی کفار عذاب دیکھ کر یہ بات کہیں گے، جیسا کہ فرعون کی قوم ہر عذاب آنے پر یہی وعدہ کرتی رہی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

وہ عرض کریں گے ہم سے عذاب کو دور کر دے ہم ایمان لانے والے ہیں اگر تو ہم سے اس عذاب کو دور کر دے گا تو ہم تجھ پر ایمان لانے والے ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے قریش نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کی : اگر اللہ تعالیٰ ہم سے اس عذاب کو دور کر دے تو ہم اسلام لے آئیں گے پھر انہوں نے وعدہ خلافی کی۔ قتادہ نے کہا : یہاں عذاب سے مراد دھواں ہے۔ (1) ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد بھوک ہے : نقاش نے اس کی حکایت بیان کی ہے۔ میں کہتا ہوں : کوئی تناقض نہیں کیونکہ دھواں اس بھوک کی وجہ سے تھا جو انہیں لاحق ہوئی جس طرح یہ بحث گزری ہے بعض اوقات بھوک اور قحط کو بھی دخان کہتے ہیں کیونکہ خشک سالی کی وجہ سے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 10–15

بطشۃ الکبری کا تذکرۃ : 1:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فارتقب “ سے مراد ہے انتظار کر۔ 2:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابی عبیدہ (رح) کے طریق سے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ دخان والی نشانی گزر چکی ہے۔ 3:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابی عبیدہ (رح) وابی الاحوص کے طریق سے عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ دھواں وہ بھوک تھی جو قریش کو پہنچی یہاں تک کہ ہر ایک ان میں بھوک کی وجہ سے آسمان کو نہ دیکھ سکتا تھا۔ 4:۔ ابن مردویہ (رح) نے عتبہ بن عبیداللہ بن عتبہ بن مسعود ؓ کے طریق سے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ دھواں والی نشانی گزر چکی ہے کہ لوگوں کو سخت بھوک پہنچی تھی یہاں تک کہ وہ اپنے آسمان کے درمیان…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

رَبَّنَا [ اے ہمارے رب ] اكْشِفْ عَنَّا [ تو ہٹا دے ہم سے ] الْعَذَابَ [ اس عذاب کو ] اِنَّا مُؤْمِنُوْنَ [ بیشک ہم ایمان لانے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 10–16

اس دن کا انتظار کیجیے جبکہ آسمان کی طرف سے لوگوں پر دھواں چھا جائے گا ہم بڑی پکڑ پکڑیں گے بیشک ہم انتقام لینے والے ہیں یہ سات آیات کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں فرمایا آپ اس دن کا انتظار کیجیے جس میں آسمان کی طرف ایک دھواں نظر آئے گا جو لوگوں پر چھا جائے گا۔ اسے دخان مبین کہتے ہیں۔ دخان سے کیا مراد ہے ؟ اس بارے میں ایک قول یہ ہے کہ یہ دھواں قیامت کی نشانیوں میں سے ہوگا جب ظاہر ہوگا تو زمین میں چالیس دن رہے گا اور آسمان اور زمین کے درمیان کو بھر دے گا۔ اس کی وجہ سے اہل ایمان کی کیفیت زکام جیسی ہوجائے گی اور کفار اور فجار کی ناکوں میں گھس جائے گا اور سانس لینے میں انہیں سخت تکلیف ہوگی۔ حضرت علی اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–29

بیان عظمت کتاب اللہ وبرکات زمانہ نزول قرآن مع دعوت ایمان وبدنصیبی محرومین واشقیاء از سعادت خداوندی : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” حم والکتب المبین ...... الی ....... انا منتقمون “۔ (ربط) گزشتہ سورتک مضمون توحید و رسالت کا اثبات تھا اور اس سے اختلاف واعراض کرنے والے مجرمین کی بدنصیبی کا ذکر کرتے ہوئے ان کے افسوس ناک عبرت ناک انجام کا بیان تھا اور اسی موضوع پر سورت کا مضمون ختم فرما دیا گیا تھا کہ اگر ان واقعات کو سن کر بھی قریش کے لوگ آنحضرت ﷺ پر ایمان نہیں لاتے تو ان کو سوچ لینا چاہئے کہ ایسا ہی عبرت ناک انجام ان کا بھی ہوگا، ساتھ ہی آپ ﷺ کو تسلی دینا بھی مقصود تھا کہ قریش مکہ کی مخالفت ودشمنی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 12–13

13:۔ ” انی لہم الذکری “ مشرکین کے نفاق اور ان کی دروغ گوئی کا بیان ہے۔ یعنی وہ جھوٹا عہد کر رہے ہیں اس سے ان کا مقصود صرف عذاب ہٹوانا ہے۔ صرف اتنی سی بات سے وہ کس طرح نصیحت حاصل کریں گے حالانکہ ان کے پاس مسئلہ توحید کو کھول کھول کر بیان کرنے والا رسول آچکا ہے۔ وہ اس کے وعظ و ارشاد سے متاثر نہیں ہوئے، بلکہ اس سے اعراض کیا اور کبھی کہتے ہیں وہ کسی سے سیکھ کر آتا ہے اور کبھی اسے دیوانہ کہتے ہیں۔ حالانکہ یہ دونوں باتیں ہی غلط ہیں۔ ایسے معاندین سے راہ راست پر آنے کی کیا توقع کی جاسکتی ہے۔ ” انا کاشفوا العذاب “ اچھا ہم کچھ وقت کے لیے عذاب اٹھا لیتے ہیں لیکن تم حسب وعدہ ایمان نہیں لاؤ گے، بلکہ کفر…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 9–16

ربط آیات سورۃ کے آغاز میں قرآن پاک کے لیلتہ القدر میں نزول کا بیان تھا۔ اللہ نے نزول قرآن کی غرض وغایت بھی بیان فرمائی ہے اور یہ بھی کہ اس ایک رات میں مستحکم فیصلے کئے جاتے ہیں۔ پھر اللہ نے انذار کا ذکر فرمایا کہ وہ اپنے رسولوں کے ذریعے لوگوں کو ان کے بر انجام سے ڈراتا ہے فرمایا نزول قرآن اس کی خاص مہربانی کا نتیجہ ہے۔ پھر اللہ نے اپنی توحید کا تذکرہ فرمایا کہ وہی سننے والا اور جاننے والا ہے آسمانوں ، زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا وہی پروردگار ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، زندگی اور موت اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ وہ موجودہ لوگوں کا بھی پروردگار ہے اور ان کے پہلے آبائو اجداد…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ اِنَّا مُؤْمِنُوْنَ۝ 12 رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 4–16

فیہا یفرق کل امرا حکیم امرامن عندنا کہ اس رات میں ہر حکمت کی بات بیان اور ظاہر کی جاتی ہے۔ یعنی جو حوادث دنیا میں ظاہر ہونے والے ہوتے ہیں (جیسا کہ کسی کا مرنا ‘ کسی کا امیر ہونا ‘ کسی کا فقیر ہونا ‘ بیمار و تندرست ہونا ‘ قحط و ارزانی کا ہونا ‘ سلطنت و حکومت کا تبدل و تغیر وغیرہ) ان کو بارگاہ قدس سے ملائکہ مدبران عالم پر ظاہر کیا جاتا ہے گو لوح محفوظ میں روز اول لکھے گئے تھے مگر اس رات میں انتظام عالم کے لیے ایک سال کے حوادث ان کے مدبر اور کارکن ملائکہ پر ظاہر کئے جاتے ہیں تاکہ اس کی تعمیل کریں۔ یہ اس رات کی بڑی عظمت و عزت ہے اس کے یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ عالم ناسوت میں جو معاملات ظہور کرنے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

رَبَّنَا اکْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ اِنَّا مُؤْمِنُوْنَ ۔ (الدخان : 12) (اے ہمارے رب ہم سے عذاب دور کردے ہم ایمان لانے والے بنیں گے۔ ) دو آیتوں کے درمیان یہاں ایک خلا ہے جو تحریر میں تو محسوس ہوتا ہے لیکن خطاب کے زیروبم کے دوران اور مخالفین کے طرزعمل کے پیش نظر یہ خلاء محسوس نہیں ہوتا۔ آیت کا مفہوم ان آیات کے نزول کے وقت قریش اور دیگر اہل مکہ کی طرف سے مخالفت شدت اختیار کرچکی تھی۔ وہ ایسا ہر حربہ آزمانے کی فکر میں تھے جس سے اس دین کی قبولیت کو ناممکن بنادیا جائے۔ چناچہ مخالفین کی نہایت برہنہ مخالفت کو دیکھتے ہوئے آنحضرت ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الٰہی جیسا قحط مصر میں یوسف (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 10–16

فہم القرآن ربط کلام : رب تعالیٰ کی ذات اور صفات میں شک کرنے والے لوگ قرآن مجید کو شغل کے طور پر لیتے ہیں اس پر ان لوگوں کو انتباہ کیا جاتا ہے۔ جو لوگ اپنے رب کو رب ماننے کے لیے تیار نہیں اور قرآن مجید کی دعوت کو کھیل کود سمجھتے ہیں انہیں ایک بار پھر انتباہ کیا جاتا ہے کہ وہ اس وقت کا انتظار کریں جب آسمان دھویں سے بھر جائے گا اور لوگوں کو بری طرح ڈھانپ لے گا۔ اس دن شک کرنے والوں کو اذیت ناک عذاب ہوگا۔ مجرم اپنے رب کے حضور فریاد پہ فریاد کریں گے کہ اے ہمارے رب ! اس عذاب کو ہم سے دور کردے یقیناً ہم تجھ پر ایمان لائیں گے۔ لیکن اس وقت نصیحت حاصل کرنے کا موقع گزرچکا ہوگا۔ کیونکہ اس سے پہلے رسول نے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 12 : رَبَّنَا اکْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ اِنَّا مُؤْمِنُوْنَ (اے ہمارے رب ہم سے اس مصیبت کو دور کر دے۔ ہم ضرور ایمان لے آئیں گے) یعنی اگر عذاب ہم سے ہٹا لیا جائے تو ابھی ہم ایمان لے آئیں گے۔ نحو : یہ فعل مضمر کی وجہ سے محلاً منصوب ہے اور وہ یقولون ہے۔ اور پھر یقولون خود حال ہونے کی وجہ سے منصوب المحل ہے۔ ای قائلین ذلک۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 11–12

اس کی اصل عبارت ، ھو عذاب الھی، ہے۔ یعنی یہ خدا کا عذاب ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ ان کے کلام کی حکایت ہو جو اس کے بعد ہے یعنی، یقول لون ھذا عذاب الیم، دخان سے کیا مرادہے اس دھویں میں مفسرین رحمہم اللہ کا اختلاف ہے مسروق (رح) سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص کندہ میں یہ حدیث بیان کررہا تھا کہ قیامت کے دن ایک دھواں آئے گا جو منافقوں کے کانوں اور آنکھوں کو پکڑلے گا اور مؤ منوں کی زکام کی حالت کی طرح حالت ہوگی تو ہم گھبراگئے تو میں ابن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں آیا، آپ ٹیک لگاکربیٹھے تھے سیدھے ہوکربیٹھ گئے۔ پھر فرمایا کہ جو شخص جانتا ہے وہک ہے اور جو نہیں جانتا وہ کہے اللہ اعلم…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–16

1۔ 16۔ حم و الکتب المبین کی تفسیر سورة الزحزف کے شروع میں گزر چکی ہے جس برکت والی رات کا ذکر ان آیتوں میں ہے اگرچہ بعض فسروں نے لکھا ہے کہ یہ برکت والی رات شعبان کی پندرھویں رات ہے لیکن یہ قول شھر رمضان الذی انزل فیہ القران کے مخالف ہے صحیح وہی حضرت عبد اللہ بن عباس کا قول ہے جس کو نسائی 1 ؎ اور حاکم وغیرہ نے معتبر سند سے روایت کیا ہے کہ شب قدر میں ایک دفعہ سارا قرآن لوح محفوظ سے اول آسمان پر نازل ہوا پھر ہر ایک موقع پر ہر ایک آیت حضرت جبرئیل آنحضرت ﷺ کے پاس تشریف لائے۔ صحیح بخاری 2 ؎ میں حضرت عائشہ اور حضرت عبد اللہ بن عباس سے جو روایتیں ہیں۔ ان میں اللہ کے رسول ﷺ نے یہ صاف جتلا دیا ہے کہ شب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–16

آیت 1 یہ قرآن پر قرآن ہی کی قسم ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کتاب مبین کی قسم کھائی جو ہر اس چیز کے لئے ہے جس کے بیان کی حاجت ہے۔ بیشک وہ اتاری گئی ہے (فی لیلۃ مبرکۃ) یعنی خیر کثیر اور بکت والی رات میں، اس سے مراد لیلۃ القدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ یقیناً اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہترین کلام کو سب راتوں اور دنوں سے افضل رات میں مخلوق میں سے افضل ہستی پر معززین اہل عرب کی زبان میں نازل فرمایا ات کہ اس کے ذریعے سے ان لوگوں کو ڈرائے جنہیں جہالت نے اندھا کر رکھا ہے اور بدبختی ان پر غالب آچکی ہے۔ پس وہ اس کے نور سے روشنی حاصل کریں، اس کی ہدایت کو اختیار کریں اور اس کے پیچھے چلیں، اس طرح انہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

15 منکرین و مکذبین کی دعاء کا ذکر : یعنی اس وقت منکرین اللہ کے حضور اس عذاب کے ٹالنے کی دعا و درخواست کریں گے کہ اے ہمارے رب ہم سے اس عذاب کو ٹال دے۔ ہم ضرور ایمان لے آئیں گے۔ جیسا کہ ابو سفیان اور دوسرے کفار نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا تھا۔ اور اس طرح یہ پیشینگوئی جلد ہی پوری ہوگئی۔ اور ابن عباس کے قول پر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اے ہمارے رب ہم سے یہ عذاب ہٹا دے کہ اب ہم ایمان لے آئے مگر وہ ایمان معتبر نہیں ہوگا کہ وہ ایمان بالشہود والمشاہدہ ہوگا جو کہ وہ لوگ عالم آخرت میں کشف حقائق کے بعد لائیں گے۔ جب کہ اصل مقصود اور مطلوب وہ ایمان ہے جو کہ بالغیب اور بن دیکھے ہو اور جس کا موقع…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–37

قرآن سچ ہے اور اس کے علاہ سب غلط ہے تشریح : ان تمام آیات میں اللہ کی ان تدابیر کا ذکر کیا گیا ہے جو اس نے کائنات کے لیے مرتب کر رکھی ہیں۔ مثلاً میجر جنرل غلام محمد ملک صاحب اس کی بڑے خوبصورت انداز میں یوں وضاحت کرتے ہیں : فلسفہ تاریخ جس طرح سیاسی واقعات کی تکرار اور حوادث کے بار بار اعادہ سے اصول اور نتائج تک پہنچ کر ایک عام تاریخی قانون بنا لیتا ہے اسی طرح انبیاء علیھم السلام کے سوانح اور تاریخیں بھی اپنے واقعات کے بار بار اعادہ سے خصائصِ نبوت کا اصول قانون ہمارے لیے مرتب کرتی ہے۔ پیغمبرانہ تاریخ کے انہی اصول و قوانین میں سے ایک یہ ہے کہ نبی جب اپنے کمال انسانیت کو پہنچ کر فیضان نبوت کے قبول…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–29

آیات 1 تا 29۔ اسرار ومعارف۔ حم۔ اس کتاب واضح کی قسم ہے یعنی یہ دلائل سے حق کو واضح کردینے والی کتاب اس پر گواہ ہے جسے ہم نے ایک بہت بابرکت شب کو لوح محفوظ سے سماء دنیا پر نازل فرمایا کہ اس کے نزول سے مراد مخلوق کو صحیح راہ عمل دکھانا اور اعمال بد کے بد انجام سے بروقت خبر دینا ہے کہ وہ اپنی راہ متعین کرسکیں لیلہ مبارکہ : لیلہ مبارکہ سے مراد مفسرین کرام سے لیلۃ القدر ہے کہ قرآن کریم کی دوسری آیات سے اس کی تعیین ہوجاتی ہے نیز نزول قران رمضان المبارک ہی میں ہوا اور جو بات نصف شعبان کی شب کے بارے مشہور ہے ، اس کی سندیں ضعیف ہیں اس لیے اکثر علماء نے اسے قبول نہیں کیا ، اور بعض نے اس کی فضیلت اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 12–20

ف 3 یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آچکا ہوں جو میرا ہی نہیں تمہارا بھی مالک ہے۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں۔ شاید وہ ڈراتے ہونگے اس سے ( موضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(44:12) ربنا اکشف عنا العذاب انا موقنون : ای یقولون ربنا ۔۔ الخ وہ کہہ اٹھیں گے۔ اکشف امر کا صیغہ واحد حاضر۔ کشف (باب ضرب) مصدر کھولنا۔ اٹھا دینا۔ دور کرنا (اے ہمارے رب یہ عذاب ہم سے دور کر دے۔ العذاب : وہ عذاب جس کا ذکر ہو رہا ہے۔ انا مؤمنون ہم ایمان لاتے ہیں اس کی دونوں صورتیں ہوسکتی ہیں۔ یہ کہ ہم سے عذاب کو ہٹالے ہم ایمان لے آتے ہیں۔ یا ہم ایمان لے آئے ہم سے عذاب کو دور کر دے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–16

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 16 : لیلۃ مبارکۃ (برکت والی رات) یفرق (وہ جدا کردیتا ہے، الگ کردیتا ہے) امر حکیم ( حکمت بھرا فیصلہ) ارتقب (تو انتظارکر ، راہ دیکھ) دخان ( دھواں) یغشی (وہ ڈھانپ لے گا) معلم ( پڑھایا گیا) عائدون ( وہ لوٹنے والے ہیں) البطشۃ (سخت پکڑ) تشریح : آیت نمبر 1 تا 16 : قرآن کریم میں سات سورتیں وہ ہیں جن کی ابتداء ” حم ‘ ‘ سے کی گئی ہے۔ احادیث میں ان سات سورتوں کے بہت سے فضائل بیان کئے گئے ہیں ۔ ان ہی میں سے یہ پانچویں سورت ہے۔ ” حا۔ میم “ حروف مقطعات میں سے ہیں جن کی تفصیل اس سے پہلی سورتوں میں بیان کردی گئی ہے۔ علماء مفسرین نے بیان کیا ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد کا علم اللہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 7–16

علامات قیامت۔ (ف 1) اللہ آسمانوں اور زمین کا مالک اور پروردگار ہے اور جو ان میں اور ان کے درمیان میں عجائب غرائب ہیں مشرکین اگر تم سمجھو اور مانو تو آیات قدرت بہت واضح ہیں، اس کے سوا کوئی لائق معبود نہیں جہان کا کوئی خالق نہیں وہ تو جلاتا ہے اور وہی مارتا ہے دنیا میں مارے گا قیامت کو جلائے گا تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا سب کا پروردگار خالق ہے، اے محبوب ﷺ یہ کفار نہیں مانتے بلکہ یہ توحید ورسول وقیامت وغیرہ کی طرف سے شک میں پڑے ہیں اور دنیا کے کھیل کود میں مصروف ہیں آخرت کی فکر نہیں جو حق کو طلب کریں اور اس میں غوروفکر سے کام لیں، یہ اس دھوکہ میں ہیں ہمیشہ یوں ہی رہنا خدا کے سامنے کبھی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 11–32

دھوئیں کا عذاب 1: مکہ والوں نے جب حضور ﷺ کے پیغام توحید کو ٹھکرایا اور انتہائی تحقیر وتذلیل کے ساتھ آپ کا خیرمقدم کیا ۔ تو اس وقت آپ کی زبان الہام ترجمان سے یہ کلمات بےاختیار نکل گئے ۔ کہ اے اللہ ان لوگوں پر اس قحط کا عذاب نازل کر جو تونے یوسف کے زمانہ میں نازل کیا تھا ۔ بس ان الفاظ کا حضور ﷺ کے منہ سے نکلنا تھا ۔ کہ اجابت نے ہاتھوں ہاتھ لیا ۔ آسمان نے رحمت کے دراوزوں کو ان پر بند کرلیا ۔ زمین میں خشک ہوگئی ۔ اور قحط وجوع نے قریش کو آزمائش میں ڈال دیا ۔ اس قدر فاقے ہونے لگے ۔ کہ بھوک کے مارے ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے دھواں سا معلوم ہونے لگا ۔ زندگی کے لئے یہ لوگ مجبور ہوگئے ۔ کہ مردار…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(12) اے ہمارے پروردگار ہم سے اس آفت کو دور کردے اور اس قحط کو ہٹالے ہم ضرور ایمان لے آئیں گے۔ یعنی اس بھوک اور قحط کے دور ہوتے ہی ہم ایمان لے آئیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 12–17

ف 6۔ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) ۔ (فائدہ) پیغمبر کے آنے سے آزمائش یہ ہوتی ہے کہ کون ایمان لاتا ہے اور کون نہیں لاتا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

لوگ کہیں گے کہ پروردگار ہم سے عذاب ٹال دے ہم ایمان لاتے ہیں 21 ؎ اس وقت لوگ پکار اٹھیں گے کہ اے ہمارے رب ! اس عذاب کو ہم سے ٹال دے ، ہم ایمان لانے والے ہیں۔ ان کی اس بات نے گویا ثابت کردیا کہ ” لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے “ آرام اور پیار سے ان کو سمجھایا گیا لیکن ان کے کان پر جوں تک نہ رینگی لیکن جونہی اس عذاب الٰہی کا جھنجھوڑا آیا تو رام رام کرنے لگے۔ کہاں وہ وقت کہ با آواز بلند مطالبہ جاری تھا کہ عذاب ، عذاب جو تم کرتے رہتے ہو اگر فی الواقع کوئی عذاب ہے تو وہ آکیوں نہیں جاتا اور کہاں یہ وقت کہ عذاب کو دیکھتے ہی جب یقین آگیا ہے کہ یہ دھواں دواں کچھ نہیں ہے یہ تو وہی عذاب ہے تو اب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 11–19

Commentary دُخَانٍ مُّبِينٍ...visible smoke" in verse (10) embodies a prophecy and the Prophet ﷺ was asked to watch for the Day when the sky will bring forth a manifest smoke covering the people. There are three opinions recorded about this from the Companions and their pupils. The first view is that the smoke is one of the portents of the Day of Judgment which will occur very close to the Day of Judgment. This view is held by Sayyidna al-Murtada, Ibn ` Abbas, Ibn ` Umar, Abu Hurairah, Zaid Ibn ` Ali ؓ ، Hasan al-Basri Ibn Abi Mulaikah and others رحمۃ اللہ علیہم . This view is recorded…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 10–13

11 Rasul-i-mubin has two meanings: (1) His being a Messenger is quite evident from his character, his morals and his works; and (2) he has made every effort to make the truth plain and clear.

Read the full tafseer →