Ad-Dukhaan 44:13

Ad-Dukhaan · from ayah 13

44:13

اَنّٰی لَهُمُ الذِّكْرٰی وَقَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ ۟ۙاَنّٰى لَهُمُ الذِّكۡرٰى وَقَدۡ جَآءَهُمۡ رَسُوۡلٌ مُّبِيۡنٌۙ

(اس وقت) ان کو نصیحت کہاں مفید ہوگی جب کہ ان کے پاس پیغمبر آچکے جو کھول کھول کر بیان کر دیتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

How will there be for them a reminder [at that time]? And there had come to them a clear Messenger.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Ad-Dukhaan

All translations of 44:13

اِن کی غفلت کہاں دور ہوتی ہے؟ اِن کا حال تو یہ ہے کہ اِن کے پاس رسول مبین آ گیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اس وقت) ان کو نصیحت کہاں مفید ہوگی جب کہ ان کے پاس پیغمبر آچکے جو کھول کھول کر بیان کر دیتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان کے لیے نصیحت کہاں ہے؟ کھول کھول کر بیان کرنے والے پیغمبران کے پاس آچکے

— مولانا محمد جوناگڑہی

ان کو نصیحت کہاں ہوتی ہے ؟ حالانکہ ان کے پاس ایسا پیغمبر آیا ہے جس نے حقیقت کو کھول کر رکھ دیا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کہاں سے ہو انہیں نصیحت ماننا حالانکہ ان کے پاس صاف بیان فرمانے والا رسول تشریف لاچکا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اب اُن کا نصیحت ماننا کہاں (مفید) ہو سکتا ہے حالانکہ ان کے پاس واضح بیان فرمانے والے رسول آچکے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ان کے لیے نصیحت کہاں ؟ حالانکہ یقینا ان کے پاس بیان کرنے والا رسول آ چکا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس وقت انہیں نصیحت کیونکر کارگر ہوگی حالانکہ ان کے پاس کھول کر بیان کرنے والا رسول آچکا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اب ان کے لئے نصیحت پکڑنے کا کہاں موقع باقی رہا ! ان کے پاس تو ایک واضح کردینے والا رسول آچکا تھا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(مگر) کہاں (اور کیسے) کام آئے ان کو نصیحت حالانکہ (اس سے پہلے) ان کے پاس آچکے (حق اور حقیقت کو) کھول کر بیان کرنے والے ایک عظیم الشان رسول

— مولانا اسحاق مدنی

ان کو کب (اس سے) نصیحت ہوتی ہے حالانکہ ان کے پاس پیغمبر کھلے ہوئے (دلائل کے ساتھ) آچکا ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کہاں ہے ان کے لیے یاد دہانی کی استعداد جبکہ آچکا ہے ان کے پاس ایک واضح کردینے والا رسول

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس وقت ان کو نصیحت کیا کام دے گی جب ان کے پاس پیغمبر آچکے جو کھول کھول کر بیان کردیتے تھے

— محترمہ رفعت اعجاز

But how will they take heed? Such are they that a Messenger came to them clearly expounding the Truth,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

How will they take lesson, while there has already come to them a messenger making things clear?

— Muhammad Taqi Usmani

How will they take lesson, while there has already come to them a messenger making things clear?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

How can there be for them an admonition, when a Messenger explaining things clearly has already come to them.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

How can there be remembrance for them, when a messenger making plain (the Truth) had already come unto them,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

How will there be for them a reminder [at that time]? And there had come to them a clear Messenger.

— Saheeh International

How could this punishment bring them to their senses when a Messenger evidently had come to them,

— Muhammad Sarwar

How shall they be reminded, and there came to them an Apostle making clear (the truth),

— Muhammad Habib Shakir

How can there be an admonition Unto them, when surely there came Unto them an apostle manifest!

— Abdul Majid Daryabadi

How shall the message be (effectual) for them, seeing that an Messenger explaining things clearly has (already) come to them,-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 44:13

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 9–16

دھواں ہی دھواں اور کفار فرماتا ہے کہ حق آچکا اور یہ شک شبہ میں اور لہو لعب میں مشغول و مصروف ہیں انہیں اس دن سے آگاہ کر دے جس دن آسمان سے سخت دھواں آئے گا حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ کوفے کی مسجد میں گئے جو کندہ کے دروازوں کے پاس ہے تو دیکھا کہ ایک حضرت اپنے ساتھیوں میں قصہ گوئی کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس آیت میں جس دھوئیں کا ذکر ہے اس سے مراد وہ دھواں ہے جو قیامت کے دن منافقوں کے کانوں اور آنکھوں میں بھر جائے گا اور مومنوں کو مثل زکام کے ہوجائے گا۔ ہم وہاں سے جب واپس لوٹے اور حضرت ابن مسعود سے اس کا ذکر کیا تو آپ لیٹے لیٹے بےتابی کے ساتھ بیٹھ گئے اور فرمانے لگے اللہ عزوجل نے اپنے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 10–13

سورة الدُّخَان 11 رسول مبین کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ اس کا رسول ہونا اس کی سیرت، اس کے اخلاق و کردار اور اس کے کارناموں سے بالکل عیاں ہے۔ دوسرے یہ کہ اس نے حقیقت کو کھول، کھول کر بیان کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–16

معارف و مسائل آیت مذکورہ میں جس دخان مبین کا ذکر بطور پیشین گوئی کے آیا ہے کہا آپ انتظار کریں اس واضح دھوئیں کا جو آسمان پر ہوگا اور لوگوں پر چھا جائے گا، اس کے متعلق حضرات صحابہ وتابعین سے تین قول منقول ہیں۔ اول یہ کہ یہ علامات قیامت میں سے ایک علامت ہے جو قیامت کے بالکل قریب واقع ہوگی۔ یہ قول حضرت علی مرتضیٰ اور ابن عباس، ابن عمر، ابوہریرہ اور زید بن علی اور حسن بصری، ابن ابی ملیکہ وغیرہ کا ہے اور حضرت ابوسعید خدری اور حذیفہ بن اسید غفاری سے یہ قول مرفوعاً بھی روایت کیا گیا ہے جس کی تفصیل آگے آتی ہے دوسرا قول یہ ہے کہ پیش گوئی واقع ہوچکی ہے اور اس کا مصداق مکہ مکرمہ کا قحط ہے جو رسول اللہ ﷺ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 13–14

انی لھم الذکری وقد حآء ھم رسول مبین، ثم تولوا عنہ وقالوا معلم مجنون (14-13) یہ وہ جواب ہے جو ان لوگوں کو اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا جائے گا۔ فرمایا کہ عذاب آجانے کے بعد قبول نصیحت کا کہاں موقع باقی رہے گا چ بالخصوص جبکہ ان کے پاس اتمام حجت کے لئے اللہ نے اپنا ایک رسول بھی بھیج دیا تھا جس نے ہر بات کی اچھی طرح وضاحت کردی تھی لیکن انہوں نے نہایت تکبر کے ساتھ اس سے منہ موڑا اور اس پر یہ الزام لگایا کہ یہ دوسروں کا سکھایا پڑھایا ہوا ہے جس کو عذاب و قیامت کا مالیخولیا ہوگیا ہے۔ اب تو بہ کا وقت گزر چکا توبہ کا وقت وہ تھا جب رسول توبہ کی منادی کر رہا تھا۔ وہ وقت انہوں نے کھو دیا تو اب وہ ان کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 13–16

16۔ 1 اس سے مراد جنگ بدر کی گرفت ہے، جس میں ستر کافر مارے گئے اور ستر قیدی بنا لئے گئے۔ دوسری تفسیر کی رو سے یہ سخت گرفت قیامت والے دن ہوگی۔ امام شوکانی فرماتے ہیں کہ یہ اس گرفت خاص کا ذکر ہے جو جنگ بدر میں ہوئی، کیونکہ قریش کے سیاق میں ہی اس کا ذکر ہے، اگرچہ قیامت والے دن بھی اللہ تعالیٰ سخت گرفت فرمائے گا تاہم وہ گرفت عام ہوگی، ہر نافرمان اس میں شامل ہوگا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 12–16

4: یعنی اس وقت تو یہ عذاب ان سے دور کردیا جائے گا، لیکن جب قیامت میں ان کی پکڑ ہوگی، اس وقت انہیں پورے عذاب کا سامنا کرنا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 9–16

اس حد تک قرآن کے مخاطبین کو متاثر کرنے اور جوش دلانے اور حق کو قبول کرنے پر آمادہ کرنے کے بعد اب روئے سخن اچانک پھرتا ہے۔ اور تصویر کا دوسرا رخ پیش کیا جاتا کہ اس عظیم کتاب کی اس سعی کے بعد ان لوگوں کی حالت کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں ان لوگوں کی جو تصویر کی گئی ہے اسے ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ لیکن یہ لوگ اس قدر سنگ دل ہیں کہ اس قدر سنجیدہ کوششوں کے باوجود وہ ابھی تک اس تحریک کو مذاق ہی سمجھتے ہیں۔ آیت نمبر 9 تا 16 فرماتے ہیں کہ یہ تو اس قدر حکیمانہ اور عظیم الشان نظریہ اور نظام کے مقابلے میں غیر سنجیدہ رویہ اختیار کرتے ہیں اور ان نشانیوں میں شک کرتے ہیں جو ثابت شدہ ہیں لہٰذا ان کا صحیح علاج یہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 13–14

11 یعنی اب موقع سمجھنے اور نصیحت سے فائدہ اٹھانے کا کہاں رہا۔ اس وقت تو مانا نہیں جب ہمارا پیغمبر کھلے کھلے نشان اور کھلی کھلی ہدایات لے کر آیا تھا۔ اس وقت کہتے تھے کہ یہ باؤلا ہے۔ کبھی کہتے کہ کسی دوسرے سے سیکھ کر اس نے یہ کتاب تیار کرلی ہے (ابن عباس کی تفسیر پر یہ مطلب ہوا) اور ابن مسعود کی تفسیر کے موافق یہ معنی ہوں گے کہ اہل مکہ نے قحط وغیرہ سے تنگ آکر درخواست کی کہ یہ آفت ہم سے دور کیجیے۔ بعض روایات میں ہے کہ ابو سفیان وغیرہ نے حضور ﷺ کی خدمت میں فریاد کی کہ آپ تو کہتے ہیں کہ میں رحمت ہوں اور یہ آپ کی قوم قحط و خشک سالی سے تباہ ہو رہی ہے۔ ہم آپ ﷺ کو رحم اور قرابت کا واسطہ دیتے ہیں کہ اس…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 13 { اَنّٰی لَہُمُ الذِّکْرٰی وَقَدْ جَآئَ ہُمْ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ } ”کہاں ہے ان کے لیے یاد دہانی کی استعداد ‘ جبکہ آچکا ہے ان کے پاس ایک واضح کردینے والا رسول !“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 11–14

9 یعنی کبھی تو کہتے تھے کہ کوئی عجمی اسے قرآن سکھا جاتا ہے پھر وہ سے اپنی طرف سے ہم پر پیش کرکے کہتا ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے جو مجھ پر نازل ہوا ہے۔ اور جب آپ یہ دعویٰ کرتے تھے کہ اگر تم لوگ اللہ کی دعوت پر ایمان لے آؤ تو تم عرب و عجم کے مالک بن جاؤ گے۔ تو آپ کو دیوانہ کہنے لگتے تھے۔ گویا یہ دونوں الگ الگ مواقع پر کافروں کے الزامات ہیں۔ جو یہاں اکٹھے کردیئے گئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 13–14

11۔ بیسویں صدی کے بڑے بڑے فرنگی ” علماء ومحققین “ آخر اس منزل سے آگے نہ بڑھ سکے جو معاند کفار ومشرکین قریش کی تھی ! وہ لوگ بھی قرآن کے لفظی ومعنوی اعجاز کی طرف سے آنکھیں بندکئے یہی رٹ لگائے ہوئے تھے کہ یہ کلام کسی اور کا سکھایا پڑھایا ہوا ہے۔ اور آج یورپ وامری کہ کے بڑے بڑے مشتشرقین کا بھی ” منتہائے تحقیق “ بس اسی قدر ہے کہ یہ کتاب محمد عربی ﷺ نے کچھ ادھر ادھر سے سن سنا کر تیار کردی ہے ! (آیت) ” رسول مبین “۔ یعنی ایسے پیغمبر جن کی صداقت وحقانیت دلائل ومعجزات کی کثرت سے بالکل واضح وظاہر ہے۔ اے رسول عظیم الشان ظاھر امر رسالتہ بالایات والمعجزات (روح) وھو ماظھر علی رسول اللہ ﷺ من الایات والبینات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–29

آیت نمبر 1 تا 29 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس سے اللہ کی کیا مراد ہے ؟ وہی بہتر جانتا ہے قسم ہے واضح کتاب قرآن کی جو حلال کو حرام سے ممتاز کرنے والی ہے، یقیناً ہم نے اس کو بابرکت رات میں نازل کیا ہے اور وہ شب قدر یا شب نصف شعبان ہے، اسی رات میں قرآن کو ساتویں آسمان پر موجود لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل کیا گیا، بیشک ہم اس کے ذریعہ ڈرانے والے ہیں، اسی رات یعنی شب قدر یا شب نصف شعبان میں ہر محکم کام کا مثلاً روزی، موت وغیرہ جو اس سال اسی جیسی (آئندہ) رات تک ہونے والے ہوتے ہیں فیصلہ کیا جاتا ہے، ہمارے پاس سے حکم صادر ہو کر ہم ہی ہیں رسول بنا کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

انی لھم الذکری وقد جاء ھم رسول مبین۔ انکو اس سے کہاں نصیحت ہوتی ہے ‘ حالانکہ اس سے پہلے ان کے پاس کھول کر بیان کرنے والا پیغمبر آیا ‘

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

حالانکہ ان کے پاس رسولا کرم تشریف لاچکے ہیں جو ان کو ایسی زبان میں سمجھاتے ہیں جسے یہ سمجھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 13–14

انی لھم الذکری وقد جآء ھم رسول مبین …: یعنی انھیں دھوئیں کے عذاب کی دلیل سے نصیحت کیسے ہوگی جب کہ ان کے پاس اس سے بہت ہی بڑی دلیل پہلے آچکی اور وہ ہے رسول مبین، جس کا رسول ہونا بالکل واضح ہے اور جس نے ہر بات کھول کر بیان کردی ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے منہ موڑ لیا اور کہنے لگے کہ یہ کسیک ا سکھایا ہوا ہے، دیوانہ ہے۔”ثم“ (پھر) کا لفظ ان کے حال پر تعجب کے اظہار کے لئے ہے کہ رسول مبین کا آنا اس قدر واضح اور روشن نشانی تھی کہ اسے نہ ماننے کی گنجائش ہی نہ تھی، پھر بھی انہوں نے اس پر معلم اور مجنون کا بہتان لگا کر ایمان لانے سے اناکر کردیا۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے کلام مختصر کردیا ہے، ورنہ یہ ایک شخص یا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

یعنی ان کے لئے عذاب کے نازل ہونے کے وقت کہاں سے نصیحت ہوگی : یعنی ایسا رسل جو ان کے لئے حق کو واضح کرتا ہے ذکری اور ذکر ایک ہی چیز ہیں، یہ امام بخاری کا قول ہے (3)

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 10–15

بطشۃ الکبری کا تذکرۃ : 1:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فارتقب “ سے مراد ہے انتظار کر۔ 2:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابی عبیدہ (رح) کے طریق سے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ دخان والی نشانی گزر چکی ہے۔ 3:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابی عبیدہ (رح) وابی الاحوص کے طریق سے عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ دھواں وہ بھوک تھی جو قریش کو پہنچی یہاں تک کہ ہر ایک ان میں بھوک کی وجہ سے آسمان کو نہ دیکھ سکتا تھا۔ 4:۔ ابن مردویہ (رح) نے عتبہ بن عبیداللہ بن عتبہ بن مسعود ؓ کے طریق سے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ دھواں والی نشانی گزر چکی ہے کہ لوگوں کو سخت بھوک پہنچی تھی یہاں تک کہ وہ اپنے آسمان کے درمیان…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَنّٰى لَهُمُ [ کہاں سے ہوگی ان کیلئے ] الذِّكْرٰى [ بڑی نصیحت ] وَ [ اس حال میں کہ ] قَدْ جَاۗءَهُمْ [ آچکے ان کے پاس ] رَسُوْلٌ مُّبِيْنٌ [ واضح کرنے والے رسول ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 10–16

اس دن کا انتظار کیجیے جبکہ آسمان کی طرف سے لوگوں پر دھواں چھا جائے گا ہم بڑی پکڑ پکڑیں گے بیشک ہم انتقام لینے والے ہیں یہ سات آیات کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں فرمایا آپ اس دن کا انتظار کیجیے جس میں آسمان کی طرف ایک دھواں نظر آئے گا جو لوگوں پر چھا جائے گا۔ اسے دخان مبین کہتے ہیں۔ دخان سے کیا مراد ہے ؟ اس بارے میں ایک قول یہ ہے کہ یہ دھواں قیامت کی نشانیوں میں سے ہوگا جب ظاہر ہوگا تو زمین میں چالیس دن رہے گا اور آسمان اور زمین کے درمیان کو بھر دے گا۔ اس کی وجہ سے اہل ایمان کی کیفیت زکام جیسی ہوجائے گی اور کفار اور فجار کی ناکوں میں گھس جائے گا اور سانس لینے میں انہیں سخت تکلیف ہوگی۔ حضرت علی اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–29

بیان عظمت کتاب اللہ وبرکات زمانہ نزول قرآن مع دعوت ایمان وبدنصیبی محرومین واشقیاء از سعادت خداوندی : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” حم والکتب المبین ...... الی ....... انا منتقمون “۔ (ربط) گزشتہ سورتک مضمون توحید و رسالت کا اثبات تھا اور اس سے اختلاف واعراض کرنے والے مجرمین کی بدنصیبی کا ذکر کرتے ہوئے ان کے افسوس ناک عبرت ناک انجام کا بیان تھا اور اسی موضوع پر سورت کا مضمون ختم فرما دیا گیا تھا کہ اگر ان واقعات کو سن کر بھی قریش کے لوگ آنحضرت ﷺ پر ایمان نہیں لاتے تو ان کو سوچ لینا چاہئے کہ ایسا ہی عبرت ناک انجام ان کا بھی ہوگا، ساتھ ہی آپ ﷺ کو تسلی دینا بھی مقصود تھا کہ قریش مکہ کی مخالفت ودشمنی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 12–13

13:۔ ” انی لہم الذکری “ مشرکین کے نفاق اور ان کی دروغ گوئی کا بیان ہے۔ یعنی وہ جھوٹا عہد کر رہے ہیں اس سے ان کا مقصود صرف عذاب ہٹوانا ہے۔ صرف اتنی سی بات سے وہ کس طرح نصیحت حاصل کریں گے حالانکہ ان کے پاس مسئلہ توحید کو کھول کھول کر بیان کرنے والا رسول آچکا ہے۔ وہ اس کے وعظ و ارشاد سے متاثر نہیں ہوئے، بلکہ اس سے اعراض کیا اور کبھی کہتے ہیں وہ کسی سے سیکھ کر آتا ہے اور کبھی اسے دیوانہ کہتے ہیں۔ حالانکہ یہ دونوں باتیں ہی غلط ہیں۔ ایسے معاندین سے راہ راست پر آنے کی کیا توقع کی جاسکتی ہے۔ ” انا کاشفوا العذاب “ اچھا ہم کچھ وقت کے لیے عذاب اٹھا لیتے ہیں لیکن تم حسب وعدہ ایمان نہیں لاؤ گے، بلکہ کفر…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 9–16

ربط آیات سورۃ کے آغاز میں قرآن پاک کے لیلتہ القدر میں نزول کا بیان تھا۔ اللہ نے نزول قرآن کی غرض وغایت بھی بیان فرمائی ہے اور یہ بھی کہ اس ایک رات میں مستحکم فیصلے کئے جاتے ہیں۔ پھر اللہ نے انذار کا ذکر فرمایا کہ وہ اپنے رسولوں کے ذریعے لوگوں کو ان کے بر انجام سے ڈراتا ہے فرمایا نزول قرآن اس کی خاص مہربانی کا نتیجہ ہے۔ پھر اللہ نے اپنی توحید کا تذکرہ فرمایا کہ وہی سننے والا اور جاننے والا ہے آسمانوں ، زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا وہی پروردگار ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، زندگی اور موت اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ وہ موجودہ لوگوں کا بھی پروردگار ہے اور ان کے پہلے آبائو اجداد…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَنّٰى لَہُمُ الذِّكْرٰى وَقَدْ جَاۗءَہُمْ رَسُوْلٌ مُّبِيْنٌ۝ 13 ۙ أنى أَنَّى للبحث عن الحال والمکان، ولذلک قيل : هو بمعنی كيف وأين «4» ، لتضمنه معناهما، قال اللہ عزّ وجل : أَنَّى لَكِ هذا [ آل عمران/ 37] ، أي : من أين، وكيف . ( انیٰ ) انی۔ یہ حالت اور جگہ دونوں کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اس لئے بعض نے کہا ہے کہ یہ بمعنیٰ این اور کیف ۔ کے آتا ہے پس آیت کریمہ ؛۔ { أَنَّى لَكِ هَذَا } ( سورة آل عمران 37) کے معنی یہ ہیں کہ کھانا تجھے کہاں سے ملتا ہے ۔ ( قَدْ ) : حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 4–16

فیہا یفرق کل امرا حکیم امرامن عندنا کہ اس رات میں ہر حکمت کی بات بیان اور ظاہر کی جاتی ہے۔ یعنی جو حوادث دنیا میں ظاہر ہونے والے ہوتے ہیں (جیسا کہ کسی کا مرنا ‘ کسی کا امیر ہونا ‘ کسی کا فقیر ہونا ‘ بیمار و تندرست ہونا ‘ قحط و ارزانی کا ہونا ‘ سلطنت و حکومت کا تبدل و تغیر وغیرہ) ان کو بارگاہ قدس سے ملائکہ مدبران عالم پر ظاہر کیا جاتا ہے گو لوح محفوظ میں روز اول لکھے گئے تھے مگر اس رات میں انتظام عالم کے لیے ایک سال کے حوادث ان کے مدبر اور کارکن ملائکہ پر ظاہر کئے جاتے ہیں تاکہ اس کی تعمیل کریں۔ یہ اس رات کی بڑی عظمت و عزت ہے اس کے یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ عالم ناسوت میں جو معاملات ظہور کرنے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 13–14

اَنّٰی لَھُمُ الذِّکْرٰی وَقَدْ جَآئَ ھُمْ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ۔ ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْہُ وَقَالُوْا مُعَلَّمٌ مَّجْنُوْنٌ۔ (الدخان : 13، 14) (ان کے لیے نصیحت پکڑنے کا موقع کہاں، ان کے پاس ایک رسول مبین آچکا۔ تو انھوں نے اس سے منہ موڑا اور کہا : یہ تو ایک سکھایا پڑھایا دیوانہ ہے۔ ) مخالفین کے رویئے کا نتیجہ یعنی یہ لوگ اس قحط کی ہولناکی کو دیکھ کر ایمان لانے کی بات تو کرتے ہیں لیکن ان کے طرزعمل کو دیکھتے ہوئے اس کی توقع کرنا بہت مشکل ہے۔ اندازہ کیجیے کہ ان کی ہدایت کے لیے ایک ایسا رسول آچکا ہے جو ہر لحاظ سے ایک رسول مبین ہے یعنی اس کی دعوت کی پشت پر چالیس سال کا بےعیب کردار ہے۔ اور نبوت کے اعلان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 10–16

فہم القرآن ربط کلام : رب تعالیٰ کی ذات اور صفات میں شک کرنے والے لوگ قرآن مجید کو شغل کے طور پر لیتے ہیں اس پر ان لوگوں کو انتباہ کیا جاتا ہے۔ جو لوگ اپنے رب کو رب ماننے کے لیے تیار نہیں اور قرآن مجید کی دعوت کو کھیل کود سمجھتے ہیں انہیں ایک بار پھر انتباہ کیا جاتا ہے کہ وہ اس وقت کا انتظار کریں جب آسمان دھویں سے بھر جائے گا اور لوگوں کو بری طرح ڈھانپ لے گا۔ اس دن شک کرنے والوں کو اذیت ناک عذاب ہوگا۔ مجرم اپنے رب کے حضور فریاد پہ فریاد کریں گے کہ اے ہمارے رب ! اس عذاب کو ہم سے دور کردے یقیناً ہم تجھ پر ایمان لائیں گے۔ لیکن اس وقت نصیحت حاصل کرنے کا موقع گزرچکا ہوگا۔ کیونکہ اس سے پہلے رسول نے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 13 : اَنّٰی لَہُمُ الذِّکْرٰی (ان کو کب نصیحت ہوتی ہے) یہ کیسے وعظ و نصیحت کو قبول کریں گے اور عذاب کے کھل جانے پر وعدہ وفائی کیا کریں گے۔ وَقَدْ جَآئَ ہُمْ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ (حالانکہ ان کے پاس ظاہر شان کا پیغمبر آیا)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 12۔ ، ربنا اکشف عنا العذاب انا مؤمنون، پس اس کو کہا گیا اگر ہم ان سے دور کردیں تو وہ اپنے کفر کی طرف لوٹ جائیں گے۔ پس آپ (علیہ السلام) نے اپنے رب سے دعا کی، پس ان سے عذاب کو دور کردیا گیا تو وہ کفر کی طرف لوٹے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان سے بدر کے دن انتقام لیا۔ پس یہ ہے اللہ تعالیٰ کافرمان، فارتقب یوم تاتی السماء بدخان مبین، سے، انامنتقمون، تک ۔ حضرت عبد اللہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ پانچ چیزیں گزرچکی ہیں۔ لزام اور روم اور بطشہ (پکڑ) اور چاند اور دھواں اور ایک جماعت نے کہا ہے کہ یہ دھواں قیامت کے قائم ہونے سے پہلے آئے گا، ابھی تک نہیں آیا۔ پس کفار اور منافقین کے کانوں میں داخل ہوگیا حتی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–16

1۔ 16۔ حم و الکتب المبین کی تفسیر سورة الزحزف کے شروع میں گزر چکی ہے جس برکت والی رات کا ذکر ان آیتوں میں ہے اگرچہ بعض فسروں نے لکھا ہے کہ یہ برکت والی رات شعبان کی پندرھویں رات ہے لیکن یہ قول شھر رمضان الذی انزل فیہ القران کے مخالف ہے صحیح وہی حضرت عبد اللہ بن عباس کا قول ہے جس کو نسائی 1 ؎ اور حاکم وغیرہ نے معتبر سند سے روایت کیا ہے کہ شب قدر میں ایک دفعہ سارا قرآن لوح محفوظ سے اول آسمان پر نازل ہوا پھر ہر ایک موقع پر ہر ایک آیت حضرت جبرئیل آنحضرت ﷺ کے پاس تشریف لائے۔ صحیح بخاری 2 ؎ میں حضرت عائشہ اور حضرت عبد اللہ بن عباس سے جو روایتیں ہیں۔ ان میں اللہ کے رسول ﷺ نے یہ صاف جتلا دیا ہے کہ شب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–16

آیت 1 یہ قرآن پر قرآن ہی کی قسم ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کتاب مبین کی قسم کھائی جو ہر اس چیز کے لئے ہے جس کے بیان کی حاجت ہے۔ بیشک وہ اتاری گئی ہے (فی لیلۃ مبرکۃ) یعنی خیر کثیر اور بکت والی رات میں، اس سے مراد لیلۃ القدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ یقیناً اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہترین کلام کو سب راتوں اور دنوں سے افضل رات میں مخلوق میں سے افضل ہستی پر معززین اہل عرب کی زبان میں نازل فرمایا ات کہ اس کے ذریعے سے ان لوگوں کو ڈرائے جنہیں جہالت نے اندھا کر رکھا ہے اور بدبختی ان پر غالب آچکی ہے۔ پس وہ اس کے نور سے روشنی حاصل کریں، اس کی ہدایت کو اختیار کریں اور اس کے پیچھے چلیں، اس طرح انہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

16 بےوقت کے ماننے کا کوئی فائدہ نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس وقت ان کے لیے نصیحت کا کوئی موقع کہاں باقی رہا جبکہ اس سے پہلے آچکے انکے پاس کھول کر بیان کرنے والے ایک عظیم الشان رسول "۔ ایسے عظیم الشان رسول جن کی صداقت و حقانیت روز روشن کی طرح واضح تھی۔ اور واضح ہے۔ مگر پھر بھی یہ لوگ ایمان نہیں لائے تو اس کے بعد اب کیسے اور کیا ایمان لائیں گے ؟ سو اس وقت ان کی تذلیل و تخجیل کیلئے اللہ کی طرف سے انکو یہ جواب دیا جائے گا۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اعلانِ حق کے پہنچ جانے اور اس کے دیکھ لینے کے بعد ایمان لانے اور نصیحت قبول کرنے کا موقع کہاں باقی رہے گا۔ بالخصوص جبکہ انکے پاس اتمام حجت…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–37

قرآن سچ ہے اور اس کے علاہ سب غلط ہے تشریح : ان تمام آیات میں اللہ کی ان تدابیر کا ذکر کیا گیا ہے جو اس نے کائنات کے لیے مرتب کر رکھی ہیں۔ مثلاً میجر جنرل غلام محمد ملک صاحب اس کی بڑے خوبصورت انداز میں یوں وضاحت کرتے ہیں : فلسفہ تاریخ جس طرح سیاسی واقعات کی تکرار اور حوادث کے بار بار اعادہ سے اصول اور نتائج تک پہنچ کر ایک عام تاریخی قانون بنا لیتا ہے اسی طرح انبیاء علیھم السلام کے سوانح اور تاریخیں بھی اپنے واقعات کے بار بار اعادہ سے خصائصِ نبوت کا اصول قانون ہمارے لیے مرتب کرتی ہے۔ پیغمبرانہ تاریخ کے انہی اصول و قوانین میں سے ایک یہ ہے کہ نبی جب اپنے کمال انسانیت کو پہنچ کر فیضان نبوت کے قبول…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–29

آیات 1 تا 29۔ اسرار ومعارف۔ حم۔ اس کتاب واضح کی قسم ہے یعنی یہ دلائل سے حق کو واضح کردینے والی کتاب اس پر گواہ ہے جسے ہم نے ایک بہت بابرکت شب کو لوح محفوظ سے سماء دنیا پر نازل فرمایا کہ اس کے نزول سے مراد مخلوق کو صحیح راہ عمل دکھانا اور اعمال بد کے بد انجام سے بروقت خبر دینا ہے کہ وہ اپنی راہ متعین کرسکیں لیلہ مبارکہ : لیلہ مبارکہ سے مراد مفسرین کرام سے لیلۃ القدر ہے کہ قرآن کریم کی دوسری آیات سے اس کی تعیین ہوجاتی ہے نیز نزول قران رمضان المبارک ہی میں ہوا اور جو بات نصف شعبان کی شب کے بارے مشہور ہے ، اس کی سندیں ضعیف ہیں اس لیے اکثر علماء نے اسے قبول نہیں کیا ، اور بعض نے اس کی فضیلت اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 12–20

ف 3 یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آچکا ہوں جو میرا ہی نہیں تمہارا بھی مالک ہے۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں۔ شاید وہ ڈراتے ہونگے اس سے ( موضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(44:13) انی لہم الذکری : انی اسم ظرف ہے زمان و مکان دونوں کے لئے آتا ہے ظرف زمان ہو تو بمعنی متی (جب ، جس وقت) ظرف مکان ہو تو بمعنی این (جہاں، کہاں) اور استفہامیہ ہو تو بمعنی کیف (کیسے، کیونکر) آتا ہے۔ الذکری نصیحت کرنا۔ ذکر کرنا۔ یاد۔ پند۔ موعظت۔ یہ ذکر یذکر (باب نصر) کا مصدر ہے۔ کثرت ذکر کے لئے ذکری بولا جاتا ہے یہ ذکر سے زیادہ بلیغ ہے۔ یہاں مراد ایمان ہے۔ ایمان کا ذکری سے تعبیر کیا گیا ہے جس کے نتیجہ میں ایمان پیدا ہوتا ہے اس علم بیان میں تسمیۃ الشیء باسم سببہ کہتے ہیں ان لہم الذکر ان کے لئے ایمان کیونکر ۔ یہ استفہام انکاری ہے مطلب یہ کہ ان کے لئے ایمان نہیں ہے (اس چھوٹی سی بات پر ایمان ان…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–16

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 16 : لیلۃ مبارکۃ (برکت والی رات) یفرق (وہ جدا کردیتا ہے، الگ کردیتا ہے) امر حکیم ( حکمت بھرا فیصلہ) ارتقب (تو انتظارکر ، راہ دیکھ) دخان ( دھواں) یغشی (وہ ڈھانپ لے گا) معلم ( پڑھایا گیا) عائدون ( وہ لوٹنے والے ہیں) البطشۃ (سخت پکڑ) تشریح : آیت نمبر 1 تا 16 : قرآن کریم میں سات سورتیں وہ ہیں جن کی ابتداء ” حم ‘ ‘ سے کی گئی ہے۔ احادیث میں ان سات سورتوں کے بہت سے فضائل بیان کئے گئے ہیں ۔ ان ہی میں سے یہ پانچویں سورت ہے۔ ” حا۔ میم “ حروف مقطعات میں سے ہیں جن کی تفصیل اس سے پہلی سورتوں میں بیان کردی گئی ہے۔ علماء مفسرین نے بیان کیا ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد کا علم اللہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 7–16

علامات قیامت۔ (ف 1) اللہ آسمانوں اور زمین کا مالک اور پروردگار ہے اور جو ان میں اور ان کے درمیان میں عجائب غرائب ہیں مشرکین اگر تم سمجھو اور مانو تو آیات قدرت بہت واضح ہیں، اس کے سوا کوئی لائق معبود نہیں جہان کا کوئی خالق نہیں وہ تو جلاتا ہے اور وہی مارتا ہے دنیا میں مارے گا قیامت کو جلائے گا تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا سب کا پروردگار خالق ہے، اے محبوب ﷺ یہ کفار نہیں مانتے بلکہ یہ توحید ورسول وقیامت وغیرہ کی طرف سے شک میں پڑے ہیں اور دنیا کے کھیل کود میں مصروف ہیں آخرت کی فکر نہیں جو حق کو طلب کریں اور اس میں غوروفکر سے کام لیں، یہ اس دھوکہ میں ہیں ہمیشہ یوں ہی رہنا خدا کے سامنے کبھی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 11–32

دھوئیں کا عذاب 1: مکہ والوں نے جب حضور ﷺ کے پیغام توحید کو ٹھکرایا اور انتہائی تحقیر وتذلیل کے ساتھ آپ کا خیرمقدم کیا ۔ تو اس وقت آپ کی زبان الہام ترجمان سے یہ کلمات بےاختیار نکل گئے ۔ کہ اے اللہ ان لوگوں پر اس قحط کا عذاب نازل کر جو تونے یوسف کے زمانہ میں نازل کیا تھا ۔ بس ان الفاظ کا حضور ﷺ کے منہ سے نکلنا تھا ۔ کہ اجابت نے ہاتھوں ہاتھ لیا ۔ آسمان نے رحمت کے دراوزوں کو ان پر بند کرلیا ۔ زمین میں خشک ہوگئی ۔ اور قحط وجوع نے قریش کو آزمائش میں ڈال دیا ۔ اس قدر فاقے ہونے لگے ۔ کہ بھوک کے مارے ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے دھواں سا معلوم ہونے لگا ۔ زندگی کے لئے یہ لوگ مجبور ہوگئے ۔ کہ مردار…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(13) ان کو نصیحت کہاں ملے اور بھلا ان کو نصیحت کہاں ہوتی ہے حالانکہ ان کے پاس ایک رسول آچکا جس کی شان رسالت نمایاں ہے ایسارسول جو صاف صاف بیان کرنے والا ہے۔ یعنی ان کو نصیحت کہاں میسرہوسکتی ہے جن کی حالت یہ ہے کہ ان کے پاس ایک ایسا رسول آیا جو واضح البیان اور اپنی شان میں نمایاں اور ظاہر ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 12–17

ف 6۔ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) ۔ (فائدہ) پیغمبر کے آنے سے آزمائش یہ ہوتی ہے کہ کون ایمان لاتا ہے اور کون نہیں لاتا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اب نصیحت کا موقع کہاں ؟ ان کے پاس تو ہمارا رسول بات کو واضح کردینے والا آیا تھا 31 ؎ ان کی آہ زاری سن کر اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے ان کو جواب سنایا جائے گا کہ اب مگرمچھ کی طرح آنسو بہانے کا کیا فائدہ ؟ اب تو جو کچھ ہونا تھا ہوچکا کیا تم وہی لوگ نہیں ہو جن کے پاس ہمارا رسول محمد رسول اللہ ﷺ جو خاتم النبین اور نبی اعظم وآخر ﷺ ہے وہ آیا اور اس نے آکر جب اللہ کا پیغام پہنچایا تو انہوں نے سنی ان سنی کردی اور رسول پر طرح طرح کی طعنہ زنی شروع کردی اور ان لوگوں کو ذرا شرم نہ آئی کہ ہم اللہ کے رسول پر کیا کیا الزام لگا رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 11–19

Commentary دُخَانٍ مُّبِينٍ...visible smoke" in verse (10) embodies a prophecy and the Prophet ﷺ was asked to watch for the Day when the sky will bring forth a manifest smoke covering the people. There are three opinions recorded about this from the Companions and their pupils. The first view is that the smoke is one of the portents of the Day of Judgment which will occur very close to the Day of Judgment. This view is held by Sayyidna al-Murtada, Ibn ` Abbas, Ibn ` Umar, Abu Hurairah, Zaid Ibn ` Ali ؓ ، Hasan al-Basri Ibn Abi Mulaikah and others رحمۃ اللہ علیہم . This view is recorded…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 10–13

11 Rasul-i-mubin has two meanings: (1) His being a Messenger is quite evident from his character, his morals and his works; and (2) he has made every effort to make the truth plain and clear.

Read the full tafseer →