Ad-Dukhaan 44:14

Ad-Dukhaan · from ayah 14

44:14

ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَقَالُوْا مُعَلَّمٌ مَّجْنُوْنٌ ۟ۘثُمَّ تَوَلَّوۡا عَنۡهُ وَقَالُوۡا مُعَلَّمٌ مَّجۡنُوۡنٌ‌ۘ‏

پھر انہوں نے ان سے منہ پھیر لیا اور کہنے لگے (یہ تو) پڑھایا ہوا (اور) دیوانہ ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then they turned away from him and said, "[He was] taught [and is] a madman."

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Ad-Dukhaan

All translations of 44:14

پھر بھی یہ اُس کی طرف ملتفت نہ ہوئے اور کہا کہ "یہ تو سکھایا پڑھایا باولا ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر انہوں نے ان سے منہ پھیر لیا اور کہنے لگے (یہ تو) پڑھایا ہوا (اور) دیوانہ ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر بھی انہوں نے ان سے منھ پھیرا اور کہہ دیا کہ سکھایا پڑھایا ہوا باؤﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر بھی یہ لوگ اس سے منہ موڑے رہے، اور کہنے لگے کہ : یہ سکھایا پڑھایا ہوا ہے، دیوانہ ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اس سے روگرداں ہوئے اور بولے سکھایا ہوا دیوانہ ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر انہوں نے اس سے منہ پھیر لیا اور (گستاخی کرتے ہوئے) کہنے لگے: (وہ) سکھایا ہوا دیوانہ ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر انھوں نے اس سے منہ پھیرلیا اور انھوں نے کہا سکھلایا ہوا ہے، دیوانہ ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر ان لوگوں نے اس (رسول) سے منہ پھیرلیا اور کہنے لگے : یہ تو سکھایا پڑھایا دیوانہ ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو انہوں نے اس سے منہ موڑا اور کہا کہ یہ تو ایک سکھایا پڑھایا خبطی ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر بھی یہ لوگ پھرے ہی رہے (راہ حق و ہدایت سے) اور کہا کہ یہ تو ایک سکھایا پڑھایا دیوانہ ہے

— مولانا اسحاق مدنی

پھر بھی یہ لوگ اس سے سرتابی کرتے رہے اور یہی کہتے رہے کہ یہ سکھایا ہوا ہے دیوانہ ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر انہوں نے منہ پھیرلیا اس کی طرف سے اور کہا کہ یہ تو سکھایا پڑھایا ہوا مجنون ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر انہوں نے اس سے منہ پھیرلیا اور کہنے لگے یہ تو پڑھایا ہوا اور دیوانہ ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

yet they turned away from him and said: “This is a well-tutored madman.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then they turned away from him, and said, :(He is) tutored, crazy.

— Muhammad Taqi Usmani

Then they turned away from him, and said, :(He is) tutored, crazy.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then they had turned away from him and said: "(He is) one taught, a madman!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And they had turned away from him and said: One taught (by others), a madman?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then they turned away from him and said, "[He was] taught [and is] a madman."

— Saheeh International

and they turned away, saying, "He is a trained and insane person".

— Muhammad Sarwar

Yet they turned their backs on him and said: One taught (by others), a madman.

— Muhammad Habib Shakir

Yet they turned away from him and said: one tutored, one distraced.

— Abdul Majid Daryabadi

Yet they turn away from him and say: "Tutored (by others), a man possessed!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 44:14

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 9–16

دھواں ہی دھواں اور کفار فرماتا ہے کہ حق آچکا اور یہ شک شبہ میں اور لہو لعب میں مشغول و مصروف ہیں انہیں اس دن سے آگاہ کر دے جس دن آسمان سے سخت دھواں آئے گا حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ کوفے کی مسجد میں گئے جو کندہ کے دروازوں کے پاس ہے تو دیکھا کہ ایک حضرت اپنے ساتھیوں میں قصہ گوئی کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس آیت میں جس دھوئیں کا ذکر ہے اس سے مراد وہ دھواں ہے جو قیامت کے دن منافقوں کے کانوں اور آنکھوں میں بھر جائے گا اور مومنوں کو مثل زکام کے ہوجائے گا۔ ہم وہاں سے جب واپس لوٹے اور حضرت ابن مسعود سے اس کا ذکر کیا تو آپ لیٹے لیٹے بےتابی کے ساتھ بیٹھ گئے اور فرمانے لگے اللہ عزوجل نے اپنے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الدُّخَان 12 ان کا مطلب یہ تھا کہ یہ بےچارہ تو سیدھا آدمی تھا، کچھ دوسرے لوگوں نے اسے بھروں پر چڑھا لیا، وہ در پر وہ قرآن کی آیتیں گھڑ گھڑ کر اسے پڑھا دیتے ہیں، یہ آ کر عام لوگوں کے سامنے انہیں پیش کردیتا ہے، وہ مزے سے بیٹھے رہتے ہیں، اور یہ گالیاں اور پتھر کھاتا ہے۔ اس طرح ایک چلتا ہوا فقرہ کہہ کر وہ ان ساری دلیلوں اور نصیحتوں اور سنجیدہ تعلیمات کو اڑا دیتے تھے جو رسول اللہ ﷺ برسوں سے ان کے سامنے پیش کر کر کے تھکے جا رہے تھے۔ وہ نہ ان معقول باتوں پر کوئی توجہ کرتے تھے جو قرآن مجید میں بیان کی جا رہی تھیں۔ نہ یہ دیکھتے تھے کہ جو شخص یہ باتیں پیش کر رہا ہے وہ کس پائے کا آدمی ہے۔ اور نہ یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–16

معارف و مسائل آیت مذکورہ میں جس دخان مبین کا ذکر بطور پیشین گوئی کے آیا ہے کہا آپ انتظار کریں اس واضح دھوئیں کا جو آسمان پر ہوگا اور لوگوں پر چھا جائے گا، اس کے متعلق حضرات صحابہ وتابعین سے تین قول منقول ہیں۔ اول یہ کہ یہ علامات قیامت میں سے ایک علامت ہے جو قیامت کے بالکل قریب واقع ہوگی۔ یہ قول حضرت علی مرتضیٰ اور ابن عباس، ابن عمر، ابوہریرہ اور زید بن علی اور حسن بصری، ابن ابی ملیکہ وغیرہ کا ہے اور حضرت ابوسعید خدری اور حذیفہ بن اسید غفاری سے یہ قول مرفوعاً بھی روایت کیا گیا ہے جس کی تفصیل آگے آتی ہے دوسرا قول یہ ہے کہ پیش گوئی واقع ہوچکی ہے اور اس کا مصداق مکہ مکرمہ کا قحط ہے جو رسول اللہ ﷺ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 13–14

انی لھم الذکری وقد حآء ھم رسول مبین، ثم تولوا عنہ وقالوا معلم مجنون (14-13) یہ وہ جواب ہے جو ان لوگوں کو اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا جائے گا۔ فرمایا کہ عذاب آجانے کے بعد قبول نصیحت کا کہاں موقع باقی رہے گا چ بالخصوص جبکہ ان کے پاس اتمام حجت کے لئے اللہ نے اپنا ایک رسول بھی بھیج دیا تھا جس نے ہر بات کی اچھی طرح وضاحت کردی تھی لیکن انہوں نے نہایت تکبر کے ساتھ اس سے منہ موڑا اور اس پر یہ الزام لگایا کہ یہ دوسروں کا سکھایا پڑھایا ہوا ہے جس کو عذاب و قیامت کا مالیخولیا ہوگیا ہے۔ اب تو بہ کا وقت گزر چکا توبہ کا وقت وہ تھا جب رسول توبہ کی منادی کر رہا تھا۔ وہ وقت انہوں نے کھو دیا تو اب وہ ان کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 13–16

16۔ 1 اس سے مراد جنگ بدر کی گرفت ہے، جس میں ستر کافر مارے گئے اور ستر قیدی بنا لئے گئے۔ دوسری تفسیر کی رو سے یہ سخت گرفت قیامت والے دن ہوگی۔ امام شوکانی فرماتے ہیں کہ یہ اس گرفت خاص کا ذکر ہے جو جنگ بدر میں ہوئی، کیونکہ قریش کے سیاق میں ہی اس کا ذکر ہے، اگرچہ قیامت والے دن بھی اللہ تعالیٰ سخت گرفت فرمائے گا تاہم وہ گرفت عام ہوگی، ہر نافرمان اس میں شامل ہوگا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 12–16

4: یعنی اس وقت تو یہ عذاب ان سے دور کردیا جائے گا، لیکن جب قیامت میں ان کی پکڑ ہوگی، اس وقت انہیں پورے عذاب کا سامنا کرنا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 9–16

اس حد تک قرآن کے مخاطبین کو متاثر کرنے اور جوش دلانے اور حق کو قبول کرنے پر آمادہ کرنے کے بعد اب روئے سخن اچانک پھرتا ہے۔ اور تصویر کا دوسرا رخ پیش کیا جاتا کہ اس عظیم کتاب کی اس سعی کے بعد ان لوگوں کی حالت کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں ان لوگوں کی جو تصویر کی گئی ہے اسے ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ لیکن یہ لوگ اس قدر سنگ دل ہیں کہ اس قدر سنجیدہ کوششوں کے باوجود وہ ابھی تک اس تحریک کو مذاق ہی سمجھتے ہیں۔ آیت نمبر 9 تا 16 فرماتے ہیں کہ یہ تو اس قدر حکیمانہ اور عظیم الشان نظریہ اور نظام کے مقابلے میں غیر سنجیدہ رویہ اختیار کرتے ہیں اور ان نشانیوں میں شک کرتے ہیں جو ثابت شدہ ہیں لہٰذا ان کا صحیح علاج یہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 13–14

11 یعنی اب موقع سمجھنے اور نصیحت سے فائدہ اٹھانے کا کہاں رہا۔ اس وقت تو مانا نہیں جب ہمارا پیغمبر کھلے کھلے نشان اور کھلی کھلی ہدایات لے کر آیا تھا۔ اس وقت کہتے تھے کہ یہ باؤلا ہے۔ کبھی کہتے کہ کسی دوسرے سے سیکھ کر اس نے یہ کتاب تیار کرلی ہے (ابن عباس کی تفسیر پر یہ مطلب ہوا) اور ابن مسعود کی تفسیر کے موافق یہ معنی ہوں گے کہ اہل مکہ نے قحط وغیرہ سے تنگ آکر درخواست کی کہ یہ آفت ہم سے دور کیجیے۔ بعض روایات میں ہے کہ ابو سفیان وغیرہ نے حضور ﷺ کی خدمت میں فریاد کی کہ آپ تو کہتے ہیں کہ میں رحمت ہوں اور یہ آپ کی قوم قحط و خشک سالی سے تباہ ہو رہی ہے۔ ہم آپ ﷺ کو رحم اور قرابت کا واسطہ دیتے ہیں کہ اس…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 14 { ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْہُ وَقَالُوْا مُعَلَّـمٌ مَّجْنُوْنٌ} ”پھر انہوں نے منہ پھیرلیا اس کی طرف سے اور کہا کہ یہ تو سکھایا پڑھایا ہوا مجنون ہے۔“ معاذ اللہ ! نقل کفر کفر نباشد ! وہ حضور ﷺ کے بارے میں ایسی ہی باتیں کرتے تھے۔ کبھی کہتے کہ ان کو یہ باتیں کسی اور نے سکھائی ہیں اور کبھی کہتے کہ ان پر آسیب اور ِجنات ّوغیرہ کا اثر ہوگیا ہے اور ان کا دماغی توازن ٹھیک نہیں رہا۔ معاذ اللہ !

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 11–14

9 یعنی کبھی تو کہتے تھے کہ کوئی عجمی اسے قرآن سکھا جاتا ہے پھر وہ سے اپنی طرف سے ہم پر پیش کرکے کہتا ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے جو مجھ پر نازل ہوا ہے۔ اور جب آپ یہ دعویٰ کرتے تھے کہ اگر تم لوگ اللہ کی دعوت پر ایمان لے آؤ تو تم عرب و عجم کے مالک بن جاؤ گے۔ تو آپ کو دیوانہ کہنے لگتے تھے۔ گویا یہ دونوں الگ الگ مواقع پر کافروں کے الزامات ہیں۔ جو یہاں اکٹھے کردیئے گئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 13–14

11۔ بیسویں صدی کے بڑے بڑے فرنگی ” علماء ومحققین “ آخر اس منزل سے آگے نہ بڑھ سکے جو معاند کفار ومشرکین قریش کی تھی ! وہ لوگ بھی قرآن کے لفظی ومعنوی اعجاز کی طرف سے آنکھیں بندکئے یہی رٹ لگائے ہوئے تھے کہ یہ کلام کسی اور کا سکھایا پڑھایا ہوا ہے۔ اور آج یورپ وامری کہ کے بڑے بڑے مشتشرقین کا بھی ” منتہائے تحقیق “ بس اسی قدر ہے کہ یہ کتاب محمد عربی ﷺ نے کچھ ادھر ادھر سے سن سنا کر تیار کردی ہے ! (آیت) ” رسول مبین “۔ یعنی ایسے پیغمبر جن کی صداقت وحقانیت دلائل ومعجزات کی کثرت سے بالکل واضح وظاہر ہے۔ اے رسول عظیم الشان ظاھر امر رسالتہ بالایات والمعجزات (روح) وھو ماظھر علی رسول اللہ ﷺ من الایات والبینات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–29

آیت نمبر 1 تا 29 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس سے اللہ کی کیا مراد ہے ؟ وہی بہتر جانتا ہے قسم ہے واضح کتاب قرآن کی جو حلال کو حرام سے ممتاز کرنے والی ہے، یقیناً ہم نے اس کو بابرکت رات میں نازل کیا ہے اور وہ شب قدر یا شب نصف شعبان ہے، اسی رات میں قرآن کو ساتویں آسمان پر موجود لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل کیا گیا، بیشک ہم اس کے ذریعہ ڈرانے والے ہیں، اسی رات یعنی شب قدر یا شب نصف شعبان میں ہر محکم کام کا مثلاً روزی، موت وغیرہ جو اس سال اسی جیسی (آئندہ) رات تک ہونے والے ہوتے ہیں فیصلہ کیا جاتا ہے، ہمارے پاس سے حکم صادر ہو کر ہم ہی ہیں رسول بنا کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ثم تولوا عنہ وقالوا معلم مجنون پھر بھی یہ لوگ اس سے سرتابی کرتے رہے اور کہتے رہے : یہ (کسی کا) سکھایا ہوا ہے ‘ دیوانہ ہے۔ اِنّٰی لَھُمُ الذِّکْرٰی یعنی نصیحت پذیری کا موقع اس روز نہیں رہے گا۔ استفہام انکاری ہے ‘ اِنّٰی بمعنی مِنْ اَیْنَ کے ہے (ان کو کہاں سے ملے گا) ۔ وَقَدْ جَآءَھُمْ یعنی ان جیسے کافروں کے پاس عظیم الشان رسول واضح دلائل کے ساتھ آ چکے تھے ‘ جنہوں نے کھول کر ایسے معجزات اور آیات کو پیش کردیا تھا جن سے نصیحت اندوزی لازمی طور پر ہونی چاہئے تھی ‘ لیکن انہوں نے رسول عظیم ﷺ کی طرف سے منہ پھیرلیا (یعنی اس کی نصیحت کو نہیں مانا) ۔ وَقَالُوْا مُعَلَّمٌ مَّجْنُوْنٌ یعنی بعض نے کہا کہ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

تب بھی یہ لوگ ان پر ایمان نہیں لاتے اور یہی کہتے ہیں کہ معاذ اللہ جبر و یسار کا سکھایا ہوا دیوانہ ہے ہم اس بھوک کے عذاب کو غزوہ بدر تک کے لیے ان سے ہٹادیں گے مگر اے مکہ والو تم پھر اپنی نافرمنی کی اصلی حالت پر آجاؤ گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 13–14

انی لھم الذکری وقد جآء ھم رسول مبین …: یعنی انھیں دھوئیں کے عذاب کی دلیل سے نصیحت کیسے ہوگی جب کہ ان کے پاس اس سے بہت ہی بڑی دلیل پہلے آچکی اور وہ ہے رسول مبین، جس کا رسول ہونا بالکل واضح ہے اور جس نے ہر بات کھول کر بیان کردی ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے منہ موڑ لیا اور کہنے لگے کہ یہ کسیک ا سکھایا ہوا ہے، دیوانہ ہے۔”ثم“ (پھر) کا لفظ ان کے حال پر تعجب کے اظہار کے لئے ہے کہ رسول مبین کا آنا اس قدر واضح اور روشن نشانی تھی کہ اسے نہ ماننے کی گنجائش ہی نہ تھی، پھر بھی انہوں نے اس پر معلم اور مجنون کا بہتان لگا کر ایمان لانے سے اناکر کردیا۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے کلام مختصر کردیا ہے، ورنہ یہ ایک شخص یا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

یعنی انہوں نے اعراض کیا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جب انہوں نے حضرت محمد ﷺ سے اعراض کیا اور آپ کی تکذیب کی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں نصیحت حاصل کرنے سے دور کردیا تو اب وہ کیسے نصیحت حاصل کرسکتے ہیں ؟ ایک قول یہ کیا گیا ہے : عذاب کے ظاہر ہونے کے بعد قیامت کی نشانیوں کے ظہور کے بعد ان کا قول : انہیں کیسے نفع دے گا جبکہ علامات علم بدیہی بن چکی ہیں یہ تعبیر اس وقت ہوگی جب تو دخان کو ایسی علامت بنائے جس کا انتظار کیا جارہا ہے یعنی اسے کسی انسان نے تعلیم دی یا اسے کاہنوں اور شیاطین نے تعلیم دی ہے اس سے بڑھ کر یہ مجنون ہے رسول نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 10–15

بطشۃ الکبری کا تذکرۃ : 1:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فارتقب “ سے مراد ہے انتظار کر۔ 2:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابی عبیدہ (رح) کے طریق سے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ دخان والی نشانی گزر چکی ہے۔ 3:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابی عبیدہ (رح) وابی الاحوص کے طریق سے عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ دھواں وہ بھوک تھی جو قریش کو پہنچی یہاں تک کہ ہر ایک ان میں بھوک کی وجہ سے آسمان کو نہ دیکھ سکتا تھا۔ 4:۔ ابن مردویہ (رح) نے عتبہ بن عبیداللہ بن عتبہ بن مسعود ؓ کے طریق سے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ دھواں والی نشانی گزر چکی ہے کہ لوگوں کو سخت بھوک پہنچی تھی یہاں تک کہ وہ اپنے آسمان کے درمیان…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ [ پھر ان لوگوں نے روگردانی کی ان سے ] وَقَالُوْا مُعَلَّمٌ [ اور انہوں نے سکھایا ہوا ہے ] مَّجْنُوْنٌ [ دیوانہ ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 10–16

اس دن کا انتظار کیجیے جبکہ آسمان کی طرف سے لوگوں پر دھواں چھا جائے گا ہم بڑی پکڑ پکڑیں گے بیشک ہم انتقام لینے والے ہیں یہ سات آیات کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں فرمایا آپ اس دن کا انتظار کیجیے جس میں آسمان کی طرف ایک دھواں نظر آئے گا جو لوگوں پر چھا جائے گا۔ اسے دخان مبین کہتے ہیں۔ دخان سے کیا مراد ہے ؟ اس بارے میں ایک قول یہ ہے کہ یہ دھواں قیامت کی نشانیوں میں سے ہوگا جب ظاہر ہوگا تو زمین میں چالیس دن رہے گا اور آسمان اور زمین کے درمیان کو بھر دے گا۔ اس کی وجہ سے اہل ایمان کی کیفیت زکام جیسی ہوجائے گی اور کفار اور فجار کی ناکوں میں گھس جائے گا اور سانس لینے میں انہیں سخت تکلیف ہوگی۔ حضرت علی اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–29

بیان عظمت کتاب اللہ وبرکات زمانہ نزول قرآن مع دعوت ایمان وبدنصیبی محرومین واشقیاء از سعادت خداوندی : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” حم والکتب المبین ...... الی ....... انا منتقمون “۔ (ربط) گزشتہ سورتک مضمون توحید و رسالت کا اثبات تھا اور اس سے اختلاف واعراض کرنے والے مجرمین کی بدنصیبی کا ذکر کرتے ہوئے ان کے افسوس ناک عبرت ناک انجام کا بیان تھا اور اسی موضوع پر سورت کا مضمون ختم فرما دیا گیا تھا کہ اگر ان واقعات کو سن کر بھی قریش کے لوگ آنحضرت ﷺ پر ایمان نہیں لاتے تو ان کو سوچ لینا چاہئے کہ ایسا ہی عبرت ناک انجام ان کا بھی ہوگا، ساتھ ہی آپ ﷺ کو تسلی دینا بھی مقصود تھا کہ قریش مکہ کی مخالفت ودشمنی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 14–17

14:۔ ” ولقد فتنا “ تا ” مافیہ بلاء مبین “ یہ تخویف دنیوی کا ایک نمونہ ہے۔ اور ” فارتقب یوم الخ “ سے متعلق ہے جس طرح ان سے پہلے فرعون اور اس کی قوم کو دنیا ہی میں سرکشی کی سزا ملی اسی طرح ان کو بھی دنیا میں سزا ملے گی۔ ان سے پہلے ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو آزمایا یعنی اپنے احکام کی اطاعت کا حکم دیا اور ان کے پاس ایک نہایت معزز رسول یہ پیغام لے کر آیا کہ اے اللہ کے بندو، جو حقوق تم پر واجب ہیں میری طرف ادا کرو۔ اس صورت میں عباد اللہ منادی ہوگا اور حرف ندا مقدر ہوگا۔ حقوق واجبہ سے ایمان اور قبول دعوت مراد ہے۔ ادوا الی ھق اللہ تعالیٰ من الایمان و قبول الدعوۃ یا عباد اللہ علی ان مفعول (ادو)…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 9–16

ربط آیات سورۃ کے آغاز میں قرآن پاک کے لیلتہ القدر میں نزول کا بیان تھا۔ اللہ نے نزول قرآن کی غرض وغایت بھی بیان فرمائی ہے اور یہ بھی کہ اس ایک رات میں مستحکم فیصلے کئے جاتے ہیں۔ پھر اللہ نے انذار کا ذکر فرمایا کہ وہ اپنے رسولوں کے ذریعے لوگوں کو ان کے بر انجام سے ڈراتا ہے فرمایا نزول قرآن اس کی خاص مہربانی کا نتیجہ ہے۔ پھر اللہ نے اپنی توحید کا تذکرہ فرمایا کہ وہی سننے والا اور جاننے والا ہے آسمانوں ، زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا وہی پروردگار ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، زندگی اور موت اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ وہ موجودہ لوگوں کا بھی پروردگار ہے اور ان کے پہلے آبائو اجداد…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْہُ وَقَالُوْا مُعَلَّمٌ مَّجْنُوْنٌ۝ 14 ۘ ولي وإذا عدّي ب ( عن) لفظا أو تقدیرا اقتضی معنی الإعراض وترک قربه . فمن الأوّل قوله : وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] ، وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] . ومن الثاني قوله : فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] ، ( و ل ی ) الولاء والتوالی اور جب بذریعہ عن کے متعدی ہو تو خواہ وہ عن لفظوں میں مذکورہ ہو ایا مقدرو اس کے معنی اعراض اور دور ہونا کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ تعد یہ بذاتہ کے متعلق فرمایا : ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 4–16

فیہا یفرق کل امرا حکیم امرامن عندنا کہ اس رات میں ہر حکمت کی بات بیان اور ظاہر کی جاتی ہے۔ یعنی جو حوادث دنیا میں ظاہر ہونے والے ہوتے ہیں (جیسا کہ کسی کا مرنا ‘ کسی کا امیر ہونا ‘ کسی کا فقیر ہونا ‘ بیمار و تندرست ہونا ‘ قحط و ارزانی کا ہونا ‘ سلطنت و حکومت کا تبدل و تغیر وغیرہ) ان کو بارگاہ قدس سے ملائکہ مدبران عالم پر ظاہر کیا جاتا ہے گو لوح محفوظ میں روز اول لکھے گئے تھے مگر اس رات میں انتظام عالم کے لیے ایک سال کے حوادث ان کے مدبر اور کارکن ملائکہ پر ظاہر کئے جاتے ہیں تاکہ اس کی تعمیل کریں۔ یہ اس رات کی بڑی عظمت و عزت ہے اس کے یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ عالم ناسوت میں جو معاملات ظہور کرنے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 13–14

اَنّٰی لَھُمُ الذِّکْرٰی وَقَدْ جَآئَ ھُمْ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ۔ ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْہُ وَقَالُوْا مُعَلَّمٌ مَّجْنُوْنٌ۔ (الدخان : 13، 14) (ان کے لیے نصیحت پکڑنے کا موقع کہاں، ان کے پاس ایک رسول مبین آچکا۔ تو انھوں نے اس سے منہ موڑا اور کہا : یہ تو ایک سکھایا پڑھایا دیوانہ ہے۔ ) مخالفین کے رویئے کا نتیجہ یعنی یہ لوگ اس قحط کی ہولناکی کو دیکھ کر ایمان لانے کی بات تو کرتے ہیں لیکن ان کے طرزعمل کو دیکھتے ہوئے اس کی توقع کرنا بہت مشکل ہے۔ اندازہ کیجیے کہ ان کی ہدایت کے لیے ایک ایسا رسول آچکا ہے جو ہر لحاظ سے ایک رسول مبین ہے یعنی اس کی دعوت کی پشت پر چالیس سال کا بےعیب کردار ہے۔ اور نبوت کے اعلان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 10–16

فہم القرآن ربط کلام : رب تعالیٰ کی ذات اور صفات میں شک کرنے والے لوگ قرآن مجید کو شغل کے طور پر لیتے ہیں اس پر ان لوگوں کو انتباہ کیا جاتا ہے۔ جو لوگ اپنے رب کو رب ماننے کے لیے تیار نہیں اور قرآن مجید کی دعوت کو کھیل کود سمجھتے ہیں انہیں ایک بار پھر انتباہ کیا جاتا ہے کہ وہ اس وقت کا انتظار کریں جب آسمان دھویں سے بھر جائے گا اور لوگوں کو بری طرح ڈھانپ لے گا۔ اس دن شک کرنے والوں کو اذیت ناک عذاب ہوگا۔ مجرم اپنے رب کے حضور فریاد پہ فریاد کریں گے کہ اے ہمارے رب ! اس عذاب کو ہم سے دور کردے یقیناً ہم تجھ پر ایمان لائیں گے۔ لیکن اس وقت نصیحت حاصل کرنے کا موقع گزرچکا ہوگا۔ کیونکہ اس سے پہلے رسول نے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

کفار کا الٹا الزام یہ مجنون ہے : آیت 14 : ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْہُ وَقَالُوْا مُعَلَّمٌ مَّجْنُوْنٌ (پھر بھی یہ لوگ اس سے منہ پھیرے رہے اور کہتے رہے سکھایا ہوا دیوانہ ہے) یعنی حالانکہ اس کے پاس سے عظیم تر نشان آچکا۔ اور اس کو نصیحت پالینے میں دھوئیں کے کھل جانے کی بنسبت زیادہ دخل ہے اور وہ واضح معجزات ہیں جو آیات بینات کی صورت میں ان کے سامنے ظاہر ہوئے۔ مگر انہوں نے نصیحت قبول نہ کی بلکہ اس سے منہ موڑا اور رسول اللہ ﷺ پر بہتان لگایا کہ عداس نامی غلام نے اس کو سکھا دیا اور آپ کی نسبت جنون کی طرف کی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

13، انی لھم الذکری، کہاں سے ان کے لیے نصیحت حاصل کرنا ہے ؟ فرماتے ہیں کہ کیسے وہ نصیحت حاصل کریں گے ؟ ، وقد جاء ھم رسول مبین، جس کا سچ ظاہ رہے۔ یعنی محمد ﷺ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–16

1۔ 16۔ حم و الکتب المبین کی تفسیر سورة الزحزف کے شروع میں گزر چکی ہے جس برکت والی رات کا ذکر ان آیتوں میں ہے اگرچہ بعض فسروں نے لکھا ہے کہ یہ برکت والی رات شعبان کی پندرھویں رات ہے لیکن یہ قول شھر رمضان الذی انزل فیہ القران کے مخالف ہے صحیح وہی حضرت عبد اللہ بن عباس کا قول ہے جس کو نسائی 1 ؎ اور حاکم وغیرہ نے معتبر سند سے روایت کیا ہے کہ شب قدر میں ایک دفعہ سارا قرآن لوح محفوظ سے اول آسمان پر نازل ہوا پھر ہر ایک موقع پر ہر ایک آیت حضرت جبرئیل آنحضرت ﷺ کے پاس تشریف لائے۔ صحیح بخاری 2 ؎ میں حضرت عائشہ اور حضرت عبد اللہ بن عباس سے جو روایتیں ہیں۔ ان میں اللہ کے رسول ﷺ نے یہ صاف جتلا دیا ہے کہ شب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–16

آیت 1 یہ قرآن پر قرآن ہی کی قسم ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کتاب مبین کی قسم کھائی جو ہر اس چیز کے لئے ہے جس کے بیان کی حاجت ہے۔ بیشک وہ اتاری گئی ہے (فی لیلۃ مبرکۃ) یعنی خیر کثیر اور بکت والی رات میں، اس سے مراد لیلۃ القدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ یقیناً اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہترین کلام کو سب راتوں اور دنوں سے افضل رات میں مخلوق میں سے افضل ہستی پر معززین اہل عرب کی زبان میں نازل فرمایا ات کہ اس کے ذریعے سے ان لوگوں کو ڈرائے جنہیں جہالت نے اندھا کر رکھا ہے اور بدبختی ان پر غالب آچکی ہے۔ پس وہ اس کے نور سے روشنی حاصل کریں، اس کی ہدایت کو اختیار کریں اور اس کے پیچھے چلیں، اس طرح انہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

17 منکرین کے اعراض و روگردانی اور ان کی مت ماری کا ایک نمونہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان لوگوں کے پاس ایک رسول مبین آگیا تھا مگر انہوں نے اس سے منہ موڑ لیا اور کہا کہ یہ تو ایک دیوانہ ہے سکھایا پڑھایا "۔ یعنی کسی اور کے سکھانے پڑھانے سے یہ ایسی دیوانگی کی باتیں کرتا ہے جو عقل میں آنے کی نہیں۔ مگر حقیقت میں یہ ان لوگوں کی خود اپنی ہی دیوانگی اور حواس باختگی کا ایک کھلا مظہر تھا جو ایسی ذات کو دیوانہ کہتے تھے جو سب فرزانوں سے بڑھ کر فرزانہ تھی ۔ صلوات اللّٰہ وسلامُہٗ علیہ وعلی من تبعہ باحسان الٰی یَوْمِ الَعْرَضِ عَلَی اللّٰہ العزیز الرحمان ۔ سو یہ ان لوگوں کی مت ماری کا ایک نمونہ و مظہر ہے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–37

قرآن سچ ہے اور اس کے علاہ سب غلط ہے تشریح : ان تمام آیات میں اللہ کی ان تدابیر کا ذکر کیا گیا ہے جو اس نے کائنات کے لیے مرتب کر رکھی ہیں۔ مثلاً میجر جنرل غلام محمد ملک صاحب اس کی بڑے خوبصورت انداز میں یوں وضاحت کرتے ہیں : فلسفہ تاریخ جس طرح سیاسی واقعات کی تکرار اور حوادث کے بار بار اعادہ سے اصول اور نتائج تک پہنچ کر ایک عام تاریخی قانون بنا لیتا ہے اسی طرح انبیاء علیھم السلام کے سوانح اور تاریخیں بھی اپنے واقعات کے بار بار اعادہ سے خصائصِ نبوت کا اصول قانون ہمارے لیے مرتب کرتی ہے۔ پیغمبرانہ تاریخ کے انہی اصول و قوانین میں سے ایک یہ ہے کہ نبی جب اپنے کمال انسانیت کو پہنچ کر فیضان نبوت کے قبول…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–29

آیات 1 تا 29۔ اسرار ومعارف۔ حم۔ اس کتاب واضح کی قسم ہے یعنی یہ دلائل سے حق کو واضح کردینے والی کتاب اس پر گواہ ہے جسے ہم نے ایک بہت بابرکت شب کو لوح محفوظ سے سماء دنیا پر نازل فرمایا کہ اس کے نزول سے مراد مخلوق کو صحیح راہ عمل دکھانا اور اعمال بد کے بد انجام سے بروقت خبر دینا ہے کہ وہ اپنی راہ متعین کرسکیں لیلہ مبارکہ : لیلہ مبارکہ سے مراد مفسرین کرام سے لیلۃ القدر ہے کہ قرآن کریم کی دوسری آیات سے اس کی تعیین ہوجاتی ہے نیز نزول قران رمضان المبارک ہی میں ہوا اور جو بات نصف شعبان کی شب کے بارے مشہور ہے ، اس کی سندیں ضعیف ہیں اس لیے اکثر علماء نے اسے قبول نہیں کیا ، اور بعض نے اس کی فضیلت اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 12–20

ف 3 یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آچکا ہوں جو میرا ہی نہیں تمہارا بھی مالک ہے۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں۔ شاید وہ ڈراتے ہونگے اس سے ( موضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(44:14) ثم تولوا عنہ : ثم تراضی وقت کے لئے ہے (پھر) اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر جاء ہم پر ہے۔ تولوا۔ ماضی جمع مذکر غائب تولی (تفعل) مصدر۔ انہوں نے پشت پھیری۔ انہوں نے منہ موڑا۔ تولی کا تعدیہ جب بلاواسطہ ہوتا ہے تو اس کے معنی کسی سے دوستی رکھنے کسی کام کا اٹھانے اور والیو حاکم ہونے کے ہوتے ہیں۔ مثلا ومن یتولہم منکم فانہ منھم (5:51) اور جو کوئی تم میں سے ان سے دوستی کرے وہ انہی میں سے ہے اور والذی تولی کبرہ منہم لہ عذاب عظیم (24:11) اور جس نے ان میں سے اس بہتان کا بڑا بوجھ اٹھایا ہے اس کو بڑا عذاب ہوگا۔ اور فہل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض (47:22) (اے منافقواً تم سے عجب نہیں کہ اگر تم…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–16

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 16 : لیلۃ مبارکۃ (برکت والی رات) یفرق (وہ جدا کردیتا ہے، الگ کردیتا ہے) امر حکیم ( حکمت بھرا فیصلہ) ارتقب (تو انتظارکر ، راہ دیکھ) دخان ( دھواں) یغشی (وہ ڈھانپ لے گا) معلم ( پڑھایا گیا) عائدون ( وہ لوٹنے والے ہیں) البطشۃ (سخت پکڑ) تشریح : آیت نمبر 1 تا 16 : قرآن کریم میں سات سورتیں وہ ہیں جن کی ابتداء ” حم ‘ ‘ سے کی گئی ہے۔ احادیث میں ان سات سورتوں کے بہت سے فضائل بیان کئے گئے ہیں ۔ ان ہی میں سے یہ پانچویں سورت ہے۔ ” حا۔ میم “ حروف مقطعات میں سے ہیں جن کی تفصیل اس سے پہلی سورتوں میں بیان کردی گئی ہے۔ علماء مفسرین نے بیان کیا ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد کا علم اللہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 7–16

علامات قیامت۔ (ف 1) اللہ آسمانوں اور زمین کا مالک اور پروردگار ہے اور جو ان میں اور ان کے درمیان میں عجائب غرائب ہیں مشرکین اگر تم سمجھو اور مانو تو آیات قدرت بہت واضح ہیں، اس کے سوا کوئی لائق معبود نہیں جہان کا کوئی خالق نہیں وہ تو جلاتا ہے اور وہی مارتا ہے دنیا میں مارے گا قیامت کو جلائے گا تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا سب کا پروردگار خالق ہے، اے محبوب ﷺ یہ کفار نہیں مانتے بلکہ یہ توحید ورسول وقیامت وغیرہ کی طرف سے شک میں پڑے ہیں اور دنیا کے کھیل کود میں مصروف ہیں آخرت کی فکر نہیں جو حق کو طلب کریں اور اس میں غوروفکر سے کام لیں، یہ اس دھوکہ میں ہیں ہمیشہ یوں ہی رہنا خدا کے سامنے کبھی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 11–32

دھوئیں کا عذاب 1: مکہ والوں نے جب حضور ﷺ کے پیغام توحید کو ٹھکرایا اور انتہائی تحقیر وتذلیل کے ساتھ آپ کا خیرمقدم کیا ۔ تو اس وقت آپ کی زبان الہام ترجمان سے یہ کلمات بےاختیار نکل گئے ۔ کہ اے اللہ ان لوگوں پر اس قحط کا عذاب نازل کر جو تونے یوسف کے زمانہ میں نازل کیا تھا ۔ بس ان الفاظ کا حضور ﷺ کے منہ سے نکلنا تھا ۔ کہ اجابت نے ہاتھوں ہاتھ لیا ۔ آسمان نے رحمت کے دراوزوں کو ان پر بند کرلیا ۔ زمین میں خشک ہوگئی ۔ اور قحط وجوع نے قریش کو آزمائش میں ڈال دیا ۔ اس قدر فاقے ہونے لگے ۔ کہ بھوک کے مارے ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے دھواں سا معلوم ہونے لگا ۔ زندگی کے لئے یہ لوگ مجبور ہوگئے ۔ کہ مردار…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(14) پھر انہوں نے اس رسول سے روگردانی کی اور سرتابی کرتے رہے اور کہنے لگے یہ کسی بشر کا سکھایا ہوا ہے اور دیوانہ ہے۔ یعنی ایسے واضح الشان رسول سے سرتابی کرتے رہے اور اس وہ الزام لگائے ایک تو یہ کسی بشر نے اس کو سکھا دیا ہے اور دوسرا الزام یہ کہ یہ دیوانہ اور پاگل ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دھوئیں کا مذکور ہے کہ اس وقت سمجھنا کام نہیں آتا قیامت میں دھواں گھیرلے گا نیک آدمیوں کو زکام سا ہوگا اور بد کو سر میں چڑھے گا بےہوش ہوکر گرپڑے گا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) نے جو کچھ فرمایا ہے اس کا مبنی غالباً حضرت علی کرم الہ وجہہ کا قول ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 12–17

ف 6۔ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) ۔ (فائدہ) پیغمبر کے آنے سے آزمائش یہ ہوتی ہے کہ کون ایمان لاتا ہے اور کون نہیں لاتا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پھر انہوں نے رسول سے منہ پھیرلیا اور کہنے لگے یہ تو مجنون ہے 41 ؎ رسول اللہ ﷺ نے اللہ کے حکم سے جب ہر بات کی وضاحت ان کے سامنے پیش کردی تو انہوں نے اس وضاحت کو سن کر نہایت تکبرانہ انداز سے منہ پھیرلیا اور چونکہ وہ اس کے امی ہونے پر یقین رکھتے تھے فوراً کہنے لگے کہ یہ تو دوسروں کا لکھایا ہوا جس کو عذاب اور قیامت کا ہہضی ہوچکا ہے کہ بات بعد میں کرتا ہے اور عذاب کا ذکر پہلے اور قیامت ، قیامت کی صدائیں بلند کرتا ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ یا تو اس کو کسی کی مارلگ گئی ہے یا دماغ کھوبیٹھا ہے اس طرح کی باتیں بنانے لگے اور اسی طرح کرت کرتے نبی اعظم وآخر ﷺ سے منہ پھیر گئے کہ نہ دیکھیں اور نہ ہی اس کی سنیں۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 11–19

Commentary دُخَانٍ مُّبِينٍ...visible smoke" in verse (10) embodies a prophecy and the Prophet ﷺ was asked to watch for the Day when the sky will bring forth a manifest smoke covering the people. There are three opinions recorded about this from the Companions and their pupils. The first view is that the smoke is one of the portents of the Day of Judgment which will occur very close to the Day of Judgment. This view is held by Sayyidna al-Murtada, Ibn ` Abbas, Ibn ` Umar, Abu Hurairah, Zaid Ibn ` Ali ؓ ، Hasan al-Basri Ibn Abi Mulaikah and others رحمۃ اللہ علیہم . This view is recorded…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

12 What they meant was: "This was a simple man, some others have incited and deceived him: they secretly forge and teach him verses of the Qur'an, and he comes and recites them before the people: they sit back in peace and leave him alone to receive the abuses and be pelted with stones." They would make a mockery of aII the arguments, the admonitions and the serious teachings which the Holy Prophet had been presenting since several years and was growing weary. Neither they paid any attention to the rational things being expressed in the Qur'an .nor recognized the extraordinary character of…

Read the full tafseer →