Explained with ayahs 9–16
دھواں ہی دھواں اور کفار
فرماتا ہے کہ حق آچکا اور یہ شک شبہ میں اور لہو لعب میں مشغول و مصروف ہیں انہیں اس دن سے آگاہ کر دے جس دن آسمان سے سخت دھواں آئے گا حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ کوفے کی مسجد میں گئے جو کندہ کے دروازوں کے پاس ہے تو دیکھا کہ ایک حضرت اپنے ساتھیوں میں قصہ گوئی کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس آیت میں جس دھوئیں کا ذکر ہے اس سے مراد وہ دھواں ہے جو قیامت کے دن منافقوں کے کانوں اور آنکھوں میں بھر جائے گا اور مومنوں کو مثل زکام کے ہوجائے گا۔ ہم وہاں سے جب واپس لوٹے اور حضرت ابن مسعود سے اس کا ذکر کیا تو آپ لیٹے لیٹے بےتابی کے ساتھ بیٹھ گئے اور فرمانے لگے اللہ عزوجل نے اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
سورة الدُّخَان 13
ان آیات کے مفہوم میں مفسرین کے درمیان بڑا اختلاف واقع ہوا ہے اور یہ اختلاف صحابہ کرام کے زمانے میں بھی پایا جاتا تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے مشہور شاگرد مسروق کہتے ہیں کہ ایک روز ہم کوفے کی مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک واعظ لوگوں کے سامنے تقریر کر رہا ہے۔ اس نے آیت یَوْمَ تَأتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍ پڑھی، پھر کہنے لگا، جانتے ہو یہ کیسا دھواں ہے ؟ یہ دھواں قیامت کے روز آئے گا اور کفار و منافقین کو اندھا بہرا کر دے گا، مگر اہل ایمان پر اس کا اثر بس اس قدر ہوگا کہ جیسے زکام لاحق ہوگیا ہو۔ اس کی یہ بات سن کر ہم حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے پاس گئے اور ان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
معارف و مسائل
آیت مذکورہ میں جس دخان مبین کا ذکر بطور پیشین گوئی کے آیا ہے کہا آپ انتظار کریں اس واضح دھوئیں کا جو آسمان پر ہوگا اور لوگوں پر چھا جائے گا، اس کے متعلق حضرات صحابہ وتابعین سے تین قول منقول ہیں۔ اول یہ کہ یہ علامات قیامت میں سے ایک علامت ہے جو قیامت کے بالکل قریب واقع ہوگی۔ یہ قول حضرت علی مرتضیٰ اور ابن عباس، ابن عمر، ابوہریرہ اور زید بن علی اور حسن بصری، ابن ابی ملیکہ وغیرہ کا ہے اور حضرت ابوسعید خدری اور حذیفہ بن اسید غفاری سے یہ قول مرفوعاً بھی روایت کیا گیا ہے جس کی تفصیل آگے آتی ہے دوسرا قول یہ ہے کہ پیش گوئی واقع ہوچکی ہے اور اس کا مصداق مکہ مکرمہ کا قحط ہے جو رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →انا کاشفوا العذاب قلیلاً انکم عآبدون (15)
جو خواہشوں کے بندے ہوتے ہیں ان کی تو بہ عاضری ہوتی ہے
یعنی ہوسکتا ہے کہ ہم تمہاری اس درخواست پر کہ ہم سے عذاب ٹال دیا جائے ہم ایمان لانے والے بن جائیں گے کچھ وقت کے لئے عذاب ہٹا دیں لیکن تم پھر اسی راہ پر چلو گے جس پر عذاب سے پہلے چلتے رہے ہو۔ اپنی خواہشوں کے غلاموں کا حال یہی ہوتا ہے کہ جب ان کو کوئی آزمائش پیش آجاتی ہے تو ناک رگڑ کے توبہ کرتے ہیں لیکن جب آزمائش گزر جاتی ہے تو اس طرح چل دیتے ہیں گویا نہ کوئی بات پیش آئی نہ انہوں نے کوئی قول وقرار کیا اور نہ آئندہ اب اس طرح کی بات پیش آئے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
16۔ 1 اس سے مراد جنگ بدر کی گرفت ہے، جس میں ستر کافر مارے گئے اور ستر قیدی بنا لئے گئے۔ دوسری تفسیر کی رو سے یہ سخت گرفت قیامت والے دن ہوگی۔ امام شوکانی فرماتے ہیں کہ یہ اس گرفت خاص کا ذکر ہے جو جنگ بدر میں ہوئی، کیونکہ قریش کے سیاق میں ہی اس کا ذکر ہے، اگرچہ قیامت والے دن بھی اللہ تعالیٰ سخت گرفت فرمائے گا تاہم وہ گرفت عام ہوگی، ہر نافرمان اس میں شامل ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
4: یعنی اس وقت تو یہ عذاب ان سے دور کردیا جائے گا، لیکن جب قیامت میں ان کی پکڑ ہوگی، اس وقت انہیں پورے عذاب کا سامنا کرنا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–16
اس حد تک قرآن کے مخاطبین کو متاثر کرنے اور جوش دلانے اور حق کو قبول کرنے پر آمادہ کرنے کے بعد اب روئے سخن اچانک پھرتا ہے۔ اور تصویر کا دوسرا رخ پیش کیا جاتا کہ اس عظیم کتاب کی اس سعی کے بعد ان لوگوں کی حالت کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں ان لوگوں کی جو تصویر کی گئی ہے اسے ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ لیکن یہ لوگ اس قدر سنگ دل ہیں کہ اس قدر سنجیدہ کوششوں کے باوجود وہ ابھی تک اس تحریک کو مذاق ہی سمجھتے ہیں۔
آیت نمبر 9 تا 16
فرماتے ہیں کہ یہ تو اس قدر حکیمانہ اور عظیم الشان نظریہ اور نظام کے مقابلے میں غیر سنجیدہ رویہ اختیار کرتے ہیں اور ان نشانیوں میں شک کرتے ہیں جو ثابت شدہ ہیں لہٰذا ان کا صحیح علاج یہی…
Read the full tafseer →1 یعنی اگر ہم تھوڑی دیر کے لیے عذاب ہٹا لیں، پھر وہ ہی حرکتیں کریں گے جو پہلے کرتے تھے۔ اور ابن مسعود کی تفسیر پر یہ مطلب ہوگا کہ لو ! اچھا ہم تھوڑی مدت کے لیے یہ عذاب ہٹا لیتے ہیں۔ پھر دیکھ لینا، وہ ہی کریں گے جو پہلے کرتے تھے۔
Read the full tafseer →آیت 15 { اِنَّا کَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِیْلًا اِنَّکُمْ عَآئِدُوْنَ } ”ہم دور کردیں گے اس عذاب کو تھوڑی دیر کے لیے ‘ تو تم لوٹ کر وہی کچھ کرو گے جو پہلے کر رہے تھے۔“
جیسے آلِ فرعون کے معاملے میں ہم سورة الاعراف کے چھٹے رکوع میں پڑھ چکے ہیں کہ ان پر پے در پے سات عذاب بھیجے گئے تھے۔ ہر مرتبہ انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے درخواست کی کہ وہ ان کے لیے دعا کریں اور ہر بار وعدہ کیا کہ اگر یہ عذاب ٹل گیا تو وہ ایمان لے آئیں گے۔ مگر جب عذاب ٹل جاتا تو وہ اپنے وعدے سے ِپھر جاتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رض اس آیت کو اپنے مذکورہ موقف کے حق میں بطور دلیل پیش کرتے ہیں کہ اگر اس دھویں سے مراد قبل از…
Read the full tafseer →10 یعنی اگر ہم ان پر سے یہ قحط کا عذاب کچھ مدت کے لیے ہٹا بھی دیں تو پھر وہی حرکتیں کرنے لگیں گے جو پہلے کرتے رہے اور اس قحط کے طبعی اسباب تلاش کرنے لگیں گے۔ پھر بھی انہیں یہ خیال نہیں آئے گا کہ ہمیں ہماری شرارتوں کی سزا اس صورت میں ملی تھی۔
Read the full tafseer →12۔ یعنی اتمام حجت کے لئے ہم اس بھوک کے عذاب کو دور بھی کردیں گے لیکن اس سے حاصل کیا ہوگا ایمان لانا تو الگ رہا۔ یہ جو نرمی اور شکستگی پیدا ہورہی ہے، یہ بھی جاتی رہے گی اور بدستور عناد و استکبار پر آجاؤ گے۔ یہ سب بطور پیش گوئی کے تھا، اور واقع میں ظہور اس کا یوں ہوا کہ آپ ﷺ نے دعا فرمائی اور ثمامہ نے بھی آپ ﷺ کا سفارش نامہ پاکر غلہ کی بندش دور کردی، لیکن اس فارغ البالی کے نصیب ہوجانے پر مشرکین کی مخالفت کا زور شور لوٹ آیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
آیت نمبر 1 تا 29
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس سے اللہ کی کیا مراد ہے ؟ وہی بہتر جانتا ہے قسم ہے واضح کتاب قرآن کی جو حلال کو حرام سے ممتاز کرنے والی ہے، یقیناً ہم نے اس کو بابرکت رات میں نازل کیا ہے اور وہ شب قدر یا شب نصف شعبان ہے، اسی رات میں قرآن کو ساتویں آسمان پر موجود لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل کیا گیا، بیشک ہم اس کے ذریعہ ڈرانے والے ہیں، اسی رات یعنی شب قدر یا شب نصف شعبان میں ہر محکم کام کا مثلاً روزی، موت وغیرہ جو اس سال اسی جیسی (آئندہ) رات تک ہونے والے ہوتے ہیں فیصلہ کیا جاتا ہے، ہمارے پاس سے حکم صادر ہو کر ہم ہی ہیں رسول بنا کر…
Read the full tafseer →انا کاشفوا العذاب قلیلا انکم عائدون ہم چندے اس عذاب کو ہٹا دیں گے (مگر) تم پھر (اپنی اسی حالت پر) لوٹ آؤ گے۔
قَلِیْلاً یعنی کسی قدر یا کچھ وقت کیلئے۔ کچھ وقت سے مراد ہے : ان کی عمر کا باقی حصہ ‘ یا دنیا کی عمر کا باقی حصہ۔
اِنَّکُمْ عَآءِدُوْنَ یعنی کفر کی طرف تم ضرور لوٹو گے۔ یہ وقت کشف کی قلت کی علت ہے۔
Read the full tafseer →چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس بھوک کی سزا کو ان سے دور کردیا تو پھر اپنی پچھلی حالت پر آگئے نتیجہ یہ ہوا کہ بدر کے دن ہلاک کردیئے گئے۔
Read the full tafseer →انا کاشفوا العذاب قلیلاً …: یعنی ہم تمہارے رسول کی دعا سے عذاب کو تھوڑی مدت کے لئے ہٹانے والے ہیں، تاکہ تمہارے ایمان لانے کے وعدے کی حقیقت سامنے آجائے اور تم پر حجت پوری ہوجائے، اگرچہ ہم جانتے ہیں کہ عذاب ہٹنے پر تم دوبارہ وہی کچھ کرو گے جو پہلے کرتے تھے۔
Read the full tafseer →وعدہ کیا کہ ان سے وہ عذاب تھوڑے عرصے کے لئے دور کرلیا جائے گا تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ وہ اپنے وعدے کو پورا کرنے والے ہیں کہ نہیں بلکہ اس عذاب کے دور ہونے کے بعد وہ کفر کی طرف لوٹ جائیں گے یہ حضرت ابن مسعود ؓ کا قول ہے جب نبی کریم ﷺ کی بارش کی دعا کرنے کے بعد عذاب دور ہوگیا تو وہ جھٹلانے والے طریقہ کی طرف لوٹ گئے (1) جس نے یہ کہا تھا : دھویں کا انتظار کیا جارہا ہے کہا اس کے ساتھ اس امر کی طرف اشارہ کیا کہ قیامت کی نشانیوں کے درمیان کچھ نہ کچھ سہولت و رخصت ہوگی۔ پھر جس پر کفر کا فیصلہ ہوچکا ہوگا تو وہ اپنے کفر پر قائم رہے گا جس نے کہا : یہ قیامت کے روز ہوگا گر ہم تم سے عذاب کو دور کردیں تو تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–15
بطشۃ الکبری کا تذکرۃ :
1:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فارتقب “ سے مراد ہے انتظار کر۔
2:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابی عبیدہ (رح) کے طریق سے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ دخان والی نشانی گزر چکی ہے۔
3:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابی عبیدہ (رح) وابی الاحوص کے طریق سے عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ دھواں وہ بھوک تھی جو قریش کو پہنچی یہاں تک کہ ہر ایک ان میں بھوک کی وجہ سے آسمان کو نہ دیکھ سکتا تھا۔
4:۔ ابن مردویہ (رح) نے عتبہ بن عبیداللہ بن عتبہ بن مسعود ؓ کے طریق سے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ دھواں والی نشانی گزر چکی ہے کہ لوگوں کو سخت بھوک پہنچی تھی یہاں تک کہ وہ اپنے آسمان کے درمیان…
Read the full tafseer →اِنَّا [ بیشک ہم ] كَاشِفُوا الْعَذَابِ [ اس عذاب کو ہٹانے والے ہیں ] قَلِيْلًا [ تھوڑا سا ] اِنَّكُمْ عَاۗىِٕدُوْنَ [ بیشک تم لوگ دوبارہ (وہی ) کرنے والے ہو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
اس دن کا انتظار کیجیے جبکہ آسمان کی طرف سے لوگوں پر دھواں چھا جائے گا ہم بڑی پکڑ پکڑیں گے بیشک ہم انتقام لینے والے ہیں
یہ سات آیات کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں فرمایا آپ اس دن کا انتظار کیجیے جس میں آسمان کی طرف ایک دھواں نظر آئے گا جو لوگوں پر چھا جائے گا۔ اسے دخان مبین کہتے ہیں۔
دخان سے کیا مراد ہے ؟
اس بارے میں ایک قول یہ ہے کہ یہ دھواں قیامت کی نشانیوں میں سے ہوگا جب ظاہر ہوگا تو زمین میں چالیس دن رہے گا اور آسمان اور زمین کے درمیان کو بھر دے گا۔ اس کی وجہ سے اہل ایمان کی کیفیت زکام جیسی ہوجائے گی اور کفار اور فجار کی ناکوں میں گھس جائے گا اور سانس لینے میں انہیں سخت تکلیف ہوگی۔ حضرت علی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
بیان عظمت کتاب اللہ وبرکات زمانہ نزول قرآن مع دعوت ایمان وبدنصیبی محرومین واشقیاء از سعادت خداوندی :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” حم والکتب المبین ...... الی ....... انا منتقمون “۔
(ربط) گزشتہ سورتک مضمون توحید و رسالت کا اثبات تھا اور اس سے اختلاف واعراض کرنے والے مجرمین کی بدنصیبی کا ذکر کرتے ہوئے ان کے افسوس ناک عبرت ناک انجام کا بیان تھا اور اسی موضوع پر سورت کا مضمون ختم فرما دیا گیا تھا کہ اگر ان واقعات کو سن کر بھی قریش کے لوگ آنحضرت ﷺ پر ایمان نہیں لاتے تو ان کو سوچ لینا چاہئے کہ ایسا ہی عبرت ناک انجام ان کا بھی ہوگا، ساتھ ہی آپ ﷺ کو تسلی دینا بھی مقصود تھا کہ قریش مکہ کی مخالفت ودشمنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
14:۔ ” ولقد فتنا “ تا ” مافیہ بلاء مبین “ یہ تخویف دنیوی کا ایک نمونہ ہے۔ اور ” فارتقب یوم الخ “ سے متعلق ہے جس طرح ان سے پہلے فرعون اور اس کی قوم کو دنیا ہی میں سرکشی کی سزا ملی اسی طرح ان کو بھی دنیا میں سزا ملے گی۔ ان سے پہلے ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو آزمایا یعنی اپنے احکام کی اطاعت کا حکم دیا اور ان کے پاس ایک نہایت معزز رسول یہ پیغام لے کر آیا کہ اے اللہ کے بندو، جو حقوق تم پر واجب ہیں میری طرف ادا کرو۔ اس صورت میں عباد اللہ منادی ہوگا اور حرف ندا مقدر ہوگا۔ حقوق واجبہ سے ایمان اور قبول دعوت مراد ہے۔ ادوا الی ھق اللہ تعالیٰ من الایمان و قبول الدعوۃ یا عباد اللہ علی ان مفعول (ادو)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–16
ربط آیات
سورۃ کے آغاز میں قرآن پاک کے لیلتہ القدر میں نزول کا بیان تھا۔ اللہ نے نزول قرآن کی غرض وغایت بھی بیان فرمائی ہے اور یہ بھی کہ اس ایک رات میں مستحکم فیصلے کئے جاتے ہیں۔ پھر اللہ نے انذار کا ذکر فرمایا کہ وہ اپنے رسولوں کے ذریعے لوگوں کو ان کے بر انجام سے ڈراتا ہے فرمایا نزول قرآن اس کی خاص مہربانی کا نتیجہ ہے۔ پھر اللہ نے اپنی توحید کا تذکرہ فرمایا کہ وہی سننے والا اور جاننے والا ہے آسمانوں ، زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا وہی پروردگار ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، زندگی اور موت اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ وہ موجودہ لوگوں کا بھی پروردگار ہے اور ان کے پہلے آبائو اجداد…
Read the full tafseer →اِنَّا كَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِيْلًا اِنَّكُمْ عَاۗىِٕدُوْنَ 15 ۘ
كشف
كَشَفْتُ الثّوب عن الوجه وغیره، ويقال : كَشَفَ غمّه . قال تعالی: وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلا کاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ [ الأنعام/ 17]
( ک ش) الکشف
كَشَفْتُ الثّوب عن الوجه وغیره، کا مصدر ہے جس کے معنی چہرہ وغیرہ سے پر دہ اٹھا نا کے ہیں ۔ اور مجازا غم وانداز ہ کے دور کرنے پر بھی بولا جاتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلا کاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ [ الأنعام/ 17] اور خدا تم کو سختی پہچائے تو اس کے سوا کوئی دور کرنے والا نہیں ہے ۔
عذب
والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–16
فیہا یفرق کل امرا حکیم امرامن عندنا کہ اس رات میں ہر حکمت کی بات بیان اور ظاہر کی جاتی ہے۔ یعنی جو حوادث دنیا میں ظاہر ہونے والے ہوتے ہیں (جیسا کہ کسی کا مرنا ‘ کسی کا امیر ہونا ‘ کسی کا فقیر ہونا ‘ بیمار و تندرست ہونا ‘ قحط و ارزانی کا ہونا ‘ سلطنت و حکومت کا تبدل و تغیر وغیرہ) ان کو بارگاہ قدس سے ملائکہ مدبران عالم پر ظاہر کیا جاتا ہے گو لوح محفوظ میں روز اول لکھے گئے تھے مگر اس رات میں انتظام عالم کے لیے ایک سال کے حوادث ان کے مدبر اور کارکن ملائکہ پر ظاہر کئے جاتے ہیں تاکہ اس کی تعمیل کریں۔ یہ اس رات کی بڑی عظمت و عزت ہے اس کے یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ عالم ناسوت میں جو معاملات ظہور کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
اِنَّا کَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِیْلاً اِنَّـکُمْ عَآئِدُوْنَ ۔ یَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَۃَ الْـکُبْرٰیج اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ ۔ (الدخان : 15، 16)
(ہم ذرا عذاب ہٹائے دیتے ہیں، تم لوگ پھر وہی کچھ کرو گے جو پہلے کرتے رہے ہو۔ جس دن ہم پکڑیں گے بڑی پکڑ اس دن ہم انتقام لے کے رہیں گے۔ )
اتمامِ حجت کے طور پر قبولیتِ دعا
یعنی اب یہ لوگ قحط کی شدت سے بچنے کے لیے ایمان لانے کا وعدہ اور التجا بھی کرتے ہیں کہ ہم یہ عذاب ان سے دور کردیں۔ پروردگار ان سے خطاب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اتمامِ حجت کرتے ہوئے ہم تم سے اس عذاب کو ہٹائے دیتے ہیں لیکن ہمیں خوب معلوم ہے کہ تم پھر وہی کچھ کرو گے جو اس سے پہلے کرتے رہے ہو۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
فہم القرآن
ربط کلام : رب تعالیٰ کی ذات اور صفات میں شک کرنے والے لوگ قرآن مجید کو شغل کے طور پر لیتے ہیں اس پر ان لوگوں کو انتباہ کیا جاتا ہے۔
جو لوگ اپنے رب کو رب ماننے کے لیے تیار نہیں اور قرآن مجید کی دعوت کو کھیل کود سمجھتے ہیں انہیں ایک بار پھر انتباہ کیا جاتا ہے کہ وہ اس وقت کا انتظار کریں جب آسمان دھویں سے بھر جائے گا اور لوگوں کو بری طرح ڈھانپ لے گا۔ اس دن شک کرنے والوں کو اذیت ناک عذاب ہوگا۔ مجرم اپنے رب کے حضور فریاد پہ فریاد کریں گے کہ اے ہمارے رب ! اس عذاب کو ہم سے دور کردے یقیناً ہم تجھ پر ایمان لائیں گے۔ لیکن اس وقت نصیحت حاصل کرنے کا موقع گزرچکا ہوگا۔ کیونکہ اس سے پہلے رسول نے…
Read the full tafseer →آیت 15 : اِنَّا کَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِیْلاً (ہم کچھ وقت کے لئے عذاب کو ان سے ہٹا دیں گے) قلیلاً سے پہلے موصوف زمانًا محذوف ہے یا کشفًا قلیلاً ۔
اِنَّکُمْ عَآپدُوْنَ (بیشک تم اپنی اسی حالت پر آجائو گے) اسی کفر کی طرف جس میں تم پہلے مبتلا تھے یا عذاب کی طرف لوٹنے والے ہو۔
Read the full tafseer →14، ثم تولواعنہ، اس سے اعراض کیا۔ ، وقالوامعلم، یعنی اس کو کوئی انسان سکھانا ہے۔ ، مجنون،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
1۔ 16۔ حم و الکتب المبین کی تفسیر سورة الزحزف کے شروع میں گزر چکی ہے جس برکت والی رات کا ذکر ان آیتوں میں ہے اگرچہ بعض فسروں نے لکھا ہے کہ یہ برکت والی رات شعبان کی پندرھویں رات ہے لیکن یہ قول شھر رمضان الذی انزل فیہ القران کے مخالف ہے صحیح وہی حضرت عبد اللہ بن عباس کا قول ہے جس کو نسائی 1 ؎ اور حاکم وغیرہ نے معتبر سند سے روایت کیا ہے کہ شب قدر میں ایک دفعہ سارا قرآن لوح محفوظ سے اول آسمان پر نازل ہوا پھر ہر ایک موقع پر ہر ایک آیت حضرت جبرئیل آنحضرت ﷺ کے پاس تشریف لائے۔ صحیح بخاری 2 ؎ میں حضرت عائشہ اور حضرت عبد اللہ بن عباس سے جو روایتیں ہیں۔ ان میں اللہ کے رسول ﷺ نے یہ صاف جتلا دیا ہے کہ شب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
آیت 1
یہ قرآن پر قرآن ہی کی قسم ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کتاب مبین کی قسم کھائی جو ہر اس چیز کے لئے ہے جس کے بیان کی حاجت ہے۔ بیشک وہ اتاری گئی ہے (فی لیلۃ مبرکۃ) یعنی خیر کثیر اور بکت والی رات میں، اس سے مراد لیلۃ القدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ یقیناً اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہترین کلام کو سب راتوں اور دنوں سے افضل رات میں مخلوق میں سے افضل ہستی پر معززین اہل عرب کی زبان میں نازل فرمایا ات کہ اس کے ذریعے سے ان لوگوں کو ڈرائے جنہیں جہالت نے اندھا کر رکھا ہے اور بدبختی ان پر غالب آچکی ہے۔ پس وہ اس کے نور سے روشنی حاصل کریں، اس کی ہدایت کو اختیار کریں اور اس کے پیچھے چلیں، اس طرح انہیں…
Read the full tafseer →18 بندگان ہوا و ہوس کی توبہ بھی عارضی اور وقتی : سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ " اگر ہم ان سے عذاب ٹال دیں تو بھی انہوں نے وہی کچھ کرنا ہے جو اس سے پہلے کرتے رہے تھے "۔ چناچہ ایسے ہی ہوا کہ جب آنحضرت ﷺ کی دعا کی برکت سے ان سے وہ عذاب تو اٹھا لیا گیا مگر وہ لوگ اسی طرح اپنے کفر و انکار پر اڑے رہے۔ اور اگر ابن عباس کے قول کے مطابق اس کا تعلق آخرت کے عذاب سے قرار دیا جائے تو اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اگر بالفرض ہم ان سے یہ عذاب اٹھا بھی دیں تو انہوں نے پھر بھی وہی کچھ کرنا ہے جو یہ اس سے پہلے کرتے تھے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوْا لِمَا نُہُوْا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–37
قرآن سچ ہے اور اس کے علاہ سب غلط ہے
تشریح : ان تمام آیات میں اللہ کی ان تدابیر کا ذکر کیا گیا ہے جو اس نے کائنات کے لیے مرتب کر رکھی ہیں۔ مثلاً میجر جنرل غلام محمد ملک صاحب اس کی بڑے خوبصورت انداز میں یوں وضاحت کرتے ہیں : فلسفہ تاریخ جس طرح سیاسی واقعات کی تکرار اور حوادث کے بار بار اعادہ سے اصول اور نتائج تک پہنچ کر ایک عام تاریخی قانون بنا لیتا ہے اسی طرح انبیاء علیھم السلام کے سوانح اور تاریخیں بھی اپنے واقعات کے بار بار اعادہ سے خصائصِ نبوت کا اصول قانون ہمارے لیے مرتب کرتی ہے۔ پیغمبرانہ تاریخ کے انہی اصول و قوانین میں سے ایک یہ ہے کہ نبی جب اپنے کمال انسانیت کو پہنچ کر فیضان نبوت کے قبول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–29
آیات 1 تا 29۔
اسرار ومعارف۔
حم۔ اس کتاب واضح کی قسم ہے یعنی یہ دلائل سے حق کو واضح کردینے والی کتاب اس پر گواہ ہے جسے ہم نے ایک بہت بابرکت شب کو لوح محفوظ سے سماء دنیا پر نازل فرمایا کہ اس کے نزول سے مراد مخلوق کو صحیح راہ عمل دکھانا اور اعمال بد کے بد انجام سے بروقت خبر دینا ہے کہ وہ اپنی راہ متعین کرسکیں
لیلہ مبارکہ :
لیلہ مبارکہ سے مراد مفسرین کرام سے لیلۃ القدر ہے کہ قرآن کریم کی دوسری آیات سے اس کی تعیین ہوجاتی ہے نیز نزول قران رمضان المبارک ہی میں ہوا اور جو بات نصف شعبان کی شب کے بارے مشہور ہے ، اس کی سندیں ضعیف ہیں اس لیے اکثر علماء نے اسے قبول نہیں کیا ، اور بعض نے اس کی فضیلت اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–20
ف 3 یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آچکا ہوں جو میرا ہی نہیں تمہارا بھی مالک ہے۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں۔ شاید وہ ڈراتے ہونگے اس سے ( موضح)
Read the full tafseer →(44:15) کاشفوا العذاب : کاشفون جمع مذکر قیاسی ہے کاشف سے کاشفوا اصل میں کاشفون تھا ۔ اضافت کی وجہ سے نون اعرابی گرگیا۔ کاشفوا مضاف العذاب مضاف الیہ۔ عذاب کو دور کرنے والے۔ باب ضرب سے کشف کے معنی کھولنا۔ ظاہر کرنا۔ برہنہ کرنا۔ ضرر کو دفع کرنا کے ہیں۔ باب ضرب سے یہ متعدی مستعمل ہے لیکن باب سمع سے لازم آتا ہے بمعنی شکست کھانا۔
قلیلا ای زمانا قلیلا تھوڑی سی مدت کے لئے۔
انکم عائدون : تم (پھر کفر کی طرف) لوٹ جانے والے ہو۔ یعنی لوٹ جاؤ گے۔ عائدون : اسم فاعل جمع مذکر۔ عود (باب نصر) مصدر۔ لوٹ کر آنے والے۔ پھر کر آنے والے۔ پلٹنے والے۔ یعنی ہم اس عذاب کو کچھ عرصہ کیلئے کم کردیں گے۔ لیکن تم ایمان لانا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 16 : لیلۃ مبارکۃ (برکت والی رات) یفرق (وہ جدا کردیتا ہے، الگ کردیتا ہے) امر حکیم ( حکمت بھرا فیصلہ) ارتقب (تو انتظارکر ، راہ دیکھ) دخان ( دھواں) یغشی (وہ ڈھانپ لے گا) معلم ( پڑھایا گیا) عائدون ( وہ لوٹنے والے ہیں) البطشۃ (سخت پکڑ)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 16 : قرآن کریم میں سات سورتیں وہ ہیں جن کی ابتداء ” حم ‘ ‘ سے کی گئی ہے۔ احادیث میں ان سات سورتوں کے بہت سے فضائل بیان کئے گئے ہیں ۔ ان ہی میں سے یہ پانچویں سورت ہے۔
” حا۔ میم “ حروف مقطعات میں سے ہیں جن کی تفصیل اس سے پہلی سورتوں میں بیان کردی گئی ہے۔ علماء مفسرین نے بیان کیا ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد کا علم اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–16
علامات قیامت۔
(ف 1) اللہ آسمانوں اور زمین کا مالک اور پروردگار ہے اور جو ان میں اور ان کے درمیان میں عجائب غرائب ہیں مشرکین اگر تم سمجھو اور مانو تو آیات قدرت بہت واضح ہیں، اس کے سوا کوئی لائق معبود نہیں جہان کا کوئی خالق نہیں وہ تو جلاتا ہے اور وہی مارتا ہے دنیا میں مارے گا قیامت کو جلائے گا تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا سب کا پروردگار خالق ہے، اے محبوب ﷺ یہ کفار نہیں مانتے بلکہ یہ توحید ورسول وقیامت وغیرہ کی طرف سے شک میں پڑے ہیں اور دنیا کے کھیل کود میں مصروف ہیں آخرت کی فکر نہیں جو حق کو طلب کریں اور اس میں غوروفکر سے کام لیں، یہ اس دھوکہ میں ہیں ہمیشہ یوں ہی رہنا خدا کے سامنے کبھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
[7] یعنی بنی اسرائیل کو جنہیں فرعون نے غلام بنا رکھا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–32
دھوئیں کا عذاب
1: مکہ والوں نے جب حضور ﷺ کے پیغام توحید کو ٹھکرایا اور انتہائی تحقیر وتذلیل کے ساتھ آپ کا خیرمقدم کیا ۔ تو اس وقت آپ کی زبان الہام ترجمان سے یہ کلمات بےاختیار نکل گئے ۔ کہ اے اللہ ان لوگوں پر اس قحط کا عذاب نازل کر جو تونے یوسف کے زمانہ میں نازل کیا تھا ۔ بس ان الفاظ کا حضور ﷺ کے منہ سے نکلنا تھا ۔ کہ اجابت نے ہاتھوں ہاتھ لیا ۔ آسمان نے رحمت کے دراوزوں کو ان پر بند کرلیا ۔ زمین میں خشک ہوگئی ۔ اور قحط وجوع نے قریش کو آزمائش میں ڈال دیا ۔ اس قدر فاقے ہونے لگے ۔ کہ بھوک کے مارے ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے دھواں سا معلوم ہونے لگا ۔ زندگی کے لئے یہ لوگ مجبور ہوگئے ۔ کہ مردار…
Read the full tafseer →(15) ہم چندے اس عذاب کو ہٹا دیں گے مگر تم پھر اپنی پہلی حالت پر لوٹ جائو گے۔ یعنی ہم اس عذاب کو تھوڑے دنوں کے لئے دور کردیں گے مگر تم پھر کفر کی طرف لوٹ جائو گے یا یہ مطلب کہ پھر عذاب کی طرف لوٹ جائو گے اور پھر عذاب میں مبتلا کردیئے جائو گے چناچہ ایسا ہی ہوا کہ نبی کریم ﷺ کی دعا کی برکت سے اور ثمامہ کو لکھنے سے یمامہ کا غلہ کھل گیا کئی دن تک بارش کا سلسلہ جاری رہا قحط دور ہوا، اس کے بعد ان کے کفروعناد اور استکبار میں اور ترقی ہوگئی اور پیغمبر کی دشمنی اور بڑھ گئی۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی عادات یوں ہی ہے۔
خلاصہ : یہ کہ منکروں کی عادت یہی ہے کہ عذاب کو دیکھ کر چیخ و پکار کرتے ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–17
ف 6۔ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) ۔
(فائدہ) پیغمبر کے آنے سے آزمائش یہ ہوتی ہے کہ کون ایمان لاتا ہے اور کون نہیں لاتا۔
Read the full tafseer →اب ان سے ذرا پھر عذاب ہٹادیں تو یہ لوگ وہی کچھ کریں گے جو پہلے کرتے رہے
51 ؎ عادت ایک ایسی چیز ہے کہ جب یہ پختہ ہوجاتی ہے تو اس کا بدلنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ زیر نظر آیت میں اس کی وضاحت کی جارہی ہے فرمایا گیا ہے کہ ان کے شوروغل اور رونے دھونے کے باعث اگر ہم تھوڑے سے وقفہ کے لیے اس عذاب کو ہٹادیں تو زیادہ دیر نہیں لگے گی کہ یہ لوگ اپنے اس رونے دھونے کو اس طرح بھول جائیں گے کہ جیسے یہ وہ لوگ تھے ہی نہیں اور دوبارہ وہی کچھ کرنا شروع کردیں گے جو پہلے کرتے رہے تھے حالانکہ یہ بات ان کو مخاطب کرکے کہی جارہی ہے۔ ہر انسان اپنی زندگی کے متعلق ذرا ٹھنڈے دل سے غور کرے تو وہ اپنی حقیقت کو اچھی طرح سمجھ سکتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–19
Commentary
دُخَانٍ مُّبِينٍ...visible smoke" in verse (10) embodies a prophecy and the Prophet ﷺ was asked to watch for the Day when the sky will bring forth a manifest smoke covering the people. There are three opinions recorded about this from the Companions and their pupils.
The first view is that the smoke is one of the portents of the Day of Judgment which will occur very close to the Day of Judgment. This view is held by Sayyidna al-Murtada, Ibn ` Abbas, Ibn ` Umar, Abu Hurairah, Zaid Ibn ` Ali ؓ ، Hasan al-Basri Ibn Abi Mulaikah and others رحمۃ اللہ علیہم . This view is recorded…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
13 The commentators have seriously disputed the meaning of these verses, and the difference of opinion existed even in the time of the Companions. Masruq, the well-known pupil of Hadrat 'Abdullah bin Mas'ud, states: One day when we entered the mosque of Kufah, we saw a preacher addressing the people. He recited the verse: Yauma ta'tis-sama-u bidukhan-im-mubin, then asked: "Do you know what kind of smoke it is ? This smoke will appear on the Day of Resurrection and will make the disbelievers and the hypocrites blind and deaf, but the believers will be affected only to the extent as if they had…
Read the full tafseer →