Ad-Dukhaan 44:16

Ad-Dukhaan · from ayah 16

44:16

یَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرٰی ۚ— اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ ۟يَوۡمَ نَبۡطِشُ الۡبَطۡشَةَ الۡكُبۡـرٰى‌ۚ اِنَّا مُنۡتَقِمُوۡنَ

جس دن ہم بڑی سخت پکڑ پکڑیں گے تو بےشک انتقام لے کر چھوڑیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

The Day We will strike with the greatest assault, indeed, We will take retribution.

— Saheeh International

Juz 25 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Ad-Dukhaan

All translations of 44:16

جس روز ہم بڑی ضرب لگائیں گے وہ دن ہوگا جب ہم تم سے انتقام لیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جس دن ہم بڑی سخت پکڑ پکڑیں گے تو بےشک انتقام لے کر چھوڑیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جس دن ہم بڑی سخت پکڑ پکڑیں گے، بالیقین ہم بدلہ لینے والے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

جس دن ہماری طرف سے سب سے بڑی پکڑ ہوگی، اس دن ہم پورا انتظام لے لیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جس دن ہم سب سے بڑی پکڑ پکڑیں گے بیشک ہم بدلہ لینے والے ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جس دن ہم بڑی سخت گرفت کریں گے تو (اس دن) ہم یقیناً انتقام لے ہی لیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جس دن ہم بڑی پکڑ پکڑیں گے، بیشک ہم انتقام لینے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(پھر) جس دن ہم بڑی سخت گرفت کریں گے تو پھر انتقام لے کے رہیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یاد رکھو جس دن ہم پکڑیں گے بڑی پکڑ اس دن ہم پورا بدلہ لے کر رہیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(اور یاد کرو اس دن کو کہ) جب ہم پکڑیں گے اس بڑی سخت پکڑ میں کہ یقینا ہم نے (بدلہ و) انتقام لینا ہے (مجرموں سے)

— مولانا اسحاق مدنی

جس روز ہم بڑی سخت پکڑ پکڑیں گے (اس روز) ہم پورا بدلہ لے لیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جس دن ہم پکڑیں گے بڑی پکڑ (اُس دن) یقینا ہم پورا پورا انتقام لیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جس دن ہم بری طرح پکڑیں گے تو پھر انتقام لے کر چھوڑیں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

The Day when We shall seize them with a mighty seizing, that will be the Day on which We shall inflict upon you full retribution.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(Then,) the day We will seize (you) with the greatest seizure, We will take vengeance.

— Muhammad Taqi Usmani

(Then,) the day We will seize (you) with the greatest seizure, We will take vengeance.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

On the Day when We shall strike you with the great Batshah. Verily, We will exact retribution.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

On the day when We shall seize them with the greater seizure, (then) in truth We shall punish.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

The Day We will strike with the greatest assault, indeed, We will take retribution.

— Saheeh International

However, We shall truly take Our revenge on the day when the great seizure takes place.

— Muhammad Sarwar

On the day when We will seize (them) with the most violent seizing; surely We will inflict retribution.

— Muhammad Habib Shakir

On the Day whereon We assault them with the greatest assault, verily We shall take vengeance.

— Abdul Majid Daryabadi

One day We shall seize you with a mighty onslaught: We will indeed (then) exact Retribution!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 44:16

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 9–16

دھواں ہی دھواں اور کفار فرماتا ہے کہ حق آچکا اور یہ شک شبہ میں اور لہو لعب میں مشغول و مصروف ہیں انہیں اس دن سے آگاہ کر دے جس دن آسمان سے سخت دھواں آئے گا حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ کوفے کی مسجد میں گئے جو کندہ کے دروازوں کے پاس ہے تو دیکھا کہ ایک حضرت اپنے ساتھیوں میں قصہ گوئی کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس آیت میں جس دھوئیں کا ذکر ہے اس سے مراد وہ دھواں ہے جو قیامت کے دن منافقوں کے کانوں اور آنکھوں میں بھر جائے گا اور مومنوں کو مثل زکام کے ہوجائے گا۔ ہم وہاں سے جب واپس لوٹے اور حضرت ابن مسعود سے اس کا ذکر کیا تو آپ لیٹے لیٹے بےتابی کے ساتھ بیٹھ گئے اور فرمانے لگے اللہ عزوجل نے اپنے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 15–16

سورة الدُّخَان 13 ان آیات کے مفہوم میں مفسرین کے درمیان بڑا اختلاف واقع ہوا ہے اور یہ اختلاف صحابہ کرام کے زمانے میں بھی پایا جاتا تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے مشہور شاگرد مسروق کہتے ہیں کہ ایک روز ہم کوفے کی مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک واعظ لوگوں کے سامنے تقریر کر رہا ہے۔ اس نے آیت یَوْمَ تَأتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیْنٍ پڑھی، پھر کہنے لگا، جانتے ہو یہ کیسا دھواں ہے ؟ یہ دھواں قیامت کے روز آئے گا اور کفار و منافقین کو اندھا بہرا کر دے گا، مگر اہل ایمان پر اس کا اثر بس اس قدر ہوگا کہ جیسے زکام لاحق ہوگیا ہو۔ اس کی یہ بات سن کر ہم حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے پاس گئے اور ان سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–16

معارف و مسائل آیت مذکورہ میں جس دخان مبین کا ذکر بطور پیشین گوئی کے آیا ہے کہا آپ انتظار کریں اس واضح دھوئیں کا جو آسمان پر ہوگا اور لوگوں پر چھا جائے گا، اس کے متعلق حضرات صحابہ وتابعین سے تین قول منقول ہیں۔ اول یہ کہ یہ علامات قیامت میں سے ایک علامت ہے جو قیامت کے بالکل قریب واقع ہوگی۔ یہ قول حضرت علی مرتضیٰ اور ابن عباس، ابن عمر، ابوہریرہ اور زید بن علی اور حسن بصری، ابن ابی ملیکہ وغیرہ کا ہے اور حضرت ابوسعید خدری اور حذیفہ بن اسید غفاری سے یہ قول مرفوعاً بھی روایت کیا گیا ہے جس کی تفصیل آگے آتی ہے دوسرا قول یہ ہے کہ پیش گوئی واقع ہوچکی ہے اور اس کا مصداق مکہ مکرمہ کا قحط ہے جو رسول اللہ ﷺ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یوم نبطش البطشۃ الکبریٰ انا منتقمون (16) یعنی اس دنیا میں پکڑ سے چھوٹ بھی گئے تو یہ چیز وجہ اطمینان نہیں ہونی چاہئے۔ اس دن کو یاد رکھو جس دن ہم بڑی پکڑ پکڑیں گے۔ بڑی پکڑ سے مراد قیامت کی پکڑ ہے۔ اس دنیا میں قوموں کی جو گرفت ہوتی ہے وہ قیامت کے مقابل میں بہرحال چھوٹی ہی ہوتی ہے۔ قیامت کی پکڑ ابدی اور دائمی ہوگی اور اس دن تمام مجرموں سے اللہ تعالیٰ پورا پورا انتقام لے گا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 13–16

16۔ 1 اس سے مراد جنگ بدر کی گرفت ہے، جس میں ستر کافر مارے گئے اور ستر قیدی بنا لئے گئے۔ دوسری تفسیر کی رو سے یہ سخت گرفت قیامت والے دن ہوگی۔ امام شوکانی فرماتے ہیں کہ یہ اس گرفت خاص کا ذکر ہے جو جنگ بدر میں ہوئی، کیونکہ قریش کے سیاق میں ہی اس کا ذکر ہے، اگرچہ قیامت والے دن بھی اللہ تعالیٰ سخت گرفت فرمائے گا تاہم وہ گرفت عام ہوگی، ہر نافرمان اس میں شامل ہوگا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 12–16

4: یعنی اس وقت تو یہ عذاب ان سے دور کردیا جائے گا، لیکن جب قیامت میں ان کی پکڑ ہوگی، اس وقت انہیں پورے عذاب کا سامنا کرنا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 9–16

اس حد تک قرآن کے مخاطبین کو متاثر کرنے اور جوش دلانے اور حق کو قبول کرنے پر آمادہ کرنے کے بعد اب روئے سخن اچانک پھرتا ہے۔ اور تصویر کا دوسرا رخ پیش کیا جاتا کہ اس عظیم کتاب کی اس سعی کے بعد ان لوگوں کی حالت کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں ان لوگوں کی جو تصویر کی گئی ہے اسے ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ لیکن یہ لوگ اس قدر سنگ دل ہیں کہ اس قدر سنجیدہ کوششوں کے باوجود وہ ابھی تک اس تحریک کو مذاق ہی سمجھتے ہیں۔ آیت نمبر 9 تا 16 فرماتے ہیں کہ یہ تو اس قدر حکیمانہ اور عظیم الشان نظریہ اور نظام کے مقابلے میں غیر سنجیدہ رویہ اختیار کرتے ہیں اور ان نشانیوں میں شک کرتے ہیں جو ثابت شدہ ہیں لہٰذا ان کا صحیح علاج یہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 ابن عباس کے نزدیک بڑی پکڑ قیامت ہوگی۔ غرض یہ ہے کہ آخرت کا عذاب نہیں ٹلتا۔ اور ابن مسعود کے نزدیک " بڑی پکڑ " سے معرکہ " بدر " کا واقعہ مراد ہے۔ " بدر " میں ان لوگوں سے بدلہ لے لیا گیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 16 { یَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَۃَ الْکُبْرٰیج اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ } ”جس دن ہم پکڑیں گے بڑی پکڑ ‘ اُس دن یقینا ہم پورا پورا انتقام لیں گے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 16–17

11 فرعونیوں کی باربار کی عہد شکنی :۔ یعنی وہ بھی انتہائی ہٹ دھرم اور عہد شکن لوگ تھے۔ جب ان پر کوئی عذاب آتا تو سیدنا موسیٰ سے التجا کرتے کہ اللہ سے دعا کرو ہم پر سے یہ عذاب ہٹا دے تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ پھر جب سیدناموسیٰ کی دعا سے وہ عذاب دور ہوجاتا تو وہ پھر اکڑ جاتے۔ اور انہوں نے بار بار ایسی عہد شکنی کی تھی۔ یہ کفار مکہ بھی اسی قبیل سے تعلق رکھتے ہیں۔ 12 یعنی ایسا رسول جو نہایت اعلیٰ اور بلند سیرت و کردار کا مالک تھا۔ مراد سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–29

آیت نمبر 1 تا 29 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰمٓ اس سے اللہ کی کیا مراد ہے ؟ وہی بہتر جانتا ہے قسم ہے واضح کتاب قرآن کی جو حلال کو حرام سے ممتاز کرنے والی ہے، یقیناً ہم نے اس کو بابرکت رات میں نازل کیا ہے اور وہ شب قدر یا شب نصف شعبان ہے، اسی رات میں قرآن کو ساتویں آسمان پر موجود لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل کیا گیا، بیشک ہم اس کے ذریعہ ڈرانے والے ہیں، اسی رات یعنی شب قدر یا شب نصف شعبان میں ہر محکم کام کا مثلاً روزی، موت وغیرہ جو اس سال اسی جیسی (آئندہ) رات تک ہونے والے ہوتے ہیں فیصلہ کیا جاتا ہے، ہمارے پاس سے حکم صادر ہو کر ہم ہی ہیں رسول بنا کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یوم نبطش البطشہ الکبری انا منتقمون جس روز ہم بڑی سخت پکڑ پکڑیں گے ‘ ہم پورا بدلہ لیں گے۔ سخت پکڑنے کے دن سے مراد ہے قیامت کا دن۔ لیکن حضرت ابن مسعود نے اس تفسیر کا انکار کیا اور فرمایا : اس سے بدر کا دن مراد ہے۔ بغوی نے ابو الضحیٰ کی روایت سے لکھا ہے کہ مسروق نے کہا : ایک شخص بنی کندہ (کے محلہ) میں بیٹھا ہوا کہہ رہا تھا کہ قیامت کے دن ایک دھواں آئے گا جو منافقوں کی آنکھوں اور کانوں (ان کے) میں گھس کر ان اعضاء کو بیکار کر دے گا ‘ اور مؤمنوں پر اس کا اثر اتنا پڑے گا جیسے (معمولی) زکام کا ہوتا ہے۔ یہ بات سن کر ہم (سب) خوف زدہ ہوگئے۔ اور میں نے حضرت ابن مسعود کی خدمت میں حاضر ہو کر دریافت کیا۔ آپ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

جس کی طرف اللہ تعالیٰ اگلی آیت میں اشارہ فرما رہا ہے بدر کے دن بذریعہ تلوار جب ان کی بہت سخت پکڑ کریں گے تو اس روز ہم بذریعہ عذاب ان سے پورا پورا بدلہ لیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

یوم نبطش البطشۃ الکبری انا منقمون :”ان“ علت بیان کرنے کے لئے ہے۔ یعنی یہ قحط کا عذاب تو ہم نے ہٹا لیا مگر قیامت کے دن جب ہم تمہیں بڑی گرفت میں پکڑیں گے تو وہ کسی صورت دور نہیں ہوگی، ، کیونکہ ہم انتقام لے رہے ہوں گے۔ دنیا کی گرفت تمہیں کفر سے واپس لانے کے لئے تھی، اس لئے اس کے بعد تمہیں رجوع کا موقع ملتا تھا، جیسا کہ فرمایا :(ولنذیقنھم من العذاب الادنی دون العذاب الاکبر لعلھم یرجعون) (السجدۃ : 21) ”اور یقینا ہم انھیں قریب ترین عذاب کا کچھ حصہ سب سے بڑے عذاب سے پہلے ضرور چکھائیں گے، تاکہ وہ پلٹ آئیں۔“ لیکن قیامت کے دن کی بڑی گرفت انتقام کے لئے ہوگی، اس کے بعد تمہیں مہلت نہیں ملے گی۔ طبری نے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

یہ لفظ اسی پر محمول ہے جس پر : دلالت کرتا ہے یعنی ہم ان سے انتقام لیں گے۔ بعض نحویوں نے اسے بعید از حقیقت خیال کیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا مابعد ماقبل کی تفسیر بیان نہیں کرتا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اس میں یہ قول بھی بعید ہے کیونکہ ان اپنے سے ماقبل میں عمل نہیں کرتا اسے عائدون کے متعلق کرنا بھی اچھا نہیں اور اسی طرح کے متعلق کرنا بھی صحیح نہیں کیونکہ معنی کا اس پر انحصار نہیں یہ بھی جائز ہے کہ فعل کے مضمر ہونے کے ساتھ اسے نصب دی جائے گویا فرمایا : یہ معنی کرنا بھی جائز ہے کہ تم لوٹنے والے ہو، جب تم لوٹو گے تو تم سے اس روز انتقام لیا جائے گا جس روز ہم بڑی پکڑ سے پکڑیں گے۔ اس وجہ سے یہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

24:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن المردویہ (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یوم نبطش البطشۃ الکبری، انا منتقمون “ (جس روز ہم بڑی سخت پکڑ پکڑیں گے ہم پورا بدلہ لیں گے) یہ بدر کے دن ہوچکا۔ 25:۔ ابن جریر (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے اسی طرح روایت کیا۔ 26:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے ابی بن کعب حسن ابوالعالیہ سعید بن جبیر اور محمد بن سیرین اور قتادہ اور عطیہ رحمۃ اللہ علیہم سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ 27:۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یوم نبطش البطشۃ الکبری “ سے مراد قیامت کا دن ہے۔ 28:۔ ابن ابی شیبہ (رح)…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

يَوْمَ نَبْطِشُ [ جس دن ہم پکڑیں گے ] الْبَطْشَةَ الْكُبْرٰى ۚ [ سب سے بڑی پکڑ ] اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ [ بیشک ہم انتقام لینے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 10–16

اس دن کا انتظار کیجیے جبکہ آسمان کی طرف سے لوگوں پر دھواں چھا جائے گا ہم بڑی پکڑ پکڑیں گے بیشک ہم انتقام لینے والے ہیں یہ سات آیات کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں فرمایا آپ اس دن کا انتظار کیجیے جس میں آسمان کی طرف ایک دھواں نظر آئے گا جو لوگوں پر چھا جائے گا۔ اسے دخان مبین کہتے ہیں۔ دخان سے کیا مراد ہے ؟ اس بارے میں ایک قول یہ ہے کہ یہ دھواں قیامت کی نشانیوں میں سے ہوگا جب ظاہر ہوگا تو زمین میں چالیس دن رہے گا اور آسمان اور زمین کے درمیان کو بھر دے گا۔ اس کی وجہ سے اہل ایمان کی کیفیت زکام جیسی ہوجائے گی اور کفار اور فجار کی ناکوں میں گھس جائے گا اور سانس لینے میں انہیں سخت تکلیف ہوگی۔ حضرت علی اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–29

بیان عظمت کتاب اللہ وبرکات زمانہ نزول قرآن مع دعوت ایمان وبدنصیبی محرومین واشقیاء از سعادت خداوندی : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” حم والکتب المبین ...... الی ....... انا منتقمون “۔ (ربط) گزشتہ سورتک مضمون توحید و رسالت کا اثبات تھا اور اس سے اختلاف واعراض کرنے والے مجرمین کی بدنصیبی کا ذکر کرتے ہوئے ان کے افسوس ناک عبرت ناک انجام کا بیان تھا اور اسی موضوع پر سورت کا مضمون ختم فرما دیا گیا تھا کہ اگر ان واقعات کو سن کر بھی قریش کے لوگ آنحضرت ﷺ پر ایمان نہیں لاتے تو ان کو سوچ لینا چاہئے کہ ایسا ہی عبرت ناک انجام ان کا بھی ہوگا، ساتھ ہی آپ ﷺ کو تسلی دینا بھی مقصود تھا کہ قریش مکہ کی مخالفت ودشمنی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 14–17

14:۔ ” ولقد فتنا “ تا ” مافیہ بلاء مبین “ یہ تخویف دنیوی کا ایک نمونہ ہے۔ اور ” فارتقب یوم الخ “ سے متعلق ہے جس طرح ان سے پہلے فرعون اور اس کی قوم کو دنیا ہی میں سرکشی کی سزا ملی اسی طرح ان کو بھی دنیا میں سزا ملے گی۔ ان سے پہلے ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو آزمایا یعنی اپنے احکام کی اطاعت کا حکم دیا اور ان کے پاس ایک نہایت معزز رسول یہ پیغام لے کر آیا کہ اے اللہ کے بندو، جو حقوق تم پر واجب ہیں میری طرف ادا کرو۔ اس صورت میں عباد اللہ منادی ہوگا اور حرف ندا مقدر ہوگا۔ حقوق واجبہ سے ایمان اور قبول دعوت مراد ہے۔ ادوا الی ھق اللہ تعالیٰ من الایمان و قبول الدعوۃ یا عباد اللہ علی ان مفعول (ادو)…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 9–16

ربط آیات سورۃ کے آغاز میں قرآن پاک کے لیلتہ القدر میں نزول کا بیان تھا۔ اللہ نے نزول قرآن کی غرض وغایت بھی بیان فرمائی ہے اور یہ بھی کہ اس ایک رات میں مستحکم فیصلے کئے جاتے ہیں۔ پھر اللہ نے انذار کا ذکر فرمایا کہ وہ اپنے رسولوں کے ذریعے لوگوں کو ان کے بر انجام سے ڈراتا ہے فرمایا نزول قرآن اس کی خاص مہربانی کا نتیجہ ہے۔ پھر اللہ نے اپنی توحید کا تذکرہ فرمایا کہ وہی سننے والا اور جاننے والا ہے آسمانوں ، زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا وہی پروردگار ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، زندگی اور موت اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ وہ موجودہ لوگوں کا بھی پروردگار ہے اور ان کے پہلے آبائو اجداد…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَۃَ الْكُبْرٰى۝ 0 ۚ اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ۝ 16 بطش البَطْشُ : تناول الشیء بصولة، قال تعالی: وَإِذا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ [ الشعراء/ 130] ، يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرى[ الدخان/ 16] ، وَلَقَدْ أَنْذَرَهُمْ بَطْشَتَنا [ القمر/ 36] ، إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ [ البروج/ 12] . يقال : يد بَاطِشَة . ( ب ط ش ) البطش کے معنی کوئی چیز زبردستی لے لینا کے ہیں قرآن میں : { وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ } ( سورة الشعراء 130) اور جب کسی کو پکڑتے تو ظالمانہ پکڑتے ہو ۔ يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرى[ الدخان/ 16] جس دن ہم بڑی سخت پکڑ پکڑیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 4–16

فیہا یفرق کل امرا حکیم امرامن عندنا کہ اس رات میں ہر حکمت کی بات بیان اور ظاہر کی جاتی ہے۔ یعنی جو حوادث دنیا میں ظاہر ہونے والے ہوتے ہیں (جیسا کہ کسی کا مرنا ‘ کسی کا امیر ہونا ‘ کسی کا فقیر ہونا ‘ بیمار و تندرست ہونا ‘ قحط و ارزانی کا ہونا ‘ سلطنت و حکومت کا تبدل و تغیر وغیرہ) ان کو بارگاہ قدس سے ملائکہ مدبران عالم پر ظاہر کیا جاتا ہے گو لوح محفوظ میں روز اول لکھے گئے تھے مگر اس رات میں انتظام عالم کے لیے ایک سال کے حوادث ان کے مدبر اور کارکن ملائکہ پر ظاہر کئے جاتے ہیں تاکہ اس کی تعمیل کریں۔ یہ اس رات کی بڑی عظمت و عزت ہے اس کے یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ عالم ناسوت میں جو معاملات ظہور کرنے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 15–16

اِنَّا کَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِیْلاً اِنَّـکُمْ عَآئِدُوْنَ ۔ یَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَۃَ الْـکُبْرٰیج اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ ۔ (الدخان : 15، 16) (ہم ذرا عذاب ہٹائے دیتے ہیں، تم لوگ پھر وہی کچھ کرو گے جو پہلے کرتے رہے ہو۔ جس دن ہم پکڑیں گے بڑی پکڑ اس دن ہم انتقام لے کے رہیں گے۔ ) اتمامِ حجت کے طور پر قبولیتِ دعا یعنی اب یہ لوگ قحط کی شدت سے بچنے کے لیے ایمان لانے کا وعدہ اور التجا بھی کرتے ہیں کہ ہم یہ عذاب ان سے دور کردیں۔ پروردگار ان سے خطاب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اتمامِ حجت کرتے ہوئے ہم تم سے اس عذاب کو ہٹائے دیتے ہیں لیکن ہمیں خوب معلوم ہے کہ تم پھر وہی کچھ کرو گے جو اس سے پہلے کرتے رہے ہو۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 10–16

فہم القرآن ربط کلام : رب تعالیٰ کی ذات اور صفات میں شک کرنے والے لوگ قرآن مجید کو شغل کے طور پر لیتے ہیں اس پر ان لوگوں کو انتباہ کیا جاتا ہے۔ جو لوگ اپنے رب کو رب ماننے کے لیے تیار نہیں اور قرآن مجید کی دعوت کو کھیل کود سمجھتے ہیں انہیں ایک بار پھر انتباہ کیا جاتا ہے کہ وہ اس وقت کا انتظار کریں جب آسمان دھویں سے بھر جائے گا اور لوگوں کو بری طرح ڈھانپ لے گا۔ اس دن شک کرنے والوں کو اذیت ناک عذاب ہوگا۔ مجرم اپنے رب کے حضور فریاد پہ فریاد کریں گے کہ اے ہمارے رب ! اس عذاب کو ہم سے دور کردے یقیناً ہم تجھ پر ایمان لائیں گے۔ لیکن اس وقت نصیحت حاصل کرنے کا موقع گزرچکا ہوگا۔ کیونکہ اس سے پہلے رسول نے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 16 : یَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَۃَ الْکُبْرٰی (جس روز ہم بڑی سخت پکڑ کریں گے) اس سے مراد قیامت کا دن یا یوم بدر کا دن ہے۔ اِنَّا مُنْتَقِمُوْنَ (ہم بدلہ لیں گے) اس دن ہم ان سے بدلہ لیں گے۔ : اذکر کی وجہ سے یوم منصوب ہے۔ یا انا منتقمون جس پر دلالت کر رہا ہے۔ ای ننتقم۔ منتقمون نہیں۔ کیونکہ انا کا مابعد ماقبل میں عمل نہیں کرتا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

15، اناکاشفو : العذاب، یعنی بھوک کا عذاب۔ ، قلیلا، یعنی تھوڑازمانہ ۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ بدر کے دن تک، انکم عائدون، اپنے کفر کی طرف۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–16

1۔ 16۔ حم و الکتب المبین کی تفسیر سورة الزحزف کے شروع میں گزر چکی ہے جس برکت والی رات کا ذکر ان آیتوں میں ہے اگرچہ بعض فسروں نے لکھا ہے کہ یہ برکت والی رات شعبان کی پندرھویں رات ہے لیکن یہ قول شھر رمضان الذی انزل فیہ القران کے مخالف ہے صحیح وہی حضرت عبد اللہ بن عباس کا قول ہے جس کو نسائی 1 ؎ اور حاکم وغیرہ نے معتبر سند سے روایت کیا ہے کہ شب قدر میں ایک دفعہ سارا قرآن لوح محفوظ سے اول آسمان پر نازل ہوا پھر ہر ایک موقع پر ہر ایک آیت حضرت جبرئیل آنحضرت ﷺ کے پاس تشریف لائے۔ صحیح بخاری 2 ؎ میں حضرت عائشہ اور حضرت عبد اللہ بن عباس سے جو روایتیں ہیں۔ ان میں اللہ کے رسول ﷺ نے یہ صاف جتلا دیا ہے کہ شب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–16

آیت 1 یہ قرآن پر قرآن ہی کی قسم ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کتاب مبین کی قسم کھائی جو ہر اس چیز کے لئے ہے جس کے بیان کی حاجت ہے۔ بیشک وہ اتاری گئی ہے (فی لیلۃ مبرکۃ) یعنی خیر کثیر اور بکت والی رات میں، اس سے مراد لیلۃ القدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ یقیناً اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہترین کلام کو سب راتوں اور دنوں سے افضل رات میں مخلوق میں سے افضل ہستی پر معززین اہل عرب کی زبان میں نازل فرمایا ات کہ اس کے ذریعے سے ان لوگوں کو ڈرائے جنہیں جہالت نے اندھا کر رکھا ہے اور بدبختی ان پر غالب آچکی ہے۔ پس وہ اس کے نور سے روشنی حاصل کریں، اس کی ہدایت کو اختیار کریں اور اس کے پیچھے چلیں، اس طرح انہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 16–17

20 منکروں کو قوم فرعون کے انجام کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سے پہلے ہم قوم فرعون کو بھی آزمائش میں ڈال چکے ہیں اور ان کے پاس بھی ایک بڑا معزز رسول آیا تھا "۔ یعنی حضرت موسیٰ کلیم اللہ ۔ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والتسلیم ۔ کہ وہ بڑے ہی معزز اور اولو العزم رسول تھے۔ سو جس طرح کے امتحان میں ہم نے آج قوم قریش کو انکے اندر اپنا رسول مبعوث کرکے ڈالا ہے اسی طرح کے امتحان میں اس سے پہلے ہم قوم فرعون کو بھی ڈال چکے ہیں جبکہ انکے اندر بھی ایک بڑے عظیم الشان اور اولو العزم رسول کو مبعوث فرمایا گیا۔ سو جو انجام کل کے ان منکروں کا انکار حق کی پاداش میں ہوا وہی آج کے ان منکروں کا بھی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–37

قرآن سچ ہے اور اس کے علاہ سب غلط ہے تشریح : ان تمام آیات میں اللہ کی ان تدابیر کا ذکر کیا گیا ہے جو اس نے کائنات کے لیے مرتب کر رکھی ہیں۔ مثلاً میجر جنرل غلام محمد ملک صاحب اس کی بڑے خوبصورت انداز میں یوں وضاحت کرتے ہیں : فلسفہ تاریخ جس طرح سیاسی واقعات کی تکرار اور حوادث کے بار بار اعادہ سے اصول اور نتائج تک پہنچ کر ایک عام تاریخی قانون بنا لیتا ہے اسی طرح انبیاء علیھم السلام کے سوانح اور تاریخیں بھی اپنے واقعات کے بار بار اعادہ سے خصائصِ نبوت کا اصول قانون ہمارے لیے مرتب کرتی ہے۔ پیغمبرانہ تاریخ کے انہی اصول و قوانین میں سے ایک یہ ہے کہ نبی جب اپنے کمال انسانیت کو پہنچ کر فیضان نبوت کے قبول…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–29

آیات 1 تا 29۔ اسرار ومعارف۔ حم۔ اس کتاب واضح کی قسم ہے یعنی یہ دلائل سے حق کو واضح کردینے والی کتاب اس پر گواہ ہے جسے ہم نے ایک بہت بابرکت شب کو لوح محفوظ سے سماء دنیا پر نازل فرمایا کہ اس کے نزول سے مراد مخلوق کو صحیح راہ عمل دکھانا اور اعمال بد کے بد انجام سے بروقت خبر دینا ہے کہ وہ اپنی راہ متعین کرسکیں لیلہ مبارکہ : لیلہ مبارکہ سے مراد مفسرین کرام سے لیلۃ القدر ہے کہ قرآن کریم کی دوسری آیات سے اس کی تعیین ہوجاتی ہے نیز نزول قران رمضان المبارک ہی میں ہوا اور جو بات نصف شعبان کی شب کے بارے مشہور ہے ، اس کی سندیں ضعیف ہیں اس لیے اکثر علماء نے اسے قبول نہیں کیا ، اور بعض نے اس کی فضیلت اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 12–20

ف 3 یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آچکا ہوں جو میرا ہی نہیں تمہارا بھی مالک ہے۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں۔ شاید وہ ڈراتے ہونگے اس سے ( موضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(44:16) یوم نبطش البطشۃ الکبری : یوم مفعول فعل مقدر کا۔ ای ذکر یوم : نبطش مضارع جمع متکلم بطش (باب ضرب) مصدر۔ ہم سختی سے پکڑیں گے۔ بطش، سختی اور قوت کے ساتھ پکڑنے کو کہتے ہیں ۔ البطشہ الکبری موصوف و صفت سخت پکڑ۔ مضبوط گرفت۔ موصوف و صفت مل کر مفعول فعل نبطش کا ۔ وہ دن یاد کرو جب ہم پوری شدت سے پکڑیں گے۔ یا جملہ یوم نبطش البطشۃ الکبری بدل ہے جملہ یوم تاتی السماء بدخان مبین کا۔ سخت پکڑ کے دن سے مراد قیامت کا دن۔ بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد یوم بدر ہے۔ اول الذکر زیادہ صحیح ہے۔ انا منتقمون (اس دن) ہم بدلہ لینے والے ہوں گے ۔ یعنی اس روز ہم پورا پورا بدلہ لیں گے۔ منتقمون : اسم فاعل جمع مذکر۔ انتقام…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–16

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 16 : لیلۃ مبارکۃ (برکت والی رات) یفرق (وہ جدا کردیتا ہے، الگ کردیتا ہے) امر حکیم ( حکمت بھرا فیصلہ) ارتقب (تو انتظارکر ، راہ دیکھ) دخان ( دھواں) یغشی (وہ ڈھانپ لے گا) معلم ( پڑھایا گیا) عائدون ( وہ لوٹنے والے ہیں) البطشۃ (سخت پکڑ) تشریح : آیت نمبر 1 تا 16 : قرآن کریم میں سات سورتیں وہ ہیں جن کی ابتداء ” حم ‘ ‘ سے کی گئی ہے۔ احادیث میں ان سات سورتوں کے بہت سے فضائل بیان کئے گئے ہیں ۔ ان ہی میں سے یہ پانچویں سورت ہے۔ ” حا۔ میم “ حروف مقطعات میں سے ہیں جن کی تفصیل اس سے پہلی سورتوں میں بیان کردی گئی ہے۔ علماء مفسرین نے بیان کیا ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد کا علم اللہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 7–16

علامات قیامت۔ (ف 1) اللہ آسمانوں اور زمین کا مالک اور پروردگار ہے اور جو ان میں اور ان کے درمیان میں عجائب غرائب ہیں مشرکین اگر تم سمجھو اور مانو تو آیات قدرت بہت واضح ہیں، اس کے سوا کوئی لائق معبود نہیں جہان کا کوئی خالق نہیں وہ تو جلاتا ہے اور وہی مارتا ہے دنیا میں مارے گا قیامت کو جلائے گا تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا سب کا پروردگار خالق ہے، اے محبوب ﷺ یہ کفار نہیں مانتے بلکہ یہ توحید ورسول وقیامت وغیرہ کی طرف سے شک میں پڑے ہیں اور دنیا کے کھیل کود میں مصروف ہیں آخرت کی فکر نہیں جو حق کو طلب کریں اور اس میں غوروفکر سے کام لیں، یہ اس دھوکہ میں ہیں ہمیشہ یوں ہی رہنا خدا کے سامنے کبھی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 11–32

دھوئیں کا عذاب 1: مکہ والوں نے جب حضور ﷺ کے پیغام توحید کو ٹھکرایا اور انتہائی تحقیر وتذلیل کے ساتھ آپ کا خیرمقدم کیا ۔ تو اس وقت آپ کی زبان الہام ترجمان سے یہ کلمات بےاختیار نکل گئے ۔ کہ اے اللہ ان لوگوں پر اس قحط کا عذاب نازل کر جو تونے یوسف کے زمانہ میں نازل کیا تھا ۔ بس ان الفاظ کا حضور ﷺ کے منہ سے نکلنا تھا ۔ کہ اجابت نے ہاتھوں ہاتھ لیا ۔ آسمان نے رحمت کے دراوزوں کو ان پر بند کرلیا ۔ زمین میں خشک ہوگئی ۔ اور قحط وجوع نے قریش کو آزمائش میں ڈال دیا ۔ اس قدر فاقے ہونے لگے ۔ کہ بھوک کے مارے ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے دھواں سا معلوم ہونے لگا ۔ زندگی کے لئے یہ لوگ مجبور ہوگئے ۔ کہ مردار…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(16) جس روز ہم بڑی سخت گرفت کریں گے تو اس روز ہم پورا بدلہ لیں گے۔ یہ پیشین گوئی بدر میں پوری ہوئی اور کافروں سے پورا انتقام لیا گیا ہوسکتا ہے کہ یہ وعید قیامت کے دن کے لئے ہو کہ اس دن پوری طرح بدلہ لے لیا جائے گا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی آٓخرت کا عذاب نہیں ٹلتا۔ خلاصہ : یہ کہ بڑی پکڑ پکڑنا اگر دنیوی عذاب کی طرف اشارہ ہے تو بدر میں منکرین مکہ کی کافی ذلت و رسوائی ہوئی اور خوب انتقام لیا گیا اور اگر یہ پکڑ آخرت کی ہے تو ظاہر ہے کہ نہ وہ عذاب ٹلنے والا ہے اور دنیا کے عذاب سے بہت زیادہ رسوا کن ہے۔ اللھم اجرنا منہ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 12–17

ف 6۔ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) ۔ (فائدہ) پیغمبر کے آنے سے آزمائش یہ ہوتی ہے کہ کون ایمان لاتا ہے اور کون نہیں لاتا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جس روز ہم سخت پکڑ پکڑیں گے بلاشبہ ہم بدلہ لے کر چھوڑیں گے 61 ؎ جیسا کہ اوپر ذکر کیا جاچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس دنیا کی زندگی میں بھی انسان کو بعض اوقات مجموعی طور پر اور بعض اوقات انفرادی طور پر عذاب کے ایسے جھٹکے لگائے جاتے ہیں کہ وہ ان جھٹکوں سے اس بڑے عذاب کے آنے کو تسلیم کرکے اپنی حالت کو بدل لے اور اس بات پر سچے دل سے یقین کرے کہ قیامت کہ بہرحال آنا ہے اور میں نے اپنے کیے کا حساب دینا ہے۔ یہ بات صرف رسما نہ کہے بلکہ اس بات پر پختہ یقین کرلے اوپر آسمان کی طرف دیکھنے سے دھواں ہی دھواں نظر آنے کا جو ذکر تھا اور اس سے سارے انسانوں کے گھبرا جانے کی جو صورت بتائی تھی اس کے بعد اب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 11–19

Commentary دُخَانٍ مُّبِينٍ...visible smoke" in verse (10) embodies a prophecy and the Prophet ﷺ was asked to watch for the Day when the sky will bring forth a manifest smoke covering the people. There are three opinions recorded about this from the Companions and their pupils. The first view is that the smoke is one of the portents of the Day of Judgment which will occur very close to the Day of Judgment. This view is held by Sayyidna al-Murtada, Ibn ` Abbas, Ibn ` Umar, Abu Hurairah, Zaid Ibn ` Ali ؓ ، Hasan al-Basri Ibn Abi Mulaikah and others رحمۃ اللہ علیہم . This view is recorded…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 15–16

13 The commentators have seriously disputed the meaning of these verses, and the difference of opinion existed even in the time of the Companions. Masruq, the well-known pupil of Hadrat 'Abdullah bin Mas'ud, states: One day when we entered the mosque of Kufah, we saw a preacher addressing the people. He recited the verse: Yauma ta'tis-sama-u bidukhan-im-mubin, then asked: "Do you know what kind of smoke it is ? This smoke will appear on the Day of Resurrection and will make the disbelievers and the hypocrites blind and deaf, but the believers will be affected only to the extent as if they had…

Read the full tafseer →